কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৫৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الشوری
4592: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش میں اوسط النسب تھے۔ قبائل قریش میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہیں تھا جو آپ کے ساتھ اپنی رشتہ داری نہ رکھتا ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی۔ شورہ : 23
کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو رکھنی چاہیے) یعنی بس رشتہ داری کی محبت مجھ سے رکھو اور رشتہ داری میں میری حفاظت کرو۔ ابن سعد۔
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی۔ شورہ : 23
کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو رکھنی چاہیے) یعنی بس رشتہ داری کی محبت مجھ سے رکھو اور رشتہ داری میں میری حفاظت کرو۔ ابن سعد۔
4592- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كان أوسط النسب في قريش، لم يكن حي من أحياء قريش إلا وقد ولدوه1 فقال الله تعالى: {قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ} على ما أدعوكم إليه {أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ} تودوني لقرابتي منكم وتحفظوني في ذلك". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الشوری
4593: ۔۔ ابی معاویہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منبر پر چڑھے۔ اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تم میں سے کسی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حم عسق کی تفسیر کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اپنی جگہ اچھلے اور عرض کیا : میں نے (سنی ہے) پھر فرمایا : حم اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : عین کیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا : عاین المشرکون عذاب یوم بدر۔۔ یعنی عین سے اشارہ ہے معائنہ کی طرف کہ مشرکین نے بدر کے دن اللہ کے عذاب کا معائنہ کرلیا۔ پوچھا سین کیا ہے ؟ فرمایا سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ عنقریب وہ لوگ جان لیں گے جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ کس کروٹ لوٹے ہیں۔ پوچھا ق کیا ہے ؟ ابن عباس (رض) خاموش ہوگئے۔ حضرت عمر (رض) نے پھر فرمایا : میں تم سب کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں بتاؤ کیا کسی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ حم عسق کی تفسیر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ پھر حضرت ابو ذر (رض) کو دے اور فرمایا : حم اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ پوچھا عین ؟ فرمایا عاین المشرکون عذاب یوم بدر۔ پوچھا سین ؟ فرمایا سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ پوچھا : قاف کیا ہے ؟ فرمایا : قارعۃ من السماء تصیب الناس۔ یعنی وہ کھٹکھٹانے والی (صور کی آواز یا کوئی آسمانی عذاب) جو لوگوں پر نازل ہوگی۔ (مسند ابی یعلی، ابن عساکر)
4593- عن أبي معاوية قال: صعد عمر بن الخطاب المنبر فقال: "يا أيها الناس هل سمع منكم أحد رسول الله صلى الله عليه وسلم يفسر حمعسق؟ فوثب ابن عباس فقال أنا فقال: حم اسم من أسماء الله تعالى، قال: فعين؟ قال عاين المشركون عذاب يوم بدر، قال: فسين؟ قال: سيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون، قال: فقاف؟ فجلس فسكت، فقال عمر: أنشدكم بالله هل سمع منكم أحد رسول الله صلى الله عليه وسلم يفسر حمعسق؟ فوثب أبو ذر، فقال: حم اسم من أسماء الله عز وجل، فقال: عين؟ فقال عاين المشركون عذاب يوم بدر، قال: فسين؟ قال سيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون، قال: فقاف؟ قال قارعة من السماء تصيب الناس". "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزخرف
4594: ۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) یوں پڑھا کرتے تھے :
سبحان من سخر لنا ھذا۔ الزخرف۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
فائدہ : ۔۔ اصل قراءت :
سبحان الذی سخر لنا ھذا ہے۔ اور مفہوم دنوں کا ایک ہے۔
سبحان من سخر لنا ھذا۔ الزخرف۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
فائدہ : ۔۔ اصل قراءت :
سبحان الذی سخر لنا ھذا ہے۔ اور مفہوم دنوں کا ایک ہے۔
4594- "من مسند علي" عن علي رضي الله عنه أنه كان يقرأ: "سبحان من سخر لنا هذا". "ابن الأنباري في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزخرف
4595: فرمان الہی :
الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین۔ الزخرف۔
دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں وہ دوست مومن ہوتے ہیں اور دو دوست کافر۔ مومنوں میں سے ایک دوست مرجاتا ہے اس کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے وہ اپنے دوست کا ذکر کرتا ہے اور دعا کرتا ہے : اے اللہ ! میرا فلاں دوست مجھے تیری فرمان برداری اور تیرے رسول کی فرمان برداری کا حکم دیتا تھا، نیز مجھے خیر کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا اور مجھے خبر دیتا تھا کہ میں تجھ سے ایک دن ضرور ملاقات کروں گا۔ اے اللہ ! پس اس کو گمراہ نہ کرنا میرے بعد حتی کہ تو اس کو بھی وہ سب کچھ دکھا دے جو تو نے مجھے دکھایا ہے۔ اور تو اس سے بھی راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ پاک اس کو فرماتے ہیں : جاء اگر تو دیکھ لیتا جو ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے تو تو بہت ہنستا اور کم روتا ۔ پھر دوسرا دوست بھی مرجاتا ہے۔ دونوں کی روحیں اکٹھی ہوتی ہیں اور ان کو کہا جاتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف کریں لہٰذا ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے یہ بہت اچھا بھائی ہے، بہت اچھا ساتھی ہے، بہت اچھا دوست ہے۔
اور جب دونوں کافروں میں سے ایک مرجاتا ہے تو اس کو جہنم کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ تب وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے۔ اے اللہ میرا فلاں دوست مجھے تیری نافرمانی اور تیرے رسول کی نافرمانی کا کہتا تھا اور مجھے ہر برائی کا حکم دیتا تھا اور ہر نیکی سے باز رکھتا تھا اور مجھے کہتا تھا کہ میں تجھ سے اے اللہ کبھی نہ ملوں گا۔ پس اے اللہ ! اس کو میرے بعد ہدایت نہ دیجیے گا حتی کہ تو اس کو بھی وہی (عذاب) دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا اور اس پر بھی اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ سے ناراض ہوا۔ پھر دوسرا دوست مرتا ہے اور دونوں کی روحیں اکٹھی ہوتی ہیں تو دلوں کو کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی تعریف کرو۔ ہر ایک دوسرے کو کہتا ہے : بہت برا بھائی ہے، بہت برا ساتھی ہے اور بہت برا دوست ہے۔ (ابن زنجوییہ فی ترغیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی)
الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین۔ الزخرف۔
دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں وہ دوست مومن ہوتے ہیں اور دو دوست کافر۔ مومنوں میں سے ایک دوست مرجاتا ہے اس کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے وہ اپنے دوست کا ذکر کرتا ہے اور دعا کرتا ہے : اے اللہ ! میرا فلاں دوست مجھے تیری فرمان برداری اور تیرے رسول کی فرمان برداری کا حکم دیتا تھا، نیز مجھے خیر کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا اور مجھے خبر دیتا تھا کہ میں تجھ سے ایک دن ضرور ملاقات کروں گا۔ اے اللہ ! پس اس کو گمراہ نہ کرنا میرے بعد حتی کہ تو اس کو بھی وہ سب کچھ دکھا دے جو تو نے مجھے دکھایا ہے۔ اور تو اس سے بھی راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ پاک اس کو فرماتے ہیں : جاء اگر تو دیکھ لیتا جو ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے تو تو بہت ہنستا اور کم روتا ۔ پھر دوسرا دوست بھی مرجاتا ہے۔ دونوں کی روحیں اکٹھی ہوتی ہیں اور ان کو کہا جاتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف کریں لہٰذا ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے یہ بہت اچھا بھائی ہے، بہت اچھا ساتھی ہے، بہت اچھا دوست ہے۔
اور جب دونوں کافروں میں سے ایک مرجاتا ہے تو اس کو جہنم کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ تب وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے۔ اے اللہ میرا فلاں دوست مجھے تیری نافرمانی اور تیرے رسول کی نافرمانی کا کہتا تھا اور مجھے ہر برائی کا حکم دیتا تھا اور ہر نیکی سے باز رکھتا تھا اور مجھے کہتا تھا کہ میں تجھ سے اے اللہ کبھی نہ ملوں گا۔ پس اے اللہ ! اس کو میرے بعد ہدایت نہ دیجیے گا حتی کہ تو اس کو بھی وہی (عذاب) دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا اور اس پر بھی اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ سے ناراض ہوا۔ پھر دوسرا دوست مرتا ہے اور دونوں کی روحیں اکٹھی ہوتی ہیں تو دلوں کو کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی تعریف کرو۔ ہر ایک دوسرے کو کہتا ہے : بہت برا بھائی ہے، بہت برا ساتھی ہے اور بہت برا دوست ہے۔ (ابن زنجوییہ فی ترغیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی)
4595- عن علي في قوله تعالى: {الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ} قال: "خليلان مؤمنان، وخليلان كافران، توفي أحد المؤمنين، فبشر بالجنة، فذكر خليله، فقال: اللهم إن خليلي فلانا يأمرني بطاعتك وطاعة رسولك، ويأمرني بالخير، وينهاني عن السوء، وينبئني أني ملاقيك، اللهم فلا تضله بعدي حتى تريه مثل ما أريتني، وترضى عنه كما رضيت عني، فيقال له: اذهب فلو تعلم ماله عندي لضحكت كثيرا ولبكيت قليلا، ثم يموت الآخر، فيجمع بين أرواحهما، فيقال: ليثن كل واحد منكما على صاحبه، فيقول كل منهما لصاحبه: نعم الأخ ونعم الصاحب، ونعم الخليل، وإذا مات أحد الكافرين بشر بالنار، فيذكر خليله، فيقول: اللهم إن خليلي فلانا يأمرني بمعصيتك ومعصية رسولك ويأمرني بالشر، وينهاني عن الخير، وينبئني إني غير ملاقيك، اللهم فلا تهده بعدي، حتى تريه مثل ما أريتني، وتسخط عليه كما سخطت علي فيموت الآخر فيجمع بين أرواحهما، فيقال ليثن كل واحد منكما على صاحبه: فيقول كل منهما لصاحبه: بئس الأخ، وبئس الصاحب وبئس الخليل". "ابن زنجويه في ترغيبه1 وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزخرف
4596: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (رض) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : اے علی ! اس امت میں تیری مثال عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی طرح ہے، ان سے بھی ان کی قوم نے محبت میں افراط کیا۔ حضرت علی (رض) کے ساتھ لوگ چیخ پڑے اور کہنے لگے : اپنے چچازاد کو عیسیٰ (علیہ السلام) سے تشبیہ دیدی۔ تب قرآن پاک نازل ہوا۔
ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون۔ الزخرف : 57
اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے۔ ابن الجوزی فی الواہیات۔
کلام : ۔۔ حدیث ضعیف لان ابن الجوزی ذکرہ فی الواہیات۔
ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون۔ الزخرف : 57
اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے۔ ابن الجوزی فی الواہیات۔
کلام : ۔۔ حدیث ضعیف لان ابن الجوزی ذکرہ فی الواہیات۔
4596- عن علي قال:"جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ملأ من قريش فنظر إلي وقال: يا علي إنما مثلك في هذه الأمة كمثل عيسى ابن مريم أحبه قومه فأفرطوا فيه، فصاح الملأ الذين عنده وقالوا: شبه ابن عمه بعيسى، فأنزل القرآن: {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلاً إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ} ". "ابن الجوزي في الواهيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزخرف
4597: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون۔ الزخرف : 57 ۔ ابن مردویہ۔
ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون۔ الزخرف : 57 ۔ ابن مردویہ۔
4597- عن علي قال: في نزلت هذه الآية: {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلاً إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ} . "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزخرف
4598: ۔۔ عبدالرحمن بن مسعود عبدی سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
فاما نذھبن بک فانا منہم منتقمون۔ الزخرف : 41
پس اگر ہم آپ کو اٹھالیں گے تو ان سے انتقام لے کر رہیں گے۔
پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک اپنے پیغمبر کو لے گئے اور میں عذاب بن کر اس کے دشمنوں کے بیچ رہ گیا ہوں۔ (رواہ ابن مردویہ)
فاما نذھبن بک فانا منہم منتقمون۔ الزخرف : 41
پس اگر ہم آپ کو اٹھالیں گے تو ان سے انتقام لے کر رہیں گے۔
پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک اپنے پیغمبر کو لے گئے اور میں عذاب بن کر اس کے دشمنوں کے بیچ رہ گیا ہوں۔ (رواہ ابن مردویہ)
4598- عن عبد الرحمن بن مسعود العبدي قال: قرأ علي بن أبي طالب هذه الآية: {فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ} قال: "قد ذهب بنبيه صلى الله عليه وسلم، وبقيت نقمته في عدوه". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الدخان
4599: ۔۔ عباد بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کیا آسمان و زمین کسی پر روتے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہر شخص کی زمین کوئی جائے نماز ہوتی ہے اور آسمان میں اس کے عمل چڑھنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے اور آل فرعون کا زمین میں کوئی نیک عمل ہے اور نہ آسمان میں نیک عمل جانے کا کوئی راستہ ۔ (جو ان پر روئے جبکہ مومن کے لیے زمین میں جائے نماز کا حصہ اور آسمان میں نیک عمل جانے کا راستہ مومن کے مرنے پر روتا ہے) ۔ ابن ابی حاتم۔
4599- عن عباد بن عبد الله قال: سأل رجل عليا هل تبكي السماء والأرض على أحد؟ فقال: "إنه ليس من أحد إلا وله مصلى في الأرض ومصعد عمله في السماء، وإن آل فرعون لم يكن لهم عمل صالح في الأرض ولا مصعد عمل في السماء". "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحقاف
4600: ۔۔ حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں کے عید کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ساتھ لے کر ان کے کنیسہ میں تشریف لے گئے۔ یہودیوں نے (عید کے روز) ہمارا اپنے ہاں آنا ناگوار محسوس کیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ارشاد فرمایا۔
اے یہود ! تم لوگ مجھے اپنے بارہ آدمی دکھا دو جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے ہوں ؟ اللہ پاک آسمان کے نیچے رہنے والے ہر یہودی سے اپنے غضب کے عذاب کو ہٹا دے گا جو غضب ان پر اللہ نے نازل کیا ہوا ہے۔ یہود چپ ہوگئے کسی نے کوئی جواب نہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ مگر پھر کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہ بارہ اپنی دبات دہرائی مگر پھر بھی سب خاموش رہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تو انکار کرتے ہو لیکن اللہ کی قسم ! میں ہی حاشر ہوں، میں ہی عاقب ہوں، میں مقعی نبی مصطفیٰ ہوں (جس کا تمہاری کتاب میں ذکر آیا ہے) تم ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ۔
عوف (رض) کہتے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میں لوٹنے لگے۔ ہم (کنیسہ سے) نکلنے کے قریب تھے کہ اچانک ہمارے پیچھے ایک آموجود ہوا اور بولا ٹھہرئیے ! اے محمد ! پھر وہ اپنے یہودیوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگا : اے یہودیو کی جماعت ! میں کیسا شخص ہوں ؟
یہودی کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہم اپنے درمیان تم سے زیادہ کوئی کتاب اللہ ( توراۃ ) کو جاننے والا نہیں دیکھتے۔ نہ تم سے زیادہ فقیہ اور آپ سے پہلے آپ کے باپ سے زیادہ کسی کو اور نہ آپ کے باپ سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ افضل کسی کو جانتے ! پھر اس شخص نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کو تم توراۃ میں پاتے ہو۔
پھر یہودی کہنے لگے : تو جھوٹ بولتا ہے پھر وہ اس کے بارے میں برا بھلا کہتے رہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : تم جھوٹ بولتے ہو تمہاری یہ بات قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ ابھی تم نے ان کی بہت اچھی طرح تعریف کی ہے۔ لیکن جب وہ ایمان لے آیا تو تم اس کو جھوٹا کہہ رہو اور اس کو برا بھلا کہہ رہے ہو۔ لہٰذا تمہاری یہ بات قبول نہیں کی جائے گی۔
حضرت عوف (رض) فرماتے ہیں چنانچہ ہم نکلے اور تین افراد تھے میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عبداللہ بن سلام۔ پھر اللہ پاک نے ان کے بارے میں یہ نازل فرمایا۔
قل ارایتم ان کان من عنداللہ و کفرتم بہ الخ۔ الاحقاف : 10
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف ہوا اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی کی طرح (کتاب) کی گواہی دے چکا ہے اور ایمان لے آیا ہے۔ اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ مسند ابی یعلی، ابن جریر، مستدرک الحاکم، ابن عساکر۔
اے یہود ! تم لوگ مجھے اپنے بارہ آدمی دکھا دو جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے ہوں ؟ اللہ پاک آسمان کے نیچے رہنے والے ہر یہودی سے اپنے غضب کے عذاب کو ہٹا دے گا جو غضب ان پر اللہ نے نازل کیا ہوا ہے۔ یہود چپ ہوگئے کسی نے کوئی جواب نہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ مگر پھر کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہ بارہ اپنی دبات دہرائی مگر پھر بھی سب خاموش رہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تو انکار کرتے ہو لیکن اللہ کی قسم ! میں ہی حاشر ہوں، میں ہی عاقب ہوں، میں مقعی نبی مصطفیٰ ہوں (جس کا تمہاری کتاب میں ذکر آیا ہے) تم ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ۔
عوف (رض) کہتے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میں لوٹنے لگے۔ ہم (کنیسہ سے) نکلنے کے قریب تھے کہ اچانک ہمارے پیچھے ایک آموجود ہوا اور بولا ٹھہرئیے ! اے محمد ! پھر وہ اپنے یہودیوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگا : اے یہودیو کی جماعت ! میں کیسا شخص ہوں ؟
یہودی کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہم اپنے درمیان تم سے زیادہ کوئی کتاب اللہ ( توراۃ ) کو جاننے والا نہیں دیکھتے۔ نہ تم سے زیادہ فقیہ اور آپ سے پہلے آپ کے باپ سے زیادہ کسی کو اور نہ آپ کے باپ سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ افضل کسی کو جانتے ! پھر اس شخص نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کو تم توراۃ میں پاتے ہو۔
پھر یہودی کہنے لگے : تو جھوٹ بولتا ہے پھر وہ اس کے بارے میں برا بھلا کہتے رہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : تم جھوٹ بولتے ہو تمہاری یہ بات قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ ابھی تم نے ان کی بہت اچھی طرح تعریف کی ہے۔ لیکن جب وہ ایمان لے آیا تو تم اس کو جھوٹا کہہ رہو اور اس کو برا بھلا کہہ رہے ہو۔ لہٰذا تمہاری یہ بات قبول نہیں کی جائے گی۔
حضرت عوف (رض) فرماتے ہیں چنانچہ ہم نکلے اور تین افراد تھے میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عبداللہ بن سلام۔ پھر اللہ پاک نے ان کے بارے میں یہ نازل فرمایا۔
قل ارایتم ان کان من عنداللہ و کفرتم بہ الخ۔ الاحقاف : 10
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف ہوا اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی کی طرح (کتاب) کی گواہی دے چکا ہے اور ایمان لے آیا ہے۔ اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ مسند ابی یعلی، ابن جریر، مستدرک الحاکم، ابن عساکر۔
4600- عن عوف بن مالك قال: "انطلق النبي صلى الله عليه وسلم يوما وأنا معه، حتى دخلنا كنيسة اليهود بالمدينة يوم عيدهم، فكرهوا دخولنا عليهم، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: يا معشر اليهود أروني اثنى عشر رجلا منكم يشهدون أنه لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، يحط الله عن كل يهودي تحت أديم السماء الغضب الذي غضبه عليه، فأمسكوا، ما أجابه منهم أحد، ثم رد عليهم فلم يجبه أحد، ثم ثلث فلم يجبه أحد، فقال: أبيتم فوالله إني لأنا الحاشر والعاقب وأنا المقفى النبي المصطفى، آمنتم أو كذبتم، ثم انصرف وأنا معه، حتى كدنا أن نخرج فإذا رجل من خلفنا، فقال: كما أنت يا محمد، فقال ذلك الرجل: أي رجل تعلموني فيكم يا معشر يهود؟ قالوا: والله ما نعلم فينا رجلا أعلم بكتاب الله، ولا أفقه منك، ولا من أبيك من قبلك، ولا من جدك قبل أبيك، قال: فإني أشهد بالله أنه نبي الله الذي تجدونه في التوراة، قالوا له كذبت، ثم ردوا عليه، وقالوا فيه شرا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كذبتم، لم يقبل قولكم، أما آنفا فتثنون عليه من الخير ما أثنيتم، وأما إذا آمن كذبتموه وقلتم فيه ما قلتم، فلن يقبل قولكم، فخرجنا ونحن ثلاثة، رسول الله صلى الله عليه وسلم
وأنا، وعبد الله بن سلام، فأنزل الله فيه: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ} إلى قوله {لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} ". "ع وابن جرير ك كر". سورة الأحقاف آية/10/.
وأنا، وعبد الله بن سلام، فأنزل الله فيه: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ} إلى قوله {لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} ". "ع وابن جرير ك كر". سورة الأحقاف آية/10/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة محمد
4601: ۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جوان کو پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی :
افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا۔ احقاف : 24
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے لگ رہے ہیں۔ جوان نے کہا : دلوں پر تو تالے ہی ہوتے ہیں جب تک اللہ پاک نہ کھولے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا :
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یمن کا ایک وفد آیا انھوں نے درخواست دی کہ ان کے لیے ایک کتاب (خط) لکھ دی جائے۔ آپ نے عبداللہ بن الارقم کو فرمایا کہ ان کو کتاب لکھ دو ۔ انھوں نے کتاب لکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو درست قرار دیا۔
حضرت عمر (رض) کو خیال ہوتا تھا کہ شاید لوگوں کی ذمہ داری کبھی ان کو سپرد کی جائے گی۔ جب آپ (رض) خلیفہ بنے تو آپ (رض) نے اسی جوان کے متعلق دریافت کیا لوگوں نے کہا وہ تو شہید ہوگئے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں یوں فرمایا اس جوان نے بھی بعینہ یوں ہی کہا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں مجھے معلوم ہوگیا کہ اللہ اس کو ہدایت دے گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو بیت المال پر امیر مقرر کردیا۔ ابن راھویہ، ابن جریر، ابن المنذر ، ابن مردویہ۔
افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا۔ احقاف : 24
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے لگ رہے ہیں۔ جوان نے کہا : دلوں پر تو تالے ہی ہوتے ہیں جب تک اللہ پاک نہ کھولے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا :
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یمن کا ایک وفد آیا انھوں نے درخواست دی کہ ان کے لیے ایک کتاب (خط) لکھ دی جائے۔ آپ نے عبداللہ بن الارقم کو فرمایا کہ ان کو کتاب لکھ دو ۔ انھوں نے کتاب لکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو درست قرار دیا۔
حضرت عمر (رض) کو خیال ہوتا تھا کہ شاید لوگوں کی ذمہ داری کبھی ان کو سپرد کی جائے گی۔ جب آپ (رض) خلیفہ بنے تو آپ (رض) نے اسی جوان کے متعلق دریافت کیا لوگوں نے کہا وہ تو شہید ہوگئے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں یوں فرمایا اس جوان نے بھی بعینہ یوں ہی کہا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں مجھے معلوم ہوگیا کہ اللہ اس کو ہدایت دے گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو بیت المال پر امیر مقرر کردیا۔ ابن راھویہ، ابن جریر، ابن المنذر ، ابن مردویہ۔
4601- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرئ شابا فقرأ: " {أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} فقال الشاب: عليها أقفالها حتى يفرجها الله، فقال النبي صلى الله عليه سلم: صدقت، وجاءه ناس من أهل اليمن فسألوه أن يكتب لهم كتابا، فأمر عبد الله بن الأرقم أن يكتب لهم كتابا فكتب لهم فجاء به، فقال أصبت، وكان عمر يرى أنه سيلي من أمر الناس شيئا، فلما استخلف عمر سأل عن الشاب؟ فقالوا: استشهد فقال عمر: قال النبي صلى الله عليه وسلم: كذا وكذا، فقال الشاب: كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فعرفت أن الله سيهديه، واستعمل عمر عبد الله بن الأرقم على بيت المال". "ابن راهويه وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة محمد
4602: ۔۔ نزال بن سبرہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے کسی نے کہا : یا امیر المومنین ! یہاں ایک قوم ہے جو کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو اس وقت تک نہیں جانتا جب تک وہ وقوع پذیر نہ ہوجائے۔ حضرت علی (رض) نے اس پر پھٹکار کی ان کی ماں ان کو گم کرے۔ یہ بات کہاں سے کہی ہے انھوں نے ؟ کیا وہ قرآن کے اس فرمان کی تفسیر (میں یہ بات) کہتے ہیں :
ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین منکم والصابرین و نبلو اخبارکم۔ محمد :31
اور ہم تم کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، ان کو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔
حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جس نے علم حاصل نہیں کیا وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر آپ (رض) برسر منبر جلوہ افروز ہوئے اللہ کی حمد کی اور اس کو بڑائی بیان کی اور پھر فرمایا :
اے لوگو ! علم حاصل کرلو اور اس پر عمل کرو اور اسے آگے دوسروں کو پڑھاؤ اور جس شخص پر کتاب اللہ کی کوئی بات مشتبہ ہوجائے وہ مجھ سے دریافت کرلے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں : اللہ پاک نہیں جب تک بات وقوع پذیر نہ ہوجائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین۔ الخ سنو ! درحقیقت اس کا مطلب ہے ہم جان لیں یعنی ہم دیکھ لیں کہ جس پر جہاد اور صبر فرض کیا ہے اگر وہ جہاد کرتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے اور جو میں نے اس پر لکھ دیا ہے اس کو بجا لاتا ہے۔ (اس کو کرتا ہوا دیکھ لیں اور ہم کو سب معلوم ہے کون کیا کرتا ہے ؟ ) ابن عبدا لبر فی العلم۔
ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین منکم والصابرین و نبلو اخبارکم۔ محمد :31
اور ہم تم کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، ان کو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔
حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جس نے علم حاصل نہیں کیا وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر آپ (رض) برسر منبر جلوہ افروز ہوئے اللہ کی حمد کی اور اس کو بڑائی بیان کی اور پھر فرمایا :
اے لوگو ! علم حاصل کرلو اور اس پر عمل کرو اور اسے آگے دوسروں کو پڑھاؤ اور جس شخص پر کتاب اللہ کی کوئی بات مشتبہ ہوجائے وہ مجھ سے دریافت کرلے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں : اللہ پاک نہیں جب تک بات وقوع پذیر نہ ہوجائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین۔ الخ سنو ! درحقیقت اس کا مطلب ہے ہم جان لیں یعنی ہم دیکھ لیں کہ جس پر جہاد اور صبر فرض کیا ہے اگر وہ جہاد کرتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے اور جو میں نے اس پر لکھ دیا ہے اس کو بجا لاتا ہے۔ (اس کو کرتا ہوا دیکھ لیں اور ہم کو سب معلوم ہے کون کیا کرتا ہے ؟ ) ابن عبدا لبر فی العلم۔
4602- عن النزال بن سبرة قال: "قيل لعلي يا أمير المؤمنين إن ههنا قوما يقولون: إن الله تعالى لا يعلم ما يكون حتى يكون، فقال: ثكلتهم أمهاتهم، من أين قالوا هذا؟ قيل يتأولون القرآن في قوله: {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ} فقال علي: من لم يعلم هلك، ثم صعد المنبر، فحمد الله، وأثنى عليه، وقال: يا أيها الناس تعلموا العلم، واعملوا به، وعلموه، ومن أشكل عليه شيء من كتاب الله فليسألني، بلغني أن قوما يقولون: إن الله لا يعلم ما يكون حتى يكون لقوله: {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ} وإنما قوله تعالى حتى نعلم يقول: حتى نرى من كتب عليه الجهاد والصبر إن جاهد وصبر على ما نابه وأتاه مما قضيت عليه". "ابن عبد البر1 في العلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفتح
4603: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان خداوندی :
والزمہم کلمۃ التقوی۔ الفتح :26
اور اللہ نے ان کو پرہیزگاری کے کلمہ پر قائم رکھا۔ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں (پرہیزگاری کا کلمہ) لا الہ الا اللہ ہے۔ (عبدالرزاق، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء والصفات)
والزمہم کلمۃ التقوی۔ الفتح :26
اور اللہ نے ان کو پرہیزگاری کے کلمہ پر قائم رکھا۔ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں (پرہیزگاری کا کلمہ) لا الہ الا اللہ ہے۔ (عبدالرزاق، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء والصفات)
4603- عن علي في قوله تعالى: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى} قال: "لا إله إلا الله". "عب والفريابي وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم1 ك ق في الأسماء والصفات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفتح
4604: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمانِ خداوندی والزمہم کلمۃ التقوی (اور اللہ نے ان کو پرہیزگاری کے کلمہ پر قائم رکھا) کی تفسیر میں فرماتے (پرہیزگاری کا کلمہ) لا الہ الا اللہ ہے۔
4604- عن علي في قوله: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى} قال: "لا إله إلا الله، والله أكبر". "ابن جرير وأبو الحسين بن بشران في فوائده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفتح
4605: سیف بن عمر عطیہ عن اصحاب علی (رض) عن علی (رض)۔ عن الضحاک عن ابن عباس (رض) :
حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے فرمان باری تعالیٰ :
و عدکم اللہ مغانم کثیرۃ۔ الفتح :20
خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔
کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں : اس سے خیبر کی فتح کے موقع پر ملنے والی غنیمتیں مراد ہیں۔ تم ان کو حاسل کروگے اور بہت جلد وہ تم کو حاصل ہوجائیں گی اور اس کے علاوہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے کفار کے ہاتھ تم سے رک جائیں گے، تاکہ یہ مومنوں کے لیے نشانی بن جائے۔ بعد کے لیے اور اللہ کے وعدہ کے پورا ہونے پر دلیل بن جائے۔ اور ان کے علاوہ اور دوسری غنیمتیں بھی ہیں : لم تقدروا علیھا تم ان پر قادر نہیں ہو یعنی ان کے علم پر قادر نہیں ہو کہ وہ کب حاصل ہوں گی وہ فارس اور روم کی غنیمتیں ہیں جو اللہ نے تمہارے لیے طے کردی ہیں۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے فرمان باری تعالیٰ :
و عدکم اللہ مغانم کثیرۃ۔ الفتح :20
خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔
کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں : اس سے خیبر کی فتح کے موقع پر ملنے والی غنیمتیں مراد ہیں۔ تم ان کو حاسل کروگے اور بہت جلد وہ تم کو حاصل ہوجائیں گی اور اس کے علاوہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے کفار کے ہاتھ تم سے رک جائیں گے، تاکہ یہ مومنوں کے لیے نشانی بن جائے۔ بعد کے لیے اور اللہ کے وعدہ کے پورا ہونے پر دلیل بن جائے۔ اور ان کے علاوہ اور دوسری غنیمتیں بھی ہیں : لم تقدروا علیھا تم ان پر قادر نہیں ہو یعنی ان کے علم پر قادر نہیں ہو کہ وہ کب حاصل ہوں گی وہ فارس اور روم کی غنیمتیں ہیں جو اللہ نے تمہارے لیے طے کردی ہیں۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4605- سيف بن عمر عن عطية عن أصحاب علي عن علي وعن الضحاك عن ابن عباس في قوله تعالى: {وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً} قالا: "المغانم فتوح من لدن خيبر تأخذونها وتلونها وتغنمون ما فيها"
عجل لكم من ذلك خيبر، وكف أيدي الناس من قريش عنكم بالصلح يوم الحديبية {وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ} شاهدا على بعدها ودليلا على إنجازها {وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا} على علم وقتها، أفيئها عليكم فارس والروم {قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا} قضى الله بها أنها لكم."ك".
عجل لكم من ذلك خيبر، وكف أيدي الناس من قريش عنكم بالصلح يوم الحديبية {وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ} شاهدا على بعدها ودليلا على إنجازها {وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا} على علم وقتها، أفيئها عليكم فارس والروم {قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا} قضى الله بها أنها لكم."ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفتح
4606: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے آپ نے ارشاد فرمایا :
و الزمہم کلمۃ التقوی ۔ الفتح 26 ۔
اور مومنوں کو تقوی کا کلمہ لازم کیا۔ فرمایا : وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ (ترمذی، مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن جریر، الدار قطنی فی الافراد، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء والصفات)
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت ضعیف ہے۔ نیز ہم اس روایت کو مرفوع صرف حسن بن قزعہ ہی کی سند سے جانتے ہیں۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو زرعہ (رح) سے اسی حدیث کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے بھی اس کو مرفوع صرف اسی سند کے ساتھ قرار دیا۔ کنز العمال ج 2 ص 506
و الزمہم کلمۃ التقوی ۔ الفتح 26 ۔
اور مومنوں کو تقوی کا کلمہ لازم کیا۔ فرمایا : وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ (ترمذی، مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن جریر، الدار قطنی فی الافراد، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء والصفات)
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت ضعیف ہے۔ نیز ہم اس روایت کو مرفوع صرف حسن بن قزعہ ہی کی سند سے جانتے ہیں۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو زرعہ (رح) سے اسی حدیث کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے بھی اس کو مرفوع صرف اسی سند کے ساتھ قرار دیا۔ کنز العمال ج 2 ص 506
4606- أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى} قال: "لا إله إلا الله".
"ت1 وقال غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث الحسن ابن قزعة وسألت أبا زرعة عن هذا الحديث فلم يعرفه مرفوعا إلا من هذا الوجه. "عم وابن جرير قط في الأفراد وابن مردويه ك ق في الأسماء والصفات"
"ت1 وقال غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث الحسن ابن قزعة وسألت أبا زرعة عن هذا الحديث فلم يعرفه مرفوعا إلا من هذا الوجه. "عم وابن جرير قط في الأفراد وابن مردويه ك ق في الأسماء والصفات"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4607: ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
یا ایہا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول الخ۔ الحجرات : 2
اے ایمان والو ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
تو میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے ہمیشہ ایک سرگوشی کرنے والے بھائی کی طرح بات چیت کیا کروں گا۔ (الحارث والبزار، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
کلام : ۔۔ ابن عدی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے کنز ج 2 ص 507 ۔
یا ایہا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول الخ۔ الحجرات : 2
اے ایمان والو ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
تو میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے ہمیشہ ایک سرگوشی کرنے والے بھائی کی طرح بات چیت کیا کروں گا۔ (الحارث والبزار، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
کلام : ۔۔ ابن عدی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے کنز ج 2 ص 507 ۔
4607- عن أبي بكر قال: لما نزلت هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} قلت يا رسول الله والله لا أكلمك إلا كأخي السرار. "الحارث والبزار وضعفه عد ك وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4608: ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں :
یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی۔ الحجرات : 13
اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔ بیشک تم تمہارا سب سے زیادہ باعزت شخص اللہ کے ہاں تمہارا سب سے تقوی والا ہے۔
یہ آیت مکی ہے اور یہ خاص طور پر عرب کے لیے نازل ہوئی ہے۔ عرب کے ہر قبیلے اور ہر قوم کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اور فرمان خداوندی تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تقوی والا ہے یعنی شرک سے جو زیادہ بچنے والا ہے وہی زیادہ اللہ کے ہاں اکرام والا ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی۔ الحجرات : 13
اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔ بیشک تم تمہارا سب سے زیادہ باعزت شخص اللہ کے ہاں تمہارا سب سے تقوی والا ہے۔
یہ آیت مکی ہے اور یہ خاص طور پر عرب کے لیے نازل ہوئی ہے۔ عرب کے ہر قبیلے اور ہر قوم کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اور فرمان خداوندی تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تقوی والا ہے یعنی شرک سے جو زیادہ بچنے والا ہے وہی زیادہ اللہ کے ہاں اکرام والا ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4608- عن عمر أن هذه الآية في الحجرات: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى} هي مكية، وهي للعرب خاصة، الموالي أي قبيلة لهم وأي شعاب، وقوله تعالى: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} قال: "أتقاكم للشرك". "وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4609: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک مراسلہ آیا جس میں مکتوب تھا :
یا امیر المومنین ! ایک شخص جو معصیت کی خواہش ہی نہیں رکھتا اور نہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور ایک شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا، بتائیے دونوں میں سے کون سا شخص افضل ہے ؟
حضرت عمر (رض) نے جواب لکھوایا :
جو شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا (وہ دوسرے سے افضل ہے) کیونکہ ارشاد خداوندی ہے :
اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی لھم مغفرۃ واجر عظیم۔ الحجرات۔ 3
یہی لوگ ہیں خدا نے ان کے دل تقوی کے لیے آزما لیے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے۔ الزھد للامام احمد (رح)
یا امیر المومنین ! ایک شخص جو معصیت کی خواہش ہی نہیں رکھتا اور نہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور ایک شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا، بتائیے دونوں میں سے کون سا شخص افضل ہے ؟
حضرت عمر (رض) نے جواب لکھوایا :
جو شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا (وہ دوسرے سے افضل ہے) کیونکہ ارشاد خداوندی ہے :
اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی لھم مغفرۃ واجر عظیم۔ الحجرات۔ 3
یہی لوگ ہیں خدا نے ان کے دل تقوی کے لیے آزما لیے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے۔ الزھد للامام احمد (رح)
4609- عن مجاهد قال كتب إلى عمر: يا أمير المؤمنين رجل لا يشتهي المعصية، ولا يعمل بها أفضل؟ أم رجل يشتهي المعصية ولا يعمل بها؟ فكتب عمر: إن الذين يشتهون المعصية ولا يعلمون بها: {أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ} ."حم في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4610: ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ۔۔ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم نے لوگوں کے دلوں سے شہوات اڑا دی ہیں۔ (شعب الایمان للبیہقی عن مجاھد (رح))
4610 - عن عمر في قوله تعالى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى} قال: "ذهب بالشهوات من قلوبهم"."هب عن مجاهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجرات
4611: ۔۔ (عبدالرحمن بن عوف (رض)) حضرت ابو سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی۔ الحجرات :2
اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو۔
تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرض کیا : میں آپ سے آئندہ ہمیشہ اس طرح بات کروں گا جس طرح سرگوشی کرنے والا بات کرتا ہے حتی کہ میں اللہ سے جا ملوں۔ ابو العباس السراج۔
لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی۔ الحجرات :2
اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو۔
تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرض کیا : میں آپ سے آئندہ ہمیشہ اس طرح بات کروں گا جس طرح سرگوشی کرنے والا بات کرتا ہے حتی کہ میں اللہ سے جا ملوں۔ ابو العباس السراج۔
4611- "عبد الرحمن بن عوف" عن أبي سلمة قال: حدثني أبي عبد الرحمن بن عوف قال لما نزلت: {لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} قال أبو بكر "لا أكلمك إلا كأخي السرار حتى ألقى الله". "هلال الحفار في جزئه".
তাহকীক: