কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৫৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ص
4572: (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کا ذکر فرمایا اور بڑی عظمت و شدت کے ساتھ فرمایا۔ اور فرمایا : رحمن داؤد (علیہ السلام) کو فرمائیں گے میرے آگے آؤ۔ داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے پروردگار ! مجھے خوف ہے کہ میری خطائیں میرے قدم نہ پھسلا دیں۔ پروردگار فرمائیں گے : میرے پیچھے سے گذرو۔ داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے : مجھے خوف ہے کہ کہیں میری خطائیں مجھے نہ پھسلا دیں۔ پروردگار فرمائیں گے : میرا قدم پکڑو۔ پس داؤد (علیہ السلام) اللہ کا قدم پکڑیں گے اور پھر گذر جائیں گے۔ یہی زلفی ہے۔ جو اللہ نے فرمایا :
و ان لہ عندنا لزلفی و حسن ماب۔ ص : 25
اور بیشک (داود) کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
و ان لہ عندنا لزلفی و حسن ماب۔ ص : 25
اور بیشک (داود) کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4572- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "ذكر النبي صلى الله عليه وسلم: " يوم القيامة، فعظم شأنه وشدته، قال ويقول الرحمن لداود عليه السلام: مر بين يدي، فيقول داود: يا رب أخاف أن تدحضني خطيئتي، فيقول: مر خلفي، فيقول: يا رب أخاف أن تدحضني خطيئتي فيقول: خذ بقدمي، فيأخذ بقدمه عز وجل، فيمر، قال: فتلك الزلفى التي قال الله تعالى: {وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ} ". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ص
4573: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) کا فرمان ہے حین سے مراد چھ ماہ کا عرصہ ہے۔ السنن للبیہقی۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
ولتعلمن نباہ بعد حین۔ ص : 88
اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
ولتعلمن نباہ بعد حین۔ ص : 88
اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا۔
4573- "علي" عن علي قال: "الحين ستة أشهر". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ص
4574: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بیٹھے اپنی انگوٹھی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اچانک انگوٹھی آپ سے چھوٹ کر سمندر میں گرگئی۔ آپ کی ساری سلطنت آپ کی انگوٹھی میں تھی۔ چنانچہ آپ وہاں سے چل پڑے۔ جبکہ پیچھے ایک شیطان (آپ کی شکل میں) آپ کے گھر رہنے لگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک بڑھیا کے پاس تشریف لائے اور اس کے پاس رہنے لگے۔ (اور ساری داستان سنائی) بڑھیا بولی : اگر تم چاہو تو تم جا کر (روزی) تلاش کرو اور میں گھر کا کام کاج کرتی ہوں۔ اور اگر تم چاہو تو تم گھر کا کام کاج کرو اور میں جا کر روزی تلاش کرتی ہوں۔ چنانچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) روزی کی تلاش میں نکل پڑے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس آئے جو مچھلی کا شکار کر رہے تھے۔ آپ ان کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے کچھ مچھلیاں آپ کو دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مچھلیاں لے کر بڑھیا کے گھر لوٹے۔ بڑھیا مچھلیاں کاٹنے لگی تو ایک مچھلی کا پیٹ کاٹا تو اس میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی نکل آئی ۔ بڑھیا نے پوچھا یہ کیا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہی تو میری گمشدہ انگوٹھی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ انگوٹھی لے کر پہنی۔ اور آپ کی بادشاہت لوٹ آئی اور سلیمان (علیہ السلام) (نے بتایا کہ یہی تو میری گمشدہ انگوٹھی ہے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ انگوٹھی لے کر پہنی۔ اور آپ کی بادشاہت لوٹ آئی اور تمام انس و جن ، شیاطین، چرند پرند، اور وحشی جانور آپ کے تابعدار ہوگئے۔ اور جو شیطان آپ کی جگہ لیے بیٹھا تھا وہ بھاگ گیا اور جا کر سمندر کے ایک جزیرے میں پناہ گزین ہوگیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو پکڑنے کے لیے شیاطین کو اس کے تعاقب میں بھیجا۔ انھوں نے (آ کر) کہا : ہم اس پر قادر نہیں ہوسکے۔ (ایک حل ہے) وہ ہر ہفتہ میں ایک دن جزیرے کے چشمے پر آتا ہے۔ اور ہم اس کو صرف نشہ کی حالت میں پکڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس پانی کے چشمے میں شراب ڈالی جائے۔ (چنانچہ یہ تدبیر کی گئی) جب شیطان آیا اور اس چشمے کا پانی پی لیا (تو وہ نرم پڑا) پھر انھوں نے اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی دکھائی جس کو دیکھ کر وہ اطاعت پر آمادہ ہوگیا۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بندھوا کر ایک پہاڑ پر بھیج دیا۔ کہتے ہیں وہ جبل الدخان نامی پہاڑ ہے۔ (دخان کے معنی دھویں کے ہیں) اور اس پہاڑ سے جو دھواں اٹھتا ہے وہ اسی شیطان سے نکلتا ہے اور وہ پانی جو پہاڑ سے گرتا ہے وہ شیطان کا پیشاب ہے۔ عبد بن حمید، ابن المنذر۔
ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بیٹھے اپنی انگوٹھی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اچانک انگوٹھی آپ سے چھوٹ کر سمندر میں گرگئی۔ آپ کی ساری سلطنت آپ کی انگوٹھی میں تھی۔ چنانچہ آپ وہاں سے چل پڑے۔ جبکہ پیچھے ایک شیطان (آپ کی شکل میں) آپ کے گھر رہنے لگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک بڑھیا کے پاس تشریف لائے اور اس کے پاس رہنے لگے۔ (اور ساری داستان سنائی) بڑھیا بولی : اگر تم چاہو تو تم جا کر (روزی) تلاش کرو اور میں گھر کا کام کاج کرتی ہوں۔ اور اگر تم چاہو تو تم گھر کا کام کاج کرو اور میں جا کر روزی تلاش کرتی ہوں۔ چنانچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) روزی کی تلاش میں نکل پڑے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس آئے جو مچھلی کا شکار کر رہے تھے۔ آپ ان کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے کچھ مچھلیاں آپ کو دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مچھلیاں لے کر بڑھیا کے گھر لوٹے۔ بڑھیا مچھلیاں کاٹنے لگی تو ایک مچھلی کا پیٹ کاٹا تو اس میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی نکل آئی ۔ بڑھیا نے پوچھا یہ کیا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہی تو میری گمشدہ انگوٹھی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ انگوٹھی لے کر پہنی۔ اور آپ کی بادشاہت لوٹ آئی اور سلیمان (علیہ السلام) (نے بتایا کہ یہی تو میری گمشدہ انگوٹھی ہے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ انگوٹھی لے کر پہنی۔ اور آپ کی بادشاہت لوٹ آئی اور تمام انس و جن ، شیاطین، چرند پرند، اور وحشی جانور آپ کے تابعدار ہوگئے۔ اور جو شیطان آپ کی جگہ لیے بیٹھا تھا وہ بھاگ گیا اور جا کر سمندر کے ایک جزیرے میں پناہ گزین ہوگیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو پکڑنے کے لیے شیاطین کو اس کے تعاقب میں بھیجا۔ انھوں نے (آ کر) کہا : ہم اس پر قادر نہیں ہوسکے۔ (ایک حل ہے) وہ ہر ہفتہ میں ایک دن جزیرے کے چشمے پر آتا ہے۔ اور ہم اس کو صرف نشہ کی حالت میں پکڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس پانی کے چشمے میں شراب ڈالی جائے۔ (چنانچہ یہ تدبیر کی گئی) جب شیطان آیا اور اس چشمے کا پانی پی لیا (تو وہ نرم پڑا) پھر انھوں نے اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی دکھائی جس کو دیکھ کر وہ اطاعت پر آمادہ ہوگیا۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بندھوا کر ایک پہاڑ پر بھیج دیا۔ کہتے ہیں وہ جبل الدخان نامی پہاڑ ہے۔ (دخان کے معنی دھویں کے ہیں) اور اس پہاڑ سے جو دھواں اٹھتا ہے وہ اسی شیطان سے نکلتا ہے اور وہ پانی جو پہاڑ سے گرتا ہے وہ شیطان کا پیشاب ہے۔ عبد بن حمید، ابن المنذر۔
4574- عن علي قال: "بينما سليمان بن داود جالس على شاطئ البحر وهو يعبث بخاتمه إذ سقط منه
في البحر، وكان ملكه في خاتمه فانطلق وخلفه شيطان في أهله، فأتى عجوزا فأوى إليها، فقالت له العجوز إن شئت تنطلق فتطلب، وأكفيك عمل البيت؟ وإن شئت أن تكفيني عمل البيت، وانطلق فألتمس؟ فانطلق يلتمس، فأتى قوما يصيدون السمك فجلس إليهم، فنبذوا إليه سمكات، فانطلق بهن حتى أتى العجوز، فأخذت تصلحهن فشقت بطن سمكة، فإذا فيها الخاتم فأخذته وقالت لسليمان: ما هذا؟ فأخذه سليمان فلبسه، فأقبلت إليه الشياطين والجن والإنس والطير والوحوش وهرب الشيطان الذي خلف في أهله، فأتى جزيرة في البحر فبعث إليه الشياطين، فقالوا: لا نقدر عليه، إنه يرد عينا في جزيرة في البحر في سبعة أيام يوما، ولا نقدر عليه حتى يسكر، فصب له في تلك العين خمرا، فأقبل فشرب فأروه الخاتم، فقال سمعا وطاعة وأوثقه سليمان، ثم بعث به إلى جبل، فذكروا أنه جبل الدخان، فيقال الدخان الذي ترون من نفسه، والماء الذي يخرج من الجبل بوله". "عبد بن حميد وابن المنذر".
في البحر، وكان ملكه في خاتمه فانطلق وخلفه شيطان في أهله، فأتى عجوزا فأوى إليها، فقالت له العجوز إن شئت تنطلق فتطلب، وأكفيك عمل البيت؟ وإن شئت أن تكفيني عمل البيت، وانطلق فألتمس؟ فانطلق يلتمس، فأتى قوما يصيدون السمك فجلس إليهم، فنبذوا إليه سمكات، فانطلق بهن حتى أتى العجوز، فأخذت تصلحهن فشقت بطن سمكة، فإذا فيها الخاتم فأخذته وقالت لسليمان: ما هذا؟ فأخذه سليمان فلبسه، فأقبلت إليه الشياطين والجن والإنس والطير والوحوش وهرب الشيطان الذي خلف في أهله، فأتى جزيرة في البحر فبعث إليه الشياطين، فقالوا: لا نقدر عليه، إنه يرد عينا في جزيرة في البحر في سبعة أيام يوما، ولا نقدر عليه حتى يسكر، فصب له في تلك العين خمرا، فأقبل فشرب فأروه الخاتم، فقال سمعا وطاعة وأوثقه سليمان، ثم بعث به إلى جبل، فذكروا أنه جبل الدخان، فيقال الدخان الذي ترون من نفسه، والماء الذي يخرج من الجبل بوله". "عبد بن حميد وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ص
4575: ۔۔ ابی بن کعب (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمان الہی :
فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ص : 33
پس شروع ہوئے (تلوار کا ہاتھ پھیرنے) پنڈلی اور گردنوں پر۔
کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردن کاٹنے لگے۔ (اسماعیل فی معجمہ۔ ابن مردویہ)
یہ روایت حسن ہے۔
فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ص : 33
پس شروع ہوئے (تلوار کا ہاتھ پھیرنے) پنڈلی اور گردنوں پر۔
کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردن کاٹنے لگے۔ (اسماعیل فی معجمہ۔ ابن مردویہ)
یہ روایت حسن ہے۔
4575- عن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ} قال: "قطع سوقها وأعناقها" "الإسماعيلي في معجمه وابن مردويه" وهو حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4576: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کہتے تھے : (دنیا کے) فتنے میں پڑ (کر ہجرت سے رہ جانے) والوں کے لیے کوئی توبہ نہیں۔ لوگ کہتے تھے : جو فتنے میں پڑگئے ان کی نہ نفل قبول اور نہ فرض۔ اور (ہجرت سے رہ جانے والے لوگ) یہ بات اپنے متعلق کہتے تھے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اور ہمارے ان کے متعلق کہنے کے بارے میں اور خود ان کے اپنی جان کے بارے میں کہنے سے متعلق اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :
یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ۔۔۔ سے ۔۔۔ وانتم لا تشعرون تک۔ الزمر : 53 ۔
اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے، اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمان بردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی۔ اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو، اس نہایت اچھی (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے یہ آیت ایک خط میں لکھ کر ہشام بن العاص کو روانہ کردی۔ (البزر، الشاشی، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
اس حدیث کی وضاحت ذیل کی حدیث کرتی ہے۔
یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ۔۔۔ سے ۔۔۔ وانتم لا تشعرون تک۔ الزمر : 53 ۔
اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے، اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمان بردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی۔ اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو، اس نہایت اچھی (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے یہ آیت ایک خط میں لکھ کر ہشام بن العاص کو روانہ کردی۔ (البزر، الشاشی، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
اس حدیث کی وضاحت ذیل کی حدیث کرتی ہے۔
4576- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "كنا نقول ما لمفتتن توبة، وكانوا يقولون: ما الله بقابل ممن افتتن صرفا ولا عدلا، وكانوا يقولون ذلك لأنفسهم، فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة أنزل الله تعالى فيهم وفي قولنا لهم وقولهم لأنفسهم: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ} إلى قوله {وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ} فكتبتها بيدي في صحيفة، وبعثت بها إلى هشام بن العاص". "البزار والشاشي وابن مردويه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4577: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ (مدینہ منورہ) ہجرت کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے اور عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن العاص بن وائل نے پروگرام بنایا کہ ہم (ایک ساتھ) مدینہ ہجرت کریں۔ چنانچہ میں اور عیاش تو نکل پڑے جبکہ ہشام فتنہ میں پڑگئے (یعنی اپنے کسی کام سے پیچھے رہ گئے) پھر ان کو آزمائش بھی پیش آگئی وہ یوں کہ ان کے دو بھائی اور ابوجہل اور حارث ابن ہشام ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تمہاری ماں نے نذر مانی ہے کہ وہ نہ کسی سائے میں آئیں گی اور نہ سر کو دھوئیں گی جب تک کہ تم کو نہ دیکھ لیں۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ان کا مقصد صرف تم کو تمہارے دین سے فتنہ میں ڈال کر روکنا ہے۔ آخر وہ دونوں اس کو لے گئے اور اس کو اپنے فتنے میں پھنسا لیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا :
یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ۔۔ سے ۔۔۔ مثوی للمتکبرین تک۔
میں نے یہ آیت ہشام کو لکھ بھیجیں ۔ چنانچہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے۔ البزار، ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔
یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ۔۔ سے ۔۔۔ مثوی للمتکبرین تک۔
میں نے یہ آیت ہشام کو لکھ بھیجیں ۔ چنانچہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے۔ البزار، ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔
4577- عن عمر قال: "لما اجتمعنا للهجرة اتعدت أنا وعياش بن أبي ربيعة وهشام بن العاص بن وائل، أن نهاجر إلى المدينة، فخرجت أنا وعياش وفتن هشام، فافتتن، فقدم على عياش أخواه أبو جهل والحارث بن هشام، فقالا له: إن أمك قد نذرت أن لا يظلها ظل ولا يمس رأسها غسل حتى تراك، فقلت والله إن يريداك إلا أن يفتناك عن دينك فخرجا به وفتنوه فافتتن، ونزلت فيهم: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} إلى قوله
{مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ} ، فكتبت بها إلى هشام فقدم"."البزار وابن مردويه ق".
{مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ} ، فكتبت بها إلى هشام فقدم"."البزار وابن مردويه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4578: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
انک میت و انہم میتون (الزمر : 30)
(اے پیغمبر ! ) تم بھی مرجاؤگے اور یہ بھی مرجائیں گے۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا :
اے پروردگار ! کیا تمام مخلوقات مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی :
کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون۔ القرآن۔
ہر جی موت (کا مزہ) چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤگے۔ ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔
انک میت و انہم میتون (الزمر : 30)
(اے پیغمبر ! ) تم بھی مرجاؤگے اور یہ بھی مرجائیں گے۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا :
اے پروردگار ! کیا تمام مخلوقات مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی :
کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون۔ القرآن۔
ہر جی موت (کا مزہ) چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤگے۔ ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔
4578- "علي" عن علي قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما نزلت هذه الآية: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} قلت: يا رب أتموت الخلائق كلهم ويبقى الأنبياء فنزلت: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} ."ابن مردويه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4579: ۔۔ ارشاد خداوندی ہے :
والذی جاء بالحق و صدق بہ اولئک ھم المتقون۔ الزمر : 33
اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔
حضرت علی (رض) مذکورہ آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں سچی بات لانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) مذکورہ آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں سچی بات لانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔ ابن جریر۔ الباوردی فی معرفۃ الصحابۃ، ابن عساکر۔
فائدہ : ۔۔ مشہور قراءت میں والذی جاء بالصدق ہے۔ جبکہ حضرت علی (رض) کے فرمان میں والذی جاء بالحق کے الفاظ ہیں۔ مفہوم ایک ہی ہے۔ شاید حضرت علی (رض) کی قراءت میں بالحق کا لفظ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
خواب کی حقیقت کیا ہے ؟
والذی جاء بالحق و صدق بہ اولئک ھم المتقون۔ الزمر : 33
اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔
حضرت علی (رض) مذکورہ آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں سچی بات لانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) مذکورہ آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں سچی بات لانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔ ابن جریر۔ الباوردی فی معرفۃ الصحابۃ، ابن عساکر۔
فائدہ : ۔۔ مشہور قراءت میں والذی جاء بالصدق ہے۔ جبکہ حضرت علی (رض) کے فرمان میں والذی جاء بالحق کے الفاظ ہیں۔ مفہوم ایک ہی ہے۔ شاید حضرت علی (رض) کی قراءت میں بالحق کا لفظ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
خواب کی حقیقت کیا ہے ؟
4579- عن علي قال: {وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ} محمد {وَصَدَّقَ بِهِ} أبو بكر. "ابن جرير والباوردي في معرفة الصحابة كر وقال: هكذا الرواية بالحق فلعلها قراءة لعلي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4580: ۔۔ سلیم بن عامر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا :
تعجب کی بات ہے کہ کوئی شخص رات بسر کرتا ہے اور ایسی کوئی چیز (خواب میں) دیکھتا ہے جو کبھی اس کے دل میں گذری نہیں۔ لیکن وہ (اٹھتا ہے اور) اپنے خواب کو جیسے ہاتھ سے تھام لیتا ہے۔ اور کوئی شخص خواب دیکھتا ہے تو اس کا خواب کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا :
یا امیر المومنین ! کیا میں اس کی حقیقت نہ بتاؤں ! درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علھا الموت و یرسل الاخری الی اجل مسمی۔ الزمر : 42
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روح قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کردیتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں وک ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : (نیند کی شکل میں) تمام جانوں کی روح قبض کرلیتا ہے۔ پھر جو روحیں اللہ کے پاس ہوتے ہوئے خواب دیکھتی ہیں وہ سچے خواب ہوتے ہیں۔ تو شیاطین ہوا میں ان سے ملتے اور ان سے جھوٹ بولتے ہیں اور باطل خبریں سناتے ہیں تو پس وہ جھوٹے خواب ہوتے ہیں۔
حضرت عمر (رض) کو حضرت علی (رض) کے فرمان پر بہت تعجب ہوا (اور ان کی تحسین فرمائی) ۔ (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
تعجب کی بات ہے کہ کوئی شخص رات بسر کرتا ہے اور ایسی کوئی چیز (خواب میں) دیکھتا ہے جو کبھی اس کے دل میں گذری نہیں۔ لیکن وہ (اٹھتا ہے اور) اپنے خواب کو جیسے ہاتھ سے تھام لیتا ہے۔ اور کوئی شخص خواب دیکھتا ہے تو اس کا خواب کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا :
یا امیر المومنین ! کیا میں اس کی حقیقت نہ بتاؤں ! درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علھا الموت و یرسل الاخری الی اجل مسمی۔ الزمر : 42
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روح قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کردیتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں وک ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : (نیند کی شکل میں) تمام جانوں کی روح قبض کرلیتا ہے۔ پھر جو روحیں اللہ کے پاس ہوتے ہوئے خواب دیکھتی ہیں وہ سچے خواب ہوتے ہیں۔ تو شیاطین ہوا میں ان سے ملتے اور ان سے جھوٹ بولتے ہیں اور باطل خبریں سناتے ہیں تو پس وہ جھوٹے خواب ہوتے ہیں۔
حضرت عمر (رض) کو حضرت علی (رض) کے فرمان پر بہت تعجب ہوا (اور ان کی تحسین فرمائی) ۔ (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
4580- عن سليم بن عامر أن عمر بن الخطاب قال: "العجب من رؤيا الرجل أنه يبيت فيرى الشيء لم يخطر له على بال، فتكون رؤياه كأخذ باليد، ويرى الرجل الرؤيا فلا تكون رؤياه شيئا، فقال علي بن أبي طالب: أفلا أخبرك بذاك يا أمير المؤمنين؟ إن الله تعالى يقول: {اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} فالله يتوفى الأنفس كلها فما رأت وهي عنده في السماء فهي الرؤيا الصادقة، وما رأت إذا أرسلت إلى أجسادها تلقتها الشياطين في الهواء فكذبتها وأخبرتها بالأباطيل فكذبت فيها، فعجب عمر من قوله. "ابن أبي حاتم وابن مردويه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4581: ۔۔ ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دریافت فرمایا : کون سی آیت سب سے زیادہ وسعت والی ہے ؟ تو لوگ ایک ایک دوسرے سے اس کے بارے میں کچھ کچھ کہنے لگے، کسی نے کہا :
ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔ جس نے برا عمل کیا یا اپنی جان پر ظلم کیا پھر اللہ سے بخشش مانگی تو وہ اللہ کو مغفرت کرنے والا پائے گا۔
الغفرض لوگ اس طرح کی آیات بتانے لگے۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : قرآن میں اس سے زیادہ وسعت والی آیت کوئی نہیں :
یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔
اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔ رواہ ابن جریر۔
ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔ جس نے برا عمل کیا یا اپنی جان پر ظلم کیا پھر اللہ سے بخشش مانگی تو وہ اللہ کو مغفرت کرنے والا پائے گا۔
الغفرض لوگ اس طرح کی آیات بتانے لگے۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : قرآن میں اس سے زیادہ وسعت والی آیت کوئی نہیں :
یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔
اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔ رواہ ابن جریر۔
4581- عن ابن سيرين قال علي: "أي آية أوسع؟ فجعلوا يذكرون آيات القرآن {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ} الآية ونحوها، فقال علي ما في القرآن أوسع من: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا} " الآية. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزمر
4582: ۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے : فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کا مطلب دریافت کیا :
لہ مقالید السموات والارض۔ الزمر۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
آسمان و زمین کی چابیاں
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا :
اے عثمان ! تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ آسمانوں اور زمین کی چابیاں یہ کلمات ہیں :
لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، و سبحان اللہ، والحمد للہ، واستغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الاول والآخر والظاھر والباطن، یحییٰ و یمیت وھو حی لا یموت، بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر۔
اے عثمان ! جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے، اس کو دس خصلتیں (خوبیاں) عطا کی جائیں گی۔
پہلی اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
دوسری جہنم کی آگ سے اس کے لیے آزادی لکھ دی جائے گی۔
تیسری دو فرشتے نگہبان اس پر مقرر کردیے جائیں گے، جو دن و رات تمام آفات اور بلیات سے اس کی حفاظت کریں گے۔
چوتھی اس کو ایک قنطار (ہزار اوقیہ) اجر عطا کیا جائے گا۔
پانچویں اس شخص کا اجر اس کو ملے گا جس نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سو غلام آزاد کیے۔
چھٹی اس کو ایسا اجر ملے گا گویا اس نے توراۃ ، انجیل ، زبور اور قرآن پڑھ لیے۔
ساتویں اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔
آٹھویں حور عین سے اس کی شادی کردی جائے گی۔
نویں اس کے سر پر وقار کا تاج پہنا دیا جائے گا۔
دسویں یہ کہ اس کے گھر کے افراد میں سے ستر افراد کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اے عثمان ! اگر ہوسکے تو زندگی میں کسی دن یہ کلمات فوت نہ ہونے دینا۔ تو ان کی بدولت کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مل جائے گا اور اولین و آخرین کو پالے گا۔ (ابن مردویہ، اوب یعلی و ابن ابی عاصم و ابو الحسن القطان فی الطولات، السنن لیوسف القاضی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن السنی، عقیلی فی الضعفاء، البیہقی فی الاسماء والصفات) ۔
یہی روایت دوسرے الفاظ میں یوں منقول ہوئی ہے :
جس شخص نے یہ کلمات صبح و شام دس دس بار کہے اس کو چھ خصلتیں (خوبیاں) عطا کی جائیں گی۔
پہلی ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت کردی جائے گی۔
دوسری ایک قنطار اجر اس کو دیا جائے گا۔
تیسری ایک درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا۔
تیسری ایک درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا۔
چوتھی حور عین سے اس کی شادی کردی جائے گی۔
پانچویں اس کے پاس بارہ ہزار اور ایک روایت میں بارہ فرشتے حاضر ہوں گے۔
اور چھٹے یہ کہ اس کو اس شخص کا اجر ہوگا جس نے توراۃ ، انجیل، زبور اور قرآن پاک کی تلاوت کی۔
اور اے عثمان ! اس کے ساتھ اس کو اس شخص کا اجر ہوگا جس نے حج اور عمرہ کیا اور دونوں مقبول ہوگئے۔ اور اگر وہ شخص اسی دن مرگیا تو شہداء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
کلام : ۔۔۔ امام عقیلی (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں نظر ہے۔ امام منذری (رح) فرماتے ہیں اس میں نکارت ہے۔ جبکہ امام الجوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی (رح)۔ میزان میں فرماتے ہیں : میرے خیال میں یہ روایت موضوع (خود ساختہ) ہے۔ امام ابو خیری (رح) فرماتے ہیں اس کے متعلق موضوع ہونے کا کلام کچھ بعید نہیں۔ کنز العمال ج 2 ص 493 ۔
لہ مقالید السموات والارض۔ الزمر۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
آسمان و زمین کی چابیاں
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا :
اے عثمان ! تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ آسمانوں اور زمین کی چابیاں یہ کلمات ہیں :
لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، و سبحان اللہ، والحمد للہ، واستغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الاول والآخر والظاھر والباطن، یحییٰ و یمیت وھو حی لا یموت، بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر۔
اے عثمان ! جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے، اس کو دس خصلتیں (خوبیاں) عطا کی جائیں گی۔
پہلی اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
دوسری جہنم کی آگ سے اس کے لیے آزادی لکھ دی جائے گی۔
تیسری دو فرشتے نگہبان اس پر مقرر کردیے جائیں گے، جو دن و رات تمام آفات اور بلیات سے اس کی حفاظت کریں گے۔
چوتھی اس کو ایک قنطار (ہزار اوقیہ) اجر عطا کیا جائے گا۔
پانچویں اس شخص کا اجر اس کو ملے گا جس نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سو غلام آزاد کیے۔
چھٹی اس کو ایسا اجر ملے گا گویا اس نے توراۃ ، انجیل ، زبور اور قرآن پڑھ لیے۔
ساتویں اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔
آٹھویں حور عین سے اس کی شادی کردی جائے گی۔
نویں اس کے سر پر وقار کا تاج پہنا دیا جائے گا۔
دسویں یہ کہ اس کے گھر کے افراد میں سے ستر افراد کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اے عثمان ! اگر ہوسکے تو زندگی میں کسی دن یہ کلمات فوت نہ ہونے دینا۔ تو ان کی بدولت کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مل جائے گا اور اولین و آخرین کو پالے گا۔ (ابن مردویہ، اوب یعلی و ابن ابی عاصم و ابو الحسن القطان فی الطولات، السنن لیوسف القاضی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن السنی، عقیلی فی الضعفاء، البیہقی فی الاسماء والصفات) ۔
یہی روایت دوسرے الفاظ میں یوں منقول ہوئی ہے :
جس شخص نے یہ کلمات صبح و شام دس دس بار کہے اس کو چھ خصلتیں (خوبیاں) عطا کی جائیں گی۔
پہلی ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت کردی جائے گی۔
دوسری ایک قنطار اجر اس کو دیا جائے گا۔
تیسری ایک درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا۔
تیسری ایک درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا۔
چوتھی حور عین سے اس کی شادی کردی جائے گی۔
پانچویں اس کے پاس بارہ ہزار اور ایک روایت میں بارہ فرشتے حاضر ہوں گے۔
اور چھٹے یہ کہ اس کو اس شخص کا اجر ہوگا جس نے توراۃ ، انجیل، زبور اور قرآن پاک کی تلاوت کی۔
اور اے عثمان ! اس کے ساتھ اس کو اس شخص کا اجر ہوگا جس نے حج اور عمرہ کیا اور دونوں مقبول ہوگئے۔ اور اگر وہ شخص اسی دن مرگیا تو شہداء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
کلام : ۔۔۔ امام عقیلی (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں نظر ہے۔ امام منذری (رح) فرماتے ہیں اس میں نکارت ہے۔ جبکہ امام الجوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی (رح)۔ میزان میں فرماتے ہیں : میرے خیال میں یہ روایت موضوع (خود ساختہ) ہے۔ امام ابو خیری (رح) فرماتے ہیں اس کے متعلق موضوع ہونے کا کلام کچھ بعید نہیں۔ کنز العمال ج 2 ص 493 ۔
4582- عن عثمان بن عفان قال: "سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الله عز وجل: {لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} فقال لي: "يا عثمان لقد سألتني عن مسألة لم يسألني عنها أحد قبلك، مقاليد السموات والأرض: لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله، وأستغفر الله الذي لا إله إلا هو الأول والآخر والظاهر والباطن، يحي ويميت وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شيء قدير، يا عثمان من قالها في كل يوم مائة مرة أعطي بها عشر خصال، أما أولها: فيغفر له ما تقدم من ذنوبه، وأما الثانية: فيكتب له براءة من النار، وأما الثالثة: فيوكل به ملكان يحفظانه في ليله ونهاره من الآفات والعاهات، وأما الرابعة: فيعطى قنطارا من الأجر، وأما الخامسة: فيكون له أجر من أعتق مائة رقبة محررة من ولد إسماعيل عليه السلام، وأما السادسة؟وأما السابعة: فيبني له بيت في الجنة، وأما الثامنة: فيزوج من الحور العين، وأما التاسعة: فيعقد على رأسه تاج الوقار، وأما العاشرة: فيشفع في سبعين رجلا من أهل بيته، يا عثمان إن استطعت فلا تفوتنك يوما من الدهر تفز مع الفائزين، وتسبق بها الأولين والآخرين". "ابن مردويه ورواه ع وابن أبي عاصم وأبو الحسن القطان في الطوالات ويوسف القاضي في سننه وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن السني عق والبهقي في الأسماء والصفات" بلفظ من قالها إذا أصبح وإذا أمسى عشر مرات أعطي ست خصال، أما أولهن: فيحرس من إبليس وجنوده، وأما الثانية: فيعطى قنطارا من الأجر، وأما الثالثة: فترفع له درجة في الجنة، وأما الرابعة: فيزوج من الحور العين، وأما الخامسة: فيحضرها اثنا عشر ألف ملك وفي رواية إثنا عشر ملكا، وأما السادسة: فله من الأجر كمن قرأ التوراة والإنجيل والزبور والفرقان، وله مع هذا يا عثمان من الأجر كمن حج واعتمر فقبلت حجته وعمرته، وإن مات من يومه طبع بطابع الشهداء قال: عق في إسناده نظر، وقال المنذري فيه نكارة. وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وقال في الميزان هذا موضوع فيما أرى، وقال البوصيري قد قيل إنه موضوع قال وليس ببعيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المؤمن
4583: ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابو اسحاق (رح) سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : کیا مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت پڑھی :
غافر الذنوب و قابل التوب۔ الزمر
(اللہ ) گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عبد بن حمید۔
غافر الذنوب و قابل التوب۔ الزمر
(اللہ ) گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عبد بن حمید۔
4583- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي إسحاق قال: أتى رجل عمر فقال: "لقاتل المؤمن توبة؟ ثم قرأ: {غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ} ". "عبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المؤمن
4584: ۔۔ (علی (رض)) ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ومنہم من لم نقصص علیک۔ الزمر
اور ان میں سے کچھ (نبی ایسے ہیں) جن کو ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی غلام کو نبی بنا کر بھیجا تھا وہ انہی انبیاء میں سے تھا جن کے حالات محمد پر نہیں بیان کیے گئے۔ الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ۔
ومنہم من لم نقصص علیک۔ الزمر
اور ان میں سے کچھ (نبی ایسے ہیں) جن کو ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی غلام کو نبی بنا کر بھیجا تھا وہ انہی انبیاء میں سے تھا جن کے حالات محمد پر نہیں بیان کیے گئے۔ الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ۔
4584- "علي" عن علي في قوله تعالى: {وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ} قال: "بعث الله عبدا حبشيا نبيا، فهو ممن لم يقصص على محمد". "طس وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فصلت
4585: ۔۔ (مسند ابی بکر صدیق (رض)) سعد بن عمران سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد خداوندی :
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا ۔۔ الزمر : 30
بےشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ٹھہر گئے۔
کے متعلق ارشاد فرمایا کہ استقامت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ ابن المبارک فی الزھد، عبدالرزاق، الفریابی، سعد بن منصور، مسدد، ابن سعد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، رستہ فی الایمان۔
زیادہ بہتر روایت کا مرفوع ہونا ہے کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر نہ فرماتے تھے۔
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا ۔۔ الزمر : 30
بےشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ٹھہر گئے۔
کے متعلق ارشاد فرمایا کہ استقامت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ ابن المبارک فی الزھد، عبدالرزاق، الفریابی، سعد بن منصور، مسدد، ابن سعد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، رستہ فی الایمان۔
زیادہ بہتر روایت کا مرفوع ہونا ہے کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر نہ فرماتے تھے۔
4585- "من مسند أبي بكر الصديق رضي الله عنه" عن سعد بن عمران عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه في قول الله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا} قال: "الاستقامة أن لا يشركوا بالله شيئا". "ابن المبارك في الزهد، وعبد الرزاق والفريابي وسعيد بن منصور ومسدد وابن سعد وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ورسته في الإيمان، وهذا يشبه أن يكون مرفوعا لأن أبا بكر ما كان يفسر القرآن بالرأي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فصلت
4586: ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا ۔ الزمر 30
جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے۔
حضرت عمر (رض) اس کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ (ایمان پر) قائم رہے اور لومڑی کی مانند ادھر ادھر نہ پھرے (السنن لسعید بن منصور، ابن المبارک، الزھد للامام احمد، عبد بن حمید، الحاکم، ابن المنذر، رستہ فی الایمان، الصابونی فی الماتین)
جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے۔
حضرت عمر (رض) اس کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ (ایمان پر) قائم رہے اور لومڑی کی مانند ادھر ادھر نہ پھرے (السنن لسعید بن منصور، ابن المبارک، الزھد للامام احمد، عبد بن حمید، الحاکم، ابن المنذر، رستہ فی الایمان، الصابونی فی الماتین)
4586- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر في قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا} قال: "استقاموا لله بطاعته، ثم لم يروغوا روغان الثعلب". "ص وابن المبارك حم في الزهد وعبد بن حميد والحاكم وابن المنذر ورسته في الإيمان والصابوني في المأتين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فصلت
4587: ۔۔ عبدالقدوس حضرت نافع (رح) عن عمر (رض) کی سند سے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمان باری تعالیٰ :
وقالوا قلوبنا فی اکنۃ ممن تدعونا الیہ۔ فصلت : 5
اور کہنے لگے : کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ کے (شان نزول) کے متعلق فرماتے ہیں۔
ایک مرتبہ قریش اکٹھے ہو کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہو کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : تمہیں اسلام قبول کرنے سے کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ حالانکہ تم اسلام کی بدولت عرب کے سردار بن جاؤگے۔ مشرکین کہنے لگے : جو آپ کہہ رہے وہ ہماری سمجھ میں آتا ہی نہیں۔ اور نہ ہم کو وہ سنائی دیتا ہے۔ بلکہ ہمارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر ابوجہل نے کپڑا لے کر اپنے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان تان لیا۔ اور کہنے لگا : اے محمد ! ہمارے دل پردے میں ہیں اس سے جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو۔ اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم کو دو باتوں کی طرف بلاتا ہوں یہ کہ تم شہادت دیدو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہاء ہے اس کا کوئی ساتھی نہیں۔ اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جب انھوں نے لا الہ الا اللہ کی شہادت سنی تو نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر چل دیے اور کہنے لگے کہ کیا تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنالیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ پھر وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے چلو اور صبر کرو اپنے ہی معبودوں پر یہ تو ایسی چیز مانگی جاتی ہے جو آخرت ملت (نصرانیت) میں بھی نہیں تھی۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟
پھر جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہنے لگے : اے محمد ! اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ کیا خیال کرتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ ہے اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے پس وہ آپ کی بات نہیں سنتے یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ جب آپ قرآن میں اللہ یکا کا ذکر کرتے ہیں تو نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، اگر وہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو اللہ کا یکتا ذکر سن کر نہ بھاگتے درحقیقت یہ لوگ سنتے تو ہیں لیکن اس سے نفع نہیں اٹھاسکتے کیونکہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں چنانچہ جب اگلا دن ہوا تو انہی میں سے ستر افراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہم پر اسلام پیش کیجیے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر اسلام پیش کیا تو وہ سب کے سب اسلام لے آئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خوشی سے) مسکرائے اور اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا : کل تو تمہارا خیال تھا کہ تمہارے دلوں پر تالا پڑا ہوا ہے اور تمہارے دل پر پردے ہیں اس چیز سے جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں۔ اور تمہارے کانوں میں بوجھ ہے۔ اور (الحمد للہ) آج تم مسلمان ہوگئے ہو۔ وہ لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم کل کو جھوٹ بول رہے تھے۔ اللہ کی قسم اگر وہ سچ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاسکتے تھے۔ لیکن اللہ پاک ہی سچا ہے اور بندے اس پر جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ غنی ہے اور ہم فقیر ۔ (ابو سہل السری بن سہل اجندی سابوری فی الخامس من حدیثہ)
وقالوا قلوبنا فی اکنۃ ممن تدعونا الیہ۔ فصلت : 5
اور کہنے لگے : کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ کے (شان نزول) کے متعلق فرماتے ہیں۔
ایک مرتبہ قریش اکٹھے ہو کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہو کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : تمہیں اسلام قبول کرنے سے کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ حالانکہ تم اسلام کی بدولت عرب کے سردار بن جاؤگے۔ مشرکین کہنے لگے : جو آپ کہہ رہے وہ ہماری سمجھ میں آتا ہی نہیں۔ اور نہ ہم کو وہ سنائی دیتا ہے۔ بلکہ ہمارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر ابوجہل نے کپڑا لے کر اپنے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان تان لیا۔ اور کہنے لگا : اے محمد ! ہمارے دل پردے میں ہیں اس سے جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو۔ اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم کو دو باتوں کی طرف بلاتا ہوں یہ کہ تم شہادت دیدو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہاء ہے اس کا کوئی ساتھی نہیں۔ اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جب انھوں نے لا الہ الا اللہ کی شہادت سنی تو نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر چل دیے اور کہنے لگے کہ کیا تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنالیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ پھر وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے چلو اور صبر کرو اپنے ہی معبودوں پر یہ تو ایسی چیز مانگی جاتی ہے جو آخرت ملت (نصرانیت) میں بھی نہیں تھی۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟
پھر جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہنے لگے : اے محمد ! اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ کیا خیال کرتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ ہے اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے پس وہ آپ کی بات نہیں سنتے یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ جب آپ قرآن میں اللہ یکا کا ذکر کرتے ہیں تو نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، اگر وہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو اللہ کا یکتا ذکر سن کر نہ بھاگتے درحقیقت یہ لوگ سنتے تو ہیں لیکن اس سے نفع نہیں اٹھاسکتے کیونکہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں چنانچہ جب اگلا دن ہوا تو انہی میں سے ستر افراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہم پر اسلام پیش کیجیے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر اسلام پیش کیا تو وہ سب کے سب اسلام لے آئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خوشی سے) مسکرائے اور اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا : کل تو تمہارا خیال تھا کہ تمہارے دلوں پر تالا پڑا ہوا ہے اور تمہارے دل پر پردے ہیں اس چیز سے جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں۔ اور تمہارے کانوں میں بوجھ ہے۔ اور (الحمد للہ) آج تم مسلمان ہوگئے ہو۔ وہ لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم کل کو جھوٹ بول رہے تھے۔ اللہ کی قسم اگر وہ سچ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاسکتے تھے۔ لیکن اللہ پاک ہی سچا ہے اور بندے اس پر جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ غنی ہے اور ہم فقیر ۔ (ابو سہل السری بن سہل اجندی سابوری فی الخامس من حدیثہ)
4587- عن عبد القدوس عن نافع عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب في قوله تعالى: {وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ} الآية قال: "أقبلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لهم: ما يمنعكم من الإسلام فتسودوا العرب؟ فقالوا يا محمد: ما نفقه ما تقول، ولا نسمعه، وإن على قلوبنا لغلفا، قال وأخذ أبو جهل ثوبا فمد فيما بينه وبين النبي صلى الله عليه وسلم، فقال يا محمد: قلوبنا في أكنة مما تدعونا إليه، وفي آذاننا وقر، ومن بيننا وبينك حجاب، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: أدعوكم إلى خصلتين: أن تشهدوا أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأني رسول الله، فلما سمعوا شهادة أن لا إله إلا الله، ولوا على أدبارهم نفورا وقالوا: {أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهاً وَاحِداً إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} وقال بعضهم لبعض: {امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ} يعنون النصرانية {إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلاقٌ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا} وهبط جبريل، وقال يا محمد: إن الله يقرئك السلام، ويقول: أليس يزعم
هؤلاء أن على قلوبهم أكنة أن يفقهوه وفي آذانهم وقرا فليس يسمعون قولك، كيف وإذا ذكرت ربك في القرآن وحده ولوا على أدبارهم نفورا، لو كان كما زعموا لم ينفروا، ولكنهم كاذبون يسمعون ولا ينتفعون بذلك كراهية له".
قال: فلما كان من الغد أقبل منهم سبعون رجلا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا محمد أعرض علينا الإسلام، فلما عرض عليهم الإسلام أسلموا من آخرهم، فتبسم منهم النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال "الحمد لله، بالأمس تزعمون أن على قلوبكم غلفا، وقلوبكم أكنة مما ندعوكم إليه، وفي آذانكم وقر وأصبحتم اليوم مسلمين"، فقالوا يا رسول الله كذبنا والله بالأمس، لو كان كذلك ما اهتدينا أبدا ولكن الله الصادق، والعباد الكاذبون عليه، وهو الغني ونحن الفقراء". "أبو سهل السري بن سهل الجند يسابوري في الخامس من حديثه".
هؤلاء أن على قلوبهم أكنة أن يفقهوه وفي آذانهم وقرا فليس يسمعون قولك، كيف وإذا ذكرت ربك في القرآن وحده ولوا على أدبارهم نفورا، لو كان كما زعموا لم ينفروا، ولكنهم كاذبون يسمعون ولا ينتفعون بذلك كراهية له".
قال: فلما كان من الغد أقبل منهم سبعون رجلا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا محمد أعرض علينا الإسلام، فلما عرض عليهم الإسلام أسلموا من آخرهم، فتبسم منهم النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال "الحمد لله، بالأمس تزعمون أن على قلوبكم غلفا، وقلوبكم أكنة مما ندعوكم إليه، وفي آذانكم وقر وأصبحتم اليوم مسلمين"، فقالوا يا رسول الله كذبنا والله بالأمس، لو كان كذلك ما اهتدينا أبدا ولكن الله الصادق، والعباد الكاذبون عليه، وهو الغني ونحن الفقراء". "أبو سهل السري بن سهل الجند يسابوري في الخامس من حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فصلت
4588: ۔۔ فرمان الہی ہے :
ربنا ارنا الذین اضلانا۔ فصلت : 29 ۔
پروردگار ! جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جنوں اور انسانوں میں سے یہ دو گمراہ کرنے والے ابلیس اور آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ (عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم)
ربنا ارنا الذین اضلانا۔ فصلت : 29 ۔
پروردگار ! جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جنوں اور انسانوں میں سے یہ دو گمراہ کرنے والے ابلیس اور آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ (عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم)
4588- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {رَبَّنَا أَرِنَا الَّذَيْنِ أَضَلَّانَا} قال: "إبليس وابن آدم الذي قتل أخاه". "عب والفريابي ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الشوری
4589: ۔۔ (عثمان (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا گیا کہ : لہ مقالید السموات والارض۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا گیا کہ : لہ مقالید السموات والارض۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
سبحان اللہ والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر۔ آسمانوں اور زمین کی چابی ہے کو اللہ نے اپنے لیے، اپنے ملائکہ کے لیے ، اپنے انبیاء کے لیے اپنے رسولوں کے لیے اور تمام نیک مخلوق کے لیے پسند کیا ہے۔ الحارث، ابن مردویہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں حکیم بن نافع اور عبدالرحمن بن واقد دونوں ضعیف راوی ہیں۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا گیا کہ : لہ مقالید السموات والارض۔
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
سبحان اللہ والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر۔ آسمانوں اور زمین کی چابی ہے کو اللہ نے اپنے لیے، اپنے ملائکہ کے لیے ، اپنے انبیاء کے لیے اپنے رسولوں کے لیے اور تمام نیک مخلوق کے لیے پسند کیا ہے۔ الحارث، ابن مردویہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں حکیم بن نافع اور عبدالرحمن بن واقد دونوں ضعیف راوی ہیں۔
4589- "عثمان رضي الله عنه" عن أبي هريرة قال: سئل عثمان بن عفان عن مقاليد السموات والأرض؟ فقال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، مقاليد السموات والأرض، ولا حول ولا قوة إلا بالله من كنوز العرش، ارتضاه لنفسه وملائكته وأنبيائه ورسله وصالح خلقه". "الحارث وابن مردويه" وفيه حكيم بن نافع وعبد الرحمن بن واقد ضعيفان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الشوری
4590: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ نے ایک آیت کی تلاوت فرمائی پھر اس کی تفسیر بیان فرمائی اور مجھے اس کے بدلے دنیا و ما فیہا کامل جانا بھی پسند نہیں ۔ وہ آیت ہے :
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ شوری : 30)
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہو سو تمہارے اپنے فعلوں سے (ہے) اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کو اللہ نے دنیا میں کسی گناہ کی سزا دیدی تو اللہ پاک ایسے کریم ہیں کہ آخرت میں دوبارہ اس گناہ کی سزا نہیں دیں گے۔ اور اللہ پاک دنیا میں جس گناہ کو معاف کردیں تو اللہ پاک ایسے نہیں ہیں کہ دنیا میں تو اس گناہ کو معاف کردیں اور آخرت میں اس پر پکڑ فرمائیں گے۔ ابن راہویہ، ابن مردویہ۔
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ شوری : 30)
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہو سو تمہارے اپنے فعلوں سے (ہے) اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کو اللہ نے دنیا میں کسی گناہ کی سزا دیدی تو اللہ پاک ایسے کریم ہیں کہ آخرت میں دوبارہ اس گناہ کی سزا نہیں دیں گے۔ اور اللہ پاک دنیا میں جس گناہ کو معاف کردیں تو اللہ پاک ایسے نہیں ہیں کہ دنیا میں تو اس گناہ کو معاف کردیں اور آخرت میں اس پر پکڑ فرمائیں گے۔ ابن راہویہ، ابن مردویہ۔
4590- "علي رضي الله عنه" عن علي قال "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قرأ آية ثم فسرها، وما أحب أن لي بها الدنيا وما فيها: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} ثم قال: "من أخذه الله بذنبه في الدنيا فالله أكرم أن يعيده عليه في الآخرة، وما عفا الله عنه في الدنيا؛ فالله أكرم من أن يعفو عنه في الدنيا ويأخذ منه في الآخرة". "ابن راهويه ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الشوری
4591: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : کیا میں کتاب اللہ کی افضل آیت نہ بتاؤں جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہے وہ ہے :
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ شوری : 30
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے ہے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اس کی تفسیر بتاؤں گا۔
پھر فرمایا : اے علی ! تم کو دنیا میں جو مصیبت کا مرض پیش آتا ہے یا جو سزا ملتی ہے تو اللہ اس بات سے کریم (اور سخی) ہے کہ آخرت میں دوبارہ سزا دے۔ اور جس گناہ کو اللہ پاک دنیا میں معاف کردیں تو وہ زیادہ بردبار ہیں اور ایک روایت میں وہ زیادہ عظمت والے ہیں کہ اس کو معاف کرنے کے بعد دوبارہ اس پر پکڑ فرمائیں۔ مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن منیع، عبد بن حمید، الحکیم، مسند ابی یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم۔
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ شوری : 30
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے ہے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اس کی تفسیر بتاؤں گا۔
پھر فرمایا : اے علی ! تم کو دنیا میں جو مصیبت کا مرض پیش آتا ہے یا جو سزا ملتی ہے تو اللہ اس بات سے کریم (اور سخی) ہے کہ آخرت میں دوبارہ سزا دے۔ اور جس گناہ کو اللہ پاک دنیا میں معاف کردیں تو وہ زیادہ بردبار ہیں اور ایک روایت میں وہ زیادہ عظمت والے ہیں کہ اس کو معاف کرنے کے بعد دوبارہ اس پر پکڑ فرمائیں۔ مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن منیع، عبد بن حمید، الحکیم، مسند ابی یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم۔
4591- عن علي قال: "ألا أخبركم بأفضل آية في كتاب الله تعالى؟ حدثني بها رسول الله صلى الله عليه وسلم: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: سأفسرها
لك يا علي {مَا أَصَابَكُمْ} في الدنيا من بلاء أو مرض أو عقوبة فالله أكرم من أن يثني عليكم العقوبة في الآخرة، وما عفا الله عنه في الدنيا فالله أحلم، وفي لفظ: أجل من أن يعود بعد عفوه". "عم وابن منيع عبد بن حميد والحكيم ع وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك".
لك يا علي {مَا أَصَابَكُمْ} في الدنيا من بلاء أو مرض أو عقوبة فالله أكرم من أن يثني عليكم العقوبة في الآخرة، وما عفا الله عنه في الدنيا فالله أحلم، وفي لفظ: أجل من أن يعود بعد عفوه". "عم وابن منيع عبد بن حميد والحكيم ع وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك".
তাহকীক: