কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৪৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ابراہیم (علیہ السلام)
4452: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے فرمان بار تعالیٰ :

الم تر الی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا۔ ابراہیم : 28 ۔

" کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتار دیا "

کے بارے میں فرمایا : کہ یہ قریش کے دو فاجر قبیلے تھے۔ بنو المغیرہ اور بنو امیہ۔ ابن جریر۔ ابن المنزر، ابن مردویہ۔
4452- "من مسند عمر" عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قوله تعالى: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْراً} قال: "هما الأفجران من قريش بنو المغيرة وبنو أمية" "ابن جرير وابن المنذر وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے والے
4453: ۔۔ مسند علی (رض)) الم تر الی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا۔ ابراہیم : 28 ۔

کے متعلق فرمایا یہ قریش کے دو فاجر قبیلے ہیں بنو مغیرہ اور بنو امیہ ۔ بنو مغیرہ کی جڑ تو اللہ نے جنگ بدر میں کاٹ دی تھی ۔ جبکہ بنو امیہ کو ایک وقت تک کے لیے ڈھیل مل گئی ہے۔ ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، الصغیر للطبرانی ۔
4453- "علي" عن علي في قوله تعالى: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْراً} قال: "هما الأفجران من قريش بنو أمية وبنو المغيرة، فأما بنو المغيرة فقطع الله دابرهم يوم بدر، وأما بنو أمية فمتعوا إلى حين".

"ابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ك ابن مردويه طص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے والے
4454: ۔۔ ابو طفیل سے مروی ہے کہ ابن الکواء نے حضرت علی (رض) سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو نا شکری سے بدل دیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ قریش کے فاجر لوگ ہیں۔ بدر کا دن ان کے لیے کافی ہوگیا تھا۔ ابن الکواء نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا :

الذین ضل سعیہم فی الحیاۃ الدنیا۔ الکہف : 104 ۔

وہ لوگ جن کی عی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم اچھا کہہ رہے ہیں۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ فرقہ حروریہ کے لوگ ہیں) ۔ (عبد الرزاق، الفریابی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، البیہقی فی الدلائل)

فائدہ : یعنی ہر گمراہ فرقہ اس زمرے میں داخل ہے جن کی دنیاوی زندگی میں عبادت و ریاضت بےکار ہوجاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔ اہل بدعت و ضلالت اور دین میں نئی باتیں داخل کرنے والے اس وعید میں شامل ہیں۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
4454- عن أبي الطفيل أن ابن الكواء سأل عليا من الذين بدلوا نعمة الله كفرا؟ قال: "هم الفجار من قريش، كفيتهم يوم بدر، قال: فمن الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا؟ قال منهم أهل حروراء". "عب الفريابي ن وابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے والے
4455: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا (جن کے بارے میں ارشاد خداوندی) ہے) کہ انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر کے ساتھ بدل دیا۔ فرمایا : وہ (قریش میں) سے بنو امیہ اور ابو جہل کا قبیلہ بنی مخزوم ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔

گزشتہ روایات سے اس کا تعارض نہیں کیونکہ بنی مخزوم بنی مغیرہ کے بڑے قبیلے کی ایک شاخ ہے۔ اور گزشتہ روایات میں بنی مغیرہ کا ذکر آیا ہے۔
4455- عن علي أنه سئل عن الذين بدلوا نعمة الله كفرا، قال: "بنو أمية وبنو مخزوم رهط أبي جهل". "وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے والے
4456: ۔۔ ارطاۃ (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اس زمرے سے قریش کے علاوہ دوسرے لوگ بری ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔

جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اس زمرے سے قریش کے علاوہ دوسرے لوگ بری ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
4456- عن أرطأة قال سمعت عليا على المنبر يقول: "الذين بدلوا نعمة الله كفرا الناس منها براء غير قريش". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کی دین دشمن
4457: ۔۔ ابن ابی حسین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو فرمایا : کوئی مجھ سے قرآن (کی تفسیر) کے بارے میں سوال کیوں نہیں کرتا۔ پھر فرمایا (میرا تو یہ حال ہے کہ) خدا کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ کوئی شخص قرآن کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور وہ تمام سمندروں کے پار ہوتا تو میں ضرور اس شخص کے پاس جاتا۔ (جبکہ تم کو یہاں پر نعمت میسر ہے اور سوال نہیں کرتے) چنانچہ حضرت ابن الکواء نے سوال کیا : وہ کون لوگ ہیں۔

جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا۔ سورة ابراہیم : 28 ۔

حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ مشرک لوگ ہیں۔ ان کے پاس اللہ کی (عظیم) نعمت ایمان کی دولت آئی لیکن انھوں نے اس کو ٹھکرا کر اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں ڈال دیا۔ ابن ابی حاتم۔
4457- عن ابن أبي حسين قال: قام علي بن أبي طالب، فقال: "ألا أحد يسألني عن القرآن؟ فوالله لو أعلم أن أحدا أعلم به مني، وإن كان من وراء البحور لأتيته، فقال عبد الله بن الكواء: من الذين بدلوا نعمة الله كفرا، قال: هم مشركون، أتتهم نعمة الله الإيمان فبدلوا قومهم دار البوار". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کی دین دشمن
4458: ۔۔ حضرت علی (رض) اس آیت کو یوں پڑھتے تھے۔

وان کاد مکرہم لتزول منہ الجبال۔ ابراہیم : 46

یعنی کان کی جگہ کاد پڑھ کر اس کے معنی بیان کرتے تھے۔ پھر ایک مرتبہ آپ (رض) نے اس آیت کی تفسیر بیان فرمائی :

جابر، سرکش بادشاہوں میں سے ایک جابر بادشاہ نے کہا : میں آخری حد تک اوپر جاؤں گا اور دیکھوں گا آسمانوں میں کیا ہے ؟ چنانچہ اس نے گدھے کے بچے لانے کا حکم دیا اور ان کو خوب گوشت کھلایا حتی کہ وہ بڑے مضبوط اور توانا ہوگئے پھر ایک تابوت بنانے بنانے کا حکم دیا جس میں دو آدمی سما سکیں۔ پھر اس تابوت کے درمیان ایک اونچی لکڑی لگوائی۔

لکڑی کے اوپر سرے پر گوشت بندھوایا۔ پھر گدھوں کو تابوت کے اوپر بندھوا دیا۔ جبکہ گوشت ان سے اوپر تھا۔ اور پہلے اچھی طرح ان کو بھوکا رکھا۔ پھر وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اندر بیٹھ گیا۔ اور گدھوں (کرگسوں) کو کھول دیا چنانچہ وہ گوشت کی طرف لپکے چونکہ بندھے ہوئے تھے اس لیے تابوت کو لے کر اوپر گوشت کی طرف اڑتے رہے۔

جہاں تک اللہ نے چاہا وہ اڑے۔ پھر بادشاہ نے اپنے ساتھی کو کہا دروازہ کھول کے دیکھو کیا نظر آتا ہے اس نے دروازہ کھول کر دیکھا اور بولا میں پہاڑوں کو دیکھ رہا ہوں جو مکھی کی طرح نظر آرہے ہیں۔ بادشاہ نے دروازہ بند کرنے کو کہا۔ گدھ اور اپر اڑے جس قدر اللہ نے چاہا۔ پھر بادشاہ نے کہا : دیکھو، ساتھی نے کھول کر دیکھا اور کہا : مجھے صرف آسمان نظر آ رہا ہے اور کچھ نظر نہیں آ رہا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ آسمان قریب ہونے کے بجائے مزید بلند ہوتا جا رہا ہے پھر بادشاہ نے (عاجز ہو کر) کہا لکڑی کا رخ نیچے کردو۔ گدھ اب گوشت کھانے کے لیے نیچے کو لپکے۔

پھر پہاڑوں نے ان کا پھڑپھڑانا سنا تو قریب تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل جاتے اسی کے متعلق فرمان باری تعالیٰ ہے :

اور ان کے مکر اور تدبیریں ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔ (ابراہیم : 46، عبداللہ بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری فی المصاحف۔
4458- عن علي أنه كان يقرأ: {وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ} لتزول بفتح اللام ثم فسرها فقال: "إن جبارا من الجبابرة قال: انتهى حتى أنظر ما في السماء فأمر بفراخ النسور تعلف اللحم، حتى شبت وغلظت وأمر بتابوت فنجر يسع رجلين، ثم جعل في وسطه خشبة، ثم ربط أرجلهن بأوتاد، ثم جوعهن، ثم جعل على رأس الخشبة لحما، ثم دخل هو وصاحبه في التابوت، ثم ربطهن إلى قوائم التابوت، ثم خلى عنهن يردن اللحم فذهبن به ما شاء الله، ثم قال لصاحبه: افتح فانظر ماذا ترى؟ ففتح فقال انظر إلى الجبال كأنها الذباب، قال: أغلق فاغلق، فطرن به ما شاء الله، ثم قال افتح ففتح، فقال: انظر ماذا ترى؟ فقال: ما أرى إلا السماء، وما أراها تزداد إلا بعدا، قال صوب الخشبة، فصوبها فانقضت تريد اللحم فسمع الجبال هدتها فكادت تزول عن مراتبها".

"عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مناظرہ
4459: ۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

جس شخص نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے پروردگار کے بارے میں مناظرہ کیا اس نے دو کرگس (گدھ) کے بچے لیے اور ان کی پرورش کی حتی کہ وہ موٹے تازہ اور جوان ہوگئے۔ چنانچہ پھر اس نے ہر ایک کی ایک ایک ٹانگ کے ساتھ رسی باندھ کر تابوت کو رسی باندھ دی اور دونوں کو بھوکا رکھا۔ پھر تابوت میں اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر بیٹھ گیا پھر ایک لاٹھی پر گوشت بندھوا کر تابوت کے اوپر لگوا دی۔ چنانچہ دونوں کرگس اڑے۔ اندر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے دوسرے کو کہا : کیا تم دیکھ رہے ہو ؟ اس نے کہا : یہ دیکھ رہا ہوں حتی کہ ایک بلندی پر پہنچ کر کہا : میں دنیا کو مکھی کے مثل دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس نے اپنے ساتھی کو حکم دیا کہ لکڑی سیدھی کردو (یعنی اس کا رخ نیچے کی طرف کردو) چنانچہ پھر دونوں نیچے اتر آئے اور یہی فرمان باری کا مطلب ہے :

وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال۔ ابراہیم : 46 ۔

اور اگرچہ ان کی تدبیریں (ایسی تھیں کہ) ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ رواہ ابن جریر۔
4459- عن علي قال: "أخذ الذي حاج إبراهيم في ربه نسرين صغيرين فرباهما حتى استغلظا واستعلجا وشبا، فأوثق رجل كل واحد منهما بوتر إلى تابوت، وجوعهما، وقعد هو ورجل آخر في التابوت ورفع في التابوت عصا على رأسه اللحم فطارا فجعل يقول لصاحبه انظر ماذا ترى؟ قال أنظر كذا وكذا، حتى قال أرى الدنيا كأنها ذباب فقال صوب العصا فصوبها فهبطا، قال فهو قول الله: وإن كان مكرهم لتزول منه الجبال، وهي كذلك في قراءة ابن مسعود: وإن كان مكرهم لتزول منه الجبال". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4460: ۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت : ابراہیم : 48 ۔

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (دوسرے آسمانوں سے بدل دیے جائیں گے) ۔ اس زمین کو ایسی سفید زمین سے بدل دیا جائے گا جس پر کوئی گناہ نہ ہوا ہوگا اور نہ اس پر کسی کا خون بہایا ہوگا۔ رواہ ابن مردویہ۔

کلام : ۔۔ اس روایت میں سفیان ثوری (رح) کا بہن جایہ (بھانجا) سیف بن محمد ہے جو کذاب ہے۔ کنز ج 2 ص 446 ۔
4460- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} قال: "أرض بيضاء لم يعمل عليها خطيئة، ولم يسفك عليها دم"."ابن مردويه" وفيه سيف بن محمد ابن أخت سفيان الثوري كذاب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4461: ۔ (مسندر عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں " السبع المثانی " سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ ابن جریر، ابن المنذر)
4461- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر "قال السبع المثاني فاتحة الكتاب". "ابن جرير وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4462: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے فرمان الہی :

ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم۔

اور ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھی جانے والی اور قرآن عظیم عطا کیا۔

کے متعلق منقول ہے کہ ساتھ پڑھی جانے والی سے مراد سات ابتدائی طویل سورتیں ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
4462- عن عمر في قوله تعالى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} الآية قال: "السبع الطوال". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4463:۔۔ (مسند علی (رض)) حطان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا :

کیا تم جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہوں گے ؟ ہم نے عرض کیا : تمام ان دروازوں جیسے فرمایا نہیں۔ بلکہ اس طرح پھر آپ (رض) نے ہاتھ کھولا اور اس پر دوسرا ہاتھ کھول کر دکھایا (یعنی جہنم کے دروازے دائیں بائیں کی بجائے اوپر نیچے ہوں گے) ۔ الزھد الامام احمد، عبد بن حمید۔
4463- "علي رضي الله عنه" عن حطان بن عبد الله1 قال: قال علي: "أتدرون كيف أبواب جهنم؟ قلنا كنحو هذه الأبواب، قال: لا. ولكنها هكذا ووضع يده فوق وبسط يده على يده". "حم في الزهد وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4464: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی :

ونزعنا ما فی صدورھم من غل۔ الحجر : 47 ۔

اور ہم ان (جنتیوں) کے دلوں سے کھوٹ نکال دیں گے۔

کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یعنی ہر طرح کی عداوت اور دشمنی ان میں سے نکال دیں گے۔ رواہ ابن جریر۔
4464- عن علي في قوله تعالى: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ} قال:"العداوة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4465: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :

فاصفح الصفح الجمیل۔ الحجر :75 ۔

تو تم اچھی طرح سے درگذر کرو۔

کے بارے میں تفسیر منقول ہے یعنی تم بغیر عتاب (اور سزا) کے ان سے راضی رہو۔ ابن مردویہ، ابن النجار فی تاریخہ۔
4465- عن علي في قوله تعالى: {فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ} قال: "الرضا بغير عتاب". "ابن مردويه

وابن النجار في تاريخه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4466: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان الہی :

ولقد اتیناک سبعا من المثانی القرآن العظیم۔ الحجر : 87 ۔

اور ہم نے آپ کو سات جو دہرا کر پڑھی جاتییں اور قرآن عظیم عطا کیا۔

کے متعلق ارشاد فرمایا اس سے سورة فاتحہ مراد ہے۔ (الفریابی، شعب الایمان للبیہقی، ابن الضریس فی فضائلہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن امردویہ)

دل کا صاف ہونا۔
4466- عن علي في قوله: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي} قال: "هي فاتحة الكتاب". "الفريابي هب وابن الضريس في فضائله وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4467: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے فرزند موسیٰ بن طلحہ کو فرمایا : مجھے امید ہے کہ میں اور تمہارا باپ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

و نزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ (الحجر :47)

اور ان کے دلوں میں جو کدور ہوگی ہم اس کو نکال کر (صاف کر) دیں گے۔ (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ (رواہ ابن مردویۃ)
4467- عن علي قال: "يدخل أهل الجنة الجنة وفي صدورهم الشحناء والضغائن، فإذا دخلوا الجنة وتقابلوا على السرر نزع الله ذلك في صدورهم، ثم تلا هذه الآية: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} . "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4468: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے فرزند موسیٰ بن طلحہ کو فرمایا : مجھے امید ہے کہ میں اور تمہارا باپ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ الحجر : 47 ۔

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ہم اس کو نکال کر (صاف کر) دیں گے۔ (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

ایک ہمدانی شخص نے (طعن کرتے ہوئے) کہا : اللہ انصاف کرنے والا ہے (یعنی یہ مرتبہ آپ کو نہیں ملے گا) یہ سن کر حضرت علی (رض) چیخ پڑے اور فرمایا : اگر ہم (اصحاب و اہل بیت رسول) اس کے اہل نہیں تو اور کون اس کے اہل ہوں گے ؟ (السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، عقیلی فی الضعفاء، الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
4468- عن علي أنه قال لموسى بن طلحة بن عبيد الله: والله إني لأرجو أن أكون أنا وأبوك ممن قال الله تعالى: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} فقال رجل من همذان: "إن الله أعدل من ذلك فصاح علي عليه صيحة، وقال: فمن إذا إن لم نكن نحن أولئك؟ " "ص والعدني وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم عق طس وابن مردويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4469: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھے امید ہے کہ میں عثمان بن (عفان) ، زبیر بن (العوام) اور طلحہ بن عبیدالل) ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ الحجر : 47 ۔

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے۔ (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ (ابن مردویہ ، ابن ابی شیبہ، السنن لسعید بن منصور، الفتن لنعیم بن حماد، مسدد، ابن ابی عاصم، الکبیر للطبرانی، السنن للبیہقی)

فائدہ : ۔۔ یعنی جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو تھوڑی بہت رنجش ہوگی وہ جنت میں صاف ہوجائے گی اور سب آپس میں بھائی بھائی ہوں ۔ اسی طرح دوسرے مسلمان ان کو بھی اللہ تعالیٰ بھائی بھائی بنادیں گے۔
4469- عن علي قال: "إني لأرجو أن أكون أنا وعثمان والزبير وطلحة ممن قال الله تعالى فيهم": {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} . "ش ص ونعيم بن حماد في الفتن ومسدد وابن أبي عاصم طب وابن مردويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الحجر
4470: ۔۔ ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ الحجر : 47 ۔

ترجمہ : ۔۔ اور ہم ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی نکال دیں گے (گویا) وہ بھائی بھائی ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہیں۔ حضرت علی (رض) نے مذکورہ فرمان باری تعالیٰ کے متعلق ارشاد فرمایا : یہ عرب کے تین قبائل کے بارے میں نازل ہوئی ہے : بنی ہاشم، بنی تیم، بنی عدی، اور میرے بارے میں ، ابوبکر (رض) کے بارے میں اور عمر (رض) کے بارے میں۔ (ابن مردویہ، القاری فی فضائل الصدیق)

فائدہ : ۔۔ حضرت علی بن ہاشم سے حضرت ابوبکر (رض) بن تیم اور حضرت عمر بن خطاب (رض) بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد)
4470- عن علي في قوله تعالى: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ} قال: "نزلت في ثلاثة أحياء من العرب في بني هاشم وبني تيم وبني عدي في وفي أبو بكر وفي عمر". "ابن مردويه والقارئ في فضائل الصديق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفارء راشدین کے فضائل
4471: ۔۔۔ کثیر النواء سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوجعفر (صادق (رح)) کو کہا : مجھے فلاں شخص نے علی بن الحسین (امام زین العابدین (رح)) کی طرف سے بیان کیا کہ ابوبکر، عمر اور علی (رض) کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سررمتقابلین۔ الحجر : 47 ۔

تو حضرت ابو جعفر (رح) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کن کے بارے میں نازل ہوسکتی ہے ان کے سوا ؟ کثیر النوار کہتے ہیں : میں نے کہا : پھر وہ کونسا کھوٹ تھا۔ فرمایا جاہلیت کا کھوٹ تھا۔ بنی تیم بنی عدی اور بنی ہاشم کے درمیان زمانہ جاہلیت میں کچھ (عناد) تھا۔ پھر جب یہ لوگ اسلام لے آئے تو محبت میں سیر و شکر ہوگئے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) کو پہلو میں درد ہوگیا تو حضرت علی (رض) اپنے ہاتھ کو گرم کرکے ابوبکر (رض) کے پہلو کو سینکنے لگے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم، ابن عساکر۔

کلام : ۔۔ ابو جعفر (رح) آل علی (رض) میں سے عظیم بزرگ تھے۔ اور کثیر النواء یہ کثیر بن اسماعیل النواء شیعہ ہے۔ جس کو ابو حاتم اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں یہ تشیع میں غلو کرتا تھا۔ سعدی فرماتے ہیں یہ گمراہ انسان تھا۔ دیکھئے میزان الاعتدال 3/402 م 410 ۔
4471- عن كثير النواء1 قال قلت لأبي جعفر: إن فلانا حدثني عن علي بن الحسين أن هذه الآية نزلت في أبي بكر وعمر وعلي: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ} قال: "والله إنها لفيهم أنزلت، وفيمن تنزل إلا فيهم؟ قلت فأي غل هو؟ قال غل الجاهلية، إن بني تيم وبني عدي وبني هاشم كان بينهم في الجاهلية، فلما أسلم القوم تحابوا، فأخذت أبا بكر الخاصرة، فجعل علي يسخن يده فيكمد بها خاصرة أبي بكر فنزلت هذه الآية". "ابن أبي حاتم كر".
tahqiq

তাহকীক: