কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৪৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفارء راشدین کے فضائل
4472: ۔۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ارشاد فرمایا :
اللہ کی قسم ! ہم اہل بدر کے بارے میں یہ فرمان خداوندی نازل ہوا :
ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ الحجر : 47 ۔
اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ہم اس کو نکال (کر صاف) کردیں گے۔ (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ (عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ)
سورة النحل
اللہ کی قسم ! ہم اہل بدر کے بارے میں یہ فرمان خداوندی نازل ہوا :
ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ الحجر : 47 ۔
اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ہم اس کو نکال (کر صاف) کردیں گے۔ (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ (عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ)
سورة النحل
4472- عن الحسن البصري1 قال قال علي بن أبي طالب: "فينا والله أهل بدر نزلت: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ}. "عب ص وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفارء راشدین کے فضائل
4473: ۔۔ (مسند علی (رض)) واقسموا باللہ جہد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت۔ النحل : 38 ۔
اور یہ خدا کی سخت قسمیں کھاتے ہیں جو مرجاتا ہے خدا اسے نہیں اٹھائے گا۔
حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔۔۔ الضعفاء للعقیلی ، ابن مردویہ۔ )
فائدہ : ۔۔ غالبا روایت کے الفاظ مکمل نہیں اس وجہ سے یہ مفہوم نکل رہا ہے ورنہ حضرت علی (رض) کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کریں جو بعث بعد الموت کا قائل نہ ہوں۔
اور یہ خدا کی سخت قسمیں کھاتے ہیں جو مرجاتا ہے خدا اسے نہیں اٹھائے گا۔
حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔۔۔ الضعفاء للعقیلی ، ابن مردویہ۔ )
فائدہ : ۔۔ غالبا روایت کے الفاظ مکمل نہیں اس وجہ سے یہ مفہوم نکل رہا ہے ورنہ حضرت علی (رض) کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کریں جو بعث بعد الموت کا قائل نہ ہوں۔
4473- "علي رضي الله عنه" عن علي في قوله تعالى: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ} قال: "نزلت في". "عق وابن مردويه". آية/38/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفارء راشدین کے فضائل
4474: ۔۔ حضرت علی (رض) سے فرمان الہی :
و منکم من یرد الی ارذ ال عمر۔ النحل : 70 ۔
اور تم میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔
کے متعلق تفسیر منقول ہے کہ خراب عمر سے مراد 75 سال کی عمر ہے۔ رواہ ابن جریر۔
و منکم من یرد الی ارذ ال عمر۔ النحل : 70 ۔
اور تم میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔
کے متعلق تفسیر منقول ہے کہ خراب عمر سے مراد 75 سال کی عمر ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4474 - عن علي في قوله تعالى: {وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ} قال: "خمس وسبعين سنة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفارء راشدین کے فضائل
4475: ۔۔ حضرت علی (رض) کا کچھ لوگوں کے پاس سے گذر ہوا جو آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم لوگ کس چیز میں مشغول ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : ہم مروت اور اخلاق کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم کو (اس موضوع پر) کتاب اللہ کا یہ فرمان کافی نہیں ہے کہ :
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان۔
اللہ تم کو عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
پھر فرمایا : عدل سے مراد انصاف ہے اور احسان انصاف کے بعد مزید انعام کرنا ہے۔ رواہ ابن النجار۔
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان۔
اللہ تم کو عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
پھر فرمایا : عدل سے مراد انصاف ہے اور احسان انصاف کے بعد مزید انعام کرنا ہے۔ رواہ ابن النجار۔
4475- عن علي أنه مر على قوم يتحدثون، فقال: "فيم أنتم؟ فقالوا نتذاكر المروءة، فقال: أو ما كفاكم الله في كتابه إذ يقول: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْأِحْسَانِ} . فالعدل الإنصاف، والإحسان التفضل فما بعد هذا". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہداء احد کی تعداد
4476: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ احد کے دن مسلمین انصار کے چونسٹھ 64 اور مسلمین مہاجرین کے چھ اشخاص شہید ہوئے۔ انہی چھ میں سے حضرت حمزہ (رض) (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا) بھی تھے۔ جن کا حلیہ مشرکین نے انتہائی بیدردی سے بگاڑ دیا تھا۔ انصار کہنے لگے : اگر کبھی اور کوئی دن جنگ کا ملا تو ہم سود کے ساتھ ان کو جواب دیں گے۔ چنانچہ فتح مکہ میں مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی (اور تمام کفار و مشرکین مسلمانوں کے زیر دست ہوگئے) تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا :
و ان عاقبتم فعاقبو بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین۔ النحل : 136 ۔
اور اگر تم ان کو تکلیف دینا چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو پہنچی ہے اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔
اسی بدلے کے غم میں ایک شخص نے فتح مکہ کے موقع پر کہا : آج کے بعد قریش کا نام و نشانہ رہے گا۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ آیت کی تعمیل میں ارشاد فرمایا :
ہم صبر کریں گے اور سزا نہیں دیں گے لہٰذا تم چار اشخاص کے سوا کسی کو بھی تکلیف پہنچانے سے گریز کرو۔ (ترمذی، حسن غریب، حدیث ابی (رض) زیادات عبداللہ بن احمد بن حنبل، نسائی، ابن المنزر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، فی الفوائد ابن حبان، الکبیر اللطبرانی ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم ، الدلائل للبیہقی۔
فائدہ : ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ مردوں اور چار عورتوں کے سوا قتل عام سے روک دیا تھا۔ مردوں میں عکرمہ بن ابی جہل، جو بعد میں مسلمان ہو کر عظیم کارنامے انجام دینے والے بنے۔ ہبار بن الاسود، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، مقیس بن صبابہ اللیثی، حویرث بن نقیذ، عبداللہ بن ہلال خطل ادرمی، عورتوں میں ہند بنت عتبہ (جس نے حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبایا تھا اور یہ بعد میں مسلمان ہوگئیں) عمرو بن ہاشم کی باندی سارہ، فرتنا اور قریبہ۔
ان دس افراد میں سے عبداللہ بن ہلال بن خطل، خوریث بن نقیذ اور مقیس بن صبابہ کو قتل کردیا تھا۔ دیکھئے الطبقات لابن سعد الجز الثانی ص 317 المطبوعہ مدار احیاء التراک۔
و ان عاقبتم فعاقبو بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین۔ النحل : 136 ۔
اور اگر تم ان کو تکلیف دینا چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو پہنچی ہے اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔
اسی بدلے کے غم میں ایک شخص نے فتح مکہ کے موقع پر کہا : آج کے بعد قریش کا نام و نشانہ رہے گا۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ آیت کی تعمیل میں ارشاد فرمایا :
ہم صبر کریں گے اور سزا نہیں دیں گے لہٰذا تم چار اشخاص کے سوا کسی کو بھی تکلیف پہنچانے سے گریز کرو۔ (ترمذی، حسن غریب، حدیث ابی (رض) زیادات عبداللہ بن احمد بن حنبل، نسائی، ابن المنزر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، فی الفوائد ابن حبان، الکبیر اللطبرانی ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم ، الدلائل للبیہقی۔
فائدہ : ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ مردوں اور چار عورتوں کے سوا قتل عام سے روک دیا تھا۔ مردوں میں عکرمہ بن ابی جہل، جو بعد میں مسلمان ہو کر عظیم کارنامے انجام دینے والے بنے۔ ہبار بن الاسود، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، مقیس بن صبابہ اللیثی، حویرث بن نقیذ، عبداللہ بن ہلال خطل ادرمی، عورتوں میں ہند بنت عتبہ (جس نے حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبایا تھا اور یہ بعد میں مسلمان ہوگئیں) عمرو بن ہاشم کی باندی سارہ، فرتنا اور قریبہ۔
ان دس افراد میں سے عبداللہ بن ہلال بن خطل، خوریث بن نقیذ اور مقیس بن صبابہ کو قتل کردیا تھا۔ دیکھئے الطبقات لابن سعد الجز الثانی ص 317 المطبوعہ مدار احیاء التراک۔
4476- عن أبي بن كعب لما كان يوم أحد أصيب من الأنصار أربعة وستون رجلا، ومن المهاجرين ستة، منهم حمزة فمثلوا بهم، فقالت الأنصار: لئن أصبنا منهم يوما مثل هذا لنربين عليهم فلما كان يوم فتح مكة أنزل الله: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} فقال رجل لا قريش بعد اليوم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "نصبر ولا نعاقب كفوا عن القوم إلا أربعة". "ت حسن غريب
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4477: ۔۔ (مسند علی (رض)) فرمان الہی ہے :
لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا۔ الاسراء :4
تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤگے اور بڑی سرکشی کروگے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : (بنی اسرائیل نے پہلی مرتبہ سرکشی میں ) زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا اور دوسری مرتبہ میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا۔ رواہ ابن عساکر۔
لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا۔ الاسراء :4
تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤگے اور بڑی سرکشی کروگے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : (بنی اسرائیل نے پہلی مرتبہ سرکشی میں ) زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا اور دوسری مرتبہ میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا۔ رواہ ابن عساکر۔
4477- "سورة سبحان الذي" "من مسند علي" عن علي في قوله تعالى: {لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً} قال "الأولى قتل زكريا والأخرى قتل يحيى". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4478: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی :
فمحونا آیۃ اللیل۔۔ الاسراء : 12 ۔
ہم نے رات کی نشانی کو تاریک کیا
کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : رات کی نشانی وہ سیاہی ہے جو چاند میں ہے۔ (ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
فمحونا آیۃ اللیل۔۔ الاسراء : 12 ۔
ہم نے رات کی نشانی کو تاریک کیا
کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : رات کی نشانی وہ سیاہی ہے جو چاند میں ہے۔ (ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4478- عن علي في قوله تعالى: {فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ} قال: "هو السواد الذي في القمر". "ش وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4479: ۔۔ حضرت علی (رض) مذکورہ آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : رات اور دن برابر تھے۔ پھر اللہ نے رات کی نشانی کو مٹا دیا چنانچہ وہ تاریک ہوگئی ور دن کی روشنی کو یونہی رہنے دیا جیسے وہ تھی۔ رواہ ابن مردویہ۔
4479- عن علي في الآية قال: "الليل والنهار سواء، فمحا الله آية الليل فجعلها مظلمة وترك آية النهار كما هي". "وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4480: حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جب سائے ڈھلنے لگیں اور ہوائیں چل پڑیں تو اس وقت اللہ سے اپنی ضرورتیں مانگو یہ اوابین (اللہ کے نیک بندوں ) کی مصالحت ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
فانہ کان للاوابین غفورا۔ الاسراء : 5 ۔
بےشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔ ابن ابی شیبہ، ہناد۔
فانہ کان للاوابین غفورا۔ الاسراء : 5 ۔
بےشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔ ابن ابی شیبہ، ہناد۔
4480- عن علي قال: "إذا مالت الأفياء وراحت الأرياح فاطلبوا الحوائج إلى الله، فإنها ساعة الأوابين وقرأ: {فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُوراً} . "ش وهناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4481: ۔۔ حضرت علی (رض) نے دلوک الشمس کے معنی سورج کے غروب ہونا فرمائے ہیں۔ ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
4481- عن علي قال: {لِدُلُوكِ الشَّمْسِ} غروبها. "ش وابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4482: ۔ (مسند سلمان (رض)) حضرت سلمان (رض) سے منقول ہے کہ اللہ پاک نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق میں سب سے پہلے ان کا سر بنایا اور وہ دیکھنے لگے جبکہ (ابھی ان کی تخلیق مکمل نہ ہوئی تھی اور ) ٹانگیں باقی تھیں۔ جب عصر کے بعد کا وقت ہوا تو حضرت آدم (علیہ السلام) دعا کرنے لگے یا رب رات سے پہلے پہلے میری پیدائش مکمل فرما دے۔ پس یہی اللہ کے فرمان کا مطلب ہے :
وکان الانسان عجولا۔ الاسراء : 11
اور انسان جلد باز (پیدا ہوا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
اعلانیہ گناہوں کا ذکر۔
وکان الانسان عجولا۔ الاسراء : 11
اور انسان جلد باز (پیدا ہوا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
اعلانیہ گناہوں کا ذکر۔
4482- "ومن مسند سلمان" عن سلمان قال: "أول ما خلق الله من آدم رأسه فجعل ينظر وهو يخلق وبقيت رجلاه، فلما كان بعد العصر قال: يا رب عجل قبل الليل، فذلك قوله تعالى: {وَكَانَ الْأِنْسَانُ عَجُولاً} " "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4483: ۔۔ (مسند صفوان بن عسال) صفوان بن عسال (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی کو کہا : آؤ اس نبی کے پاس چلیں۔ اس نے کہا : اس کو نبی نہ کہو، اگر سن لیا تو (خوشی سے) اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور ن کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، زنا نہ کرو، چوری نہ کرو، جس جان کو اللہ نے محترم کردیا اس کو قتل نہ کرو مگر کسی حق کے ساتھ، بادشاہ کے پاس کسی بےوضوء کو نہ لے جاؤ جو اس کو قتل کردے، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکدامن پر تہمت نہ لگاؤ، اسلام کی لڑائی کے وقت پیٹھ دے کر نہ بھاگو اور اے یہودیو ! خاص طور پر تمہارے لیے یہ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن تجاوز نہ کرو۔
چنانچہ ان یہودیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسے دیے اور بولے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم کو کیا چیز مانع ہے کہ تم میری اتباع نہیں کرتے ؟ کہنے لگے : داؤد (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی رہے۔ اور ہمیں خوف ہے کہ (اگر ہم نے آپ کی اتباع کرلی تو) یہودی ہم کو قتل نہ کر ڈالیں۔ (ابن ابی شیبہ)
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، زنا نہ کرو، چوری نہ کرو، جس جان کو اللہ نے محترم کردیا اس کو قتل نہ کرو مگر کسی حق کے ساتھ، بادشاہ کے پاس کسی بےوضوء کو نہ لے جاؤ جو اس کو قتل کردے، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکدامن پر تہمت نہ لگاؤ، اسلام کی لڑائی کے وقت پیٹھ دے کر نہ بھاگو اور اے یہودیو ! خاص طور پر تمہارے لیے یہ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن تجاوز نہ کرو۔
چنانچہ ان یہودیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسے دیے اور بولے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم کو کیا چیز مانع ہے کہ تم میری اتباع نہیں کرتے ؟ کہنے لگے : داؤد (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی رہے۔ اور ہمیں خوف ہے کہ (اگر ہم نے آپ کی اتباع کرلی تو) یہودی ہم کو قتل نہ کر ڈالیں۔ (ابن ابی شیبہ)
4483- "ومن مسند صفوان بن عسال" عن صفوان بن عسال قال قال يهودي لصاحبه: اذهب بنا إلى هذا النبي، فقال صاحبه لا تقل له نبي فإنه لو قد سمعك كان له أربع أعين، فأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألاه عن تسع آيات بينات، فقال: "لا تشركوا بالله شيئا، ولا تزنوا، ولا تسرقوا، ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق، ولا تمشوا إلى سلطان ببريء فيقتله، ولا تسحروا، ولا تأكلوا الربا، ولا تقذفوا المحصنة ولا تولوا الفرار يوم الزحف، وعليكم خاصة يهود ولا تعدوا في السبت" فقبلوا يديه ورجليه، وقالوا: نشهد إنك نبي قال: "فما يمنعكم أن تتبعوني؟ " قالوا إن داود دعا أن لا يزال في ذريته نبي، وإنا نخاف أن تقتلنا يهود". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاسراء
4484: ۔۔ (مسند عبدالرحمن بن عبداللہ ثقفی، معروف بہ ابن ام الحکم) ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں ان کو (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ) صحبت میسر ہوئی تھی۔
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ سے کچھ یہودی ملے اور کہنے لگے : اے محمد ! روح کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کھجور کی چھڑی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سہارا دے کر کھڑے ہوگئے اور چہرہ اقدس آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ پھر فرمایا (فرمان الہی ہے):
ویسئلونک عن الروح سے آپ نے قلیلا تک تلاوت فرمائی۔ الاسراء : 75 ۔
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ وہ میرے پروردگار کی شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔
عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں اللہ پاک نے ان کو یہ حکم سنا کر ناراض اور شرمندہ کردیا۔
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ سے کچھ یہودی ملے اور کہنے لگے : اے محمد ! روح کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کھجور کی چھڑی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سہارا دے کر کھڑے ہوگئے اور چہرہ اقدس آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ پھر فرمایا (فرمان الہی ہے):
ویسئلونک عن الروح سے آپ نے قلیلا تک تلاوت فرمائی۔ الاسراء : 75 ۔
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ وہ میرے پروردگار کی شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔
عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں اللہ پاک نے ان کو یہ حکم سنا کر ناراض اور شرمندہ کردیا۔
4484- "ومن مسند عبد الرحمن بن عبد الله الثقفي المعروف بابن أم الحكم" قال ابن عساكر: قيل إن له صحبة عن عبد الرحمن بن عبد الله ابن أم الحكم الثقفي قال: "بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض سكك المدينة إذ عرض له اليهود فقالوا يا محمد: ما الروح؟ وبيده عسيب نخل، فاعتمد عليها ورفع رأسه إلى السماء، ثم قال: {وَيَسْأَلونَكَ عَنِ الرُّوحِ} إلى قوله {قَلِيلاً} قال: فسمع الله فمقتهم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع فجر سے پہلے دعا کا اہتمام
4485: ۔۔ (مسند ابی الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل رات کی آخری تین گھڑیوں میں ذکر کھولتے ہیں۔ پہلی گھڑی میں اس کتاب میں نظر فرماتے ہیں جس کو اس کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ جو چاہتے ہیں مٹا دیتے یں اور جو چاہتے یں لکھا رہنے دیتے ہیں۔ دوسری گھڑ میں جنت عدن کو دیکھتے ہیں یہ اللہ کا وہ گھر ہے جس کو ابھی تک کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی دل پر اس کا خیال تک گذرا (کہ وہ کیسی ہے اور اس میں کیا کیا ہے) یہ اللہ کا مسکن ہے۔ اس میں بنی آدم میں سے صرف تین قسم کے لوگ رہیں گے۔ انبیاء، صدیقین اور شہداء، پھر اللہ تعالیٰ اس جنت کو فرماتے ہیں : خوشی کا مقام ہے اس شخص کے لیے جو تجھ میں رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ تیسری گھڑی میں روح الامین (جبرئیل (علیہ السلام)) اور دوسرے فرشتوں کے ساتھ آسمان دنیا پر اترتے یں۔ اور روح الامین اور دوسرے فرشتے ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
میری عزت کی قسم کھڑے ہوجاؤ، پھر بندوں کو ارشاد فرماتے ہیں : کوئی ہے مغفرت چاہنے والا میں اس کی مغفرت کروں ؟ کوئی ہے سائل میں اس کو عطا کروں ؟ کوئی ہے مانگنے والا میں اس کی پکار کو سنوں۔ حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے یہی مطلب ہے ارشاد ربانی کا :
وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا۔ الاسراء : 78 ۔
اور صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا (جہاں ہوتا ہے وہاں) ملائکہ حاضر ہوتے ہیں۔
یعنی اس وقت رات اور دن کے ملائکہ اکٹھے ہو کر اس کا قرآن سنتے ہیں۔ اور اللہ پاک بھی اس کا قرآن سنتے ہیں۔ (ابن جریر، ابی الدرداء)
میری عزت کی قسم کھڑے ہوجاؤ، پھر بندوں کو ارشاد فرماتے ہیں : کوئی ہے مغفرت چاہنے والا میں اس کی مغفرت کروں ؟ کوئی ہے سائل میں اس کو عطا کروں ؟ کوئی ہے مانگنے والا میں اس کی پکار کو سنوں۔ حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے یہی مطلب ہے ارشاد ربانی کا :
وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا۔ الاسراء : 78 ۔
اور صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا (جہاں ہوتا ہے وہاں) ملائکہ حاضر ہوتے ہیں۔
یعنی اس وقت رات اور دن کے ملائکہ اکٹھے ہو کر اس کا قرآن سنتے ہیں۔ اور اللہ پاک بھی اس کا قرآن سنتے ہیں۔ (ابن جریر، ابی الدرداء)
4485- "ومن مسند أبي الدرداء رضي الله عنه" "إن الله عز وجل يفتح الذكر في ثلاث ساعات يبقين من الليل، في الساعة الأولى منهن ينظر في الكتاب الذي لا ينظر فيه أحد غيره، فيمحوا ما يشاء ويثبت ثم ينزل في الساعة الثانية إلى جنة عدن، وهي داره التي لم ترها عين، ولم تخطر على قلب بشر، وهي مسكنه، ولا يسكن معه من بني آدم غير ثلاثة: النبيين والصديقين والشهداء، ثم يقول طوبى لمن دخلك، ثم ينزل في الساعة الثالثة إلى السماء الدنيا بروحه وملائكته فتنتفض روحه وملائكته، فيقول: قومي بعزتي، ثم يطلع على عباده، فيقول: من يستغفرني اغفر له، من يسألني أعطه، من يدعوني فأستجيب له حتى يطلع الفجر، فذلك يقول: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوداً} فيشهده الله وملائكة الليل وملائكة النهار."ابن جرير عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع فجر سے پہلے دعا کا اہتمام
4486: ۔۔ ابو جعفر محمد (رح) بن علی (رح) فرماتے ہیں تم لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چھپا کر آہستہ سے کیوں پڑھتے ہو، اللہ کا نام کس قدر اچھا نام ہے اور اس کو تم پست آواز میں کہتے ہو۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب گھر میں داخل ہوتے اور قریش آپ کے پاس جمع ہوتے تو بلند آواز کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے۔ اور قریش پیٹھ دے کر بھاگ جاتے تھے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :
و اذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ ولو علی ادبارہم نفورا۔ الاسراء : 46 ۔
اور جب قرآن میں اپنے پروردگار ر یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے ہیں اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ رواہ ابن النجار۔
و اذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ ولو علی ادبارہم نفورا۔ الاسراء : 46 ۔
اور جب قرآن میں اپنے پروردگار ر یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے ہیں اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ رواہ ابن النجار۔
4486- عن أبي جعفر محمد بن علي قال: "لم كتمتم بسم الله الرحمن الرحيم؟ فنعم الاسم والله كتموا، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل منزله اجتمعت عليه قريش فيجهر ببسم الله الرحمن الرحيم، ويرفع صوته بها، فتولي قريش فرارا، فأنزل الله: {وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ نُفُوراً} ". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع فجر سے پہلے دعا کا اہتمام
4487: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی آنکھیں بنائیں باقی جسم سے پہلے تو انھوں نے عرض کیا : پروردگار ! سورج غروب ہونے سے قبل میری باقی تخلیق مکمل فرما دے۔ تب اللہ پاک نے (نازل) فرمایا :
وکان الانسان عجولا۔ اسراء : 11
اور انسان جلد باز (پیدا ہوا ہے)
وکان الانسان عجولا۔ اسراء : 11
اور انسان جلد باز (پیدا ہوا ہے)
4487- عن مجاهد قال: "لما خلق الله آدم خلق عينيه قبل بقية جسده. فقال: أي رب أتم بقية خلقي قبل غيبوبة الشمس، فأنزل الله: {وَكَانَ الْأِنْسَانُ عَجُولاً} ". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الكهف
4488: ۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
و کان تحتہ کنز لھما۔
اور ان کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا۔
فرمایا کہ وہ خزانہ ایک سونے کی تختی تھی، جس میں لکھا ہوا تھا :
میں شہادت دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر (خدا) پر ایمان رکھتا ہے۔
اور پھر بھی رنجیدہ خاطر ہوتا ہے، تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر بھی خوش ہوتا پھرتا ہے۔ اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو رات و دن کی گردش میں غور و فکر کرتا ہے اور پھر بھی لمحہ بہ لمحہ پیدا ہونے والے حوادثات سے مطمئن ہے۔
و کان تحتہ کنز لھما۔
اور ان کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا۔
فرمایا کہ وہ خزانہ ایک سونے کی تختی تھی، جس میں لکھا ہوا تھا :
میں شہادت دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر (خدا) پر ایمان رکھتا ہے۔
اور پھر بھی رنجیدہ خاطر ہوتا ہے، تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر بھی خوش ہوتا پھرتا ہے۔ اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو رات و دن کی گردش میں غور و فکر کرتا ہے اور پھر بھی لمحہ بہ لمحہ پیدا ہونے والے حوادثات سے مطمئن ہے۔
4488- "من مسند علي" عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} قال: "لوح من ذهب، مكتوب فيه شهدت أن لا إله إلا الله، شهدت أن محمدا رسول الله، عجبت لمن يؤمن بالقدر كيف يحزن؟ عجبت لمن يؤمن بالموت كيف يفرح؟ عجبت لمن تفكر في تقلب الليل والنهار ويأمن فجعاتها حالا فحالا". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدفون خزانے کیا تھے ؟
4489: ۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے :
وکان تحتہ کنز لھما۔ الکہف : 82
اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا۔
کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں وہ خزانہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا :
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو موت کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی خوش ہوتا ہے تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو دوزخ کو حق سمجھتا ہے اور پھر ہنستا ہے، مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی رنج و غم میں مبتلا ہوتا ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو دیکھتا ہے اور اسی کی اپنے اہل کے ساتھ حشر آرائیاں دیکھتا ہے پھر بھی اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
وکان تحتہ کنز لھما۔ الکہف : 82
اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا۔
کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں وہ خزانہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا :
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو موت کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی خوش ہوتا ہے تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو دوزخ کو حق سمجھتا ہے اور پھر ہنستا ہے، مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی رنج و غم میں مبتلا ہوتا ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو دیکھتا ہے اور اسی کی اپنے اہل کے ساتھ حشر آرائیاں دیکھتا ہے پھر بھی اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4489- عن علي في قوله تعالى: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} "كان لوح من ذهب مكتوب فيه: لا إله إلا الله محمد رسول الله، عجبا لمن يذكر أن الموت حق كيف يفرح؟ وعجبا لمن يذكر أن النار حق، كيف يضحك؟ وعجبا لمن يذكر أن القدر حق كيف يحزن؟ وعجبا لمن يرى الدنيا وتصرفها بأهلها، كيف يطمئن إليها؟ " "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدفون خزانے کیا تھے ؟
4490: ۔ سالم بن ابی الجعد (رح) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا حضرت ذوالقرنین نبی تھے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے تمہارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ایک غلام تھے۔ دوسرے الفاظ یہ آئے ہیں : وہ ایک مخلص انسان تھے۔ اللہ نے ان کو سچائی عطا فرمائی تھی۔ اور تمہارے اندر ان کی شیبہ یا مثال موجود ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4490- عن سالم بن أبي الجعد1 قال: سئل علي عن ذي القرنين أنبي هو؟ فقال "سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول هو عبد، وفي لفظ رجل ناصح الله فنصحه، وإن فيكم لشبهه أو مثله ". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدفون خزانے کیا تھے ؟
4491: ۔ ابو الطفیل (رح) سے مروی ہے کہ ابن الکواء (رح) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا کہ وہ نبی تھے یا بادشاہ تھے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : وہ نبی تھے اور نہ بادشاہ ۔ بلکہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے۔ انھوں نے اللہ سے محبت رکھی اللہ نے ان کو محبوب بنا لیا۔ انھوں نے اللہ کے لیے خلوص کو اپنا اللہ نے ان کو خلوص اور سچائی مرحمت فرمائی۔ پھر اللہ نے ان کو ایک قوم کی طرف بھیجا۔ انھوں نے آپ کے قرن (یعنی سر) پر مارا جس سے آپ جان بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو دوبارہ زندگی بخشی تاکہ آپ اس قوم سے جہاد کریں انھوں نے دوبارہ آپ کے سر کے دوسری طرف مارا اور آپ پھر جان بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو پھر ان سے جہاد کے لیے زندہ کردیا۔ اسی وجہ سے آپ کو ذوالقرنین کہا گیا اور تمہارے درمیان ان کی مثال موجود ہے۔ (ابن عبدالحکم فی فتوح مصر، ابن ابی عاصم فی السنۃ، ابن الانباری فی المصاحف، ابن مردویہ، ابن المنذر، ابن ابی عاصم)
4491- عن أبي الطفيل أن ابن الكواء سأل علي بن أبي طالب عن ذي القرنين: أنبيا كان أم ملكا؟ قال: "لم يكن نبيا ولا ملكا، ولكن كان عبدا صالحا، أحب الله فأحبه، ونصح لله فنصحه، بعثه الله إلى قومه فضربوه على قرنه، فمات ثم أحياه الله لجهادهم، ثم بعثه إلى قومه فضربوه على قرنه الآخر، فمات فأحياه الله لجهادهم، فلذلك سمي ذا القرنين، وإن فيكم مثله". "ابن عبد الحكم في فتوح مصر وابن أبي عاصم في السنة وابن الانباري في المصاحف، وابن مردويه وابن المنذر وابن أبي عاصم".
তাহকীক: