কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৬৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المجادلة
4652: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

یا ایھا الذین آمنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ۔ المجادلۃ :12 ۔

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرنے لگو تو اپنی سرگوشی کرنے لگو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دیدیا کرو۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا خیال ہے ایک دینار صحیح ہے ؟ میں نے عرض کیا : مسلمان اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا : نصف دینار ؟ میں نے عرض کیا اس کی بھی مسلمان طاقت نہیں رکھتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ہی پوچھا بتاؤ کتنا صدقہ ہونا چاہیے ؟ میں نے عرض کیا : (کچھ) جو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انک لزھید۔ تم بہت کم پر قناعت کرنے والے ہو۔ پھر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرما دی :

ء اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات الخ : المجادلہ :13 ۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : پس اللہ نے میری وجہ سے اس امت سے یہ حکم آسان کردیا۔ (ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ترمذی حسن غریب، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن المنزر، الدورقی، ابن حبان، ابن مردویہ، السنن لسعید بن منصور) گزشتہ روایت میں آیت کا مکمل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
4652- عن علي قال: لما نزلت {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً} قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: "ما ترى، دينارا؟ قلت لا يطيقونه، قال فنصف دينار؟ قلت لا يطيقونه، قال: فكم؟ قلت شعيرة، قال: إنك لزهيد، فنزلت: {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} " الآية فبي خفف الله عن هذه الأمة. "ش وعبد بن حميد ت وقال حسن غريب ع وابن جرير وابن المنذر والدورقي حب وابن مردويه ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المجادلة
4653: ۔۔۔ امام ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے اظہار کیا وہ خولہ کے شوہر تھے۔ پھر خولہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئیں اور ساری خبر سنائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے شوہر کو بلایا اور پھر اللہ پاک نے ان کے بارے میں یہ فرمان نازل کیا :

قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا۔ المجادلۃ۔ 1 ۔ ابن ابی شیبہ۔

فائدہ : ۔۔۔ ان کے شوہر حضرت اوس بن صامت (رض) تھے۔ انھوں نے اپنی بیوی خولہ کو کہہ دیا تھا کہ تو میری ماں کی طرح ہے۔ اس سے جاہلیت میں ہمیشہ کے لیے عورت حرام ہوجاتی تھی۔ خولہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ نے بھی یہی حکم دیا تب وہ بہت گرگڑائیں اور خدا کے آگے ماتھا ٹیکنے لگیں اور خوب آہ وزاری کی تو اللہ پاک نے ظہار کا حکم نازل کیا کہ یہ کفارہ ادا کرکے میاں بیوی بن سکتے ہیں۔ ظہار کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
4653- عن ابن سيرين قال: "كان أول من ظاهر في الإسلام خولة فظاهر منها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته فأرسل إليه، فنزل القرآن: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} ". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحشر۔
4654: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :

ایک راہب اپنے صومعہ میں عبادت کیا کرتا تھا۔ اور ایک عورت کے کچھ بھائی تھے۔ عورت کو کوئی بات پیش آئی جس کی وجہ سے اس کے بھائی اس کو عبادت گذار نوجوان کے پاس لائے اور اسی کے پاس چھوڑ گئے۔ عورت نے اپنے آپ کو نوجوان کے لیے پرکشش اور مزین کیا۔ عابد کا دل بھی پھسل گیا اور وہ اس کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہوگیا۔ جس کی وجہ سے عورت حاملہ ہوگئی۔ پھر شیطان عابد کے پاس آیا اور اس کو کہا : اس عورت کو قتل کردے۔ کیونکہ اگر اس کے بھائیو کو اس کے حمل کا پتہ چل گیا تو تو رسوا اور ذلیل ہوجائے گا۔ چنانچہ عابد نوجوان نے اس کو قتل کیا اور دفن کردیا۔ اس کے بھائی آئے اور اس کو پکڑ کرلے گئے۔ یہ اس عابد کو لے جا رہے تھے کہ شیطان پھر اس عابد کے پاس آیا اور بولا میں نے ہی تجھے یہاں تک پہنچایا ہے اگر تو مجھے سجدہ کرلے تو میں تجھے نجات دلا سکتا ہوں۔ آخر عبادت گذار نوجوان نے اس کو سجدہ کرلے تو میں تجھے نجات دلا سکتا ہوں۔ آخر عبادت گذار نوجوان نے اس کو سجدہ بھی کرلیا۔ اسی کے متعلق اللہ پاک کا ارشاد ہے :

کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر الخ۔

(منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا (عبدالرزاق، الزھد للامام احمد، ابن راھویہ، عبد بن حمید فی تاریخہ، ابن المنذر ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی)
4654- "عن علي رضي الله عنه" قال: "كان راهب يتعبد في صومعة، وإن امرأة كان لها أخوة فعرض لها شيء، فأتوه بها فزينت له نفسها فوقع عليها فحملت فجاءه الشيطان فقال له: اقتلها فإنهم إن ظهروا عليك افتضحت، فقتلها ودفنها، فجاؤه فأخذوه فذهبوا به فبينما هم يمشون إذ جاءه الشيطان، فقال أنا زينت لك، فاسجد لي سجدة أنجيك فسجد له فأنزل الله: {كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ} " الآية. "عب حم في الزهد وابن راهويه وعبد بن حميد في تاريخه وابن المنذر وابن مردويه ك هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحشر۔
4655: ۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جمعہ کے روز ایک تجارتی قافلہ (مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے) آیا۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے۔ لوگ (خطبہ سنتے ہوئے) اٹھ کر قافلہ دیکھنے آگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی :

واذا راو تجارۃ او لھوا انفضوا الیھا وترکوک قائما۔ الجمعۃ : 11

اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں کھڑے کا کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4655- عن جابر رضي الله عنه، قال: أقبلت عير بتجارة يوم جمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب، فانصرف الناس ينظرون، وبقي رسول الله صلى الله عليه وسلم في اثني عشر رجلا، فنزلت هذه الآية: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِماً} . "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحشر۔
4656: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کردی وہ اپنے نفس کے بخل سے بچ گیا۔ ابن المنذر۔

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون۔ التغابن : 16 ۔

اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں۔
4656- عن علي رضي الله عنه قال: "من أدى زكاة ماله فقد وقي شح نفسه". "ابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4657: ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابی سنان (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو عبید (رض) کے بارے میں پوچھا تو آپ کو بتایا گیا کہ وہ موٹے کپڑے پہنتے ہیں اور سخت کھانا کھاتے ہیں (اور برے حالات کا شکار ہیں) آپ (رض) نے ایک ہزار دینار قاصد کے ہاتھ ان کے پاس بھیجے اور قاصد کو کہا : جب وہ یہ دینار لے لیں تو دیکھنا وہ ان کا کیا کرتے ہیں ؟ چنانچہ قاصد نے ان کو دینار دیے انھوں نے وہ لے کر اچھے کپڑے لے کر پہنے اور عمدہ کھانا خرید کر کھایا۔ قاصد نے آ کر ساری خبر سنائی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ ان پر رحم کرے انھوں نے اس آیت کی تفسیر کردی ہے :

لینفق ذو سعۃ من سعتہ و من قدر علیہ رزقہ فلینفق مما آتاہ اللہ۔ الطلاق :7

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4657- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي سنان قال: سأل عمر ابن الخطاب عن أبي عبيدة، فقيل له: إنه يلبس الغليظ من الثياب ويأكل أخشن الطعام، فبعث إليه بألف دينار، وقال للرسول: أنظر ما يصنع إذا هو أخذها؟ فما لبث أن لبس ألين الثياب، وأكل أطيب الطعام، فجاء الرسول فأخبره، فقال: رحمه الله تأول هذه الآية: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ} . "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4685: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب (ذیل کی) یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ آیت مشترک ہے یا مبہم ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون سی آیت ؟ میں نے عرض کیا :

واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن۔

اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے ) تک ہے۔

یعنی کسی مطلقہ اور جس عورت کا شوہر وفات کرجائے دونوں کے لیے ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، الدارقطنی، ابن مردویہ۔
4658- عن أبي بن كعب قال: لما نزلت هذه الآية قلت: يا رسول الله هذه الآية مشتركة أم مبهمة؟ قال: أية آية؟ قلت: {وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} المطلقة والمتوفى عنها زوجها؟ "قال نعم". "ابن جرير وابن أبي حاتم قط وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4659: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب سورة بقرہ والی آیت عورتوں کی عدت کے بارے میں نازل ہوئی (جو فقط ان عورتوں کی عدت سے متعلق تھی جن کے شوہر وفات کرجائیں) تو لوگ کہنے لگے کہ کچھ عورتیں رہ گئی ہیں جن کی عدت کے بارے میں ابھی حکم نہیں نازل ہوا یعنی وہ چھوٹی عمر اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا منقطع ہوگیا ہو اور حمل والی عورتیں ان کی عدت کا حکم نہیں آیا۔ پس اللہ پاک نے یہ حکم نازل فرمایا :

واللاتی یئسن من المحیض من نساء کم الخ۔ الطلاق :4

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا۔ (ابن راھویہ، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)

فائدہ : ۔۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اور اسے طلاق ہوجائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اور جس کو حیض نہیں آتا صغر سنی کی وجہ سے کہ ابھی آنا شروع نہیں ہوا یا کبر سنی کی وجہ سے کہ حیض کا زمانہ ختم ہوگیا ہے تو ان دونوں کی عدت طلاق کی صورت میں تین ماہ ہے۔ اور جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اور جس عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اس کو طلاق ہوجائے یا اس کا شوہر وفات کرجائے اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔
4659- وعنه أن ناسا من أهل المدينة لما نزلت هذه الآية التي في البقرة في عدة النساء قالوا لقد بقي من

عدة النساء عدد لم تذكر في القرآن الصغار والكبار اللاتي قد انقطع عنهن المحيض، وذوات الحمل فأنزل الله التي في سورة النساء القصرى: {وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ} الآية. "ابن راهويه ش وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4660: ۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اللہ پاک فرماتے ہیں واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن۔

اور حملوں والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔

تو کیا جس حاملہ عورت کا شوہر وفات پاجائے اس کی عدت بھی وضع حمل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : ہاں۔ رواہ عبدالرزاق۔
4660- وعنه قال قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم إني أسمع الله يذكر: {وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} والحامل المتوفى عنها زوجها أن تضع حملها؟ فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4661: ۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) ہی سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن کہ کیا یہ تین طلاق والی عورت کے لیے ہے یا اس عورت کے لیے بھی ہے جس کا شوہر وفات کر جائے فرمایا : تین طلاق والی عورت کے لیے بھی اور اس عورت کے لیے بھی جس کا شوہر وفات کرجائے۔ (عبدالرزاق، مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، مسند ابی یعلی، ابن مردویہ، السنن لسعید بن منسور)
4661- وعنه قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: {وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} للمطلقة ثلاثا أو المتوفى عنها زوجها؟ قال: "هي للمطلقة ثلاثا والمتوفى عنها زوجها". "عب عم ع وابن مردويه ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الطلاق
4662: ۔۔ ( ابو ذر (رض)) حضرت ابو ذر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : اے ابو ذر ! میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر تمام لوگ اس کو تھام لیں تو وہ سب کو کافی ہوجائے۔ وہ ہے :

ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لا یحتسب۔ الطلاق : 2 ۔ 3

اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لیے (رنج و محن سے) مخلصی کی صورت پیدا کردے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و ) گمان بھی نہ ہوگا۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ، الدارمی، ابن حبان، مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4662- "أبو ذر" عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر إني لأعرف آية لو أن الناس كلهم أخذوا بها لكفتهم: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ} . "حم ن هـ والدارمي حب ك حل هب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4663: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں مسلسل اس بات کی کھوج میں تھا کہ حضرت عمر (رض) سے ان دو عورتوں کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے :

ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما۔ التحریم۔

حتی کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے حج کیا اور میں نے بھی آپ کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم ایک راستے پر چل رہے تھے کہ حضرت عمر (رض) راستے سے ہٹ کر ایک طرف کو چلے تو میں بھی پانی کا برتن لے کر پیچھے ہولیا۔ آپ (رض) قضائے حاجت سے فارغ ہو کر میری طرف آئے۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور آپ نے وضوء کیا۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے وہ دو کونسی بیویاں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابن عباس ! تعجب ہے تم پر یہ حفصہ اور عائشہ (رض) تھیں۔ پھر حضرت عمر (رض) بات کرنے لگے : کہ ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ایسی قوم کے ساتھ یہ چیز سیکھنے لگیں، میرا گھر مضافات مدینہ میں بنی امیہ بن زید کے قبیلے میں تھا۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہ ہوگیا۔ وہ بھی مجھے آگے سے جواب دینے لگی۔ یہ بات میں عجیب محسوس کی اور کہا تو آگے سے مجھے جواب دیتی ہے۔ تم کو یہ کیوں عجیب لگتا ہے کہ میں تمہاری بات کا جواب دوں جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں آپ کے ساتھ تکرار کرتی ہیں اور کوئی کوئی سارا دن رات تک آپ سے بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ سن کر میں حفصہ کے پاس گیا اور پوچھا کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیدیا کرتی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ پھر میں نے پوچھا : کیا تم میں کوئی بیوی سارا سارا دن آپ سے بات نہیں کرتی اور حتی کہ رات ہوجاتی ہے ؟ کہا : ہاں میں نے کہا : تم میں جو یہ کرتی ہے وہ تو نامراد ہوگئی اور گھاٹے کا شکار ہوگئی۔ کیا تم اس بات سے مطمئن ہو کر بیٹھ گئی ہو کہ اللہ کا غضب تم پر آجائے اپنے رسول کی وجہ سے۔ تب وہ قطعاً ہلاکت کا شکار ہوجائے گی۔ (بیٹی) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگے سے جواب نہ دیا کر اور نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کیا۔ تجھے جس چیز کی ضرورت ہوا کرتے مجھے سے مانگ لیا کر۔ اور اس بات سے دھوکا (اور حسد) کا شکار نہ ہو کہ تیری کوئی پڑوسن تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ کو تجھ سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمر (رض) کا خیال حضرت عائشہ (رض) کی طرف تھا۔

حضرت عمر (رض) عن فرماتے ہیں : میں ایک انصاری کا پڑوسی تھا ہم دونوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے کی باری مقرر کی ہوئی تھی۔ ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں جاتا تھا۔ وہ میرے پاس اپنی باری کے دن کی وحی کی خبریں وغیرہ لاتا تاھ اور میں بھی اپنی باری کی خبریں اس کو سناتا تھا۔ ان دنوں میں یہ بات لوگوں میں گردش کر رہی تھی کہ غسان (بادشاہ) اپنے گھوڑوں کی نعلیں درست کرا رہا ہے تاکہ ہم سے برسر پیکار ہو۔ ایک دن میرا ساتھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت سے آیا اور عشاء کے وقت آ کر میرے دروازے پر دستک دی۔ میں نکل کر اس کے پاس آیا۔ اس نے (پریشانی کے عالم میں) کہا بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ کیا غسان (بادشاہ ) آگیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا حادثہ ہوگیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں۔ میں نے کہا حفصہ تو تو نامراد ہوگئی : تیرا ناس ہو۔ پہلے ہی میرا خیال تھا یہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ میں نے صبح کی نماز پڑھ کر اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے اندر گیا) اور حفصہ کے پاس پہنچا وہ رو رہی تھی۔

میں نے (چھوٹتے ہی پوچھا : کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دیدی ہے ؟ حفصہ بولی مجھے نہیں معلوم ! وہ ادھر اوپر اپنے بالا خانے میں ہیں چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام (دربان) کے پاس آیا اور اس کو کہا عمر کے لیے اجازت لے کر آؤ۔ غلام اندر جا کر واپس آیا اور بولا میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آپ کا ذکر کیا تھا۔ مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدستور خاموش ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ وہاں سے ہٹ کر مسجد میں آپ کے مبر کے پاس آیا وہاں پہلے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ میں بھی تھوڑی دیر وہاں بیٹھا لیکن پھر اندر کی کشمکش نے مجھ پر غلبہ پا لیا اور میں دوبارہ اٹھ کر اس غلام کے پاس آیا اور کہا : عمر کے لیے اجازت لے کر آؤ۔ غلام اندر داخل ہو کر واپس لوٹا اور کہا میں نے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدستور خاموش رہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں واپس آ کر منبر کے پاس بیٹھ گیا۔ لیکن اندر کی پکڑ دھکڑ نے مجھے پھر اٹھا دیا اور غلام کے پاس جا کر عمر کے لیے اجازت لے کر آؤ۔ وہ اندر سے واپس آ کر بولا : میں نے آپ کا ذکر کیا تھا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ حضرت عمر (رض) پھر واپس لوٹ گئے۔ اچانک ان کو پیچھے سے غلام کی آواز آئی کہ آئیے اندر چلے جائیں آپ کے لیے اجازت مل گئی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں۔ میں اندر داخل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ریتیلی چٹائی پر ٹیل گائے استراحت فرما رہے تھے۔ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نمایاں نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : نہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں۔ میں نے اللہ اکبر کہا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں دیکھیں ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ لیکن مدینے آئے تو ایسی قوم سے سابقہ پڑا جن کی عورتیں مردوں پر غالب رہتی ہیں۔ لہٰذا ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے یہ چیز سیکھنا شروع کردی۔ یونہی ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہ ہوگیا لیکن وہ تو مجھے آگے سے (توتڑاک) جواب دینا شروع ہوگئی۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہے کہ تو مجھے جواب دے رہی ہے ؟ اس نے کہا تجھے یہ اجنبی لگ رہا ہے جبکہ اللہ کی قسم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں آپ کو جواب دیا رتی ہیں اور کوئی کوئی سارا سارا دن آپ سے بولتی نہیں ہے۔ میں نے کہا نامراد ہو جو ایسا کرتی ہے وہ تو گھاٹے کا شکار ہوگئی۔ کیا وہ اس بات سے مطمئن ہوگئیں کہ ان پر اللہ پاک اپنے پیغمبر کی وجہ سے ناراض ہوجائیں تب تو وہ ہلاک ہوجائیں گی۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بات سن کر مسکرادیے۔ میں نے آگے عرض کیا : پھر میں حفصہ کے پاس گیا اور اس کو کہا : تجھے یہ بات دھوکا میں مبتلا نہ کرے کہ تیری ساتھن تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ کو تجھ سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوبارہ مسکرائے ۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (کچھ دیر میں بیٹھ کر) دل بہلانے کی باتیں کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی تو میں نے کمرے میں ادھر ادھر نظریں گھمائیں اللہ کی قسم ! مجھے کمرے میں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی جس کو دوبارہ نظر ڈالی جائے سوائے چمڑے کی کھالوں کے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! مجھے کمرے میں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی جس کو دوبارہ نظر ڈالی جائے سوائے چمڑے کی کھالوں کے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجیے کہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے۔ اللہ نے فارس اور روم کو کیا کچھ نہیں دے رکھا حالانکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تو اب تک شک میں ہے ؟ ان لوگوں کے لیے اللہ نے ان کی عیش و عشرت دنیا میں جلد عطا کردی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ اللہ سے میرے لیے استغفار کردیجیے۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درحقیقت بیویوں پر غصہ کی وجہ سے قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جائیں گے۔ پھر اللہ پاک نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس بارے میں عتاب نازل کیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ (عبدالرزاق، ابن سعد، العدنی، عبد بن حمید فی تفسیرہ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، التہذیب لابن جریر، ابن المنذر، ابن مردیوہ، الدلائل للبیہقی)
4663- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: لم أزل حريصا على أن أسأل عمر عن المرأتين من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله تعالى: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} حتى حج عمر وحججت معه، فلما كنا ببعض الطريق عدل عمر وعدلت معه بالإداوة فتبرز ثم أتاني، فسكبت على يديه ثم توضأ، فقلت: يا أمير المؤمنين من المرأتان من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله تعالى: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} ؟ فقال عمر: "وا عجبا لك يا ابن عباس؟ هي حفصة وعائشة، ثم أخذ يسوق الحديث قال: كنا معشر قريش قوما نغلب النساء، فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم، فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم، وكان منزلي في بني أمية بن زيد بالعوالي، فغضبت يوما على امرأتي، فإذا هي تراجعني فأنكرت أن تراجعني: فقالت: ما تنكر أن أراجعك؟ فوالله إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه، وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل، فانطلقت فدخلت على حفصة فقلت أتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت نعم، قلت وتهجره إحداكن اليوم إلى الليل؟ قالت نعم قلت: قد خاب من فعل ذلك منكن، وخسر، أفتأمن إحداكن أن يغضب الله عليها لغضب رسوله؟ فإذا هي قد هلكت لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسأليه شيئا، وسليني ما بدا لك، ولا يغرنك أن كان جارتك هي أوسم منك وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك يريد عائشة، وكان لي جار من الأنصار وكنا نتناوب النزول إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل يوما وأنزل يوما، فيأتيني بخبر الوحي وغيره، وآتيه بمثل ذلك، وكنا نتحدث أن غسان تنعل الخيل لتغزونا، فنزل صاحبي يوما ثم أتاني عشاء فضرب بابي، فخرجت إليه فقال: حدث أمر عظيم، فقلت وما ذاك؟ أجاءت غسان؟ قال: لا بل أعظم من ذلك، طلق الرسول نساءه، فقلت: قد خابت حفصة وخسرت، قد كنت أظن هذا كائنا، حتى إذا صليت الصبح شددت علي ثيابي، ثم نزلت فدخلت على حفصة وهي تبكي فقلت أطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت: لا أدري، هو ذا معتزل في المشربة1 فأتيت غلاما له أسود، فقلت استأذن لعمر، فدخل الغلام ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت: فانطلقت حتى أتيت المنبر فإذا عنده رهط جلوس، يبكي بعضهم، فجلست قليلا، ثم غلبني ما أجد فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر، فدخل ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له، فصمت فخرجت ثم جلست إلى المنبر، ثم غلبني ما أجد، فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر، فدخل ثم خرج إلي فقال: قد ذكرتك له فصمت، فوليت مدبرا فإذا الغلام يدعوني فقال: ادخل، فقد أذن لك فدخلت فسلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا هو متكئ على رمال حصير قد أثر في جنبه، فقلت: أطلقت نساءك؟ فرفع رأسه إلي وقال: لا فقلت الله أكبر، لو رأيتنا يا رسول الله، وكنا معشر قريش قوما نغلب النساء، فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم، فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم، فغضبت على امرأتي يوما، فإذا هي تراجعني فأنكرت ذلك أن تراجعني، فقالت: ما تنكر أن أراجعك؟ فوالله إن أزواج رسول الله صلى الله عليه سلم، ليراجعنه، وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل فقلت قد خاب من فعل ذلك منهن، وخسر، أفتأمن إحداهن أن يغضب الله عليها لغضب رسوله؟ فإذا هي قد هلكت فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخلت على حفصة فقلت لا يغرنك أن كان جارتك هي أوسم وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك؟ فتبسم أخرى، فقلت أستأنس يا رسول الله؟ قال: نعم فجلست فرفعت رأسي في البيت فوالله ما رأيت في البيت شيئا يرد البصر إلا أهبة ثلاثة، فقلت ادع الله يا رسول الله أن يوسع على أمتك، فقد وسع على فارس والروم وهم لا يعبدون الله

فاستوى جالسا، ثم قال: "أفي شك أنت يا ابن الخطاب؟ أولئك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا"، فقلت استغفر لي يا رسول الله، وكان أقسم أن لا يدخل عليهن شهرا من شدة موجدته عليهن، حتى عاتبه الله عز وجل في ذلك، وجعل له كفارة اليمين". "عب وابن سعد والعدني وعبد بن حميد في تفسيره خ م ت ن وابن جرير في تهذيبه وابن المنذر وابن مردويه ق في الدلائل
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4664: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں سے جدائی اختیار کرلی تو میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو لوگ کنکریوں کو ہاتھ میں لیے بات کر رہے تھے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے۔ یہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے قبل کی بات تھی۔ چنانچہ میں دل میں تہیہ کیا کہ میں ان عورتوں کو آج سبق سکھاؤں گا۔ میں عائشہ (رض) کے پاس گیا اور کہا اے بنت ابی بکر ! تمہاری یہ ہمت ہوگئی کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے لگی ہو۔ عائشہ بولی : اے ابن خطاب میرا اور تمہارا کیا واسطہ ! تم جا کر اپنی بیٹی کو کہو۔ چنانچہ میں (اپنی بیٹی) حفصہ کے پاس آیا اور بولا اے حفصہ ! تمہاری یہ ہمت ہوگئی ہے کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاؤ۔ اللہ کی قسم مجھے علم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے محبت نہیں کرتے اگر (ان کی جگہ) میں ہوتا تو تم کو طلاق دیدیتا۔ حفصہ بہت زیاد تیز تیز رونے لگی۔ پھر میں نے اس سے پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں ؟ بولی : وہ اوپر بالا خانے میں ہیں۔ (یہ ایک اونچی جگہ پر بنا ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلوت خانہ تھا) میں وہاں پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غلام رباح بالاخانے کی دہلیز پر ایک لکڑی پر پاؤں لٹکائے بیٹھا تھا۔ یہ ایک نوجوان لڑکا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سہارے بالاخانے میں چڑھتے اترتے تھے۔

میں نے اس کو آواز دی اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لو۔ اس نے کمرے کے اندر دیکھا پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہیں کہا۔ میں نے پھر آواز دی۔ اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لو۔ اس نے پھر کمرے کی طرف دیکھا اور پھر مجھے دیکھا اور کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر آواز بلند کرکے کہا اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لو میرا خیال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ رہے ہیں میں حفصہ کی (حمایت کی وجہ) سے شاید آیا ہوں اللہ کی قسم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر مجھے اس کی گردن مارنے کا حکم دیں گے تو میں فورا اس کی گردن اڑا دوں گا پھر غلام نے میری طرف ہاتھ کا اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ۔

چنانچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا۔ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ اس وقت آپ کے جسم پر صرف ایک تہہ بند تھی۔ اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا آپ کے جسم پر نہ تھا۔ چٹائی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم پر نشانات ڈال رکھے تھے۔ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی الماری میں دیکھا وہاں بس ایک مٹھی جو صاع کے پیمانے میں رکھی تھی اور اسی جتنے قرظ پتے تھے۔ (جو غالبا جانور کی کھال کی دباغت کے لیے رکھے تھے) اور چند گھونٹ دودھ ایک برتن میں تھا۔ بےاختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے ابن الخطاب ! کس چیز نے تم کو رلا دیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں کیوں نہ روؤں ؟ چٹائی نے آپ کے جسم پر نشانات ڈال دیے ہیں اور آپ کی الماری میں بس یہی کچھ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں جبکہ وہ قیصر و کسری (شاہان روم وفارس) ہیں جو پھلوں اور نہروں میں عیش کر رہے ہیں اور آپ اللہ کے رسول اور اس کے خاص الخاص بندے ہیں اور یہ آپ کی کل متاع ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

اے ابن الخطاب ! کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ یہ نعمتیں ہمارے لیے آخرت میں ہوں گی اور ان کے لیے دنیا ہی میں مہیا کردی گئی ہیں ؟ میں نے عرض کیا ضرور۔ میں جب آپ کے پاس حاضر ہوا تھا تو آپ کے چہرے میں غصہ کے تاثرات تھے۔ اس لیے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عورتوں کی وجہ سے آپ کو کیا تکلیف اور مشقت پیش آئی ہے ؟ اگر آپ نے ان کو طلاق دیدی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ، ملائکہ ، جبرئیل، میکائیل، میں ابوبکر اور تمام مومنین آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اور جو بھی میں نے آپ سے بات کی اور اللہ کی حمد کی اس سے میرا یہ مقصد اللہ کی رضا تھا اور اللہ پاک نے پھر اپنا کلام کرکے میری تمام باتوں کی تصدیق کردی۔

وان تظاھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ الخ وابکارا۔ التحریم : 4 ۔ 5

اور تم پیغمبر (کی ایذاء) پر باہم اعانت کروگی تو خدا اور جبرائیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوست دار ہیں) اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں۔ اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیویاں دیدے، مسلمان صاحب ایمان، فرانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گذار، روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں۔

عائشہ اور حفصہ (رض) ان دو بیویوں نے دیگر تمام ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا ہمنوا کرلیا تھا (حضور سے اپنی بات منوانے کے لیے) چنانچہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ان کو طلاق دیدی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں مسجد میں گیا تھا وہاں لوگ کنکریاں کرید رہے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اتر کر ان کو خبر سنا دوں کہ آپ نے ان کو طلاق نہیں دی۔ فرمایا ٹھیک ہے اگر تم چاہو۔ پھر میں آپ سے مزید بات چیت کرتا رہا حتی کہ غصہ آپ کے چہرہ سے چھٹ گیا آپ کے دانت نظر آنے لگے اور آپ ہنسنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسکراہٹ تمام انسانوں سے خوبصورت تھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے اور میں دربان لڑکے سہارے نیچے اترا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ((کی طاقت اور پھرتی کا یہ منظر تھا کہ) بغیر کسی سہارے کو چھوئے نیچے اترے گویا ہموار زمین پر چل رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ تو بالا خانے میں صرف انتیس دن رہے ہیں۔ (جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ کی قسم کھائی تھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی مہینہ انتیس یوم کا بھی ہوتا ہے۔ پھر میں نے مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر بلند آواز میں پکارا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اور اللہ پاک نے یہ حکم بھی نازل فرمایا :

واذا جاء ہم امر من الامن او الخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم۔ النساء : 83 ۔

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں۔ اور اگر وہ اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے۔ تو یہ تحقیق کرنے والا میں ہی تھا۔ اور اللہ پاک نے پھر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت تخییر نازل کرکے عورتوں کے بارے میں اختیار دے دیا تھا۔ عبد بن حمید فی تفسیرہ۔ مسند ابی یعلی، مسلم ابن مردویہ۔

بعض کتابوں میں یہاں تک یہ روایت منقول ہے اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا اور آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ یہاں سے میں نے عرض کیا کیوں نہیں میں راضی ہوں۔۔۔ تک۔

4665: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ جا رہے تھے۔ حتی کہ ہم مر الظہران پر پہنچے۔ وہاں حضرت عمر (رض) پیلو (کے جھنڈ) میں قضائے حاجت کے لیے چلے گئے ۔ میں آپ کی انتظار میں بیٹھ گیا حتی کہ آپ نکلے میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں ایک سال سے آپ سے ایک سوال کرنے کی کوشش میں ہوں۔ لیکن مجھے آپ کا رعب و دبدبہ سوال کرنے سے روک دیتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ایسا نہ کیا کر، جب تم کو معلوم ہو کہ میرے پاس اس چیز کا علم ہے تو ضرور سولا کرلیا کر میں نے عرض کیا میں آپ سے دو عورتوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ایسا نہ کیا کر، جب تم کو معلوم ہو کہ میرے پاس اس چیز کا علم ہے تو ضرور سوال کرلیا کر میں نے عرض کیا میں آپ سے دو عورتوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) عن نے فرمایا : ہاں وہ حفصہ اور عائشہ تھیں۔ ہم جالیت میں عورتوں کو کچھ شمار نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ان کو اپنے معاملات میں دخل دینے کی اجازت دیتے تھے۔

پھر جب اللہ پاک نے اسلام کا بول بالا کیا اور عورتوں کے بارے میں بھی (ان کے حقوق اور اہمیت کے) احکام نازل کیے۔ اور ان کے لیے حقوق رکھے بغیر اس کے کہ وہ ہمارے کاموں میں دخل دیں۔ پس ایک مرتبہ میں اپنے کام سے بیٹھا تھا۔ کہ مجھے میری بیوی نے کہا : یہ کام یوں یوں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا تجھے اس کام سے کیا سروکار ؟ اور تو نے کب سے ہمارے کاموں میں دخل دینا شروع کیا ہے ؟ تب میری بیوی نے کہا : اے ابن خطاب ! کوئی تجھ سے بات نہ کرے جبکہ تیری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیدیتی ہے۔ حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا واقعی وہ ایسا کرتی ہے ؟ بیوی نے کہا : ہاں۔ پس میں کھڑا ہوگیا اور سیدھا حفصہ کے پاس آیا۔ اور کہا : اے حفصہ ! تو اللہ سے نہیں ڈرتی ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرتی ہے حتی کہ وہ غصہ ہوجاتے ہیں ؟ افسوس تجھ پر، تو عائشہ کی خوبصورتی اور اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سے دھوکا نہ کھا۔ پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا۔ اور اس کو بھی اسی طرح کی بات کی۔ وہ بولی : اے ابن خطاب آپ ہر چیز میں داخل ہوگئے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی بیویوں کے درمیان بھی دخل دینے لگے ہیں۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میرا ایک انصاری پڑوسی تھا جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے غائب رہتا تو وہ مجلس میں حاضری دیتا تھا اور جب وہ غائب ہوتا تو میں حاضری دیتا تھا۔ وہ مجھے خبر دیتا اور میں اس کو خبر دیتا تھا۔ اور ہمیں غسان بادشاہ کے سوا کسی اور کے حملے کا خوف نہ تھا۔ اچانک ایک دن میرا ساتھی آیا اور دو مرتبہ ابا حفصہ کہہ کر مجھے پکارا۔ میں نے کہا (اف ! کیا ہوگیا تجھے ؟ کیا غسانی بادشاہ آگیا ہے ؟ وہ بولا نہیں، بلکہ رسول اللہ نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے۔ میں نے کہا حفصہ کی ناک زمین پر رگڑے کیا وہ جدا ہوگئی ہے۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا وہاں پر گھر میں رونا رویا جا رہا تھا۔ جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بالا خانے میں فروکش تھے۔ اور دروازے پر ایک حبشی لڑکا کھڑا تھا۔ میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے لیے اجازت لو۔ چنانچہ اس نے آپ سے میرے لیے اجازت لی اور میں اندر داخل ہوا تو آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، سر کے نیچے کھجور کی چھال بھرا ہوا تکیہ تھا۔ ایک طرف قرظ پتے (جن سے کھال دباغت دی جاتی ہے) اور کھال لٹکی ہوئی تھی۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دینے لگا کہ میں نے عائشہ اور حفصہ کو کیا کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہینہ بھر اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم اٹھائی جب انتیسویں رات تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتر کر عورتوں کے پاس گئے۔ مسند ابی داؤد الطیالسی۔
4664- عن ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب، قال: لما اعتزل النبي صلى الله عليه وسلم نساءه دخلت المسجد فإذا الناس ينكتون بالحصى ويقولون طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه، وذلك قبل أن يؤمرون بالحجاب فقلت لأعلمن ذلك اليوم، فدخلت على عائشة فقلت: يا بنت أبي بكر قد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت مالي ولك يا ابن الخطاب؟ عليك بعيبتك فدخلت على حفصة، فقلت يا حفصة أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله لقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحبك، ولولا أنا لطلقك، فبكت أشد البكاء، فقلت لها: أين رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت في المشربة، فدخلت فإذا أنا برباح غلام رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا على أسكفة المشربة، مدليا رجليه على نقير من خشب، وهو جذع يرقى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وينحدر، فناديت يا رباح استأذن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنظر إلى الغرفة، ثم نظر إلي فلم يقل شيئا، فقلت يا رباح استأذن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنظر إلى الغرفة، ثم نظر إلي، فلم يقل شيئا، فرفعت صوتي، ثم قلت يا رباح استأذن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإني أظن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ظن أني جئت من أجل حفصة، والله لئن أمرني بضرب عنقها لأضربن عنقها فأومأ إلي بيده: أن ارقه، فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع على حصير فجلست فإذا عليه إزار وليس عليه غيره، وإذا الحصير قد أثر في جنبه، فنظرت في خزانة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع، ومثلها من قرظ، في ناحية الغرفة، فإذا فيق1 معلق فابتدرت عيناي، فقال: ما يبكيك يا ابن الخطاب؟ قلت: يا نبي الله وما لي لا أبكي؟ وهذا الحصير قد أثر في جنبك، وهذه خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى، وذاك قيصر وكسرى في الثمار والأنهار، وأنت رسول الله وصفوته، وهذه خزانتك، فقال: يا ابن الخطاب أما ترضى أن تكون لنا الآخرة، ولهم الدنيا، قلت بلى، ودخلت عليه حين دخلت وأنا أرى في وجهه الغضب، فقلت يا رسول الله ما يشق عليك من شأن النساء؟ فإن كنت طلقتهن فإن الله معك وملائكته وجبريل وميكائيل وأنا وأبو بكر والمؤمنون معك، وكل ما تكلمت وأحمد الله بكلام إلا رجوت الله يصدق قولي الذي أقوله، ونزلت هذه الآية: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجاً خَيْراً مِنْكُنَّ} ، {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} وكانت عائشة وحفصة تظاهران على سائر نساء النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله طلقتهن قال: لا، قلت: يا رسول الله إني دخلت المسجد والمسلمون ينكتون بالحصى ويقولون طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه، أفأنزل أخبرهم أنك لم تطلقهن؟ قال: نعم إن شئت، ثم لم أزل أحدثه حتى تحسر الغضب عن وجهه، وحتى كشر وضحك، وكان أحسن الناس ثغرا فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم ونزلت أتشبث بالجذع، ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما يمشي على الأرض ما يمسه بيده، فقلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما كنت في هذه الغرفة تسعا وعشرين، فقال: إن الشهر قد يكون تسعا وعشرين، فقمت على باب المسجد فناديت بأعلى صوتي: لم يطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه، ونزلت هذه الآية: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} فكنت أنا استنبطت ذلك الأمر، وأنزل الله آية التخيير. "عبد بن حميد في تفسيره ع م وابن مردويه" وروى بعضه ودخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حصير إلى قوله قلت بلى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4665: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ جا رہے تھے۔ حتی کہ ہم مر الظہران پر پہنچے۔ وہاں حضرت عمر (رض) پیلو (کے جھنڈ) میں قضائے حاجت کے لیے چلے گئے ۔ میں آپ کی انتظار میں بیٹھ گیا حتی کہ آپ نکلے میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں ایک سال سے آپ سے ایک سوال کرنے کی کوشش میں ہوں۔ لیکن مجھے آپ کا رعب و دبدبہ سوال کرنے سے روک دیتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ایسا نہ کیا کر، جب تم کو معلوم ہو کہ میرے پاس اس چیز کا علم ہے تو ضرور سولا کرلیا کر میں نے عرض کیا میں آپ سے دو عورتوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ایسا نہ کیا کر، جب تم کو معلوم ہو کہ میرے پاس اس چیز کا علم ہے تو ضرور سوال کرلیا کر میں نے عرض کیا میں آپ سے دو عورتوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) عن نے فرمایا : ہاں وہ حفصہ اور عائشہ تھیں۔ ہم جالیت میں عورتوں کو کچھ شمار نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ان کو اپنے معاملات میں دخل دینے کی اجازت دیتے تھے۔

پھر جب اللہ پاک نے اسلام کا بول بالا کیا اور عورتوں کے بارے میں بھی (ان کے حقوق اور اہمیت کے) احکام نازل کیے۔ اور ان کے لیے حقوق رکھے بغیر اس کے کہ وہ ہمارے کاموں میں دخل دیں۔ پس ایک مرتبہ میں اپنے کام سے بیٹھا تھا۔ کہ مجھے میری بیوی نے کہا : یہ کام یوں یوں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا تجھے اس کام سے کیا سروکار ؟ اور تو نے کب سے ہمارے کاموں میں دخل دینا شروع کیا ہے ؟ تب میری بیوی نے کہا : اے ابن خطاب ! کوئی تجھ سے بات نہ کرے جبکہ تیری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیدیتی ہے۔ حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا واقعی وہ ایسا کرتی ہے ؟ بیوی نے کہا : ہاں۔ پس میں کھڑا ہوگیا اور سیدھا حفصہ کے پاس آیا۔ اور کہا : اے حفصہ ! تو اللہ سے نہیں ڈرتی ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرتی ہے حتی کہ وہ غصہ ہوجاتے ہیں ؟ افسوس تجھ پر، تو عائشہ کی خوبصورتی اور اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سے دھوکا نہ کھا۔ پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا۔ اور اس کو بھی اسی طرح کی بات کی۔ وہ بولی : اے ابن خطاب آپ ہر چیز میں داخل ہوگئے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی بیویوں کے درمیان بھی دخل دینے لگے ہیں۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میرا ایک انصاری پڑوسی تھا جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے غائب رہتا تو وہ مجلس میں حاضری دیتا تھا اور جب وہ غائب ہوتا تو میں حاضری دیتا تھا۔ وہ مجھے خبر دیتا اور میں اس کو خبر دیتا تھا۔ اور ہمیں غسان بادشاہ کے سوا کسی اور کے حملے کا خوف نہ تھا۔ اچانک ایک دن میرا ساتھی آیا اور دو مرتبہ ابا حفصہ کہہ کر مجھے پکارا۔ میں نے کہا (اف ! کیا ہوگیا تجھے ؟ کیا غسانی بادشاہ آگیا ہے ؟ وہ بولا نہیں، بلکہ رسول اللہ نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے۔ میں نے کہا حفصہ کی ناک زمین پر رگڑے کیا وہ جدا ہوگئی ہے۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا وہاں پر گھر میں رونا رویا جا رہا تھا۔ جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بالا خانے میں فروکش تھے۔ اور دروازے پر ایک حبشی لڑکا کھڑا تھا۔ میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے لیے اجازت لو۔ چنانچہ اس نے آپ سے میرے لیے اجازت لی اور میں اندر داخل ہوا تو آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، سر کے نیچے کھجور کی چھال بھرا ہوا تکیہ تھا۔ ایک طرف قرظ پتے (جن سے کھال دباغت دی جاتی ہے) اور کھال لٹکی ہوئی تھی۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دینے لگا کہ میں نے عائشہ اور حفصہ کو کیا کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہینہ بھر اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم اٹھائی جب انتیسویں رات تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتر کر عورتوں کے پاس گئے۔ مسند ابی داؤد الطیالسی۔
4665- عن ابن عباس قال: أقبلنا مع عمر حتى انتهينا إلى مر1 الظهران فدخل عمر الأراك يقضي حاجته، وقعدت له حتى خرج فقلت: يا أمير المؤمنين أريد أن أسألك عن حديث منذ سنة، فتمنعني هيبتك أن أسألك، فقال: لا تفعل، إذا علمت أن عندي علما فسلني، فقلت: أسألك عن حديث المرأتين؟ قال: نعم حفصة وعائشة كنا في الجاهلية لا نعتد بالنساء ولا ندخلهن في شيء من أمورنا، فلما جاء الله بالإسلام أنزلهن الله حيث أنزلهن، وجعل لهن حقا من غير أن يدخلهن في شيء من أمورنا، فبينما أنا جالس في بعض شأني إذ قالت لي امرأتي: كذا وكذا، فقلت: وما لك أنت ولهذا؟ ومتى كنت تدخلين في أمورنا؟ فقالت: يا ابن الخطاب ما يستطيع أحد أن يكلمك وابنتك تكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى يظل غضبان، فقلت وإنها لتفعل؟ قالت: نعم فقمت فدخلت على حفصة، فقلت يا حفصة ألا تتقين الله؟ تكلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يظل غضبان، ويحك، لا تغتري بحسن عائشة وحب رسول الله صلى الله عليه وسلم إياها ثم أتيت أم سلمة أيضا فقلت لها مثل ذلك فقالت: لقد دخلت يا ابن الخطاب في كل شيء، حتى بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين نسائه، وكان لي صاحب من الأنصار يحضر رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غبت، وأحضره إذا غاب، ويخبرني وأخبره، ولم يكن أحد أخوف عندنا أن يغزونا من ملك من ملوك غسان، فأنا ذات يوم جالس في بعض أمري إذ جاء صاحبي، فقال: أبا حفص مرتين، فقلت ويلك مالك؟ أجاء الغساني؟ قال: لا، ولكن طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه، فقلت رغمت أنف حفصة وانتعلت، وأتيت النبي صلى الله عليه وسلم، وإذا في كل بيت بكاء وإذا النبي صلى الله عليه وسلم في مشربة له، وإذا على الباب غلام أسود، فقلت استأذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذن لي، فأذن لي فإذا هو نائم على حصير تحت رأسه وسادة من أدم حشوها ليف، وإذا قرظ وأهب معلقة فأنشأت أخبره بما قلت لحفصة وأم سلمة، وكان آلى من نسائه شهرا فلما كان ليلة تسع وعشرين نزل إليهن. "ط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4666 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے نزدیک

یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک

اے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے آپ اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہیں۔ الخ۔ یعنی سورة تحریم کا ذکر کیا گیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ حفصہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ رواہ ابن مردویہ۔
4666- عن ابن عباس قال: ذكر عند عمر بن الخطاب {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ} قال: "إنما كان ذلك في حفصة". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4667: ۔۔ ابن عمر (رض) حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ کو کہا : تو کسی کو خبر نہ دینا اور ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ حفصہ کہا : آپ اپنے لیے اللہ کی حلال کردہ شئی کو حرام کر رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم میں اس کے قریب نہ جاؤں گا۔ لیکن حفصہ سے یہ خبر دل میں نہ رہی اور اس نے عائشہ کو بتادی۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :

قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ التحریم۔

بےشک اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں سے حلال ہونا فرض کردیا۔ الشاشی، السنن لسعید بن منصور۔
4667- عن ابن عمر عن عمر قال النبي صلى الله عليه وسلم لحفصة: "لا تخبري أحدا، وأن أم إبراهيم علي حرام، فقالت أتحرم ما أحل الله لك؟ فقال والله لا أقربها، فلم تقرها1 نفسها حتى أخبرت عائشة فأنزل الله: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} "؟ "الشاشي ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4668: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے میں نے حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا : وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) ایک دوسرے کی مدد کی تھی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عائشہ اور حفصہ۔ اس واقعہ کی ابتداء یوں ہوئی تھی ام ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) (جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہانڈی اور آپ کے لیے حلال کی تھی) ان سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کے گھر ان کی باری کے دن میں ہمبستری کی ۔ حفصہ کو یہ بات پتہ چل گئی۔ ایساکام کیا ہے جو کسی اور بیوی کے پاس نہیں کیا، وہ بھی میرے دن میں، میری باری میں اور میرے ہی بستر پر۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ کو فرمایا : کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں اس کو اپنے لیے حرام کرلوں اور کبھی اس کے قریب نہ لگوں ؟ حفصہ نے کہا : ہاں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے لیے حرام قرار دیدیا۔ اور حفصہ کو فرمایا : یہ بات کسی اور کو ذکر نہ کرنا۔ لیکن حفصہ نے عائشہ کو یہ بات بتادی۔ اور پھر اللہ پاک نے اپنے نبی کو یہ بات بتادی اور یہ سورت نازل کی :

یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک۔ تمام آیات۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پھر ہمیں خبر پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دیدیا ہے اور اپنی باندی سے بھی ہم بستر ہوئے ہیں۔ ابن جریر، ابن المنذر۔
4668- عن ابن عباس قال: قلت لعمر بن الخطاب من المرأتان اللتان تظاهرتا؟ قال: عائشة وحفصة، وكان بدء الحديث في شأن مارية أم إبراهيم القبطية، أصابها النبي صلى الله عليه وسلم في بيت حفصة في يومها، فوجدت حفصة، فقالت: يا نبي الله لقد جئت إلي شيئا ما جئته إلى أحد من أزواجك، في يومي وفي دوري وعلى فراشي؟ قال: ألا ترضين أن أحرمها، فلا أقربها؟ قالت: بلى، فحرمها، وقال: لا تذكري ذلك لأحد، فذكرته لعائشة، فأظهره الله عليه، فأنزل الله تعالى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ} . الآيات كلها فبلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر عن يمينه وأصاب جاريته. "ابن جرير وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4669: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ چلے جا رہے تھے اور حضرت حفصہ و عائشہ (رض) کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔ پیچھے سے حضرت عمر (رض) بھی ہمارے ساتھ آ ملے اور ہم نے اس موضوع پر گفتگو بند کردی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا بات ہے مجھے دیکھ کر تم لوگ خاموش کیوں ہوگئے ؟ کس چیز کے بارے میں تم بات چیت کر رہے تھے ؟ سب نے کہا : کچھ نہیں یا امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے ان کو کہا : میں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تم مجھے ضرور بتاؤ کہ کس بارے میں گفتگو کر رہے تھے ؟ تب لوگوں نے کہا : ہم عائشہ، حفصہ اور سودا (رض) کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں مدینہ کے کسی گھاس میں تھا کہ عبداللہ بن عمر میرے پاس آیا اور بولا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں حفصہ کے پاس پہنچا وہ اپنے آپ کو پیٹ رہی تھی اسی طرح دوسری ازواج مطہرات بھی کھڑی اپنے آپ کو کوس پیٹ رہی تھیں۔ میں نے حفصہ کو کہا : کیا تجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دیدی ہے ؟ اگر واقعی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھے طلاق دیدی ہے تو یاد رکھ میں کبھی بھی تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ انھوں نے پہلے بھی تم کو طلاق دیدی تھی۔ وہ تو صرف میرا لحاظ کرکے تم سے رجوع کرلیا تھا۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں میں وہاں سے نکلا۔ لوگ مسجد میں ادھر ادھر حلقے لگائے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ (پریشانی کی وجہ سے سب افسردوہ و پریشان تھے) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمرے کے اوپر بالا خانے میں تشریف فرما تھے۔ میں بھی ایک حلقے میں گیا۔ لیکن میں رنج و غم کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھ نہ سکا اور اٹھ کر اوپر گیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر ایک حبشی غلام بیٹھا تھا۔ میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکت ہو، کیا عمر اندر داخل ہوسکتا ہے ؟ لیکن مجھے کسی نے جواب نہ دیا۔ میں دوبارہ اپنی جگہ آ بیٹھا۔ پیچھے سے قاصد آگیا اور اس نے پوچھا : عمر کہاں ہے ؟ میں کھڑا ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا آپ دھوپ میں بیٹھے تھے۔ میں سلام کے بعد آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ کے چہرے پر غصے کے کچھ اثرات تھے۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے غصہ کو زائل کردوں۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات چیت میں مصروف ہوگیا۔ پھر میں نے آپ سے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے ؟

آپ مجھے دیکھیں ! میں حفصہ کے پاس گیا تھا و اپنا سینہ پیٹ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا : کیا تجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دیدی ہے ؟ اگر واقعۃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھے طلاق دیدی ہے تو میں تیرے ساتھ کبھی بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ پہلے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھ کو طلاق دیدی تھی وہ تو صرف میری وجہ سے رجوع کرلیا تھا۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس دیے، اس طرح میں آپ سے بات چیت کرتا رہا اور غصہ کے اثرات آپ کے چہرہ انور سے چھٹتے رہے۔

پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی عورتوں کو طلاق دیدی ہے ؟ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر غضب ناک ہوگئے اور مجھے فرمایا : میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں میں وہاں سے نکل آیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتیس یوم تک یونہی ٹھہرے رہے۔ پھر فضل بن عباس آپ کے پاس سے ایک ہڈی لے کر اترے جس میں لکھا تھا :

یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک۔ مکمل سورت تک۔

پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر آئے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4669- عن ابن عباس قال: كنا نسير فلحقنا عمر بن الخطاب ونحن نتحدث في شأن حفصة وعائشة، فسكتنا حين لحقنا، فقال: ما لكم سكتم حين رأيتموني؟ فأي شيء كنتم تحدثون؟ قالوا: لا شيء يا أمير المؤمنين، قال: عزمت عليكم لتحدثني، قالوا: تذاكرنا عن شأن عائشة وحفصة، وشأن سودة، فقال عمر: أتاني عبد الله بن عمر وأنا في بعض حشوش المدينة، فقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم طلق نساءه، قال عمر فدخلت على حفصة وهي قائمة تلتدم ونساء النبي صلى الله عليه وسلم قائمات يلتدمن1 فقلت لها أطلقك النبي صلى الله عليه وسلم؟ لإن كان طلقك لا أكلمك أبدا فإنه قد كان طلقك فلم يراجعك إلا من أجلي، ثم خرجت فإذا الناس جلوس في المسجد حلق حلق، كأنما على رؤوسهم الطير، والنبي صلى الله عليه وسلم قد قعد فوق البيت، فجلست في حلقة، فاغتممت فلم أصبر حتى قمت فصعدت فإذا غلام أسود على الباب، فقلت: السلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم ورحمة الله وبركاته، أيدخل عمر؟ فلم يجبني أحد، فأتيت مجلسي فجلست فيه وجاء الرسول فقال: أين عمر؟ فقمت فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس في الشمس، فسلمت عليه وجلست وبوجهه شيء من الغضب فوددت أني سلبته من وجهه، فلم أزل أحدثه، فقلت: يا رسول الله أطلقت نساءك؟ لو رأيتني وقد دخلت على حفصة وهي تلتدم فقلت لها: أطلقك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ لئن كان فعل لا أكلمك أبدا فإنه قد كان طلقك، وما راجعك إلا من أجلي، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم، وجعلت أحدثه حتى رأيته يسير عن وجهه الغضب، فقلت له: يا رسول الله أطلقت نساءك فغضب، وقال لي: قم عني فخرجت فمكث النبي صلى الله عليه وسلم تسعا وعشرين ليلة، ثم إن الفضل بن العباس نزل بالكتف وفيها: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} السورة كلها، ونزل النبي صلى الله عليه وسلم. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4670: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اللہ عزوجل کے فرمان :

وان تظاھرا علیہ۔ التحریم۔

اور اگر وہ دو عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کے متعلق پوچھنا چاہتا تھا۔ لیکن میں آپ کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے رک جاتا تھا۔ جب ہم نے حج کیا تو حضرت عمر (رض) نے خود ہی مجھے فرمایا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بیٹے ! مرحبا ہو، تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : مجھے اللہ عزوجل کے فرمان : وان تظاہرا علیہ کے متعلق دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ دو عورتیں کون تھیں ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں مجھ سے زیادہ جاننے والے کو نہیں پاسکتے۔

ہم لوگ مکہ میں اپنی عورتوں سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے تھے۔ جب بھی کسی کو اپنی عورت کی ٹانگیں کھینچنے کی خواہش ہوتی تو وہ بغیر پوچھے اپنی حاجت پوری کرلیتا تھا۔ جب ہم مدینہ آئے اور انصار کی عورتوں سے شادی بیاہ کیے تو وہ ہم سے بات کرتی تھیں اور آگے سے جواب بھی دیدیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی عورت کو چھڑی سے مارا تو وہ بولی : اے ابن خطاب ! تجھ پر تعجب (و افسوس) ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تو ان کی بیویاں بات چیت کرتی ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ سن کر میں حفصہ کے پاس آیا اور اس کو کہا : اے بیٹی ! دیکھ ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی چیز کے لیے تنگ نہ کیا کر، نہ ان سے کچھ مانگا کر، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دینار ہیں اور نہ درہم جو اپنی بیویوں کو دیں۔ جب بھی تجھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتادیا کر خواہ تیل ہی کی ضرورت ہو۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب صبح کی نماز پڑھ کر فارغ وجاتے تھے تو لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے حتی کہ جب سورج طلوع ہوجاتا پھر ایک کرکے اپنی سب عورتوں کے پاس چکر لگاتے۔ ان کو سلام کرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ اور پھر جس عورت کی باری کا دن ہوتا اس کے ہاں ٹھہر جاتے تھے۔۔ حضرت حفصہ (بنت عمر بن خطاب) کو طائف یا مہ کا شہد ھدیہ میں کہیں سے آیا ہوا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس کے پاس جاتے تھے تو وہ آپ کو روک لیا کرتی تھی اور جب تک وہ شہد نہ چٹا دیتی اور نہ پلا دیتی آپ کو آنے نہ دیتی تھی۔ جبکہ عائشہ اتنی دیر زیادہ ان کے پاس رکنے کو ناپسند کرتی تھی۔ چنانچہ حضرت عائشہ (رض) نے اپنی ایک حبشی باندی جس کو خضراء کہا جاتا تھا کو کہا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ کے پاس آئیں تو بھی ان کے پاس چلی جانا اور دیکھنا کہ آپ وہاں کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ باندی نے آ کر حضرت عائشہ (رض) کو شہد کی بات بتائی۔ عائشہ نے اپنی تمام ساتھنوں کو کہلا بھیجا اور ساری خبر سنوا دی اور یہ ہدایت دی کہ جس کے پاس بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں تو وہ آپ کو یہ کہے : آپ سے ہمیں مغافیر (گوند) کی بو آرہی ہے۔

عائشہ کے پاس داخل ہوئے۔ عائشہ (رض) نے کہا : آج آپ نے کوئی چیز کھائی ہے کیا ؟ شاید مجھے آپ سے مغافیر (گوند) کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے بہت نفرت کرتے تھے کہ ان سے کسی طرح کی ناگوار بو کسی کو آئے۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شہد ہے اور اللہ کی قسم میں آئندہ اس کو چکھوں گا بھی نہیں۔

پھر ایک مرتبہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ کے پاس آئے تو حفصہ نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اپنے والد (عمر بن خطاب (رض)) کے پاس خرچے کے لیے جانے کی حاجت ہے۔ مجھے اجازت دیں تو میں ہو آؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دیدی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک باندی ماریہ کو پیغام بھیج کر حفصہ کے گھر بلوا لیا۔ اور ان سے مباشرت کی۔

حصہ کہتی ہیں (جب میں واپس آئی تو) میں نے دروازہ کو بند پایا۔ لہٰذا میں دروازہ کے پاس بیٹھ گئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے ہوئے نکلے، پسینہ آپ کی پیشانی سے ٹپک رہا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ حفصہ رو رہی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ حفصہ نے کہا : آپ نے مجھے اسی لیے اجازت دی تھی۔ آپ نے میرے کمرے میں اپنی بادنی داخل کی اور پھر اس کے ساتھ میرے ہی بستر پر ہم بستری کی ۔ آپ نے مجھے آپ نے یہ کسی اور بیوی کے ہاں کیوں نہ کرلیا ؟ اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ یہ آپ کے لیے حلال نہیں ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم تم نے سچ نہیں کہا۔ کیا یہ میری باندی نہیں ہے اور کیا اس کو اللہ نے میرے لیے حلال نہیں کردیا ؟ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے میں تمہاری رضامندی چاہتا ہوں۔ لیکن تم کسی کو اس کی خبر نہ دینا یہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔

لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکل گئے تو حفصہ نے اپنی اور عائشہ کے درمیان جو دیوار تھی وہ بجائی اور بولی : کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی باندی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور اللہ نے اس باندی سے ہم کو راحت دیدی ہے تب اللہ پاک نے یہ سورت نازل کی۔

پھر حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا۔ وان تظاھرا علیہ، اور اگر تم دونوں نے رسول اللہ پر ایک دوسرے کی اعانت کی ۔ سے مراد عائشہ اور حفصہ ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات نہ چھپاتی تھیں۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے بالا خانے میں داخل ہوا اس میں ایک چٹائی پڑی تھی۔ اور ایک چمڑے کا مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ چٹائی پر پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نمایاں ہوگئے تھے۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حال میں دیکھا تو بےساختہ رو پڑا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! فارس و روم کے لوگ دیباج پر لیٹتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں کو ان کی پوچھا تم کو کیا چیز رل ارہی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! فارس و روم کے لوگ دیباج پر لیٹتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں کو ان کی عیش و عشرت کے سامان دنیا میں مل گئے ہیں۔ جبکہ ہمارے لیے آخرت میں یہ سب چیزیں تیار ہیں۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کے کیا حال ہیں ؟ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ آپ نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ لیکن میرے اور میری بیویوں کے درمیان کوئی بات ہوگئی تھی جس کی وجہ سے میں نے قسم اٹھالی کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں چنانچہ میں آپ کے پاس سے نکلا اور (جو لوگ پریشانی کی وجہ سے مجتمع تھے ان کو اعلان کیا) اے لوگو ! واپس جاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی بیویوں کے درمیان کوئی بات ہوگئی تھی جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (کچھ وقت کے لیے) ان سے دور رہنا پسند کرلیا ہے۔

پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ کے پاس گیا اور اس کو کہا : اے بیٹی ! کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کی بات کرتی ہے کہ ان کو غصہ دلا دیتی ہے ؟ حفصہ بولی : آئندہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی کوئی بات نہیں کروں گی جس کو وہ ناپسند کرتے ہوں۔ پھر میں ام سلمہ کے پاس گیا یہ میری خالہ لگتی تھیں لہٰذا میں نے ان کو بھی حفصہ جیسی بات کہی۔ اس نے کہا : تعجب ہے تجھ پہ اے عمر ! تو ہر چیز میں بات کرتا ہے ! حتی کہ اب تو نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی بیویوں کے درمیان بھی دخل اندازی شروع کردی ہے ؟ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں نہ غیرت کریں جبکہ تمہاری بیویوں تم پر غیرت کرتی ہیں۔

اللہ پاک نے اسی کے بارے میں یہ فرمان بھی نازل کیا :

یا ایہا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا۔ الاحزاب۔

اے نبی ! کہہ دے اپنی بیویوں کو اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو سامان دے کر اور خوبصورتی کے ساتھ تم کو رخصت کروں۔ الاوسط للطبرانی۔ ابن مردویہ۔

4671: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ (میرے والد) حضرت عمر (رض) (میری بہن) حفصہ کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ شاید تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دیدی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ تم کو طلاق دی تھی اور پھر میری وجہ سے تم سے رجوع کرلیا تھا۔ اب اللہ کی قسم اگر دوبارہ انھوں نے تم کو طلاق دی تو میں کبھی بھی تم سے بات نہیں کروں گا۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں تیرے بارے میں بات نہیں کروں گا۔ مسند البزر، السنن لسعید بن منصور۔
4670- عن ابن عباس قال: أردت أن أسأل عمر بن الخطاب عن قوله عز وجل: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} فكنت أهابه، حتى حججنا معه فلما قضينا حجتنا قال: مرحبا بابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما حاجتك؟ قلت أخبرني عن قول الله عز وجل: {وإن تظاهرا عليه} من هما؟ قال: ما تسأل عنها أحدا أعلم بذلك مني، كنا ونحن بمكة لا يكلم أحد منا امرأته إذا كانت له حاجة سفع1 برجليها، فقضى منها حاجته فلما قدمنا المدينة تزوجنا من نساء الأنصار، فجعلن يكلمننا ويراجعننا فقمت إليها بقضيب فضربتها به، فقالت: يا عجبا لك يا ابن الخطاب فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم تكلمه نساؤه، فدخلت على حفصة فقلت: يا بنية أنظري لا تكلمي رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء، ولا تسأليه، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس عنده دينار ولا درهم يعطيكن، فما كان لك من حاجة حتى دهنك فسليني، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح في مصلاه وجلس الناس حوله حتى تطلع الشمس، ثم يدخل على نسائه امرأة امرأة، يسلم عليهن، ويدعو لهن، فإذا كان يوم إحداهن كان عندها وأنها أهديت لحفصة عكة فيها عسل من الطائف، أو من مكة فكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل عليها حبسته حتى تلعقه وتسقيه منها، وإن عائشة أنكرت احتباسه عنها، فقالت لجويرية عندها حبشية يقال لها خضراء إذا دخل على حفصة فادخلي عليها فأنظري ما يصنع؟ فأخبرتها الجارية بشأن العسل، فأرسلت إلى صواحبها، فأخبرتهن وقالت: إذا دخل عليكن فقلن: إنا نجد منك ريح مغافير، ثم إنه دخل على عائشة فقالت يا رسول الله أطعمت شيئا منذ اليوم؟ لكأني أجد منك ريح مغافير، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أشد شيء عليه أن يوجد منه ريح شيء، فقال: هو عسل، والله لا أطعمه أبدا، حتى إذا كان يوم حفصة قالت: يا رسول الله إن لي حاجة إلى أبي نفقة لي عنده فأذن لي آتيه، فأذن لها، ثم أرسل إلى مارية جاريته فأدخلها بيت حفصة، فوقع عليها، فقالت حفصة: فوجدت الباب مغلقا، فجلست عند الباب فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو فزع، ووجهه يقطر عرقا، وحفصة تبكي، فقال: ما يبكيك؟ قالت: إنما أذنت لي من أجل هذا؟ أدخلت أمتك بيتي، ثم وقعت عليها على فراشي، ما كنت تصنع هذا بامرأة منهن؟ أما والله لا يحل لك هذا يا رسول الله، فقال: والله ما صدقت، أليس هي جاريتي وقد أحلها الله لي؟ أشهدك أنها علي حرام ألتمس رضاك، لا تخبري بهذا امرأة منهن، فهي عندك أمانة فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قرعت حفصة الجدار الذي بينها وبين عائشة، فقالت: ألا أبشرك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حرم عليه أمته، وقد أراحنا الله تعالى منها: فأنزل الله: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} ثم قال: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} فهي عائشة وحفصة كانتا لا تكتم إحداهما الأخرى شيئا، فجئت فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، في مشربته فيها حصير، وإذا سقاء من جلود معلقة، وقد أفضى جنبه إلى الحصير، فأثر الحصير في جنبه، وتحت رأسه وسادة من أدم حشوها ليف، فلما رأيته بكيت، فقال: ما يبكيك؟ قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فارس والروم يضطجع أحدهم على الديباج، فقال: هؤلاء قوم عجلوا طيباتهم في الدنيا، والآخرة لنا، فقلت يا رسول الله: فما شأنك؟ فعن خبر أتاك اعتزلتهن؟ فقال: لا، ولكن بيني وبين أزواجي شيء، فأقسمت أن لا أدخل عليهن شهرا، ثم خرجت على الناس فقلت: يا أيها الناس ارجعوا فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان بينه وبين أزواجه شيء فأحب أن يعتزل، فدخلت على حفصة فقلت: يا بنية أتكلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم وتغيظينه؟ فقالت: لا أكلمه بعد بشيء يكرهه، ودخلت على أم سلمة وكانت خالتي، فقلت لها كنحو ما قلت لحفصة، فقالت: عجبا لك يا عمر، كل شيء قد تكلمت فيه حتى تريد أن تدخل بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين أزواجه؟ ما يمنعنا أن نغار على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأزواجكم يغرن عليكم؟ وأنزل الله تعالى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا} الآية. "طس وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التحريم
4671: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ (میرے والد) حضرت عمر (رض) (میری بہن) حفصہ کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ شاید تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دیدی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ تم کو طلاق دی تھی اور پھر میری وجہ سے تم سے رجوع کرلیا تھا۔ اب اللہ کی قسم اگر دوبارہ انھوں نے تم کو طلاق دی تو میں کبھی بھی تم سے بات نہیں کروں گا۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں تیرے بارے میں بات نہیں کروں گا۔ مسند البزر، السنن لسعید بن منصور۔
4671- عن ابن عمر قال: دخل عمر على حفصة وهي تبكي، فقال لها: ما يبكيك لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم طلقك؟ إنه قد كان طلقك مرة ثم راجعك من أجلي، والله لئن كان طلقك مرة أخرى لا أكلمك أبدا، وفي لفظ لا كلمته فيك. "البزار ص".
tahqiq

তাহকীক: