কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৩১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنیوں کی کھالیں تبدیل ہوں گی۔
4312: ۔۔ مسروق (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے (بارگاہ رسالت مین) عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ آیت کس قدر سخت ہے ؟ من یعمل سوءا یجز بہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر دنیا کے مصائب، امراض اور رنج و غم یہ گناہوں کی جزاء ہیں۔ (السنن لسعید بن منصور، ھناد، ابن جریر، ابوداود، حلیۃ الاولیاء، ابو مطیع فی امالیہ)
4312 - عن مسروق قال قال أبو بكر يا رسول الله ما أشد هذه الآية {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "يا أبا بكر المصائب والأمراض والأحزان في الدنيا جزاء". "ص وهناد وابن جرير د حل وأبو مطيع في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنیوں کی کھالیں تبدیل ہوں گی۔
4313: ۔۔ (مسند عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس یہ آیت تلاوت کی گئی :
کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا۔
جب بھی ان کی کھالیں پک (کر گل سڑ) جائیں گی، ہم دوسری کھالیں ان کو بدل دیں گے۔ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر گھڑی میں سو مرتبہ ان کی کھالیں بدلی جائیں گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یونہی سنا ہے۔ (ابن ابی حاتم، الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ)
مسند حدیث ضعیف ہے۔
کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا۔
جب بھی ان کی کھالیں پک (کر گل سڑ) جائیں گی، ہم دوسری کھالیں ان کو بدل دیں گے۔ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر گھڑی میں سو مرتبہ ان کی کھالیں بدلی جائیں گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یونہی سنا ہے۔ (ابن ابی حاتم، الاوسط للطبرانی، ابن مردویہ)
مسند حدیث ضعیف ہے۔
4313 - "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر قال: "قرئ عند عمر {كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا} فقال معاذ: "عندي تفسيرها تبدل في ساعة مائة مرة، فقال عمر: هكذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن أبي حاتم" "طس وابن مردويه" بسند ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنیوں کی کھالیں تبدیل ہوں گی۔
4314: ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر (رض) کے پاس یہ آیت تلاوت کی :
کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا۔
حضرت کعب (رض) نے فرمایا : مجھے اس کی تفسیر معلوم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے کعب ! وہ تفسیر بیان کرو۔ اگر وہ تفسیر ہماری حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی گئی تفسیر کے مطابق ہوئی تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے۔ چنانچہ حضرت کعب (رض) نے عرض کیا : ہر گھڑی میں جہنمی کی کھال ایک سو بیس مرتبہ تبدیل کی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یونہی سنا ہے۔ (رواہ ابن مردویہ)
کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا۔
حضرت کعب (رض) نے فرمایا : مجھے اس کی تفسیر معلوم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے کعب ! وہ تفسیر بیان کرو۔ اگر وہ تفسیر ہماری حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی گئی تفسیر کے مطابق ہوئی تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے۔ چنانچہ حضرت کعب (رض) نے عرض کیا : ہر گھڑی میں جہنمی کی کھال ایک سو بیس مرتبہ تبدیل کی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یونہی سنا ہے۔ (رواہ ابن مردویہ)
4314 - عن ابن عمر قال: "تلا رجل عند عمر: {كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا} فقال كعب: عندي تفسير هذه الآية فقال عمر: هاتها يا كعب، فإن جئت بها كما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقناك، قال: "تبدل في الساعة الواحدة عشرين ومائة مرة فقال عمر: هكذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنیوں کی کھالیں تبدیل ہوں گی۔
4315: ۔۔ محمد بن المنتشر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کہا : میں کتاب اللہ کی سخت ترین آیت کو جانتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) (مارے تعجب کے) اس کو مارنے کے لیے لپکے۔ اس شخص نے عرض کیا۔ آپ کو کیا ہوا ! میں نے اس آیت کے بارے میں کھود کرید کی تو معلوم کرلیا۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں وہاں سے چلا آیا۔ جب اگلا دن ہوا تو حضرت عمر (رض) نے اسی شخص سے پوچھا : بتاؤ وہ کون سی آیت ہے جس کا تم گزشتہ روز ذکر کر رہے تھے ؟ اس شخص نے عرض کیا :
من یعمل سوءا یجز بہ۔
جس نے برا عمل کیا اس کو اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ پھر اس شخص نے عرض کیا : پس ہم میں سے جو بھی برا عمل کرے گا اس کو اس کی سزا ضرور ملے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو ہمارا یہ حال ہوگیا تھا کہ ہمیں نہ کھانا کچھ فائدہ دیتا تھا اور نہ پینا۔ حتی کہ اللہ پاک نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی اور نرمی پیدا کی :
و من یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔
جس نے برا عمل کیا یا اپنی جان پر کوئی عمل کیا پھر اللہ سے مغفرت مانگی تو وہ اللہ کو مغفرت کرنے والا (اور) مہربان پائے گا۔ (ابن راہویہ)
من یعمل سوءا یجز بہ۔
جس نے برا عمل کیا اس کو اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ پھر اس شخص نے عرض کیا : پس ہم میں سے جو بھی برا عمل کرے گا اس کو اس کی سزا ضرور ملے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو ہمارا یہ حال ہوگیا تھا کہ ہمیں نہ کھانا کچھ فائدہ دیتا تھا اور نہ پینا۔ حتی کہ اللہ پاک نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی اور نرمی پیدا کی :
و من یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔
جس نے برا عمل کیا یا اپنی جان پر کوئی عمل کیا پھر اللہ سے مغفرت مانگی تو وہ اللہ کو مغفرت کرنے والا (اور) مہربان پائے گا۔ (ابن راہویہ)
4315 - عن محمد بن المنتشر قال قال رجل لعمر بن الخطاب: إني لأعرف أشد آية في كتاب الله تعالى، فأهوى عمر فضربه بالدرة فقال مالك؟ نقبت عنها حتى علمتها، فانصرفت حتى كان الغد، فقال له عمر الآية التي ذكرت بالأمس، فقال: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} فما منا أحد يعمل سوءا إلا جزي به، فقال عمر: لبثنا حين نزلت ما ينفعنا طعام ولا شراب حتى أنزل الله بعد ذلك، ورخص وقال: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحِيماً} . "ابن راهويه"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت کی ادائیگی
4316:۔۔ ان اللہ یامرکم ان تودوا الامانات الی اھلیھا۔
ترجمہ : ۔۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے اہل کو ادا کردو۔
ابن جریح (رح) سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ کی چابی لے لی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور جب واپس لوٹے تو نکلتے ہوئے مذکورہ آیت تلاوت فرما رہے تھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو چابی واپس کردی۔ (اور پھر اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے) ۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کعبۃ اللہ سے نکل رہے تھے اسی وقت آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تھی اس سے پہلے ہم نے یہ آیت آپ سے نہیں سنی تھی۔ ابن جریر، ابن المنذر۔
ترجمہ : ۔۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے اہل کو ادا کردو۔
ابن جریح (رح) سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ کی چابی لے لی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور جب واپس لوٹے تو نکلتے ہوئے مذکورہ آیت تلاوت فرما رہے تھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو چابی واپس کردی۔ (اور پھر اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے) ۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کعبۃ اللہ سے نکل رہے تھے اسی وقت آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تھی اس سے پہلے ہم نے یہ آیت آپ سے نہیں سنی تھی۔ ابن جریر، ابن المنذر۔
4316 - عن ابن جريج في قوله تعالى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} قال: "نزلت في عثمان بن طلحة قبض منه النبي صلى الله عليه وسلم مفتاح الكعبة، ودخل به البيت يوم الفتح، فخرج وهو يتلو هذه الآية فدعا عثمان، فدفع إليه المفتاح، قال وقال عمر بن الخطاب لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكعبة وهو يتلو هذه الآية، فداه أبي وأمي، ما سمعته يتلوها قبل ذلك" "ابن جرير وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت کی ادائیگی
4317: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے فرمان باری تعالیٰ : کتاب اللہ علیکم۔ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چار ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : ۔۔ فرمان ایزدی ہے۔
والمحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم و احل لکم ماوراء ذلکم ۔۔ الخ
اور خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ۔ حکم ہے اللہ کا تم پر اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سوا۔ پیچھے سے ان عورتوں کا بیان ہورہا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ لہٰذا جو عورتیں دوسرے مردوں کے نکاح میں ہیں ان کے ساتھ نکاح کرنا بھی قطعا حرام ہے۔ مگر جو باندیاں ملکیت میں آجائیں ان کی الگ شرائط ہیں اس کا تعلق والمحصنت سے نہیں ہے کہ دوسرے خاوند والی تمہاری ملکیت کی باندی تمہارے لیے بلکہ یہ مطلقا حلال عورتوں کا بیان ہے۔ حضرت عمر (رض) کا فرمان وہ چار ہیں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو فرمایا ہے : " اور حلال ہیں تم پر سب عورتیں ان کے سوا " اس کی تشریح مقصود ہے یعنی ان سب عورتوں میں سے چار آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو اور تمہاری مملوکہ باندیاں بغیر نکاح و بغیر و تعداد کے ان کے علاوہ ہیں۔
فائدہ : ۔۔ فرمان ایزدی ہے۔
والمحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم و احل لکم ماوراء ذلکم ۔۔ الخ
اور خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ۔ حکم ہے اللہ کا تم پر اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سوا۔ پیچھے سے ان عورتوں کا بیان ہورہا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ لہٰذا جو عورتیں دوسرے مردوں کے نکاح میں ہیں ان کے ساتھ نکاح کرنا بھی قطعا حرام ہے۔ مگر جو باندیاں ملکیت میں آجائیں ان کی الگ شرائط ہیں اس کا تعلق والمحصنت سے نہیں ہے کہ دوسرے خاوند والی تمہاری ملکیت کی باندی تمہارے لیے بلکہ یہ مطلقا حلال عورتوں کا بیان ہے۔ حضرت عمر (رض) کا فرمان وہ چار ہیں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو فرمایا ہے : " اور حلال ہیں تم پر سب عورتیں ان کے سوا " اس کی تشریح مقصود ہے یعنی ان سب عورتوں میں سے چار آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو اور تمہاری مملوکہ باندیاں بغیر نکاح و بغیر و تعداد کے ان کے علاوہ ہیں۔
4317 - عن عمر في قوله تعالى: {كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ} قال: الأربع "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت کی ادائیگی
4318: ۔۔ عمر بن خطاب (رض) کے غلام نجدہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) مدینہ کے بازار میں تھے۔ آپ (رض) نے سر جھکا کر ایک کھجور کا حصہ اٹھایا اور اس کو مٹی سے صاف کیا۔ پھر ایک حبشی کے مشکیزے کے قریب سے گذر ہوا تو اس کو فرمایا : یہ لے منہ میں ڈال لے۔ حضرت ابوذر (رض) (جو قریب ہی موجود تھے) بولے : امیر المومنین یہ کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : (کھجور کا) تھوڑا سا ٹکڑا ہے یا ذرہ ہے، حضرت ابو ذر (رض) نے عرض کیا : نہیں، یہ ذرہ سے زیادہ بڑا ٹکڑا ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اس سے مجھے سورة نساء میں مذکور فرمان الہی خوب سمجھ آگیا :
ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ، و ان تک حسنۃ یضاعفہا ویوت من لدنہ اجرا عظیما۔
بےشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دو گنا کردیتا ہے۔ اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب۔
کہ نیکی ایک ذرہ بھر ہوتی ہے لیکن اللہ پاک اس کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر اجر عظیم بنا دیتا ہے۔
ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ، و ان تک حسنۃ یضاعفہا ویوت من لدنہ اجرا عظیما۔
بےشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دو گنا کردیتا ہے۔ اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب۔
کہ نیکی ایک ذرہ بھر ہوتی ہے لیکن اللہ پاک اس کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر اجر عظیم بنا دیتا ہے۔
4318 - عن نجدة مولى عمر بن الخطاب "أن عمر كان في سوق المدينة يوما، فطأطأ رأسه، فأخذ شق تمرة، فمسحها من التراب، ثم مر أسود عليه قربة فمشى إليه عمر وقال اطرح هذه في فيك، فقال له أبو ذر ما هذه يا أمير المؤمنين؟ قال: هذه أثقل أو ذرة؟ قال لا بل هي أثقل من ذرة، قال فهمت ما أنزل الله في سورة النساء؟ {إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً} كان بدء الأمر مثقال ذرة، وكان عاقبته أجرا عظيما". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت کی ادائیگی
4319: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء
بےشک اللہ مغفرت نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور مغفرت کردے گا اس کے سوا جس کی چہاے۔ (الفریابی، مستدرک الحاکم، ترمذی حسن غریب ابن ابی الدنیا فی حسن الظن باللہ تعالیٰ)
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء
بےشک اللہ مغفرت نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور مغفرت کردے گا اس کے سوا جس کی چہاے۔ (الفریابی، مستدرک الحاکم، ترمذی حسن غریب ابن ابی الدنیا فی حسن الظن باللہ تعالیٰ)
4319 - عن علي قال: "ما في القرآن آية أحب إلي من هذه الآية {إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} . "الفرياني1 ك ت وقال حسن غريب، وابن أبي الدنيا في حسن الظن بالله تعالى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4320: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا اور ہم کو دعوت پر بلایا۔ دعوت میں ہمیں شراب بھی پلائی (ابھی تک حرمت شراب کا حکم نازل نہ ہوا تھا) چنانچہ شراب میں ہم نے اپنا اثر دکھایا۔ اور نماز کا وقت بھی ہوگیا۔ امامت کے لیے حاضرین نے مجھے آگے کردیا۔ میں نے قراءت میں یوں پڑھا :
قل یا ایہا الکفرون لا اعبد ما تعبدون و نحن نعبد ما تعبدون۔
جبکہ اصل میں یہ نہیں ہے جس کا معنی ہے اور ہم عبادت کرتے ہیں ان بتوں کی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا :
یا ایہا الذین آمنوا لاتقربوا الصلوہ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون۔ سورة النساء۔
اے ایمان والو ! نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم مدہوش ہو حتی کہ تم جان لو جو تم کہہ رہے ہو۔ (عبد بن حمید، ابو داود، ترمذی حسن صحیح غریب، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
قل یا ایہا الکفرون لا اعبد ما تعبدون و نحن نعبد ما تعبدون۔
جبکہ اصل میں یہ نہیں ہے جس کا معنی ہے اور ہم عبادت کرتے ہیں ان بتوں کی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا :
یا ایہا الذین آمنوا لاتقربوا الصلوہ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون۔ سورة النساء۔
اے ایمان والو ! نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم مدہوش ہو حتی کہ تم جان لو جو تم کہہ رہے ہو۔ (عبد بن حمید، ابو داود، ترمذی حسن صحیح غریب، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
4320 - عن علي قال: صنع لنا عبد الرحمن بن عوف طعاما فدعانا، وسقانا من الخمر، فأخذ الخمر منا، وحضرت الصلاة، فقدموني فقرأت: قل يا أيها الكافرون، لا أعبد ما تعبدون، ونحن نعبد ما تعبدون، فأنزل الله: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} . "عبد بن حميد د ت وقال حسن صحيح غريب ن وابن جرير ابن المنذر وابن أبي حاتم ك ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4321: ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں :
بالجبت والطاغوت۔ سورة النساء۔
میں جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ (الفریابی، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم ورستہ)
بالجبت والطاغوت۔ سورة النساء۔
میں جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ (الفریابی، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم ورستہ)
4321 - عن عمر في قوله تعالى: {بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ} قال: "الجبت السحر، والطاغوت الشيطان".
"الفرياني ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ورسته".
"الفرياني ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ورسته".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4322: ابن سمعانی ذیل میں فرماتے ہیں ہمیں ابوبکر ہبۃ اللہ بن الفرج، ابو القاسم یوسف بن محمد بن یوسف الخطیب، ابو القاسم عبد الرحمن بن عمرو بن تمیم مودب، علی بن ابراہیم بن علان، علی بن محمد بن علی، احمد بن الہیثم الطائی، حدثنا ابی عن ابیہ ، عن مسلم بن کہیل عن ابی صادق عن علی بن ابی طالب کی سند سے روایت پہنچی ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے تین یوم بعد جب آپ کے جسم اطہر کو دفن کرچکے تو ایک دیہاتی آیا اور آتے ہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر سے لپٹ گیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ نے کہا، ہم نے سنا۔ آپ نے اللہ سے لیا، ہم نے آپ سے لیا اور یہ بھی اسی میں سے ہے جو اللہ نے آپ پہ نازل فرمایا :
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔۔ النساء : 64
اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول خدا بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے۔ اور میں نے بھی اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لیے اللہ سے مغفرت مانگیں۔ چنانچہ قبر سے آواز آئی : تیری مغفرت کردی گئی۔
کلام : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ " المغنی " میں الہیثم بن عدی الطائی کو متروک کیا گیا ہے۔ جس کی بناء پر روایت محل کلام ہے۔ (کنز العمال ج 2 ص 386)
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے تین یوم بعد جب آپ کے جسم اطہر کو دفن کرچکے تو ایک دیہاتی آیا اور آتے ہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر سے لپٹ گیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ نے کہا، ہم نے سنا۔ آپ نے اللہ سے لیا، ہم نے آپ سے لیا اور یہ بھی اسی میں سے ہے جو اللہ نے آپ پہ نازل فرمایا :
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔۔ النساء : 64
اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول خدا بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے۔ اور میں نے بھی اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لیے اللہ سے مغفرت مانگیں۔ چنانچہ قبر سے آواز آئی : تیری مغفرت کردی گئی۔
کلام : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ " المغنی " میں الہیثم بن عدی الطائی کو متروک کیا گیا ہے۔ جس کی بناء پر روایت محل کلام ہے۔ (کنز العمال ج 2 ص 386)
4322 - قال ابن السمعاني في الذيل: أنا أبو بكر هبة الله بن الفرج أنا أبو القاسم يوسف بن محمد بن يوسف الخطيب، أنا أبو القاسم عبد الرحمن ابن عمرو بن تميم المؤدب، ثنا علي بن إبراهيم بن علان، أنا علي بن محمد بن علي، ثنا أحمد بن الهيثم الطائي، حدثنا أبي عن أبيه عن سلمة ابن كهيل عن أبي صادق عن علي بن أبي طالب قال: "قدم علينا أعرابي بعدما دفنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام، فرمى بنفسه على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، وحثا من ترابه على رأسه، وقال: يا رسول الله قلت فسمعنا قولك، ووعيت عن الله، فوعينا عنك، وكان فيما أنزل الله عليك: {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً} ، وقد ظلمت نفسي وجئتك تستغفر لي فنودي من القبر: أنه قد غفر لك، "قال في المغني: الهيثم بن عدي الطائي متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4323: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری (صحابی) نے ان کی اور حضرت عبدالرحمن عوف کی دعوت کی۔ دعوت میں شراب بھی پلائی۔ ابھی تک شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو حضرت علی (رض) نے امامت کرائی اور نماز میں قل یا ایہا الکفرون سورت تلاوت کی (اور شراب کی مدہوشی کی وجہ سے کچھ کا کچھ پڑھا) چنانچہ اس پر قرآن نازل ہوا :
یا ایہا الذین آمنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون۔ النساء : 43 ۔
مومنو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے نہ لگو نماز کے پاس نہ جاؤ۔
یا ایہا الذین آمنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون۔ النساء : 43 ۔
مومنو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے نہ لگو نماز کے پاس نہ جاؤ۔
4323 - عن علي أن رجلا من الأنصار دعاه وعبد الرحمن بن عوف فسقاهما قبل أن يحرم الخمر، فأمهم علي في المغرب، وقرأ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} فنزل قوله تعالى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} . "مسدد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4324: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا " فاذا احصن " عورت کا احصان اس کا اسلام ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ان کو کوڑے مارے جائیں۔ ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ سورة النساء آیت 25 میں لونڈی کے ساتھ نکاح کے احکام کا بیان ہے جس میں فاذا احصن کے ساتھ یہ حکم بیان ہوا ہے کہ اگر وہ نکاح کے بعد بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو آزاد کے مقابلے میں غلام اور باندی کی نصف سزا ہے۔
پھر حدیث میں احصان سے اسلام مراد بتا کر یہ بیان فرمایا کہ نکاح ہو یا نہ ہو لیکن مسلمان ہو تو غلام اور باندی پر نصف سزا ہے۔ اور وہ پچاس کوڑے ہیں۔ اس صورت میں فاذا احصن سے حصن اسلام میں داخل ہونا مراد ہوگا اور حدیث و قرآن میں تعارض نہ ہوگا۔ (کنز العمال عربی ج 2 ص 387)
کلام : حدیث منکر ہے۔
فائدہ : ۔۔ سورة النساء آیت 25 میں لونڈی کے ساتھ نکاح کے احکام کا بیان ہے جس میں فاذا احصن کے ساتھ یہ حکم بیان ہوا ہے کہ اگر وہ نکاح کے بعد بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو آزاد کے مقابلے میں غلام اور باندی کی نصف سزا ہے۔
پھر حدیث میں احصان سے اسلام مراد بتا کر یہ بیان فرمایا کہ نکاح ہو یا نہ ہو لیکن مسلمان ہو تو غلام اور باندی پر نصف سزا ہے۔ اور وہ پچاس کوڑے ہیں۔ اس صورت میں فاذا احصن سے حصن اسلام میں داخل ہونا مراد ہوگا اور حدیث و قرآن میں تعارض نہ ہوگا۔ (کنز العمال عربی ج 2 ص 387)
کلام : حدیث منکر ہے۔
4324 - عن علي قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله: {فَإِذَا أُحْصِنَّ} قال إحصانها إسلامها، وقال علي: اجلدوهن". ى"ابن أبي حاتم" وقال حديث منكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4325: حضرت علی (رض) سے اکبر الکبائر (سب سے بڑا گناہ ) کے متعلق سوال کیا گیا۔ فرمایا : اللہ کے مکر (عذاب) سے بےخوف ہوجانا، روح اللہ (اللہ کی مہربانی) سے مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ابن المنذر۔
4325 - عن علي: أنه سئل ما أكبر الكبائر؟ قال: "الأمن من مكر الله، والإياس: من روح الله، والقنوط: من رحمة الله". "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4326: ۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کبیرہ (بڑے) گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، (ناحق) قتل کرنا، مال یتیم کھانا، پاکدامن کو تہمت لگانا، جنگ (اسلامی لڑائی سے بھاگنا ، ہجرت کے بعد مدینہ چھوڑنا، جادو کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت اسلام میں پھوٹ ڈالنا اور امام وقت کی بیعت توڑنا۔ ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ ہجرت کے بعد مدینہ چھوڑنا ، جس وقت اسلام کے شروع میں ہجرت فرض تھی۔ اس وقت اگر کوئی مدینہ ہجرت کرنے کے بعد واپس اپنے گاؤں دیہات میں سکونت اختیار کرلیتا تو یہ واقعی کبیرہ گناہ تھا۔ لیکن جب آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی تو یہ بھی گناہ کبیرہ نہ رہا۔
فائدہ : ۔۔ ہجرت کے بعد مدینہ چھوڑنا ، جس وقت اسلام کے شروع میں ہجرت فرض تھی۔ اس وقت اگر کوئی مدینہ ہجرت کرنے کے بعد واپس اپنے گاؤں دیہات میں سکونت اختیار کرلیتا تو یہ واقعی کبیرہ گناہ تھا۔ لیکن جب آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی تو یہ بھی گناہ کبیرہ نہ رہا۔
4326 - عن علي: "الكبائر الشرك بالله، وقتل النفس، وأكل مال اليتيم، وقذف المحصنة، والفرار من الزحف، والتعرب1 بعد الهجرة، والسحر، وعقوق الوالدين، وأكل الربا، وفراق الجماعة2 ونكث الصفقة3 "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے اثرات
4327: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ایک انصاری شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت کو لے کر آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کے فلاں ابن فلاں انصاری شوہر نے اس کو اس قدر مارا ہے کہ اس کا اثر اس کے چہرے میں نمایاں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ لیکن اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض۔ النساء : 32
مرد عورتوں پر مسلط اور حاکم ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
یعنی مرد ادب سکھانے کے لیے عورتوں پر اپنا حق رکھتے ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (مردوں کو عورتوں کے مارنے سے متعلق) ایک حکم کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ پاک نے کچھ اور ارادہ فرما لیا۔ رواہ ابن مردویہ۔
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض۔ النساء : 32
مرد عورتوں پر مسلط اور حاکم ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
یعنی مرد ادب سکھانے کے لیے عورتوں پر اپنا حق رکھتے ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (مردوں کو عورتوں کے مارنے سے متعلق) ایک حکم کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ پاک نے کچھ اور ارادہ فرما لیا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4327 - عن علي قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل من الأنصار بامرأة له، فقالت يا رسول الله: أن زوجها فلان ابن فلان الأنصاري، وإنه ضربها فأثر في وجهها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس له ذلك، فأنزل الله: {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ} أي قوامون على النساء في الأدب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أردت أمرا، وأراد الله غيره". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4328: عبیدۃ سلمانی سے مروی ہے کہ ایک مرد اور اس کی بیوی (امیر المومنین) حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک کے ساتھ (ان کی اپنی اپنی برادری) کے کچھ لوگ تھے۔ حضرت علی (رض) نے ان کو سامنے آنے کا حکم سنایا۔ دونوں گروہوں نے اپنے میں سے ایک ایک ثالث آگے کردیا۔ آپ (رض) نے دونوں کو فرمایا : تم جانتے ہو تم پر کیا چیز لازم ہے ؟ تم پر یہ لازم ہے کہ اگر تم سمجھو کہ وہ دونوں اکٹھے ہوسکتے ہیں تو ان کو اکٹھا کردو۔ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ ان کے حق میں جدائی بہتر ہے تو جدائی کرا دو ۔ چنانچہ عورت نے کہا : میں اللہ کی کتاب پر راضی ہوں جو بھی فیصلہ کرے خواہ میرے خلاف ہو یا میرے حق میں میں اس کے حق میں ہوں۔ جبکہ مرد بولا : جدائی تو مجھے منظور نہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : تو غلط بولتا ہے۔ اللہ کی قسم تجھے بھی اس عورت کی طرح اقرار کرنا ہوگا (کہ مجھے ہر صورت میں اللہ کا حکم منظور ہے) ۔ (الشافعی، عبدا لرزاق، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، شعب الایمان للبیہقی)
فائدہ :۔۔ فرمان الہی ہے :
فلا وربک حتی یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما۔ سورة النساء۔
قسم ہے تیرے رب کی ! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل تنگ نہ کریں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہ ہوں گے۔
اسی آیت بالا کی تشریح میں حضرت علی (رض) نے مرد کو یہ حکم فرمایا۔ اور جو حکم حضرت علی (رض) نے فرمایا اسی کا خدا نے حکم فرمایا ہے کہ میاں بیوی میں تنازعہ بڑھ جائے تو دونوں اپنی اپنی طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کردیں اور وہ جو بہتر سمجھیں فیصلہ کردیں۔
فائدہ :۔۔ فرمان الہی ہے :
فلا وربک حتی یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما۔ سورة النساء۔
قسم ہے تیرے رب کی ! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل تنگ نہ کریں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہ ہوں گے۔
اسی آیت بالا کی تشریح میں حضرت علی (رض) نے مرد کو یہ حکم فرمایا۔ اور جو حکم حضرت علی (رض) نے فرمایا اسی کا خدا نے حکم فرمایا ہے کہ میاں بیوی میں تنازعہ بڑھ جائے تو دونوں اپنی اپنی طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کردیں اور وہ جو بہتر سمجھیں فیصلہ کردیں۔
4328 - عن عبيدة السلماني قال: "جاء رجل وامرأته إلى علي ومع كل واحد منهما فئام من الناس، فأمرهم علي، فبعثوا حكما من أهله، وحكما من أهلها، ثم قال للحكمين: تدريان ما عليكما؟ عليكما إن رأيتما أن تجمعا أن تجمعا، وإن رأيتما أن تفرقا أن تفرقا، قالت المرأة رضيت بكتاب الله بما علي فيه ولي، وقال الرجل أما الفرقة فلا، فقال علي: كذبت، والله حتى تقر بمثل ما أقرت به". "الشافعي عب ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4329: محمد بن کعب قرضی ط (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) دو حکم (ثالث) مقرر فرما دیتے تھے : ایک مرد کی طرف سے اور دوسرا عورت کی طرف سے۔ عورت کا ثالث (نمائند) مرد کو کہتا : اے فلاں ! تجھے اپنی بیوی میں کیا برائی نظر آئی ہے ؟ مرد کہتا : مجھے اس سے یہ یہ شکایت ہے۔ عورت کا نمائندہ اسے کہتا : کیا خیال ہے اگر وہ ان برائیوں سے دور ہوجائے اور تیری مرضی کے مطابق چلے کیا تو اس کے بارے میں اللہ سے ڈرے گا اور اس کا حق جو تجھ پر لازم ہے : نان نفقے اور لباس کے بارے میں پورا ادا کرے گا ؟ پس وہ مرد کہتا : ہاں۔ تب پھر مرد کا نمائندہ عورت سے بات کرتا : اے فلانی ! تجھے اپنے شوہر میں کیا عیب دیکھا ؟ وہ کہتی مجھے اس سے یہ شکایت ہے۔ چنانچہ مرد کا نمائندہ بھی عورت کے نمائندے کی طرح پوچھ گچھ کرتا اور عورت اس پر رضا مند ہوجاتی تو دونوں نمائندے دونوں کو اکٹھا کردیتے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : دونوں نمائندے میاں بیوی کو اکٹھا کرسکتے ہیں اور دونوں جدا کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : دونوں نمائندے میاں بیوی کو اکٹھا کرسکتے ہیں اور دونوں جدا کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
4329 - عن محمد بن كعب القرظي1 قال: "كان علي بن أبي طالب يبعث الحكمين، حكما من أهله، وحكما من أهلها، فيقول الحكم من أهلها: يا فلان ما تنقم من زوجتك؟ فيقول أنقم منها كذا وكذا فيقول: أرأيت إن نزعت عما تكره إلى ما تحب هل أنت متق الله فيها؟ ومعاشرها بالذي يحق عليك في نفقتها وكسوتها؟ فإذا قال نعم قال الحكم من أهله: يا فلانة ما تنقمين من زوجك؟ فتقول مثل ذلك فإن قالت نعم جمع بينهما، قال وقال: الحكمان بهما يجمع الله وبهما يفرق". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4330: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اگر ایک نمائندہ ایک فیصلہ کردے لیکن دوسرا وہ فیصلہ نہ کرے تو پہلے کا حکم بھی کالعدم ہوگا حتی کہ دونوں کسی بات پر متفق ہوجائیں۔ السنن للبیہقی۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکما من اھلہ و حکما من اھلھا ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینہما ان اللہ کان علیما خبیرا۔ النساء : 36 ۔
اور حسن سلوک کرو پہلو کے پڑوسی کے ساتھ اس سے مراد بیوی ہے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکما من اھلہ و حکما من اھلھا ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینہما ان اللہ کان علیما خبیرا۔ النساء : 36 ۔
اور حسن سلوک کرو پہلو کے پڑوسی کے ساتھ اس سے مراد بیوی ہے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی۔
4330 - عن علي قال: "إذا حكم أحد الحكمين ولم يحكم الآخر فليس حكمه بشيء حتى يجتمعا". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حَکَم مقرر کرنے کا حکم
4331: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں :
والصاحب بالجنب۔ النساء : 36
اور حسن سلوک کرو پہلو کے بڑوسی کے ساتھ اس سے مراد بیوی ہے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی۔
والصاحب بالجنب۔ النساء : 36
اور حسن سلوک کرو پہلو کے بڑوسی کے ساتھ اس سے مراد بیوی ہے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی۔
4331 - عن علي في قوله تعالى: {وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ} قال: "المرأة" "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم ق".
তাহকীক: