কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৫৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد کی حکمت
4532 ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ آیت : ھذان خصمان اختصموا فی ربہم۔ یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جو جنگ بدر میں ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ حمزہ علی، عبیدۃ بن الحارث (مسلمانوں میں سے تھے اور ان کے مقابلے پر آئے مشرکین کے) ۔ (عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ، العدنی، عبد بن حمید، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
4532- عن علي قال: "فينا نزلت هذه الآية {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} في الذين بارزوا يوم بدر، حمزة، وعلي، وعبيدة، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة". "العدني وعبد بن حميد ك وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المؤمنين
4533: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے حکم الہی :

الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔ المومنون : 2

جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں۔

کے متعلق فرماتے ہیں : خاشعون، خشوع دل میں ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ (نماز میں برابر کھڑے ہوئے مسلمان کے لیے) تیرا کاندھا نرم رہے اور تو نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔ ابن المبارک، عبدالرزاق، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الخشوع لابی قاسم بن مندہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4533- "علي رضي الله عنه" عن علي أنه سئل عن قوله تعالى {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ} قال: "الخشوع في القلب وإن يلين كنفك للمرء المسلم، وأن لا تلتفت في صلاتك". "ابن المبارك عب والفريابي وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو القاسم بن منده في الخشوع ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المؤمنين
4534: ۔۔ حضرت علی (رض) سے فرمان الہی :

فما استکانوا لربہم وما یتضرعون۔ المومنون : 76)

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انھوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں، کے متعلق ارشاد فرمایا : یعنی وہ لوگ دعا میں عاجزی نہیں کرتے اور اگر وہ اللہ کے لیے عاجزی کرتے تو اللہ ان کی دعا ضرور قبول کرتا (اور انھیں عذاب نہ دیتا) ۔ العسکری فی المواعظ۔
4534- عن علي في قوله تعالى: {فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ} أي "لم يتواضعوا في الدعاء، ولم يخضعوا، ولو خضعوا لله لاستجاب الله لهم". "العسكري في المواعظ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المؤمنين
4535: ۔۔ امام جعفر صادق (رح) سے کسی نے فرمان الہی :

وآوینا ھما الی ربوۃ ذات قرار و معین۔ اور ہم نے ان (مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام)) کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا پناہ دی تھی۔ کے متعلق پوچھا تو امام جعفر (رح) نے فرمایا : ربوہ سے مراد نجف کا علاقہ ہے، قرار سے مراد مسجد اور معین (چشمے) سے مراد نہر فرات ہے۔

پھر فرمایا : کوفہ میں ایک درہم خرچ کرنا دوسری جگہ سو درہم خرچ کرنے کے برابر ہے۔ اور ایک رکعت سو رکعات کے برابر ہے۔ اور جو چاہتا ہے کہ جنت کے پانی سے وضو کرے اور جنت کا پانی نوش کرے تو وہ فرات کا پانی استعمال کرے۔ اس میں جنت کے دو چشمے پھوٹتے ہیں۔ اور ہر رات جنت سے دو مثقال مشک اس میں گرتا ہے۔ اور حضرت امیر المومنین (علی کرم اللہ وجہہ) نجف کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے تھے یہ سلامتی کی وادی ہے۔ مومنین کی روحوں کی اجتماع گاہ ہے اور مومنین کے لیے بہترین ٹھکانا ہے۔ نیز آپ دعا کیا کرتے :

اللہم اجعل قبری بھا۔

اے اللہ میری قبر یہیں بنا۔ رواہ ابن عساکر۔

ملحوظ : ۔۔ اسی جلد کی روایت نمبر 2914 کے ذیل میں مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
4535- عن جعفر الصادق أنه سئل عن قوله تعالى: {وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ} قال: "الربوة النجف، والقرار المسجد والمعين الفرات، ثم قال: إن نفقة في الكوفة بالدرهم الواحد تعدل بمائة درهم في غيرها والركعة بمائة ركعة، ومن أحب أن يتوضأ بماء الجنة ويشرب من ماء الجنة ويغتسل بماء الجنة فعليه بماء الفرات فإن فيه منبعين من الجنة وينزل من الجنة كل ليلة مثقالان من مسك في الفرات وكان أمير المؤمنين على باب النجف، ويقول وادي السلام ومجمع أرواح المؤمنين ونعم المضجع للمؤمنين هذا المكان يقول: اللهم اجعل قبري بها"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النور
4536: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمان الہی :

الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا۔ النور : 5

ہاں جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی ) بخشنے والا مہربان ہے۔

کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

جو لوگ (پاک مرد یا عورت پر تہمت لگائیں اور پھر توبہ) کریں تو ان کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو جھوٹا قرار کریں تب وہ شہادت دینے کے اہل ہوں گے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4536- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا} قال: "توبتهم اكذابهم أنفسهم فإن كذبوا أنفسهم قبلت شهادتهم". "وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النور
4537: ۔۔ فضالہ بن ابی امیہ اپنے والد ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ (وہ حضرت عمر (رض) کے غلام تھے) حضرت عمر (رض) نے ان سے شکایت کی۔ پھر ان کے لیے (اپنی بیٹی) حفصہ (رض) سے دو سو درہم قرض لیا کہ وہ غلام اپنے عطیہ کے وقت ادا کردے گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان دراہم کے ساتھ اس کی مدد کی (اور یوں وہ آزاد ہوگیا) فضالہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت عکرمہ (رح) کو ذکر کی انھوں نے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے معاملہ اس فرمان باری کی تعمیل میں کیا :

واتوھم من مال اللہ الذی آتاکم۔ النور : 32

اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو ۔ السنن للبیہقی۔

فائدہ : ۔۔ اسلام میں کتابت کے معنی یہ ہے کہ کوئی آقا اپنے غلام کو ایک متعین رقم لانے پر مامور کردے اور اس کے عوض میں اس کو آزاد کرنے کا وعدہ کرلے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اپنے غلام سے دو سو درہم پر مکاتبت کی۔ لیکن دو سو درہم اس کے لیے حاصل کرنا طویل عرصہ مانگتے تھے۔ اس وجہ سے حضرت عمر (رض) کو دیے اور غلام خود حضرت حفصہ (رض) کو ادا کرنے کا ذمہ دار بنا اور اپنی زندگی آزاد کرالی ۔
4537- عن فضالة بن أبي أمية عن أبيه "أن عمر بن الخطاب كاتبه فاستقرض له مأتين من حفصة إلى عطائه، فأعانه بها، فذكر ذلك لعكرمة فقال: هو قول الله تعالى {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} "."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے افراد پر بھی مخصوص اوقات میں اجازت ضروری ہے۔
4538: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ایک شخص مدینے کی گلی میں چلا جا رہا تھا۔ آدمی کی نظر ایک عورت پر پڑی۔ عورت نے بھی آدمی کو دیکھا۔ دونوں کے دلوں میں شیطان نے بھی وسوسہ ڈالا اور دونوں کے دلوں میں یہ بات آئی کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے اسی لیے اس نے مجھے دیکھا ہے۔ آدمی دیوار کے ساتھ چل رہا تھا اور نظر عورت کے سر پر مرکوز تھی۔ لہٰذا دیوار کے ساتھ ٹکرایا اور اس کی ناک کو چوٹ آگئی۔ (تب اس کو اپنے فعل پر ندامت ہوئی اور ) اس نے عہد کرلیا کہ اللہ کی قسم ! میں اپنی ناک سے خون نہیں دھوؤں گا جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی ساری داستان نہ سناؤں گا۔ چنانچہ وہ شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا قصہ آپ کی خدمت میں کہہ سنایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تمہارے گناہ کی سزا تھی جو تم کو ملی۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :

قل للمومنین یغضوا من ابصارہمن ویحفظوا فروجہم۔ النور۔ 30

مومن کو مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔
4538- عن علي رضي الله عنه قال: "مر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في طريق من طرقات المدينة، فنظر إلى امرأة ونظرت إليه فوسوس لهما الشيطان، أنه لم ينظر أحدهما إلى الآخر إلا إعجابا به، فبينما الرجل يمشي إلى جنب حائط وهو ينظر إليها إذ استقبله الحائط فشق أنفه، فقال والله لا أغسل الدم حتى آتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعلمه أمري فأتاه فقص عليه قصته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هذا عقوبة ذنبك، فأنزل الله: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ} " الآية."ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے افراد پر بھی مخصوص اوقات میں اجازت ضروری ہے۔
4539: ۔۔ (مسند حضرت علی (رض)) فرمان الہی ہے :

یستاذنکم الذین ملکت ایمانکم۔ النور : 58

تمہارے غلام، لونڈیاں اور جو بچے بلوغت کو نہیں پہنچے تین دفعہ اجازت لیا کریں۔

حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : اس سے عورتیں مراد ہیں کہ وہ اجازت لے کر داخل ہوا کریں کیونکہ مرد تو اجازت ہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ رواہ مستدرک الحاکم۔

فائدہ : ۔۔ اسی طرح بالغ مرد و عورت تو اجازت لے کر داخل ہوتے ہیں لیکن لڑکے جو بالغ نہیں ہوئے لیکن بچے بھی نہیں رہے ان کے بارے میں اکثر لوگ چشم پوشی کرجاتے ہیں اس لیے ان کے متعلق بھی حکم خدا ہے کہ وہ اجازت لے کر داخل ہوا کریں۔

لیکن یہ حکم صرف تین اوقات کا ہے، فجر سے پہلے، دوپہر (کو آرام) کے وقت اور عشاء کے بعد کیونکہ ان تین اوقات میں ممکنہ طور پر لوگ گھریلو حالت اور مختصر کپڑوں میں ہوتے ہیں اس لیے اس اوقات میں گھر کے غلام، باندی اور نابالغ لڑکوں کو بھی اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم ہے۔ باقی اوقات میں نہیں کیونکہ اگر باقی اوقات میں نہیں کیونکہ اگر باقی اوقات میں بھی یہ حکم ہو تو تنگی کا سامنا ہوگا۔ جبکہ ان کے علاوہ ہر بالغ اجنبی مرد و عورت کو ہر وقت اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم ہے۔
4539- "علي" عن علي في قوله تعالى: {لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} قال: "النساء فإن الرجال يستأذنون". "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے افراد پر بھی مخصوص اوقات میں اجازت ضروری ہے۔
4540: ۔۔ ابو عبدالرحمن سلمی حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ فرمان الہی :

فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واتوھم من مال اللہ الذی آتاکم ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء۔ (سورة النور : 33)

اگر تم ان میں (صلاحیت اور ) خیر پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو ۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو فرماتے ہیں کہ خیر سے مراد مال ہے یعنی اگر وہ مال ادا کرنے کی صلاحیت رکھیں تو ان کے ساتھ مکاتبت کا معاملہ کرلو۔ اور ان کی مالی مدد کرو۔ یعنی ایک چوتھائی حصہ معاف کردو۔ اور بدکاری پر مجبور نہ کرو اس لیے فرمایا کہ جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے فحاشی کرواتے تھے جس سے اسلام میں ممانعت کردی گئی۔ رواہ ابن مردویہ۔
4540- عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي في قول الله تعالى: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً} قال: "مالا {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} قال: حطوا عنهم الربع {وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} قال: كان أهل الجاهلية يبغين إماءهم فنهوا عن ذلك في الإسلام". "ابن مردويه"1..
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے افراد پر بھی مخصوص اوقات میں اجازت ضروری ہے۔
4541:۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) مدینہ ہجرت کرکے آئے اور انصار نے آپ لوگوں کو اپنے ہاں ٹھکانے دیے تو عرب نے سب کو (یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مہاجروں کے ساتھ تمام انصار کو بھی) ایک ہی تیر کا نشانہ بنا لیا (اور سب مسلمان ان کی آنکھوں میں برابر کے دشمن ہوگئے) چنانچہ تمام مسلمان بھی رات دن اسلحہ سازی میں منہمک ہوگئے۔ (تم کیا سمجھتے ہو کہ مدینہ آ کر ہم) سکون کی زندگی بسر کرنے لگ گئے ؟ ہم لوگ اللہ ہی سے ڈرتے تھے۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :

وعد اللہ الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض۔ النور۔

اور اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تم میں سے اور اچھے اعمال کیے کہ زمین میں ان کو خلافت دے گا۔ (ابن المنذر، الاوسط للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، الدلائل للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4541- عن أبي بن كعب "لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه المدينة وآوتهم الأنصار، رمتهم العرب عن قوس واحدة، فكانوا لا يبيتون إلا في السلاح، ولا يصبحون إلا فيه، فقالوا ترون أنا نعيش حتى نبيت آمنين مطمئنين؟ لا نخاف إلا الله؟ فنزلت: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} ". "ابن المنذر طس ك وابن مردويه ق في الدلائل ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے افراد پر بھی مخصوص اوقات میں اجازت ضروری ہے۔
4542: ۔۔ حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (حضرت ابوبکر (رض) کو مخاطب کرکے) ارشاد فرمایا :

اے ابوبکر ! کیا خیال ہے اگر تم (اپنی بیوی) ام رومان کے ساتھ کسی اجنبی شخص کو پاؤ تو کیا کروگے ؟

حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : واللہ ! اس کا بڑا برا حشر کروں گا۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اور تم اے عمر ! حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : اللہ کی قسم میں اس کو قتل کر ڈالوں گا۔ پھر حضرت سہل (رض) سے مخاطب ہو کر پوچھا اور تم اے سہیل ؟ انھوں نے عرض کیا : میں کہوں گا : اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو اور اللہ کی لعنت ہو پھٹکار پڑی خبیثہ ہے۔ اور ان میں سب سے پہلے اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے یہ خبر دی۔ چنانچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا۔

اے ابن البیضاء ! تم نے تو قرآن کی تفسیر کردی :

والذین یرمون ازواجہم۔ النور : 6

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں۔

فائدہ : ۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سہل کے قول کو لعان کے قریب قرار دیا۔ جس کا قرآن میں حکم آیا ہے یعنی مرد اگر اپنی عورت پر تہمت لگائے تو وہ قاضی کے روبرو چار بار قسم کھا کر اس پر بدکاری کا الزام عائد کرے اور عورت بھی چار مرتبہ اپنی پاکی قسم اٹھائے پھر قاضی دونوں کے درمیان جدائی کردے۔
4542- عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر أرأيت لو أنك وجدت رجلا مع أم رومان كيف كنت صانعا؟ قال: كنت والله فاعلا شرا، قال فأنت يا عمر؟ قال: والله كنت قاتله، قال فأنت يا سهل؟ قال كنت أقول لعن الله إلا بعد، هو خبيث، ولعن الله البعدى فهي خبيثة، ولعن الله أول الثلاثة إخبر بهذا، قال: تأولت القرآن يا ابن البيضاء {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} ". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفرقان
4543: ۔۔ (مسند عمر (رض)) عبداللہ بن المغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) سے نسبا و صہرا کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا :

میرا خیال ہے نسب کو تو تم جانتے ہو (یعنی آدمی کا اپنا خاندان) اور صبر سسرالی رشتہ دار۔ عبد بن حمدی)
4543- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عبد الله بن المغيرة قال "سئل عمر بن الخطاب عن قوله تعالى: {نَسَباً وَصِهْراً} ؟ فقال: ما أراكم إلا قد عرفتم النسب، فأما الصهر1 فالأختان والصحابة". "عبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفرقان
4543: ۔۔ (مسند علی (رض)) ابی مجلز سے مروی ہے علی بن ابی طالب (رض) کو ایک شخص نے کہا میں لوگوں کا نسب بیان کرتا ہوں۔ آپ (رض) نے فرمایا تم نسب نہ بیان کرو۔ اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے فرمان الہی نہی پڑھا :

و عادا وثمود و اصحاب الراس وقرونا بین ذلک کثیرا۔ الفرقان۔ 38

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا۔ یعنی ان کے درمیان بھی بہت سی جماعتیں ہیں جو ہم کو معلوم نہیں۔

اسی طرح فرمان الہی ہے :

الم یاتکم نبا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود والذین من بعدہم لا یعلمہم الا اللہ۔

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے قوم نوح، عاد ثمود اور لوگ جو ان کے بعد تھے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (ابن الضریس فی فضائل القرآن)

فائدہ : ۔۔ یعنی جب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تو تم دعوی کے ساتھ کئی کئی پشتوں تک کیسے نسب بیان کرسکتے ہو۔
4544- "علي رضي الله عنه" عن أبي مجلز2 قال رجل لعلي بن أبي طالب أنا أنسب الناس، قال: "إنك لا تنسب الناس، قال: بلى فقال له علي أرأيت قوله تعالى: {وَعَاداً وَثَمُودَا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُوناً بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيراً} أرأيت قوله تعالى: {أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ لا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ} فسكت"."ابن الضريس في فضائل القرآن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القصص
4545: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں :

موسیٰ (علیہ السلام) جب مدین تشریف لائے اور وہاں پانی پر پہنچے تو لوگوں کو دیکھا کہ جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں۔ پھر لوگوں نے پانی پلا کر مل کر پتھر کی چٹان سے کنوئیں کا منہ بند کیا۔ جس کو دس آدمی مل کر ہی اٹھاسکتے تھے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دو عورتیں پیچھے رہ گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا تمہارا کیا مقصد ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہم بھی جانوروں کو پانی پلانے آئی ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جا کر اکیلے ہی وہ پتھر کنوئیں کے منہ سے ہٹایا پھر پانی کھینچا اور ایک ہی ڈول میں سب بکریوں کو سیراب کردیا۔ دونوں عورتیں لوٹ گئیں اور اپنے باپ کو سارا واقعہ بیان کیا۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) سائے میں بیٹھ گئے اور خدا سے دعا کی :

رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ القصس

اے پروردگار ! میں جو تو میری طرف اتارے اس کا محتاج ہوں۔

چنانچہ ان دونوں میں سے ایک لڑکی شرم و حیاء کی پیکر چلتی ہوئی آئی۔ جس نے اپنے چہرے کو کپڑے کے ساتھ ڈھانک رکھا تھا۔ اور عام بےباک عورتوں کی طرح نہ تھی جو دھڑے کے ساتھ آتی جاتی ہیں۔ آ کر اس نے کہا :

قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجر ما سقیت لنا۔ القصص۔

بولی : میرا باپ تجھے بلاتا ہے تاکہ تجھے بدلہ دے اس کا جو تو نے (پانی) پلایا ہمارے لیے (جانوروں کو)

چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہو کر اس کے ساتھ چل دیے اور اس کو فرمایا میرے پیچھے پیچھے چلتی آؤ اور مجھے بول کر راستہ بتاتی جاؤ، کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ہوا سے تمہارے کپڑے اڑے اور تمہارے جسم کی نمائش کردے۔ پس جب وہ اپنے باپ کے پاس پہنچی تو اس کو سارا واقعہ بیان کیا۔ پھر :

فقالت احدھما یا ابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین۔

ان میں سے ایک بولی ! اے اباجان ! اس کو اجرت پر رکھ لو۔ بیشک جس کو آپ اجرت پر رکھیں اس میں قوی (اور) امانت دار زیادہ بہتر ہے۔

لڑکی کے باپ (حضرت شعیب (علیہ السلام)) بولے : اے بیٹی ! تجھے اس کی امانت اور قوت کا کیسے اندازہ ہوا ؟ لڑکی بولی : قوت کا اندازہ تو ان کے پتھر اٹھانے سے ہوا۔ جس کو کم سے کم دس آدمی اٹھاسکتے ہیں۔ اور ان کی امانت تو انھوں نے مجھے کہا تھا : میرے پیچھے پیچھے چلی آؤ اور راستہ بتاتی جاؤ۔ مجھے ناپسند ہے کہ ہوا سے کپڑا اڑ کر تمہارا جسم (مجھے) دکھائی دے۔

چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں اور زیادہ رغبت ہوگئی۔ لہٰذا انھوں نے فرمایا :

انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین ۔۔۔ سے ۔۔۔ ستجدنی ان شاء اللہ من الصالحین۔ تک۔ القصص : 27

میں ارادہ کرتا ہوں کہ تمہارا نکاح کردوں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک سے۔ اس پر کہ تم میری مزدوری کرو آٹھ سال، اگر تم دس پورے کردو تو یہ (بھلائی) تمہاری طرف سے ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تم پر مشقت ڈالوں۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا) آپ مجھے ان شاء اللہ نیکوں میں سے پائیں گے۔ یعنی اچھی صحبت اور اپنے کہے ہوئے وعدہ پر پابند پائیں گے۔

قال ذلک بینی و بینک ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی۔

کہا (موسیٰ (علیہ السلام) نے) یہ میرے اور آپ کے درمیان (طے پایا) ہے دونوں مدتوں میں سے جو میں پوری کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : ٹھیک ہے۔

واللہ علی ما نقول وکیل۔ القصص۔

اور اللہ علی ما نقول وکیل۔ القصص۔

اور اللہ اس پر جو ہم نے معاہدہ کیا وکیل ہے۔

چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شادی کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ٹھہرے اور ان کا کام کرتے رہے۔ بکریوں کی چرواہی اور دوسری گھریلو مصروفیات۔ آپ کی شادی (چھوٹی) بیٹی صفورہ سے کی جبکہ اس کی (بڑی) بہن مشرقا تھی۔ یہی دونوں پہلے اپنی بکریوں کو چرایا کرتی تھیں۔ (الفریابی، ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4545- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "إن موسى لما ورد ماء مدين وجد عليه أمة من الناس يسقون، فلما فرغوا أعادوا الصخرة على البئر، ولا يطيق رفعها إلا عشرة رجال، فإذا هو بامرأتين، قال:"ما خطبكما؟ فحدثتاه، فأتى الحجر، فرفعه وحده، ثم استسقى فلم يستق إلا ذنوبا واحدا، حتى رويت الغنم، فرجعت المرأتان إلى أبيهما، فحدثتاه، وتولى موسى إلى الظل، فقال: {رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ} ، {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ} ، واضعة ثوبها على وجهها، ليست بسلفع1 من النساء خراجة ولاجة {إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا} فقام معها موسى، فقال لها: امشي خلفي، وانعتي لي الطريق، فإني أكره أن تصيب الريح ثيابك فتصف لي جسدك، فلما انتهى إلى أبيها قص عليه {قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} قال: يا بنية ما علمك بقوته وأمانته؟ قالت: أما قوته فرفعه الحجر ولا يطيقه إلا عشرة رجال، وأما أمانته فقال لي امشي خلفي وانعتي لي الطريق، فإني أكره أن تصيب الريح ثيابك فتصف لي جسدك، فزاده ذلك رغبة فيه، فقال: {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ} إلى قوله: {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ} أي في حسن الصحبة والوفاء بما قلت {قال} موسى {ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوَانَ عَلَيَّ} قال نعم قال الله على ما نقول وكيل فزوجه فأقام معه يكفيه ويعمل له في رعاية غنمه وما يحتاج إليه وزوجه صفورة1، وأختها مشرقا وهما اللتان كانتا تذودان". "الفريابي ش وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القصص
4546: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی :

ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض۔

اور ہم نے ارادہ کیا کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو زمین میں کمزور ہوگئے ہیں۔

کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : کہ زمین میں جو کمزور ہوگئے اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) اور اس کی اولاد ہیں۔ (ابن ابی شیبہ، فی تفسیر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4546- علي في قوله تعالى: {وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ} "قال يوسف وولده". "ش في تفسيره وابن المنذر وابن أبي حاتم} .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة القصص
4547: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فرمان الہی :

ان الذین فرض علیک القرآن لرادک الی معاد (القصص)

بےشک جس نے آپ پر قرآن (کے احکام) فرض کیا وہ آپ کو واپس اپنی جگہ لوٹا دے گا۔

فرمایا : ہمارا مواد (لوٹنے کی جگہ) جنت ہے۔ (مستدرک الحاکم فی تاریخہ ، الدیلمی)
4547- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ} قال: "معادنا إلى الجنة"."ك في تاريخه والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة العنکبوت
4548: (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے :

فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکاذبین۔ العنکبوت۔ 3

سو خدا ان کو معلوم کرا دے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ پاک لوگوں کو معلوم کرا دے گا۔ (ابن ابی حاتم)

فائدہ : ۔۔ مشہور قراءت فلیعلمن اللہ ہے جس کے معنی ہیں خدا ان کو ضرور معلوم کرلے گا۔ لیکن تمام تفاسیر میں اس کی تفسیر وہی کی جاتی ہے جو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمائی یعنی خدا لوگوں کو معلوم کرا دے گا کیونکہ خدا کو خود تو سب کچھ پہلے سے معلوم ہے۔
4548- "علي رضي الله عنه" عن علي أنه كان يقرأ: {فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ} قال: "يعلمهم الناس". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة لقمان
4549: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی چیز مخفی نہیں رکھی گئی سوائے غیب کی پانچ چیزوں کے۔ وہ پانچ چیزیں سورة ہ لقمان کی آخری آیات میں مذکور ہیں۔

ان اللہ عندہ علم الساعۃ الخ۔ لقمان آخری آیت۔

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4549- "علي" عن علي رضي الله عنه قال: "لم يعم1 على نبيكم صلى الله عليه وسلم شيء إلا خمس من سرائر الغيب، هذه الآية في آخر لقمان: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ} إلى آخر السورة". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحزاب
4550: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : بتاؤ سورة الاحزاب کتنی (آیتوں پر مشتمل) ہے ؟ میں نے عرض کیا : بہتر یا تہتر آیات پر۔ پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : قریب تھا۔ کہ یہ سورة البقرہ جتنی بڑی سورت ہوجاتی اور اس میں پہلے آیۃ الرجم (زانی کو سنگسار کرنے کے حکم پر مشتمل آیات) بھی تھی۔ رواہ ابن مردویہ۔
4550- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن حذيفة قال قال لي عمر بن الخطاب: "كم تعدون سورة الأحزاب؟ قلت ثنتين أو ثلاثا وسبعين، قال إن كانت لتقارب سورة البقرة، وإن كان فيها لآية الرجم". "وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأحزاب
4551: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ان سے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دریافت فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو حکم فرمایا تھا :

ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی۔ الاحزاب : 33

اور جس طرح پہلی (جاہلیت کے دنوں) میں اظہار تحمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔

بتاؤ کیا جاہلیت بھی کئی ایک ہیں (جو فرمایا گیا کہ پہلی جاہلیت کی طرح زیب وزینت کرکے نہ پھرو) ۔

ابن عباس (رض) نے عرض کیا : میں نے کسی ایسی چیز کی پہلی نہیں سنی جس کی آخر نہ ہو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کتاب اللہ سے اس کی تصدیق پیش کرو۔ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : فرمان الہی ہے :

وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ۔ الحج : 78

اور اللہ (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔

اور اس حکم سے مراد ہے کہ جیسا تم نے پہلے جہاد کیا تھا اسی طرح اب بھی جہاد کرو۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہمیں کس کے ساتھ جہاد کا حکم ہے ؟ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : مخزوم اور عبد شمس۔ (یعنی پہلے جنگ بدر میں ان کے سرغنہ لوگوں کو تہ تیغ کیا تھا اب ان کے آخر کو بھی ختم کرو۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔

حضرت عمر (رض) کا معافی طلب کرنا

فائدہ : ۔۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ کیا جاہلیت کی کئی اقسام ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ کئی تو نہیں مگر پہلی اور آخری ضرور ہیں یعنی ہر چیز میں اول آخر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جاہلیت اولی ارشاد فرمایا گیا۔
4551- عن ابن عباس رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب سأله فقال: "أرأيت قول الله تعالى لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم: {وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى} هل كانت جاهلية غير واحدة؟ فقال ابن عباس: ما سمعت بأولى إلا ولها آخرة، فقال له عمر فأتني من كتاب الله تعالى بما أصدق ذلك، فقال قال الله تعالى: {وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ} 1. كما جاهدتم أول مرة، فقال له عمر: من أمرنا أن نجاهد؟ قال: مخزوم وعبد شمس. "أبو عبيد في فضائله وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক: