কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৫১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4512: ۔۔ حضرت علی (رض) کا فرمان ہے :

جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے پاس (طور پر) جانے کا ارادہ کیا تو سامری (جادوگر) نے بنی اسرائیل کے جس قدر زیورات ہوسکے جمع کیے اور ان کو ڈھال کر بچھڑے کی شکل بنائی۔ پھر ایک مٹھی اس کے پیٹ میں ڈالی جس سے وہ بچھڑا آواز نکالنے والا بن گیا۔ پھر سامری نے بنی اسرائیلیوں کو کہا :

یہ تمہارا اور موسیٰ کا پروردگار ہے۔

حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو کہا : اے لوگو ! کیا پروردگار نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا۔ چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو اپنے بھائی ہارون کے سر کو پکر کر کھینچا۔ ہارون (علیہ السلام) نے معذرت کے لیے کہا جو کہا۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو کہا : تیرا مقصد کیا ہے ؟ سامری نے کہا :

میں نے رسول (جبرئیل (علیہ السلام)) کے نشان (قدم) سے ایک مٹھی لے لی تھی۔ جو میں نے اس بچھڑے میں ڈال دی اور یہ کام کرنے کو میرا دل چاہ رہا تھا۔

پھر موسیٰ نے بچھڑے کو لیا اور نہر کے کنارے لے جا کر اس پر بہت مٹی ڈالی ۔ (پھر لوگوں نے اس نہر کا پانی پیا) اور جب بھی کوئی ایسا شخص اس پانی کو پیتا جس نے بچھڑے کی عبادت کی تھی تو اس کا چہرہ سونے کی طرح زرد ہوجاتا۔ پھر ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی توبہ کا طریقہ پوچھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : ایک دوسرے کو قتل کرکے کفارہ ادا کرو۔ لوگوں نے چھری (اور تلواریں لی) اور ہر ایک اپنے بھائی اور اپنے قریبی کو قتل کرنے لگا اور کوئی پروا نہ کرتا تھا۔ کہ کس کو قتل کررہا ہے۔ (ہر گناہ گار نے گردن جھکا دی تھی اور اس کا قریبی اس کو قتل کرتا تھا۔ )

حتی کہ ستر ہزار لوگ قتل ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو وحی کی : ان کو حکم دو کہ اپنے ہاتھ میں روک لیں پس میں نے قتل ہوجانے والوں کی بخشش کردی اور مرجانے والوں کی توبہ قبول کرلی۔ الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم۔
4512- عن علي قال: "لما تعجل موسى إلى ربه عمد السامري فجمع ما قدر عليه من حلي بني إسرائيل، فضربه عجلا ثم ألقى القبضة في جوفه، فإذا هو عجل جسد له خوار، فقال لهم السامري: هذا إلهكم وإله موسى: فقال لهم هارون: يا قوم ألم يعدكم ربكم وعدا حسنا؟ فلما إن رجع موسى أخذ برأس أخيه، فقال له هارون ما قال، فقال موسى للسامري: ما خطبك؟ فقال: قبضت قبضة من أثر الرسول، فنبذتها وكذلك سولت لي نفسي، فعمد موسى إلى العجل، فوضع عليه المبارد فبرده بها وهو على شط نهر، فما شرب أحد من ذلك الماء ممن كان يعبد ذلك العجل إلا إصفر وجهه مثل الذهب، فقالوا لموسى: ما توبتنا؟ قال: يقتل بعضكم بعضا، فأخذوا السكاكين فجعل الرجل يقتل أخاه وأباه وابنه، لا يبالي من قتل، حتى قتل منهم سبعون ألفا، فأوحى الله تعالى إلى موسى: مرهم فليرفعوا أيديهم، فقد غفرت لمن قتل وتبت على من بقي". "الفريابي وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4513: حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ یم ایک نہر ہے۔ (رواہ ابن ابی حاتم)
4513- عن علي قال: "اليم النهر". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4514:

(مسند علی (رض)) نعمان بن بشر سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے اس آیت :

ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون۔ الانبیاء : 101

جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔

فرمایا : میں ان میں سے ہوں، ابوبکر ان میں سے ہیں، عمر ان میں سے ہیں، عثمان ان میں سے ہیں، زبیر ان میں سے ہیں، طلحہ ان میں سے ہیں، سعد ان میں سے ہیں، اور عبدالرحمن (رض) بھی ان میں سے ہیں جن کے لیے پہلے سے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ (ابن ابی عاصم، ابن ابی حاتم، العشاری، ابن مردویہ، ابن عساکر)
4514- "علي رضي الله عنه" عن النعمان بن بشير قال قال علي بن أبي طالب في هذه الآية: {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ} قال: "أنا منهم، وأبو بكر منهم، وعمر منهم، وعثمان منهم، والزبير منهم، وطلحة منهم، وسعد منهم، وعبد الرحمن منهم". "ابن أبي عاصم وابن أبي حاتم والعشاري وابن مردويه كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4515: ۔۔ حضرت علی (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان :

قلنا یا نار کونی بردا و سلاما علی ابراہیم۔ الانبیاء : 99

ہم نے حکم دیا اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔

کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں اگر اللہ پاک سلامتی ہونے کا حکم نہ فرماتے تو وہ اس قدر ٹھنڈی ہوجاتی کہ ٹھنڈک ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیتی۔ (الفریابی، ابن ابی شیبہ، الزھد للامام احمد، عبد بن حمید، ابن المنذر)
4515- عن علي في قوله تعالى: {قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْداً وَسَلاماً} قال: "لولا أنه قال وسلاما لقتله بردها". "الفريابي ش حم في الزهد وعبد بن حميد وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4516: ۔۔ قلنا یا نار کونی برداً

قوم لوط کے برے اخلاق

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جب آگ کو یہ حکم ہوا کہ یا نار کونی بردا۔ اے آگ ٹھنڈی ہوجا تو وہ اس قدر ٹھنڈی ہوئی کہ اس کی ٹھنڈک آپ کے لیے باعث تکلیف ہوگئی حتی کہ حکم ہوا وسلاما اور سلامتی والی ہوجا۔ یعنی تکلیف دہ نہ ہو۔ الفریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر۔
4516- عن علي في قوله تعالى: {قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْداً} قال: "بردت عليه حتى كادت تؤذيه حتى قيل وسلاما، قال: لا تؤذيه". "الفريابي ش وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4517:۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس امت میں چھ (مذموم) باتیں قوم لوط کے اخلاق کی ہیں : جلاہق (مٹی کی گولیا بنا کر کسی کو مارنا، جیسے غلیل میں ڈال کر ماری جاتی ہیں) سیٹی بجانا، بندق (پر پھینک کر ماری جانے والی چیز، اسی میں آتش بازی کے پٹاخے آگئے، ) انگلیوں کے درمیان کنکر پھنسا کر کسی کو مارنا، قمیص کے بٹن کھلے چھوڑ دینا اور مضغ العلک (چیونگم چبانا وغیرہ) (ابن ابی الدنیا فی ذم اللامی، ابن عساکر)
4517- عن علي قال: "ست من أخلاق قوم لوط في هذه الأمة الجلاهق والصفير والبندق والخذف وحل أزرار القباء ومضغ العلك. "وابن أبي الدنيا في ذم الملاهي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4518:۔۔ انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔ الانبیاء : 101

تم اور جس کی تم عبادت کرتے ہو خدا کے سوا جہنم کا ایندھن ہیں۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہر چیز خدا کے سوا جس کی عبادت کی جائے جہنم میں جائے گی سوائے سورج، چاند اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے۔
4518- عن علي في قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى} الآية قال: "كل شيء يعبد من دون الله في النار، إلا الشمس والقمر وعيسى". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4519: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :

کطی السجل للکتب۔ الانبیاء : 103

میں سجل فرشتہ ہے۔ عبد بن حمید۔

فائدہ : ۔۔۔ فرمان الہی ہے جس روز ہم آسمانوں کو لپیٹ لیں گے جس طرح سجل کا لپیٹنا کتب کو۔ تو یعنی جس طرح سجل فرشتہ خطوں اور کتابوں کو لپیٹ لیتا ہے۔ اس طرح ہم آسمانوں کو لپیٹ دیں گے۔
4519- عن علي قال: "السجل ملك". "عبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4520: ۔۔ فرمان الہی ہے :

ان الذین سبقت لہم منا الحسنی۔ الانبیاء : 101

بےشک جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ حضرت عثمان (رض) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ رواہ ابن مردویہ۔
4520- عن علي في قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ}. قال: "نزلت في عثمان". "وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الأنبياء
4521: (مرسل سعید بن جبیر ابن عباس (رض)) حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں : آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر ان میں روح پھونکی گئی اور سب سے پہلے ان کے گھٹنوں میں روح آئی تو وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگے۔ تب اللہ پاک نے فرمایا :

خلق الانسان من عجل۔

انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4521- "مرسل سعيد بن جبير"3 عن سعيد بن جبير قال: "خلق آدم ثم نفخ فيه الروح، وأول ما نفخ في ركبتيه، فذهب ينهض فقال خلق الإنسان من عجل". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحج
4522: ۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : لوگ حج کرتے اور شرک کی حالت میں ہوتے اور ان کو حنفاء الحاج کہا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

حنفاء للہ غیر مشرکین بہ۔ الحج : 31

صرف ایک خدا کے ہو کر اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا کر۔ ابن ابی حاتم۔
4522- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق قال: كان الناس يحجون وهم مشركون، فكانوا يسمونهم حنفاء الحاج فنزلت: {حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} . "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحج
4523: ۔۔ (مسند عمر (رض)) محمد بن زید بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ آیت پڑھی :

وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ الحج۔

اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی حرج (تنگی) نہیں رکھی۔

پھر فرمایا قبیلہ مدلج کے کسی شخص کو بلا کر لاؤ۔ پھر اس سے پوچھا : الحرج تمہارے درمیان کس معنی میں آتا ہے ؟ اس نے کہا تنگی کے معنی میں۔ (السنن للبیہقی)
4523- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر قال قال عمر بن الخطاب هذه الآية: {مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} ثم قال: "ادعوا لي رجلا من بني مدلج، قال عمر: ما الحرج فيكم؟ قال الضيق". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد
4524: ۔۔ محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ (جب حضرت عثمان (رض) کا ظالموں نے محاصرہ کرلیا تو) حضرت عثمان (رض) نے (شاہی) محل کے اوپر سے سر اٹھا کر فرمایا : میرے پاس ایسے کسی شخص کو لاؤ جس کے ساتھ میں کتاب اللہ کو لے کر مناظرہ کروں۔ ظالموں نے صعصعہ بن صوحان کو جو نوجوان تھا پیش کردیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم کو اس جوان کے علاوہ اور کوئی نہ ملا تھا جس کو میرے پاس لے آتے ؟ پھر صعصعہ نے آپ سے بات کی۔ آپ (رض) نے فرمایا : (اپنی دلیل مین) قرآن پڑھو : اس نے پڑھا :

اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان للہ علی نصرھم لقدیر۔ الانبیاء : 39

جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہورہا ہے۔ اور خدا (ان کی مدد کرے گا وہ ) یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔

حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے یہ آیت تمہارے لیے ہے اور نہ تمہارے ساتھیوں کے لیے، بلکہ یہ آیت میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن مردویہ، ابن عساکر۔
4524- عن محمد بن سيرين قال: "أشرف عثمان عليهم من القصر فقال: ائتوني برجل أتاليه كتاب الله، فأتوه بصعصعة بن صوحان وكان شابا فقال: أما وجدتم أحدا تأتوني به غير هذا الشاب؟ فتكلم صعصعة بن صوحان بكلام، فقال عثمان أتل فقال: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} فقال: كذبت ليست لك، ولا لأصحابك، ولكنها لي ولأصحابي". "ش وابن مردويه كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد
4525: ۔۔ عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کے پاس صعصعہ بن صوحان نے (اپنے حق میں) یہ آیت پڑھی :

اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا ۔۔۔ الحج : 39

حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : تجھ پر افسوس ہے یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ہم کو ناحق مکہ سے نکال دیا گیا تھا۔ رواہ ابن عساکر۔
4525- عن عبد الله بن حارث بن نوفل أن صعصعة بن صوحان قرأ عند عثمان: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا} فقال له عثمان:"ويحك ما نزلت هذه الآية إلا في، وفي أصحابي، أخرجنا من مكة بغير حق". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد
4526: ۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہمارے بارے میں یہ حکم الہی نازل ہوا :

الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق ۔۔۔ تا۔۔۔ عاقبۃ الامور۔ الحج : 40 ۔ 41

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بیشک خدا توانا (اور) غالب ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔

پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ہم کو ناحق ہمارے گھروں سے بےگھر کیا گیا پھر ہم کو زمین میں حکومت دی گئی تو ہم نے نماز قائم کی، زکوۃ ادا کی، نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا، پس یہ فرمان الہی میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوا تھا۔ (عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)
4526- عن عثمان بن عفان قال: "فينا أنزلت هذه الآية: {الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} والآية التي بعدها، أخرجنا من ديارنا بغير حق، ثم مكنا في الأرض، فأقمنا الصلاة، وآتينا الزكاة، وأمرنا بالمعروف، ونهينا عن المنكر؛ فهي لي ولأصحابي". "عبد بن حميد وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کی تعمیر کا ذکر
4527: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (ان کے بیٹے اور بیوی یعنی) اسماعیل اور ہاجرہ بھی نکلیں جب مکہ پہنچے تو بیت اللہ کی جگہ ایک بادل کو اپنے سر پر سایہ فگن دیکھا۔ اس بادل میں سر کی مانند کوئی چیز تھی جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کلام کیا اور کہا :

اے ابراہیم ! میرے سائے پر بنیاد رکھو یا فرمایا : میری مقدار کے بقدر بنیاد رکھو۔ اس میں زیادتی نہ کرو نہ کمی کرو۔ پھر جب تعمیر مکمل ہوگئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہاں سے چلے گئے اور اپنے پیچھے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ہاجرہ (علیہا السلام) کو چھوڑ گئے۔ اور اسی کی طرف فرمان الہی کا اشارہ ہے :

و اذ بوانا لابراہیم مکان البیت الخ۔ الحج : 26

اور (ایک وقت تھا) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو صاف رکھا کرو۔ (ابن جریر، مستدرک الحاکم)
4527- عن علي قال: "لما أمر إبراهيم ببناء البيت خرج معه إسماعيل وهاجر فلما قدم مكة رأى على رأسه في موضع البيت مثل الغمامة، فيه مثل الرأس فكلمه، فقال: يا إبراهيم ابن على ظلي أو على قدري، ولا تزد، ولا تنقص، فلما بنى خرج وخلف إسماعيل وهاجر وذلك حين يقول الله تعالى: {وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ} "الآية. "ابن جرير ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد کی حکمت
4528: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ " الایام المعلومات " یوم النحر (قربانی کا دن) اور اس کے بعد کے تین ایام ہیں۔ ابن المنذر
4528- عن علي قال: "الأيام المعلومات يوم النحر، وثلاثة أيام بعده". "ابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد کی حکمت
4529: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : یہ آیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے :

ولولا دفع اللہ الناس الخ۔ الحج۔ 40

اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومع اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بیشک خدا توانا (اور) غالب ہے۔

کیونکہ اگر اللہ پاک محمد کے اصحاب کے ذریعے کافروں کو نہ ہٹاتا تو صومعے، گرجے اور عبادت خانے سب تہس نہس ہوجاتے۔

ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
4529- عن علي قال: "إنما أنزلت هذه الآية في أصحاب محمد: {وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ} الآية قال: إنما أنزلت هذه الآية في أصحاب محمد، ولولا دفع الله بأصحاب محمد عن الناس {لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ} . "ابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد کی حکمت
4530: ۔۔ ثابت بن عوسجہ حضرمی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں مجھے حضرت علی (رض) اور حضرت عبداللہ (رض) کے ستائیس ساتھیوں نے جن میں لاحق الاقمر، عیزار بن جزول اور عطیہ قرظی وغیرہ بھی شامل ہیں بیان کیا کہ۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ آیت " ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ کیونکہ اگر اللہ پاک اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے بعض کو بعض سے نہ ہٹاتا رہتا تو صومع گرجے سب منہدم ہوجاتے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4530- عن ثابت بن عوسجة الحضرمي قال: حدثني سبعة وعشرون من أصحاب علي وعبد الله، منهم لاحق الأقمر والعيزار بن جرول وعطية القرظي أن عليا قال: "إنما أنزلت هذه الآية في أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم: {وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ} ولولا دفاع الله الناس بعضهم ببعض بأصحاب محمد عن التابعين لهدمت صوامع وبيع". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشروعیت جہاد کی حکمت
4531: ۔۔ قیس بن عباد حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : قیامت کے دن رحمن کے سامنے فیصلے کے لیے سب سے پہلے میں گھٹنے ٹیکوں گا۔ قیس (رح) فرماتے ہیں : انہی (اصحاب محمد) کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے :

ھذان خصمان اختصموا فی ربہم ۔ الحج : ا 9

یہ دو فریق جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔

فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر میں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہوئے تھے۔ انہی میں سے حضرت علی ، حضرت حمزہ اور حضرت عبید بن الحارث (رض) اور (مشرکین میں سے) عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ بھی ہیں۔ (ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی، ابن جریر، الدورقی، الدلائل للبیہقی)
4531- عن قيس بن عباد عن علي قال: "أنا أول من يجثو بين يدي الرحمن للخصومة يوم القيامة" قال قيس: وفيهم نزلت هذان خصمان اختصموا في ربهم، قال هم الذين بارزوا يوم بدر علي، وحمزة، وعبيدة بن الحارث، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة. "ش خ ن وابن جرير والدورقي ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক: