কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৬১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4612: حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں جب آیت قرآنیہ لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں آئندہ اپنی آواز بلند نہ کروں گا مگر اس قدر جتنی بھائی سے سرگوشی کی جاتی ہے۔ ابی العباس سراج۔
4612- عن أبي هريرة قال: لما نزلت {لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} قال أبو بكر: "لا أرفع صوتي إلا كأخي السرار" أبو العباس السراج".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ق
4613: ۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
وجاءت کل نفس معھا سائق و شھید۔ الحجرات : 21
اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک فرشتہ اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا۔
پھر ارشاد فرمایا : ایک فرشتے (پیچھے سے) اس کو ہانک کر اللہ کے حکم کی طرف لائے گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال پر گواہی دے گا۔ (الفریابی، السنن لسعید بن منصور ، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الحاکم فی الکنی، نصر المقدسی فی امالیہ، ابن مردویہ، البیہقی فی البعث) ۔
وجاءت کل نفس معھا سائق و شھید۔ الحجرات : 21
اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک فرشتہ اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا۔
پھر ارشاد فرمایا : ایک فرشتے (پیچھے سے) اس کو ہانک کر اللہ کے حکم کی طرف لائے گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال پر گواہی دے گا۔ (الفریابی، السنن لسعید بن منصور ، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الحاکم فی الکنی، نصر المقدسی فی امالیہ، ابن مردویہ، البیہقی فی البعث) ۔
4613- عن عثمان بن عفان أنه قرأ: {وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ} قال: "سائق يسوقها إلى أمر الله تعالى، وشهيد يشهد عليها بما عملت". "والفريابي ص ش وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم والحاكم في الكنى ونصر المقدسي في أماليه وابن مردويه ق في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ق
4614: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اہل جنت ہر جمعہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کریں گے۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنتیوں کو ملنے والی دوسری نعمتوں کا ذکر فرمایا پھر فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : پردے کھول دو ۔ چنانچہ پردہ کھولا جائے گا پھر ایک پردہ کھولا جائے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جنتیوں کو اپنے چہرے کی زیارت کرائیں گے۔ تب ان کو معلوم ہوگا انھوں نے اس سے پہلے تو کوئی نعمت دیکھی ہی نہیں۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ول دینا مزید۔ ق :35
اور ہمارے ہاں اور (بہت کچھ) ہے۔
اہل جنت ہر جمعہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کریں گے۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنتیوں کو ملنے والی دوسری نعمتوں کا ذکر فرمایا پھر فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : پردے کھول دو ۔ چنانچہ پردہ کھولا جائے گا پھر ایک پردہ کھولا جائے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جنتیوں کو اپنے چہرے کی زیارت کرائیں گے۔ تب ان کو معلوم ہوگا انھوں نے اس سے پہلے تو کوئی نعمت دیکھی ہی نہیں۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ول دینا مزید۔ ق :35
اور ہمارے ہاں اور (بہت کچھ) ہے۔
4614- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يزور أهل الجنة الرب تبارك وتعالى في كل جمعة، وذكر ما يعطون، قال ثم يقول الله تعالى: اكشفوا حجابا، فيكشف حجاب، ثم حجاب، ثم يتجلى لهم تبارك وتعالى عن وجهه فكأنهم لم يروا نعمة قبل ذلك"، وهو قوله تعالى: {وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ} .
"اللالكائي"
"اللالكائي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ق
4615: ۔۔ حضرت علی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمان باری تعالیٰ ول دینا مزید (ق :35) کی تفسیر میں نقل فرماتے ہیں کہ اللہ پاک جنتیوں کو اپنی تجلی دکھائیں گے۔ الرویۃ للبیہقی، الدیلمی۔
4615- عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: {وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ} قال: "يتجلى لهم الرب عز وجل". "ق في الرؤية والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ق
4616: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
و من الیل فسبحہ و ادبار السجود۔ ق :40
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔
ادبار السجود یعنی مغرب کی نماز کے بعد دو رکعات ادا کیا کرو۔
اور فرمان الہی :
و من الیل فسبحہ و ادبار النجوم۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔
ادبار النجوم یعنی فجر کے قرض سے پہلے دو رکعات ادا کیا کرو۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، محمد بن نصر، ابن جریر، ابن المنذر)
و من الیل فسبحہ و ادبار السجود۔ ق :40
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔
ادبار السجود یعنی مغرب کی نماز کے بعد دو رکعات ادا کیا کرو۔
اور فرمان الہی :
و من الیل فسبحہ و ادبار النجوم۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔
ادبار النجوم یعنی فجر کے قرض سے پہلے دو رکعات ادا کیا کرو۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، محمد بن نصر، ابن جریر، ابن المنذر)
4616- عن علي في قوله: {وَأَدْبَارَ السُّجُودِ} قال: ركعتان بعد المغرب {وَإِدْبَارَ النُّجُومِ} قال: "ركعتان قبل الفجر". "ص ش ومحمد بن نصر وابن جرير وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الذاريات
4617: ۔۔ (عمر (رض)) حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ صبیغ تمیمی حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : یا امیر المومنین ! مجھے الذاریات ذروا۔ کے بارے میں بتائیے وہ کیا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ ہوائیں ہیں اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں کبھی نہ کہتا۔ صبیغ نے پوچھا : الحاملات وقرا۔ کیا ہے ؟ فرمایا : یہ بادل ہیں اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں کبھی کہتا۔ صبیغ نے پوچھا : الجاریات یسرا کیا ہے ؟ فرمایا : یہ کشتیاں ہیں اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو کبھی نہ کہتا۔ صبیغ نے پوچھا : المقسمات امرا۔ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ملائکہ ہیں ؟ اور اگر میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو کبھی نہ کہتا۔
پھر آپ (رض) نے صبیغ کو سو درے مارنے کا حکم دیا (کہ جس بات کی تم سے کوئی پرسش نہیں ہوگی اور نہ فرائض واجبات سے اس کا کوئی تعلق ہے اس میں اپنی محنت کیوں ضائع کر رہے ہو) چنانچہ اس کو سو درے مارے گئے پھر اس کو ایک کمرے میں بند کردیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے بلا کر سو درے اور لگوائے اور اونٹ پر سوار کرا دیا۔ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) (بغداد کے گورنر) کو لکھا : کہ لوگوں کو اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے منع کردو۔ چنانچہ (اس کو شہر بغداد روانہ کردیا گیا اور ) لوگوں نے اس سے میل جول قطعاً بند کردیا۔ پھر ایک دن وہ ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس آیا اور مضبوط قسم اتھائی کہ اب وہ ایسی کوئی بات اپنے دل میں نہیں پاتا جو پہلے پاتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو یہ بات لکھ بھیجی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ سچ بولتا ہے لہٰذا لوگوں کے ساتھ میل جول کے لیے اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ (البزار، الدار قطنی فی الافراد ، ابن مردویہ، ابن عساکر)
کلام : ۔۔۔ یہ روایت 4180 رقم الحدیث پر گذر چکی ہے اور اس کی سند کمزور ہے۔ کنز العمال ج 2 ص 511 ۔
پھر آپ (رض) نے صبیغ کو سو درے مارنے کا حکم دیا (کہ جس بات کی تم سے کوئی پرسش نہیں ہوگی اور نہ فرائض واجبات سے اس کا کوئی تعلق ہے اس میں اپنی محنت کیوں ضائع کر رہے ہو) چنانچہ اس کو سو درے مارے گئے پھر اس کو ایک کمرے میں بند کردیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے بلا کر سو درے اور لگوائے اور اونٹ پر سوار کرا دیا۔ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) (بغداد کے گورنر) کو لکھا : کہ لوگوں کو اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے منع کردو۔ چنانچہ (اس کو شہر بغداد روانہ کردیا گیا اور ) لوگوں نے اس سے میل جول قطعاً بند کردیا۔ پھر ایک دن وہ ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس آیا اور مضبوط قسم اتھائی کہ اب وہ ایسی کوئی بات اپنے دل میں نہیں پاتا جو پہلے پاتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو یہ بات لکھ بھیجی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ سچ بولتا ہے لہٰذا لوگوں کے ساتھ میل جول کے لیے اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ (البزار، الدار قطنی فی الافراد ، ابن مردویہ، ابن عساکر)
کلام : ۔۔۔ یہ روایت 4180 رقم الحدیث پر گذر چکی ہے اور اس کی سند کمزور ہے۔ کنز العمال ج 2 ص 511 ۔
4617- "عمر رضي الله عنه" عن سعيد بن المسيب قال: جاء صبيغ التميمي إلى عمر بن الخطاب فقال يا أمير المؤمنين: "أخبرني عن الذاريات ذروا، فقال: هي الرياح، ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته، قال: فأخبرني عن الحاملات وقرا، قال: هي السحاب، ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته، قال: فأخبرني عن الجاريات يسرا، قال: هي السفن، ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته، قال فأخبرني عن المقسمات أمرا، قال: هي الملائكة، ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته، ثم أمر به فضرب مائة وجعل في بيت فلما برأ دعاه فضربه مائة أخرى، وحمله على قتب، وكتب إلى أبي موسى الأشعري: إمنع الناس من مجالسته، فلم يزالوا كذلك حتى
أتى أبا موسى فحلف له بالأيمان المغلظة ما يجد في نفسه مما كان يجد شيئا، فكتب في ذلك إلى عمر، فكتب عمر ما أخاله إلا قد صدق فخل بينه وبين مجالسة الناس". "البزار قط في الأفراد وابن مردويه كر ومر برقم [4180] وسنده لين".
أتى أبا موسى فحلف له بالأيمان المغلظة ما يجد في نفسه مما كان يجد شيئا، فكتب في ذلك إلى عمر، فكتب عمر ما أخاله إلا قد صدق فخل بينه وبين مجالسة الناس". "البزار قط في الأفراد وابن مردويه كر ومر برقم [4180] وسنده لين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الذاريات
4618: ۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ صبیغ تمیمی نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے :
الذاریات ذروا، المرسلات عرفا اور النازعات غرقا کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنا سر کھول دیکھا تو بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی ہوئی ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں تجھے گنجا سر پاتا۔ (جو کہ گمراہ حروریوں کا طریقہ تھا) تو تیری گردن اڑا دیتا پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے ہاتھ بات چیت کرے اور نہ اس کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ الفریابی، ابن الانباری فی المصاحف عن محمد بن سیرن (رح)۔
نوٹ : 4173 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
الذاریات ذروا، المرسلات عرفا اور النازعات غرقا کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنا سر کھول دیکھا تو بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی ہوئی ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں تجھے گنجا سر پاتا۔ (جو کہ گمراہ حروریوں کا طریقہ تھا) تو تیری گردن اڑا دیتا پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے ہاتھ بات چیت کرے اور نہ اس کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ الفریابی، ابن الانباری فی المصاحف عن محمد بن سیرن (رح)۔
نوٹ : 4173 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
4618- عن الحسن قال: سأل صبيغ التميمي عمر بن الخطاب عن الذاريات ذروا، وعن المرسلات عرفا، وعن النازعات غرقا؟ فقال عمر: "اكشف رأسك، فإذا له ضفيرتان، فقال عمر: والله لو وجدتك محلوقا لضربت عنقك، ثم كتب إلى أبي موسى الأشعري أن لا يكلمه مسلم ولا يجالسه". "الفريابي ورواه ابن الأنباري في المصاحف عن محمد بن سيرين. ومر برقم [4173] ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الذاريات
4619: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
فتول عنہم فما انت بملوم۔ الذاریات :54 ۔
تو ان سے اعراض کر تم کو (ہماری طرف سے) ملامت نہ ہوگی۔
تو اس نے ہم کو رنجیدہ خاطر کردیا لیکن اس کے بعد ہی اگلی آیت نازل ہوگئی :
و ذکر فان الذکرہ تنفع المومنین۔ الذاریات : 55 ۔
اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔
چنانچہ پھر ہمارے دل خوش ہوگئے۔ (ابن راھویہ، ابن منیع، الشاشی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الدورقی، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
فتول عنہم فما انت بملوم۔ الذاریات :54 ۔
تو ان سے اعراض کر تم کو (ہماری طرف سے) ملامت نہ ہوگی۔
تو اس نے ہم کو رنجیدہ خاطر کردیا لیکن اس کے بعد ہی اگلی آیت نازل ہوگئی :
و ذکر فان الذکرہ تنفع المومنین۔ الذاریات : 55 ۔
اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔
چنانچہ پھر ہمارے دل خوش ہوگئے۔ (ابن راھویہ، ابن منیع، الشاشی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الدورقی، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4619- عن علي قال لما نزلت: {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} أحزننا ذلك. وقلنا أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتول عنا، فنزلت: {وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ} فطابت أنفسنا. "ابن راهويه وابن منيع والشاشي وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه والدورقي هب ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الذاريات
4621: ۔ حضرت علی (رض) ارشاد باری تعالیٰ :
و فی السماء رزقکم وما توعدون۔ الذاریات : 22)
اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس سے مراد بارش ہے۔ رواہ الدیلمی۔
و فی السماء رزقکم وما توعدون۔ الذاریات : 22)
اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس سے مراد بارش ہے۔ رواہ الدیلمی۔
4620- عن مجاهد في قوله تعالى: {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} قال قال علي: "ما نزلت آية كانت أشد علينا منها، ولا أعظم علينا منها فقلنا ما هذا إلا من سخط أو مقت، حتى أنزلت: {وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ} قال ذكر بالقرآن"."ابن راهويه وابن مردويه ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الذاريات
4622: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے ارشاد خداوندی و ادبار السجود کے بارے میں منقول ہے کہ یہ مغرب کے بعد کی دو رکعات ہیں اور ارشاد خداوندی و ادبار النجوم فجر سے قبل کی دو رکعات ہیں۔ ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، محمد بن نصر فی الصلاۃ)
یہ روایت قدرے تفصیل کے ساتھ 4616 پر ملاحظہ فرمائیں۔
یہ روایت قدرے تفصیل کے ساتھ 4616 پر ملاحظہ فرمائیں۔
4621- عن علي في قوله تعالى: {وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ} قال: "المطر". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4623: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے دو بیٹوں کے بارے میں سوال کیا جو (پہلے کافر شوہر سے تھے) اور زمانہ جاہلیت میں مرگئے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جہنم میں ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) کے چہرے میں غمزدگی کے آثار دیکھے تو فرمایا : اگر تم ان کا ٹھکانا دیکھ لو تو خود ہی ان سے نفرت کرنے لگوگی۔ پھر حضرت خدیجہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ میری وہ اولاد جو آپ سے ہوئی (اور انتقال کرچکی ہے) فرمایا : وہ جنت میں ہیں۔ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہیں اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
والذین آمنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے (درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ (مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن ابی عاصم فی السنۃ)
کلام : امام ابن جوزی (رح) جامع المسانید میں فرماتے ہیں : اس کی سند میں محمد بن عثمان ایسا راوی ہے جس کی حدیث قبول نہیں کی جاسکتی اور بچوں کے عذاب کے بارے میں کوئی حدیث صحت کو نہیں پہنچتی۔
مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہیں اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
والذین آمنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے (درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ (مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن ابی عاصم فی السنۃ)
کلام : امام ابن جوزی (رح) جامع المسانید میں فرماتے ہیں : اس کی سند میں محمد بن عثمان ایسا راوی ہے جس کی حدیث قبول نہیں کی جاسکتی اور بچوں کے عذاب کے بارے میں کوئی حدیث صحت کو نہیں پہنچتی۔
4622- عن عمر في قوله تعالى: {وَأَدْبَارَ السُّجُودِ} قال: "ركعتان بعد المغرب، وفي قوله: {وَإِدْبَارَ النُّجُومِ} قال: ركعتان قبل الفجر". "ش وابن المنذر ومحمد بن نصر في الصلاة". ومر برقم [4616] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4624: ۔۔ حارث (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے ادبار النجوم کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا یہ فجر سے قبل کی دو رعکات (سنت) مراد ہیں۔ پھر آپ (رض) سے ادبار السجود کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا مغرب کے بعد کی دو رکعات (سنت) مراد ہیں۔
آپ سے حج اکبر کے دن کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا وہ یوم النحر (قربانی کا دن یعنی دس ذی الحجہ) ہے، اور آپ (رض) سے صلوۃ الوسطی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : وہ عصر کی نماز ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
نوٹ : ۔۔ یہ روایت 4405 رقم الحدیث پر گذر چکی ہے۔
آپ سے حج اکبر کے دن کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا وہ یوم النحر (قربانی کا دن یعنی دس ذی الحجہ) ہے، اور آپ (رض) سے صلوۃ الوسطی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : وہ عصر کی نماز ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
نوٹ : ۔۔ یہ روایت 4405 رقم الحدیث پر گذر چکی ہے۔
4623- عن علي قال: سألت خديجة النبي صلى الله عليه وسلم عن ولدين ماتا في الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هما في النار، فلما رأى الكراهة في وجهها قال: "لو رأيت مكانهما لأبغضتهما"، قالت: يا رسول الله فولدي منك؟ قال في الجنة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن المؤمنين وأولادهم في الجنة، وإن المشركين وأولادهم في النار"، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} . "عم وابن أبي عاصم في السنة".
قال ابن الجوزي في جامع الأسانيد: في إسناده محمد بن عثمان لا يقبل حديثه، ولا يصح في تعذيب الأطفال حديث.
قال ابن الجوزي في جامع الأسانيد: في إسناده محمد بن عثمان لا يقبل حديثه، ولا يصح في تعذيب الأطفال حديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4625: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ارشاد باری تعالیٰ " والبحر المسجور) (طور :6) قسم ابلتے سمندر کی کے متعلق منقول ہے کہ یہ سمندر عرش کے نیچے ہے۔ رواہ عبدالرزاق۔
4624- عن الحارث قال: سئل علي عن إدبار النجوم؟ قال: "الركعتان التي قبل الفجر، وعن أدبار السجود؟ فقال: الركعتان التي بعد المغرب، وعن يوم الحج الأكبر؟ قال: يوم النحر، وعن الصلاة الوسطى؟ قال: هي العصر". "هب". ومر برقم [4405] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4626: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ارشاد باری تعالیٰ والبحر المسجور، (طور :6) قسم ابلتے سمندر کی کے متعلق منقول ہے کہ یہ سمندر عرش کے نیچے ہے۔ رواہ عبدالرزاق۔
4625- عن علي في قوله تعالى: {وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ} قال: "بحر تحت العرش". "عب وابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4626: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان " والسقف المرفوع " (طور :5) قسم اونچی چھت کی کے متعلق منقول ہے کہ اس سے مراد چھت ہے۔ (ابن راھویہ ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی)
4626- عن علي في قوله تعالى: {وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ} قال: "السماء". "ابن راهويه وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ ك هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4627: ۔۔۔ سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک یہودی شخص سے پوچھا : جہنم کہاں ہے ؟ اس نے کہا : وہ ابلتا ہوا سمندر ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں اس کو سچا سمجھتا ہوں پھر آپ نے یہ پڑھا : البحر المسجور (طور :6) قسم ابلتے سمندر کی۔ واذا البحار سجرت (تکویر) اور جب سمندر آگ ہوجائیں گے۔ (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ فی العظمۃ)
4627- عن سعيد بن المسيب قال قال علي: لرجل من اليهود: "أين جهنم؟ قال: هي البحر المسجور، وقال علي: ما أراه إلا صادقا وقرأ: {وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ} وإذا البحار سجرت. "ابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في العظمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والطور
4628: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے فلاں یہودی سے زیادہ سچا کوئی یہودی نہیں پایا اس کا خیال ہے کہ اللہ کی بڑی آگ (یعنی آتش جہنم) یہ سمندر ہی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ پاک اس میں سورج چاند، اور ستاروں کو ڈال دیں گے۔ پھر اس پر پچھم (باد مخالف) چھوڑ دیں گے جو سمندر کو (آگ کے ساتھ) بھڑکا دے گی۔ (ابو الشیخ فی العظمۃ، البیہقی البعث ، مستدرک الحاکم۔
4628- عن علي قال: "ما رأيت يهوديا أصدق من فلان زعم أن نار الله الكبرى هي البحر، فإذا كان يوم القيامة جمع الله فيه الشمس والقمر والنجوم ثم بعث عليه الدبور فسعرته". "أبو الشيخ في العظمة ق في البعث ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النجم
4629: ۔۔ حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ ایک آیت کی تلاوت فرمائی :
عندھا جنۃ الماوی۔ نجم :15
اس (بیری کے درخت) کے پاس رہنے کی بہشت ہے۔
اور فرمایا : یہ رات گذارنے کی جنت ہے۔ (ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
عندھا جنۃ الماوی۔ نجم :15
اس (بیری کے درخت) کے پاس رہنے کی بہشت ہے۔
اور فرمایا : یہ رات گذارنے کی جنت ہے۔ (ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4629- عن علي أنه قرأ: {عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى} قال: "جنة المبيت". "ابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القمر
4630: ۔۔ (مسند عمر (رض)) عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی، اور یہ لوگ پیٹھ پھیر پھیر کر بھاگ جائیں گے
تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یہ کون سی جماعت ہے ؟ پھر جب بدر کا معرکہ پیش آیا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ تلوار سونتے ہوئے ہیں اور یہ فرما رہے ہیں :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ الاوسط للطبرانی۔
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی، اور یہ لوگ پیٹھ پھیر پھیر کر بھاگ جائیں گے
تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یہ کون سی جماعت ہے ؟ پھر جب بدر کا معرکہ پیش آیا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ تلوار سونتے ہوئے ہیں اور یہ فرما رہے ہیں :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ الاوسط للطبرانی۔
4630 – "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عكرمة قال: قال عمر: لما نزلت: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} قلت: أي جمع هذا؟ فلما كان يوم بدر رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبيده السيف مصلتا وهو يقول: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} ."طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القمر
4631: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب مکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر یہ فرمان نازل کیا :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
اور ابھی معرکہ بدر پیش نہیں آیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون سی جماعت ہے جو شکست کھاجائے گی۔ پھر جب بدر کا دن پیش آیا اور قریش کے لشکر شکست کھا کھا کر بھاگنے لگے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ تلوار سونتے ہوئے ان کے پیچھے جا رہے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
عنقریب یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
پس مجھے تب معلوم ہوا کہ یہ آیت معرکہ بدر کے لیے (پہلے ہی) نازل ہوگئی تھی۔ ابن ابی حاتم، الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ۔
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
اور ابھی معرکہ بدر پیش نہیں آیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون سی جماعت ہے جو شکست کھاجائے گی۔ پھر جب بدر کا دن پیش آیا اور قریش کے لشکر شکست کھا کھا کر بھاگنے لگے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ تلوار سونتے ہوئے ان کے پیچھے جا رہے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں :
سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ القمر :45
عنقریب یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
پس مجھے تب معلوم ہوا کہ یہ آیت معرکہ بدر کے لیے (پہلے ہی) نازل ہوگئی تھی۔ ابن ابی حاتم، الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ۔
4631- عن عمر قال: لما أنزل الله على نبيه بمكة {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} وذلك قبل بدر قلت يا رسول الله أي جمع يهزم؟ فلما كان يوم بدر وانهزمت قريش نظرت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في آثارهم مصلتا بالسيف، وهو يقول: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} فكانت ليوم بدر. "ابن أبي حاتم طس وابن مردويه".
তাহকীক: