কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৪৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کا ذکر
4492: ۔۔ ابو الورقاء (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : ذو القرنین کی یہ قرنین کیا چیز تھے ؟ (قرن کے معنی سینگ کے آتے ہیں قرنین دو سینگوں والا) تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : تمہارا خیال ہوگا کہ وہ سونے یا چاندی کے سینگ تھے۔ درحقیقت اللہ نے ان کو ایک قوم کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر آپ کے بائیں جانب سر پر چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو پھر زندہ کردیا اور لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا : پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر آپ کے بائیں جانب سر پر چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو پھر زندہ کردیا اور لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا : پھر ایک شخص نے کھرے ہو کر آپ کے سر پر دائیں طرف چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے اسی وجہ سے اللہ نے آپ کو ذوالقرنین فرمایا۔ ابو الشیخ فی العظمۃ۔

فائدہ : ۔۔ قرن کے معنی سینگ کے علاوہ اور بہت سے آتے ہیں جن میں ایک معنی سر کی ایک جانب بھی ہے جہاں جانوروں کو سینگ نکلتے ہیں چنانچہ دونوں جانبوں کو قرنین کہا گیا ہے اور ذو کا معنی والا ہے اس طرح آپ کا نام ذوالقرنین پڑگیا۔
4492- عن أبي الورقاء قال: "قلت لعلي بن أبي طالب: ذو القرنين ما كان قرناه؟ قال لعلك تحسب بأن قرنيه ذهب أو فضة؟ كان نبيا بعثه الله إلى ناس، فدعاهم إلى الله تعالى، فقام رجل فضرب قرنه الايسر، فمات ثم بعثه الله فأحياه، ثم بعثه إلى ناس، فقام رجل فضرب قرنه الأيمن فمات فسماه الله ذا القرنين". "أبو الشيخ في العظمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کا ذکر
4493: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ان سے حضرت ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا : حضرت علی (رض) نے جوابا ارشاد فرمایا : وہ ایک عام بندہ خدا تھے۔ انھوں نے اللہ سے محبت قائم کی، اللہ نے بھی ان سے محبت قائم کی، انھوں نے اللہ کے لیے سچائی اور خلوص کا راستہ اپنایا اللہ نے ان کو اپنا برگزیدہ کرلیا۔ پھر اللہ نے ان کو اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو اللہ کی طرف بلائیں، چنانچہ انھوں نے ان کو اللہ کی طرف اور اسلام کی طرف دعوت دی۔

آپ کی قوم نے آپ کے سر کے دائیں طرف چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے۔ پھر جتنی مدت اللہ نے چاہا آپ کو یونہی رہنے دیا۔ پھر دوبارہ اٹھایا اور دوسری قوم کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لیے مبعوث فرمایا : چنانچہ انھوں نے حکم کی بجا آوری کی۔ دوسری قوم والوں نے آپ کے سر کے بائیں جانب چوٹ ماری جس کے صدمے سے آپ پھر ہلاک ہوگئے۔ اللہ نے جتنی مدت چاہا (اس بار بھی موت کی چادر میں) لپٹے رہنے دیا۔ پھر اللہ نے ان کو اٹھایا اور بادلوں کو آپ کے تابع کردیا۔ اور ان کے انتخاب میں آپ کو اختیار دیا۔ حضرت ذوالقرنین نے سخت بادلوں کو نرم بادلوں کے مقابلے میں پسند کیا چونکہ وہ برستے نہیں۔

اور نور (روشنی) آپ کے لیے کشادہ کردی اور اسباب کی خوب فراوانی عطا کی دن اور رات آپ کے لیے برابر کردیے انہی نعمتوں کی بدولت آپ نے زمین کے مشرق و مغرب تمام کو یوں کھنگال ڈالا۔ (ابن اسحاق، الفریابی، کتاب من عاش بعد الموت لابن ابی الدنیا، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4493- عن علي سئل عن ذي القرنين؟ فقال: "كان عبدا أحب الله فأحبه، وناصح الله تعالى فناصحه، فبعثه إلى قومه يدعوهم إلى الله فدعاهم إلى الله، وإلى الإسلام، فضربوه على قرنه الأيمن فمات، فأمسكه الله ما شاء ثم بعثه، فأرسله إلى أمة أخرى يدعوهم إلى الإسلام، ففعل فضربوه على قرنه الأيسر فمات، فأمسكه الله ما شاء ثم بعثه، فسخر له السحاب، وخيره فيه فاختار صعبه على ذلوله، وصعبه الذي لا يمطر وبسط له النور ومد له الأسباب، وجعل الليل والنهار عليه سواء فبذلك بلغ مشارق الأرض ومغاربها". "ابن إسحاق والفريابي وابن أبي الدنيا في كتاب من عاش بعد الموت وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوالقرنین کا ذکر
4494: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ترک کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : وہ ہر وقت گردش میں رہنے والے لوگ ہیں۔ ان کا کوئی مستقل ٹھکانا نہیں اور یہ یاجوج ماجوج کی قوم میں سے ہیں۔ یہ لوگوں پر غارت گری اور فساد مچانے نکلتے تھے۔ چنانچہ حضرت ذوالقرنین نے آ کر ان کے اور دوسرے لوگوں کے درمیان (سد سکندری نامی) دیوار کھڑی کردی۔ اب وہ (دیوار کے اس پار) زمین میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ابن المنذر۔
4494- عن علي أنه سئل عن الترك؟ فقال: "هم سيارة، ليس لهم أصل هم من يأجوج ومأجوج، لكنهم خرجوا يغيرون على الناس فجاء ذو القرنين فسد بينهم وبين قومهم، فذهبوا سيارة في الأرض". "ابن المنذر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یاجوج ماجوج کا ذکر
4495: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : یاجوج ماجوج دیوار کے پیچھے ہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں مرتا جب تک کہ اس کی اولاد میں سے ہزار افراد پیدا ہوجائیں۔ و ہر روز صبح کو دیوار پر آتے ہیں اور اس کو چاٹتے ہیں حتی کہ اس کو انڈے کے چھلکے کی مانند کرکے چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے یں۔ چلو کل اس کو کھول لیں گے ۔ چنانچہ جب وہ اگلے روز صبح کو آتے ہیں تو چاٹنے سے پہلے دیوار جس حالت پر تھی اس پر پاتے ہیں۔

پس یہ لوگ اسی طرح مشقت میں مبتلا رہیں گے حتی کہ ان میں ایک مسلمان پیدا ہوگا۔ پھر جب وہ صبح کو جائیں گے تو یہ مسلمان ان کو کہے گا : بسم اللہ کہو۔ پس وہ بسم اللہ کہہ کر کام شروع کردیں گے۔ شام کو وہ لوٹنا چاہیں گے اور کہیں گے کل اس کو کھول دیں گے۔ مسلمان ان کو کہے گا ان شاء اللہ کہو۔ چنانچہ وہ ان شاء اللہ کہیں گے۔ پھر وہ صبح کو آئیں گے تو دیوار کو گزشتہ شام کی حالت پر چھلکے کی طرح ہی پائیں گے ۔ لہٰذا وہ اس میں بآسانی سوراخ کرلیں گے۔ اور وہاں سے نکل نکل کر انسانوں پر امڈ آئیں گے سب سے پہلے جو نکلیں گے وہ ستر ہزار تعداد میں ہوں گے جن کے سروں پر تاج ہوں گے۔ اس کے وہ فوج در فوج نکلتے ہی جائیں گے۔ پھر وہ تمہاری اس نہر فرات کی طرح کسی نہر پر آئیں گے تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے ان کے پیچھے والی فوج آئے گی تو نہر کو خشک دیکھ کر کہے گی : یہاں کبھی پانی ہوتا ہوگا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

فاذا جاء وعد ربی جعلہ دکاء و کان وعد ربی حقا۔ الکہف : 98 ۔

جب میرے پروردگار کا وعدہ آجائے گا تو اس کو (ڈا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : الدکاء ریت ہے۔ (یعنی اس دیوار کو ریت کا گھروندہ بنا دے گا۔ ابن ابی حاتم۔
4495- عن علي قال: "إن يأجوج ومأجوج خلف السد، لا يموت أحدهم حتى يولد له ألف لصلبه، وهم يغدون كل يوم على السد فيلحسونه وقد جعلوه مثل قشر البيض، فيقولون نرجع غدا فنفتحه، فيصبحون وقد عاد إلى ما كان عليه قبل أن يلحس، فلا يزالون كذلك حتى يولد فيهم مولود مسلم، فاذا غدوا يلحسون قال لهم قولوا: بسم الله، فاذا قالوا بسم الله، فأرادوا أن يرجعوا حين يمسون، فيقولون نرجع غدا فنفتحه، فيقول قولوا: إن شاء الله، فيقولون إن شاء الله فيصبحون وهو مثل قشر البيضة، فينقبونه، فيخرجون منه على الناس، فيخرج أول من يخرج منهم على الناس، سبعون ألفا، عليهم التيجان، ثم يخرجون بعد ذلك أفواجا، فيأتون على النهر مثل نهركم هذا يعني الفرات، فيشربونه، حتى لا يبقى منه شيء، ثم يجيء الفوج منهم حتى ينتهوا إليه، فيقولون: لقد كان ها هنا ماء مرة، وذلك قول الله: {فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ} والدكاء التراب {وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقّاً} . "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یاجوج ماجوج کا ذکر
4496: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد خداوندی :

قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضل سعیہم فی الحیاۃ الدنیا۔ الخ۔ الکہف۔ 103 ۔ 104 ۔

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں۔ وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی برباد ہوگئی۔

کے متعلق ارشاد فرمایا : یہ دو راہب لوگ ہیں جنہوں نے گرجوں میں اپنے آپ کو مقید کرلیا ہے۔ ابن المنذر ابن ابی حاتم۔
4496- عن علي في قوله تعالى: {قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} الآية قال: "هم الرهبان الذين حبسوا أنفسهم في السواري". "ابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یاجوج ماجوج کا ذکر
4497: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا :

قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمال۔ الکہف : 103 ۔

کہہ دو کیا ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں۔

تو حضرت علی (رض) نے فرمایا :

میرا خیال ہے کہ ضرور خوارج لوگ انہی میں سے ہیں۔ عبدالرزاق، الفریابی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
4497- عن علي أنه سئل عن هذه الآية: {قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً} قال: "لا أظن إلا أن الخوارج منهم". "عب والفريابي وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوجہل اور اس کے ساتھی کفر کا سرغنہ ہیں
4498: ۔۔ حضرت مصعب (رح) بن سعد (رض) بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ ایک شخص نے (میرے والد صحابی رسول ) حضرت سعد رضی عنہ کو کہا : میں سمجھتا ہوں کہ تم کفر کے سرغنہ لوگوں میں سے ہو ! حضرت سعد (رض) نے اس کو فرمایا تو جھوٹ بولتا ہے، وہ تو ابوجہل اور اس کے ساتھی ہیں۔ اس شخص نے پوچھا اچھا وہ لوگ وہی ہیں جن کے بارے میں فرمان خداوندی ہے۔

الذین ضل سعیہم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔ الکھف : 104

وہ لوگ جن کی سعی دنیا میں بےکار ہوگئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں۔

حضرت سعد (رض) نے فرمایا : نہیں بلکہ ان (یعنی ابوجہل اور اس کے اصحاب) کے بارے میں تو یہ فرمان الہی ہے :

اولئک الذین کفرو بآیات ربہم ولقاہ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیامۃ وزنا ۔ الکہف :105

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ رواہ ابن عساکر۔
4498- عن مصعب بن سعد1 أن رجلا قال لسعد: "أشهد أنك من أئمة الكفر، فقال له سعد: كذبت ذاك أبو جهل وأصحابه فقال رجل لسعد هذا من الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا، قال: لا، أولئك الذين حبطت أعمالهم فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ علم والا کون ؟
4499: ۔۔ مسند ابی (رض)) حضرت ابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کیا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں سب لوگوں سے زیادہ علم والا ہوں۔ اللہ پاک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب سے ناراض ہوگئے کہ یہ کیوں نہیں کہا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ لوگوں میں کہ کون زیادہ علم والا ہے ؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ دونوں سمندروں کے سنگم پر میرا ایک بندہ ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! میرے لیے اس سے ملاقات کا کیا ذریعہ ہے ؟ فرمایا : تھیلے میں ایک مچھلی لو۔ (اور سفر پر چل دو ) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہی تمہاری منزل ہے۔

چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چل دیے اور اپنے ساتھ ایک نوجوان یوشع بن نون کو بھی لے لیا۔ دونوں نے ایک تھیلے میں مچھلی بھی ساتھ کرلی۔ حتی کہ جب وہ ایک چٹان پر پہنچے تو لیٹ کر سو گئے۔ مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں چلی گئی۔ اور اس کے جانے کا نشان سمندر میں باقی رہ گیا۔ اسی نشان پر موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع (علیہ السلام) کو بہت تعجب ہوا۔ پھر دونوں باقی دن اور رات سفر کرتے رہے اگلے دن صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت یوشع (علیہ السلام) کو فرمایا : ہمارا کھانا لاؤ۔ اس سفر میں بڑی تھکاوٹ ہوگئی ہے۔ اور یہ تھکاوٹ اس مقررہ جگہ سے آگے نکلنے کے بعد پہنچی تھی جس جگہ کا اللہ نے ان کو حکم فرمایا تھا چنانچہ جوان نے جواب دیا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم جب چٹان پر تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اسی مقام کی تو ہم کو تلاش تھی۔ چنانچہ دونوں اپنے نشانات قدم پر واپس لوٹے جب وہ واپس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک شخص کو کپڑا اوڑھے لیٹا ہوا پایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سلام کیا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : تیری سرزمین میں یہ سلام کہاں سے آیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں ہوں موسیٰ۔ خضر (علیہ السلام) نے پوچھا : بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ موسیٰ نے فرمایا : جی ہاں۔ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ جو آپ کو علم سکھایا گیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے۔ اے موسیٰ ! میں ایک علم پر ہوں جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ اور تم بھی اللہ کے علم میں سے ایک علم پر ہو جس کو میں نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم مجھے ان شاء اللہ صابرین میں سے پاؤگے اور میں آپ کی نافرمانی بھی نہیں کروں گا۔ چنانچہ دونوں ساحل کے کنارے کنارے چلنے لگے راستے میں ایک کشتی ملی کشتی والوں سے بات کی کہ ہم دونوں کو سوار کرلیں۔ چنانچہ کشتی والوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان کر بغیر کرائے کے دونوں کو سوار کرلیا۔ ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اور سمندر میں ایک یا دو چونچ ماری۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : اے موسیٰ (علیہ السلام) میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے اس سمندر سے چڑیا نے ایک یا دو چونچ پانی پی لیا ہوگا۔

پھر حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ اکھاڑ دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

ان لوگوں نے ہم کو بغیر کرائے کے سوار کیا جبکہ آپ نے ان کی کشتی پھاڑ ڈالی تاکہ اس میں سوار لوگ غرق ہوجائیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھ سے بھول ہوگئی اس پر میرا مواخذہ نہ کیجیے۔ یہ پہلی بار تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول ہوئی تھی۔ پھر دونوں چل پڑے۔ دیکھا کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل کود رہا ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اوپر سے اس کا سر پکڑا اور گردن توڑ دی۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تو نے ایک معصوم جان قتل کردی۔ بغیر کسی پاداش کے ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : میں نے کہا تھا نا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکوگے۔ پھر دونوں آگے چل پڑے۔ حتی کہ ایک بستی میں پہنچے۔ دونوں حضرات نے بستی والوں سے کھانا پانی طلب کیا۔ لیکن انھوں نے ان دو حضرات کی مہمان نوازی کرنے سے یکسر انکار کردیا۔ پھر دونوں کو ایک دیوار نظر آئی جو قریب تھا ک گرجاتی حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس دیوار کو سیدھا کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

اگر تم چاہو تو اس دیوار ٹھیک کرنے کی اجرت لے سکتے ہو۔ تب حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : پس یہ تمہارا اور میرا فرق کا وقت آگیا ہے۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائیں۔ اگر وہ صبر کرتے تو ہمیں ان کے اور بھی واقعات ملتے۔ (مسند احمد، الحمیدی، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، شعب الایمان للبیہقی)
4499- "مسند أبي" عن أبي قال: "قام موسى خطيبا في بني إسرائيل فسئل أي الناس أعلم؟ فقال موسى: أنا أعلم، فعتب الله عليه إذ لم يرد العلم إليه؟ فأوحى الله تعالى إليه أن لي عبدا بمجمع البحرين، هو أعلم منك، قال موسى: يا رب، وكيف لي به؟ فقيل له: احمل حوتا في مكتل، فاذا فقدته فهو ثم، فانطلق، وانطلق معه فتاه يوشع بن نون وحملا حوتا في مكتل حتى كانا عند الصخرة، فوضعا رؤسها فناما، فانسل الحوت من المكتل، فاتخذ سبيله في البحر سربا، وكان لموسى وفتاه عجبا فانطلقا بقية يومهما وليلتهما، فلما أصبحا قال موسى لفتاه: آتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا، ولم يجد موسى مسا من النصب حتى جاوز المكان الذي أمره الله به، فقال له فتاه: أرأيت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت، قال موسى: ذلك ما كنا نبغي. فارتدا على آثارهما قصصا، فلما انتهيا إلى الصخرة إذا رجل مسجى بثوب، فسلم موسى فقال الخضر: وأنى بأرضك السلام، قال أنا موسى، قال: موسى نبي إسرائيل؟ قال نعم، قال: أتبعك على أن تعلمني مما علمت رشدا؟ قال: إنك لن تستطيع معي صبرا، ياموسى إني على علم من علم الله علمنيه لا تعلمه أنت، وأنت على علم من علم الله علمك الله لا أعلمه، قال: ستجدني إن شاء الله صابرا ولا أعصي لك أمرا فانطلقا يمشيان على الساحل فمرت سفينة فكلموهم أن يحملوهما فعرفوا الخضر فحملوهما بغير نول، وجاء عصفور فوقع على حرف السفينة، فنقر نقرة أو نقرتين في البحر، فقال الخضر ياموسى: ما نقص علمي وعلمك من علم الله تعالى إلا كنقرة هذا العصفور في هذا البحر، فعمد الخضر إلى لوح من ألواح السفينة فنزعه، فقال موسى: قوم حملونا بغير نول، عمدت إلى سفينتهم فخرقتها لتغرق أهلها؟ قال: ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا قال لا تؤاخذني بما نسيت فكانت الأولى من موسى نسيانا، فانطلقا فاذا غلام يلعب مع الغلمان، فأخذ الخضر برأسه من أعلاه فاقتلع رأسه بيده، فقال موسى: أقتلت نفسا زكية بغير نفس؟ قال: ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا فانطلقا حتى إذا أتيا أهل قرية استطعما أهلها فأبوا أن يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد أن ينقض فأقامه، قال فأقامه الخضر بيده، فقال موسى: لو شئت لاتخذت عليه أجرا. قال: هذا فراق بيني وبينك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يرحم الله موسى لوددنا لو صبر حتى يقص علينا من أمرهما". "حم والحميدي خ م ت ن وابن خزيمة وأبو عوانة هب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ علم والا کون ؟
4500: ۔ (ابی بن کعب (رض)) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ فرمان باری تعالیٰ :

فابوا ان یضیفوھما۔ الکھف۔

بستی والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا۔

لیکن یہ مذکورہ بستی والے کمینے لوگ تھے۔ (نسائی، الدیلمی، ابن مردویہ)
4500- "عن أبي بن كعب" عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} قال: "كانوا أهل قرية لئاما". "ن والديلمي وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ علم والا کون ؟
4501: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

خیرا منہ زکوۃ واقرب رحما۔ الکھف : 81

ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں بہتر اور محبت میں زیادہ قریب ہو۔ اس کی ماں اس وقت دوسرے بچے کے ساتھ حاملہ ہوگئی۔
4501- عن أبي بن كعب قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: في قوله تعالى {خَيْراً مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْماً} "تلقفت أمه عند ذلك بغلام". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ علم والا کون ؟
4502: ۔۔ عبدالوہاب بن عطاء الخفاف کہتے ہیں کلبی (رح) سے سوال کیا گیا جس پر میں بھی گواہ ہوں کہ اس کا کیا مطلب فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادہ ربہ احدا۔ الکھف آخری آیت۔

پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب کی ملاقات کی وہ عمل کرے اچھا عمل اور اپنے رب کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔

کلبی (رح) نے فرمایا : ہم سے ابو صال نے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن غنم (رض) سے روایت ہے کہ وہ دمشق کی جامع مسجد میں دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے انہی میں حضرت معاذ بن جبل (رض) بھی تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن غنم (رض) نے فرمایا :

اے لوگو ! میں تم پر سب سے زیادہ شرک خفی کا خوف کرتا ہوں۔

جزیرۃ العرب کا شرک سے پاک ونا۔

حضرت معاذ (رض) نے فرمایا :

اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما۔ پھر فرمایا : کیا تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں سنا جب آپ ہمیں الوداع کہنے کے قریب تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ اس جزیرے میں اس کی عبادت کی جائے گی۔ لیکن ان اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے گی جن کو تم حقیر خیال کرتے ہو۔ اور وہ اسی پر راضی ہوگیا ہے عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : اے معاذ ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ نہیں سنا : جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔

تو یہ قوم پر سخت گذری اور ان کو شدت محسوس ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

کیا میں اس کو کشادگی والا نہ کردوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ضرور، اللہ پاک آپ کو بھی کشادگی مرحمت فرمائے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

یہ آیت سور روم کی آیت کی طرح ہے :

وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ۔ الروم : 39

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک افزائش نہیں ہوتی۔ پس جس نے دکھاوے کے لیے عمل کیا وہ اس کے لیے نفع دہ ہے اور نہ نقصان دہ ۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4502- عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف2 قال: "سئل الكلبي وأنا شاهد عن قول الله تعالى {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً} فقال: حدثنا أبو صالح عن عبد الرحمن بن غنم أنه كان في مسجد دمشق مع نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيهم معاذ بن جبل، فقال عبد الرحمن: ياأيها الناس إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الخفي، فقال معاذ بن جبل: اللهم غفرا أو ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حيث ودعنا: "إن الشيطان قد يئس أن يعبد في جزيرتكم هذه، ولكن يطاع فيما تحقرون من أعمالكم"، فقد رضي فقال عبد الرحمن أنشدك الله يامعاذ، أو ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من صام رياء فقد أشرك، ومن تصدق رياء فقد أشرك، ومن صلى رياء فقد أشرك" فقال معاذ: لما تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً} شق على القوم ذلك، واشتد عليهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أولا أفرجها عنكم؟ قالوا بلى يا رسول الله، فرج الله عنك الأذى، فقال: هي مثل الآية في الروم: {وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ} فقال صلى الله عليه وسلم: من عمل رياء لم يكتب له ولا عليه ". "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة مريم
4503: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عباس (رض) عنما سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو عرض کیا : نصاری اپنے مذبح خانوں پر پردے کیوں لٹکاتے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نصاری اپنے مذبح خانوں اور عبادت گاہوں کو مستور (پردے میں) رکھتے ہیں کیونکہ :

فاتخذت من دونہم حجابا۔ مریم : 17 ۔

تو مریم نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔
4503- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس أنه قال لعمر بن الخطاب: بم استحبت النصارى الحجب على مذابحهم؟ قال: إنما استحبت النصارى الحجب على مذابحهم ومناسكهم لقول الله: {فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَاباً} . "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة مريم
4504: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا :

یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ مریم :75 ۔

جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمن کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وفد تو وہ ہوتا ہے جو سوار ہو کر آتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب وہ اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے پاس ایک سفید اونٹنی لائی جائے گی۔ اس کے پر ہوں گے اور وہ اس پر سونے کے کجاوے لگے ہوں گے حتی کہ وہ جنت کے دروازے پر پہنچ جائیں گے۔ دیکھیں گے کہ سونے کے کو اڑوں پر سرخ یاقوت کا حلقہ ہے اور جنت کے دروازے پر ایک درخت ہے اس کی جڑ سے دو چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ جب ایک چشمے سے پانی پیتا ہے تو ان کے پیٹ کی تمام گندگی دھل جاتی ہے اور دوسرے چشمے میں غسل کرتے ہیں تو کبھی بھی ان کے بال پراگندہ ہوں گے اور نہ ان کی کھال آلودہ ہوگی۔ پھر وہ کواڑ پر لگے حلقے تو کھٹکھٹاتے ہیں۔ اے علی ! تم اس حلقہ سے نکلنے والی آواز لو (و کیا ہی دلکش آواز ہوتی ہے جس کو سن کر) تمام حوریں متوجہ ہوجاتی ہیں کہ ان کا شوہر آگیا ہے اور جلدی جلدی وہ تیار ہوتی ہیں پھر دربان کو دروازہ کھولنے بھیجتی ہیں۔ جنتی دربان کو دیکھتا ہے تو (اس کو خدا سمجھ کر) سجدے میں پڑجاتا ہے۔ دربان اس کو کہتا ہے۔ اپنا سر اٹھاؤ میں تو ایک آپ کا دربان ہوں جو آپ کی خدمت کے لیے مقرر ہوا ہوں۔ چنانچہ دربان اس کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے۔ حوروں کو جلد بازی کی وجہ سے خفت اور پشیمانی ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنے یاقوت اور موتیوں کے خیموں میں سے نکلتی ہیں اور اس کے گلے سے لپٹ جاتی ہیں۔ اور ہر ایک کہتی ہے میں تیری محبت ہوں اور تو میری محبت۔ میں تجھ سے خوش ہوں کبھی ناراض نہ ہوں گی۔ میں ہمیشہ ترو تازہ رہوں گی کبھی میری جوانی نہ ڈھلے گی۔ میں ہمیشہ زندہ رہوں گی کبھی نہ مروں گی۔ ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گی کبھی جدا نہ ہوں گی۔ پھر جنتی اپنے کمرے میں داخل ہوگا جس کی بنیاد سے چھت تک سو ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ لولو اور یاقوت پر اس کی بنیاد قائم ہوگی۔ گھر میں کوئی راستہ سرخ ہوگا کوئی سبز اور کوئی زرد کوئی راستہ دوسرے راستے جیسا نہ ہوگا۔ کمرے میں ستر مسہری ہوں گی ۔ ہر مسہری پر ستر بستر ہوں گے جن پر ستر حوریں (جلوہ آراء ) ہوں گی۔ حوروں پر ستر جوڑے ہوں گے تمام جوڑوں کے پاس سے بھی اس کی پنڈلی کا گودا نظر آے گا۔ تمہاری ان راتوں میں سے ایک رات جتنے وقت ان سے جماع پورا ہوگا۔ نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ایک دوسری کے پیچھے بہہ رہی ہوں گی، ان میں نہ خراب ہونے والا صاف شفاف بغیر گدلے پن کے پانی ہوگا، کچھ نہریں دودھ کی ہوں گی جن کا ذائقہ کبھی خراب نہ ہو جو جانوروں کے تھنوں سے نہ نکلا ہوگا۔ کچھ نہریں شراب کی ہوں گی، پینے والوں کے لیے لذت سے بھرپور ، جن کو لوگوں نے پیروں کے ساتھ نہ نچوڑا ہوگا۔ کچھ نہریں خالص شہد کی ہوں گی جو وہ شہد کی مکھیوں کے پیٹ سے نہ نکلا ہوگا جو پھلوں سے میٹھا ہو۔ پھر جنتی چاہے تو کھڑے ہو کر کھائے چاہے تو بیٹھ کر کھائے اور چاہے تو تکیہ لگا کر کھائے۔ کھانے کو دل چاہے گا تو سفید پرندہ جنتی کے پاس آئے گا وہ اپنے پروں کو اٹھائے گا۔ جنتی اس کے پہلو سے کئی طرح کے گوشت کھائے گا۔ پھر پرندہ اڑ جائے گا۔ فرشتہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا :

سلام علیکم تلکم الجنۃ التی اور ثتمہوھا بما کنتم تعملون۔

تم پر سلام ہو یہ جنت جس کا تم کو وارث بنایا گیا ہے اس کے صلہ میں جو تم عمل کرتے تھے۔ (ابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ، ابن ابی حاتم، الضعفاء للعقیلی)

کلام : ۔ امام عقیلی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔ یہ حدیث محفوظ نہیں ہے۔ کنز ج 2 ص 462 ۔
4504- عن علي قال "سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الآية: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْداً} قلت يا رسول الله: هل الوفد إلا الركب؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: "والذي نفسي بيده إنهم إذا خرجوا من قبورهم استقبلوا بنوق بيض، لها أجنحة وعليها رحال الذهب، شرك نعالهم نور يتلألأ، كل خطوة منها، مثل مد البصر، وينتهون إلى باب الجنة، فإذا حلقة من ياقوتة حمراء على صفائح الذهب، وإذا شجرة على باب الجنة، ينبع من أصلها عينان، فاذا شربوا من إحدى العينين فيغسل ما في بطونهم من دنس، ويغتسلون من الأخرى، فلا تشعث أشعارهم، ولا أبشارهم بعدها أبدا، فيضربون الحلقة على الصفحة، فلو سمعت طنين الحلقة يا علي، فيبلغ كل حوراء أن زوجها قد أقبل فتستخفها العجلة، فتبعث قيمها فيفتح له الباب، فإذا رآه خر له ساجدا فيقول له: ارفع رأسك، إنما أنا قيمك، وكلت بأمرك، فيتبعه ويقفو فتستخف الحوراء العجلة، فتخرج من خيام الدر والياقوت حتى تعتنقه، ثم قال: تقول أنت حبي وأنا حبك، وأنا الراضية فلا أسخط أبدا، وأنا الناعمة فلا أبأس أبدا، وأنا الخالدة فلا أموت أبدا، وأنا المقيمة فلا أظعن أبدا، فيدخل بيتا من أساسه إلى سقفه مائة ألف ذراع، بني على جندل اللؤلؤ والياقوت، طرائق حمر، وطرائق خضر، وطرائق صفر، ما فيها طريقة تشاكل صاحبتها، وفي البيت سبعون سريرا على كل سرير سبعون فراشا، عليها سبعون زوجة، على كل زوجة سبعون حلة، يرى مخ ساقها من وراء الحلل، يقضي جماعهن في مقدار ليلة من لياليكم هذه، تجري من تحتهم الأنهار، أنهار مطردة، أنهار من ماء غير آسن، صاف ليس فيه كدر، وأنهار من لبن لم يتغير طعمه ولم يخرج من ضروع الماشية، وأنهار من خمر لذة للشاربين، لم تعصرها الرجال بأقدامها، وأنهار من عسل مصفى، لم يخرج من بطون النحل فتستحلي الثمار فإن شاء أكل قائما، وإن شاء قاعدا، وإن شاء متكئا، فيشتهي الطعام فيأتيه طير بيض، فترفع أجنحتها، فيأكل من جنوبها أي لون شاء، ثم تطير فتذهب، فيدخل الملك فيقول: {سَلامٌ عَلَيْكُمُ} {تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} . "ابن أبي الدنيا في صفة الجنة وابن أبي حاتم عق". وقال غير محفوظ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة مريم
4505: ۔۔ نعمان بن سعد (رح) سے مروی ہے، فرماتے ہیں ہم حضرت علی (رض) کے پاس حاضر خدمت تھے۔ آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ مریم : 75 ۔

جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے۔

پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، اللہ کی قسم ! وہ لوگ اپنے پیروں پر چل کر نہیں آئیں گے اور نہ پیروں پر کھڑے حاضر ہوں گے اور نہ ان کو ہانک کر لایا جائے گا۔ بلکہ جنت کی اونٹنیوں میں سے اونٹنیوں پر بٹھا کر لایا جائے گا۔ مخلوقات نے ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی۔ ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور ان کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی وہ ان پر سوار ہو کر آئیں گے۔ (ابن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الزیادات، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، البعث للبیہقی)

کلام : ۔۔ نعمان بن سعد ثقہ تابعی ہیں جو حضرت علی، حضرت اشعث بن قیس اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، ابن حبان (رح) نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے لیکن ان سے روایت کرنے والا راوی ضعیف ہے جس کی وجہ سے اس خبر سے دلیل نہیں لی جاسکتی۔ (تھذیب التھذیب 10/453 ۔ بحوالہ کنز العمال ج 2 ص 465)
4505- عن النعمان بن سعد1 قال: "كنا جلوسا عند علي فقرأ هذه الآية: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْداً} قال: لا والله ما على أرجلهم يحشرون، ولا يحشر الوفد على أرجلهم، ولا يساقون سوقا، ولكنهم يؤتون بنوق من نوق الجنة، لم ينظر الخلائق إلى مثلها، عليها رحال الذهب، وأزمتها الزبرجد، فيركبون عليها حتى يضربوا أبواب الجنة". "ش عم وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مروديه ك ق في البعث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة مريم
4506: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد باری تعالیٰ :

یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ مریم :75 ۔

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے۔

کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم ! ان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرکے پیش نہیں کیا جائے گا، نہ ان کو چلا کر لایا جائے گا۔ بلکہ جنت کی اونٹنیوں پر سوار کرکے لایا جائے گا۔ مخلوقات نے ان کے مثل اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی، ان کے کجاوے سونے کے ہوں گے، ان کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی وہ ان پر بیٹھے رہیں گے حتی کہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ابن ابی داؤد فی البعث، ابن مردویہ۔
4506- عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْداً} قال: "أما والله ما يحشرون على أقدامهم، ولا يساقون سوقا، ولكنهم يؤتون بنوق من نوق الجنة، لم ينظر الخلائق إلى مثلها، رحالها الذهب، وأزمتها الزبرجد، فيقعدون عليها حتى يقرعوا باب الجنة". "ابن أبي داود في البعث وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4507: ۔۔ (مسند عمر (رض) عن) حضرت عمر بن خطاب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمان باری تعالیٰ :

الرحمن علی العرش استوی۔ طہ : 5

رحمن عرش پر مستوی ہوا۔

کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ عرش کی آواز کجاوے کی طرح نکلتی ہے۔ ابن مردویہ، الخطیب فی التاریخ، السنن لسعید بن منصور)

فائدہ : ۔۔ خدا کی ذات کا بیان جن احادیث اور قرآنی آیات میں آتا ہے وہ آیات اور احادیث متشابہات کہلاتی ہیں، اسی طرح جن آیات کی مراد صرف اللہ کو معلوم ہے وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ جن کی کھوج میں لگنا گمراہی ہے۔ خدا کی صفات اور تخلیقات میں غور و فکر کا حکم آیا ہے نہ کہ ذات میں۔
4507- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} قال: "حتى يسمع له أطيط الرحل". "ابن مردويه خط ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4508: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس قدر عبادت کرتے اور نماز میں کھڑے رہتے کہ) اپنے قدموں کو بدلنے لگ جاتے۔ کبھی اس پاؤں کے سارے کھڑے ہوتے (اور کبھی اس پاؤں کے سہارے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے) حتی کہ یہ فرمان باری نازل ہوا :

طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی۔ طہ : 1 ۔ 2 ۔

طہ (اے محمد) ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ البزار۔

کلام : ۔۔ روایت کو ضعیف کہا گیا ہے۔ کنز ج 2 ص 466
4508- عن علي رضي الله عنه قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يراوح بين قدميه، يقوم على كل رجل حتى نزلت: {مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} ". "البزار" وضعف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4509: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ فرمان الہی :

فاخلع نعلیک۔ طہ :12 ۔

(اے موسیٰ) اپنے جوتے اتاریے۔ آپ پاک میدان طوی میں ہیں۔

(میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے جوتے اتارنے کا حکم دیا) کیونکہ وہ دونوں جوتیاں مردار گدھے کی کھال سے بنی ہوئی تھیں۔ (عبدالرزاق، الفریابی، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم)

وعظ میں نرم زبان استعمال کرنا
4509- عن علي في قوله تعالى: {فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ} قال: "كانتا من جلد حمار ميت، فقيل له اخلعهما".

"عب والفريابي وعبد بن حميد وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4510: ۔۔ فقولا لہ قولا لینا۔ طہ : 44

پس اس سے نرمی سے بات کرنا۔

حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نرمی سے بات کرنے سے مراد تھا کہ اس کا نام نہ لینا بلکہ اس کو کنیت سے پکارنا۔ ابن ابی حاتم۔

فائدہ : ۔۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبری عطا فرمائی تو فرمایا فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے نرمی سے بات کرنا۔ اس کی تفسیر میں کلبی (رح)، عکرمہ (رض) ، ابن عباس (رض) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یعنی اس کا نام لینے کے بجائے اس کو کنیت سے پکارنا۔ چونکہ بڑی ہستی کے لیے کنیت کے ساتھ پکارنایہ عرب کا عام طریقہ تھا۔ اسی وجہ سے مدینہ کے یہودی اسلام نہ لانے کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا ابا القاسم کہہ کر پکارتے تھے چونکہ آپ کا رسول ہونا وہ تسلیم نہ کرتے تھے کہ یا رسول اللہ ! کہتے۔

اسی وجہ سے معلوم ہوا کہ کسی صاحب مرتبہ کافر کو بطور تعظیم کنیت سے پکارنا جائز ہے۔

فرعون کی کنیت ہیں، ابو العباس، ابو الولید اور ابو مرہ کے کئی اقوال ہیں۔
4510 - عن علي في قوله: {فَقُولا لَهُ قَوْلاً لَيِّناً} قال: "كنه"1 "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة طه
4511: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی :

ویذھبا بطریقتکم المثلی : طہ۔ 63

اور تمارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں۔

کے متعلق فرماتے ہیں (فرعون نے موسیٰ علیہ و ہارون (علیہ السلام) کے متعلق یہ کہا تھا کہ) وہ دونوں لوگوں کو تمہارے مذہب سے برگشتہ کردیں گے (عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4511- عن علي في قوله تعالى: {وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَى} قال: "يصرفا وجوه الناس إليها". "عبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক: