কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৩৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4332: ۔۔ ولا جنبا الا عابری سبیل۔ اور نہ جنبی حالت میں (نماز کے پاس جاؤ) الا ایہ کہ بحالت سفر ہو۔ (اور پانی نہ ملے تو تیمم کرکے نماز پڑھتا رہے جب تک پانی نہ ملے۔ (الفریابی۔ ابن ابی شیبہ۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم ، السنن للبیہقی)
4332 - عن علي في قوله: {وَلا جُنُباً إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} قال: "نزلت هذه الآية في المسافر تصيبه الجنابة، فيتيمم ويصلي حتى يجد الماء". "الفرياني ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4333: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللمس سے مراد جماع (ہم بستری) ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو کنیت (اشارے) کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ (ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، شعب الایمان للبیہقی)

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

اولمستم النساء فلم تجدوا ماءا تفیمموا صعیدا طیبا۔ النساء۔ 43 ۔

یا تم عورتوں کو چھو لو (یعنی ہم بستری کرلو) اور پانی نہ لاؤ تو پاک مٹی لو اور منہ ہاتھوں کا مسح (کرکے تیمم) کرلو۔

مذکورہ حدیث اسی آیت کی تفسیر بیان کرتی ہے۔
4333 - عن علي قال: "اللمس هو الجماع، ولكن الله كنى عنه". "ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4334: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا :

و ان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا او اعراضا الخ۔ النسائی۔ 128 ۔

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ کسی قرار داد پر صلح کرلیں۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں یہ علم اسی لیے ہے کہ اسی سے نفع اٹھایا جائے۔ ایسے ہی سوالات کیا کرو۔ پھر فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک شخص کی دو بیویاں ہیں۔ ایک عورت بوڑھی ہوگئی ہے یا وہ بدصورت ہے اور شوہر اس کو الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت مرد سے اس قرار داد پر صلح کرلے کہ وہ اس کے پاس ایک رات جبکہ دوسری کے پاس کئی (متعین) راتیں قیام کرے لیکن اس کو اپنے سے الگ نہ کرے۔ اگر عورت کو اس پر اطمینان ہو تو مرد کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ پھر اگر عورت اچھی حالت پر لوٹ آئے تو مرد پھر دونوں کے درمیان برابری کرے۔ (ابو ادود الطیالسی، ابن ابی شیبہ، ابن راہویہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، الصابونی فی الماتین، السنن للبیہقی)
4334 - عن علي أنه سئل عن هذه الآية: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزاً أَوْ إِعْرَاضاً} فقال "هذا العلم ينتفع به، عن مثل هذا فاسألوا، ثم قال: هو الرجل عنده امرأتان، فتكون إحداهما قد عجزت أو تكون دميمة، فيريد فراقها، فتصالحه على أن يكون عندها ليلة وعند الأخرى ليالي، ولا يفارقها، فما طابت به نفسها فلا بأس به، فإن رجعت سوى بينهما". "ط ش وابن راهويه وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر والصابوني في المأتين ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4335: حضرت علی (رض) نے مرتد کے بارے میں فرمایا : اگر میں ہوتا تو تین مرتبہ اس کو توبہ کرنے کی ترغیب دیتا۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

ان الذین آمنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم کفروا ثم ازدادو کفرا الخ۔ النساء : 137

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا نہ سیدھا راستہ دکھائے گا۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو ذر الھروی فی الجامع۔
4335 - عن علي أنه قال في المرتد: "إن كنت لمستتيبه ثلاثا ثم قرأ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْراً} ". "ابن جرير وابن أبي حاتم وأبو ذر الهروي في الجامع". ومر برقم [4302] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4336: ۔۔ حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا حکم تو ہے :

ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلا۔ النسائی۔ 141 ۔

اور خدا کافروں کو ہرگز مومنوں پر غلبہ نہ دے گا۔

جبکہ کفار ہم سے لڑتے ہیں اور غالب آجاتے ہیں اور پھر لڑتے ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : قریب ہوجا ! قریب ہوجا ! قریب پھر فرمایا : (پوری آیت پڑھو) ۔

فاللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلا۔

تو خدا قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہ دے گا۔ (مستدرک الحاکم، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، البعث للبیہقی)
4336 - عن علي أنه قيل له: "أرأيت هذه الآية؟ {وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً} وهم يقاتلون فيظهرون، ويقاتلون، فقال أدنه أدنه، ثم قال: {فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً} . "ك والفريابي وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر هق في البعث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4337: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلا سے مراد ہے آخرت میں اللہ مومنوں پر کافروں کو غلبہ نہ دے گا۔ رواہ ابن جریر۔
4337 - عن علي في قوله تعالى: {وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً} قال "في الآخرة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4338: والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم۔ النساء : 24

ترجمہ : اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (قید ہو کر لونڈیوں کے طور پر ) تمہارے قبضے میں آجائیں۔

حضرت علی (رض) آیت بالا کی تفسیر میں فرماتے ہیں مشرک عورتیں جب قید ہو کر آجائیں تو (جس کے حصے میں شرعا آئیں) اس کے لیے حلال ہوجاتی ہیں۔ (خواہ وہ اپنے وطن میں شادی شدہ ہوں) الفریابی ، ابن ابی شیبہ، الکبیر للطبرانی۔
4338 - عن علي قال: في قوله تعالى: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} قال: "المشركات إذا سبين حلت له". "الفريابي ش طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلالہ کی میراث کا حکم
4339: ۔۔ حضرت براء (رض) سے مروی ہے فرمایا : قرآن کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت یہ ہے :

یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالہ۔ الخ۔ النساء : 176 ۔

اے پیغمبر لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں۔

یعنی یہ مکمل آیت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ اور یہی سورة النساء کی آخری آیت ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4339 - عن البراء قال: "آخر آية أنزلت في القرآن {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة} ". "ش"1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلالہ کی میراث کا حکم
4340: حضرت براء (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زید کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اور اس کو کہو کہ ہڈی، دوات اور تختی بھی لیتے آؤ۔ پھر آپ (رض) نے زید (رض) کو فرمایا : لکھو :

لا یستوی القاعدون من المومنین و المجاھدون فی سبیل اللہ۔ النساء : 95 ۔

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔

ابن ام مکتوم (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے تو آنکھوں میں تکلیف ہے۔ تو سیاہی خشک ہونے سے قبل یہ نازل ہوا ۔ غیر اولی الضرر۔ یعنی جن کو کوئی تکلیف اور عذر نہ ہو۔
4340 - عن البراء عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: أدع لي زيدا، وقل يجيء بالكتف والدواة واللوح، فقال اكتب: {لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} فقال ابن أم مكتوم: يا رسول الله بعيني ضرر، فنزلت قبل أن يبرح: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} . "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کے موقع پر قریش کا انعام مقرر کرنا
4341: ۔۔ حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں : سراقہ بن مالک مدلجی (رض) نے ان کو بیان فرمایا کہ (ہجرت رسول کے موقع پر) قریش نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کو لانے والے کے لیے چالیس اوقیہ کا انعام رکھا۔ چنانچہ میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ قریش نے جن کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے وہ دونوں تیرے قریب ہیں، فلاں فلاں جگہ پر۔ چنانچہ میں اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا جو چراگاہ میں چر رہا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا اور اپنا نیزہ نکال لیا۔ میں تیز رفتاری کے ساتھ بار بار نیزے کو بلند کررہا تھا کہ کہیں دوسرے لوگ ان دونوں کو مجھ سے پکڑ لیں۔ جب میں نے ان دونوں کو دیکھا تو ابوبکر (رض) سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا : یہ باغی (تلاش کرنے والا ) ہے جو ہم کو تلاش کررہا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے اور بد دعا کی یا اللہ اس کو ہماری طرف سے تو کافی ہوجا جیسے تو چاہے۔ چنانچہ میرا گھوڑا زمین میں دھنسنے لگا حالانکہ وہ سخت (پتھریلی) زمین تھی حتی کہ میں ایک چٹان پر گرگیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے کہا : اس ذات سے دعا کیجیے جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ یہ حال کیا ہے کہ وہ اس کو خلاصی مرحمت فرمائے۔

اور میں نے آپ سے یہ معاہدہ بھی کیا کہ آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو گھوڑا زمین سے نکل آیا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا تم یہ گھوڑا مجھے ہبہ کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا ضرور۔ پھر آپ نے مجھے اشارہ کرکے فرمایا : تم یہاں رہو اور لوگوں کو ہم سے اندھا کرو۔ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساحل کے کنارے کنارے چلے گئے۔ میں شروع دن میں (آپ کا دشمن ہو کر) آپ کی تلاش میں سرگردں تھا۔ اور دن ڈھلے آپ کا محافظ سپاہی تھا۔ اور آپ نے مجھے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب ہم مدینہ میں ٹھکانا پکڑ لیں اور تم آنا چاہو تو ہمارے پاس چلے آنا۔

چنانچہ جب (کچھ عرصہ بعد) آپ بدر و احد میں کامیاب ہوئے اور گردوپیش کے لوگ اسلام لے آئے تو مجھے یہ خبر ملی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (میرے قبیلے) بنی مدلج کے پاس خالد بن ولید کی امارت میں لشکر بھیجنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ یہ سن کر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور آپ کو گزشتہ حق کا واسطہ دیا۔ لوگوں نے مجھے چپ ہونے کو کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : مجھے خبر ملی ہے کہ آپ خالد بن ولید کو میری قوم کے پاس بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے (یعنی میری قوم سے) صلح کرلیں۔

اگر (عرب کی قریش) قوم اسلام لے آئی تو وہ بھی اسلام لے آئیں گے اور اگر اسلام نہ لائی تو بھی ہماری قوم کے دل ان سے سخت نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتے ہیں ویسا ہی کرو۔ اگر قریش قوم اسلام لے آئی تو یہ بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :

ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سواء فلا تتخذوا منہم اولیاء الخ۔

الا الذین یصلون قوما الی قوم بینکم و بینہم میثاق الخ۔ النساء : 89 ۔ 90 ۔

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب ) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ۔ اگر (ترک و طن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ (89) مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز کرنا ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑ پڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لیے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی۔

حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں الذین حصرت صدورہم جن کے دل لڑنے سے رک جائیں، اس سے مراد بنی صالح ہیں اور جو لوگ بنی مدلج کے ساتھ جا ملیں ان کے ساتھ بھی مذکورہ صلح ہوگی۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم فی الدلائل۔
4341- عن الحسن أن سراقة بن مالك المدلجي حدثهم أن قريشا جعلت في رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر أربعين أوقية، قال: "فبينما أنا جالس، إذ جاءني رجل، فقال: إن الرجلين اللذين جعلت قريش فيهما ما جعلت قريبان منك، بمكان كذا وكذا، فأتيت فرسي وهو في المرعى، فنفرت به، ثم أخذت رمحي فركبته، فجعلت أجر الرمح مخافة أن يشركني فيهما أهل الماء، فلما رأيتهما قال أبو بكر: هذا باغ يبغينا، فالتفت إلي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اللهم اكفناه بما شئت، قال فوحل فرسي وإني لفي جلد من الأرض فوقعت على حجر، فانقلب فقلت ادع الذي فعل بفرسي ما أرى أن يخلصه، وعاهده على أن لا يعصيه فدعا له فخلص الفرس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أواهبه أنت لي؟ فقلت نعم، قال فههنا قال فعم عنا الناس، وأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الساحل مما يلي البحر، فكنت أول النهار لهم طالبا، وآخر النهار لهم مسلحة" وقال لي: إذا استقررنا بالمدينة فإن رأيت أن تأتينا فأتنا فلما قدم المدينة وظهر على أهل بدر وأحد وأسلم الناس ومن حولهم بلغني أنه يريد أن يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، فأتيته فقلت له أنشدك النعمة، فقال القوم مه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما تريد؟ فقلت بلغني أنك تريد أن تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فأنا أحب أن توادعهم فإن أسلم قومهم أسلموا معهم وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيد خالد بن الوليد، فقال له: اذهب معه فاصنع ما يريد، فإن أسلمت قريش أسلموا معهم فأنزل الله عز وجل: {وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا} حتى بلغ {إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ} الآية، قال الحسن فالذين حصرت صدورهم بنو مدلج، فمن وصل إلى بني مدلج من غيرهم كان في مثل عهدهم". "ش وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم في الدلائل" وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلا تحقیق کسی اقدام سے ممانعت
4344: ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں ہم کو ابو خالف احمر نے عن ابن اسحا عن یزید بن عبداللہ بن ابی یط عن القعقاع بن عبداللہ بن ابی حدرد سلمی عن ابیہ کی سند سے بیان کیا ہے۔

عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے اضم (قبیلے) کی طرف ایک لشکر کے ساتھ بھیجا۔ ہم سے عامر بن اضبط نے ملاقات کی اور اسلام والاسلام کیا۔ چنانچہ ہم اس کو تکلیف پہنچانے سے رک گئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر ہتھیار اٹھا لیا اور قتل کرڈالا اور اس کا اونٹ، لباس اور ہتھیار قبضے میں کرلیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محلم کی ساری خبر سنائی تب یہ آیت نازل ہوئی :

یا ایہا الذین آمنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا۔ الخ۔ النساء : 94 ۔

مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو۔ سو خدا کے نزدیک بہت سی غنیمتیں ہیں، تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے، پھر خدا نے تم پر احسان کیا۔ تو (آئند) تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے۔ النساء : 94 ۔
4342- ثنا أبو خالد الأحمر عن ابن إسحاق عن يزيد بن عبد الله بن أبي قسيط عن القعقاع بن عبد الله بن أبي حدرد الأسلمي عن أبيه قال: "بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية إلى أضم فلقينا عامر بن الأضبط فحيا بتحية الإسلام فبرعنا عنه وحمل عليه محلم بن جثامة فقتله، فلما قتله سلبه بعيرا وأهبا1 ومسحا كان له، فلما قدمنا جئنا بشأنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرناه بأمره، فنزلت هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا} "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلا تحقیق کسی اقدام سے ممانعت
4343: سدی عن ابی صالح عن ابن عباس (رض) کی سند سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید بن مغیرہ مخزومی کو ایک لشکر دے کر بھیجا۔ سریہ (لشکر) میں حضرت عمار (رض) بن یاسر بھی تھے۔ یہ لشکر نکلا اور جس قوم کے پاس پہنچنے کا ارادہ تھا صبح کے قریب وہ ان کے پاس پہنچے۔ لہٰذا یہ لشکر پہلے ہی ایک جگہ ٹھہر گیا۔ اس قوم کو کسی نے ڈرایا اور وہ راتوں رات جہاں ممکن ہوا بھاگ گئے۔ لیکن ان میں سے ایک شخص وہیں رک گیا اور وہ اور اس کے اہل خانہ اسلام لا چکے تھے۔ وہ ان کو سوار کرکے لشکر کے پاس لایا اور بولا تم یہیں ٹھہروں میں آتا ہوں۔ پھر وہ حضرت عمار بن یاسر (رض) کے پاس آئے اور بولے اے ابو الیقظان ! میں اور میرے گھر والے اسلام لا چکے ہیں۔ اگر میں یہیں ٹھہرا رہا تو مجھے کچ فائدہ ہے، آپ مجھے امان دے سکتے ہیں ؟ جب کہ میری قوم آپ کا سنتے ہی بھاگ چکی ہے۔

حضرت عمار (رض) نے اس شخص کو فرمایا تم یہیں ٹھہرسکتے میں تم کو امان دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ چلا گیا۔ صبح کو حضرت خالد نے قوم پر لشکر کشی کی تو وہاں اس کے علاوہ کوئی نہ ملا۔ حضرت عمار (رض) نے حضرت خالد (رض) کو فرمایا اس شخص پر تمہارا کوئی اختیار نہیں، یہ اسلام لا چکا ہے۔ حضرت خالد (رض) نے فرمایا : کیا تم اس کو امان دیتے جبکہ امیر میں ہوں۔ حضرت عمار (رض) نے فرمایا : ہاں میں اس کو امان دیتا ہوں اگرچہ تم امیر ہو۔ آدمی ایمان لا چکا ہے۔ اگر یہ چاہتا تو جاسکتا تھا جیسے اس کے ساتھی چلے گئے۔ لیکن میں نے اس کو ٹھہرنے کا کہا ہے دونوں صحابیوں کا اس کے بارے میں تنازعہ کھڑا ہوگیا حتی کہ ایک دوسرے کو کچھ کچھ کہنے لگے۔

جب دونوں حضرات مدینہ آئے تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اکٹھے ہوئے۔ حضرت عمار (رض) نے اس شخص کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار (رض) کی امان کو جائز قرار دیا۔ لیکن ساتھ ہی عام ممانعت بھی فرما دی کہ کوئی شخص امیر کے ہوتے ہوئے امان نہ دے۔ یہاں بھی دونوں حضرات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔

حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دیکھیے یہ غلام آپ کے پاس مجھے برا بھلا کہہ رہا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو یہ مجھے یوں نہ کہہ سکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خالد ! بس کرو عمار کو چھوڑو، جو عمار سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اس سے بغض رکھے گا۔ جو عمار کو لعنت کرے گا اللہ اس پر لعنت کرے گا۔ پھر عمار (رض) کھڑے ہو کر چل دیے ۔ چنانچہ خالد (رض) کو بھی تنبیہ ہوئی اور وہ ان کے پیچھے پیچھے گئے اور عمار (رض) کے کپڑے پکڑ کر ان کو راضی کرنے لگے حتی کہ آپ (رض) خالد (رض) سے رضا مند ہوگئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

یا یہا الذین امنوا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول ذالک خیر واحسن تاویلا۔ النساء : 59 ۔

اے مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی فرمان برداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔ اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہوجائے تو اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4343- عن السدي عن أبي صالح عن ابن عباس قال: "بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد بن المغيرة المخزومي على سرية ومعه في السرية عمار بن ياسر، قال: فخرجوا حتى أتوا قريبا من القوم الذين أرادوا أن يصبحوهم نزلوا في بعض الليل، قال: وجاء القوم النذير فهربوا حيث بلغهم، فأقام رجل منهم كان قد أسلم هو وأهل بيته فأمر أهله فتحملوا وقال: قفوا حتى آتيكم، ثم جاء حتى دخل على عمار، فقال يا أبا اليقظان: إني قد أسلمت وأهل بيتي فهل ذلك نافعي إن أنا أقمت؟ فإن قومي قد هربوا حيث سمعوا بكم، قال فقال له عمار فأقم، فأنت آمن فانصرف الرجل هو وأهله، قال فصبح خالد القوم فوجدهم قد ذهبوا فأخذ الرجل هو وأهله، فقال له عمار: إنه لا سبيل لك على الرجل، قد أسلم، قال وما أنت وذاك؟ أتجير علي وأنا الأمير؟ قال: نعم أجير عليك وأنت الأمير، إن الرجل قد آمن، ولو شاء لذهب كما ذهب أصحابه، فأمرته بالمقام لإسلامه، فتنازعا في ذلك حتى تشاتما، فلما قدما المدينة اجتمعا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر عمار الرجل وما صنع، فأجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم أمان عمار، ونهى يومئذ أن يجيز أحد على أمير فتشاتما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال خالد يا رسول الله: أيشتمني هذا العبد عندك؟ أما والله لولاك ما شتمني فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: كف يا خالد عن عمار، فإنه من يبغض عمارا يبغضه الله عز وجل، ومن يلعن عمارا يلعنه الله عز وجل ثم قام عمار فولى واتبعه خالد بن الوليد، حتى أخذ بثوبه، فلم يزل يترضاه حتى رضي عنه، ونزلت هذه الآية: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} أمراء السرايا {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ} فيكون الله ورسوله هو الذي يحكم فيه {ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً} يقول خير عاقبة".

"ابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلا تحقیق کسی اقدام سے ممانعت
4344: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا۔ لشکر میں حضرت عمار بن یاسر (رض) بھی تھے۔ یہ لشکر قریش کے کسی قبیلے یا قبیلہ قیس کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب لشکر وم کے ریب پہنچ گیا تو کسی نے جا کر قوم کو حملہ آور لشکر کی خبر دی۔ لہٰذا وہ سب بھاگ گئے سوائے ایک شخص اور اس کے اہل خانہ کے، چونکہ وہ اپنے گھر والوں سمیت اسلام قبول کرچکا تھا۔ وہ شخص (سوار ہو کر لشکر کے پاس آیا اور ) اپنے گھر والوں کو بولا تم یہیں کجاوے میں ٹھہرو، میں ابھی آتا ہوں۔ چنانچہ وہ شخص چل کر لشکر میں داخل ہوا اور حضرت عمار بن یاسر (رض) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ابو الیقظان ! میں اپنے گھر والوں سمیت اسلام قبول کرچکا ہوں کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یا پھر میں بھی اپنی قوم کی طرح راہ فرار اختیار کرلوں۔ حضرت عمار (رض) نے اس کو کہا : تو اپنے گھر ٹھہر جا تجھے امن ہے۔ چنانچہ وہ شخص اپنے اہل خانہ کے ساتھ لوٹ گیا اور اپنے ٹھکانا پر ٹھہر گیا۔ صبح کو حضرت خالد بن ولید (رض) نے قوم پو لشکر کشی کی تو دیکھا کہ ساری قوم راتوں رات نکل چکی ہے۔ حضرت خالد (رض) نے اس کو ایک باقی رہ جانے والے شخص کو پکڑ لیا۔ حضرت عمار (رض) نے حضرت خالد (رض) کو فرمایا : تم کو اب اس شخص پر کوئی اختیار نہیں۔ میں اس کو امن دے چکا ہوں۔ اور یہ بھی اسلام قبول کرچکا ہے۔ حضرت خالد (رض) نے فرمایا : تمارا اس سے کیا تعلق ؟ میرے امیر ہوتے ہوئے بھی آپ اس کو کیسے امن دے سکتے ہو ؟ حضرت عمار (رض) نے فرمایا : ہاں میں نے اس کو امن دیا ہے حالانکہ آپ امیر ہیں۔ یہ آدمی چونکہ اسلام لا چکا ہے اگر یہ چاہتا تو اپنی قوم کی طرح جاسکتا تھا۔ یونہی بات بڑھ گئی اور دونوں حضرات میں تنازعہ کھڑا ہوگیا حتی کہ جب مدینہ واپس آئے تو دونوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمار (رض) نے اس شخص کا سارا حال سنایا جس کو انھوں نے امان دی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار (رض) کی امان کو درست قرار دیا۔ لیکن اسی روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عام ممانعت بھی فرما دی کہ کوئی شخص اپنے امیر کی موجودگی میں کسی کو امان اور پناہ نہ دے۔ حضرت خالد (رض) اور حضرت عمار (رض) کے درمیان حضور کی موجودگی میں بھی تنازعہ اٹھ گیا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے حضرت خالد (رض) بولے : یا رسول اللہ یہ غلام آپ کے پاس مجھے گالی دیتا ہے اللہ کی قسم ! آپ اگر یہاں نہ ہوتے تو یہ مجھے کچھ نہ کہہ سکتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خالد ! رک جاؤ عمار کو کچھ کہنے سے۔ جو عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے اور جو عمار پر لعنت کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرتا ہے۔ پھر حضرت عمار (رض) کھڑے ہو کر چل دیے۔ حضرت خالد (رض) بھی اٹھ کر ان کے پیچھے پیچھے چل دیے۔ حضرت خالد (رض) نے حضرت عمار (رض) کے کپڑے پکڑ لیے اور ان کو راضی کرتے رہے کرتے رہے حتی کہ حضرت عمار (رض) راضٰ ہوگئے۔ اسی بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئیں :

یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول۔۔۔ الخ۔ النساء : 59 ۔ ابن عساکر۔

یہ حدیث سند حسن کے ساتھ منول ہے۔
4344- عن ابن عباس قال: "بعث رسول صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد في سرية ومعه في السرية عمار بن ياسر إلى حي من قريش أو قيس حتى إذا دنوا من القوم جاءهم النذير، فهربوا وثبت رجل منهم كان قد أسلم هو وأهل بيته، فقال لأهله كونوا على رحلي حتى آتيكم فانطلق حتى دخل في العسكر، فدخل على عمار بن ياسر، فقال يا أبا اليقظان: إني قد أسلمت وأهل بيتي فهل ذلك نافعي؟ أم أذهب كما ذهب قومي فقال له عمار: أقم فأنت آمن، فرجع الرجل فقام وصبحهم خالد بن الوليد فوجد القوم قد نذروا وذهبوا، فأخذ الرجل، فقال له عمار: إنه ليس لك على الرجل سبيل، وإني قد أمنته، وقد أسلم، قال وما أنت وذاك أتجير علي وأنا الأمير؟ قال نعم أجير عليك وأنت الأمير، إن الرجل قد أسلم، ولو شاء لذهب كما ذهب قومه، فتنازعا في ذلك حتى قدما المدينة، فاجتمعا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر عمار للنبي صلى الله عليه وسلم الذي كان من أمر الرجل فأجاز أمان عمار، ونهى يومئذ أن يجير رجل على أمير، فتنازعا عمار وخالد عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى تشاتما، فقال خالد بن الوليد: أيشتمني هذا العبد عندك؟ أما والله لولاك ما شتمني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: كف يا خالد عن عمار، فإنه من يبغض عمارا يبغضه الله ومن يلعن عمار يلعنه الله، وقام عمار فانطلق، فاتبعه خالد، وأخذ بثوبه، فلم يزل يترضاه حتى رضي عنه، قال وفيه نزلت {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} يعني أمراء السرايا {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ} حتى يكون الرسول هو الذي يقضي فيه". "كر" وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلا تحقیق کسی اقدام سے ممانعت
4345: ۔۔۔ یونس بن محمد بن فضالہ ظفری اپنے والد محمد بن فضالہ سے روایت کرتے ہیں، یونس کہتے ہیں میرے والد اور میرے دادا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے قبیلہ بنی ظفر میں تشریف لائے۔ بنی ظفر کی مسجد میں ایک چٹان پر بیٹھ گئے۔ آپ کے ساتھ عبداللہ بن مسعود، معاز بن جبل اور کچھ دوسرے اصحاب تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاری کو حکم دیا کہیں سے قرآن پڑھیں۔ قاری جب اس آیت پر پہنچا :

فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید و جئنا بک علی ھؤلاء شہیدا۔ النسائی : 41 ۔

بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہر امت سے حال بتانے والے کو بلائیں گے اور آپ کو ہر حال بتانے کے لیے گواہ طلب کریں گے۔

یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو پڑے حتی کہ آپ کی ریش مبارک اور آپ کا جسم اطہر بھی لرزنے لگا۔ آپ نے فرمایا : اے پروردگار ! میں جن لوگوں کے درمیان ہوں ان پر گواہی دیتا ہوں پھر جن کو میں نے دیکھا نہیں ان پر میں کیسے گواہی دوں گا۔ (ابن ابی حاتم، حسن بن سفیان، البغوی، الکبیر للطبرانی، المعرفۃ لابی نعیم، ابن النجار)

حدیث حسن ہے۔
4345- عن يونس بن محمد بن فضالة الظفري عن أبيه، قال: "وكان أبي من أصحاب رسول الله صلى

الله عليه وسلم هو وجده أن النبي صلى الله عليه وسلم أتاهم في بني ظفر، فجلس على الصخرة التي في مسجد بني ظفر اليوم، ومعه عبد الله بن مسعود ومعاذ بن جبل وناس من أصحابه، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قارئا فقرأ حتى بلغ هذه الآية: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى اضطرب لحياه وجنباه، فقال: أي رب أشهد على من أنا ظهريه فكيف بمن لم أره " "وابن أبي حاتم والحسن بن سفيان والبغوي طب وأبو نعيم في المعرفة وابن النجار" وحسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المائدہ
4346: ۔۔ (مسند صدیق رضی للہ عنہ ) حضرت انس (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے اس آیت

احل لکم صید البحر و طعامہ ۔ مائدہ : 96

حلال کیا گیا تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا طعام۔

کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ سمندر کا شکار وہ ہے جس پر تم قابو پاؤ اور اس کا طعام وہ ہے جو سمندر تمہاری طرف پھینک دے۔ (ابو الشیخ، ابن مردویہ)

سمک طافی حلال نہیں

فائدہ : ۔۔۔ پانی کی موجیں جس سمندری جانور کو باہر پھینک دے وہ حلال ہے۔ لیکن سمک طافی یعنی وہ مچھلی اور سمندری جانور جو سمندر میں مر کر الٹا ہوجائے اور پانی کے اوپر الٹا پڑا ہو وہ حلال نہیں ہے۔
4346- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أنس عن أبي بكر الصديق في قوله تعالى: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} قال: "صيده ما حويت عليه، وطعامه ما لفظه إليك". "أبو الشيخ وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المائدہ
4347: عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے :

احل لکم صید البحر و طعامہ۔ المائدہ : 96 ۔

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں ) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کردیا گیا۔

مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمایا : سمندر کا شکار وہ ہے جس کو ہمارے اتھ شکار کریں اور سمندر کا طعام وہ ہے جو سمندر باہر پھینک دے۔

(روایت کے) دوسرے الفاظ یہ ہے طعامہ کل مافیہ۔ یعنی سمندر کا طعام ہر وہ چیز جو سمندر میں ہے۔ اور ایک اور (روایت کے) الفاظ یہ ہیں : طعامہ میتۃ سمندر کا طعام اس کا مردار ہے لیکن تمام صورتوں سے وہ مردار مستثنی ہے جو سمندر میں مر کر اوپر آجائے اور پانی پر الٹا ہوجائے۔ یہ حرام ہے۔
4347- عن عكرمة أن أبا بكر الصديق قال: في قوله تعالى: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} قال:" صيد البحر ما تصاده أيدينا وطعامه ما لاثه1 البحر، وفي لفظ: طعامه كل ما فيه، وفي لفظ: طعامه ميتته". "عب وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المائدہ
4348: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :

احل لکم صید البحر و طعامہ متاعا لکم۔ المائدہ : 96 ۔

فرمایا : طعامہ سے مراد وہ ہے جو سمندر (باہر) پھینک دے۔ عبد بن حمید، ابن جریر۔
4348- عن ابن عباس قال: "خطب أبو بكر الناس فقال: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعاً لَكُمْ} قال فطعامه ما قذف منه. "عبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المائدہ
4349: ۔۔ ابو الطفیل (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) سے سمندر کے مردہ جانور کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : سمندر کا پانی پاک ہے اور سمندر کا مردار حلال ہے۔ الدار قطنی فی العلل، ابو الشیخ صحیح، ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔

فائدہ : سمندر کا بلکہ ہر پانی کا جانور مردہ ہی کھایا جاتا ہے وہ بغیر ذبح کیے حلال ہوتا ہے۔
4349- عن أبي الطفيل أن أبا بكر سئل عن ميتة البحر؟ فقال "هو الطهور ماؤه، الحل ميتته". "قط في العلل وصححه أبو الشيخ وابن مردويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المائدہ
4350: (مسند عمر (رض)) طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ لوگ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو، اگر ہم یہود پر وہ نازل ہوتی تو اس دن کو ہم عید کا دن بنا لیتے۔

حضرت عمر (رض) نے اس آیت کے بارے میں استفسار فرمایا تو یہودی نے کہا :

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم و نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ المائدہ : 3 ۔

آخر آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لیے اسلام کا دین پسند کیا۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں یہ آیت کس دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی اور کس گھڑی نازل ہوئی۔ جمعہ کے دن عرفہ کی شان کو یہ نازل ہوئی تھی۔ (اور یہ ہماری عید ہی کا دن ہے) ۔ (مسند احمد، مسند الحمیدی، عبد بن حمید، بخاری، مسلم ، ترمذی، نسائی، ابن جرر، ابن المنذر، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی)

فائدہ : امام قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ آیت ہجرت کے دسویں سال جمعہ کے دن عصر کے بعد نازل ہوئی اور اس دن عرفہ کا دن بھی تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حجۃ الوداع تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عضباء نامی اونٹنی پر عرفات کے میدان میں لوگوں کو حجۃ الوداع کا خطبہ دے رہے تھے، اسی حال میں یہ آیت نازل ہوئی اور اس وحی کی وجہ سے اونٹنی پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ (اس کی پسلیاں) ٹوٹ جاتی حتی کہ اونٹنی بیٹھ گئی (تفسیر القرطبی 61/6، ذیل آیت 93 المائدہ۔
4350- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن طارق بن شهاب قال: "جاء رجل من اليهود إلى عمر فقال يا أمير المؤمنين: إنكم تقرؤون آية في كتابكم لو علينا معشر اليهود نزلت لا تخذنا ذلك اليوم عيدا قال أي آية هي؟ قال قوله تعالى: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} ، فقال عمر: "والله إني لأعلم اليوم الذي نزلت فيه على رسول الله صلى الله عليه وسلم والساعة التي نزلت فيها على رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة يوم جمعة". "حم والحميدي وعبد بن حميد خ م ت ن وابن جرير وابن المنذر حب هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام مکمل دین ہے
4351: ۔۔ ابو العالیہ سے مروی ہے ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی مجلس میں تھے کہ لوگوں نے اسی آیت کا ذکر کیا۔ الیوم اکملت لکم دینکم۔ ایک یہودی شخص نے کہا : اگر ہم کو معلوم ہوجاتا یہ آیت کس دن نازل ہوئی تو ہم اس دن کو یوم العید بنا لیتے۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے اس دن کو ہمارے لیے (پہلے ہی سے) عید کا دن اور سب سے پہلا دن بنادیا۔ یہ عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اس سے اگلا دن قربانی کا دن تھا ۔ پس اللہ نے اس دن اپنا امر دین کامل اور مکمل کردیا اور ہم نے بھی جان لیا کہ اس (دن ) کے بعد (دین کا) معاملہ کمی ہی کا شکار وگا۔ ابن راھویہ، عبد بن حمید۔

فائدہ : ۔۔ عرفہ کا دن ہمارے لیے بڑی عید کا پیش خیمہ ہے اور اسی دن جمعہ کا دن تھا جو تخلیق میں سب سے اول دن ہے اور فضیلت میں تمام دنوں کا سردار ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس کے بعد دین کمی کا شکار وگا۔ کیونکہ ہر شے تکمیل کے بعد فورا زوال کی طرف دوڑنا شروع ہوجاتی ہے جس طرح چاند چودھویں رات کو مکمل ہوتے ہی گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ اور آج تک دین میں کس قدر کمی واقع ہوچکی ہوگی ۔ اللھم احفظنا فی دیننا۔
4351 - عن أبي العالية قال: "كانوا عند عمر بن الخطاب فذكروا هذه الآية: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} فقال رجل من اليهود: لو علمنا أي يوم نزلت هذه الآية لاتخذناه عيدا، فقال عمر: الحمد لله الذي جعله لنا عيدا واليوم الأول، نزلت يوم عرفة واليوم الثاني يوم النحر فأكمل الله ذلك الأمر، فعرفنا أن الأمر بعد ذلك في انتقاص". "ابن راهويه وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক: