কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৬৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4672: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں سے ایک ماہ تک جدائی اختیار کرلی تھی۔ پھر انتیس دن ہوگئے تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور فرمایا : مہینہ پورا ہوگیا ہے اور آپ اپنی قسم سے عہدہ برآ ہوگئے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
4672- عن عمر قال: "اعتزل النبي صلى الله عليه وسلم نساءه شهرا، فلما مضى تسع وعشرون أتاه جبريل فقال إن الشهر قد تم وقد بررت". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4673: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ! ایک ماہ تک اپنے بالا خانے میں (بیویوں سے) دور رہے۔ جس وقت حفصہ نے وہ راز عائشہ پر فاش کردیا تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بتایا تھا۔ اس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں پر غصہ کرتے ہوئے فرمایا تھا میں اب ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔ پھر انتیس ایام گذر گئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زوجہ مطہرہ ام سلمہ کے پاس گئے۔ اور فرمایا کوئی ماہ انتیس یوم کا بھی ہوتا ہے اور وہ ماہ واقعی انتیس یوم کا تھا۔ ابن سعد۔
4673- عن عمر قال: "اعتزل رسول الله صلى الله عليه وسلم في مشربة شهرا حين أفشت حفصة إلى عائشة الذي أسر إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان قد قال ما أنا بداخل عليكن شهرا موجدة عليهن، فلما مضت تسع وعشرون دخل على أم سلمة، وقال: الشهر تسع وعشرون، وكان ذلك الشهر تسعا وعشرين". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4674: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بات آپہنچی کہ آپ کی بیویوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور ان سے معاملہ کی ٹوہ لینے لگا۔ اور ان کو نصیحت بھی کرتا رہا اور یہ بھی کہتا : لتنتھین او لیبد لنہ اللہ ازواجا خیرا منکن۔ تم عورتیں (اپنی تکلیف رسانی سے) باز آجاؤ ورنہ اللہ اپنے نبی کو تم سے بہتر اور بیویاں دے گا۔

حتی کہ میں زینب کے پاس گیا اس نے مجھے کہا : اے عمر ! کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نصیحت نہیں کرسکتے۔ جو تو ہمیں کررہا ہے ؟ پھر اللہ پاک نے نے (حضرت عمر (رض) کے الفاظ ہی میں ازواج مطہرات کو) حکم نازل فرمایا :

عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن۔ الخ

اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو قریب ہے اس کا رب اس سے تم سے بہتر اور بیویاں دے دے۔ (ابن منیع ابن ابی عاصم فی السنۃ، ابن عساکر)

صحیح روایت ہے۔
4674- عن أنس قال قال عمر: "بلغني بعض ما آذين رسول الله صلى الله عليه وسلم نساؤه، فدخلت عليهن فجعلت أستقريهن، وأعظهن، فقلت: فيما أقول لتنتهين أو ليبدلنه الله أزواجا خيرا منكن، حتى أتيت على زينب فقالت: يا عمر أما كان في رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يعظ نساءه حتى تعظنا أنت؟ فأنزل الله تعالى: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ} " إلى آخر الآية. "ابن منيع وابن أبي عاصم في السنة كر" وصحح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4675: حضرت علی (رض) و صالح المومنین (التحریم) کی تفسیر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد علی بن ابی طالب ہیں۔ (ابن ابی حاتم)
4675- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} قال "هو علي بن أبي طالب". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4676: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان قوا انفکم واھلیکم نارا (التحریم) اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ کے بارے میں مروی ہے فرمایا : اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خیر اور ادب سکھاؤ (عبدالرزاق، الفریابی، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، البیہقی فی المدخل)
4676- عن علي في قوله تعالى: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً} قال: "علموا أنفسكم وأهليكم الخير وأدبوهم". "عب والفريابي ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر ك ق في المدخل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4677: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : کریم ذات نے کس قدر معاملہ کی تہ تک کو بیان کیا و عرف بعضہ و اعرض عن بعض۔ اور جتلائی نبی نے اس میں سے کچھ اور ٹلا دی کچھ۔ رواہ ابن مردویہ۔

سورة ن والقلم۔
4677- عن علي قال: ما استقصى كريم قط، إن الله تعالى يقول: {عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ} . "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ن والقلم
4678: ۔۔ عبدالرحمن بن غنم (رح) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے " العتل الزنیم " کے بارے میں سوال کیا گیا : آپ نے ارشاد فرمایا : وہ بد اخلاق، چیخنے، چنگھاڑنے والا، بہت زیادہ کھانے پینے والا، پیٹ بھرا، لوگوں پر ظلم کرنے والا، اور بڑے پیٹ والا شخص ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
4678- عن عبد الرحمن بن غنم1 قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العتل الزنيم2؟ قال: "هو الشديد الخلق المصحح الأكول الشروب الواجد للطعام والشراب الظلوم للناس رحيب الجوف". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحاقة
4679: ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے، فرمایا :

پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں گرتا مگر اس ترازو سے تل کر جو فرشتے کے ہاتھوں میں۔ ہاں نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے دن بارش کے نگہبان فرشتے کو چھوڑ کر اللہ نے پانی کے فرشتے کو حکم دیدیا تھا۔ لہٰذا پانی اس دن اس فرشتے کی نافرمانی کرکے بری طرح چڑھ دوڑا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

انا لما طغی الماء۔

جب پانی سرکش ہوگیا۔

اسی طرح ہوا بھی اس ترازو سے تل کر ہی آتی ہے جو فرشتے کے ہاتھوں میں ہے۔ مگر قوم عاد پر عذاب کے دن ہوا کو اللہ پاک نے خود حکم دیدیا تھا وہ فرشتے کی اجازت کے بغیر نکلی جس کو اللہ نے فرمایا :

بریح صرصر عاتیہ۔

تندوتیز نافرمان ہوا۔

یعنی فرشتے کی نافرمانی کرکے قوم پر تیزی سے پھرنے والی ہوا۔ رواہ ابن جریر۔
4679- عن علي قال: لم ينزل قطرة من ماء إلا بكيل على يدي ملك، إلا يوم نوح، فإنه أذن للماء دون الخزان، فطغى الماء على الخزان، فخرج، فذلك قوله تعالى: {إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ} ولم ينزل شيء من الريح إلا بكيل على يدي ملك إلا يوم عاد، فإنه أذن لها دون الخزان فخرجت فذلك قوله تعالى: {بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ} "عتت على الخزان". "وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة نوح
4680: ۔۔ وہب بن منبہ (رح) ابن عباس (رض) اور ایسے سات صحابہ سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے روایت کرتے ہیں یہ تمام حضرت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

قیامت کے دن اللہ پاک سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو بلائیں گے۔ اللہ پاک پہلے قوم سے پوچھیں گے : تم نے نوح کی پکار پر ہاں کیوں نہیں کہی ؟ وہ کہیں گے : ہم کو کسی نے بلایا اور نہ کسی نے آپ کا پیغام ہم تک پہنچایا اور نہ ہم کو نصیحت کی اور نہ ہمیں کسی بات کا حکم دیا اور نہ کسی بات سے منع کیا۔ نوح (علیہ السلام) عرض کریں گے : یا رب ! میں نے ان کو دعوت دی تھی جس کا ذکر اولین و آخرین میں حتی کہ خاتم النبیین احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا۔ انھوں نے اس کو لکھا، پڑھا اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی۔

اللہ پاک ملائکہ کو فرمائیں گے : احمد اور اس کی امت کو بلاؤ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کے ہمراہ تشریف لائیں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہوگا۔ نوح (علیہ السلام) محمد اور ان کی امت کو کہیں گے : کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم تک پیغام رسالت پہنچا دیا تھا اور ان کو خوب نصیحت کی تھی۔ اور اپنی پوری کوشش کی تھی کہ ان کو جہنم سے بچا لوں۔ لیکن یہ میری پکار کو ماننے کے سرا و جہرا بجائے دور ہی بھاگتے گئے۔

پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کہے گی : ہم اللہ کے حضور شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے جو کہا آپ تمام باتوں میں بالکل سچے ہیں۔ تب قوم نوح کہے گی : اے احمد ! آپ کو کیسے یہ علم ہوا جبکہ آپ اور آپ کی امت سب سے آخر میں آنے والے ہیں ؟ پس محمد کہیں گے : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر پوری سورة نوح پڑھی۔ پھر آپ کی امت کہے گی : ہم شہادت دیتے ہیں کہ یہ سچا قصہ ہے۔ اللہ پاک بھی فرمائیں گے :

وامتازوالیوم ایھا المجرمون۔ یس۔

اے مجرمو ! آج کے دن جدا ہوجاو۔

پس سب سے پہلے یہ لوگ ممتاز ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4680- عن وهب بن منبه1 عن ابن عباس وعن وهب عن الحسن عن سبعة رهط شهدوا بدرا كلهم رفعوا الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن الله عز وجل يدعو نوحا وقومه يوم القيامة أول الناس فيقول: ما أجبتم نوحا؟ فيقولون: ما دعانا وما بلغنا وما نصحنا ولا أمرنا ولا نهانا، فيقول نوح: دعوتهم يا رب دعاء فاشيا في الأولين والآخرين أمة بعد أمة حتى انتهى إلى خاتم النبيين أحمد فانتسخه وقرأه وآمن به وصدقه: فيقول الله للملائكة: ادعوا أحمد وأمته فيأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمته يسعى نورهم بين أيديهم، فيقول نوح لمحمد وأمته: هل تعلمون أني بلغت قومي الرسالة واجتهدت لهم بالنصيحة وجهدت أن أستنقذهم من النار سرا وجهرا، فلم يزدهم دعائي إلا فرارا فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمته: فأنا أشهد بما نشدتنا به أنك في جميع ما قلت من الصادقين، فيقول قوم نوح: وأنى علمت هذا يا أحمد وأنت وأمتك آخر الأمم؟ فيقول: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَى قَوْمِهِ} قرأ السورة حتى ختمها، قالت أمته: نشهد أن هذا لهو القصص الحق، فيقول الله عز وجل عند ذلك: {وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ} فهم أول من يمتاز في النار."ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الجن
4681: ۔۔ (عمر (رض)) مسدی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :

و ان لو استقاموا علی الطریقۃ لاسقیناھم ماء غدقا لنفتنہم فیہ۔ اور (اے پیغمبر ! ) یہ (بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے تاکہ اس سے ان کی آزمائش کریں۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جہاں پانی ہوتا ہے وہاں مال بھی ہوتا ہے اور جہاں مال ہوتا ہے وہاں فتنے (آزمائش) بھی جنم لیتے ہیں۔ (عبد بن حمید، ابن جریر)
4681- "عمر رضي الله عنه" عن السدي قال قال عمر: {وَأَلَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُمْ مَاءً غَدَقاً لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ} قال: "حيث ما كان الماء كان المال، وحيثما كان المال كانت الفتنة". "عبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المزمل
4682: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ فرمان نازل ہوا؛

یا ایہا المزمل قم اللیل الا قلیلا۔ المزمل۔ 1 ۔ 2

اے (محمد ! ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو، رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات۔

تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری ساری رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے حتی کہ آپ کے قدم مبارک ورما جاتے۔ پھر آپ ایک قدم اٹھاتے دوسرا رکھتے دوسرا اٹھاتے پہلا رکھتے۔ حتی کہ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور یہ فرمان نازل کیا :

طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی ۔ طہ 1 ۔ 2

طہ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : طہ یعنی طا الارض بقدمیہ کہ اپنے قدموں کو زمین پر رکھو۔ اے محمد ! اور (سورة مزمل کے آخر میں) نازل کیا :

فاقرء وا ما تیسرا القرآن۔ المزمل آخری آیت)

پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : یعنی اگر بکری کے دودھ دوہنے کی بقدر بھی بآسانی ہو اسی پر اکتفا کرلیا کرو۔ رواہ ابن مردویہ۔
4682- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: لما نزل على النبي صلى الله عليه وسلم: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلاً} قام الليل كله، حتى تورمت قدماه، فجعل يرفع رجلا ويضع رجلا فهبط عليه جبريل فقال: {طه} طأ الأرض بقدميك يا محمد {مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} وأنزل: {فَاقْرَأُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} يقول: "ولو قدر حلب شاة" "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المدثر
4683: ۔۔ حضرت عطا (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا :

جعلت لہ مالا ممدودا۔ مدثر :12

اور اس کو میں نے مال کثیر دیا۔

ارشاد فرمایا : کہ اس کو مہینے مہینے بھر کا غلہ ملتا تھا۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، الدینوری، ابن مردویہ۔

فائدہ : ۔۔ ولید بن مغیرہ جو عرب مشرکین کا بہت بڑا مالدار اور اپنے والدین کا اکلوتا فرزند تھا، اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہیں۔ (تفسیر عثمانی)
4683- عن عطاء قال قال عمر في قوله تعالى: {وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَمْدُوداً} قال: "غلة شهر بشهر". "ابن جرير وابن أبي حاتم والدينوري وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المدثر
4684: ۔۔ الاصحاب الیمین (المدثر :39) مگر داہنے ہاتھ والے۔ حضرت علی (رض) اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : (ان نیک لوگوں سے مراد) مسلمانوں کے بچے ہیں۔ (عبدالرزاق، الفریابی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر)
4684- عن علي في قوله تعالى: {إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ} قال: "هم أطفال المسلمين". "عب والفريابي ص ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة عم
4685: ۔۔ سالم بن ابی الجعد سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ہلال (رح) سے پوچھا تم لوگ حقب کتنی مقدار کو کہتے ہو ؟ انھوں جواب دیا ہم کتاب اللہ ( توراۃ ) میں اس کی مقدار پاتے ہیں اسی سال، سال بارہ ماہ ماہ کا، ماہ تیس یوم کا، اور ایک یوم ہزار سال کا۔ ھناد

اس حساب سے حقب کی مقدار دو کروڑ اٹھاسی لاکھر ہوئے۔ فرمان الہی ہے :

لبثینی فیھا احقابا۔ نبا : 23

کافر لوگ جہنم میں مدتوں پڑے رہیں گے۔

احقاب حقب کی جمع ہے اور کافر لوگ بیشمار حقب تک جہنم میں پڑے رہیں گے۔ (اعاذنا اللہ منہ)
4685- عن سالم بن أبي الجعد أن عليا سأل هلالا ما تجدون الحقب فيكم؟ قالوا: نجده في كتاب الله ثمانين سنة، السنة اثنا عشر شهرا، الشهر ثلاثون يوما، اليوم ألف سنة. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والنازعات
4686: ۔۔ والنازعات غرقاً والناشطات نشطاً۔ والسابحات سبحاً۔ فالسابقات سبقاً فالمدبرات امراً۔ النازعات۔ 1 ۔ 5

ترجمہ : ۔۔ ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔ اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔ اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں پھر لپک کر بڑھتے ہیں۔ پھر دنیا کے کاموں کا انتظار کرتے ہیں۔

حضرت علی (رض) کا ارشاد ہے : النازعات غرقا یہ وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روح نکالتے ہیں۔ والناشطات نشطا۔ یہ فرشتے کفار کی روحوں کو ان کے ناخنوں اور کھالوں تک سے نکال لیتے ہیں۔ والسابحات سبحا یہ فرشتے مومنین کی روحوں کو لے کر آسمانوں اور زمین کے درمیان تیرتے (یعنی اڑتے) رہتے ہیں۔ فالسابقات سبقا۔ یہ ملائکہ مومنوں کی روح کو لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر پہلے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچاتے ہیں۔ فالمدبرات امراً یہ فرشتے بندگان خدا کے معاملات کا سال بہ سال انتظام کرتے ہیں۔ السنن لسعید بن منصور، ابن لمنذر)
4686- عن علي في قوله تعالى: {وَالنَّازِعَاتِ غَرْقاً} قال: "هي الملائكة، تنزع أرواح الكفار، {وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطاً} هي الملائكة تنشط أرواح الكفار ما بين الأظفار والجلد حتى تخرجها، {وَالسَّابِحَاتِ سَبْحاً} هي الملائكة تسبح بأرواح المؤمنين بين السماء والأرض قال {فَالسَّابِقَاتِ سَبْقاً} هي الملائكة تسبق بعضها بعضا بأرواح المؤمنين إلى الله تعالى {فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً} تدبر أمر العباد من السنة إلى السنة. "ص وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والنازعات
4687: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے متعلق سوال کیا جاتا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی :

یسئلونک عن الساعۃ : ایان مرسہا فیم انت من ذکرھا الی ربک منتھاھا۔ النازعات : 22 ۔ 24

(اے پیغمبر ! لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو ؟ اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے رب ہی کو (معلوم ہے) ۔ رواہ ابن مردویہ۔
4687- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يسأل عن الساعة فنزلت {فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا} "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة عبس
4688: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) ابراہیم تیمی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے " اب " کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کیا شے ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا :

کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے سایہ دے گی اگر میں کتاب اللہ میں ایسی کوئی بات کہوں جس کو میں نہیں جانتا۔ (ابو عبیدہ فی فضائلہ، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید)

نوٹ : ۔۔۔ 4149 پر یہی روایت گذر چکی ہے۔

فرمان الہی ہے :

و فاکھۃ وابا ۔ عبس : 31

اور (ہم نے پانی کے ساتھ زمین سے نکالا) میوہ اور چارا۔

اس کے متعلق حضرت ابوبکر (رض) سے سوال کیا گیا۔
4688- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن إبراهيم التيمي قال: سئل أبو بكر الصديق عن الأب ما هو؟ فقال:" أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله مالا أعلم؟ " "أبو عبيدة في فضائله ش وعبد بن حميد". ومر برقم [4149] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کورت
4689: ۔۔ (مسند عمر (رض)) نعمان بن بشر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : واذا النفوس زوجت۔ (تکویر) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :

جنت میں نیک کو نیک کے ساتھ اور جہنم میں بد کو بد کے ساتھ اکٹھا کردیا جائے گا۔ یہی مختلف جانوں کا باہم ملنا ہے۔ (عبدالرزاق، الفریابی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مرویہ) مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء، البیہقی فی البعث)
4689- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن النعمان بن بشير أن عمر بن الخطاب سئل عن قوله تعالى: {وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ} قال: "يقرن بين الرجل الصالح مع الصالح في الجنة، ويقرن بين الرجل السوء مع السوء في النار، فذلك تزويج الأنفس". "عب والفريابي ص ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك حل ق في البعث
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کورت
4690: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے آپ (رض) سے اللہ تعالیٰ کا فرمان : واذا الموء ودۃ سئلت۔ (تکویر :8) اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا۔ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا :

قیس بن عاصم تیمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : میں نے اپنے زمانہ جاہلیت میں اپنی آٹھ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا تھا (ابن میں اس کے کفارہ میں کیا کروں ؟ ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر ایک کی طرف سے ایک ایک غلام آزاد کردے۔ قیس نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں تو اونٹوں والا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چاہو تو ہر ایک کی طرف سے ایک ایک اونٹ نحر (قربان) کردو۔ (مسند البزار، الحاکم فی الکنی، ابن مردویہ، السنن للبیہقی ۔
4690- عن عمر أنه سئل عن قول الله: {وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ} قال: "جاء قيس بن عاصم التميمي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني وأدت ثمان بنات لي في الجاهلية، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أعتق عن كل واحدة منهن رقبة، قال يا رسول الله: إني صاحب إبل، قال: فانحر عن كل واحدة منهن بدنة إن شئت ". "البزار والحاكم في الكنى وابن مردويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کورت
4691: ۔۔ حضرت اسلم (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اذا الشمس کورت سورت کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے : علمت نفس ما احضرت۔ تو فرمایا : اس کے لیے مساوی بات ذکر کی گئی ہے۔ (عبد بن حمید، ابن لمنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو داؤد الطیالسی)

فائدہ : ۔۔ سورة شمس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے احوال میں سے ہول ناک امور کا بیان کیا کہ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا، تارے بےنور ہوجائیں گے اور پہاڑ جلا دئیے جائیں گے۔ اس طرح اللہ پاک نے تیرہ آیات میں قیامت کی ہول ناکی کا احساس دلا کر چودھویں آیت میں سب سے اہم اور مقصود بالذکر شئی کو بیان کیا :

علمت نفس ما احضرت۔ تکویر : 14

(اس وقت) ہر نفس جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔
4691- عن أسلم قال قرأ عمر: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} فلما بلغ {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ} قال: لهذا1 أجرى الحديث. "عبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ط".
tahqiq

তাহকীক: