কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4372: ۔۔ حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ بیمار تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کرنے کو گئے۔ آپ عدنی چادر اوڑھے کر لیٹے ہوئے تھے ہم سمجھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند فرما رہے ہیں ہیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرے سے چادر ہٹائی اور فرمایا :
اللہ یہود پر لعنت کرے وہ بکری کی چربی کو تو حرام رکھتے ہیں لیکن اس کی قیمت کھالیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ یہ ہیں : ان پر چربی حرام کی گئی تو انھوں نے اس کو بیچا اور اس کی قیمت سے کھانے لگے۔ (السنن لسعید بن منصور، الحارث، ابن ابی شیبہ، الشاشی، المعرفۃ لابی نعیم، مسند ابی یعلی۔
نوٹ : ۔۔ دیکھئے اسی جلد میں روایت نمبر 2982 ۔
اللہ یہود پر لعنت کرے وہ بکری کی چربی کو تو حرام رکھتے ہیں لیکن اس کی قیمت کھالیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ یہ ہیں : ان پر چربی حرام کی گئی تو انھوں نے اس کو بیچا اور اس کی قیمت سے کھانے لگے۔ (السنن لسعید بن منصور، الحارث، ابن ابی شیبہ، الشاشی، المعرفۃ لابی نعیم، مسند ابی یعلی۔
نوٹ : ۔۔ دیکھئے اسی جلد میں روایت نمبر 2982 ۔
4372- عن أسامة قال: "دخلنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم نعوده يعني وهو مريض، فوجدناه نائما قد غطى وجهه ببرد عدني، فكشف عن وجهه، فقال: لعن الله اليهود يحرمون شحوم الغنم، ويأكلون أثمانها وفي لفظ: حرمت عليهم الشحوم فباعوها، وأكلوا أثمانها ". "ص والحارث ش والشاشي وأبو نعيم في المعرفة ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4373: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ (سرداران عرب میں سے) اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلال ، عمار، صہیب، اور خباب بن ارت جیسے غریب صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہیں انھوں نے ان غریب صحابہ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خلوت میں ملے اور بولے : ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک الگ مجلس بنا لیا کریں، جس سے غریب ہماری فضیلت کو جان لیں۔ کیونکہ عرب کے (وفود و قبائل) آپ کے پاس آتے رہتے ہیں تو ہم اس بات سے شرمندہ ہوتے ہیں کہ ہم کو غلام طرز کے لوگوں کے ساتھ بیٹھا دیکھیں۔ لہٰذا جب ہم آپ کے پاس حاضر ہوں تو ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیجیے۔ اور جب ہم فارغ ہو کر چلے جائیں تو چاہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان کے اسلام کی طرف مائل ہونے کے خیال سے) حامی بھر بیٹھے۔ انھوں نے کہا پھر آپ ہمارے لیے معاہدہ لکھوا دیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صحیفہ منگویا تاکہ ان کو معاہدہ لکھوا دیں اور ساتھ میں حضرت علی (رض) کو بھی لکھنے کے لیے طلب کیا۔ صحابہ کہتے ہیں آپ نے اس کام کا ارادہ ہی کیا تھا اور ہم مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جبرائیل (علیہ السلام) پر نازل ہوئے اور یہ آیت پڑھ کر سنائیں۔
ولا تطرد الذین یدعون ربہم بالغداۃ والعشی ۔۔ سے ۔۔۔ فتکون من الظالمین تک۔ سورة الانعام : 52 ۔
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں، اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب کی جواب دہی تم پر کچھ نہیں ۔ اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں۔ اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ولا تطرد الذین یدعون ربہم بالغداۃ والعشی ۔۔ سے ۔۔۔ فتکون من الظالمین تک۔ سورة الانعام : 52 ۔
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں، اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب کی جواب دہی تم پر کچھ نہیں ۔ اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں۔ اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4373- عن عمر قال: "جاء الأقرع بن حابس التميمي وعيينة بن حصن الفزاري فوجدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا مع بلال وعمار وصهيب وخباب بن الأرت في ناس من الضعفاء من المؤمنين، فلما رأوهم حقروهم، فأتوا فخلوا به، فقالوا: إنا نحب أن تجعل لنا منك مجلسا تعرف لنا به العرب فضلنا، فإن وفود العرب تأتيك فنستحي أن ترانا مع هذه الأعبد، فإذا نحن جئناك فأقمهم عنا، وإذا نحن فرغنا فاقعد معهم إن شئت، قال نعم، قالوا فاكتب لنا كتابا فدعا بالصحيفة ليكتب لهم ودعا عليا ليكتب، فلما أراد ذلك ونحن قعود في ناحية إذ نزل عليه جبريل فقال: {وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} إلى قوله {فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ}
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اور تقوی ہی مدار عزت ہے۔
4374: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ابوجہل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا : ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ جو چیز آپ پر پیش کرتے ہیں ہم اس کو جھٹلاتے ہیں۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :
فانہم لایکذبوک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ الانعام : 33 ۔
یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔ (ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
فانہم لایکذبوک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ الانعام : 33 ۔
یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔ (ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
4374 - عن علي أن أبا جهل قال للنبي صلى الله عليه وسلم: "إنا لا نكذبك ولكن نكذب بما جئت به، فأنزل الله تعالى: {فَإِنَّهُمْ لا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ} ". "ت وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه ك ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اور تقوی ہی مدار عزت ہے۔
4375: ۔۔ (مسند عمر (رض)) مسلم بن یسار (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا :
و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم ذریتہم۔۔ الاعراف : 172 ۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کروا لیا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں۔ (کہ تو ہمارے پروردگار ہے) تاکہ قیامت کے دن (یہ نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ جواب دیتے وئے سنا تھا کہ :
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ اللہ تعالیٰ فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ اہل جنت کے اعمال کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ جہنم ہی کے اعمال کریں گے۔
ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کی کیا ضرورت ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک نے جس بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا اس کو اہل جنت کے اعمال میں لگا دیا (وہ عمل کرتا کرتا) ایک دن اہل جنت کے اعمال پر مرجائے گا۔ چنانچہ اللہ پاک اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ اور اللہ پاک نے جس بندے کو جہنم کے لیے پیدا کیا، اس کو اہل جہنم کے اعمال میں غرق کردیا حتی کہ وہ اہل جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرجائے گا اور اللہ پاک اس کو جہنم برد کردیں گے ۔ (موطا امام مالک، مسند احمد، بخاری، عبد بن حمید، التاریخ للبخاری، ابو داود، ترمذی)
امام نسائی اس نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مندہ فی الرد علی الجہمیۃ، الاستقام للخشیش، الشریعۃ للآجری، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنۃ للالکائی، البیہقی فی الاسماء والصفات، السنن لسعید بن منصور)
و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم ذریتہم۔۔ الاعراف : 172 ۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کروا لیا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں۔ (کہ تو ہمارے پروردگار ہے) تاکہ قیامت کے دن (یہ نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ جواب دیتے وئے سنا تھا کہ :
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ اللہ تعالیٰ فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ اہل جنت کے اعمال کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ جہنم ہی کے اعمال کریں گے۔
ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کی کیا ضرورت ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک نے جس بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا اس کو اہل جنت کے اعمال میں لگا دیا (وہ عمل کرتا کرتا) ایک دن اہل جنت کے اعمال پر مرجائے گا۔ چنانچہ اللہ پاک اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ اور اللہ پاک نے جس بندے کو جہنم کے لیے پیدا کیا، اس کو اہل جہنم کے اعمال میں غرق کردیا حتی کہ وہ اہل جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرجائے گا اور اللہ پاک اس کو جہنم برد کردیں گے ۔ (موطا امام مالک، مسند احمد، بخاری، عبد بن حمید، التاریخ للبخاری، ابو داود، ترمذی)
امام نسائی اس نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مندہ فی الرد علی الجہمیۃ، الاستقام للخشیش، الشریعۃ للآجری، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنۃ للالکائی، البیہقی فی الاسماء والصفات، السنن لسعید بن منصور)
4375- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن مسلم بن يسار أن عمر بن الخطاب سئل عن هذه الآية: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} ؟ فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، سئل عنها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله خلق آدم فمسح على ظهره بيمينه، فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للجنة، وبعمل أهل الجنة يعملون، ثم مسح على ظهره فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للنار، وبعمل أهل النار يعملون"، فقال رجل: يا رسول الله ففيم العمل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم
"إن الله إذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل أهل الجنة حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة، فيدخله به الجنة، وإذا خلق العبد للنار استعمله بعمل أهل النار، حتى يموت على عمل من أعمال أهل النار، فيدخله به النار". "مالك حم خ وعبد بن حميد خ في تاريخه د ت" وحسنه ن ابن جرير وابن أبي حاتم حب وابن منده في الرد على الجهمية وخشيش في الاستقامة والآجري في الشريعة وأبو الشيخ وابن مردويه ك واللالكائي في السنة ك ق في الأسماء والصفات ص"
"إن الله إذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل أهل الجنة حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة، فيدخله به الجنة، وإذا خلق العبد للنار استعمله بعمل أهل النار، حتى يموت على عمل من أعمال أهل النار، فيدخله به النار". "مالك حم خ وعبد بن حميد خ في تاريخه د ت" وحسنه ن ابن جرير وابن أبي حاتم حب وابن منده في الرد على الجهمية وخشيش في الاستقامة والآجري في الشريعة وأبو الشيخ وابن مردويه ك واللالكائي في السنة ك ق في الأسماء والصفات ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاعراف
5376: ۔۔ مدینہ کے ایک شخص ابو محمد سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے ۔ واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم، کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے بھی تمہاری طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی۔ پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور آدم (علیہ السلام) کی (ساری جنتی) اولاد نکالی۔ پھر فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت پر دوسرا ہاتھ پھیرا اور اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں (اور بابرکت) ہیں۔ پھر تمام جہنمی اولاد نکلی اور ان کو فرمایا : میں نے ان کو لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے یہ لوگ جو میں چاہوں گا عمل کریں گے پھر میں ان کا خاتمہ ان کے سب سے برے عمل پر کروں گا اور (اس کی وجہ سے) ان کو جہنم میں داخل کردوں گا۔ (ابن جریر، ابن مندہ فی الرد علی الجہمیۃ)
حضرت علی (رض) سے روایت کرنے والا پہلا راوی یا تو مسلمۃ بن یسار ہے یا نعیم بن ربیعہ۔
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی۔ پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور آدم (علیہ السلام) کی (ساری جنتی) اولاد نکالی۔ پھر فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت پر دوسرا ہاتھ پھیرا اور اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں (اور بابرکت) ہیں۔ پھر تمام جہنمی اولاد نکلی اور ان کو فرمایا : میں نے ان کو لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے یہ لوگ جو میں چاہوں گا عمل کریں گے پھر میں ان کا خاتمہ ان کے سب سے برے عمل پر کروں گا اور (اس کی وجہ سے) ان کو جہنم میں داخل کردوں گا۔ (ابن جریر، ابن مندہ فی الرد علی الجہمیۃ)
حضرت علی (رض) سے روایت کرنے والا پہلا راوی یا تو مسلمۃ بن یسار ہے یا نعیم بن ربیعہ۔
4376- عن أبي محمد: رجل من أهل المدينة قال: سألت عمر ابن الخطاب عن قوله تعالى: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم كما سألتني، فقال: "خلق الله آدم بيده، ونفخ فيه من روحه، ثم أجلسه، فمسح ظهره بيده اليمنى، فأخرج ذروا فقال ذرو ذرأتهم للجنة، ثم مسح ظهره بيده الأخرى وكلتا يديه يمين فقال ذرو ذرأتهم للناس يعملون فيما شئت من عمل، ثم أختم لهم بأسوأ أعمالهم فأدخلهم النار". "ابن جرير وابن منده في الرد على الجهمية" وقال أبو محمد هذا يقال: أنه مسلمة بن يسار وقيل: نعيم بن ربيعة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الاعراف
4377: ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
جب اللہ نے پہار پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کی عظمت کی وجہ سے اس پہاڑ کے چھ ٹکڑے اڑ گئے۔ تین مدینہ میں جاگرے اور تین مکہ میں۔ مدینہ میں احد، ورقان، اور رضویٰ گرے۔ جبکہ مکہ میں ثبیر، جرائم اور جبل ثور گرے۔ رواہ ابن النجار۔
کلام : ۔۔۔ یہ روایت موضوع اور باطل ہے۔ دیکھئے : احادیث مختارۃ 12، ترتیب الموضوعات :16، التنزیہ 1/143، الضعیفۃ 162، الفوائد المجموعۃ 1272، اللآلی ا 12423، مختصر الاباطیل 12 الموضوعات 1/120 ۔
جب اللہ نے پہار پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کی عظمت کی وجہ سے اس پہاڑ کے چھ ٹکڑے اڑ گئے۔ تین مدینہ میں جاگرے اور تین مکہ میں۔ مدینہ میں احد، ورقان، اور رضویٰ گرے۔ جبکہ مکہ میں ثبیر، جرائم اور جبل ثور گرے۔ رواہ ابن النجار۔
کلام : ۔۔۔ یہ روایت موضوع اور باطل ہے۔ دیکھئے : احادیث مختارۃ 12، ترتیب الموضوعات :16، التنزیہ 1/143، الضعیفۃ 162، الفوائد المجموعۃ 1272، اللآلی ا 12423، مختصر الاباطیل 12 الموضوعات 1/120 ۔
4377- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، "لما تجلى الله للجبل طارت لعظمته ستة أجبل، فوقعت ثلاثة في المدينة وثلاثة بمكة فوقع بالمدينة أحد وورقان1 ورضوى، ووقع بمكة ثبير، وحراء وثور"."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر
4378: ۔۔ فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسیٰ صعقا۔ الاعراف : 143 ۔
جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہو اتو (انوار ربانی کی تجلیات نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرپڑے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ پاک نے یہ آواز سنائی : انی انا اللہ، میں ہی تمہارا معبود ہوں۔ یہ عرفہ کی رات تھی۔ جس پہاڑ پر موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے تھے وہ موقف میدان عرفات میں تھا جو سات ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ان کے سامنے گرا، جس کے پاس امام عرفہ کے روز کھڑا ہونا ہے۔ تین ٹکڑے مدینہ میں گرے طیبہ احد، اور رضوی، ایک شام میں طور سینا گرا۔ اس کو طور اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ ہوا میں اڑ کر شام پہنچا تھا۔ رواہ ابن مردویہ۔
جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہو اتو (انوار ربانی کی تجلیات نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرپڑے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ پاک نے یہ آواز سنائی : انی انا اللہ، میں ہی تمہارا معبود ہوں۔ یہ عرفہ کی رات تھی۔ جس پہاڑ پر موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے تھے وہ موقف میدان عرفات میں تھا جو سات ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ان کے سامنے گرا، جس کے پاس امام عرفہ کے روز کھڑا ہونا ہے۔ تین ٹکڑے مدینہ میں گرے طیبہ احد، اور رضوی، ایک شام میں طور سینا گرا۔ اس کو طور اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ ہوا میں اڑ کر شام پہنچا تھا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4378- "عن علي رضي الله عنه" في قوله تعالى: {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكّاً} قال "أسمع موسى قال له: {إِنِّي أَنَا اللَّهُ} قال وذلك عشية عرفة، وكان الجبل بالموقف فانقطع على سبع قطع، قطعة سقطت بين يديه، وهو الذي يقوم الإمام عنده في الموقف يوم عرفة وبالمدينة ثلاثة: طيبة وأحد ورضوى، وطور سيناء بالشام، وإنما سمي الطور لأنه طار في الهواء إلى الشام". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر
4379: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے الواح ( توراۃ کی تختیاں) لکھیں تو موسیٰ (علیہ السلام) تختیوں پر قلم چلنے کی آواز سن رہے تھے۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ)
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے الواح ( توراۃ کی تختیاں) لکھیں تو موسیٰ (علیہ السلام) تختیوں پر قلم چلنے کی آواز سن رہے تھے۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ)
4379- عن علي قال: "كتب الله الألواح لموسى وهو يسمع صريف الأقلام في الألواح". "عبد بن
حميد وابن جرير وأبو الشيخ".
حميد وابن جرير وأبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر
4380: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہم نے اللہ کا کلام سنا :
ان الذین اتخذوا العجل سینالھم غضب من ربھم و ذلۃ فی الحیاۃ الدنیا و کذلک نجزی المفترین۔ (سورة الاعراف : 152)
جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو، ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہم نے دیکھا کہ (بنی اسرائیل کی) قوم نے ایک جھوٹ باندھا اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ اس کی ذلت ان کو پہنچے گی۔ ابن راہویہ۔
ان الذین اتخذوا العجل سینالھم غضب من ربھم و ذلۃ فی الحیاۃ الدنیا و کذلک نجزی المفترین۔ (سورة الاعراف : 152)
جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو، ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہم نے دیکھا کہ (بنی اسرائیل کی) قوم نے ایک جھوٹ باندھا اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ اس کی ذلت ان کو پہنچے گی۔ ابن راہویہ۔
4380- عن علي قال: إنا سمعنا الله يقول: {إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَبذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ} قال: وما نرى القوم إلا قد افتروا فرية، وما أراها إلا ستصيبهم. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنی اسرائیل کی بےہوشی کا واقعہ
4381: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ہارون (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحٰ کی کہ تو ہارون اور ان کے بیٹے کو لے کر (فلاں) پہاڑ کی غار میں چلا جا۔ ہم ہارون کی روح قبض کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) اور ابن ہارون (رح) چل پڑے۔ جب غار تک پہنچ گئے اور اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پر جا کر تھوڑی دیر کے لیے لیٹے پھر اٹھے اور فرمایا : اے ہارون واہ کتنی اچھی جگہ ہے یہ ! چنانچہ ہارون (علیہ السلام) اس چار پائی پر لیٹ گئے۔ لیٹے تو ان کی روح قبض کرلی گئی۔ چنانچہ موسیٰ اور ابن ہارون (علیہ السلام) رنجیدہ و غم زدہ اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا : ہارون کہاں ہیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : وہ انتقال کرچکے ہیں۔ بنی اسرائیل بولے نہیں، بلکہ آپ نے ان کو قتل کردیا ہے۔ آپ جانتے تھے کہ ہم ان سے محبت رکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : افسوس تم پر ! کیا میں اپنے بھائی کو قتل کروں گا۔ حالانکہ میں نے اللہ سے سوال کرکے ان کو اپنا وزیر بنوایا تھا اگر میں ان کو قتل کرتا تو ان کے بیٹے بھی میرے ساتھ تھے وہ مجھے ایسا کرنے دیدیتے ؟ بنی اسرائیل بولے : نہیں آپ ان سے حسد کرتے تھے ( کہ ان سے زیادہ محبت رکھتے ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اچھا تم ستر آدمی اپنے منتخب کرلو۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر اسی غار کے لیے چل پڑے راستے میں دو آدمی بیمار پڑگئے۔ لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا اور نشانی کے لیے کوئی نشان لگا دیا پھر موسیٰ (علیہ السلام) ، ابن ہارون اور بنی اسرائیل غار میں حضرت ہارون تک پہنچے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے پوچھا : اے ہارون آپ کو کس نے قتل کیا ؟ حضرت ہارون (حکم خدا سے) بول پڑے اور فرمایا : مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ میں اپنی موت مرا ہوںَ
تب بنی اسرائیل کے ان منتخب افراد نے کہا اے موسیٰ ! تم کیا فیصلہ کرتے ہو ؟ بلکہ تم اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہم سب (ستر) افراد کو اپنا نبی بنا لے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ان سب کو اور پیچھے رہ جانے والے دو آدمیوں کو بھی پکڑ لیا اور یہ سب بےہوش ہو کر گرپڑے۔
جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے :
رب لو شئت اھلکتم من قبل و ایای اتھلکنا بما فعل السفہاء منا : 155 ۔
اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا، کیا تو اس فعل جو ہم میں سے بیوقوفوں نے کیا ہے کی سزا میں ہمیں ہلاک کردے گا !
چنانچہ اللہ پاک نے ان کو زندہ کردیا پھر یہ اپنی قوم کی طرف انبیاء ہو کر لوٹے (عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا فی کتاب من عاش بعد الموت، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ)
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) اور ابن ہارون (رح) چل پڑے۔ جب غار تک پہنچ گئے اور اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پر جا کر تھوڑی دیر کے لیے لیٹے پھر اٹھے اور فرمایا : اے ہارون واہ کتنی اچھی جگہ ہے یہ ! چنانچہ ہارون (علیہ السلام) اس چار پائی پر لیٹ گئے۔ لیٹے تو ان کی روح قبض کرلی گئی۔ چنانچہ موسیٰ اور ابن ہارون (علیہ السلام) رنجیدہ و غم زدہ اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا : ہارون کہاں ہیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : وہ انتقال کرچکے ہیں۔ بنی اسرائیل بولے نہیں، بلکہ آپ نے ان کو قتل کردیا ہے۔ آپ جانتے تھے کہ ہم ان سے محبت رکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : افسوس تم پر ! کیا میں اپنے بھائی کو قتل کروں گا۔ حالانکہ میں نے اللہ سے سوال کرکے ان کو اپنا وزیر بنوایا تھا اگر میں ان کو قتل کرتا تو ان کے بیٹے بھی میرے ساتھ تھے وہ مجھے ایسا کرنے دیدیتے ؟ بنی اسرائیل بولے : نہیں آپ ان سے حسد کرتے تھے ( کہ ان سے زیادہ محبت رکھتے ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اچھا تم ستر آدمی اپنے منتخب کرلو۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر اسی غار کے لیے چل پڑے راستے میں دو آدمی بیمار پڑگئے۔ لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا اور نشانی کے لیے کوئی نشان لگا دیا پھر موسیٰ (علیہ السلام) ، ابن ہارون اور بنی اسرائیل غار میں حضرت ہارون تک پہنچے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے پوچھا : اے ہارون آپ کو کس نے قتل کیا ؟ حضرت ہارون (حکم خدا سے) بول پڑے اور فرمایا : مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ میں اپنی موت مرا ہوںَ
تب بنی اسرائیل کے ان منتخب افراد نے کہا اے موسیٰ ! تم کیا فیصلہ کرتے ہو ؟ بلکہ تم اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہم سب (ستر) افراد کو اپنا نبی بنا لے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ان سب کو اور پیچھے رہ جانے والے دو آدمیوں کو بھی پکڑ لیا اور یہ سب بےہوش ہو کر گرپڑے۔
جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے :
رب لو شئت اھلکتم من قبل و ایای اتھلکنا بما فعل السفہاء منا : 155 ۔
اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا، کیا تو اس فعل جو ہم میں سے بیوقوفوں نے کیا ہے کی سزا میں ہمیں ہلاک کردے گا !
چنانچہ اللہ پاک نے ان کو زندہ کردیا پھر یہ اپنی قوم کی طرف انبیاء ہو کر لوٹے (عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا فی کتاب من عاش بعد الموت، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ)
4381- عن علي قال: "لما حضر أجل هارون أوحى الله إلى موسى أن انطلق أنت وهارون وابن هارون إلى غار في الجبل فإنا قابضوا روحه فانطلق موسى وهارون وابن هارون، فلما انتهوا إلى الغار دخلوا فإذا سرير فاضطجع عليه موسى، ثم قام عنه فقال: ما أحسن هذا المكان يا هارون فاضطجع هارون فقبض روحه، فرجع موسى وابن هارون إلى بني إسرائيل حزينين، فقالوا له أين هارون؟ قال مات، قالوا: بل قتلته، كنت تعلم أنا نحبه، فقال لهم موسى: ويلكم أقتل أخي؟ وقد سألته الله وزيرا ولو أنى أردت قتله أكان ابنه يدعني؟ قالوا له: بل قتلته حسدتناه، قال: فاختاروا سبعين رجلا، فانطلق بهم، فمرض رجلان في الطريق، فحط عليهما خطا، فانطلق موسى وابن هارون وبنو إسرائيل حتى انتهوا إلى هارون، فقالوا: يا هارون من قتلك؟ قال لم يقتلني
أحد، ولكني مت، قالوا ما تقضي يا موسى؟ ادع لنا ربك يجعلنا أنبياء قال: فأخذتهم الرجفة فصعقوا وصعق الرجلان اللذان خلفوا، وقام موسى يدعو، رب لو شئت أهلكتهم من قبل وإياي أتهلكنا بما فعل السفهاء منا، فأحياهم الله فرجعوا إلى قومهم أنبياء". "عبد بن حميد وابن أبي الدنيا في كتاب من عاش بعد الموت وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ".
أحد، ولكني مت، قالوا ما تقضي يا موسى؟ ادع لنا ربك يجعلنا أنبياء قال: فأخذتهم الرجفة فصعقوا وصعق الرجلان اللذان خلفوا، وقام موسى يدعو، رب لو شئت أهلكتهم من قبل وإياي أتهلكنا بما فعل السفهاء منا، فأحياهم الله فرجعوا إلى قومهم أنبياء". "عبد بن حميد وابن أبي الدنيا في كتاب من عاش بعد الموت وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنی اسرائیل کی بےہوشی کا واقعہ
4382: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اکہتر 71 فرقوں میں بٹ گئے جن میں ایک کے سوا سب جہنم میں داخل ہوئے۔ نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد 72 فرقوں میں بٹ گئے۔ جن میں ایک کے سوا سب جہنم میں گئے۔ یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق و بہ یعدلون۔ الاعراف : 159 ۔
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
اور اللہ پاک نے نصاری کے بارے میں فرمایا :
منہم امۃ مقتصدۃ۔ المائدۃ : 66 ۔
اور ان (نصاری بنی اسرائیل) میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔
ان دونوں امتوں کے یہ مذکورہ لوگ نجات پانے والے ہیں۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اور ہمارے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا :
وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق و بہ یدعلون۔ الاعراف : 181 ۔
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
فرمایا : اس امت کے یہ لوگ نجات یافتہ ہیں۔ ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔
ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق و بہ یعدلون۔ الاعراف : 159 ۔
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
اور اللہ پاک نے نصاری کے بارے میں فرمایا :
منہم امۃ مقتصدۃ۔ المائدۃ : 66 ۔
اور ان (نصاری بنی اسرائیل) میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔
ان دونوں امتوں کے یہ مذکورہ لوگ نجات پانے والے ہیں۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اور ہمارے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا :
وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق و بہ یدعلون۔ الاعراف : 181 ۔
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
فرمایا : اس امت کے یہ لوگ نجات یافتہ ہیں۔ ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔
4382- عن علي قال: "افترقت بنو إسرائيل بعد موسى على إحدى وسبعين فرقة كلها في النار إلا فرقة، وافترقت النصارى بعد عيسى عليه السلام على اثنتين وسبعين فرقة كلها في النار إلا فرقة، فأما اليهود فإن الله يقول: {وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} وأما النصارى فإن الله تعالى يقول: {مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ} فهذه التي تنجو وأما نحن فيقول الله تعالى: {وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} فهذه التي تنجو من هذه الأمة. "ابن أبي حاتم وأبو الشيخ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4387: (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) کا ارشاد ہے : تم کو یہ آیت دھوکا میں نہ ڈالے :
ومن یولھم یومئذ دبرہ۔
اور جس نے اس دن اپنی پیٹھ پھیری۔
فرمایا : یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس میں ہر مسلمان کے لیے فہ (جماعت) تھا۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ آیت میں جنگ سے بھاگنے والوں کے لیے وعید ہے کہ جو جنگ سے بھاگا وہ اللہ کا غضب لے کر بھاگا الا یہ کہ وہ پلٹ کر حملہ کرنا چاہتا ہو یا مرکزی جماعت میں مل کر لڑنا چاہتا ہو۔ وہ اس وعید میں شامل نہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ آیت جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس سے یہ نہ سمجھو کہ کسی صحابی رسول نے جنگ سے پیٹھ پھیری ہو بلکہ اگر کسی نے بھی پیٹھ پھیری تھی وہ فہ (جماعت) میں ملنے کے لیے پھیری تھی اور میں مسلمانوں کی فہ (جماعت میں) تھا۔
ومن یولھم یومئذ دبرہ۔
اور جس نے اس دن اپنی پیٹھ پھیری۔
فرمایا : یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس میں ہر مسلمان کے لیے فہ (جماعت) تھا۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ آیت میں جنگ سے بھاگنے والوں کے لیے وعید ہے کہ جو جنگ سے بھاگا وہ اللہ کا غضب لے کر بھاگا الا یہ کہ وہ پلٹ کر حملہ کرنا چاہتا ہو یا مرکزی جماعت میں مل کر لڑنا چاہتا ہو۔ وہ اس وعید میں شامل نہیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ آیت جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس سے یہ نہ سمجھو کہ کسی صحابی رسول نے جنگ سے پیٹھ پھیری ہو بلکہ اگر کسی نے بھی پیٹھ پھیری تھی وہ فہ (جماعت) میں ملنے کے لیے پھیری تھی اور میں مسلمانوں کی فہ (جماعت میں) تھا۔
4383- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: لا تغرنكم هذه الآية: {وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ} فإنما كانت يوم بدر وأنا فئة لكل مسلم. "ش وابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4384: ان شر الدواب عنداللہ الصم البکم الذین لا یعقلون۔ الاعراف : 22 ۔
ترجمہ : ۔۔ بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ آیت فلاں شخص اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ یہ آیت بنی عبد الدار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بخاری عند تفسیر الانفال۔
ترجمہ : ۔۔ بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ آیت فلاں شخص اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ یہ آیت بنی عبد الدار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بخاری عند تفسیر الانفال۔
4384- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ} الآية قال: إن هذه الآية أنزلت في فلان وأصحاب له. "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4385: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں لیلۃ الفرقان وہ رات تھی جس کی صبح میں (جنگ بدر میں) دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوئی۔ اور وہ جمعہ کی رات تھی اور سترہواں رمضان تھا۔ رواہ ابن مردویہ۔
فائدہ : فرمان باری عز اسمہ ہے :
وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان ویوم التی الجمعان واللہ علی کل شیء قدیر۔ سورة الانفال : 41 ۔
(اگر تم اس اللہ پر) اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو حق و باطل میں فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈبھیڑ ہوئی اپنے بندے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی جس دن جنگ بدر ہوئی جمعہ کی رات سرہ رمضان کو اسی رات اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے آسمان اول پر پورا نازل فرما دیا تھا۔ اور اس دن کو یوم الفرقان کا خطاب اس لیے دیا گیا کیونکہ اسی دن حق باطل کے درمیان معرکہ بدر میں فرق ہوگیا تھا۔
مال غنیمت حلال ہے۔
فائدہ : فرمان باری عز اسمہ ہے :
وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان ویوم التی الجمعان واللہ علی کل شیء قدیر۔ سورة الانفال : 41 ۔
(اگر تم اس اللہ پر) اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو حق و باطل میں فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈبھیڑ ہوئی اپنے بندے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی جس دن جنگ بدر ہوئی جمعہ کی رات سرہ رمضان کو اسی رات اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے آسمان اول پر پورا نازل فرما دیا تھا۔ اور اس دن کو یوم الفرقان کا خطاب اس لیے دیا گیا کیونکہ اسی دن حق باطل کے درمیان معرکہ بدر میں فرق ہوگیا تھا۔
مال غنیمت حلال ہے۔
4385 - عن علي قال: "كانت ليلة الفرقان ليلة التقى الجمعان في صبيحتها1 ليلة الجمعة لسبع عشرة مضت من شهر رمضان". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4386: ۔۔ حضرت سعد (بن وقاص) (رض) فرماتے ہیں جنگ بدر کے دن مجھے ایک تلوار ملی میں اس کو لے کر حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ تلوار مجھے (بطور زائد انعام کے) عطا فرما دیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے وہیں رکھ دو جہاں سے اٹھائی ہے۔ تب فرمان الہی نازل ہوا :
یسالونک عن الانفال : الانفال : 1
وہ لوگ آپ سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
عبداللہ (رض) (بن مسعود) کی قراءت میں الانفال فتح کے ساتھ ہے۔ المعرفۃ لابی نعیم۔
یسالونک عن الانفال : الانفال : 1
وہ لوگ آپ سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
عبداللہ (رض) (بن مسعود) کی قراءت میں الانفال فتح کے ساتھ ہے۔ المعرفۃ لابی نعیم۔
4386- عن سعد أصبت سيفا يوم بدر فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله نفلنيه، فقال: "ضعه من حيث أخذته فنزلت: {يَسْأَلونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} وهي قراءة عبد الله هكذا: الأنفال"ٍ
"أبو نعيم في المعرفة"
"أبو نعيم في المعرفة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4387: ۔۔ حضرت مکحول (رح) سے مروی ہے جنگ بدر کے دن مسلمانوں کی ایک جماعت لڑائی کے لیے نکلی اور ایک جماعت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہی۔ پھر لڑنے والی جماعت غنیمت کے اموال اور دوسری چیزیں جو لڑائی میں ہاتھوں لگی تھیں لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور پھر یہ غنیمت کا مال تقسیم کردیا گیا۔ لیکن جس جماعت نے قتال نہیں کیا تھا اس کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا گیا۔ چنانچہ نہ لڑنے والی جماعت نے بھی حصہ کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ یوں ان کے درمیان بات بڑھ گئی۔ تب اللہ پاک نے قرآن نازل فرمایا :
یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم واطیعوا اللہ ورسولہ۔ (سورة الانفال :1)
(اے محمد مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔
چنانچہ اس حکم کے نزول کے بعد یہ مصالحت ہوئی کہ جس جماعت کو مال ملا تھا وہ انھوں نے واپس کیا (اور پھر رسول خدا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی کے مطابق دوبارہ تقسیم ہوئی) ۔ رواہ ابن عساکر)
مکحول (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث مجھے حجاج بن سہیل نصری نے سنائی حضرت حجاج بن سہیل کی ہیبت اور وقار کی وجہ سے میں اس کی سند کے بارے میں بھی سوال نہ کرسکا۔ (کہ وہ ضعیف سند سے کہاں روایت کریں گے)
یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم واطیعوا اللہ ورسولہ۔ (سورة الانفال :1)
(اے محمد مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔
چنانچہ اس حکم کے نزول کے بعد یہ مصالحت ہوئی کہ جس جماعت کو مال ملا تھا وہ انھوں نے واپس کیا (اور پھر رسول خدا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی کے مطابق دوبارہ تقسیم ہوئی) ۔ رواہ ابن عساکر)
مکحول (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث مجھے حجاج بن سہیل نصری نے سنائی حضرت حجاج بن سہیل کی ہیبت اور وقار کی وجہ سے میں اس کی سند کے بارے میں بھی سوال نہ کرسکا۔ (کہ وہ ضعیف سند سے کہاں روایت کریں گے)
4387- عن مكحول قال: "لما كان يوم بدر قاتلت طائفة من المسلمين وبقيت طائفة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاءت الطائفة التي قاتلت بالأسلاب وأشياء أصابوها، فقسمت الغنيمة، ولم يقسم للطائفة التي لم تقاتل، فقالت الطائفة التي لم تقاتل: أقسموا لنا، فأبت فكان بينهم في ذلك كلام، فأنزل الله تعالى: {يَسْأَلونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ} فكان صلاح ذات بينهم أن ردوا الذي كانوا أعطوا ما كانوا أخذوا،" قال مكحول حدثني بهذا الحديث الحجاج بن سهيل النصري فما منعني أن أسأله عن إسناده إلا هيبته. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انفال
4388: ۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جب یہ فرمان نازل ہوا :
یا ایہا الذین آمنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار۔ الانفال : 15 ۔
اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو جیسے اللہ پاک نے کہا ہے۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی :
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء۔ النساء : 116 ۔
" اللہ اس کو گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا (گناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا "۔ تب بھی یہی فرمایا کہ کہو جس طرح اللہ نے کہا ہے۔ الخطیب فی المتفق والمفترق۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں جبارۃ بن المغلس ضعیف راوی ہے۔ کنز عربی ج 2 ص 416 ۔
یا ایہا الذین آمنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار۔ الانفال : 15 ۔
اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو جیسے اللہ پاک نے کہا ہے۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی :
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء۔ النساء : 116 ۔
" اللہ اس کو گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا (گناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا "۔ تب بھی یہی فرمایا کہ کہو جس طرح اللہ نے کہا ہے۔ الخطیب فی المتفق والمفترق۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں جبارۃ بن المغلس ضعیف راوی ہے۔ کنز عربی ج 2 ص 416 ۔
4388- عن ابن عمر قال: لما نزلت هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفاً فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ} قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قولوا كما قال الله ولما نزلت هذه الآية: {إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قولوا كما قال الله عز وجل". "خط في المتفق والمفترق" وفيه جبارة بن المغلس ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة التوبہ
4389: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں مجھے سورة برأت دے کر اہل مکہ بھیجا کہ آئندہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور نہ بیت اللہ کا ننگے بدن کوئی طواف کرے گا۔ اور جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا۔ جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہو وہ اس مدت تک موثر ہوگا۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے برأت کا اعلان کرتے ہیں چنانچہ ابوبکر (رض) سورة برأت اور ان اعلانات کو لے کر چلے گئے آپ کے جانے کے تین یوم بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا تم ابوبکر سے جا کر ملو۔ اور ان کو میرے اپس واپس بھیج دو اور یہ پیغام تم پہنچاؤ۔ چنانچہ تعمیل ارشاد میں حضرت علی (رض) بھی چلے گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) واپس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے تو رو پڑے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم آیا ہے ؟
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
تمہارے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں آیا۔ بس میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اس پیغام کو میں خود پہنچاؤں یا میرے (گھر والوں میں سے) متعلق کوئی شخص یہ پیغام پہنچائے۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، الدارقطنی فی الافراد)
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
تمہارے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں آیا۔ بس میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اس پیغام کو میں خود پہنچاؤں یا میرے (گھر والوں میں سے) متعلق کوئی شخص یہ پیغام پہنچائے۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، الدارقطنی فی الافراد)
4389- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه ببراءة إلى أهل مكة أن لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان، ولا تدخل الجنة إلا نفس مسلمة، من كان بينه وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد فأجله إلى مدته، والله بريء من المشركين ورسوله، فسار بها ثلاثا، ثم قال لعلي ألحقه فرد علي أبي بكر وبلغها أنت، ففعل، فلما قدم أبو بكر بكى فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم حدث في شيء؟ قال: "ما حدث فيك إلا خير، ولكني أمرت أن لا يبلغه إلا أنا أو رجل مني". "حم وابن خزيمة وأبو عوانة قط في الأفراد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
4390: بنی قصی کے موذن عثمان (رح) کہتے ہیں میں حضرت علی (رض) کے ساتھ پورا ایک سال رہا میں نے کبھی آپ کو کسی سے برأت یا ولایت کا اظہار کرتے نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : مجھے فلاں اور فلان دو اشخاص سے کون محفوظ رکھے گا انھوں نے خوشی کے ساتھ میری بیعت کی پھر میری طرف سے کوئی بات پیدا ہوئے بغیر انھوں نے میری بیعت توڑ دی۔ اللہ کی قسم پھر ان لوگوں سے بھی قتال نہ ہوگا ؟
و ان نکثوا ایمانہم من بعد عھدہم الخ۔ التوبہ : 12
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں کے ساتھ جنگ کرو۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں۔ عجب نہیں کہ باز آجائیں۔ ابو الحسن البکائی۔
و ان نکثوا ایمانہم من بعد عھدہم الخ۔ التوبہ : 12
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں کے ساتھ جنگ کرو۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں۔ عجب نہیں کہ باز آجائیں۔ ابو الحسن البکائی۔
4390- عن عثمان مؤذن بني قصي قال: "صحبت عليا سنة كلها ما سمعت منه براءه ولا ولاية إلا أني سمعته يقول: من يعذرني من فلان وفلان؟ فانهما بايعاني طائعين، غير مكرهين، ثم نكثا بيعتي من غير حدث أحدثته، ثم قال والله ما قوتل أهل هذه الآية بعد {وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ} " الآية. "أبو الحسن البكالي". ومر برقم "4303".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
4391: ۔۔ یزید بن ہارون سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک مرتبہ خطبہ دیا اور دوران خطبہ ارشاد فرمایا : (قیامت کے دن) ایک بندہ کو لایا جائے گا۔ جس پر اللہ نے انعام کیا ہوگا اور اس کے مال میں فراوانی عطا کی ہوگی۔ اس نے اپنے بدن کو خوب سنوارا ہوگا لیکن اپنے رب کی نعمت کا انکار کیا ہوگا۔ اس کو اللہ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا۔ اس سے پوچھا جائے گا : تو نے اس دن کے لیے کیا عمل کیا ہے ؟ اور کیا آگے بھیجا ہے ؟ پس وہ ایسی کوئی نیکی نہ پائے گا جو اس نے آگے بھیجی ہو۔ وہ (اپنی مفلسی کو دیکھ کر) اتنا روئے گا کہ اس کے آنسو ختم ہوجائیں گے۔ پھر اس سے باز پرس میں اس کو عار دلائی جائے گی اور رسوا کیا جائے گا کہ تو نے اللہ کی فرمان برداری کو ضائع کردیا چنانچہ پھر وہ خون کے آنسو ختم ہوجائیں گے۔ پھر اس سے باز پرس میں اس کو عار دلائی جائے گی اور رسوا کیا جائے گا کہ تو نے اللہ کی فرمان برداری کو ضائع کردیا چنانچہ پھر وہ خون کے آنسو روئے گا۔ پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور ذلیل کیا جائے گا تو وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہنیوں تک کھاجائے گا۔ پھر اس کو اللہ کی اطاعت نہ کرنے پر مزید ذلیل و رسوا کیا جائے گا پھر وہ اس قدر چیخ و پکار کرے گا کہ اس کی آنکھ کے ڈھیلے اس کے رخساروں پر گرجائیں گے۔ اور اس کا ایک ڈھیلہ فرسخ در فرسخ (آٹھ کلومیٹر کے قریب) ہوگا۔ اس کو پھر مزید ذلیل و رسوا کیا جائے گا تب وہ بےاختیار پکار اٹھے گا : یا رب ! مجھے جہنم میں بھیج دے ! اس جگہ سے مجھے چھٹکارا دے دے اور یہی فرمان الہی ہے :
الم یعلموا انہ من یحادد اللہ و رسولہ فان لہ نار جہنم خلدا فیہا ذلک الخزی العظیم۔ برأت : 63)
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے، جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔ ابو الشیخ۔
الم یعلموا انہ من یحادد اللہ و رسولہ فان لہ نار جہنم خلدا فیہا ذلک الخزی العظیم۔ برأت : 63)
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے، جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔ ابو الشیخ۔
4391- عن يزيد بن هارون قال: خطب أبو بكر الصديق فقال في خطبته: "يؤتى بعبد قد أنعم الله عليه وبسط له في الرزق قد أصح بدنه، وقد كفر نعمة ربه، فيوقف بين يدي الله تعالى، فيقال له: ماذا عملت ليومك هذا؟ وما قدمت لنفسك؟ فلا يجده قدم خيرا، فيبكي حتى تنفد الدموع، ثم يعير ويخزى بما ضيع من طاعة الله فيبكي الدم، ثم يعير ويخزى حتى يأكل يديه، إلى مرفقيه، ثم يعير فيخزى بما ضيع من طاعة الله، فينتحب حتى تسقط حدقتاه على وجنتيه وكل واحد منهما فرسخ في فرسخ، ثم يعير ويخزى حتى يقول: يا رب ابعثني إلى النار، وارحمني من مقامي هذا"، وذلك قوله: {أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ} 1."أبو الشيخ".
তাহকীক: