কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৩৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام مکمل دین ہے
4352: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :

وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ آل عمران : 97 ۔

اور لوگوں پر خدا کا حق (فرض ) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی قدرت رکھے وہ اس کا حج کرے۔

تو لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا ہر سال (حج فرض ) ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوابا خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا : کیا ہر سال (حج فرض) ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر بھی خاموش رہے۔ لوگوں نے تیسری بار پوچھا : کیا ہر سال (حج فرض) ہے۔

تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں، اگر میں ہاں کردیتا تو (ر سال واجب) وجاتا ۔ پھر اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی :

یا ایہا الذین آمنوا لا تسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسوکم الخ۔ المائدہ : 101 ۔

مومنو ! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھوگے تو تم پر ظاہر بھی کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگذر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، عقیلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الخطیب فی التاریخ، مستدرک الحاکم، الدار قطنی)

کلام : امام ترمذی اس روایت کو اس سند کے ساتھ ضعیف قرار دیتے ہیں۔ امام عقیلی نے بھی اس کو الضعفاء میں ذکر فرمایا ہے۔ حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ امام حاکم نے اپنی مستدرک میں اس روایت پر (سنداً ) کلام نہیں کیا حالانکہ اس کی سند میں ضعف اور انقطاع ہے۔ انتہی (لیکن یہ روایت اور طرق سے بھی مروی ہے روایت کا مضمون صحیح اور مستند ہے) ۔ کنز العمال ج 2 ص 400 ۔
4352- عن علي رضي الله عنه قال: "لما نزلت هذه الآية {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً} قالوا يا رسول الله: أفي كل عام؟ فسكت، فقالوا أفي كل عام؟ فسكت، ثم قالوا أفي كل عام قال: لا ولو قلت نعم لوجبت فأنزل الله: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} " إلى آخر الآية. "حم ت وقال غريب من هذا الوجه هـ ع عق وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه خط ك قط". قال الحافظ ابن حجر: لم يتكلم ك عليه وفي إسناده ضعف وانقطاع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام مکمل دین ہے
4353: الیوم اکملت لکم دینکم۔ المائدہ : 3

آج میں نے تم پر اپنا دین کامل کردیا۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ آیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عرفہ کے دن شام کو نازل ہوئی جس وقت آپ کھڑے (وکر خطبہ دے رہے تھے) (ابن جریر، ابن مردویہ)
4353- عن علي قال: "أنزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو قائم عشية عرفة {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} . "ابن جرير وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام مکمل دین ہے
4354: حضرت علی (رض) ہر نماز کے وقت وضوء فرماتے تھے اور یہ آیت پڑھتے تھے :

یا ایہا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلاۃ ۔ الخ، المائدۃ : 6 ۔

اے ایمان والو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کرلیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) ۔ (ابن جریر، النحاس فی ناسخہ)

فائدہ : اگرچہ یہ حکم بےوضوء ہونے کی حالت میں ہے۔ لیکن چونکہ اس آیت میں مطلقا یہ حکم فرمایا گیا ہے چنانچہ حضرت علی (رض) کمال تقوی و طہارت کی بناء پر ہر نماز کے وقت نیا وضوء فرماتے تھے۔ (رض) و ارضاہ۔
4354- عن علي "أنه كان يتوضأ عند كل صلاة، ويقرأ هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ} . "ابن جرير والنحاس في ناسخه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام مکمل دین ہے
4355: ۔۔ حضرت علی (رض) نے وارجلکم کو (فتح کے ساتھ) پڑھا اور فرمایا یہ حکم غسل کی طرف لوٹ گیا ہے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر، ابن ابی حاتم) ۔

فائدہ : ۔۔ چونکہ مذکورہ آیت میں پہلے منہ اور ہاتھ دھونے کا حکم ہے پھر مسح کا حکم ہے پھر پاؤں کا حکم ہے۔ اگر ارجلکم میں لام کو کسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھیں تو پاؤں کے مسح کا حکم مراد ہوتا (موزے پہننے کی صورت میں) لیکن صحیح وارجلکم فتح (زبر) کے ساتھ ہے جس کا مطلب ہوگا پاؤں بھی دھونے کے حکم میں ہیں۔ یہی مطلب ہے عاد الی الغسل کا۔
4355- عن علي أنه قرأ {وَأَرْجُلَكُمْ} قال عاد إلى الغسل". "ص وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قابیل اور ہابیل کا واقعہ
4356: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : جب آدم کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) رونے لگے اور فرمایا :

تغیرت البلاد و من علیھا

شہر اور ان میں بسنے والے بدل گئے

فلون الارض مغیر قبیح

زمین کا رنگ بھدا اور غبار آلود ہوگیا

تغیر کل ذی لون و طعم

ہر رنگ اور ذائقہ پھیکا پڑگیا

وقل بشاشۃ الوجہ الملیح

خوبصورت چہروں کی تروتازگی بھی جاتی رہی۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کو جوابا کہا گیا :

ابا ھابیل قد قتلا جمیعا

اے ابابیل کے باپ ! تیرے دونوں بیٹے قتل ہوگئے۔

و صار الحی بالمیت الذبیح

زندہ بھی ذبح کیے ہوئے مردار کی طرح ہوگیا۔

وجاء بشرۃ قد کان منہ

وہ (قاتل) ایسا شر لے کر آیا جو اسی سے شروع ہوا ہے۔

علی خوف فجاء بھا یصیح

اب وہ خوف زدہ ہے اور چیخ و پکار کرتا ہے۔ رواہ ابن جریر۔

فائدہ : فرمان الہی ہے۔

واتل علیہم نبا ابنی آدم بالحق۔ المادہ : 27 ۔

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو ۔

سورة مائدہ کی 27 تا 31 آیات میں آدم (علیہ السلام) کے انہی دو بیٹوں کا مفصل واقعہ مذکورہ ہے۔ جس کی مزید تفصیل تفسیر کی کتب میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں اس واقعہ سے متعلق حضرت آدم (علیہ السلام) کے کچھ اشعار ذکر کیے گئے ہیں۔ امام ثعلبی (رح) وغیرہ نے ان کو ذکر کیا ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت آدم (علیہ السلام) نے کوئی شعر نہیں کہا۔ اور شعر کہنے کی ممانعت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت تمام انبیاء کو ہے۔ ہاں اتنا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اس وقت حضرت آدم (علیہ السلام) نے سریانی زبان میں اپنے بیٹے کی وفات پر بطور غم و مرثیہ کے کچھ باتیں کہیں۔ جو سریانی زبان میں مرتب ہوگئیں۔

پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے حضرت شیث (علیہ السلام) کو مرثیہ کے یہ کلمات یاد رکھنے کی تلقین کی یہ کلمات وراثتا منتقل ہوتے ہوتے یعرب بن قحطان تک پہنچے (اور یہی یعرب عربی زبان کے اول موجد تھے) پھر ان کلمات کو عربی زبان میں شعری طرز پر نقل کرلیا گیا۔

علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں ان اشعار کو یعرب کی طرف منسوب کرنا بھی درست نہیں۔ (تفسیر القرطبی 140/6) وانظر الابیات فی میزان الاعتدال 154/1 ۔
4356- عن علي قال: "لما قتل ابن آدم آخاه بكى آدم فقال تغيرت البلاد ومن عليها ... فلون الأرض مغبر قبيح

تغير كل ذي لون وطعم ... وقل بشاشة الوجه المليح

فأجيب آدم عليه السلام:

تغيرت البلاد ومن عليها ... فوجه الأرض مغبر قبيح

تغير كل ذي طعم ولون ... وقل بشاشة الوجه المليح

أبا هابيل قتلا جميعا ... وصار الحي بالميت الذ بيح

وجاء بشرة قد كان منه ... على خوف فجاء بها يصيح

"ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قابیل اور ہابیل کا واقعہ
4357: ۔۔ حضرت علی (رض) سے " السحت " کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : اس سے مراد رشوت ہے، پوچھا گیا حکم میں ؟ فرمایا تب تو کفر ہے۔ عبد بن حمید۔

فائدہ : فرمان الہی ہے :

سمعون للکذب اکلون للسحت ۔ الخ۔ المائدہ : 42 ۔

(یہ لوگ) چھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے اور رشوت کا حرام مال کھانے والے ہیں۔

اس آیت کی تفسیر مذکورہ حدیث ہے۔ نیز فرمایا : حکم میں کفر ہے۔ سائل کا پوچھنے کا مقصد تھا کہ اگر رشوت سرکاری حکام لیں تب اس کا حکم ہے فرمایا : (ان کے لیے یہ رشوت لینا) کفر ہے۔

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

سمعون للکذب اکلون للسحت ۔۔۔ الخ۔ المائدہ : 42 ۔

(یہ لوگ) چھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے اور رشوت کا حرام مال کھانے والے ہیں۔

اس آیت کی تفسیر مذکورہ حدیث ہے۔ نیز فرمایا : حکم میں کفر ہے۔ سائل کا پوچھنے کا مقصد تھا کہ اگر رشوت سرکاری حکام لیں تب اس کا حکم ہے فرمایا : (ان کے لیے یہ رشوت لینا) کفر ہے۔
4357- عن علي أنه سئل عن السحت؟ "فقال الرشاء فقيل له في الحكم1 قال: ذاك الكفر". "عبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرام خوری کے آٹھ دروازے
4358: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ابواب السحت (حرام خوری کے دروازے) آٹھ ہیں سب سے بڑی حرام خوری حکام کا رشوت لینا ہے اور زانیہ کی کمائی، نر کو جفتی کرانے کی اجرت، مردار کی قیمت، شراب کی قیمت ، کتے کی قیمت، کتے کی قیمت، حجام کی کمائی اور کاہن (نجومی) کی اجرت یہ سب حرام خوری کے باب ہیں۔ ابو الشیخ۔
4358- عن علي قال: "أبواب السحت ثمانية: رأس السحت رشوة الحكم، وكسب البغي، وعسب الفحل2، وثمن الميتة وثمن الخمر، وثمن الكلب، وكسب الحجام، وأجر الكاهن". "أبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرام خوری کے آٹھ دروازے
4359: ۔۔ حضرت علی (رض) اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین۔ (المائدہ) کا معنی بیان فرماتے ہیں مومن اپنے دین والوں کے ساتھ نرم رویہ اور کافروں کے لیے سخت رویہ ہیں، نیز فرمایا مومنوں کے لیے دین میں جو بھی مخالف ہیں مومن ان کے لیے سخت ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
4359- عن علي: في قوله {أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ} قال: "أهل رقة على أهل دينهم، أعزة على الكافرين، قال: أهل غلظة على من خالفهم في دينهم". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈاکوؤں کی سزا
4360: ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : بنی فزارہ کے کچھ لوگ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جو لاغری اور کمزوری کی وجہ سے مرنے کے قریب ہو رہے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیت المال کی اونٹنیوں کا دودھ پینے کا حکم فرمایا چنانچہ وہ اونٹنیوں کا دودھ پیتے رہے حتی کہ صحت یاب ہوگئے۔ لیکن پھر انھوں نے اونٹنیاں چرا لیں اور ان کو لے کر بھاگ گئے۔ ان کی تلاش میں لوگوں کو دوڑایا گیا۔ آخر وہ پکڑ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت پیش کردیے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے (مخالف سمتوں سے) ہاتھ پاؤں کٹوا کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے تب یہ آیت نازل ہوئی :

انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ۔۔۔ الخ۔ المائدہ : ۔۔ 33 ۔

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائی یا ملک سے نکال دیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈاکوؤں کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروانا بند کردی۔ رواہ عبدالرزاق۔
4360- عن أبي هريرة قال: "قدم على النبي صلى الله عليه وسلم رجال من بني فزارة، قد ماتوا هزالا، فأمر بهم النبي صلى الله عليه وسلم إلى لقاحه فشربوا منها حتى صحوا، ثم غدوا إلى لقاحه فسرقوها، فطلبوا فأتى بهم النبي صلى الله عليهم وسلم فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمل أعينهم، قال أبو هريرة: فنزلت هذه الآية {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً} قال فترك النبي صلى الله عليه وسلم سمل الأعين بعد". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈاکوؤں کی سزا
4361: ۔۔ زید بن اسلم (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

میں اس شخص کو جانتا ہوں جس نے سب سے پہلے بحیرہ جانوروں کی رسم ڈالی۔ وہ بنی مدلج کا ایک شخص تھا اس کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ اس نے دونوں اونٹنیوں کے کان کاٹ ڈالے اور ان کا دودھ پینا اور ان کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا۔ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا کہ وہ دونوں اونٹنیاں اپنے کھروں کے ساتھ اس کو روندتی پھرتی ہیں اور اپنے مونہوں کے ساتھ اس کو کاٹتی پھرتی ہیں۔ اور میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس نے سب سے پہلے سائبہ جانوروں کی رسم ڈالی، تیروں کے حصے مقرر کیے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد کو بگاڑ دیا وہ عمرو بن لحی ہے۔ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں کھینچتا پھرتا ہے۔ اور اس کی آنتوں کی وجہ سے اہل جہنم کو بھی بڑی تکلیف کا سامنا ہے۔ (عبدالرزاق ، مصعب بن ابن ابی شیبہ۔

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام۔۔ المائدہ : 103 ۔

بحیرہ عرب کے مشرکین اونٹنی کے کان کاٹ کر چھوڑ دیتے تھے، یہ بتوں کی نذر ہوجاتی تھی اس کا دودھ پینا ممنوع ہوجاتا تھا سائبہ وہ جانور جو بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا۔ وصیلہ وہ اونٹنی جو مسلسل مادہ بچے جنے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ حام ایسا نر اونٹ جو خاص تعداد میں جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ سب طریقے کفر و شرک تھے۔ کیونکہ خدا کی حلال کردہ چیز کو حرام ٹھہرانا کفر اور بتوں کی نذر کرنا شرک ہے۔
4361- عن زيد بن أسلم، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "قد عرفت أول الناس بحر البحائر، رجل من بني مدلج كانت له ناقتان فجدع أذنهما وحرم ألبانهما وظهورهما، ولقد رأيته وإياهما في النار يخبطانه بإخفافهما ويعضانه بأفواهما، ولقد عرفت أول الناس سيب السوائب، ونصب النصب، وغير عهد إبراهيم، عمرو بن لحي، ولقد رأيته يجر قصبه1 في النار، ويؤذي أهل النار جر قصبه". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈاکوؤں کی سزا
4362: ۔۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ بنی سلیم کے کچھ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم اسلام لا چکے ہیں لیکن ہم کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ (جس کی وجہ سے ہم مریض ہوگئے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم (مدینہ سے باہر) میری اونٹنیوں میں چلے جاؤ وہ صبح و شام تمہارے پاس آئیں گی تم ان کا دودھ پیتے رہنا۔ چنانچہ وہ گئے لیکن انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سزا میں ان کی شکل بگاڑ دی تب یہ حکم نازل ہوا :

انما جزاء الذین یحاربون اللہ و رسولہ و یسعون فی الارض فسادا ۔۔۔ الخ۔ المائدہ : 23 ۔

ایک حدیث سے پہلے اس کا ترجمہ گذر چکا ہے۔
4362- عن سعيد بن جبير أن ناسا من بني سليم أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا يا رسول الله: إنا قد أسلمنا، ولكنا نجتوي2 المدينة قال: فكونوا في لقاحي، تغدو عليكم وتروح، وتشربون من ألبانها فقتلوا راعيها، واستاقوها، فمثل النبي صلى الله عليه وسلم، ثم نزل: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً} ."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4363: ۔۔ عبدالکریم (رح) سے اونٹوں کے ابوال (پیشاب) کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے حضرت سعید بن جبیر (ابن عباس (رض) کے شاگرد) نے محاربین (ڈاکوؤں) کا قصہ سنا یا فرمایا کہ کچھ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور بولے : ہم اسلام پر آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت لے کر ان کو اسلام میں داخل کرایا۔ لیکن یہ لوگ جھوٹے تھے۔ اسلام لانا ان کا مقصد ہرگز نہ تھا۔ چنانچہ یہ بولے کہ ہم کو مدینے کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اونٹنیاں (مدینے کے باہر) صبح شام تمہارے پاس آتی رہیں گی تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔ (یہ ان کے علاج کے لیے تجویز فرمایا تھا)

لہذا وہ لوگ چلے گئے اور یونہی معاملہ چلتا رہا حتی کہ ایک دن ایک شخص چیختا پکارتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور بولا ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کردیا ہے اور آپ کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو لوگوں میں اعلان کردیا گیا اللہ کے شہ سوارو ! سوار ہوجاؤ۔ چنانچہ سب لوگ بغیر ایک دوسرے کا انتظار کیے سوار ہو کر ان کے تعاقب میں چل دوڑ گئے۔ پیچے پیچھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چل دیے۔ صحابہ کرام (رض) ان ڈاکوؤں کی تلاش میں ان کے ٹھکانے تک پہنچ ہی گئے۔ چنانچہ صحابہ کرام (رض) ان ڈاکوؤں کو قید کرکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے۔ تب اللہ پاک نے مذکورہ حکم نازل فرمایا :

انما جزاء الذین یحاربون اللہ و رسولہ و یسعون فی الارض فسادا الخ۔ المائدہ : 33 ۔

ترجمہ بیت چکا۔

فرمایا : ان کی سزاؤں میں سے جلا وطنی کا حکم جو آیا اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کی سرزمین سے نکال کر ان کے اپنے وطن میں چھوڑ دیا جائے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (آیت نازل ہونے سے پہلے) ان کو یہ سزا دی تھی کہ ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے ، سولی دی اور آنکھوں میں گرم بگاڑنے سے منع فرما دیا۔

حضرت سعید (رح) فرماتے ہیں حضرت انس (رض) بھی یہ روایت اسی طرح بیان کرتے ہیں مگر وہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو قتل کے بعد جلوا دیا تھا۔ اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بنی سلیم کے لوگ تھے، کچھ قبیلہ عرینہ کے تھے اور کچھ بجیلہ کے تھے۔ (رواہ ابن جریر)
4363- عن عبد الكريم أنه سئل عن أبوال الإبل؟ فقال حدثني سعيد بن جبير عن المحاربين، قال: "كان ناس أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا نبايعك على الإسلام، فبايعوه، وهم كذبة، وليس الإسلام يريدون ثم قالوا: إنا نجتوي المدينة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هذه اللقاح تغدو عليكم وتروح، من أبوالها وألبانها، فبينما هم كذلك إذ جاء الصريخ يصرخ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: قتلوا الراعي، وساقوا النعم، فأمر نبي الله صلى الله عليه وسلم، فنودي في الناس: أن يا خيل الله اركبي، فركبوا لا ينتظر فارس فارسا، وركب رسول الله صلى الله عليه وسلم على إثرهم، فلم يزالوا يطلبونهم حتى أدخلوهم مأمنهم، فرجع صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد أسروا منهم فأتوا بهم النبي صلى الله عليه وسلم، فأنزل الله تعالى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً} الآية، قال: فكان نفيهم أن نفوهم حتى أدخلوهم مأمنهم وأرضهم ونفوهم من أرض المسلمين، وقتل نبي الله صلى الله عليه وسلم منهم، وصلب، وقطع، وسمل الأعين، قال: فما مثل نبي الله صلى الله عليه وسلم قبل ولا بعد، ونهى عن المثلة، وقال: لا تمثلوا بشيء، قال: وكان أنس بن مالك يقول نحو ذلك غير أنه قال: أحرقهم بالنار بعد ما قتلهم

قال وبعضهم يقول: هم ناس من بني سليم، ومنهم من عرينة ناس من بجيلة. "ابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4364: (مسند صدیق اکبر (رض)) اسود بن ہلال سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : ان دو آیتوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ حم السجدۃ۔ 30 ۔

اور جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے۔

والذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم۔ الانعام۔ 83 ۔

اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا۔

لوگوں نے کہا : وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مانا پھر اس پر پکے ہوگئے۔ یعنی کوئی گناہ نہ کیا اور دوسری آیت کا مطلب اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی گناہ کے ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔

حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم نے غیر محمل پر ان کو محمول کردیا (یعنی صحیح نہیں بتایا) صحیح مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کو اپنا رب مانا پھر کسی اور معبود بتوں وغیرہ کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور دوسری آیت کا مطلب اور انھوں نے اپنے ایمن کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ (ابن راہویہ، عبد بن حمید، الحکیم، ابن جریر، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء، اللالکائی فی السنۃ)
4364 - "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن الأسود بن هلال قال قال أبو بكر لأصحابه: "ما تقولون في هاتين الآيتين {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا} {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} ؟ قالوا ربنا الله ثم استقاموا فلم يذنبوا، ولم يلبسوا إيمانهم بظلم بخطيئة، قال: لقد حملتموهما على غير المحمل، قالوا: ربنا الله ثم استقاموا فلم يلتفتوا إلى إله غيره، وفي لفظ: فلم يرجعوا إلى عبادة الأوثان، ولم يلبسوا إيمانهم بشرك". "ابن راهويه وعبد بن حميد والحكيم وابن جرير وابن المنذر ك وأبو الشيخ وابن مردويه حل واللالكائي في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4365: ۔۔ اسود بن ہلال سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اللہ کے اس فرمان :

الذین آمنوا ولم یلبسوا ایناہم بظلم۔ الانعام : 83

کی تفسیر میں فرمایا : یعنی انھوں نے اپنے ایمان کو گناہ کے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔ رستہ۔

کلام : ۔۔ پہلی روایت راجح ہے۔ کیونکہ رستہ خواہ ثقہ راوی ہیں لیکن امام ذہبی (رح) ان کے حالات میں منفرد ہونے کا کلام فرماتے ہیں (میزان الاعتدال 2/ 579 ۔
4365- عن الأسود بن هلال قال قال أبو بكر الصديق في قوله عز وجل: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قال: "بخطيئة". "رسته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4366: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ کو فرمایا : اے عائشہ !

ان الذین فرقوا دینہم و کانوا شیعا۔ الانعام : 159 ۔

جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے۔

اے عائشہ ! یہ لوگ اس امت کے بدعت اور خواہش پرست لوگ ہیں۔ ان کی توبہ بھی نہیں۔ اے عائشہ ! ہر گناہ گار کے لیے توبہ ہے مگر بدعت و خواہش پرستوں کے لیے نہیں، میں ان سے بری ہوں اور یہ مجھ سے بری ہیں۔ (الحکیم، ابن ابی حاتم ، ابو الشیخ، ابن شاہین فی السنۃ، الاوسط للطبرانی، السنن لسعید بن منصور، ابن مردویہ، ابو نصر السجزی فی الابانہ، شعب الایمان للبیقی، ابن الجوزی فی الواہیات، الاصبہانی فی الحجۃ۔

کلام : ۔۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو واہیات میں سے قرار دیا ہے۔ نیز الحکیم کی روایت بھی ضعیف ہوتی ہے۔
4366- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعائشة: "يا عائشة {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعاً} هم أصحاب البدع وأصحاب الأهواء من هذه الأمة، ليس لهم توبة، يا عائشة إن لكل صاحب ذنب توبة غير أصحاب البدع وأصحاب الأهواء، ليس لهم توبة، أنا منهم بريء وهم مني براء" "الحكيم وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن شاهين في السنة طس ص وابن مردويه وأبو نصر السجزي في الإبانة هب وابن الجوزي في الواهيات والأصبهاني في الحجة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4367: ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں :

ولم یلبسوا ایمانہم بظلم۔ الانعام : 83 ۔

اور انھوں نے شرک کے ساتھ اپنے ایمان کو خلط ملط نہیں کیا۔ ابو الشیخ
4367- عن عمر: في قوله {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قال: "بشرك". "أبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4368: ۔۔ حضرت علی (رض) کے پاس ایک فرقہ خارجیہ کا شخص آیا اور بولا :

الحمد للہ الذی خلق السموات والارض و جعل الظلمات والنور ثم الذین کفروا بربہم یعدلون۔ الانعام :1 ۔

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اندھیرے اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

پھر بولا کیا ایسا نہیں ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : بالکل۔ پھر وہ خارجی چلا گیا۔ لیکن حضرت علی (رض) نے اس کو بلایا اور یہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (ابن ابی حاتم) واللہ اعلم بمعناہ الصواب۔
4368- عن علي: أنه أتاه رجل من الخوارج فقال: {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ} أليس كذلك؟ قال بلى، فانصرف عنه، ثم قال ارجع أي قل، إنما نزلت في أهل الكتاب. "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4369: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا فرمان :

الذین آمنوا و لم یلبسوا ایمانہم بظلم۔ الانعام : 83 ۔

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔

حضرت ابراہیم علیہ اور ان کے خاص ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ اس امت کے بارے میں نازل نہیں ہوا۔ (الفریابی، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ)

فائدہ : ۔۔ یہ مطلب نہیں کہ اسی صفت کے حامل امت میں نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس آیت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کی تعریف مقصود ہے۔
4369- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قال نزلت هذه الآية في إبراهيم وأصحابه خاصة ليس في هذه الأمة."الفريابي وعبد بن حميد وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4370 ۔۔ حضرت علی (رض) نے ان الذین فرقوا کی بجائے فارقوا دینہم پڑھا (الفریابی، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، ابن جریر، ابن المنذر)

فائدہ : ۔۔ مشہور قرآئت تو یہی ہے۔ فرقوا دینہم جس کا معنی ہے انھوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ جبکہ حضرت علی (رض) کی قراءت جس کو بعد میں امام حمزہ (رح) اور امام کسائی (رح) نے اختیار کیا فارقوا دینہم ہے جس کا معنی ہے وہ اپنے دین سے نکل گئے۔
4370- عن علي أنه قرأها: {إن الذين فارقوا دينهم} بالألف. "الفريابي وعبد بن حميد وابن جرير ابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في تفاسيرهم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب پینا حرام ہے
4371: ۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) : ولم یلبسوا ایمانہم بظلم کا معنی یہ بیان فرماتے ہیں اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ نہیں ملایا۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ فی تفاسیرہم)
4371- عن أبي بن كعب في قوله: {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} 4371- عن أبي بن كعب في قوله: {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قال: ذاك الشرك. "عبد بن حميد وابن جرير وأبو الشيخ في تفاسيرهم".
tahqiq

তাহকীক: