কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৪১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4412: حضرت ابی (رض) سے مروی ہے فرمایا : کہ (سورة توبہ میں) آخری آیت جو نازل ہوئی :

لقد جاء کم رسول من انفسکم الخ ہے۔ مسند احمد ، الکبیر للطبرانی۔
4412- عن أبي آخر آية أنزلت: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} الآية. "حم طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4413: ۔۔ عبداللہ بن فضل ہاشمی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : حرہ (کی جنگ) میں میری قوم کو جو مصیبت پیش آئی اس پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ حضرت زید بن ارقم (رض) عن کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے مجھے خبر دی کہ انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : اے اللہ ! انصار کی مغفرت کر، انصار کی اولاد کی مغفرت کر اور انصار کی اولاد کی مغفرت کر۔

حضرت انس (رض) سے حاضرین نے پوچھا : یہ زید بن ارقم کون ہیں ؟ تو فرمایا : یہ وہ ہستی ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : اس شخص کی کوشش کے ساتھ اللہ نے (اپنا دین) پورا کردیا۔

ابن شہاب فرماتے ہیں ایک منافق شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا تو کہنے لگا : اگر یہ شخص سچا ہے تو ہم گدھے سے بھی بدتر انسان ہیں۔

حضرت زید بن ارقم (رض) نے (اس منافق کی بات سن لی اور) فرمایا : بیشک اللہ کی قسم یہ سچے ہیں اور تو گدھے سے زیادہ بدتر انسان ہے۔ پھر یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو منافق اپنی بات سے مکر گیا تب اللہ پاک نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل کیا :

یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر بعد اسلامہ۔ توبہ : 74 ۔

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں انھوں نے (تو کچھ) نہیں کیا، حالانکہ انھوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں۔

اور اللہ پاک نے یہ فرمان صرف حضرت زید بن ارقم (رض) کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے نازل فرمایا تھا۔ (الدار قطنی فی الافراد، ابن عساکر)
4413- عن عبد الله بن الفضل الهاشمي أنه سمع أنس بن مالك يقول: "حزنت على من أصيب بالحرة من قومي، فكتب إلي زيد بن أرقم وبلغه شدة حزني، وأخبرني أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم اغفر للأنصار، ولأبناء الأنصار، ولأبناء أبناء الأنصار"، فسأل أنسا بعض من كان عنده عن زيد بن أرقم؟ فقال: هو الذي يقول له رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا الذي أوفى الله بأذنه.

قال ابن شهاب: وسمع رجلا من المنافقين ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب ويقول: لئن كان هذا صادقا فنحن شر من الحمير، فقال زيد بن أرقم: فقد والله صدق، ولأنت شر من الحمار، فرفع ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجحده القائل، فأنزل الله على رسول الله صلى الله عليه وسلم: {يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ} فكان ما أنزل الله من هذه الآية تصديقا لزيد بن أرقم"."قط في الأفراد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4414: ۔۔ حضرت حذیفہ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

فقاتلوا ائمۃ الکفر۔ توبہ : 12

ائمہ کفر سے قتال کرو۔

پھر فرمایا : اس کے بعد اس آیت والوں سے قتال نہیں کیا گیا۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4414- عن حذيفة أنه قرأ هذه الآية: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ} قال: "ما قوتل أهل هذه الآية بعد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4415: ۔۔ محمد بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ میرے والد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو فرمایا :

اے قباء والو ! پاکیزگی کے بارے میں اللہ نے تمہاری اچھی تعریف فرمائی ہے، مجھے ( اس کی وجہ) بتاؤ۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے توراۃ میں پانی کے ساتھ استنجاء کا حکم دیکھا تھا۔ (مسند احمد، ابو نعیم فی المعرفۃ)
4415- عن محمد بن عبد الله سلام قال بن أبي: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أهل قباء إن الله قد أثنى عليكم في الطهور خيرا فأخبروني قلنا يا رسول الله نجد علينا في التوراة الاستنجاء بالماء". "حم وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاکی حاصل کرنے والوں کی تعریف
4416: ۔۔ محمد بن عبداللہ بن سلام اپنے والد عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے پاکی میں تمہاری تعریف فرمائی ہے۔

فیہ رجال یحبون ان یتطھروا۔ توبہ : 108 ۔

اس (مسجد قباء) میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کیا تم مجھے اس کی خبر نہیں دوگے۔ انھوں نے کہا : ہم (مٹی کے بعد) پانی کے ساتھ استنجاء کرتے ہیں اور توراۃ سے ہمیں یہ چیز ملی ہے۔ رواہ ابو نعیم۔
4416- عن محمد بن عبد الله بن سلام عن أبيه أنه قال: أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتنا، فقال: "إن الله تعالى قد أثنى عليكم في الطهور أفلا تخبروني في قوله تعالى؟ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} قالوا: إنا نجده مكتوبا علينا في التوراة" "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاکی حاصل کرنے والوں کی تعریف
4417: ۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسجد میں تشریف لائے جس کی بنیاد تقوی (اور اخلاص) پر رکھی گئی تھی یعنی مسجد قباء میں آپ دروازے کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے : اللہ نے پاکی اختیار کرنے میں تمہاری اچھی تعریف فرمائی ہے۔

فیہ رجال یحبون ان یتطہروا واللہ یحب المتطہرین۔ ابن ابی شیبہ، ابو نعیم۔
4417- عن ابن عباس أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد الذي أسس على التقوى مسجد قباء، فقام على بابه، فقال: "إن الله قد أحسن عليكم الثناء في الطهور، فقال: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} ". "ش وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
4418: ۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طائف سے واپسی آنے کے چھ ماہ بعد آپ کو غزوہ تبوک کا حکم ملا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے ساعۃ العسرۃ (تنگی کی گھڑی) فرمایا : یہ سخت گرمی کے زمانے میں پیش آیا۔ ان ایام میں نفاق (یعنی منافقین) کی بھی کثرت ہوگئی تھی اور اصحاب صفہ کی تعداد بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ صفہ فاقہ کشوں کا گھر تھا۔ جس کا کوئی ٹھکانا نہ ہوتا وہ یہاں آجاتا تھا۔ ان کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مسلمانوں کا صدقہ آتا رہتا تھا۔ اور جب کوئی غزوہ پیش آتا تو مالدار مسلمان آتے اور ایک ایک صفہ کے ساتھی کو ساتھ لے جاتا۔ کوئی زیادہ کو بھی لے جاتا تھا۔ اور ان کو سامان جہاد فراہم کرتا۔ چنانچہ یوں فقراء مسلمین بھی غزوۃ میں امراء مسلمین کے شانہ بشانہ شریک ہوتے۔ اور امراء مسلمین کا مقصود سامان فراہم کرنے سے صرف اللہ کی رضاء مقصود ہوتی۔

چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو ثواب کی غرض سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اللہ کے ثواب کی خاطر اپنا اپنا مال پیش کیا۔ کچھ (منافق) لوگوں نے بغیر ثواب کی امید کے خرچ کیا۔ فقراء مسلمین کو مالدار مسلمانوں نے سواریاں دیں۔ کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ سب سے افضل صدقہ جو کسی نے اس دن پیش کیا وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے۔ انھوں نے دو سو اوقیہ (چاندی) اللہ کی راہ میں صدقہ کی۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سو اوقیہ (چاندی) دی، حضرت عاصم انصاری نے کھجور کے نوے وسق صدقے میں دیے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے لگتا ہے شاید حضرت عبدالرحمن (رض) نے اپنے گھر والوں کے لیے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا۔ لہٰذا آپ (رض) نے ان سے سولا کیا : کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : جو خرچ کیا ہے اس سے زیادہ اور اچھا پیچھے گھر والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کتنا ؟ عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول نے جو بھلائی اور خیر کا سچا وعدہ کیا ہے وہ ان کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔ اسی طرح ایک انصاری شخص نے ایک صاع (ساڑھے تین سے کے برابر) کھجور صدقہ میں پیش کیں۔

منافقین نے مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر صدقات پیش کرتے دیکھا تو یہ کام شروع کیا کہ اگر کسی کو زیادہ مال صدقہ کرتے دیکھتے دیکھتے تو کہتے کہ یہ خود اس کا زیادہ محتاج ہے جو لے کر آیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے جب ابو عقیل ایک صاع کھجور لے کر آئے اور عرض کیا : میں نے رات بھر مزدوری کرکے دو صاع کھجور اجرت کمائی تھی۔ اللہ کی قسم میرے پاس ان دو صاع کھجوروں کے سوا کچھ نہیں۔ اور وہ انتہائی معذر اور شرمندگی ظاہر کرنے لگے۔ پھر کہا چنانچہ میں ایک صاع یہاں صدقے کے لیے لے آیا اور ایک صاع پیچھے گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔

چنانچہ منافقین نے ان پر آواز کسی کہ یہ تو خود اپنے صاع کا زیادہ محتاج ہے۔ جبکہ یہ منافقین غنی ہوں یا فقیر سب اس بات کی لالچ میں تھے کہ ان اموال صدقات میں سے بھی ان کو حصہ مل جائے۔

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے کا وقت قریب آیا تو یہی منافقین آگے ہو ہو کر اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے۔ گرمی کی شدت کی شکایت کرتے اور غزوہ سے ڈر ڈر کر پیچھے رہ جاتے۔ لڑائی کی صورت میں موت کا فتنہ انھیں بزدل کررہا تھا۔ الغرض وہ اللہ کے نام کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر عذر اور بہانے تراشنے لگے۔ آخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اجازت دیتے رہے۔ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے دلوں کی باتوں کا علم نہ تھا۔

ان منافقین نے مل کر ایک مسجد نفاق بھی بنائی۔ ابو عامر فاسق ان کا بڑا بنا ۔ جو ہرقل کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ کنانہ بن عبدیالیل اور علقمہ بن علامہ عامری بھی تھے۔ انہی کے بارے میں سورة برأت نازل ہوئی جس میں کسی بیٹھنے والے کو جنگ سے پیچھے رہ جانے کی رخصت نہیں تھی۔ اور اس میں یہ حکم بھی نازل ہوا :

انفروا خفافا و ثقالا۔

ہلکے ہو یا بوجھل نکلو اللہ کی راہ میں۔

پھر جو سچے کمزور مسلمان تھے جن میں مریض اور فقیر بھی تھے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور عرض کیا کہ یہ تو ایسا حکم ہے جس میں کچھ رخصت نہیں ہے۔ جبکہ منافقین کے گناہ (اور چالبازیاں) چھپے ہوئے تھے، جو بعد میں ظاہر ہوئے۔ بہرکیف پیچھے رہ جانے والوں میں بہت لوگ تھے اور ان کو کوئی عذر بھی نہ تھا اور سورة برأت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھ جانے والوں کی شان میں نازل ہوئی۔ حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علقمہ بن محرز مدلجی کو (لشکر دے کر) فلسطین بھیجا اور (دوسرا لشکر دے کر) حضرت خالد بن ولید (رض) کو دومۃ الجندل بھیجا۔ اور فرمایا : جلدی جاؤ۔ شاید تم اس کو باہر قضائے حاجت کرتا ہوا پاؤ اور اس کو پکڑ لو۔

چنانچہ حضرت خالد (رض) گئے اور فرمان رسول کے مطابق دشمن کو اسی حال میں پایا۔ اور اس کو پکڑ لیا۔

ادھر مدینہ میں موجود منافقین کوئی بری خبر (جو مسلمانوں کے لیے باعث خوشی ہوتی) سنتے تو لرز جاتے لیکن جب سنتے کہ مسلمان مشقت اور تنگی میں مبتلا ہیں تو خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے ایسا ہوگا اسی لیے ہم محتاط رہے (اور نہیں گئے) اور جب مسلمانوں کی سلامتی اور مالداری کی خبر سنتے تو رنجیدہ ہوجاتے۔ اور مدینہ میں موجود ہر منافق کے چہرے سے ان کیفیات کا اندازہ ہوتا تھا۔ پس کوئی منافق نہ رہا جو خبیث عمل کے ساتھ اور خبیث رتبے کے ساتھ چھپتا نہ پھر رہا ہو۔ جبکہ ہر بیمار اور لاچار خوشحالی اور فراخی کا انتظار کررہا تھا جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا تھا۔ ادھر سورة برأت بھی مسلسل موقع بموقع نازل ہو رہی تھی۔ (جس میں بہت سی خفیہ باتیں ظاہر ہورہی تھیں) جس کی وجہ سے مسلمان بھی مختلف گمانوں کا شکار تھے اور ڈر رہے تھے کہ کوئی بڑا بوڑھا جس سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہو اور سورة توبہ اس کا پردہ فاش کردے اور وہ اسی کے صدمے میں نہ چلا جائے۔ الغرض سورة برأت میں ہر عمل کرنے والے کا متبہ ہدایت کا یا گمراہی کا آشکارا ہوگیا اور سورة برأت کا نزول بھی مکمل ہوگیا۔ (ابن عائذ، ابن عساکر)
4418- عن ابن عباس قال: "لبث رسول الله صلى الله عليه وسلم، بعد خروجه من الطائف ستة أشهر، ثم أمره الله بغزوة تبوك، وهي التي ذكر الله ساعة العسرة، وذلك في حر شديد، وقد كثر النفاق وكثر أصحاب الصفة، والصفة بيت كان لأهل الفاقة يجتمعون فيه، فتأتيهم صدقة النبي صلى الله عليه وسلم والمسلمين، وإذا حضر غزو عمد المسلمون إليهم فاحتمل الرجل الرجل، أو ما شاء الله فجهزوهم، وغزوا معهم، واحتسبوا عليهم فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين بالنفقة في سبيل الله والحسبة فأنفقوا احتسابا، وأنفق رجال غير محتسبين، وحمل رجال من فقراء المسلمين، وبقي أناس، وأفضل ما تصدق به يومئذ أحد عبد الرحمن بن عوف، تصدق بمأتي أوقية، وتصدق عمر بن الخطاب بمائة أوقية وتصدق عاصم الأنصاري بتسعين وسقا من تمر، وقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: يا رسول الله إني لآرى عبد الرحمن بن عوف إلا قد أخبرت ما ترك لأهله شيئا، فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم، هل تركت لأهلك شيئا قال: نعم، أكثر مما أنفقت وأطيب، قال: كم؟ قال ما وعد الله ورسوله من الصدق والخير، وجاء رجل من الأنصار يقال له أبو عقيل بصاع من تمر، فتصدق به، وعمد المنافقون حين رأوا الصدقات فإذا كانت صدقة الرجل كثيرة تغامزوا به وقالوا: مرائي، وإذا تصدق الرجل بيسير من طاقته قالوا هذا أحوج إلى ما جاء به، فلما جاء أبو عقيل بصاع من تمر قال: بت ليلتي أجر بالجرير على صاعين، والله كان عندي من شيء غيره، وهو يعتذر وهو يستحي، فأتيت بأحدهما، وتركت الآخر لأهلي، فقال المنافقون هذا أفقر إلى صاعه من غيره، وهم في ذلك ينتظرون نصيبهم من الصدقات غنيهم وفقيرهم فلما أزف خروج رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثروا الإسئذان وشكوا شدة الحر وخافوا: زعموا الفتنة إن غزوا ويحلفون بالله على الكذب فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأذن لهم، لا يدري ما في أنفسهم وبنى طائفة منهم مسجد النفاق يرصدون به الفاسق أبا عامر، وهو عند هرقل قد لحق به وكنانة بن عبد ياليل وعلقمة بن علافة العامري، وسورة براءة تنزل في ذلك أرسالا ونزلت فيها آية ليست فيها رخصة لقاعد، فلما أنزل الله: {انْفِرُوا خِفَافاً وَثِقَالاً} اشتكى الضعيف الناصح لله ولرسوله، والمريض والفقير إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالوا هذا أمر لا رخصة فيه، وفي المنافقين ذنوب مستورة لم تظهر حتى كان بعد ذلك، وتخلف رجال غير مستبقين ولا ذوي عذر، ونزلت هذه السورة بالتبيان والتفصيل، في شأن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمن اتبعه، حتى بلغ تبوك، فبعث منها علقمة بن محرز المدلجي إلى فلسطين، وبعث خالد بن الوليد إلى دومة الجندل، فقال: أسرع لعلك أن تجده خارجا يتقنص فتأخذه، فوجده فأخذه وأرجف المنافقون في المدينة بكل خبر سوء، فإذا بلغهم أن المسلمين أصابهم جهد وبلاء تباشروا به وفرحوا، وقالوا: قد كنا نعلم ذلك ونحذر منه، وإذا أخبروا بسلامة منهم، وخير أصابوه حزنوا، وعرف ذلك فيهم كل عدو لهم في المدينة، فلم يبق أحد من المنافقين إلا استخفى بعمل خبيث، ومنزلة خبيثة، واستعلن ولم يبق ذو علة إن وهو ينتظر الفرج فيما ينزل الله كتابه، ولم تزل سورة براءة تنزل حتى ظن المؤمنون الظنون، وأشفقوا أن لا ينفلت منهم كبير أحد أذنب في شأن التوبة قط ذنبا إلا أنزل فيه أمر بلاء حتى انقضت، وقد وقع بكل عامل بيان منزله من الهدى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
4419: ۔۔ حضرت ابی امامہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل قباء کو ارشاد فرمایا : وہ کونسی طہارت ہے جس کے ساتھ اس آیت میں تمہاری خصوصیت بیان کی گئی : ۔

فیہ رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطرین۔ توبہ : 109 ۔

انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی بھی حاجت کرنے جاتاے تو وہ پانی کے ساتھ (استنجاء ضرور کرتا ہے) صرف مٹی پر اکتفا نہیں کرتا اور پائخانہ کا مقام ضرور دھوتا ہے۔ مصنف عبدالرزاق۔
4419- عن أبي أمامة قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: لأهل قباء ما هذا الطهور الذي قد خصصتم به في هذه الآية؟ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} قالوا: "يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ما منا أحد يخرج إلى الغائط إلا غسل مقعدته". "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
4420: ۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ قبیلہ بنی عدی بن کعب کے ایک غلام نے ایک انصاری شخص کو قتل کردیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی دیت میں بارہ ہزار درہم ادا کیے جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا :

وما نقموا الا ان اغناہم اللہ و رسولہ من فضلہ۔

اور انھوں نے اس کے سوا کوئی عیب نہیں لگایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو مالدار کردیا۔ (عبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور، مستدرک الحاکم، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ ، ابن مردویہ)
4420- عن عكرمة قال قتل مولى لبني عدي بن كعب رجلا من الأنصار، فقضى النبي صلى الله عليه وسلم في ديته اثني عشر ألف درهم وهو الذي يقول: {وَمَا نَقَمُوا إِلّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ} ."عب ص ك وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
4421: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو سورة برأت کے ساتھ مکہ بھیجا۔ پھر ان کو بلا لیا اور حضرت علی (رض) کو بھیجا اور فرمایا : اس کو میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص پہنچائے گا۔ ابن ابی شیبہ۔
4421- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث ببراءة مع أبي بكر إلى مكة، فدعاه فبعث عليا، فقال: "لا يبلغها إلا رجل من أهل بيتي". "ش"1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة يونس
4422: ۔۔ (مسند صدیق اکبر (رض)) حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :

للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ۔ یونس : 26 ۔

جن لوگوں نے نیکی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی۔

کے بارے میں منقول ہے " حسنی " سے مراد جنت اور " زیادۃ " سے مراد خدائے عزوجل کا دیدار ہے۔ (ابن ابی شیبہ، ابن ابی عاصم فی السنن، ابن جریر، ابن المنذر، ابن خزیمہ، ابن مندہ، و عثمان بن سعید دارمی معافی الرد علی الجہمیہ، الدار قطنی و البیہقی معافی الرویۃ ، ابو الشیخ، ابن مردویہ، ابن ابی زمنین اللالکانی معافی السنۃ والآجری فی الشریعۃ، الخطیب فی التاریخ)
4422- "ومن مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق في قوله تعالى: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} قال "الحسنى الجنة والزيادة النظر إلى وجه الله تعالى". "ش وابن أبي عاصم في السنن وابن جرير وابن المنذر وابن خزيمة وابن منده وعثمان بن سعيد الدارمي معا في الرد على الجهمية قط ق معا في الرؤية وأبو الشيخ وابن مردويه وابن أبي زمنين واللالكائي معا في السنة والآجري في الشريعة خط"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة يونس
4423: ۔۔ ایفع الکلاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں عراق کا خراج آیا تو حضرت عمر (رض) اپنے غلام کے ساتھ خود باہر نکلے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جبکہ ان کا غلام کہنے لگا : اللہ کی قسم یہ اللہ کا فضل اور اسی کی رحمت سے ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے یہ وہ نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے :

قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا الخ۔ یونس : 58 ۔

کہہ دو کہ خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (یہ کتاب نازل ہوئی ہے) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم الکبیر، للطبرانی۔

فائدہ : ۔۔ غلام کا مقصد تھا کہ اس آیت سے اللہ کا فضل اور رحمت مراد ہے جو عراق سے خراج (ٹیکس) میں آیا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے اس کی سختی سے تردید کی کہ یہ تو دنیاوی مال ہے اس سے بہتر تو اللہ کی کتاب اور اس کی ہدایت ہے جو درحقیقت خدا کا فضل اور اس کی مہربانی سے (یہ کتاب نازل ہوئی ہے) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم۔ الکبیر للطبرانی۔

فائدہ : ۔۔ غلام کا مصد تھا کہ اس آیت سے اللہ کا فضل اور رحمت مراد ہے جو عراق سے خراج (ٹیکس) میں آیا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے اس کی سختی سے تردید کی کہ یہ تو دنیاوی مال ہے اس سے بہتر تو اللہ کی کتاب اور اس کی ہدایت ہے جو درحقیقت خدا کا فضل اور اس کی مہربانی سے کسی کو حاصل ہوتی ہے ورنہ یہ دنیا تو اس کے دوست اور دشمن سب ہی کو مل جاتی ہے۔
4423- عن أيفع الكلاعي قال: "لما قدم خراج العراق إلى عمر، خرج عمر ومولى له فجعل يعد الإبل، فإذا هو أكثر من ذلك فجعل عمر يقول: الحمد لله، وجعل مولاه يقول: هذا والله من فضل الله ورحمته، فقال عمر: كذبت ليس هذا هو الذي يقول الله: {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا} ". "ابن أبي حاتم طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة يونس
4424: ۔۔ (علی (رض)) ان لھم قدم صدق عند ربھم۔ یونس۔ 1

ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔

حضرت علی (رض) مذکورہ فرمان باری کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے (یا مت کے روز) شفاعت کرنے والے ہیں۔ (رواہ بن مردویہ)
4424- "علي" عن علي في قوله تعالى: {أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ} قال: "محمد صلى الله عليه وسلم شفيع لهم". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصوصی انعام کا تذکرہ
4425: ۔۔ للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ۔ یونس : 26

ترجمہ : ۔۔ جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی۔

حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ " حسنی سے مراد جنت اور " زیادۃ " سے مراد اللہ رب العزت کا دیدار ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4425- عن علي في قوله تعالى: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} قال: "يعني الجنة، وزيادة قال: يعني النظر إلى وجه الله عز وجل". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصوصی انعام کا تذکرہ
4426 ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :

للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ۔

کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : الذین احسنوا یعنی جن لوگوں نے نیکی کی، اس سے مراد اہل توحید ہیں، الحسنی سے مراد جنت ہے اور زیادۃ سے مراد اللہ عزوجل کے چہرے کو دیکھنا ہے۔ (ابن جریر ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الدار قطنی، والبیہقی معافی الرویہ، السنۃ للالکائی)
4426- عن أبي بن كعب سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الله {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} قال: "الذين أحسنوا أهل التوحيد والحسنى الجنة، والزيادة النظر إلى وجه الله" "ابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه قط ق معا في الرؤية واللالكائي في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصوصی انعام کا تذکرہ
4427: " للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ " کی تفسیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں " زیادۃ " سے مراد جنت کا ایسا بالاخانہ ہے جو ایک ہی موت سے بنا ہوگا اس کے چار دروازے ہوں گے۔ اس کے دروازے اور دوسرے حصے سب ایک ہی موتی کا حصہ ہوں گے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، البیہقی فی الروایۃ)
4427- عن علي في قول الله تعالى: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} قال: "الزيادة غرفة من لؤلؤة واحدة لها أربعة أبواب، غرفها وأبوابها من لؤلؤة واحدة". "ص وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ ق في الرؤية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة هود
4428: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : کشتی (نوح (علیہ السلام)) جب جودی (پہاڑ) پر ٹھہر گئی حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوے کو بلایا اور فرمایا : جاؤ مجھے زمین کا حال دیکھ کر بتاؤ۔ کوا گیا وہاں قوم نوح (علیہ السلام) کے پاس آنے میں دیر کردی حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کو بد دعا دی پھر کبوتر کو ہلایا۔ کبوتر آ کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کو حکم دیا۔ تم زمین پر اترو اور زمین کا حال دیکھ کر مجھے بتاؤ۔ چنانچہ کبوتر نیچے اترا اور تھوڑی دیر بعد چونچ میں ایک ایک پر پکڑ کر لایا جس کو منہ سے پھڑپھڑا رہا تھا کبوتر آ کر کہنے لگا : زمین پر اتر جائیے، زمین میں (پانی خشک ہونے کے بعد) نباتات اگ آئی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کبوتر کو دعا دیتے ہوئے فرمایا : اللہ تجھے برکت دے اور اس گھر میں برکت دے جہاں تو ٹھکانا رکھے۔ اور لوگوں کے دلوں میں تیری محبت پیدا کردے۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تیرے پیچھے پڑجائیں گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ ہمیشہ تیرا سر سونے کا بنا دیتا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4428- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "لما استقرت السفينة على الجودي لبث ما شاء الله، ثم إنه أذن له فهبط على الجودي، فدعا الغراب، فقال: ائتني بخبر الأرض، فانحدر الغراب على الأرض، وفيها الغرقى من قوم نوح، فأبطأ عليه، فلعنه، ودعا الحمامة فوقعت على كف نوح، فقال: اهبطي إلى الأرض فائتني بخبر الأرض فانحدرت فلم تلبث إلا قليلا حتى جاء ينفض ريشة في منقاره، فقال: اهبط فقد أنبتت الأرض، قال نوح بارك الله فيك، وفي بيت يؤويك وحببك إلى الناس لولا أن يغلبك الناس على نفسك لدعوت الله أن يجعل رأسك من ذهب". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة هود
4429:۔ عباد بن عبداللہ اسدی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں موجود تھا آپ (رض) (پارک نما) کشادہ گھاس پر تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا اور اس آیت کے بارے میں آپ (رض) سے سوال پوچھا :

افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاہد منہ الخ۔ ھود : 17 ۔

بھلا جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو۔

کا کیا مطلب ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : قریش کے جس شخص پر بھی استرا چلا ہو (یعنی ہر بالغ شخص) کے بارے میں کچھ نہ کچھ قرآن ضرور نازل ہوا ہے۔ اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ جان لیں کہ ہم اہل بیت کے لیے اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر کیا انعام گنوائے ہیں تو یہ مجھے اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ یہ پوری جگہ مجھے سونے چاندی کے ساتھ بھر کر مل جائے۔

اللہ کی قسم ! اس امت میں ہماری مثال ایسی ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم میں کشتی نوح۔ اور ہماری مثال اس امت میں ایسی ہے جیسی بنی اسرائیل میں باب حطۃ، (جس پر سے گذرنے والا اسرائیلی اپنی مراد کو پہنچا) ۔ ابو سہل القطان فی امالیہ، ابن مردویہ۔

فائدہ : ۔۔ یعنی قریش کا ہر شخص اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پر ہیں اور جو ہم اصحاب رسول کے ساتھ مل گیا وہ کشتی نوح کی طرح کامیاب ہے۔ لیکن پھر کافر لوگ نہیں مانتے۔
4429- عن عباد بن عبد الله الأسدي1 قال: "بينا أنا عند علي بن أبي طالب رضي الله عنه في الرحبة إذ أتاه رجل فسأله عن هذه الآية {أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ} فقال: ما من رجل من قريش جرت عليه المواسي إلا قد نزلت فيه طائفة من القرآن، والله والله لأن يكونوا يعلموا ما سبق لنا أهل البيت على لسان النبي الأمي صلى الله عليه وسلم أحب إلي من أن يكون لي ملء هذه الرحبة ذهبا وفضة، والله إن مثلنا في هذه الأمة كمثل سفينة نوح في قوم نوح، وإن مثلنا في هذه الأمة كمثل باب حطة في بني إسرائيل". "أبو سهل القطان في أماليه وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا طلبی کی مذمت
4430: ۔۔ عبداللہ بن معبد سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ہمیں اس آیت کے بارے میں بتائیے :

من کان یرید الحیاۃ الدنیا وزینتہا ۔۔ سے۔۔ و باطل ما کانو یعملون۔ تک۔ ھود : 15 ۔ 16 ۔

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دیدیتے ہیں۔ اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور جو عمل انھوں نے دنیا میں کیے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : افسوس تجھ پر اس سے وہ شخص مراد ہے جس کا مقصود صرف اور صرف دنیا ہو اور وہ آخرت کا بالکل خیال نہ رکھتا ہو۔ ابن ابی حاتم۔
4430- عن عبد الله بن معبد1 قال: "قام رجل إلى علي فقال: أخبرنا عن هذه الآية {مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا} إلى قوله {وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} ، قال: ويحك ذاك من يريد الدنيا لا يريد الآخرة". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا طلبی کی مذمت
4431 ۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : تنور (جس کا سورة ھود میں ذکر ہے) کوفہ کی (جامع) مسجد کے ابواب کندہ کی طرف سے پھوٹا تھا۔ (ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ)

فائدہ : ۔۔ جب طوفان نوح (علیہ السلام) آیا اس کی ابتداء ایک تنور میں پانی نکلنے سے ہوئی تھی جس کے متعلق ارشاد ربانی ہے۔ وفار التنور، اور تنور ابلنے لگا۔ اسی کی تفسیر مذکورہ حدیث میں کی گئی ہے۔
4431- عن علي قال: "فار التنور من مسجد الكوفة من قبل أبواب كندة". "ابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক: