কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৬৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القمر
4632: ۔۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی :

سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر : 45

تو میں کہنے لگا یہ کونسی جماعت ہے جو شکست کھائے گی۔

پھر جب بدر کا معرکہ پیش آیا تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ اپنی زرہ میں (خوشی سے) اچھل رہے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں :

سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر : 45

عنقریب جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اس دن مجھے اس آیت کی تفسیر معلوم ہوگئی۔ (عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن سعد، ابن راھویہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)

ابن راہویہ نے عن قتادہ عن عمر کے طریق سے اس کے مثل روایت نقل کی ہے۔
4632- عن عكرمة قال قال عمر: لما نزلت {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} جعلت أقول: أي جمع يهزم؟ فلما كان يوم بدر رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يثب في الدرع، وهو يقول: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} فعرفت تأويلها يومئذ. "عب ش وابن سعد وابن راهويه وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه" وروى ابن راهويه عن قتادة عن عمر مثله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القمر
4633: ۔۔ (علی (رض)) ابی الطفیل (رح) سے مروی ہے کہ ابن الکواء نے حضرت علی (رض) سے مجرۃ (طوفان نوح میں پانی جاری ہونے کی جگہ) کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : شرج السماء یعنی بادل پھٹنے کی جگہیں اور اسی جگہ سے آسمان کے دروازے پانی کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت پڑھی ۔

ففتحنا ابواب السماء بماء منہمر۔ القمر : 11

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیے۔ الادب المفرد للبخاری، ابن ابی حاتم۔
4633- "علي" عن أبي الطفيل أن ابن الكواء سأل عليا عن المجرة فقال من شرج1 السماء، ومنها فتحت أبواب السماء بماء منهمر ثم قرأ: {فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ} ."خ في الأدب وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4634: ۔۔ یحییٰ بن ایوب الخزاعی سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص سے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں ایک نوجوان عبادت گذار تھا جو زیادہ تر مسجد میں اپنا وقت گذارتا تھا۔ حضرت عمر (رض) بھی اس پر رشک کرتے تھے۔

اس نوجوان کا ایک بوڑھا باپ تھا۔ جوان جب بھی عشاء کی نماز پڑھ لیتا تو اپنے والد کے پاس چلا جاتا۔ اس کے راستے میں ایک عورت کا گھر پڑتا تھا جو اس پر فریفتہ ہوگئی تھی۔ وہ جب بھی گذرتا یہ راستے میں اس کو کھڑی ملتی۔ ایک مرتبہ نوجوان گذرا تو عورت اس کو مسلسل بہکانے لگی حتی کہ وہ عورت کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ جب عورت کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو عورت پہلے داخل ہوگئی جبکہ یہ داخل ہورہا تھا کہ اس کو اللہ یاد آگیا، گویا کہ سامنے سے پردہ چھٹ گیا اور یہ آیت اس کی زبان پر خود بخود جاری ہوگئی :

ان الذین اتقوا اذا مسہم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون۔

اور نوجوان بےہوش ہو کر وہیں گرگیا۔ عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور دونوں نے مل کر اسے اٹھایا اور نوجوان کے گھر کے دروازے پر لٹا آئیں۔ جبکہ اس کا والد انتظار میں تھا آخر وہ اس کی تلاش میں نکلا تو اس کو دروازے پر پڑا پایا۔ پھر اس نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو بلایا اور انھوں نے ان کو اٹھا کر اندر کیا۔ لیکن جوان کو ہوش نہ آیا حتی کہ رات کا کچھ حصہ بھی گذر گیا۔ آخر اس کے باپ نے اس کو جھنجھوڑا اور پوچھا اے بیٹے ! تجھے کیا ہوا ہے ؟ آخر بیٹا بولا : سب خیر ہے۔ باپ نے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا تو بیٹے نے ساری بات سنا دی، باپ نے پوچھا : اے بیٹے وہ کونسی آیت ہے ؟ بیٹے نے پڑھی اور پھر بےہوش ہو کر گرگیا۔ باپ نے اور دوسرے گھر والوں نے اس کو ہلایا جلایا تو اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ گھر والوں نے اس کو غسل دیا اور (نماز پڑھ کر) رات ہی کو دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو حضرت عمر (رض) سے لوگوں نے اس بات کا ذکر کیا۔ حضرت عمر (رض) چل کر اس کے بوڑھے باپ کے پاس آئے اور اس کی تعزیت کی اور فرمایا : رات کو مجھے کیوں نہیں بتایا۔ باپ نے عرض کیا : امیر المومنین ! رات کا وقت تھا اس لیے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اچھا ہمیں اس کی قبر پر لے چلو۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) اور دیگر لوگ آپ کے ساتھ جوان کی قبر پر آئے۔ اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے فلاں ! ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔ (رحمن : 46) اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا (دو جنتیں ہیں)

۔ یہ سن کر قبر کے اندر سے جوان نے آواز دی : اے عمر ! پروردگار نے مجھے دونوں جنتیں دو مرتبہ عطا فرما دی ہیں۔ (رواہ مستدرک الحاکم)
4634- عن يحيى بن أيوب الخزاعي قال: سمعت من يذكر أنه كان زمن عمر بن الخطاب شاب متعبد قد لزم المسجد، وكان عمر به معجبا، وكان له أب شيخ كبير، فكان إذا صلى العتمة انصرف إلى أبيه، وكان طريقه على باب امرأة فافتتنت به، فكانت تنصب نفسها له على طريقه، فمر بها ذات ليلة، فما زالت تغويه حتى تبعها، فلما أتى الباب دخلت وذهب يدخل، فذكر الله تعالى، وجلى عنه، ومثلت هذه الآية على لسانه: {إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ} فخر الفتى مغشيا عليه فدعت المرأة جارية لها فتعاونتا عليه فحملتاه إلى بابه، واحتبس على أبيه، فخرج أبوه يطلبه فإذا به على الباب مغشيا عليه، فدعا بعض أهله فحملوه فأدخلوه، فما أفاق حتى ذهب من الليل ما شاء الله فقال له أبوه: يا بني ما لك؟ قال خير قال فإني أسألك بالله فأخبره بالأمر، قال أي بني وأي آية قرأت فقرأ الآية التي كان قرأ، فخر مغشيا عليه، فحركوه فإذا هو ميت فغسلوه فأخرجوه ودفنوه ليلا، فلما أصبحوا رفع ذلك إلى عمر رضي الله عنه، فجاء عمر إلى أبيه فعزاه به، وقال: هلا آذنتني؟ قال: يا أمير المؤمنين كان ليلا قال عمر: فاذهبوا بنا إلى قبره. فأتى عمر ومن معه القبر، فقال عمر: يا فلان {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} فأجابه الفتى من داخل القبر يا عمر قد أعطانيهما ربي في الجنة مرتين."ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4635: ۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں ایک نوجوان شخص تھا جو اکثر وقت مسجد میں رہتا تھا ۔ ایک لڑکی اس نوجوان عابد پر عاشق ہوگئی اور اس نوجوان کے پاس اس کی تنہائی میں آئی۔ اور اس کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کی۔ نوجوان کے دل میں بھی اس کا خیال پیدا ہوگیا۔ پھر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور بےہوش ہو کر گرپڑا۔ نوجوان کا چچا آیا اور اس کو اٹھا کر گھر لے گیا جب نوجوان کو ہوش آیا تو اس نے اپنے چچا سے کہا : اے چچا ! حضرت عمر (رض) کے پاس جاؤ اور انھیں میرا سلام کہو اور پھر پوچھو کہ اس شخص کی کیا جزاء ہے ؟ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا (اور گناہ سے باز آگیا) چنانچہ اس کا چچا گیا اور حضرت عمر (رض) کو ساری خبر سنائی حضرت عمر (رض) خود چل کر اس نوجوان کے پاس آئے۔ نوجوان کا چچا جیسے ہی جدا ہوا تھا پیچھے سے نوجوان نے ایک اور چیخ ماری تھی اور صدمے سے فوت ہوگیا لہٰذا حضرت عمر اس نوجوان کی میت کے پس کھڑے ہوئے اور فرمایا : تیرے لیے دو جنت ہیں، تیرے لیے دو جنت ہیں۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4635- عن الحسن قال: كان شاب على عهد عمر بن الخطاب يلازم المسجد والعبادة، فعشقته جارية فأتته في خلوة، فكلمته فحدث نفسه بذلك، فشهق شهقة فغشي عليه، فجاء عم له فحمله إلى بيته، فلما أفاق قال يا عم انطلق إلى عمر فأقرئه مني السلام، وقل ما جزاء من خاف مقام ربه؟ فانطلق عمه فأخبر عمر، وقد شهق الفتى شهقة أخرى فمات منها، فوقف عليه عمر، فقال: لك جنتان لك جنتان. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4636: ۔۔ ابو الاحوص (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جانتے ہو " حور مقصورات فی الخیام " (رحمن :72) وہ حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں) کیا ہے ؟ پھر فرمایا : وہ خیمے اندر سے کھوکھلے موتیوں کے ہوں گے۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4636- عن أبي الأحوص قال قال عمر بن الخطاب: أتدرون ما {حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ} در مجوف."عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4637: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : مرجان چھوٹے موتی ہیں۔ عبد بن حمید، ابن جریر۔
4637- عن علي قال: "المرجان صغار اللؤلؤ". "عبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4638: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی : ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (رحمن) بھلائی کا بدلہ بھلائی ہی ہے۔ تفسیر میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

(پرورددار فرماتے ہیں) جس پر میں نے توحید ماننے کا انعام کیا۔ اس کی جزاء صرف جنت ہی ہے۔ (رواہ ابن النجار)
4638- عن علي في قوله تعالى: {هَلْ جَزَاءُ الْأِحْسَانِ إِلَّا الْأِحْسَانُ} قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل جزاء من أنعمت عليه بالتوحيد إلا الجنة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4639: ۔۔ عمیر بن سعید سے مروی ہے کہ ہم لوگ حضرت علی (رض) کے ساتھ نہر فرات کے کنارے تھے۔ دیکھا کہ کشتیاں پانی میں جاری ہیں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا :

ولہ الجوار المنشئات فی البحر کالاعلام۔ رحمن :24

اور جہاز (کشیتاں) بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ (عبد بن حمید، ابن المنذر، المحاملی فی امالیہ، الخطیب فی التاریخ)
4639- عن عمير بن سعيد قال: كنا مع علي بن أبي طالب على شاطئ الفرات، إذ مرت سفن تجري فقال علي: {وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ} . "عبد بن حميد وابن المنذر والمحاملي في أماليه خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الرحمن عزوجل
4640: ۔۔ حضرت ابو الدرداء (رض) کو کسی نے کہا ولمن خاف مقام ربہ جنتان اور اس شخص کے لیے جو خدا کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں تو کیا اگر وہ زنا کرے اور چوری کرے تب بھی اس کے لیے دو جنتیں ہیں ؟ حضرت ابو الدرداء (رض) نے فرمایا : اگر وہ اپنے رب سے ڈر گیا تو نہ زناء کرے گا اور نہ چوری۔ رواہ ابن عساکر۔
4640- عن أبي الدرداء أنه قيل له: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} وإن زنا وإن سرق، قال: إنه إن خاف مقام ربه لم يزن ولم يسرق."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4641: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے ارشاد ربانی " خافضۃ رافعۃ " کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلند کرنے والی کے متعلق منقول ہے کہ وہ قیامت ہے جو اللہ کے دشمنوں کو جہنم میں گرا دے گی اور اللہ کے دوستوں کو جنت میں بلندی و رفعت عطا کرے گی۔ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم)
4641- "من مسند عمر" عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في قوله تعالى: {خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ} قال: "الساعة خفضت أعداء الله في النار، ورفعت أولياء الله إلى الجنة". "ابن جرير وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4642: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وتجعلون رزقکم ، یعنی تم شکریہ ادا کرتے ہو کہ انکم تکذبون (واقعہ : 82) تم جھٹلانے لگ جاتے ہو۔ اور (بجائے اس کے کہ کہو ہم پر خدا نے رحمت نازل کی) تم کہتے ہو ہم پر فلاں فلاں ستارے کی گردش سے بارش نازل ہوئی۔ (مسند احمد، ابن منیع، عبد بن حمید، ترمذی حسن غریب و قدوری موقوفا، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، عقیلی فی الضعفاء۔ الخرائطی فی مساوی الاخلاق، السنن لسعید بن منصور۔
4642- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ} قال: "شكركم {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ} تقولون مطرنا بنوء كذا وكذا". "حم وابن منيع وعبد بن حميد ت وقال حسن غريب وقد روى موقوفا وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه عق والخرائطي في مساوئ الأخلاق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4643: ۔۔ ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فجر کی نماز میں یہ آیت یوں تلاوت فرمائی :

وتجعلون شکرکم انکم تکذبون۔ (رزقکم کی بجائے شکرکم پڑھا) پھر جب آپ (رض) نماز سے لوٹنے لگے تو فرمایا : مجھے معلوم ہے کوئی نہ کوئی ضرور پوچھے گا کہ یوں کیوں پڑھا ؟ تو سنو ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ہی پڑھتے ہوئے سنا۔ جب بارش ہوئی تھی تو لوگ کہتے تھے۔ ہم پر فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے برسات پڑی ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :

وتجعلون شکرکم انکم تکذبون۔ رواہ ابن مردویہ۔

فائدہ : ۔۔ حضرت علی (رض) نے تفسیر کی غرض سے رزقکم کی جگہ شکرکم پڑھا تھا اسی وجہ سے خود ہی فرمایا کہ تم مجھ سے ضرور پوچھوگے کہ میں نے ایسے کیوں پڑھا ؟

اس طرح ما قبل میں بعض آیات میں حضرت علی (رض) سے اسی طرح تفسیری الفاظ منقول ہیں۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان کو بطور قرآن پڑھتے تھے، بلکہ ان لوگوں کو تفسیر سمجھانے کی غرض سے ایسا پڑھ دیتے تھے۔
4643- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال قرأ علي الواقعة في الفجر فقرأ: "وتجعلون شكركم أنكم تكذبون" فلما انصرف قال: إني قد عرفت أنه سيقول قائل لم قرأ كذا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كذلك "كانوا إذا مطروا قالوا مطرنا بنوء كذا وكذا"، فأنزل الله: {وتجعلون شكركم أنكم} إذا مطرتم {تُكَذِّبُونَ} .

"ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4644: حضرت ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت علی (رض) یوں پڑھا کرتے تھے۔ وتجعلون شکرم انکم تکذبون۔ عبد بن حمید، ابن جریر۔
4644- عن أبي عبد الرحمن قال: كان علي يقرأ: "وتجعلون شكركم أنكم تكذبون". "عبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4645: ۔۔ وبست الجبال بسا فکانت ھباء منبثا۔ الواقعہ : 6 ۔ 5

اور پہاڑ ٹوٹ (ٹوٹ) کر ریزہ ریزہ ہوجائیں پھر غبارہوکر اڑنے لگیں۔

حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں الھباء المبث جانوروں کا گرد و غبار ہے اور الھباء المنثور سورج کا وہ غبار ہے جو تم کھڑکی سے آنے والی دھوپ میں اڑتا ہوا دیکھتے ہو۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر
4645- عن علي قال: الهباء المنبث رهج الدواب، والهباء المنثور غبار الشمس الذي تراه في شعاع الكوة. "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4646: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : وطلح منضود، (الواقعہ :29) اس سے مراد کیلے ہیں۔ (عبدالرزاق، الفریابی، ھناد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن مردویہ)
4646- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ} قال: "هو الموز". "عب والفريابي وهناد وعبد بن حميد وابن جرير وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4647: ۔۔ حضرت علی (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) نے یہ آیت یوں پڑھی وطلح منضود۔ (الواقعہ :29، عبد بن حمید ابن جریر، ابن ابی حاتم)

فائدہ : ۔۔ اصل قراءت و طلح منضود ہے طلع کے معنی شگوفہ کے آتے ہیں۔ اور طلح کے معنی کیلے کے آتے ہیں۔ مشہور قراءت منضود کا معنی ہوگا تہ بہ تہ کیلے اور طلع منضود کا معنی ہوگا تہ بتہہ شگوفے ۔ دونوں قریب المعنی ہیں۔
4647- عن علي أنه قرأ: {وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ} . "عبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم} .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الواقعة
4648: ۔۔ قیس بن عباس سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کے پاس و طلح منضود پڑھا تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا طلح کیا ہے ؟ طلع کیوں نہیں پڑھتے ؟ یوں طلع نضید۔ حضرت علی (رض) کو کسی نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! تو ہم قرآن پاک سے اس (طلح منضود) کو کھرچ دیں ؟ فرمایا : آج قرآن میں تم اختلاف و نزاع کا شکار مت بنو (اور جیسا لکھا ہے لکھا رہنے دو ، یہ تو تفسیر ہے) ابن جریر، ابن الانباری فی المصاحف)
4648- عن قيس بن عباد قال: قرأت على علي {وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ} فقال علي: "ما بال الطلح؟ أما تقرأ وطلع، قال: وطلع نضيد، فقيل له يا أمير المؤمنين أنحكها من المصحف؟ فقال: لا يهاج القرآن اليوم".

"ابن جرير وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المجادلة
4649: ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابو یزید (رح) سے مرویے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک خولہ نامی (بوڑھی عورت) سے ملے جو لوگوں کے ساتھ جا رہی تھی اس نے آپ کو روک کر کھڑا کرلیا۔ آپ بھی ٹھہر گئے اور اس کے قریب ہوگئے، اپنا سر اس کی طرف جھکا دیا اور اپنے ہاتھ اس کے کاندھوں پر رکھ دیے حتی کہ اس نے اپی بات پوری کی اور چلی گئی۔ ایک شخص نے کہا : یا امیر المومنین ! آپ نے قریش کے معزز لوگوں کو اس بڑھیا کی وجہ سے کھڑا کرلیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : افسوس ! جانتے بھی ہو یہ کون ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ تو آپ (رض) نے فرمایا : یہ وہ عورت ہے اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اس کا شکوہ سنا۔ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے اللہ کی قسم ! اگر یہ ازخود ساری رات مجھ سے جدا ہو کر نہ جاتی تو میں بھی یہیں سے نہ ہٹتا حتی کہ اس کی ضرورت پوری ہوجاتی (ابن ابی حاتم، النقض علی بشر المریسی لعثمان بن سعید الدارمی، الاسماء والصفات للبیقی)
4649- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي يزيد قال: لقي عمر بن الخطاب امرأة يقال لها خولة وهي تسير مع الناس فاستوقفته فوقف لها ودنا منها، وأصغى إليها رأسه، ووضع يديه على منكبيها حتى قضت حاجتها وانصرفت، فقال له رجل: يا أمير المؤمنين حبست رجالات قريش على هذه العجوز؟ قال: ويحك أتدري من هذه؟ قال لا، قال: هذه امرأة سمع الله شكواها من فوق سبع سموات، هذه خولة بنت ثعلبة، والله لو لم تنصرف عني إلى الليل ما انصرفت حتى تقضي حاجتها. "ابن أبي حاتم وعثمان بن سعيد الدارمي في النقض على بشر المريسي ق في الأسماء والصفات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المجادلة
4650: ۔۔ ثمامہ (رح) بن ؟ ؟؟ سے مروی ہے حضرت عمر (رض) اپنے گدھے پر سوار کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ آپ سے ایک عورت نے ملاقات کی اور کہا عمر ! ٹھہریے ! حضرت عمر (رض) رک گئے۔ عورت نے سختی کے ساتھ آپ کے ساتھ بات چیت کی۔ ایک آدمی نے کہا : یا امیر المومنین ! میں نے آج کی طرح کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کیوں نہ اس کی بات سنوں ؟ جبکہ اللہ نے اس کی بات سنی اور اس کے بارے میں قرآن نازل کیا جو بھی نازل کیا :

قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ۔ المجادلۃ :1

جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث و جھگڑا کرتی ہے اور خدا سے (رنج و ملال) کا شکوہ کرتی ہے خدا نے اس کی التجاء سن لی (بخاری فی تاریخہ، ابن مردویہ)
4650- عن ثمامة بن حزن1 قال بينما عمر بن الخطاب يسير على حماره لقيته امرأة فقالت: قف يا عمر، فوقف، فأغلظت له القول فقال رجل يا أمير المؤمنين: ما رأيت كاليوم؟ قال: "وما يمنعني أن أسمع لها؟ وهي التي سمع الله لها، وأنزل فيها ما أنزل {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} ". "خ في تاريخه وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المجادلة
4651: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی کرسکا۔ وہ آیت النجوی ہے۔ میرے پاس ایک دینار تھا جو میں دس دراہم کے بدلے فروخت کردیا۔ میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ راز و نیاز کرتا تھا پہلے ایک درہم صدق کردیا کرتا تھا حتی کہ وہ ایک ایک کرکے ختم ہوگئے۔ (اور اس کا اللہ نے حکم دیا تھا) ۔

یا ایہا الذین آمنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقہ۔ المجادلۃ :12

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے قبل (مساکین کو) کو کچھ خیرات دے دیا کرو۔

پھر اس آیت پر عمل کرنا منسوخ ہوگیا اور کسی نے عمل نہیں اور اس سے اگلی یہ آیت نازل ہوگئی۔

ء اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات الخ۔ المجادلۃ :13 ۔

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات کردیا کرو ڈر گئے ؟ پھر جب تم نے (ایسا) کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو (اب) نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمان برداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن راھویہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)
4651- عن علي قال: "إن في كتاب الله آية لم يعمل بها أحد قبلي ولم يعمل بها أحد بعدي، آية النجوى، كان لي دينار فبعته بعشرة دراهم، فكنت إذا ناجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم تصدقت بدرهم حتى نفدت {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً} ثم نسخت فلم يعمل بها أحد فنزلت: {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} " إلى آخر الآية. "ص وابن راهويه وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক: