কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪২৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4292: سدی (رح) کو حضرت عمر (رض) سے نقل کرنے والے کسی شخص نے بیان کیا کہ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔ یہ فضیلت ہمارے پہلے لوگوں کے لیے نہ کہ آخر والوں کے لیے۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
4292 - عن السدي عمن حدثه عن عمر في قوله تعالى: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} الآية قال "يكون لأولنا ولا يكون لآخرنا". "ابن جرير وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4293: قتادہ (رح) فرماتے ہیں : ہم سے ذکر کیا گیا کہ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت پڑھی :

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔

پھر فرمایا : اے لوگو ! جس کی خواہش ہو کہ اس (آیت میں جس امت کی تعریف بیان کی گئی) اس امت میں سے ہو تو وہ اس میں اللہ کی شرط کو پورا کرے۔ (رواہ ابن جریر)

فائدہ : شرط آیت ہی میں آگے بیان کردی گئی ہے :

تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر وتومنون باللہ۔

تم امر بالمعروف کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔
4293 - عن قتادة قال: "ذكر لنا أن عمر بن الخطاب قرأ هذه الاية: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} الآية، ثم قال: يا أيها الناس من سره أن يكون من تلكم الأمة فليؤد شرط الله فيها". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4294: حضرت عمر (رض) سے کہا گیا کہ وہاں ایک اہل حیرہ کا لڑکا ہے جو حافظ اور کاتب ہے، اگر آپ اس کو اپنا کاتب بنالیں (تو اچھا ہو) آپ (رض) نے فرمایا : تب تو میں مومنوں کے اندرونی کاموں کے لیے کتے کو مقرر کروں گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم)

فائدہ : غالبا وہ شخص اہل ایمان میں سے نہ ہو یا اس کے حالات درست نہ ہوں اس لیے ایسا فرمایا : جس سے ایماندار شخص ہی کو سرکاری کام سپرد کرنے کا حکم نکلتا ہے۔
4294 - عن عمر أنه قيل له أن هنا غلاما من أهل الحيرة حافظاكاتبا فلو اتخذته كاتبا، قال: "قد اتخذت إذا كلبا بطانة من دون المؤمنين". "ش وعبد بن حميد وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4295: سیار ابو الحکم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ہے :

زین للناس حب الشھوات۔ آل عمران۔

خواہشات (کی چیزوں) کی محبت لوگوں کے لیے مزین کردی گئی۔ (ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم)

پھر فرمایا : اے پروردگار ! اب جبکہ آپ نے خواہشات کو دلوں میں رکھ دیا۔

فائدہ : یعنی آپ نے خواہشات کی محبت دلوں میں رکھ کر ان سے منع فرمایا ہے۔ بیشک ان (ناجائز) خواہشات سے وہی شخص رک سکتا ہے جو واقعۃ اللہ سے ڈرتا ہو۔

ہر نبی سے نبی آخر الزماں کی مدد کا عہد لیا
4295 - عن سيار أبي الحكم أن عمر بن الخطاب قرأ: {زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ} الآية، ثم قال: "الآن يا رب وقد زينتها في القلوب". "ش وعبد بن حميد وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4296: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اللہ نے جب بھی آدم (علیہ السلام) یا آپ کے بعد جس کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا اس سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ وعدہ ضرور لیا کہ اگر وہ تمہاری زندگی میں آگئے تو تم ان پر ایمان ضرور لاؤگے اور ضرور ان کی مدد کروگے۔ نیز اپنی قوم سے بھی یہی عہد لو۔ پھر آپ (رض) نے آل عمران کی یہ آیات تلاوت فرمائیں :

و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ سے الفاسقون تک۔ آل عمران۔

اور جب اللہ نے نبیوں سے یہ عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمارے پاس کوئی پیغمبروں آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹھہرایا) انھوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا۔ (خدا نے فرمایا) کہ تم (اس عہد و پیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ اس کے بعد جو اس عہد سے پھرجائیں وہی لوگ بدکردار ہیں۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : کہ یہ جو خدا نے فرمایا کہ تم اس عہد کے گواہ رہو اس کا مطلب ہے اپنی اپنی امتوں کے سامنے اس پر گواہ رہو اور ان کو بتاؤ اور خدا پیغمبروں پر اور ان کی امتوں پر گواہ ہے۔ پس اے محمد اس عہد کے بعد تمام امتوں میں سے جو کوئی بھی آپ سے انحراف کرے گا تو یہی لوگ فاسق ہوں گے۔ رواہ ابن جریر۔
4296 - عن علي قال: "لم يبعث الله له نبيا آدم فمن بعده إلا أخذ عليه العهد في محمد صلى الله عليه وسلم، لئن بعث وهو حي ليؤمنن به ولينصرنه ويأمره فيأخذ العهد على قومه ثم تلا: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ} الآية، إلى قوله: {قَالَ فَاشْهَدُوا} يقول فاشهدوا على أممكم بذلك {وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ} عليكم وعليهم {فَمَنْ تَوَلَّى} عنك يا محمد بعد هذا العهد من جميع الأمم {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} هم العاصون في الكفر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4297: شعبی (رح) حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں :

ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا۔ بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکتوں کی جگہ۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس سے پہلے بھی گھر ہوتے تھے لیکن یہ پہلا گھر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ (اس سے پہلے عبادت کے لیے گھر نہ ہوتے تھے) ۔ (ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4297 - عن الشعبي عن علي: في قوله {إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً} قال: "كانت البيوت قبله ولكنه كان أول بيت وضع لعبادة الله". "ابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4298: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں بدر ایک کنواں ہے۔ (جس سے جنگ بدر موسوم ہوئی) ابن المنذر۔
4298 - عن علي قال: "بدر بئر". "ابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4299: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جنگ بدر میں ملائکہ کی نشانی گھوڑوں کے آس پاس اور ان کی دموں کے پاس سفید اون (جیسی کوئی شے) نظر آتی تھی۔ ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
4299 - عن علي قال: "كانت سيما الملائكة يوم بدر الصوف الأبيض في نواحي الخيل وأذنابها". "ابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4300: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : و سیجزی اللہ الشاکرین۔ اور عنریب اللہ شکر گزاروں کو (اچھا) بدلہ دے گا۔ اس سے مراد اپنے دین پر ثابت قدم حضرت ابوبکر (رض) اور ان کے اصحاب ہیں۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ابوبکر (رض) شکر گزاروں کے امیر تھے۔ رواہ ابن جریر۔
4300 - عن علي: في قوله {وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} قال الثابتين على دينهم أبا بكر وأصحابه، فكان علي يقول: "كان أبو بكر أمير الشاكرين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4301: حضرت علی (رض) سے آیت :

یا ایہا الذین آمنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم۔

اے ایمان والو ! اگر تم اطاعت کروگے ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا وہ تم کو ایڑیوں کے بل (کفر میں) لوٹا دیں گے۔

کے بارے میں پوچھا گیا : کیا اس سے مراد (مدینہ) ہجرت کرنے کے بعد اپنے گاؤں واپس چلا جانا ہے ؟ فرمایا : نہیں بلکہ اس سے مراد (جہاد اور دین کے کام کو چھوڑ کر مشغول ہوجانا مراد ہے۔ ابن ابی حاتم۔
4301 - عن علي أنه سئل عن هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} التعرب بعد الهجرة؟ فقال: بل هو الزرع. "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4302: حضرت علی (رض) نے مرتد کے بارے میں فرمایا : میں مرتد سے تین مرتبہ توبہ قبول کرنے کو کہوں گا، پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

ان الذین آمنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم کفروا ثم ازدادوا کفرا۔

بےشک جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر وہ کفر میں زیادہ ہوگئے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو ذر الھروی فی الجامع، السنن لبیہقی)
4302 - عن علي أنه قال: "في المرتد إن كنت لمستتيبه ثلاثا ثم قرأ هذه الآية: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْراً} . "ابن جرير وابن أبي حاتم وأبو ذر الهروي في الجامع ق". وسيأتي برقم/4335/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4303: بنی قصی کے موذن عثمان سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں سال بھر حضرت علی (رض) کی خدمت میں رہا۔ میں نے کبھی آپ سے برأت یا ولایت کی بات نہیں سنی، مگر یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا آپ نے فرمایا : مجھے فلاں اور فلاں شخصوں سے کون دور رکھے گا، ان دونوں نے میری خوشی کے ساتھ بیعت کی، بغیر کسی زور زبردستی کے پھر میری بیعت توڑ دی بغیر مریری طرف سے کوئی بات پیدا ہونے کے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! آج کے بعد اس ایت والوں کے ساتھ بھی قتال نہ ہوگا (اگر ان دو کے ساتھ جنگ نہ کی جائے)

وان نکچوا ایمانہم من بعد عہدہم۔

اور اگر وہ اپنے قسموں کو توڑ دیں اپنے عہد و پیمان کے بعد۔ ابو الحسن البکائی۔
4303 - عن عثمان مؤذن بني قصي قال: صحبت عليا سنة كلها ما سمعت منه براءة ولا ولاية، إلا إني سمعته يقول: "من يعذرني من فلان وفلان؟ فإنهما بايعاني طائعين غير مكرهين، ثم نكثا بيعتي، من غير حدث أحدثته، ثم قال: والله ما قوتل أهل هذه الآية بعد {وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ} " الآية.

"أبو الحسن البكالي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4304: ابن عر (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں رکعات میں (رکوع کے بعد جب سر اٹھائے) تو (پہلی رکعت میں) ربنا لک الحمد پڑھا اور دوسری رکعت میں بد دعا :

اللہم العن فلانا و فلانا دعا علی ناس من المنافقین۔

اے اللہ فلاں فلاں منافقوں پر لعنت فرما۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

لیس لک من الامر شئی او یتوب علیہم او یعذبہم فانہم ظالمون۔

آپ کو اس امر (بد دعا) کا حق نہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے بیشک وہ ظالم ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4304 - عن ابن عمر أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم قام من صلاة الفجر حين رفع رأسه من الركعتين، فقال: "ربنا ولك الحمد، وفي الركعة الآخرة قال: اللهم العن فلانا وفلانا دعا على ناس من المنافقين، فأنزل الله: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} . "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة آل عمران
4305: عروہ (رح) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تیرے والد ان لوگوں میں سے تھے :

الذین استجابوا للہ وللرسول من بعد ما اصابہم القرح۔

وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات قبول کی بعد ان کو مصیبت پہنچنے کے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4305 - عن عروة قال: "قالت لي عائشة كان أبوك من الذين استجابوا لله وللرسول من بعد ما أصابهم القرح". "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4306: جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :

تعالوا ندع ابناءنا وابناء کم و نساءنا و نساء کم وانفسنا و انفسکم۔

آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور (تم بلاؤ) تمہارے بیٹوں کو، اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو۔

چنانچہ ابوبکر (رض) اپنے بیٹے کو، حضرت عمر (رض) اپنے بیٹے کو، عثمان (رض) اپنے بیٹے کو اور حضرت علی (رض) اپنے بیٹے کو لائے۔ رواہ ابن عساکر۔

فائدہ : ۔۔ یہ اللہ نے نجران کے نصاری کے ساتھ مباہلہ کا حکم دیا تھا جس میں یہ حضرات شریک ہوئے۔ رواہ ابن عساکر۔
4306 - عن جعفر بن محمد عن أبيه في هذه الآية: {تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ} قال: "فجاء بأبي بكر وولده وبعمر وولده وبعثمان وولده، وبعلي وولده". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4307: ۔۔ (مرسل الشعبی (رح)) شعبی (رح) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران پر (مباہلہ میں) لعنت کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے جزیہ دینا قبول کرلیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس خبر دینے والا اہل نجران کی ہلاکت کی خبر لے آیا تھا اگر ان پر (مباہلہ میں) لعنت پوری ہوجاتی تو وہ اور ان کے ساتھ والے حتی کہ درختوں پر چڑیا اور دیگر پرندے بھی ہلاک ہوجاتے۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خبر کے آنے کے اگلے دن حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کا ہاتھ پکڑ کر چل دیے اور حضرت فاطمہ (رض) بھی پیچھے پیچھے آرہی تھیں۔ السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر۔
4307 - "مرسل الشعبي" عن الشعبي1 قال: "لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلاعن أهل نجران قبلوا الجزية أن يعطوها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد أتاني البشير بهلكة أهل نجران، لو تموا على الملاعنة حتى الطير على الشجر والعصفور على الشجر ولما غدا إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم آخذا بيد حسن وحسين، وكانت فاطمة تمشي خلفه". "ص ش وعبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4308: (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! من یعمل سوءا یجز بہ۔ جس نے برا عمل کیا اس کا اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ اس آیت کے بعد کیسے گناہ سے خلاصی حاصل کی جائے، کیا جو بھی برا عمل سرزد ہوگا اس کی سزا ضرور ملے گی ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تیری مغفرت کرے اے ابوبکر ! کیا تو مریض نہیں ہوتا ؟ کیا تو مشقت میں مبتلا نہیں ہوتا ؟ کیا تو رنجیدہ خاطر نہیں ہوتا ؟ کیا تجھے تکلیف نہیں لاحق ہوتی ؟ کیا تجھے ناموافق حالات نہیں پیش آتے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : کیوں نہیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بس یہی تو دنیا ہی ان گناہوں کا بدلہ ہوجاتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ھناد، عبد بن حمید، الحارث، العدنی، المروزی، فی الجنائز، الحکیم، ابن جریر، ابن المنذر، مسند ابی یعلی، ابن حبان، ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور) ۔
4308 - "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق أنه قال يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} ؟ فكل سوء عملناه جزينا به؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "غفر الله لك يا أبا بكر، ألست تمرض؟ ألست تنصب؟ ألست تحزن؟ ألست تصيبك اللأواء؟ ألست تنكب؟ قال: بلى، قال: فهي ما تجزون به في الدنيا"."ش حم وهناد وعبد بن حميد والحارث والعدني والمروزي في الجنائز والحكيم وابن جرير وابن المنذر ع حب وابن السني في عمل يوم وليلة ك ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4309: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے سنا کہ آپ (رض) نے فرمایا :

من یعمل سوءا یجز بہ، فی الدنیا،

جس نے برا عمل کیا اس کو دنیا ہی میں اس کی سزا دے دی جائے گی۔ (مسند احمد، الحکیم، البزار، ابن جریر، الضعفاء للعقیلی، ابن مردویہ، الخطیب فی المتفق و المفترق)

امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی اسناد درست ہے۔
4309 - عن ابن عمر: سمعت أبا بكر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من يعمل سوءا يجز به في الدنيا". "حم والحكيم والبزار وابن جرير عق وابن مردويه خط في المتفق والمفترق" قال ابن كثير: لا بأس بإسناده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4310:۔۔ ابن عمر (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی :

من یعمل سوءا یجز بہ ولا یجد لہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا۔

جس نے برا عمل کیا اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا اور وہ اللہ سے بچانے والا کوئی ولی اور نہ کوئی مددگار پائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا میں ایک آیت نہ سناؤں جو ابھی مجھ پر نازل ہوئی ہے : میں نے عرض کیا : ضرور یا رسول اللہ ! چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی۔ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : یہ سن کر مجھے اس کے سوا کچھ محسوس نہ ہوا کہ میری کمر ٹوٹ رہی ہے، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر تمہیں کیا ہوا ؟ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، ہم میں سے کسی شخص سے برے عمل نہیں ہوتے ؟ تو کیا ہم کو ہمارے ہر عمل کی سزا ملے گی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم کو اور مومنوں کو ان اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جائے گا حتی کہ تم اللہ سے اس حال میں ملاقات کروگے کہ تمہارے سر پر کوئی گناہ نہ ہوگا اور دوسرے (کافر) لوگوں کے یہ بد اعمال اللہ پاک جمع کرتے رہتے ہیں اور قیامت کے دن ان کو ان اعمال کا بدلہ ملے گا۔ (عبد بن حمید، ترمذی، ابن المنذر)

کلام : امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی سند میں کلام ہے۔ موسیٰ بن عبیدہ کو حدیث میں ضعیف قرار دیا جاتا ہے، مولی بن سباع مجہول ہے، یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی ابوبکر (رض) سے مروی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔
4310 - عن ابن عمر عن أبي بكر قال: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنزلت هذه الآية: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ وَلا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيّاً وَلا نَصِيراً} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر ألا أقرئك آية أنزلت علي؟ قلت بلى يا رسول الله فأقرأنيها، فلا أعلم إلا أني وجدت في ظهري انقصاما، فتمطأت لها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شأنك يا أبا بكر؟ قلت يا رسول الله بأبي وأمي وأينا لم يعمل سوءا؟ وإنا لمجزيون بما عملنا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما أنت يا أبا بكر والمؤمنون فتجزون بذلك في الدنيا، حتى تلقوا الله وليس لكم ذنوب وأما الآخرون فيجمع الله ذلك لهم حتى يجزوا به يوم القيامة". "عبد بن حميد ت وابن المنذر قال ت: غريب وفي إسناده مقال وموسى بن عبيدة يضعف في الحديث ومولى ابن سباع مجهول، وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن أبي بكر وليس له إسناد صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباہلہ کا حکم
4311: حضرت عائشہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت کرتی ہے کہ جب یہ آیت من یعمل سوءا یجز بہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جو بھی عمل ہم سے سرزد ہوگا اس پر ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم کو یہ یہ تکالیف پیش نہیں آتیں ؟ پس یہی تکالیف ان گناہوں کا کفارہ ہیں۔ رواہ ابن جریر۔
4311 - عن عائشة عن أبي بكر قال لما نزلت: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} قلت يا رسول الله كل ما نعمل نؤاخذ به؟ فقال "يا أبا بكر: أليس يصيبك كذا وكذا فهو كفارة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: