কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৭৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13771 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ وہ نبیذ جو حضرت عمر (رض) نوش فرمایا کرتے تھے وہ صبح کو کشمش پانی میں ڈال دی جاتی تھیں اور رات کو آپ نوش فرمالیا کرتے تھے ۔ یا شام کو پانی میں ڈال دی جاتی تھیں اور صبح کو آپ نوش فرما لیا کرتے تھے۔ اور نیچے کی تلچھٹ نکال دیا کرتے تھے۔
ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر، السنن للبیہقی
فائدہ : نیچے کی گاڑھی تلچھٹ خصوصاً نشہ پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے (اس وجہ سے حضرت عمر (رض)) اس کو پھینک دیا کرتے تھے۔
ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر، السنن للبیہقی
فائدہ : نیچے کی گاڑھی تلچھٹ خصوصاً نشہ پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے (اس وجہ سے حضرت عمر (رض)) اس کو پھینک دیا کرتے تھے۔
13771- عن أسلم قال: النبيذ الذي يشرب عمر كان ينقع له الزبيب غدوة فيشربه عشية وينقع له عشية فيشربه غدوة، ولا يجعل فيه دردي "ابن أبي الدنيا في ذم المسكر ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13772 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہم یہ سخت نبیذ اس لیے نوش کرتے ہیں تاکہ ہمارے شکموں میں جو اونٹ کا گوشت ہوتا ہے اس کو یہ نبیذ ہضم کردے ورنہ وہ گوشت ہمارے لیے تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ پس جس کو اپنی شراب میں کچھ شک گزرے وہ اس کو پانی کے ساتھ ملا لے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : شک گزرنے کا مطلب ہے کہیں وہ نشہ آور نہ ہوجائے۔ ایسی صورت میں پانی ملالے اور اس کو رقیق کرلے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : شک گزرنے کا مطلب ہے کہیں وہ نشہ آور نہ ہوجائے۔ ایسی صورت میں پانی ملالے اور اس کو رقیق کرلے۔
13772- عن عمر قال: إنا لنشرب هذا النبيذ الشديد لنقطع به ما في بطوننا من لحوم الإبل أن يؤذينا فمن رابه من شرابه شيء فليمزجه بالماء. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13773 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں خشک پیٹ والا (یا فرمایا) سخت پیٹ والا آدمی ہوں۔ اسی وجہ سے کبھی ستو پیتا ہوں، اور کبھی دودھ پیتا ہوں مجھے کوئی ملامت نہ کرے۔ اور گاڑھی نبیذ بھی اسی لیے پیتا ہوں تاکہ میرا پیٹ قدرے نرم ہوجائے اس لیے مجھے کوئی مورد طعن نہ بنائے۔ ابن ابی شیبہ
13773- عن مجاهد قال: قال عمر: إني رجل معجار البطن أو مسعار البطن، فأشرب هذا السويق، فلا يلاومني وأشرب هذا اللبن فلا يلاومني وأشرب هذا النبيذ الشديد فيسهل بطني. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13774 حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمار بن یاسر کو جو کوفہ پر ان کے گورنر تھے لکھا : اما بعد ! سنو میرے پاس ملک سے انگور کا شیرہ آیا ہے جس کو پکایا گیا ہے، اس کا دو تہائی پکنے سے کم ہو کر ایک تہائی باقی رہ گیا ہے۔ اس طرح اس کا شیطان اور اس کے پاگل کردینے والی بو ختم ہوگئی ہے لیکن وہ (پڑا پڑا) جوش مارنے نہیں لگا۔ اس لیے اس کی مٹھاس اور اس کی حلت باقی رہ گئی ہے۔ اب وہ اونٹ کے طلاء (عنی جیسی نبیذ اونٹوں کو دی جاتی ہے اس) جیسا ہے۔ لہٰذا تمہارے ہاں جو اس طرح کی نبیذ پینا چاہیں ان کی گنجائش دو ۔ والسلام۔ ابن خسرو
13774- عن إبراهيم قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمار بن ياسر وهو عامل له على الكوفة، أما بعد، فإنه أتي إلي بشراب من الشام من عصير العنب قد طبخ وهو عصير قبل أن يغلي حتى ذهب ثلثاه، وبقي ثلثه، فذهب شيطانه وريح جنونه، وبقي حلوه وحلاله فهو شبيه بطلاء الإبل فمر من قبلك فليتوسعوا به في شرابهم والسلام. "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13775 محمود بن لبید انصاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب ملک شام تشریف لائے تو اہل شام نے وہاں کی سرزمین کی وباء اور اس کی سختی کا رونا رویا۔ اور بولے : اس وجہ سے ہم کو شراب ہی طبیعت کو درست رکھتی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم شہد نوش کرو۔ بولے : یہ بھی ہمارے لیے درست نہیں رہتا۔ وہاں کے ایک باشندے نے عرض کیا : کیا ایسا مشروب صحیح ہے جو نشہ آور نہ ہو ؟ آپ (رض) نے اثبات میں ہاں فرمادی۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے انگور کا شیرہ پکا کر اس کا دوتہائی ختم کردیا اور ایک تہائی باقی رہنے دیا۔ پھر اس کو لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے اس میں انگلی ڈبو کر نکالی پھر بار بار اس میں انگلی ڈبو کر اس کا گاڑھا پن دیکھتے رہے۔ پھر فرمایا : یہ طلاء (نبیذ) ہے، یہ اونٹوں کے طلاء کے مثل ہے۔ پھر آپ (رض) نے اس کے پینے کی اجازت مرحمت فرمادی۔
حضرت عبادۃ بن الصامت نے عرض کیا : آپ اس کو حلال کررہے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں قسم بخدا ! اے اللہ میں ان کے لیے وہ شے حلال نہیں کررہا جو آپ نے ان کے لیے حرام کردی ہے اور آپ کو حلال کردہ شے کو ان پر حرام نہیں کررہا۔
موطا امام مالک، السنن للبیہقی
حضرت عبادۃ بن الصامت نے عرض کیا : آپ اس کو حلال کررہے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں قسم بخدا ! اے اللہ میں ان کے لیے وہ شے حلال نہیں کررہا جو آپ نے ان کے لیے حرام کردی ہے اور آپ کو حلال کردہ شے کو ان پر حرام نہیں کررہا۔
موطا امام مالک، السنن للبیہقی
13775- عن محمود بن لبيد الأنصاري أن عمر بن الخطاب لما قدم شكا إليه أهل الشام وباء الأرض وثقلها، وقالوا: لا يصلحنا إلا هذا الشراب فقال عمر: اشربوا هذا العسل، قالوا: لا يصلحنا، فقال رجل من أهل الأرض: هل لك من هذا الشراب شيء ما لا يسكر؟ قال: نعم فطبخوه حتى ذهب منه الثلثان، وبقي الثلث فأتوا به عمر، فأدخل أصبعه فيه، ثم رفعها فتبعها يتمطط فقال: هذا الطلاء هذا مثل طلاء الإبل، فأمرهم أن يشربوه فقال له عبادة بن الصامت: أحللتها والله، فقال عمر: كلا والله، اللهم إني لا أحل لهم شيئا حرمته عليهم، ولا أحرم عليهم شيئا أحللته لهم. "مالك هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13776 سفیان بن وھب خولانی سے مروی ہے کہ میں ملک شام حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھا۔ ذمیوں نے آپ (رض) سے عرض کیا : آپ نے ہم پر لازم کردیا ہے کہ ہم مسلمانوں کو شہد فراہم کریں حالانکہ وہ ہم کو دستیاب نہیں ہورہا ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مسلمان جب کسی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں اقامت نہیں کرتے (بلکہ لشکر کشی میں ادھر ادھر پھرتے رہتے ہیں) جس کی وجہ سے ان کو خالص سادہ پانی پینے کی شدت کے ساتھ طلب ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کو (قوت کی فراہمی کے لئے) ایسی کوئی چیز ضروری ہے جو ان کو (مضبوط) اور تندرست رکھ سکے۔ وہاں کے باشندوں نے کہا : ہمارے پاس ایسا مشروب ہے جو ہم انگور سے بناتے ہیں جو (شراب نہیں بلکہ شہد جیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ وہ مشروب لے کر آئے۔ حضرت عمر (رض) اس میں انگلی ڈبو کر اٹھاتے رہے شہد (دیکھنے) کی طرح (آپ (رض)) نے فرمایا : یہ تو اونٹوں کی نبیذ کی طرح ہے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس میں ڈال دیا اور اس کو ہلکا کرکے خود بھی پیا اور آپ کے ساتھیوں نے بھی پیا۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا بہت اچھا مشروب ہے۔ ٹھیک تم مسلمانوں کو یہی دیا کرو۔ چنانچہ ذمی لوگ (جزیہ) وغیرہ میں مشروب مسلمانوں کو دیتے رہے۔ کچھ عرصہ اسی طرح بیت گیا۔ پھر ایک مسلمان آدمی نشہ میں دھت ہوگیا۔ مسلمانوں نے اس کو جوتوں سے مارا اور بولے : نشہ میں غرق ہوگیا ہے تو۔ آدمی بولا : مجھے قتل کرو۔ اللہ کی قسم ! میں نے تو وہی مشروب پیا ہے جس کی حضرت عمر (رض) نے ہمیں اجازت دی تھی تب حضرت عمر (رض) نے لوگوں کے بیچ کھڑے ہو کر خطبہ دیا اے لوگو ! میں محض ایک بشر ہوں، میں کسی حرام کو حلال نہیں کرتا اور نہ حلال کو حرام ٹھہرا سکتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوئی تو وحی بھی اٹھ گئی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اپنا کپڑا تھام کر (تاکیداً ) ارشاد فرمایا : میں اللہ کے ہاں اس برات کا اظہار کرتا ہوں کہ تمہارے لیے کسی حرام شے کو حلال قرار دوں۔ لہٰذا لوگو ! اس مشروب کو فوراً ترک کردو۔ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں لوگ اس میں منہمک نہ ہوجائیں۔ حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ہر نشہ آور شے حرام ہے پس تم اس کو چھوڑ دو ۔ ابن راھویہ
13776- عن سفيان بن وهب الخولاني قال: كنت مع عمر بن الخطاب بالشام فقال أهل الذمة: إنك كلفتنا وفرضت علينا أن نرزق المسلمين العسل ولا نجده، فقال عمر: إن المسلمين إذا دخلوا أرضا فلم يوطنوا فيها اشتد عليهم أن يشربوا الماء القراح فلا بد لهم مما يصلحهم، فقالوا: إن عندنا شرابا نصلحه من العنب شيئا يشبه العسل، قال: فأتوا به فجعل يرفعه بأصبعه فيمده كهيئة العسل، فقال: كأن هذا طلاء الإبل، فدعا بماء فصبه عليه، ثم خفض فشرب منه وشرب أصحابه وقال: ما أطيب هذا فارزقوا المسلمين منه فرزقوهم منه، فلبث ما شاء الله، ثم إن رجلا خدر منه فقام المسلمون فضربوه بنعالهم، وقالوا: سكران، فقال الرجل: لا تقتلوني فوالله ما شربت إلا الذي رزقنا عمر، فقام عمر بين ظهراني الناس فقال: يا أيها الناس، إنما أنا بشر لست أحل حراما ولا أحرم حلالا وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض فرفع الوحي، فأخذ عمر بثوبه فقال: إني أبرأ إلى الله من هذا أن أحل لكم حراما فاتركوه، فإني أخاف أن يدخل الناس فيه مدخلا، وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل مسكر حرام فدعوه. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13777 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : تانبے کے برتن میں گرم کیا ہوا پانی جو کچھ جل گیا ہو اور کچھ بچ گیا ہو، مجھے اس کا پینا مٹکے میں بنائی گئی نبیذ کے پینے سے زیادہ پسند ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر ، ابن جریر
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر ، ابن جریر
13777- عن عمر بن الخطاب قال: لأن أشرب قمقما من ماء محمى يحرق ما أحرق، ويبقي ما أبقى أحب إلي من أن أشرب نبيذ الجر. "عب وابن أبي الدنيا في ذم المسكر وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13778 زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب ملک شکام کے رستے میں تھے ، آپ کے پاس دو برتن نبیذ کے لائے گئے۔ آپ نے ایک برتن کا نبیذ نوش فرما لیا دوسرا چھوڑ دیا۔ اور دوسرا رکھ دینے کا حکم دیدیا۔ اگلے روز جب دوسرا برتن پیش کیا گیا تو وہ قدرے گاڑھا ہوگیا تھا۔ آپ نے اس کو چکھا تو فرمایا اس میں پانی ملاؤ۔ ابن حبان فی صحیحہ
13778- عن الزهري أن عمر بن الخطاب أتي وهو بطريق الشام بانائين فيهما نبيذ فشرب من أحدهما وعدل عن الأخرى، فأمر بالأخرى فرفعت فجيء بها من الغد وقد اشتد ما فيها بعض الشدة فذاقه وقال: اكسروا بالماء. "حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13779 ابن جریج سے مروی ہے کہ اسماعیل نے مجھے خبر دی کہ ایک شخص نے وہ مشروب جو حضرت عمر کے لیے بنایا گیا تھا اس میں منہ ڈال کر غٹاغٹ اس کو پی گیا۔ جس سے وہ نشہ میں غرق ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو چھوڑ دیا جب اس کا نشہ اتر گیا تو حضرت عمر (رض) نے اس حد جاری فرمائی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے وہی مشروب پانی کے ساتھ ملا کر نوش فرمالیا۔
راوی کہتے ہیں : اسی طرح نافع بن عبدالحارث جو مکہ پر حضرت عمر (رض) کی طرف سے گورنر تھے، نے ایک برتن میں حضرت عمر (رض) کے لیے نبیذ بنائی۔ حضرت عمر (رض) کو پینے میں تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ نبیذ کا مزاج بدل گیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے وہ منگوائی تو اس کو قدرے سخت پایا۔ آپ نے اس کو بڑے برتن میں ڈالواکر اس میں پانی ملایا پھر آپ نے بھی وہ پانی پیا اور لوگوں کو بھی پلایا۔ مصنف عبدالرزاق
راوی کہتے ہیں : اسی طرح نافع بن عبدالحارث جو مکہ پر حضرت عمر (رض) کی طرف سے گورنر تھے، نے ایک برتن میں حضرت عمر (رض) کے لیے نبیذ بنائی۔ حضرت عمر (رض) کو پینے میں تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ نبیذ کا مزاج بدل گیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے وہ منگوائی تو اس کو قدرے سخت پایا۔ آپ نے اس کو بڑے برتن میں ڈالواکر اس میں پانی ملایا پھر آپ نے بھی وہ پانی پیا اور لوگوں کو بھی پلایا۔ مصنف عبدالرزاق
13779- عن ابن جريج أخبرني إسماعيل أن رجلا عب في شراب نبذ لعمر بن الخطاب بطريق المدينة فسكر فتركه عمر حتى أفاق فحده ثم أوجعه عمر بالماء فشرب منه، قال: ونبذ نافع بن عبد الحارث لعمر ابن الخطاب في المزاد وهو عامل له على مكة، فاستأخر عمر حتى عدا الشراب طوره، فدعا به عمر فوجده شديدا، فصنعه في أجفان فأوجعه بالماء ثم شرب الماء وسقى الناس. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13780 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ بنی ثقیف کے لوگوں نے آپ کے لیے مشروب تیار کیا آپ نے اس مشروب کے ساتھ ان کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا پھر اس مشروب کو پینے کے لیے منہ کو لگایا تو اس کو ناگوار پایا پھر پانی منگوایا اور اس میں ملا دیا پھر فرمایا : اس طرح پیا کرو۔
الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13780- عن ابن المسيب قال: تلقت ثقيف عمر بن الخطاب بشراب فدعاهم به، فلما قربه إلى فمه كرهه، ثم دعا بماء فكسره، ثم قال: هكذا فاشربوه. "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13781 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ جابیہ پہنچے تو ہمارے سامنے نبیذ لایا گیا جو گاڑھے شیرے کی مانند سخت تھا۔ جس کو کسی چیز کے ساتھ نکالا جاسکتا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ مشروب ممنوع الاستعمال ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی، ابن عساکر
13781- عن أسلم قال: قدمنا الجابية مع عمر فأتينا بطلاء وهو مثل عقيد الرب إنما يخاض بالمخوض خوضا، فقال عمر: إن في هذا الشراب ما انتهى إليه. "عب ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13782 سفیان بن ابی سلمہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان ک ونبیذ دیا (لشکری مسلمانوں کے لیے وظیفہ میں مقرر کیا) سفیان سے ایک آدمی نے نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : حضرت عمر (رض) یہی ہم کو دیا کرتے تھے۔ ہم اس کو ستو کے ساتھ ملا لیتے تھے اور سالن روٹی کے ساتھ کھاتے تھے۔ وہ تمہاری گندی شراب جیسا نہیں ہوتا تھا۔
13782- عن سفيان بن سلمة أن عمر بن الخطاب رزقهم الطلاء فسأله رجل عن الطلاء فقال: كان عمر يرزقنا الطلاء نجدحه في سويقنا ونأكله بادمنا وخبزنا، قال: ليس بباذقكم الخبيث. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13783 ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ملا تھا کہ ہر چیز کے جوڑے کو اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ چنانچہ آپ کے لیے جو لینا فرض تھا وہ لے لیا۔ لیکن انگور کی دو شاخیں گم ہوگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو تلاش کرنے لگے۔ ایک فرشتہ ان سے ملاقات کرنے آیا۔ فرشتے نے پوچھا : آپ کیا تلاش کررہے ہیں ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : دو شاخیں انگور کی۔ فرشتے نے عرض کیا : وہ تو شیطان لے گیا ہے۔ فرشتہ نے کہا : میں شیطان کو ان شاخوں سمیت پکڑ کر لاتا ہوں۔
چنانچہ فرشتہ دونوں شاخوں کو اور شیطان کو لے آیا۔ فرشتے نے کہا : یہ شیطان بھی اب دونوں شاخوں میں آپ کا شریک ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ شراکت کو اچھی طرح نبہانا۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : میں (ان سے پیدا ہونے والے پھل میں) ایک تہائی رکھوں گا اور دو تہائی اس کے واسطے (جلنے میں) چھوڑ دوں گا۔ فرشتہ بولا : آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا اور آپ اچھے احسان کرنے والے ہیں۔ بس آپ انگور کشمش اور سرکے کو اس قدر پکائیں کہ اس کا دو تہائی اڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کا (گورنروں کو لکھا ہوا) مراسلہ بھی اس کے موافق تھا۔
الجامع لعبد الرزاق
چنانچہ فرشتہ دونوں شاخوں کو اور شیطان کو لے آیا۔ فرشتے نے کہا : یہ شیطان بھی اب دونوں شاخوں میں آپ کا شریک ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ شراکت کو اچھی طرح نبہانا۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : میں (ان سے پیدا ہونے والے پھل میں) ایک تہائی رکھوں گا اور دو تہائی اس کے واسطے (جلنے میں) چھوڑ دوں گا۔ فرشتہ بولا : آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا اور آپ اچھے احسان کرنے والے ہیں۔ بس آپ انگور کشمش اور سرکے کو اس قدر پکائیں کہ اس کا دو تہائی اڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کا (گورنروں کو لکھا ہوا) مراسلہ بھی اس کے موافق تھا۔
الجامع لعبد الرزاق
13783- عن ابن سيرين قال: كتب لنوح من كل شيء اثنان أو قال: زوجان، فأخذ ما كتب له فضلت عليه حبلتان فجعل يلتمسهما فلقيه ملك، فقال: ما تبغي قال: حبلتين قال: إن الشيطان ذهب بهما، قال الملك: أنا آتيك به وبهما فجاء الملك به وبهما، قال له: إنه لك فيهما شريك فأحسن مشاركته، قال: لي الثلث وله الثلثان، قال الملك: أحسنت وأنت محسان، إن لك أن تأكل عنبا وزبيبا وخلا تطبخه حتى يذهب ثلثاه ويبقى الثلث، قال ابن سيرين: فوافق ذلك كتاب عمر ابن الخطاب. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13784 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عمار بن یاسر کو لکھا : اما بعد ! ہمارے پاس ملک شام سے کچھ پینے کے مشروب آئے ہیں وہ اونٹوں کے طلاء (نبیذ) جیسے ہیں۔ ان کو پکایا گیا ہے حتیٰ کہ اس کا دو تہائی ختم ہوگیا ہے جو شیطان کا گندا حصہ اور اس کے جنون کی بو تھا۔اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہے۔ اس کو اپنے سالن وغیرہ میں استعمال کرو۔ اور اپنی طرف کے لوگوں کو اجازت دو کہ وہ اس کو اپنے کھانے سالن وغیرہ میں استعمال کرلیں۔ الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم فی الطب
خطیب بغدادی (رح) نے اس کو تلخیص المتشابہ میں عن الشعبی عن حیان الاسدی سے یوں نقل کیا حیان اسدی فرماتے ہیں : ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا مراسلہ پہنچا جس میں (ذرا مختلف ) یہ الفاظ تھے : ان کا شر چلا گیا اور اس کا خیر باقی رہ گیا ہے۔ پس اس کو نوش کرسکتے ہو۔
خطیب بغدادی (رح) نے اس کو تلخیص المتشابہ میں عن الشعبی عن حیان الاسدی سے یوں نقل کیا حیان اسدی فرماتے ہیں : ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا مراسلہ پہنچا جس میں (ذرا مختلف ) یہ الفاظ تھے : ان کا شر چلا گیا اور اس کا خیر باقی رہ گیا ہے۔ پس اس کو نوش کرسکتے ہو۔
13784- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمار بن ياسر أما بعد، فإنه جاءتنا أشربة من قبل الشام كأنها طلاء الإبل قد طبخ حتى ذهب ثلثاه الذي فيه خبث الشيطان وريح جنونه، وبقى ثلثه فاصطبغه وأمر من قبلك أن يصطبغه. "عب وأبو نعيم في الطب" ورواه "خط" في تلخيص المتشابه عن الشعبي عن حيان الأسدي قال: أتانا كتاب عمر فذكره بلفظ ذهب شره وبقي خيره فاشربوه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13785 سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا : لوگوں کو وہ نبیذ دیا جائے جس کا دو تہائی پکانے سے اڑ گیا ہو اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہو۔
الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم فی الطب
الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم فی الطب
13785- عن سويد بن غفلة قال: كتب عمر إلى عماله أن يرزق الناس الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه. "عب وأبو نعيم في الطب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13786 ابن نیاق سے مروی ہے کہ خلیفہ حضرت عمر بن خطاب (رض) (ملک شام) تشریف لائے آپ کے بدن پر کھردرے کپڑے کی ایسی میلی بوسیدہ قمیص تھی جو میل کچیل کی وجہ سے پھٹنے کے قریب تھی۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں آپ کی یہ قمیص نہ دھودوں ؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو دھو سکتے ہو۔ ابن نیاق کہتے ہیں : چنانچہ میں نے ایک دوسری قبطی قمیص لاکر آپ کو دی آپ نے وہ زیب تن فرمالی۔ لیکن جب آپ (رض) نے اس کا ملائم پن محسوس کیا توبولے : افسوس ! اے ابن نیاق ! مجھے میری ہی قمیص لادو۔ میں قمیص لے آیا جو ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ پھر میں آپ کو ایک کمرے میں (آرام کے لئے) لایا۔ آپ (رض) نے اس میں کوئی تصویر دیکھی۔ چنانچہ آپ (رض) نے کمرے میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ پھر میں آپ کے پاس شہد لے کر آیا ۔ آپ نے شہد نوش فرمایا۔ پھر فرمایا : یہ لوگوں کو عام میسر نہیں ہے۔ ایسا کوئی دوسرا مشروب ہے جو سب کو بآسانی دستیاب ہوسکے۔ ابن نیاق کہتے ہیں میں نبیذ لے کر آپ کے پاس آیا جس کا دو ثلث (دو تہائی) پکا کر ختم کردیا گیا تھا۔ آپ نے اس کو دیکھا تو فرمایا : یہ اونٹوں کے نبیذ کے کس قدر مشابہ ہے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے وہ مشروب ایک آدمی کو پینے کے لیے دیا اس نے پیا تو آپ نے پوچھا : کیا (دماغ میں) سرسراہٹ تو نہیں ہے ؟ کیا کچھ (نشہ وغیرہ تو نہیں) ہے ؟ آدمی نے کہا : نہیں۔ پھر آپ نے وہ مشروب دوبارہ اس کو پلایا پھر پوچھا : کیا اب کچھ سرسراہٹ ؟ کچھ اور ہوا ؟ آدمی نے کہا : نہیں۔ پھر آپ (رض) نے تیسری مرتبہ وہ مشروب پلایا اور پوچھا : کچھ محسوس کیا ؟ عرض کیا : نہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : اچھا اٹھو اور چل کر دکھاؤ۔ وہ چل کر واپس آیا۔ پھر آپ (رض) نے دوبارہ پوچھا : کچھ سرسراہٹ ہے ؟ کوئی نشہ ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ تب آپ (رض) نے فرمایا : ٹھیک ہے لوگوں کو یہ مشروب مہیا کرو۔ اور پھر کوفہ میں حضرت سعد (رض) کو بھی اس کا حکم لکھ دیا۔ ابن عساکر
13786- عن ابن نياق قال: قدم عمر فإذا عليه قميص كرابيس وسخ قد كاد ينقطع من الوسخ، فقلت يا أمير المؤمنين ألا أغسل قميصك هذا؟ قال: بلى إن شئت فدعوت بقميص قبطي فلبسه فلما وجد لينه قال: ويحك يا ابن نياق، ائتني بقميصي فجئته به ولم يجف بعد، فذهبت أدخله بيتا فرأى فيه صورة فأبى أن يدخله، أتيته بعسل فشربه، فقال: إن هذا لا يسع الناس فهل من شراب يسع الناس، فاتيته بطلاء قد طبخ على الثلثين فنظر إليه فقال: ما أشبه هذا بطلاء الإبل، ثم سقى رجلا منه فشربه فقال: أتجد دبيبا أتجد شيئا، قال: لا، ثم ثنى فقال: أتجد شيئا؟ قال: لا، ثم ثلث فقال: أتجد شيئا؟ قال: لا، قال: قم فامش فمشى حتى رجع فقال: أتجد دبيبا أتجد شيئا؟ قال: لا، قال: نعم ارزق الناس من هذا وكتب إلى سعد بالكوفة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13787 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدو کے برتن اور تار کول ملے ہوئے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا۔
مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، ابوعوانۃ، الطحاوی، مسند ابی یعلی، حلیۃ الاولیاء
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : کوفہ میں حضرت علی (رض) سے مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔
مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، ابوعوانۃ، الطحاوی، مسند ابی یعلی، حلیۃ الاولیاء
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : کوفہ میں حضرت علی (رض) سے مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔
13787- عن علي رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والمزفت. "حم خ م1 ن وأبو عوانة والطحاوي ع حل" قال أحمد ليس بالكوفة عن علي حديث أصح من هذا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13788 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدو کے برتن اور تار کول ملمع کیے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ مسند ابی یعلی
13788- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينبذ في الدباء والمزفت. "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13789 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کدو کے برتن سے ، سبز گھڑے سے، کھجور کی جڑ میں بنائے ہوئے برتن سے، تارکول ملے ہوئے برتن سے، اور جو کی نبیذ سے۔
مسند احمد ، ابن ابی داؤد، ابن ابی عاصم، ابن مندہ، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
مسند احمد ، ابن ابی داؤد، ابن ابی عاصم، ابن مندہ، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
13789- عن علي قال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت والجعة "حم د2 ن وابن أبي عاصم وابن منده ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13790 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا سونے کے چھلے، کھوٹے درہم، ریشم ودیباج کی زین اور جو کی نبیذ استعمال کرنے سے۔
الترمذی ، النسائی ، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
الترمذی ، النسائی ، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
13790- عن علي قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حلقة الذهب والقسي والميثرة والجعة. "ت ن وابن منده في غرائب شعبة ق ص".
তাহকীক: