কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৪৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا طلبی کی مذمت
4432: ۔۔ حبۃ العرنی (رح) فرماتے ہیں : ایک شخص حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر وا اور کہنے لگا میں بیت المقدس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھوں۔ حضرت علی (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا : اپنی سواری فروخت کر ڈال، اپنا زاد سفر کھا پی لے۔ اور اسی (کوفہ کی مسجد میں نماز پڑھ لے کیونکہ اس میں ستر سے زائد انبیاء نے نماز پڑھی ہے اور اس سے تنور ابلا تھا۔ ابو الشیخ۔
4432- عن حبة العرني1 قال: "جاء رجل إلى علي فقال: إني أريد بيت المقدس لأصلي فيه، فقال له علي: بع راحلتك، وكل زادك، وصل في هذا المسجد، فإنه قد صلى فيه سبعون نبيا ومنه فار التنور يعني مسجد الكوفة". "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا طلبی کی مذمت
4433: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو (زمین کے اندر) پھاڑتا ہے اور جسم میں روح ڈالتا ہے یہ تمہاری مسجد اسلام کی چار مسجدوں میں سے چوتھی مسجدے۔ اس میں دو رکعتیں نماز پڑھنا مجھے دوسری مساجد میں دس رکعات پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ سوائے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے۔
اور اسی کے دائیں جانب قبلہ کی طرف سے تنور ابلا تھا۔ ابو الشیخ۔
فائدہ : ۔۔ کوفہ کی مسجد حضرت علی (رض) کے بارے میں حضرت علی (رض) نے یہ ارشاد گرامی فرمایا تھا۔ اور چار مساجد اسلام میں مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد بیت المقدس اور کوفہ کی مسجد حضرت علی (رض) مراد ہیں۔
اور اسی کے دائیں جانب قبلہ کی طرف سے تنور ابلا تھا۔ ابو الشیخ۔
فائدہ : ۔۔ کوفہ کی مسجد حضرت علی (رض) کے بارے میں حضرت علی (رض) نے یہ ارشاد گرامی فرمایا تھا۔ اور چار مساجد اسلام میں مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد بیت المقدس اور کوفہ کی مسجد حضرت علی (رض) مراد ہیں۔
4433- عن علي قال: "والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة إن مسجدكم هذا لرابع أربعة من مساجد المسلمين، والركعتان فيه أحب إلي من عشر فيما سواه، إلا المسجد الحرام ومسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة، وإن من جانبه الأيمن مستقبل القبلة فار التنور". "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا طلبی کی مذمت
4434:۔۔ حضرت علی (رض) " وفار التنور " کی تفسیر میں فرماتے ہیں اس سے صبح کی روشنی مراد ہے۔ فرمایا : کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ملا تھا کہ جب صبح روشن ہوجائے تو اپنے اصحاب کو لے کر نکل جانا۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
وفار التنور۔ ھود۔ 40 ۔
اور تنور ابل گیا۔
تنور کی مراد کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں : جن میں سے دو قول حضرت علی (رض) کے مذکورہ روایات میں ذکر ہوئے اور بھی کوئی اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں منقول ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
وفار التنور۔ ھود۔ 40 ۔
اور تنور ابل گیا۔
تنور کی مراد کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں : جن میں سے دو قول حضرت علی (رض) کے مذکورہ روایات میں ذکر ہوئے اور بھی کوئی اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں منقول ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4434- عن علي في قوله تعالى: {وَفَارَ التَّنُّورُ} قال: "تنوير الصبح وفي لفظ قال: طلع الفجر، قيل له: إذا طلع الفجر فاركب أنت وأصحابك". "وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبیلہ والوں کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہے
4435: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
حضرت نوح (علیہ السلام) نے سفینہ (یعنی کشتی) میں اپنے ساتھ تمام درختوں (کی اقسام) کو بھی لے لیا تھا۔ (اسحاق بن بشر فی المبتداء۔ ابن عساکر)
حضرت نوح (علیہ السلام) نے سفینہ (یعنی کشتی) میں اپنے ساتھ تمام درختوں (کی اقسام) کو بھی لے لیا تھا۔ (اسحاق بن بشر فی المبتداء۔ ابن عساکر)
4435- عن علي قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن نوحا حمل معه في السفينة من جميع الشجر". "إسحاق بن بشر في المبتدأ كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبیلہ والوں کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہے
4436: ۔ حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :
آدمی کا قبیلہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے جبکہ اس قدر آدمی اپنے قبیلے کے لیے سود مند نہیں۔ کیونکہ آدمی اگر قبیلے کی حفاظت کرے گا جبکہ قبیلہ آدمی کی حفاظت کرے گا تو قبیلے کے تمام افراد اس کی حفاظت کریں گے۔ اور اپنی محبت، حفاظت اور مدد کے ساتھ اس کو پیش آئیں گے۔ حتی کہ بسا اوقات کوئی کسی آدمی پر غصہ ہوتا ہے تو اس کو کچھ نہیں گردانتا بلکہ اس کے قبیلہ سے رعب رکھتا ہے۔ چنانچہ میں تم کو اس بات کی تائید میں کتاب اللہ کی آیت پیش کرتا ہوں۔ پھر آپ (رض) نے سورة ھود کی یہ آیت تلاوت فرمائی :
ال لو ان لی بکم قو او آوی الی رکن شدید۔ ھود : 80 ۔
(لوط نے) کہا : اے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط (جماعت کے) قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : رکن شدید (جس کی خواہش حضرت لوط (علیہ السلام) نے کی اس) سے مراد قبیلہ ہے۔ چونکہ لوط (علیہ السلام) کا ان کی قوم میں کوئی قبیلہ نہ تھا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اللہ نے لوط (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کے مضبوط قبیلے میں۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی جو شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا تھا۔
وانا لنراک فینا ضعیفا ولولا رھطک لرجمناک ۔ ھود : 91
اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے خاندان والے نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : قسم معبود حق کی : وہ لوگ اپنے رب کی عظمت سے نہیں ڈرے مگر شعیب (علیہ السلام) کے خاندان سے ڈر گئے۔ رواہ ابو الشیخ۔
آدمی کا قبیلہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے جبکہ اس قدر آدمی اپنے قبیلے کے لیے سود مند نہیں۔ کیونکہ آدمی اگر قبیلے کی حفاظت کرے گا جبکہ قبیلہ آدمی کی حفاظت کرے گا تو قبیلے کے تمام افراد اس کی حفاظت کریں گے۔ اور اپنی محبت، حفاظت اور مدد کے ساتھ اس کو پیش آئیں گے۔ حتی کہ بسا اوقات کوئی کسی آدمی پر غصہ ہوتا ہے تو اس کو کچھ نہیں گردانتا بلکہ اس کے قبیلہ سے رعب رکھتا ہے۔ چنانچہ میں تم کو اس بات کی تائید میں کتاب اللہ کی آیت پیش کرتا ہوں۔ پھر آپ (رض) نے سورة ھود کی یہ آیت تلاوت فرمائی :
ال لو ان لی بکم قو او آوی الی رکن شدید۔ ھود : 80 ۔
(لوط نے) کہا : اے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط (جماعت کے) قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : رکن شدید (جس کی خواہش حضرت لوط (علیہ السلام) نے کی اس) سے مراد قبیلہ ہے۔ چونکہ لوط (علیہ السلام) کا ان کی قوم میں کوئی قبیلہ نہ تھا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اللہ نے لوط (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کے مضبوط قبیلے میں۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی جو شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا تھا۔
وانا لنراک فینا ضعیفا ولولا رھطک لرجمناک ۔ ھود : 91
اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے خاندان والے نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : قسم معبود حق کی : وہ لوگ اپنے رب کی عظمت سے نہیں ڈرے مگر شعیب (علیہ السلام) کے خاندان سے ڈر گئے۔ رواہ ابو الشیخ۔
4436- عن علي أنه خطب فقال: "عشيرة الرجل للرجل خير من الرجل لعشيرته، إنه إن كف يده عنهم كف يدا واحدة وكفوا عنه أيدي كثيرة مع مودتهم وحفاظهم ونصرتهم، حتى لربما غضب الرجل للرجل وما يعرفه إلا بحسبه، وسأتلوا عليكم بذلك آيات من كتاب الله، فتلا هذه الآية: {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} قال علي: والركن الشديد العشيرة، فلم تكن للوط عشيرة فو الذي لا إله إلا هو، ما بعث الله نبيا قط بعد لوط إلا ثروة من قومه وتلا هذه الآية في شعيب: {وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفاً} قال: كان مكفوفا فنسبوه إلى الضعف، {وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ} قال علي: فو الذي لا إله غيره، ما هابوا جلال ربهم إلا العشيرة. "أبو الشيخ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفینہ نوح (علیہ السلام) ۔
4437: حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں :
اگر اللہ پاک قوم نوح (علیہ السلام) میں سے کسی پر رحم فرماتے تو اس بچے کی ماں پر ضرور رحم فرماتے (جس کا قصہ یہ ہے) کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ حتی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے مایوس ہوگئے تو آپ علیہ السلام) نے ایک درخت اگایا، جو بڑا ہوگیا اور ہر طرف سے پھیل کر خوب بڑا ہوگیا اور آپ نے اس کو کاٹ کر کشتی بنانا شروع کی۔ لوگ آپ کے پاس سے گذرتے اور اس کے متعلق پوچھ گچھ کرتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : میں کشتی بنا رہا ہوں۔ لوگ اس جواب پر خوب ہنسی مذاق اڑتے اور کہتے تم خشکی میں کشتی بنا رہے ہو، یہ چلے گی کہاں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف یہ جواب دیتے عن قریب تم کو (سب) معلوم ہوجائے گا۔
چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کشتی بنا کر فارغ ہوگئے، تنور ابل پڑا اور گلی محلوں میں پانی خوب جاری ہوگیا تو اس بچے کی ماں کو اپنے بچے کا بہت خوف ہوا کیونکہ وہ اس سے بہت ہی زیادہ محبت کرتی تھی۔ چنانچہ وہ بچہ کو (چھاتی سے) لگا کر پہاڑ پر چلی گئی۔ پانی جب (پہاڑ سے بھی اونچا ہو کر ) اس کے ٹخنوں تک پہنچ گیا تو اس نے بچے کو ہاتھوں میں اٹھا کر بلند کرلیا۔ آخرکار پانی اس ماں کو بھی (بچے سمیت) بہا کرلے گیا پس اگر اللہ پاک اس دن کسی (کافر) پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر ضرور رحم کھاتا۔ (مستدرک الحاکم، ابن عساکر)
اگر اللہ پاک قوم نوح (علیہ السلام) میں سے کسی پر رحم فرماتے تو اس بچے کی ماں پر ضرور رحم فرماتے (جس کا قصہ یہ ہے) کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ حتی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے مایوس ہوگئے تو آپ علیہ السلام) نے ایک درخت اگایا، جو بڑا ہوگیا اور ہر طرف سے پھیل کر خوب بڑا ہوگیا اور آپ نے اس کو کاٹ کر کشتی بنانا شروع کی۔ لوگ آپ کے پاس سے گذرتے اور اس کے متعلق پوچھ گچھ کرتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : میں کشتی بنا رہا ہوں۔ لوگ اس جواب پر خوب ہنسی مذاق اڑتے اور کہتے تم خشکی میں کشتی بنا رہے ہو، یہ چلے گی کہاں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف یہ جواب دیتے عن قریب تم کو (سب) معلوم ہوجائے گا۔
چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کشتی بنا کر فارغ ہوگئے، تنور ابل پڑا اور گلی محلوں میں پانی خوب جاری ہوگیا تو اس بچے کی ماں کو اپنے بچے کا بہت خوف ہوا کیونکہ وہ اس سے بہت ہی زیادہ محبت کرتی تھی۔ چنانچہ وہ بچہ کو (چھاتی سے) لگا کر پہاڑ پر چلی گئی۔ پانی جب (پہاڑ سے بھی اونچا ہو کر ) اس کے ٹخنوں تک پہنچ گیا تو اس نے بچے کو ہاتھوں میں اٹھا کر بلند کرلیا۔ آخرکار پانی اس ماں کو بھی (بچے سمیت) بہا کرلے گیا پس اگر اللہ پاک اس دن کسی (کافر) پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر ضرور رحم کھاتا۔ (مستدرک الحاکم، ابن عساکر)
4437 - عن عائشة قالت: "لو رحم الله أحدا من قوم نوح لرحم أم الصبي، كان نوح مكث في قومه ألف سنة إلا خمسين عاما يدعوهم حتى كان آخر زمانه غرس شجرة فعظمت، فذهبت كل مذهب، ثم قطعها ثم جعل يعملها سفينة، فيمرون فيسألونه؟ فيقول: أعملها سفينة، فيسخرون منه، ويقولون تعمل سفينة في البر وكيف تجري؟ قال: سوف تعلمون، فلما فرغ منها وفار التنور وكثر الماء في السكك خشيت أم الصبي عليه، وكانت تحبه حبا شديدا، فخرجت به إلى الجبل، حتى بلغت ثلثه فلما بلغها الماء خرجت به حتى استوت على الجبل، فلما بلغ الماء رقبتها رفعته بيدها حتى ذهب بها الماء فلو رحم الله أحدا لرحم أم الصبي". "ك وابن عساكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفینہ نوح (علیہ السلام) ۔
4438: ۔۔ محمد بن الحنفیہ (حضرت علی (رض) کے بیٹے جن کی ماں کا نام حنفیہ تھا) کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : ویتلوہ شاھد منہ۔ ھود : 17 ۔
اور اس کو اللہ کی جانب سے ایک شاہد تلاوت کرتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت میں شاہد سے آپ کی ذات مراد ہے۔ حضرت علی (رض) عن نے فرمایا : کاش میں اس سے مراد ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد محمد کی زبان ہے۔ (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ ، الکبیر والاوسط للطبرانی)
اور اس کو اللہ کی جانب سے ایک شاہد تلاوت کرتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت میں شاہد سے آپ کی ذات مراد ہے۔ حضرت علی (رض) عن نے فرمایا : کاش میں اس سے مراد ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد محمد کی زبان ہے۔ (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ ، الکبیر والاوسط للطبرانی)
4438- عن محمد بن الحنفية قال قلت لعلي بن أبي طالب: "إن الناس يزعمون في قول الله تعالى: {وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ} إنك أنت التالي فقال: وددت أني أنا هو، ولكنه لسان محمد صلى الله عليه وسلم". "ابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ طب طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفینہ نوح (علیہ السلام) ۔
4439: ۔۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ۔ ھود : 17 ۔
ترجمہ : بھلا جو اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ایک گواہ بھی اللہ کی جانب سے ہو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی جانب سے میں گواہ ہوں۔ ابن مردویہ، ابن عساکر۔
ترجمہ : بھلا جو اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ایک گواہ بھی اللہ کی جانب سے ہو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی جانب سے میں گواہ ہوں۔ ابن مردویہ، ابن عساکر۔
4439- عن علي في قوله تعالى: {أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ} قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "على بينة من ربه وأنا شاهد منه". "ابن مردويه كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفینہ نوح (علیہ السلام) ۔
4440: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ۔
میں خدا کی طرف سے (روشن) دلیل پر ہوں اور علی (رض) اس پر گواہ ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ۔
میں خدا کی طرف سے (روشن) دلیل پر ہوں اور علی (رض) اس پر گواہ ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
4440- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفمن كان على بينة من ربه أنا، ويتلوه شاهد منه علي". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفینہ نوح (علیہ السلام) ۔
4441: ۔۔ حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : قریش کا کوئی شخص ایسا نہیں جس کے بارے میں قرآن کا کچھ نہ کچھ حصہ نازل ہوا ہو۔
ایک شخص نے عرض کیا : آپ کے بارے میں کیا نازل ہوا ہے ؟ کیا تم سورة ھود تلاوت نہیں کرتے :
افمن کان علی بینۃ من ربہ و یتلوہ شاھد منہ۔ ھود :17 ۔
پس جو اپنے رب کی طرف سے (روشن) دلیل پر قائم ہوا اور ایک گواہ بھی اس پر اللہ کی جانب سے ہو۔
میں علی بینۃ من ربہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں اور یتلوہ شاہد منہ سے میں مراد ہوں۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم فی المعرفۃ۔
ایک شخص نے عرض کیا : آپ کے بارے میں کیا نازل ہوا ہے ؟ کیا تم سورة ھود تلاوت نہیں کرتے :
افمن کان علی بینۃ من ربہ و یتلوہ شاھد منہ۔ ھود :17 ۔
پس جو اپنے رب کی طرف سے (روشن) دلیل پر قائم ہوا اور ایک گواہ بھی اس پر اللہ کی جانب سے ہو۔
میں علی بینۃ من ربہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں اور یتلوہ شاہد منہ سے میں مراد ہوں۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم فی المعرفۃ۔
4441- عن علي قال: "ما من رجل من قريش إلا نزل فيه طائفة من القرآن، فقال له رجل: ما نزل فيك؟ قال: أما تقرأ سورة هود؟ {أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ} رسول الله صلى الله عليه وسلم على بينة من ربه، وأنا شاهد منه" "ابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یوسف
4442: ۔ (مسند علی (رض)) ولقد ھمت بہ۔ یوسف : 24 ۔
اور اس (زلیخاء) نے اس (یوسف (علیہ السلام)) کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا۔ برائی کی لالچ کی۔ اور کھڑی ہو کر اپنے کو جو یاقوت اور موتیوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور گھر کے کونے میں رکھا تھا سفید کپڑا ڈھانپنے لگی۔ تاکہ اس کے اور بت کے درمیان آڑ ہوجائے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا : یہ کیا کر رہی ہو ؟ اس نے کہا : میں اپنے معبود سے شرم کرتی ہوں کہ وہ مجھے اس حالت میں دیکھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تو ایسے معبود سے شرم کر رہی ہے جو کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے اور میں اس حقیقی معبود سے شرم نہیں کررہا ہوں جو ہر جان پر اور اس کے عمل پر نگہبان ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تم اپنا یہ مقصود مجھ سے کبھی حاصل نہیں کرسکتیں۔ اور یہی برہان ہے۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے۔
ولقد ھمت بہ ، وھم بہا لولا ان را برھان ربہ۔ یوسف : 24 ۔
اور اس نے ارادہ کیا اور اس (یوسف (علیہ السلام)) نے بھی اس کا ارادہ کیا اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا (تو قریب تھا کہ گناہ میں ملوث ہوجاتا)
امام قرطبی (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں احمد بن یحییٰ (رح) نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ زلیخاء نے مضبوط ارادہ کیا اور عزم کرلیا کہ یہ (گناہ) کرنا ہے۔ جبکہ اس کے اصرار کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کے دل میں ارادہ پیدا ہوا جبکہ اس میں واقع نہیں ہوئے اور کرنے کا خیال مضبوط نہیں ہونے دیا اسی کی نشانی یہ ہوئی کہ جب زلیخاء نے اپنے بت پر کپڑا ڈالا تو ان کو تنبیہ ہوئی اور ارادے سے عزم صمیم کے ساتھ ہٹ گئے اور فرمایا تم یہ مقصود مجھ سے ہرگز حاصل نہیں کرسکتیں (تفسیر القرطبی 9/ 166 ۔ 167) مع الاضافۃ۔
اور اس (زلیخاء) نے اس (یوسف (علیہ السلام)) کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا۔ برائی کی لالچ کی۔ اور کھڑی ہو کر اپنے کو جو یاقوت اور موتیوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور گھر کے کونے میں رکھا تھا سفید کپڑا ڈھانپنے لگی۔ تاکہ اس کے اور بت کے درمیان آڑ ہوجائے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا : یہ کیا کر رہی ہو ؟ اس نے کہا : میں اپنے معبود سے شرم کرتی ہوں کہ وہ مجھے اس حالت میں دیکھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تو ایسے معبود سے شرم کر رہی ہے جو کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے اور میں اس حقیقی معبود سے شرم نہیں کررہا ہوں جو ہر جان پر اور اس کے عمل پر نگہبان ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تم اپنا یہ مقصود مجھ سے کبھی حاصل نہیں کرسکتیں۔ اور یہی برہان ہے۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے۔
ولقد ھمت بہ ، وھم بہا لولا ان را برھان ربہ۔ یوسف : 24 ۔
اور اس نے ارادہ کیا اور اس (یوسف (علیہ السلام)) نے بھی اس کا ارادہ کیا اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا (تو قریب تھا کہ گناہ میں ملوث ہوجاتا)
امام قرطبی (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں احمد بن یحییٰ (رح) نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ زلیخاء نے مضبوط ارادہ کیا اور عزم کرلیا کہ یہ (گناہ) کرنا ہے۔ جبکہ اس کے اصرار کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کے دل میں ارادہ پیدا ہوا جبکہ اس میں واقع نہیں ہوئے اور کرنے کا خیال مضبوط نہیں ہونے دیا اسی کی نشانی یہ ہوئی کہ جب زلیخاء نے اپنے بت پر کپڑا ڈالا تو ان کو تنبیہ ہوئی اور ارادے سے عزم صمیم کے ساتھ ہٹ گئے اور فرمایا تم یہ مقصود مجھ سے ہرگز حاصل نہیں کرسکتیں (تفسیر القرطبی 9/ 166 ۔ 167) مع الاضافۃ۔
4442- "ومن مسند علي رضي الله عنه" عن علي في قوله تعالى {وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ} قال: "طمعت فيه، فقامت إلى صنم مكلل بالدر والياقوت، في ناحية البيت، فسترته بثوب أبيض بينها وبينه، فقال: أي شيء تصنعين؟ فقالت: أستحي أنا من إلهي أن يراني على هذه السوءة فقال يوسف: تستحيين من صنم لا يأكل ولا يشرب ولا أستحي أنا من إلهي الذي هو قائم على كل نفس بما كسبت؟ ثم قال: لا تنالينها مني أبدا وهو البرهان"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة رعد۔
4443: ۔ عباد بن عبداللہ اسدی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے اس فرمان الہی کے متعلق ارشاد فرمایا :
انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ الرعد :7 ۔
بےشک آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک ہادی ہے۔ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرانے والے ہیں اور میں ہادی (سیدھی راہ دکھانے) والا ہوں۔ ابن ابی حاتم۔
انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ الرعد :7 ۔
بےشک آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک ہادی ہے۔ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرانے والے ہیں اور میں ہادی (سیدھی راہ دکھانے) والا ہوں۔ ابن ابی حاتم۔
4443- عن عباد بن عبد الله الأسدي، عن علي في قوله تعالى: {إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ} قال علي: "رسول الله صلى الله عليه وسلم المنذر وأنا الهادي"."ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة رعد۔
4444: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا :
یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ الرعد : 39 ۔
خدا جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جواب دیا : میں تجھے اس کے متعلق ایک راز کی بات بتاتا ہوں تم میرے بعد میری امت کو بتانا۔ کون ہے اور جس کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کس طرح قبول نہیں کرتے، صدقہ دینا والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور بھلائی کا کام کرنا جو بدبختی کو نیک بختی سے بدل دیتا ہے اور عمر میں اضافہ کرتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
کلام : ۔۔ یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں کئی مجہول روات ہیں۔ کنز العمال عربی ج 2 ص 441 ۔
یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ الرعد : 39 ۔
خدا جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جواب دیا : میں تجھے اس کے متعلق ایک راز کی بات بتاتا ہوں تم میرے بعد میری امت کو بتانا۔ کون ہے اور جس کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کس طرح قبول نہیں کرتے، صدقہ دینا والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور بھلائی کا کام کرنا جو بدبختی کو نیک بختی سے بدل دیتا ہے اور عمر میں اضافہ کرتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
کلام : ۔۔ یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں کئی مجہول روات ہیں۔ کنز العمال عربی ج 2 ص 441 ۔
4444- عن علي أنه سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى: {يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ} فقال له: "لأسرنك بها، فتبشر بها أمتي من بعدي، الصدقة على وجهها، وبر الوالدين واصطناع المعروف يحول الشقاء سعادة ويزيد في العمر". "ش" وقال حديث منكر وفي إسناده غير واحد من المجهولين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4445: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا محمد ! مجھے اپنے اس معبود کے بارے میں بتائیے، جس کی طرف آپ لوگوں کو بلاتے ہیں کہ وہ یاقوت کا ہے ؟ سونے کا ہے ؟ یا اور کسی چیز کا ہے ؟ چنانچہ سائل پر بجلی گری اور اس کو جلا ڈالا تب اللہ پاک نے یہ آیت نازل کی :
و یرسل الصواعق فیصیب بھا من یاء الخ : الرعد : 3 ۔
اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ بڑی قوت والا ہے۔ رواہ ابن جریر۔
و یرسل الصواعق فیصیب بھا من یاء الخ : الرعد : 3 ۔
اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ بڑی قوت والا ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4445- عن علي قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال "يا محمد حدثني عن إلهك هذا الذي تدعو إليه أياقوت هو؟ أذهب هو؟ أو ما هو؟ فنزلت على السائل صاعقة فاحرقته، فأنزل الله تعالى: {وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ} " "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4446: ۔۔ الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ الخ۔ الرعد : 14 ۔
سود مند پکارنا تو اللہ ہی کی رضاء کے لیے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے، حالانکہ وہ (اس تک کبھی نہیں) آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار ہے۔ رواہ ابن جریر۔
سود مند پکارنا تو اللہ ہی کی رضاء کے لیے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے، حالانکہ وہ (اس تک کبھی نہیں) آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4446- عن علي في قوله تعالى: {إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ} قال "كالرجل العطشان يمد يده إلى البئر ليرتفع الماء إليه، وما هو ببالغه". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4447: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : فرمان الہی :
لہ دعوۃ الحو۔ الرعد :14 ۔
اللہ ہی کے لیے حق کی پکار ہے۔
کا مطلب ہے حق کی پکار لا الہ الا اللہ کی توحید ہے۔ ابن جریر، ابو الشیخ۔
لہ دعوۃ الحو۔ الرعد :14 ۔
اللہ ہی کے لیے حق کی پکار ہے۔
کا مطلب ہے حق کی پکار لا الہ الا اللہ کی توحید ہے۔ ابن جریر، ابو الشیخ۔
4447- عن علي في قوله تعالى: {لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ} قال: "التوحيد لا إله إلا الله". "ابن جرير وأبو
الشيخ".
الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4448: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ الرعد : 28 ۔
اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آ رام پاتے ہیں۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی یاد سے اس شخص کا دل آرام پاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو۔ اور مومنین کے ساتھ بھی محبت رکھتا ہو۔ غائب ہوں یا حاضر سب کے ساتھ۔
پس آگاہ رہو اللہ کی وجہ سے ہی مومنین ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں ایک راوی محمد ابن اشعث کوفی بھی ہے جو حدیث کے بارے میں تہمت زدہ ہے۔ کنز 2 ص 442 ۔
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ الرعد : 28 ۔
اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آ رام پاتے ہیں۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی یاد سے اس شخص کا دل آرام پاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو۔ اور مومنین کے ساتھ بھی محبت رکھتا ہو۔ غائب ہوں یا حاضر سب کے ساتھ۔
پس آگاہ رہو اللہ کی وجہ سے ہی مومنین ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ رواہ ابن مردویہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں ایک راوی محمد ابن اشعث کوفی بھی ہے جو حدیث کے بارے میں تہمت زدہ ہے۔ کنز 2 ص 442 ۔
4448- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نزلت هذه الآية: {أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} قال "ذاك من أحب الله ورسوله وأحب أهل بيتي صادقا غير كاذب وأحب المؤمنين شاهدا وغائبا ألا بذكر الله يتحابون". "ابن مردويه" وفيه محمد بن الأشعث الكوفي متهم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4449: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے (افلم ییئس الذین آمنوا) کی بجائے اس کو یوں پڑھا : افلم ییئس الذین آمنوا۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : ترجمہ آیت : کیا مومنوں کو معلوم نہیں کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔
ییئس کا معنی کیونکہ یتبین ہے۔ اس لیے حضرت علی (رض) نے اس کو یوں تلاوت فرمایا۔
فائدہ : ترجمہ آیت : کیا مومنوں کو معلوم نہیں کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔
ییئس کا معنی کیونکہ یتبین ہے۔ اس لیے حضرت علی (رض) نے اس کو یوں تلاوت فرمایا۔
4449- عن علي أنه قرأ: {أفلم يتبين الذين آمنوا} . "ابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرت کی نشانیاں
4450: ۔۔ محمد بن اسحاق عکاشی، اوزاعی، محمد بن علی بن حسین، علی بن حسین ، حسین (رض) حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی :
یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ الرعد : 39 ۔
خدا جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو (چاہتا ہے) ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اس کی تفسیر بتا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں اور تم میرے بعد میری امت کو اس کی تفسیر بتا کر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اس کی تفسیر بتا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں اور تم میرے بعد میری امت کو اس کی تفسیر بتا کر میری آنکھیں ٹھنڈی کردینا۔ صدقہ کرنا اللہ کی رضاء کے لیے ، والدین کے ساتھ نیکی کرنا، اور نیکی اختیار کرنا، (نازل شدہ ) بدبختی کو (بھی) نیک بختی میں بدل دیتا ہے، عمر میں اضافہ کرتا ہے، اور برائیوں (اور مصیبتوں) سے چھٹکارا دیتا ہے۔ اے علی جس کے پاس مذکور بھلائیں میں سے کوئی ایک خصلت (صدقہ والدین کے ساتھ نیکی اور عام نیکی کرنا وغیرہ) و تو اللہ پاک اس کو تینوں خصلتیں عطافر ما دیتے ہیں۔ (رواہ ابن مردویہ)
کلام : ۔۔ عکاشی خود ساختہ حدیث بیان کرتا ہے۔ کنز 2 ۔ ص 223 ۔
امام بخاری (رح) فرماتے ہیں یہ شخص منکر الحدیث ہے۔ ابن معین کہتے ہیں کذاب ہے امام دارقطنی فرماتے ہیں یہ شخص حدیث گھڑتا ہے۔ میزان الاعتدال 3/476)
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی :
یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ الرعد : 39 ۔
خدا جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو (چاہتا ہے) ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اس کی تفسیر بتا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں اور تم میرے بعد میری امت کو اس کی تفسیر بتا کر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اس کی تفسیر بتا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں اور تم میرے بعد میری امت کو اس کی تفسیر بتا کر میری آنکھیں ٹھنڈی کردینا۔ صدقہ کرنا اللہ کی رضاء کے لیے ، والدین کے ساتھ نیکی کرنا، اور نیکی اختیار کرنا، (نازل شدہ ) بدبختی کو (بھی) نیک بختی میں بدل دیتا ہے، عمر میں اضافہ کرتا ہے، اور برائیوں (اور مصیبتوں) سے چھٹکارا دیتا ہے۔ اے علی جس کے پاس مذکور بھلائیں میں سے کوئی ایک خصلت (صدقہ والدین کے ساتھ نیکی اور عام نیکی کرنا وغیرہ) و تو اللہ پاک اس کو تینوں خصلتیں عطافر ما دیتے ہیں۔ (رواہ ابن مردویہ)
کلام : ۔۔ عکاشی خود ساختہ حدیث بیان کرتا ہے۔ کنز 2 ۔ ص 223 ۔
امام بخاری (رح) فرماتے ہیں یہ شخص منکر الحدیث ہے۔ ابن معین کہتے ہیں کذاب ہے امام دارقطنی فرماتے ہیں یہ شخص حدیث گھڑتا ہے۔ میزان الاعتدال 3/476)
4450 - عن محمد بن إسحاق العكاشي قال: حدثني الأوزاعي قال: حدثني محمد بن علي بن الحسين قال: حدثني أبي عن جدي عن علي أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن هذه الآية {يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ} فقال رسول الله صلى اله عليه وسلم: "لأقرن عينيك بتفسيرها، ولأقرن عيني أمتي من بعدي بتفسيرها، الصدقة على وجهها أي يريد بها ما عند الله وبر الوالدين، واصطناع المعروف يحول الشقاء سعادة، ويزيد في العمر ويقي مصارع السوء، يا علي من كان فيه خصلة واحدة من هذه الأشياء أعطاه الله الثلاث خصال". "ابن مردويه"، والعكاشي يضع
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ابراہیم (علیہ السلام)
4451: ۔۔ (مسند ابی بن کعب (رض)) و ذکرھم بایام اللہ۔ ابراہیم : 5 ۔
(ترجمہ مکمل آیت) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ اور ان کو خدا کے ایام یاد دلاؤ اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر شاکر ہیں نشانیاں ہیں۔
حضرت ابی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ ایام اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں یعنی ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاؤ۔ (عبد بن حمید، نسائی، زیادات عبداللہ بن احمد بن حنبل، الدار قطنی فی الافراد)
(ترجمہ مکمل آیت) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ اور ان کو خدا کے ایام یاد دلاؤ اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر شاکر ہیں نشانیاں ہیں۔
حضرت ابی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ ایام اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں یعنی ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاؤ۔ (عبد بن حمید، نسائی، زیادات عبداللہ بن احمد بن حنبل، الدار قطنی فی الافراد)
4451- "من مسند أبي بن كعب" عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ} قال: "بنعم الله". "عبد بن حميد ن عم قط في الأفراد".
তাহকীক: