কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
4392: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلایا گیا۔ چنانچہ آپ چلے گئے اور اس کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آپ نماز پڑھنے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں نے اپنی جگہ سے ہٹ کر آپ کے سامنے جا کھڑا ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ جس نے فلاں دن یہ کہا فلاں یہ کہا اور میں اس کے خبیث ایام گنوانے لگا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکراتے رہے۔ حتی کہ میں نے (اس کی) بہت سی باتیں گنوا دیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے عمر مجھ سے ہٹ جاؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ مجھے کہا گیا ہے :
استغفرلھم اولا تستغفر لھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔ التوبہ : 80 ۔
آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار استغفار کریں گے تب بھی ہرگز اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔
پھر آپ نے فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ اگر میں ستر سے زائد مرتبہ استغفار کروں تو اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں ضرور کرتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی جنازے کے ساتھ چلے پھر اس کی قبر پر بھی کھڑے رہے حتی کہ اس کی تدفین سے فراغت ہوگئی۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں مجھے حضور پر جرات کرنے پر بہت تعجب و افسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ (مجھے ایسا نہیں کرنا تھا) پھر کچھ ہی عرصہ گذرا تھا کہ یہ دو آیات نازل ہوئیں۔
منافق کی جنازہ پڑھنے سے ممانعت
و لا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ۔
اور آپ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ پس اس کے بعد کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی منافق کی نماز نہیں پڑھی اور نہ کبھی کسی منافق کی قبر پر کھڑے ہوئے حتی کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح قبض کرلی۔ (مسند احمد، بخاری، ترمذی، مسلم، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء ، السنن للبیہقی)
استغفرلھم اولا تستغفر لھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔ التوبہ : 80 ۔
آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار استغفار کریں گے تب بھی ہرگز اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔
پھر آپ نے فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ اگر میں ستر سے زائد مرتبہ استغفار کروں تو اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں ضرور کرتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی جنازے کے ساتھ چلے پھر اس کی قبر پر بھی کھڑے رہے حتی کہ اس کی تدفین سے فراغت ہوگئی۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں مجھے حضور پر جرات کرنے پر بہت تعجب و افسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ (مجھے ایسا نہیں کرنا تھا) پھر کچھ ہی عرصہ گذرا تھا کہ یہ دو آیات نازل ہوئیں۔
منافق کی جنازہ پڑھنے سے ممانعت
و لا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ۔
اور آپ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ پس اس کے بعد کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی منافق کی نماز نہیں پڑھی اور نہ کبھی کسی منافق کی قبر پر کھڑے ہوئے حتی کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح قبض کرلی۔ (مسند احمد، بخاری، ترمذی، مسلم، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء ، السنن للبیہقی)
4392- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "لما توفي عبد الله بن أبي دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم للصلاة عليه، فقام إليه فلما وقف عليه يريد الصلاة تحولت حتى قمت في صدره، فقلت يا رسول الله أعلى عدو الله عبد الله بن أبي القائل يوم كذا كذا والقائل يوم كذا كذا، أعدد أيامه الخبيثة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبتسم، حتى أكثرت عليه فقال: "أخر عني يا عمر، إني خيرت فاخترت، قيل لي {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} فلو أعلم أني إن زدت على السبعين غفر له لزدت"، ثم صلى عليه ومشى معه فقام على قبره حتى فرغ منه، فعجبت لي ولجرأتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم والله ورسوله أعلم فوالله ما كان إلا يسيرا حتى نزلت هاتان الآيتان: {وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَداً وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} فما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده على منافق ولا قام على قبره حتى قبضه الله عز وجل". "حم خ ت م وابن جرير وابن أبي حاتم حب وابن مردويه حل ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
4393: ۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا مجھ سے اسلام میں ایسی لغزش ہوئی جو کبھی نہ ہوئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی پر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا۔ میں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا اور بولا اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم نہیں دیا۔ اللہ پاک کا فرمان ہے :
استغفرلہم او لا تستغرلہم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے میرے رب نے اختیار دیا ہے فرمایا آپ استغفار کریں یا نہ کریں۔ پھر (نماز کے بعد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر کے کنارے بیٹھ گئے۔ لوگ اس کے بیٹے کو کہہ رہے تھے : یا حباب ! یوں کر، یا حباب، یوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حباب شیطان کا نام ہے تو عبداللہ ہے۔ (ابن ابی حاتم)
استغفرلہم او لا تستغرلہم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے میرے رب نے اختیار دیا ہے فرمایا آپ استغفار کریں یا نہ کریں۔ پھر (نماز کے بعد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر کے کنارے بیٹھ گئے۔ لوگ اس کے بیٹے کو کہہ رہے تھے : یا حباب ! یوں کر، یا حباب، یوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حباب شیطان کا نام ہے تو عبداللہ ہے۔ (ابن ابی حاتم)
4393- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب قال: "لقد أصبت في الإسلام هفوة ما أصبت مثلها قط، أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصلي على عبد الله بن أبي فأخذت بثوبه، فقلت: والله ما أمرك الله بهذا لقد قال الله: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد خيرني ربي، فقال: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} فقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم على شفير القبر، فجعل الناس يقولون لابنه: ياحباب افعل كذا ياحباب افعل كذا، فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحباب اسم الشيطان أنت عبد الله. "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
3494: ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جب عبداللہ بن ابی بن سلول مرض الموت میں مبتلا ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی عیادت کی۔ جب وہ مرگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کی قبر پر کھڑے ہوئے۔ اللہ کی قسم ! ابھی چند راتیں گذر تھیں کہ فرمان نازل ہوگیا :
ولا تصل علی احد منہم مات ابدا۔ التوبہ 84 ۔
اور آپ ان میں سے کسی ایک کی جو مرجائے کبھی نماز نہ پڑھیں۔ ابن المنذر۔
ولا تصل علی احد منہم مات ابدا۔ التوبہ 84 ۔
اور آپ ان میں سے کسی ایک کی جو مرجائے کبھی نماز نہ پڑھیں۔ ابن المنذر۔
4394- عن عمر "لما مرض عبد الله بن أبي سلول مرضه الذي مات فيه عاده رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما مات صلى عليه، وقام على قبره فوالله إن مكث إلا ليالي" حتى نزلت: {وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَداً} الآية. "ابن المنذر"1.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
4395: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) سے سورة توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : یہ عذاب کے قریب سورت ہے۔ اس نے لوگوں پر (کے پردوں) کو کھول دیا قریب تھا کسی کو نہ چھوڑتی (ابو عوانہ، ابن المنذر، ابو الشیخ، ابن مردویہ)
4395- عن ابن عباس أن عمر قيل له: "سورة التوبة قال هي إلى العذاب أقرب، ما أقلعت عن الناس حتى ما كادت تدع منهم أحدا". "أبو عوانة وابن المنذر وأبو الشيخ وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
4396: ۔۔ حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ابھی سورة برأت کا نزول مکمل نہ ہوا تھا کہ ہم نے سمجھ لیا کہ ہم میں سے کوئی نہ رہے گا مگر اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ نازل ہوگا اور اس کا نام فاضحہ رکھا جاتا تا (یعنی رسوا کرنے والی) ۔ رواہ ابو الشیخ
4396- عن عكرمة قال: قال عمر: "ما فرغ من تنزيل براءة حتى ظننا أنه لم يبق منا أحد إلا ستنزل فيه، وكانت تسمى الفاضحة". "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
4397:۔۔ عبید (رح) بن عمیر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) قرآن پاک میں کوئی آیت نہ لکھتے تھے جب تک کہ اس پر دو آدمی گواہی نہ دیدیں۔ چنانچہ ایک انصاری شخصسورہ توبہ کی آخری یہ دو آیتیں لے کر آیا۔
لقد جاء کم رسول من انفسکم الخ۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس پر تم سے کسی گواہ کا مطالبہ نہ کروں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح (ان آیتوں کو پڑھتے) تھے۔
ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ)
لقد جاء کم رسول من انفسکم الخ۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس پر تم سے کسی گواہ کا مطالبہ نہ کروں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح (ان آیتوں کو پڑھتے) تھے۔
ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ)
4397- عن عبيد بن عمير قال: "كان عمر لا يثبت آية في المصحف حتى يشهد رجلان، فجاء رجل من الأنصار بهاتين الآيتين: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} إلى آخرها، فقال عمر: "لا أسألك عليها بينة أبدا كذلك كان رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن جرير وابن المنذر وأبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے حق میں استغفار جائز نہیں۔
4398: ۔۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر (رض) سے مروی ہے کہ حارث بن خزیمہ سورة توبہ کی یہ دو آخری آیات لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم سے آخر تک۔
حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارے ساتھ اس پر اور کون گواہ ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : میں نہیں جانتالیکن اللہ کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان آیات کو سنا ہے۔ ان کو یاد کیا ہے اور اچھی طرح حفظ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان آیات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ اگر یہ تین آیات ہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت کردیتا۔ پس تم قرآن کی کوئی سورت دیکھو اور اس کے آخر میں ملا دو ۔ چنانچہ ہم نے اس کو سورة برأت کے آخر میں لاحق کردیا۔ (ابن اسحاق، مسند احمد، ابن ابی داود، فی المصاحف) ۔
حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارے ساتھ اس پر اور کون گواہ ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : میں نہیں جانتالیکن اللہ کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان آیات کو سنا ہے۔ ان کو یاد کیا ہے اور اچھی طرح حفظ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان آیات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ اگر یہ تین آیات ہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت کردیتا۔ پس تم قرآن کی کوئی سورت دیکھو اور اس کے آخر میں ملا دو ۔ چنانچہ ہم نے اس کو سورة برأت کے آخر میں لاحق کردیا۔ (ابن اسحاق، مسند احمد، ابن ابی داود، فی المصاحف) ۔
4398- عن عباد بن عبد الله بن الزبير قال: "أتى الحارث بن خزيمه بهاتين الآيتين، من آخر سورة براءة: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ} إلى قوله {الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} إلى عمر، فقال: ومن معك على هذا؟ قال: لا أدري، والله إلا أني أشهد لسمعتهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ووعيتهما وحفظتهما، فقال عمر: وأنا أشهد لسمعتهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لو كانت ثلاث آيات لجعلتها سورة على حدة. فانظروا سورة من القرآن فالحقوهما فيها، فألحقتا في آخر براءة". "ابن إسحاق حم وابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے حق میں استغفار جائز نہیں۔
4399: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں نے ایک شخص کو سنا وہ اپنے مشرک والدین کے لیے استغفار کررہا تھا میں نے اس کو کہا تو ان کے لیے استغفار کررہا ہے جبکہ وہ مشرک ہیں۔ اس نے کہا کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لیے استغفار نہیں کیا (جو مشرک تھے) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھ سے اس شخص کو دینے کے لیے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی :
ما کان لل نبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ۔ التوبہ : 113 ۔
نبی اور مومنوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ ، ابن مردویہ، الدورقی، السنن لسعید بن منصور، العقیلی فی الضعفاء،
ما کان لل نبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ۔ التوبہ : 113 ۔
نبی اور مومنوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ ، ابن مردویہ، الدورقی، السنن لسعید بن منصور، العقیلی فی الضعفاء،
4399- عن علي قال: "سمعت رجلا يستغفر لأبويه وهما مشركان فقلت: تستغفر لأبويك وهما مشركان؟ فقال: أو لم يستغفر إبراهيم لأبيه؟ فلم أدر ما أرد عليه، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فنزلت {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} " الآية. "ط ش حم ت وقال حسن صحيح ن ع وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه والدورقي ص عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے حق میں استغفار جائز نہیں۔
4400: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جب سورة توبہ کی (ابتدائی) دس آیات نازل ہوئیں تو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بلایا اور یہ آیات دے کر بھیجا کہ جا کر اہل مکہ کو سناؤ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور فرمایا : ابوبکر سے جا کر ملو جہاں بھی وہ ملیں، بلکہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے تھے انھوں نے فرمایا یہ پیغام یا تو آپ کو پہنچانا ہوگا یا آپ (کے خاندان) سے کوئی شخص پہنچائے گا۔ (ابو الشیخ ، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔ سورة برائت کی ابتدائی دس آیات میں مشرکین کو حرم مکہ میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ ان سے جو جو معاہدات ہوئے تھے، اسلام کی کمزوری کی حالت میں ان سے متعین مدت کے بعد اللہ و رسول کی برأت ہے، اس طرح کے احکامات ہیں جن سے جزیرہ عرب سے مشرکین کا انخلاء شروع ہوگیا تھا، اور وہ سرزمین کفر و شرک سے پاک ہونا شروع ہوگئی تھی۔ الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
فائدہ : ۔۔ سورة برائت کی ابتدائی دس آیات میں مشرکین کو حرم مکہ میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ ان سے جو جو معاہدات ہوئے تھے، اسلام کی کمزوری کی حالت میں ان سے متعین مدت کے بعد اللہ و رسول کی برأت ہے، اس طرح کے احکامات ہیں جن سے جزیرہ عرب سے مشرکین کا انخلاء شروع ہوگیا تھا، اور وہ سرزمین کفر و شرک سے پاک ہونا شروع ہوگئی تھی۔ الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
4400- عن علي قال: "لما نزلت عشر آيات من براءة على النبي صلى الله عليه وسلم، دعا النبي صلى الله عليه وسلم أبا بكر، فبعثه بها ليقرأها على أهل مكة ثم دعاني النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: أدرك أبا يكر فحيثما لحقته فخذ الكتاب منه فاذهب إلى أهل مكة، فاقرأه عليهم فلحقته بالجحفة فأخذت الكتاب منه، ورجع أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله نزل في شيء قال: لا ولكن جبريل جاءني، فقال: لن يؤدي عنك إلا أنت أو رجل ". "عم وأبو الشيخ وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4401: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سورة برأت دے کر مکہ بھیجنا چاہا تو انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نہ تو صاف زبان کا مالک ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو میں خود جاؤں، یا پھر تم میرا پیغام لے کر جاو۔ حضرت علی رضی الللہ عنہ نے عرض کیا : اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر میں ضرور ایسا جاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرا پیغآم لے کر جاؤ اللہ تمہاری زبان کو مضبوط کرے گا۔ اور تمہارے دل کو ہدایت سے لبریز کرے گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے منہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : جاؤ اور وہ خط پڑھ کر سناؤ۔ نیز فرمایا : عنقریب لوگ تمہارے پاس اپنے فیصلے اور مقدمے لے لے کر حاضر ہوا کریں گے۔ پس جب کبھی دو فریق تمہارے پاس کوئی فیصلہ لے کر آئیں کبھی ایک کے حق میں فیصلہ نہ کردینا جب تک دوسرے کی اچھی طرح نہ سن لو۔ اس سے تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اصل صاحب حق کون ہے ؟ مسند احمد، ابن جریر۔
4401- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم، حين بعثه ببراءة قال: يا رسول الله إني لست باللسن ولا بالخطيب، قال: ما بد لي أن أذهب بها أنا أو تذهب بها أنت، قال: فإن كان ولا بد فسأذهب أنا، قال: "انطلق فإن الله يثبت لسانك، ويهدي قلبك، ثم وضع يده على فيه، وقال إنطلق وإقرأها على الناس، وقال: إن الناس سيتقاضون إليك، فاذا أتاك الخصمان فلا تقضين لواحد حتى تسمع كلام الآخر، فإنه أجدر أن تعلم لمن الحق". "عم وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4402: ۔۔ زید بن اثیع سے مروی ہے فرماتے ہیں : ہم نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا : آپ کو کیا چیز دے کر حج میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے چار چیزیں دے کر بھیجا گیا تھا (مسجد حرام) میں مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا، بیت اللہ کا ننگے ہو کر کوئی طواف نہ کرے گا۔ اس سال کے بعد مسجد حرام میں کافر و مسلمان جمع نہ ہوں گے (بلکہ سرف مسلمان ہوں گے) اور جس کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہد ہوا ہو وہ معادہ اسی مدت تک موثر ہوگا اور جس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو اس کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے (کہ وہ اس عرصہ میں سرزمین حرم خالی کردے) ۔ (الحمیدی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، الدارمی، ترمذی و قال حسن صحیح، مستدرک الحاکم، مسند ابی یعلی، ابن المنذر، الدارقطنی فی الافراد، رستہ فی الایمان، ابو داود، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
4402- عن زيد بن أثيع قال: سألنا عليا بأي شيء بعثت في الحجة؟ قال بعثت بأربع: "لا يدخل إلا نفس مؤمنة، ولا يطوف بالبيت عريان، ولا يجتمع مسلم ومشرك في المسجد الحرام بعد عامهم هذا ومن كان بينه وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد فعهده إلى مدته، ومن لم يكن له عهد فأجله أربعة أشهر". "الحميدي ص ش حم والعدني والدرامي ت ك وقال حسن صحيح ع وابن المنذر قط في الأفراد ورسته في الإيمان د ت وابن مردويه ك ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4403: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حج اکبر کے دن کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم النحر (دس ذی الحجہ) ہے۔ السنن لسعید بن منسور، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
4403- عن علي قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن يوم الحج الأكبر؟ فقال: "يوم النحر". "ص وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4404: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں حج اکبر کا دن یوم النحر ہے۔ (یعنی قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے) ۔ ابو داود، ترمذی۔
کلام : ۔۔ یہ روایت پہلی سے زیادہ صحیح ہے اس حوالہ سے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع ہے۔ یہ حضرت علی پر موقوف ہے۔ اس کو مرفوع بیان کرنا صرف محمد بن اسحاق سے ہی منقول ہے۔ جبکہ حضرت علی (رض) سے موقوفا کئی سندوں سے مذکور ہے۔ (کنز العمال ج 2 ص 423)
کلام : ۔۔ یہ روایت پہلی سے زیادہ صحیح ہے اس حوالہ سے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع ہے۔ یہ حضرت علی پر موقوف ہے۔ اس کو مرفوع بیان کرنا صرف محمد بن اسحاق سے ہی منقول ہے۔ جبکہ حضرت علی (رض) سے موقوفا کئی سندوں سے مذکور ہے۔ (کنز العمال ج 2 ص 423)
4404- عن علي قال: "يوم الحج الأكبر يوم النحر". "د ت" وقال هذا أصح من الأول لأنه روي من غير وجه عن علي موقوفا ولا نعلم أحدا رفعه إلا محمد بن إسحاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4405:۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چار چیزیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یاد کرلی ہیں۔ الصلاۃ الوسطی (یعنی درمیانی نماز سے مراد) عصر کی نماز ہے، حج اکبر کا دن قربانی کا (دسویں ذی الحجہ کا) دن ہے، ادبار السجود سے مغرب کے بعد کی دو رکعات مراد ہیں اور ادبار النجوم سے فجر سے قبل کی دو رکعات مراد ہیں۔ ابن مردویہ، سبدن ضعیف۔
فائدہ : ۔۔ ادبار السجود، فرمان الہی ہے۔
ومن اللیل فسبحہ وادبار السجود۔ ق 404 ۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز (مغرب) کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔ نیز فرمان باری ہے۔
ومن اللیل فسبحہ و ادبار النجوم۔ الطور : 49 ۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد (فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے ساتھ) اس کی پاکی بیان کرو۔
فائدہ : ۔۔ ادبار السجود، فرمان الہی ہے۔
ومن اللیل فسبحہ وادبار السجود۔ ق 404 ۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز (مغرب) کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔ نیز فرمان باری ہے۔
ومن اللیل فسبحہ و ادبار النجوم۔ الطور : 49 ۔
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد (فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے ساتھ) اس کی پاکی بیان کرو۔
4405- عن علي قال: "أربع حفظتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الصلاة الوسطى هي العصر، وأن الحج الأكبر يوم النحر، وأن إدبارالسجود هي الركعتان بعد المغرب، وأن أدبار النجوم الركعتان قبل صلاة الفجر". "ابن مردويه بسند ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4406: ۔۔ ابو الصہباء بکری (رح) فرماتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) سے حج اکبر کے دن کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : وہ عرفہ کا دن ہے۔ (یعنی نو ذی الحجہ) رواہ ابن جریر۔
فائدہ : ۔۔ لیکن اکثر روایات میں حضرت علی (رض) سے حج اکبر کا دن یوم النحر (دس ذی الحجہ) منقول ہے۔
فائدہ : ۔۔ لیکن اکثر روایات میں حضرت علی (رض) سے حج اکبر کا دن یوم النحر (دس ذی الحجہ) منقول ہے۔
4406- عن أبي الصهباء البكري قال: سألت علي بن أبي طالب عن يوم الحج الأكبر فقال: "يوم عرفة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفار سے برأت کا اعلان
4407: ۔۔ سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ ابو الصہباء نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے حج اکبر کے بارے میں سوال کیا۔ اور اس کے ساتھ الصلاۃ الوسطی اور ادبار النجوم کے بارے میں بھی سوال کیا۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں ابو الصہباء ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو حجۃ الوداع سے پچھلے سال امیر حج بنا کر بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کرائیں۔ انہی کے ساتھ مجھے بھی سورة برأت کی چالیس آیات دے کر بھیجا ہم (حج کی مصروفیات میں) چلتے رہے حتی کہ عرفہ کا دن آگیا۔ حضرت ابوبکر (رض) اپنی سواری پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دینے لگے۔ آپ (رض) نے حج کی ترغیب دی میقات حج کے احکام بتائے۔ پھر فرمایا : یا علی : اٹھ کھڑے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام لوگوں کو پڑھ کر سناؤ۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے اٹھ کر لوگوں کو سورة برأت کی چالیس آیات پڑھ کر سنائیں۔ پھر میں (میدان عرفہ سے فارغ ہو کر) منی گیا اور رمی جمار کی، اونٹ کی ربانی کی، سر منڈوایا اور پھر میں خیموں کے چکر کاٹ کاٹ کر ان کو مذکورہ آیات پڑھ پڑھ کر سناتا رہا۔ اس دن میں نے دیکھا کہ اہل جمعہ (مزدلفہ والے) سارے لوگ مسجد حرام میں جمع نہیں ہیں۔
پھر حضرت علی (رض) نے راوی ابو الصہباء کو فرمایا : اور تم نے مجھ سے ادبار النجوم کا سوال کیا وہ فجر کی دو (سنت) رکعت ہیں۔ اور تم نے صلوۃ الوسطی کے بارے میں سوال کیا وہ عصر کی نماز ہے، جس کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی گئی۔ الدورقی۔
فائدہ : ۔۔ ادبار النجوم سے متعلق گزشتہ 4405 روایت کا فائدہ ملاحظہ کریں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں ابو الصہباء ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو حجۃ الوداع سے پچھلے سال امیر حج بنا کر بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کرائیں۔ انہی کے ساتھ مجھے بھی سورة برأت کی چالیس آیات دے کر بھیجا ہم (حج کی مصروفیات میں) چلتے رہے حتی کہ عرفہ کا دن آگیا۔ حضرت ابوبکر (رض) اپنی سواری پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دینے لگے۔ آپ (رض) نے حج کی ترغیب دی میقات حج کے احکام بتائے۔ پھر فرمایا : یا علی : اٹھ کھڑے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام لوگوں کو پڑھ کر سناؤ۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے اٹھ کر لوگوں کو سورة برأت کی چالیس آیات پڑھ کر سنائیں۔ پھر میں (میدان عرفہ سے فارغ ہو کر) منی گیا اور رمی جمار کی، اونٹ کی ربانی کی، سر منڈوایا اور پھر میں خیموں کے چکر کاٹ کاٹ کر ان کو مذکورہ آیات پڑھ پڑھ کر سناتا رہا۔ اس دن میں نے دیکھا کہ اہل جمعہ (مزدلفہ والے) سارے لوگ مسجد حرام میں جمع نہیں ہیں۔
پھر حضرت علی (رض) نے راوی ابو الصہباء کو فرمایا : اور تم نے مجھ سے ادبار النجوم کا سوال کیا وہ فجر کی دو (سنت) رکعت ہیں۔ اور تم نے صلوۃ الوسطی کے بارے میں سوال کیا وہ عصر کی نماز ہے، جس کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی گئی۔ الدورقی۔
فائدہ : ۔۔ ادبار النجوم سے متعلق گزشتہ 4405 روایت کا فائدہ ملاحظہ کریں۔
4407- عن سعيد بن جبير أن أبا الصهباء سأل علي بن أبي طالب عن يوم الحج الأكبر؟ وعن الصلاة الوسطى؟ وعن أدبار النجوم؟ فقال نعم يا أبا الصهباء بعث النبي صلى الله عليه وسلم أبا بكر يقيم للناس الحج، قبل حجة الوداع بسنة وأرسلني معه بأربعين آية من براءة، فأقبلنا نسير حتى جئنا عرفة، فقام أبو بكر فخطب الناس على راحلته، فحض على الحج، وأمر بمواقيته، ثم قال قم يا علي فأد رسالة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقمت فاقترأت أربعين آية من براءة، ثم صدرت إلى منى فرميت الجمرة، ونحرت البدنة، وحلقت رأسي، وطفت أتتبع الفساطيط أقرأ عليهم، وعلمت أن أهل الجمع لم يشهدوا المسجد كلهم، وسألتني عن أدبار النجوم، فهما ركعتا الفجر، وسألتني عن الصلاة الوسطى وهي صلاة العصر التي فتن بها سليمان بن داود عليهما السلام. "الدورقي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4408: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت علی بن ابی طال (رض) سے سال کیا : سورة برأت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی ؟ ارشاد فرمایا : کیونکہ بسم اللہ الرحمن امان اور پناہ ہے جبکہ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوئی تھی۔ (ابو الشیخ و ابن مردویہ)
4408- عن ابن عباس قال: سألت علي بن أبي طالب لم لم يكتب في براءة بسم الله الرحمن الرحيم؟ قال: "لأن بسم الله الرحمن الرحيم أمان، وبراءة نزلت بالسيف". "أبو الشيخ وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4409: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے :
و ان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم۔ الخ، توبہ : 12 ۔
اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔
فرمایا جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے ان لوگوں سے قتال نہیں کیا گیا۔ رواہ ابن مردویہ۔
و ان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم۔ الخ، توبہ : 12 ۔
اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔
فرمایا جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے ان لوگوں سے قتال نہیں کیا گیا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4409- عن علي قال: "والله ما قوتل أهل هذه الآية منذ أنزلت {وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ} الآية. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4410: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں چار ہزار (درہم) اور اس سے کم خرچے اور نفقے میں شامل ہیں لیکن اس سے اوپر " کنز " خزانے کے زمرے میں آتے ہیں۔ ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونہا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم۔
جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سنا دو ۔
یعنی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تو وہ خزانہ باعث عذاب ہے۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونہا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم۔
جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سنا دو ۔
یعنی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تو وہ خزانہ باعث عذاب ہے۔
4410- عن علي قال: "أربعة آلاف فما دونها نفقة وما فوقها كنز". "ابن أبي حاتم وأبو الشيخ". سورة التوبة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة برأت تلوار کے ساتھ نازل ہوگی۔
4411: ۔۔ حضرت حسن (رض) حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سال (یعنی سن نو ہجری) کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام میں داخل نہ ہو۔ سوائے معاہدین اور ان کے خادموں کے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4411- عن الحسن عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "لا يدخل المسجد الحرام مشرك بعد عامنا هذا، إلا أهل العهد وخدمهم". "ابن مردويه".
তাহকীক: