কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৫৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحزاب
4552: ۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں۔ اس شخص سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) تم سے نفرت کرتے ہیں ؟ اسی طرح بہت سے لوگوں نے اس کو یہ بات کہی ۔ آخر وہ تنگ ہو کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :
اے عمر ! بتاؤ میں نے اسلام میں کوئی پھوٹ ڈالی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا میں نے کوئی جرم کیا ہے ؟ فرمایا نہیں۔ پوچھا کیا میں نے کوئی شے ایجاد کی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ آخر اس شخص نے پوچھا : پھر آپ مجھ سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
الذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بہتانا واثما مبینا۔ الاحزاب : 58
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی (تہمت) دیں جو انھوں نے نہ کیا ہو ایذاء دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔
پھر اس شخص نے کہا : اے عمر ! تو نے بھی مجھے اذیت دی ہے اللہ بھی تیری مغفرت نہ کرے۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم ! اس نے پھوٹ ڈالی، نہ جرم کیا، نہ بدعت ایجاد کی، پس اے فلاں ! مجھے اللہ معاف کردے۔ اس طرح حضرت عمر (رض) (امیر المومنین) اس شخص کے ساتھ چمٹے رہے حتی کہ اس نے آپ کو معاف کردیا۔ ابن المنذر۔
اے عمر ! بتاؤ میں نے اسلام میں کوئی پھوٹ ڈالی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا میں نے کوئی جرم کیا ہے ؟ فرمایا نہیں۔ پوچھا کیا میں نے کوئی شے ایجاد کی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ آخر اس شخص نے پوچھا : پھر آپ مجھ سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
الذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بہتانا واثما مبینا۔ الاحزاب : 58
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی (تہمت) دیں جو انھوں نے نہ کیا ہو ایذاء دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔
پھر اس شخص نے کہا : اے عمر ! تو نے بھی مجھے اذیت دی ہے اللہ بھی تیری مغفرت نہ کرے۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم ! اس نے پھوٹ ڈالی، نہ جرم کیا، نہ بدعت ایجاد کی، پس اے فلاں ! مجھے اللہ معاف کردے۔ اس طرح حضرت عمر (رض) (امیر المومنین) اس شخص کے ساتھ چمٹے رہے حتی کہ اس نے آپ کو معاف کردیا۔ ابن المنذر۔
4552- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب قال: إني لأبغض فلانا فقيل للرجل ما شأن عمر يبغضك، فلما كثر القوم في الدار جاء فقال يا عمر أفتقت في الإسلام فتقا؟ قال لا، قال فجنيت جناية؟ قال لا، قال أحدثت حدثا؟ قال لا، قال فعلام تبغضني؟ وقال الله: {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَإِثْماً مُبِيناً} فقد آذيتني فلا غفرها الله لك، فقال عمر: صدق والله ما فتق فتقا، ولا، ولا فاغفرها لي، فلم يزل به حتى غفر له". "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحزاب
4553 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت میں اختیار دیا تھا نہ کہ طلاق کا اختیار دیا تھا۔ (مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل)
فائدہ : ۔۔ سورة الاحزاب کی آیت 28 اور 29 کی تفسیر میں حضرت علی (رض) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا ہے۔
فائدہ : ۔۔ سورة الاحزاب کی آیت 28 اور 29 کی تفسیر میں حضرت علی (رض) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا ہے۔
4553- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم: "خير نساءه الدنيا والآخرة ولم يخيرهن الطلاق". "عم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحزاب
4554: ۔۔ حضرت علی (رض) سے فرمان الہی :
ولا تکونوا کالذین آذوا موسیٰ۔ الاحزاب : 69 ۔
اور تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جن لوگوں نے (عیب لگا کر) موسیٰ کو رنج پہنچایا۔
کے متعلق وضاحت فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں جبل پر چڑھے وہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اجل آپہنچی اور وہ مرگئے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزم لگایا تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ وہ آپ سے زیادہ ہم سے محبت رکھتے تھے۔ اور وہ نرم مزاج انسان تھے۔ یوں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رنج پہنچایا۔
اللہ پاک نے ملائکہ کو حکم دیا۔ ملائکہ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لاشے کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس اس کے پاس لے گئے اور ملائکہ نے ان کے ساتھ حضرت ہارون کی اپنی آپ موت کی بات چیت کی تب ان کو یقین آیا کہ وہ اپنی موت آپ مرے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس الزام سے بری کردیا۔ جبکہ بنی اسرائیل نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے جسم کو لیا اور اس کو دفن کردیا۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قبر سب پر مخفی کردی۔ صرف گدھ کرگس پرندے کو معلوم ہے اور اللہ نے اس کو گونگا بہرہ کردیا ہے۔ (ابن منیع، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم)
فائدہ : ۔۔۔ انبیاء علیہم اپنی قبروں میں زندہ ہیں ان کے جسموں کو مٹی کھا سکتی ہے اور نہ کوئی اور شی ۔ اسی وجہ سے غیر محفوظ جگہوں میں جہاں انبیاء کی قبریں ہیں اللہ پاک نے ان کو مخفی کردیا ہے تاکہ ہر طرح سے محفوظ رہیں۔ اور جہاں معروف ہیں وہاں اللہ نے مضبوط محاورہ مقرر فرما دیے ہیں۔ اس وجہ سے اجسام انبیاء ہر طرح کی بےحرمتی سے بھی محفوظ ہیں۔
ولا تکونوا کالذین آذوا موسیٰ۔ الاحزاب : 69 ۔
اور تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جن لوگوں نے (عیب لگا کر) موسیٰ کو رنج پہنچایا۔
کے متعلق وضاحت فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں جبل پر چڑھے وہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اجل آپہنچی اور وہ مرگئے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزم لگایا تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ وہ آپ سے زیادہ ہم سے محبت رکھتے تھے۔ اور وہ نرم مزاج انسان تھے۔ یوں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رنج پہنچایا۔
اللہ پاک نے ملائکہ کو حکم دیا۔ ملائکہ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لاشے کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس اس کے پاس لے گئے اور ملائکہ نے ان کے ساتھ حضرت ہارون کی اپنی آپ موت کی بات چیت کی تب ان کو یقین آیا کہ وہ اپنی موت آپ مرے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس الزام سے بری کردیا۔ جبکہ بنی اسرائیل نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے جسم کو لیا اور اس کو دفن کردیا۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قبر سب پر مخفی کردی۔ صرف گدھ کرگس پرندے کو معلوم ہے اور اللہ نے اس کو گونگا بہرہ کردیا ہے۔ (ابن منیع، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم)
فائدہ : ۔۔۔ انبیاء علیہم اپنی قبروں میں زندہ ہیں ان کے جسموں کو مٹی کھا سکتی ہے اور نہ کوئی اور شی ۔ اسی وجہ سے غیر محفوظ جگہوں میں جہاں انبیاء کی قبریں ہیں اللہ پاک نے ان کو مخفی کردیا ہے تاکہ ہر طرح سے محفوظ رہیں۔ اور جہاں معروف ہیں وہاں اللہ نے مضبوط محاورہ مقرر فرما دیے ہیں۔ اس وجہ سے اجسام انبیاء ہر طرح کی بےحرمتی سے بھی محفوظ ہیں۔
4554- عن علي في قوله تعالى: {لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى} قال: "صعد موسى وهارون الجبل فمات هارون فقالت بنو إسرائيل لموسى أنت قتلته، كان أشد حبا لنا منك، وألين فآذوه، من ذلك فأمر الله ملائكته فحملته فمروا به على مجالس بني إسرائيل وتكلمت الملائكة بموته، حتى علموا بموته، فبرأه الله من ذلك، فانطلقوا به فدفنوه، ولم يعرف قبره إلا الرخم1 وإن الله جعله أصم أبكم". "ابن منيع وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا گیا
4555: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے فرمان الہی ہے :
و اذ اخذنا من النبیین میثاقہم و منک و من نوح و ابراہیم الخ۔ الاحزاب : 7
اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی ان سے پکا لیا۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سب پہلے نوح (علیہ السلام) سے عہد لیا اور ان کے بعد سب سے اول سے پھر سب سے اول سے (اس طرح اول فالاول) ۔ ابن ابی عاصم، السنن لسعید بن منصور۔
و اذ اخذنا من النبیین میثاقہم و منک و من نوح و ابراہیم الخ۔ الاحزاب : 7
اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی ان سے پکا لیا۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سب پہلے نوح (علیہ السلام) سے عہد لیا اور ان کے بعد سب سے اول سے پھر سب سے اول سے (اس طرح اول فالاول) ۔ ابن ابی عاصم، السنن لسعید بن منصور۔
4555- عن أبي بن كعب في قوله تعالى: {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ} قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أولهم نوح ثم الأول فالأول". "ابن أبي عاصم ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا گیا
4556: ۔۔ حضرت مکحول (رح) سے مروی ہے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا تھا (کہ دنیا اختیار کرلیں یا اللہ اور اس کے رسول کو جس کا ذکر احزاب کی 28 اور 29 آیات میں ہے) تو آپ کی بیویوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اللہ کو اختیار کرلیا تھا لہٰذا اس طرح طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ مصنف عبدالرزاق۔
4556- عن مكحول قال: "خير النبي صلى الله عليه وسلم نساءه فاخترنه فلم يكن ذلك طلاقا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا
4557: ۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا تو انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرلیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہی عورتوں پر صبر کیا جس کی وجہ سے اللہ نے ارشاد فرمایا :
لا یحل لک النساء من بعد الخ۔ الاحزاب : 52
(اے پیغمبر ! ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلو۔ خواہ ان کا حسن تم کو اچھا لگے۔ مگر جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے۔ (یعنی باندیاں جائز ہیں) (رواہ عبدالرزاق۔
لا یحل لک النساء من بعد الخ۔ الاحزاب : 52
(اے پیغمبر ! ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلو۔ خواہ ان کا حسن تم کو اچھا لگے۔ مگر جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے۔ (یعنی باندیاں جائز ہیں) (رواہ عبدالرزاق۔
4557- عن الحسن قال: "لما خير النبي صلى الله عليه وسلم نساءه فاخترن الله ورسوله، فصبر عليهن، فقال: {لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ} الآية. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا
4558: معمر (رح) زہری (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا :
ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختیار دیا تھا، ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرلیا۔ پس یہ طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
معمر کہتے ہیں مجھے کسی نے حسن (رح) سے خبر سنائی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا تھا نہ کہ طلاق کا۔ (رواہ عبدالرزاق)
ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختیار دیا تھا، ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرلیا۔ پس یہ طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
معمر کہتے ہیں مجھے کسی نے حسن (رح) سے خبر سنائی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا تھا نہ کہ طلاق کا۔ (رواہ عبدالرزاق)
4558- عن معمر عن الزهري قال قالت عائشة: "قد خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخترنا الله ورسوله، فلم يعد ذلك طلاقا، قال معمر: وأخبرني من سمع الحسن يقول: إنما خيرهن رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الدنيا والآخرة، ولم يخيرهن في الطلاق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة سبأ
4559: ۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :
ہر دن کی ایک نحوست ہوتی ہے، پس تم اس دن کی نحوست کو صدقہ کے ساتھ دفع کردیا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا : موضع خلف کو پڑھو۔ (پھر خود ہی موضع خلف کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا)
میں نے اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :
وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ۔ سبا : 39
اور جو چیز تم خرچ کروگے وہ اس کا عوض دیدے گا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اور جب تم خرچ نہیں کروگے تو اللہ تم کو اس کا عوض کیسے دے گا۔ رواہ ابن مردویہ۔
ہر دن کی ایک نحوست ہوتی ہے، پس تم اس دن کی نحوست کو صدقہ کے ساتھ دفع کردیا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا : موضع خلف کو پڑھو۔ (پھر خود ہی موضع خلف کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا)
میں نے اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :
وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ۔ سبا : 39
اور جو چیز تم خرچ کروگے وہ اس کا عوض دیدے گا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اور جب تم خرچ نہیں کروگے تو اللہ تم کو اس کا عوض کیسے دے گا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4559- "علي رضي الله عنه" عن علي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن لكل يوم نحسا، فادفعوا نحس ذلك اليوم بالصدقة، ثم قال: اقرؤوا موضع الخلف فإني سمعت الله تعالى يقول: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ} وإذا لم تنفقوا كيف يخلف؟ " "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة سبأ
4560: ۔۔ (مسند فردوس بن مسیک عظیفی ثم المرادی (رض)) فروہ غطیفی (رض) فرماتے ہیں میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی قوم کے پیٹھ دینے والوں سے قتال نہ کروں ان لوگوں کو لے کر جو ان میں سے سامنے آئیں۔ (اور میرے ساتھ مل جائیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ضرور کرو۔ فروہ کہتے ہیں پھر میرے دل میں یہ بات آئی اور میں نے عرض کیا : نہیں، وہ تو اہل سباء ہیں۔ وہ بڑی طاقت اور قوت والے ہیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کا حکم فرمایا اور ان سے لڑنے کی اجازت دی۔
چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلا تو اللہ پاک نے آپ پر (قوم) سبا کے بارے میں (سورة سبا کی صورت میں) نازل فرمایا جو نازل فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غطیفی نے کیا کیا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف بلانے والے کو بھیجا۔ قاصد نے مجھے دیکھا کہ میں سوار ہوچکا ہوں۔ پھر اس نے مجھے واپس چلنے کو کہا۔ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا تو آپ کو اپنے صحابہ (رض) کے درمیان بیٹھا ہوا پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھے) ارشاد فرمایا : (پہلے) قوم کو دعوت دو ۔ جو تمہاری دعوت قبول کرلیں تم (ان کا اسلام) قبول کرو اور جو انکار کریں تم ان پر جلدی نہ کرو حتی کہ مجھے آ کر بیان نہ کرو۔ پھر قوم میں سے ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ سبا کیا ہے ؟ کسی زمین کا نام ہے یا کسی عورت کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
سبا زمین ہے اور نہ کوئی عورت بلکہ سبا ایک مرد تھا۔ جس کے ہاں دس عرب لڑکے پیدا ہوئے۔ چھ دائیں طرف یمن اور اس کی اطراف میں سدھار گئے اور چار بائیں طرف ملک شام چلے گئے۔ چار جو ملک شام گئے وہ لخم، جذام، غسان اور عاملہ تھے۔ اور ملک یمن گئے وہ ازد، کندہ، حمیر، اشعریون، انمار اور مذحج تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! انما کون ہیں ؟ فرمایا : جن سے خثعم اور بجیلہ قبائل ہیں۔ (ابن سعد، مسند احمد، ابو داود، ترمذی حسن غریب، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم)
چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلا تو اللہ پاک نے آپ پر (قوم) سبا کے بارے میں (سورة سبا کی صورت میں) نازل فرمایا جو نازل فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غطیفی نے کیا کیا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف بلانے والے کو بھیجا۔ قاصد نے مجھے دیکھا کہ میں سوار ہوچکا ہوں۔ پھر اس نے مجھے واپس چلنے کو کہا۔ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا تو آپ کو اپنے صحابہ (رض) کے درمیان بیٹھا ہوا پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھے) ارشاد فرمایا : (پہلے) قوم کو دعوت دو ۔ جو تمہاری دعوت قبول کرلیں تم (ان کا اسلام) قبول کرو اور جو انکار کریں تم ان پر جلدی نہ کرو حتی کہ مجھے آ کر بیان نہ کرو۔ پھر قوم میں سے ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ سبا کیا ہے ؟ کسی زمین کا نام ہے یا کسی عورت کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
سبا زمین ہے اور نہ کوئی عورت بلکہ سبا ایک مرد تھا۔ جس کے ہاں دس عرب لڑکے پیدا ہوئے۔ چھ دائیں طرف یمن اور اس کی اطراف میں سدھار گئے اور چار بائیں طرف ملک شام چلے گئے۔ چار جو ملک شام گئے وہ لخم، جذام، غسان اور عاملہ تھے۔ اور ملک یمن گئے وہ ازد، کندہ، حمیر، اشعریون، انمار اور مذحج تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! انما کون ہیں ؟ فرمایا : جن سے خثعم اور بجیلہ قبائل ہیں۔ (ابن سعد، مسند احمد، ابو داود، ترمذی حسن غریب، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم)
4560- "مسند فروة بن مسيك الغطيفي1 ثم المرادي" أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله: ألا أقاتل من أدبر من قومي بمن أقبل منهم؟ فقال بلى، ثم بدا لي، فقلت يا رسول الله: لا بل هم أهل سبأ، هم أعز وأشد قوة، فأمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأذن لي في قتال سبأ، فلما خرجت من عنده أنزل الله في سبأ ما أنزل، فقال
رسول الله صلى الله عليه وسلم ما فعل الغطيفي؟ فأرسل إلى منزلي فوجدني قد سرت فردني فلما أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجدته قاعدا وحوله أصحابه، فقال: ادع القوم، فمن أجابك منهم فاقبل، ومن أبى فلا تعجل عليه حتى تحدث إلي، فقال رجل من القوم يا رسول الله ما سبأ أرض أو امرأة؟ قال: ليست بأرض ولا امرأة، ولكن رجل ولد عشرة من العرب، فأما ستة فتيامنوا، وأما أربعة فتشاءموا، فأما الذين تشاءموا: فلخم وجذام وغسان وعاملة، وأما الذين تيامنوا: فالأزد وكندة وحمير والأشعريون والأنمار ومذحج، فقال رجل يا رسول الله: وما أنمار، قال: هم الذين منهم خثعم وبجيلة "."ابن سعد حم د ت حسن غريب طب ك".
رسول الله صلى الله عليه وسلم ما فعل الغطيفي؟ فأرسل إلى منزلي فوجدني قد سرت فردني فلما أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجدته قاعدا وحوله أصحابه، فقال: ادع القوم، فمن أجابك منهم فاقبل، ومن أبى فلا تعجل عليه حتى تحدث إلي، فقال رجل من القوم يا رسول الله ما سبأ أرض أو امرأة؟ قال: ليست بأرض ولا امرأة، ولكن رجل ولد عشرة من العرب، فأما ستة فتيامنوا، وأما أربعة فتشاءموا، فأما الذين تشاءموا: فلخم وجذام وغسان وعاملة، وأما الذين تيامنوا: فالأزد وكندة وحمير والأشعريون والأنمار ومذحج، فقال رجل يا رسول الله: وما أنمار، قال: هم الذين منهم خثعم وبجيلة "."ابن سعد حم د ت حسن غريب طب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاطر
4561: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) اس آیت :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ کے مثل اپنی طرف ارشاد فرماتے تھے۔
ہمارے سابق تو سابق ہمیں ہی (جو نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں اور ہمارے میانہ رو نجات یافتہ ہیں اور ہمارے ظالم لوگ بھی اللہ کی بخشش حاصل کرلیں گے۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، البیہقی فی البعث)
فائدہ : ۔۔ حضرت عمر (رض) بسا اوقات کوئی بات ارشاد فرماتے تھے تو بالکل اسی کے موافق اللہ کا کلام نازل ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے حضرت عمر (رض) کو ملہم من اللہ بھی کہا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کو الہام ہوجاتا تھا ۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ خطاب کا فرزند عمر ہوتا۔ تو انہی موافقات عمر (رض) میں سے یہ آیت بھی ہے۔
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ کے مثل اپنی طرف ارشاد فرماتے تھے۔
ہمارے سابق تو سابق ہمیں ہی (جو نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں اور ہمارے میانہ رو نجات یافتہ ہیں اور ہمارے ظالم لوگ بھی اللہ کی بخشش حاصل کرلیں گے۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، البیہقی فی البعث)
فائدہ : ۔۔ حضرت عمر (رض) بسا اوقات کوئی بات ارشاد فرماتے تھے تو بالکل اسی کے موافق اللہ کا کلام نازل ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے حضرت عمر (رض) کو ملہم من اللہ بھی کہا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کو الہام ہوجاتا تھا ۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ خطاب کا فرزند عمر ہوتا۔ تو انہی موافقات عمر (رض) میں سے یہ آیت بھی ہے۔
4561- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب أنه كان إذا نزع1 بهذه الآية: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ} قال: "ألا إن سابقنا سابق، ومقتصدنا ناج، وظالمنا مغفور له". "ص ش وابن المنذر ق في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4562: ۔۔ ابو عثمان نہدی (رح) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ کو میں نے ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ہمارا سابق تو سابق ہے، ہمارا اعتدال سند نجات پا جانے والا ہے اور ہمارے ظالم کی مغفرت ہوجائے گی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32 پس ان میں سے کچھ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ ان میں سے میانہ رو ہیں اور کچھ نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ (العقیلی فی الضعفاء، ابن مردویہ، ابن لآل فی مکارم الاخلاق، الدیلمی)
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32 پس ان میں سے کچھ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ ان میں سے میانہ رو ہیں اور کچھ نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ (العقیلی فی الضعفاء، ابن مردویہ، ابن لآل فی مکارم الاخلاق، الدیلمی)
4562- عن أبي عثمان النهدي سمعت عمر بن الخطاب يقول على المنبر: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "سابقنا سابق ومقتصدنا ناج وظالمنا مغفور له"، وقرأ عمر: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} ". "عق وابن مردويه وابن لال في مكارم الأخلاق والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4563: میمون بن سیاہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ ان میں اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے۔
پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارا سابق تو سابق ہے اور ہمارا میانہ رو ناجی (نجات والا) اور ہمارا ظالم خدا کی بخشش پانے والا ہے۔ (البعث للبیہقی)
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں اس روایت میں میمون بن سیاہ اور حضرت عمر (رض) کے درمیان کا کوئی راوی متروک ہے۔
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ ان میں اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے۔
پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارا سابق تو سابق ہے اور ہمارا میانہ رو ناجی (نجات والا) اور ہمارا ظالم خدا کی بخشش پانے والا ہے۔ (البعث للبیہقی)
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں اس روایت میں میمون بن سیاہ اور حضرت عمر (رض) کے درمیان کا کوئی راوی متروک ہے۔
4563- عن ميمون بن سياه عن عمر أنه تلا هذه الآية: {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سابقنا سابق،
قلت: فكأن أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه يأتي برأيه بما يشبه ظاهر الآية ولا عجب فقد نزلت آيات توافق رأيه.
ومقتصدنا ناج، وظالمنا مغفور له". "ق في البعث" وقال: فيه إرسال بين ميمون بن سياه وبين عمر
قلت: فكأن أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه يأتي برأيه بما يشبه ظاهر الآية ولا عجب فقد نزلت آيات توافق رأيه.
ومقتصدنا ناج، وظالمنا مغفور له". "ق في البعث" وقال: فيه إرسال بين ميمون بن سياه وبين عمر
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4564: ۔۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) فرمان باری تعالیٰ :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات :
کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ہمارے سابق جہادی ہیں۔ ہمارے میانہ رو ہمارے شہری لوگ ہیں اور ہمارے ظالم بدو (دیہاتی) ہیں (جو دین سے نابلد رہتے ہیں) ۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ فی البعث۔
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات :
کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ہمارے سابق جہادی ہیں۔ ہمارے میانہ رو ہمارے شہری لوگ ہیں اور ہمارے ظالم بدو (دیہاتی) ہیں (جو دین سے نابلد رہتے ہیں) ۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ فی البعث۔
4564- عن عثمان بن عفان في قوله تعالى: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} قال: "ألا إن سابقنا أهل جهادنا ألا وإن مقتصدنا أهل حضرنا، ألا وإن ظالمنا أهل بدونا". "ص ش وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4565: حضرت اسامہ بن زید (رض) اللہ کے فرمان :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر : 32 ۔
کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل فرماتے ہیں : یہ سب اس امت کے (مسلمان) لوگ ہیں اور سب ہی جنت میں جائیں گے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن مردویہ، البیہقی فی البعث)
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر : 32 ۔
کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل فرماتے ہیں : یہ سب اس امت کے (مسلمان) لوگ ہیں اور سب ہی جنت میں جائیں گے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن مردویہ، البیہقی فی البعث)
4565- عن أسامة بن زيد في قوله تعالى: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كلهم من هذه الأمة وكلهم في الجنة". "ص وابن مردويه ق في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4566: حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
لوگوں کو تین اقسام میں کرکے اٹھایا جائے گا۔ اور یہ (تین اقسام) اللہ کے فرمان میں ہیں :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر : 32 ۔
پھر فرمایا : سابق بالخیرات (لوگوں میں آگے نکل جانے والا) تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائے گا۔ مقتصد (میانہ رو) سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور ظالم لنفسہ (اپنی جان پر گناہ کرکے ظلم کرنے والا) اللہ کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ رواہ الدیلمی۔
یہ سند مسند الفردوس للدیلمی کی روایت ہے۔
لوگوں کو تین اقسام میں کرکے اٹھایا جائے گا۔ اور یہ (تین اقسام) اللہ کے فرمان میں ہیں :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر : 32 ۔
پھر فرمایا : سابق بالخیرات (لوگوں میں آگے نکل جانے والا) تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائے گا۔ مقتصد (میانہ رو) سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور ظالم لنفسہ (اپنی جان پر گناہ کرکے ظلم کرنے والا) اللہ کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ رواہ الدیلمی۔
یہ سند مسند الفردوس للدیلمی کی روایت ہے۔
4566- عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يبعث الناس ثلاثة أصناف، وذلك في قول الله عز وجل: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} فالسابق بالخيرات يدخل الجنة بغير حساب والمقتصد يحاسب حسابا يسيرا، والظالم لنفسه يدخل الجنة برحمة الله". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار مسلمان کی نجات ہوگی
4567: ۔۔ (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ربانی :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر 32
کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
سابق اور مقتصد بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور ظالم لنفسہ سے آسان حساب لیا جائے گا پھر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (البیہقی فی البعث)
فائدہ : ۔۔ سورة فاطر کے باب میں یہ تمام احادیث اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔ جب کسی حدیث پر روایات کثرت کے ساتھ آجائیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ اس حدیث کی واقعی اصل ہے۔
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات۔ فاطر 32
کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
سابق اور مقتصد بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور ظالم لنفسہ سے آسان حساب لیا جائے گا پھر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (البیہقی فی البعث)
فائدہ : ۔۔ سورة فاطر کے باب میں یہ تمام احادیث اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔ جب کسی حدیث پر روایات کثرت کے ساتھ آجائیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ اس حدیث کی واقعی اصل ہے۔
4567- "أبو الدرداء" عن أبي الدرداء قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في قوله عز وجل: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} قال: "السابق والمقتصد يدخلان الجنة بغير حساب والظالم لنفسه يحاسب حسابا يسيرا، ثم يدخل الجنة". "ق في البعث". وقال: إذا كثرت الروايات في حديث ظهر أن للحديث أصلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الصافات
4568: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ فرمان باری تعالیٰ :
احشرو الذین ظلموا وازواجہم ۔ الصافات : 22
جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کی وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو۔
کا مفہوم ہے کہ ایک دوسرے کے ہم مثل مثلاً سود کھانے والے سود کھانے والوں کے ساتھ، زانی زانیوں کے ساتھ اور شراب پینے والے شراب پینے والوں کے ساتھجمع ہو کر آئیں گے، اسی طرح جنت میں جانے والے جنت میں اکٹھے جائیں گے اور جہنم میں جانے والے جہنم میں اکٹھے جائیں گے۔ (عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، الفریابی، ابن منیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، البیہقی فی البعث)
احشرو الذین ظلموا وازواجہم ۔ الصافات : 22
جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کی وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو۔
کا مفہوم ہے کہ ایک دوسرے کے ہم مثل مثلاً سود کھانے والے سود کھانے والوں کے ساتھ، زانی زانیوں کے ساتھ اور شراب پینے والے شراب پینے والوں کے ساتھجمع ہو کر آئیں گے، اسی طرح جنت میں جانے والے جنت میں اکٹھے جائیں گے اور جہنم میں جانے والے جہنم میں اکٹھے جائیں گے۔ (عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، الفریابی، ابن منیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، البیہقی فی البعث)
4568- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب في قوله تعالى: {احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ} قال: "أمثالهم الذين هم مثلهم يجيء أصحاب الربا مع أصحاب الربا، وأصحاب الزنا مع أصحاب الزنا، وأصحاب الخمر مع أصحاب الخمر، أزواج في الجنة، وأزواج في النار". "عب والفريابي ش وابن منيع وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك ق في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الصافات
4569: ۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : (ابراہیم (علیہ السلام) کے وہ بیٹوں میں سے) ذبح ہونے والے حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور۔
ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔
فائدہ : ۔۔ مشہور روایات اور کلام اللہ کے سیاق وسباق سے بداہۃ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں مثلا یہی آیات لیجیے جن کی تفسیر میں مذکورہ فرمان علی (رض) ارشاد ہوا : فرمان الہی ہے :
وقال انی ذاھب الی ربی سیہدین۔ رب ھب لی من الصالحین فبشرنہ بغلم حلیم فلما بلغ معہ السعی۔ الخ۔ (الصافات : 99 ۔ 102)
اور (ابراہیم (علیہ السلام)) بولے : کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔ اے پروردگار ! مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو) تو ہم نے ان کو نرم دل لڑکے کی خوش خبری سنائی۔ جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم علیہ السالم نے کہا کہ بیٹا میں خواب دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کررہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ انھوں نے کہا ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔ جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی اور ہم ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اولاد کی دعا مانگی اور خدا نے قبول کی اور وہی لڑکا قربانی کے لیے پیش کیا گیا۔ موجودہ توراۃ سے ثابت ہے کہ جو لڑکا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پیدا ہوا وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ اور اسی لیے ان کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ کیونکہ اسماعیل دو لفظوں سے مرکب ہے۔ سمع اور ایل۔ سمع کے معنی سننے کے اور ایل کے معنی خدا کے ہیں۔ یعنی خدا نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سن لی۔ توراۃ میں ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اسماعیل کے بارے میں میں نے تیری سن لی اس بناء پر آیت حاضرہ میں جس کا ذکر ہے وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ حضرت اسحق نہیں۔ اور ویسے بھی ذبح وغیرہ کا قصہ ختم کرنے کے بعد حضرت اسحق کی بشارت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ آگے آتا ہے :
وبشرناہ باسحق نبیا الخ۔ معلوم ہوا کہ " فبشرناہ بغلام حلیم " میں ان کے علاوہ کسی دوسرے لڑکے کی بشارت مذکور ہے۔ نیز اسحق کی بشارت دیتے ہوئے ان کے نبی بنائے جانے کی بھی خوشخبری دی گئی اور سورة ھود میں ان کے ساتھ ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کا مژدہ بھی سنایا گیا۔ جو حضرت اسحق کے بیٹے ہوں گے۔ ومن وراء اسحق یعقوب۔ (ھود : رکوع 7) پھر کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ حضرت اسحق ذبح ہوں۔ گویا نبی بنائے جانے اور اولاد عطا کیے جانے سے بیشتر ہی ذبح کردیے جائیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جن کے متعلق بشارت ولادت کے وقت نہ نبوت عطا فرمانے کا وعدہ ہوا نہ اولاد دیے جانے کا۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کی یادگار اور اس کی متعلقہ رسوم بنی اسماعیل میں برابر بطور وراثت منتقل ہوتی چلی آئیں ۔ اور آج بھی اسماعیل کی روحانی اولاد ہے۔ (جنہیں مسلمان کہتے ہیں) ان مقدس یادگاروں کی حامل ہے۔ مجودہ توراۃ میں تصریح ہے کہ قربانی کا مقام " مورا " یا " مریا " تھا۔ یہود و نصاری نے اس مقام کا پتہ چلانے میں بہت ہی دور از کا راحتمالات سے کام لیا ہے حالانکہ نہایت ہی اقرب اور بےتکلف بات یہ ہے کہ یہ مقام مروہ ہے جو کعبہ کے سامنے بالکل نزدیک واقع ہے اور جہاں سعی بن الصفا و المروۃ ختم کرکے معتمرین حلال ہوتے ہیں اور ممکن ہے " بلغ معہ السعی " میں اسی سعی کی طرف ایماء ہو موطا امام مالک کی ایک روایت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مروہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے۔ غالبا وہ اسی ابراہیم (علیہ السلام) وہ اسماعیل (علیہ السلام) کی قربان گاہ کی طرف اشارہ ہوگا ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ عموماً مکہ سے تین میل " منی " میں قربانی کرتے تھے۔ جیسے آج تک کی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل قربان گاہ " مروہ " تھی۔ پھر حجاج اور ذبائح کہ کثرت دیکھ کر منی تک وسعت دے دی گئی۔ قرآن کریم میں بھی " ھدیا بالغ الکعبۃ " اور " ثم محلہا الی البیت العتیق " فرمایا ہے جس سے کعبہ کا قرب ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
بہرحال قرائن و آثار یہی بتلاتے ہیں کہ " ذبیح اللہ " وہی اسماعیل (علیہ السلام) تھے جو مکہ میں آ کر رہے اور وہین ان کی نسل پھیلی۔ توراۃ میں یہ بھی تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا اور یہ مسلم ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عجیب بات یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں جس لڑکے کی بشارت ملی اسے " غلام حلیم " کہا گیا ہے۔ لیکن حضرت اسحق (علیہ السلام) کی بشارت جب فرشتوں نے ابتداء خدا کی طرف سے دی تو " غلام علیم " سے تعبیر کیا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے " حلیم " کا لفظ ان پر یا کسی اور نبی پر قرآن میں کہیں اطلاق نہیں کیا گیا۔ صرف اس لڑکے کو جس کی بشارت یہاں دی گئی اور اس کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ لقب عطا ہوا ہے " ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب " (ھود : رکوع : 7)
شاید اسی لیے سورة مریم میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو صادق الوعد فرمایا کہ ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین ۔ کے وعدہ کو کس طرح سچا کر دکھایا۔ بہرحال حلیم، صابر اور صادق الوعد کے القاب کے مصداق ایک ہی معلوم ہوتا ہے یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ۔ وکان عند ربہ مرضیا۔ سورة بقرہ میں تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان سے جو دعا نقل فرمائی اس میں یہ الفاظ بھی ہیں :
ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ بعینہ اسی مسلم کے تثنیہ کو۔ یہاں قربانی کے ذکر میں فلما اسلما کے لفظ سے ادا کردیا اور ان ہی دونوں کی ذریت کو خصوصی طور پر مسلم کے لقب سے نامزد کیا بیشک اس سے بڑھ کر اسلام و تفویض اور صبر کیا ہوگا جو دونوں باپ بیٹے نے کرنے اور ذبح ہونے کے متعلق دکھایا یہ اسی اسلما کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو امت مسلمہ بنایا۔
لہذا معلوم ہوا کہ فرمان علی (رض) سے متعلق حدیث مذکورہ محل کلام ہے کیونکہ آئندہ کی حدیث جو حضرت علی (رض) سے ہی مروی ہے اس کے خلاف ہے۔ نیز اس طرح کے اور بہت سے قرائن و شواہد ہیں جن سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ہی ہیں۔ (تفسیر عثمانی مع اضافہ)
ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔
فائدہ : ۔۔ مشہور روایات اور کلام اللہ کے سیاق وسباق سے بداہۃ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں مثلا یہی آیات لیجیے جن کی تفسیر میں مذکورہ فرمان علی (رض) ارشاد ہوا : فرمان الہی ہے :
وقال انی ذاھب الی ربی سیہدین۔ رب ھب لی من الصالحین فبشرنہ بغلم حلیم فلما بلغ معہ السعی۔ الخ۔ (الصافات : 99 ۔ 102)
اور (ابراہیم (علیہ السلام)) بولے : کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔ اے پروردگار ! مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو) تو ہم نے ان کو نرم دل لڑکے کی خوش خبری سنائی۔ جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم علیہ السالم نے کہا کہ بیٹا میں خواب دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کررہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ انھوں نے کہا ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔ جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی اور ہم ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اولاد کی دعا مانگی اور خدا نے قبول کی اور وہی لڑکا قربانی کے لیے پیش کیا گیا۔ موجودہ توراۃ سے ثابت ہے کہ جو لڑکا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پیدا ہوا وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ اور اسی لیے ان کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ کیونکہ اسماعیل دو لفظوں سے مرکب ہے۔ سمع اور ایل۔ سمع کے معنی سننے کے اور ایل کے معنی خدا کے ہیں۔ یعنی خدا نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سن لی۔ توراۃ میں ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اسماعیل کے بارے میں میں نے تیری سن لی اس بناء پر آیت حاضرہ میں جس کا ذکر ہے وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ حضرت اسحق نہیں۔ اور ویسے بھی ذبح وغیرہ کا قصہ ختم کرنے کے بعد حضرت اسحق کی بشارت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ آگے آتا ہے :
وبشرناہ باسحق نبیا الخ۔ معلوم ہوا کہ " فبشرناہ بغلام حلیم " میں ان کے علاوہ کسی دوسرے لڑکے کی بشارت مذکور ہے۔ نیز اسحق کی بشارت دیتے ہوئے ان کے نبی بنائے جانے کی بھی خوشخبری دی گئی اور سورة ھود میں ان کے ساتھ ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کا مژدہ بھی سنایا گیا۔ جو حضرت اسحق کے بیٹے ہوں گے۔ ومن وراء اسحق یعقوب۔ (ھود : رکوع 7) پھر کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ حضرت اسحق ذبح ہوں۔ گویا نبی بنائے جانے اور اولاد عطا کیے جانے سے بیشتر ہی ذبح کردیے جائیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جن کے متعلق بشارت ولادت کے وقت نہ نبوت عطا فرمانے کا وعدہ ہوا نہ اولاد دیے جانے کا۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کی یادگار اور اس کی متعلقہ رسوم بنی اسماعیل میں برابر بطور وراثت منتقل ہوتی چلی آئیں ۔ اور آج بھی اسماعیل کی روحانی اولاد ہے۔ (جنہیں مسلمان کہتے ہیں) ان مقدس یادگاروں کی حامل ہے۔ مجودہ توراۃ میں تصریح ہے کہ قربانی کا مقام " مورا " یا " مریا " تھا۔ یہود و نصاری نے اس مقام کا پتہ چلانے میں بہت ہی دور از کا راحتمالات سے کام لیا ہے حالانکہ نہایت ہی اقرب اور بےتکلف بات یہ ہے کہ یہ مقام مروہ ہے جو کعبہ کے سامنے بالکل نزدیک واقع ہے اور جہاں سعی بن الصفا و المروۃ ختم کرکے معتمرین حلال ہوتے ہیں اور ممکن ہے " بلغ معہ السعی " میں اسی سعی کی طرف ایماء ہو موطا امام مالک کی ایک روایت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مروہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے۔ غالبا وہ اسی ابراہیم (علیہ السلام) وہ اسماعیل (علیہ السلام) کی قربان گاہ کی طرف اشارہ ہوگا ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ عموماً مکہ سے تین میل " منی " میں قربانی کرتے تھے۔ جیسے آج تک کی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل قربان گاہ " مروہ " تھی۔ پھر حجاج اور ذبائح کہ کثرت دیکھ کر منی تک وسعت دے دی گئی۔ قرآن کریم میں بھی " ھدیا بالغ الکعبۃ " اور " ثم محلہا الی البیت العتیق " فرمایا ہے جس سے کعبہ کا قرب ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
بہرحال قرائن و آثار یہی بتلاتے ہیں کہ " ذبیح اللہ " وہی اسماعیل (علیہ السلام) تھے جو مکہ میں آ کر رہے اور وہین ان کی نسل پھیلی۔ توراۃ میں یہ بھی تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا اور یہ مسلم ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عجیب بات یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں جس لڑکے کی بشارت ملی اسے " غلام حلیم " کہا گیا ہے۔ لیکن حضرت اسحق (علیہ السلام) کی بشارت جب فرشتوں نے ابتداء خدا کی طرف سے دی تو " غلام علیم " سے تعبیر کیا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے " حلیم " کا لفظ ان پر یا کسی اور نبی پر قرآن میں کہیں اطلاق نہیں کیا گیا۔ صرف اس لڑکے کو جس کی بشارت یہاں دی گئی اور اس کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ لقب عطا ہوا ہے " ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب " (ھود : رکوع : 7)
شاید اسی لیے سورة مریم میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو صادق الوعد فرمایا کہ ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین ۔ کے وعدہ کو کس طرح سچا کر دکھایا۔ بہرحال حلیم، صابر اور صادق الوعد کے القاب کے مصداق ایک ہی معلوم ہوتا ہے یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ۔ وکان عند ربہ مرضیا۔ سورة بقرہ میں تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان سے جو دعا نقل فرمائی اس میں یہ الفاظ بھی ہیں :
ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ بعینہ اسی مسلم کے تثنیہ کو۔ یہاں قربانی کے ذکر میں فلما اسلما کے لفظ سے ادا کردیا اور ان ہی دونوں کی ذریت کو خصوصی طور پر مسلم کے لقب سے نامزد کیا بیشک اس سے بڑھ کر اسلام و تفویض اور صبر کیا ہوگا جو دونوں باپ بیٹے نے کرنے اور ذبح ہونے کے متعلق دکھایا یہ اسی اسلما کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو امت مسلمہ بنایا۔
لہذا معلوم ہوا کہ فرمان علی (رض) سے متعلق حدیث مذکورہ محل کلام ہے کیونکہ آئندہ کی حدیث جو حضرت علی (رض) سے ہی مروی ہے اس کے خلاف ہے۔ نیز اس طرح کے اور بہت سے قرائن و شواہد ہیں جن سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ہی ہیں۔ (تفسیر عثمانی مع اضافہ)
4569- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "الذبيح إسحاق". "عب ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الصافات
4570: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جو مینڈھا اسماعیل (علیہ السلام) کے قدیمہ میں قربان ہوا وہ جمرہ وسطی کے بائیں جانب اترا تھا۔ (بخاری فی تاریخہ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی (رض) کی پہلی روایت محل کلام ہے جس میں ذبیح اللہ اسحاق (علیہ السلام) کو فرمایا۔ نیز جس مقام پر قربانی ہوئی وہ مقام اسماعیل (علیہ السلام) کا مستقر ہے اور کعبۃ اللہ کی بنا میں بھی اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے۔ لہٰذا یہاں قائم ہونے والی سنت بھی اسماعیل (علیہ السلام) کی یاد گار ہے نہ کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی (رض) کی پہلی روایت محل کلام ہے جس میں ذبیح اللہ اسحاق (علیہ السلام) کو فرمایا۔ نیز جس مقام پر قربانی ہوئی وہ مقام اسماعیل (علیہ السلام) کا مستقر ہے اور کعبۃ اللہ کی بنا میں بھی اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے۔ لہٰذا یہاں قائم ہونے والی سنت بھی اسماعیل (علیہ السلام) کی یاد گار ہے نہ کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی۔
4570- عن علي قال: "هبط الكبش الذي فدى إسماعيل من هذه الجنبة عن يسار الجمرة الوسطى". "خ في تاريخه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الصافات
4571: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :
وارسلناہ الی مائۃ الف او یزیدون۔ الصافات 147
اور ہم نے ان (یونس (علیہ السلام)) کو لاکھ یا زائد کی طرف بھیجا۔
کے بارے میں پوچھا (کہ زائد سے کتنے زائد مراد ہیں ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیس ہزار۔ (ترمذی غریب، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔۔ یعنی اگر صرف عاقل بالغ افراد گنتے تو لاکھ تھے جن کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ جبکہ بچے ان کے ماتحت ہو کر آجاتے ہیں لیکن اگر سب چھوٹوں بڑوں کو شمار کرتے تو زائد تھے۔ یہی مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) نے مذکورہ روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
وارسلناہ الی مائۃ الف او یزیدون۔ الصافات 147
اور ہم نے ان (یونس (علیہ السلام)) کو لاکھ یا زائد کی طرف بھیجا۔
کے بارے میں پوچھا (کہ زائد سے کتنے زائد مراد ہیں ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیس ہزار۔ (ترمذی غریب، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔۔ یعنی اگر صرف عاقل بالغ افراد گنتے تو لاکھ تھے جن کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ جبکہ بچے ان کے ماتحت ہو کر آجاتے ہیں لیکن اگر سب چھوٹوں بڑوں کو شمار کرتے تو زائد تھے۔ یہی مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) نے مذکورہ روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
4571- عن أبي بن كعب سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى: {وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ} قال: "يزيدون عشرين ألفا". "ت غريب وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
তাহকীক: