কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৭৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13731 عن معمر عن الزھری کی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب لوگ شراب نوشی کریں ان کو کوڑے مارو۔ پھر پئیں پھر کوڑے مارو۔ پھر پئیں پھر کوڑے مارو پھر پئیں تو ان کو قتل کرو۔ پھر فرمایا : اللہ نے ان سے قتل معاف کردیا ہے لہٰذا جب وہ شراب پئیں ان کو کوڑے مارو۔ پھر پئیں پھر کوڑے مارو چار دفعہ ایسا ہی فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13731- عن معمر عن الزهري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا شربوا فاجلدوهم، ثم إذا شربوا فاجلدوهم، ثم إذا شربوا فاجلدوهم، ثم إذا شربوا فاقتلوهم ثم قال: إن الله وضع عنهم القتل فإذا شربوا فاجلدوهم، ثم إذا شربوا فاجلدوهم ذكرها أربع مرات. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13732 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن شہاب (زہری (رح)) سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب میں کتنے کوڑے مارے ہیں ؟ آپ (رح) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ آپ اپنے پاس موجود حاضرین کو حکم دیتے تو وہ لوگ شراب نوش کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارنا شروع ہوجاتے حتیٰ کہ حضرت عمر (رض) نے اسی کوڑے مقرر فرمائے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13732- عن ابن جريج قال: سئل ابن شهاب كم جلد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر؟ قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض فيها حدا، كان يأمر من يحضره يضربونه بأيديهم ونعالهم حتى يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارفعوا، وفرض فيها أبو بكر أربعين وفرض فيها عمر ثمانين سوطا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13733 عمر بن حبیب (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن شہاب زہری (رح) سے فرماتے ہوئے سنا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جو شراب نوشی کرے اس کو مارو۔ پھر دوبارہ کرے پھر مارو۔ پھر سہ بارہ کرے پھر مارو، پھر چوتھی بار کرے تو اس کو قتل کردو۔ پھر جب ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شراب نوش لایا گیا آپ نے اس کو مارا پھر دوبارہ لایا گیا پھر مارا۔ پھر تیسری مرتبہ مارا پھر چوتھی مرتبہ بھی کوڑے مارنے پر ہی اکتفاء کیا اور اللہ نے قتل کو معاف کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13733- عن عمر بن حبيب قال: سمعت ابن شهاب يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شرب الخمر فاضربوه، ثم إن شرب الثانية فاضربوه ثم إن شرب الثالثة فاضربوه، ثم إن شرب الرابعة فاقتلوه، قال: فأتي برجل قد شرب فضربه، ثم الثانية فضربه، ثم الثالثة فضربه، ثم الرابعة فضربه ووضع الله القتل. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13734 حضرت ابن عباس (رض) حضرت جریر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شراب پئے اس کو مارو، اگر دوبارہ پئے پھر مارو، پھر پئے پھر مارو اگر چوتھی بار پئے تو اس کو قتل کردو۔ ابن جریر
13734- عن ابن عباس عن جرير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شرب الخمر فاجلدوه، فإن عاد فاجلدوه، فإن عاد فاجلدوه، فإن عاد الرابعة فاقتلوه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13735 معقل بن یسار سے مروی ہے جس وقت شراب حرام ہوئی عام عرب کی شراب تازہ کھجور سے بنی ہوئی تھی۔ چنانچہ میں نے وہی شراب یہ کہہ کر پھینک دی بس یہ میری آخری یاد تھی شراب کے ساتھ۔ ابن عساکر
13735- عن معقل بن يسار قال: حرمت الخمر وإن عامة شرابهم الفضيخ1 قال: فقذفتها وأنا أقول: هذا آخر عهدي بالخمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13736 (مسند عمر (رض)) صفیہ بنت ابی عبید کہتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو رویشد ثقفی کے گھر سے شراب ملی۔ آپ (رض) نے اس کا گھر جلا دیا اور دریافت فرمایا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : رویشد۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں بلکہ تیرا نام فویسق ہے (یعنی فاسق گناہگار) ۔ الجامع لعبد الرزاق
ابوعبید نے اس روایت کو کتاب الاموال میں ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے۔
ابوعبید نے اس روایت کو کتاب الاموال میں ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے۔
13736- مسند عمر عن صفية بنت أبي عبيد قالت: وجد عمر في بيت رويشد الثقفي خمرا، فحرق بيته وقال: ما اسمك؟ قال: رويشد قال: بل أنت فويسق. "عب" ورواه أبو عبيد في كتاب الأموال عن ابن عمر
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13737: حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رویشد ثقفی کے گھر کو جلا دیا اس کی شراب کی دکان تھی اور آپ اس کو منع کرچکے تھے فرماتے ہیں کہ میں نے اس گھر کو جلتے دیکھا گویا کہ وہ انگارہ ہے۔ ابن سعد۔
13737- عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه أن عمر بن الخطاب حرق بيت رويشد الثقفي وكان حانوتا للشراب وكان عمر قد نهاه فلقد رأيته [يلتهب] كأنه جمرة. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13738 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے قدامہ بن مظعون کو بحرین کا گورنر بنادیا۔ قدامہ اپنے منصب پر نکلے۔ وہاں ان کے متعلق کسی طرح کی برائی اور بدکاری کی شکایت نہیں آئی سوائے اس کے کہ وہ نماز میں حاضر نہ ہو پاتے تھے۔ وہاں کے قبیلے عبدالقیس کے سردار جارود حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا امیر المومنین ! قدامہ نے شراب نوشی کی ہے اور مجھ پر لازم ہے کہ اگر میں حدود اللہ میں سے کسی حد کو دیکھوں تو اس کا قضیہ آپ کو ضرور پہنچاؤں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : جو تم کہہ رہے اس کی گواہی کون دے گا ؟ جارود نے حضرت ابوہریرہ (رض) کا نام لیا کہ وہ بھی اس بات کی شہادت دیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے قدامہ کو مراسلہ بھیجا کہ وہ میرے پاس آئیں۔ چنانچہ وہ حاضر ہوگئے۔ جارود حضرت عمر (رض) سے (بار بار) کہتے : اس پر کتاب اللہ کو نافذ کریں (حد شراب جاری کریں) حضرت عمر (رض) نے جارود سے پوچھا : تم اس پر شہادت دینے کے لیے آئے ہو یا اس کے دشمن کا کردار ادا کررہے ہو ؟ جارود بولے میں تو فقط شاہد ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب تم نے اپنی شہادت ادا کردی (اب خاموش رہو) چنانچہ جارود تب تو خاموش ہوگئے۔ لیکن اگلے روز پھر مصر ہوئے کہ اس پر حد جاری کریں۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بس میں تم کو ان کا دشمن قرار دیتا ہوں، اب صرف ایک گواہ (ابوہریرہ (رض)) بچ گیا ہے (جس کی بناء پر حد جاری نہیں کی جاسکتی) اب یا تو تم اپنی زبان کو لگام دو ورنہ میں تمہارا برا حشر کروں گا۔ جارود بولے : اللہ کی قسم ! یہ حق بات نہیں ہے کہ آپ کا چچا زاد (قدامہ) تو شراب پئے اور آپ الٹا مجھے براگردانیں (آخر حضرت عمر (رض)) نے جاود کو چھوڑ دیا۔
ابن سعد، ابن وھب
ابن سعد، ابن وھب
13738- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أن عمر بن الخطاب ولى قدامة بن مظعون البحرين، فخرج قدامة على عمله، فأقام فيه لا يشتكى في مظلمة ولا فرج إلا أنه لا يحضر الصلاة، قال: فقدم الجارود سيد عبد القيس على عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين، إن قدامة قد شرب وإني إذا رأيت حدا من حدود الله كان حقا علي أن أرفعه إليك. فقال عمر: من يشهد على ما تقول؟ فقال الجارود: أبو هريرة يشهد، فكتب عمر إلى قدامة بالقدوم عليه فقدم، فأقبل الجارود يكلم [عمر] ويقول أقم على هذا كتاب الله، فقال عمر: أشاهد أنت أم خصم؟ فقال الجارود: بل أنا شاهد، فقال عمر: قد كنت أديت شهادتك، فسكت الجارود، ثم غدا عليه من الغد فقال أقم الحد على هذا فقال عمر: ما أراك إلا خصما، وما يشهد عليه إلا رجل واحد، أما والله لتملكن لسانك أو لأسؤنك، فقال الجارود: أما والله ما ذلك بالحق أن يشرب ابن عمك وتسؤني [فوزعه] عمر. "ابن سعد وابن وهب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13739 عروۃ بن الزہیر سے مروی ہے کہ ابوالازور، ضرار بن الخطاب اور ابوجندل بن سہیل بن عمرو نے ملک شام میں شراب نوشی کی۔ ان کو امیر لشکر ابوعبیدۃ بن الجراح کے پاس لایا گیا۔ ابوجندل بولے : اللہ کی قسم ! میں نے شراب ایک تاویل پر پی ہے، میں نے اللہ پاک کا فرمان سنا ہے : لیس علی الذین آمنوا وعملو الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا وآمنوا واعملو الصالحات،
ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور اچھے اچھے عمل کیے کوئی حرج نہیں اس میں جو وہ کھائیں جبکہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور اچھے اچھے عمل کریں۔
چنانچہ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے ان کا معاملہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا۔ ادھر ابوالازور نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو عرض کیا : کہ ہمارا دشمن ہمارے سامنے آچکا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہماری سزا کچھ موخر کردیں تاکہ کل ہم دشمن سے مقابلہ کریں اگر اللہ نے ہم کو شہادت کے ساتھ نواز دیا تو آپ کے لیے یہ کافی ہوگا۔ اور آپ کو حد شراب ہم پر قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہم لوٹ آئے تو آپ دیکھ لینا کہ خلیفہ نے آپ کو کیا حکم دیا ہے وہ آپ بجا لانا۔ ابوعبیدۃ نے ان کی بات پر ہاں کردی۔ چنانچہ اگلے روز جب مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو ابوالازور جام شہادت نوش کر گئے۔ اس وقت تک حضرت عمر (رض) کا جواب نامہ بھی آگیا کہ جس تاویل نے ابوجندل کو غلطی میں ڈالا ہے اگر اس نے ان کو حجت دیدی ہے لیکن جیسے ہی تم کو میرا یہ خط ملے تم ان پر حد نافذ کردینا۔ چنانچہ ابوعبیدۃ (رض) نے باقی دو بچ جانے والوں کو بلایا اور ان پر حد نافذ فرمادی۔ ابوجندل ایک بڑے سردار کے بیٹے تھے ان کا اپنا بھی ایک رتبہ تھا۔ اس وجہ سے ان کے دل میں اس سزا کی کسک رہ گئی۔ حتیٰ کہ کہا گیا کہ ابوجندل وسوسے میں پڑگئے ہیں۔ ابوعبیدہ نے حضرت عمر (رض) کو یہ صورت حال لکھی کہ میں نے ابو جندگ کو سزا دیدی ہے لیکن ان کے دل میں وسوسے جنم لے رہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہوجائے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ابوجندل کو لکھا : اما بعد ! تم کو جس چیز نے غلطی میں ڈالا ہے لیکن اس سزا سے تم کو توبہ مل گئی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا الہ الا ھو الیہ المصیر۔
لہٰذا جب ابوجندل نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو اس کے سارے وسوسے اور اندیشے ختم ہوگئے۔ گویا وہ بندھی ہوئی رسی سے کھل گئے۔ السنن للبیہقی
ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور اچھے اچھے عمل کیے کوئی حرج نہیں اس میں جو وہ کھائیں جبکہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور اچھے اچھے عمل کریں۔
چنانچہ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے ان کا معاملہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا۔ ادھر ابوالازور نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو عرض کیا : کہ ہمارا دشمن ہمارے سامنے آچکا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہماری سزا کچھ موخر کردیں تاکہ کل ہم دشمن سے مقابلہ کریں اگر اللہ نے ہم کو شہادت کے ساتھ نواز دیا تو آپ کے لیے یہ کافی ہوگا۔ اور آپ کو حد شراب ہم پر قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہم لوٹ آئے تو آپ دیکھ لینا کہ خلیفہ نے آپ کو کیا حکم دیا ہے وہ آپ بجا لانا۔ ابوعبیدۃ نے ان کی بات پر ہاں کردی۔ چنانچہ اگلے روز جب مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو ابوالازور جام شہادت نوش کر گئے۔ اس وقت تک حضرت عمر (رض) کا جواب نامہ بھی آگیا کہ جس تاویل نے ابوجندل کو غلطی میں ڈالا ہے اگر اس نے ان کو حجت دیدی ہے لیکن جیسے ہی تم کو میرا یہ خط ملے تم ان پر حد نافذ کردینا۔ چنانچہ ابوعبیدۃ (رض) نے باقی دو بچ جانے والوں کو بلایا اور ان پر حد نافذ فرمادی۔ ابوجندل ایک بڑے سردار کے بیٹے تھے ان کا اپنا بھی ایک رتبہ تھا۔ اس وجہ سے ان کے دل میں اس سزا کی کسک رہ گئی۔ حتیٰ کہ کہا گیا کہ ابوجندل وسوسے میں پڑگئے ہیں۔ ابوعبیدہ نے حضرت عمر (رض) کو یہ صورت حال لکھی کہ میں نے ابو جندگ کو سزا دیدی ہے لیکن ان کے دل میں وسوسے جنم لے رہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہوجائے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ابوجندل کو لکھا : اما بعد ! تم کو جس چیز نے غلطی میں ڈالا ہے لیکن اس سزا سے تم کو توبہ مل گئی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا الہ الا ھو الیہ المصیر۔
لہٰذا جب ابوجندل نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو اس کے سارے وسوسے اور اندیشے ختم ہوگئے۔ گویا وہ بندھی ہوئی رسی سے کھل گئے۔ السنن للبیہقی
13739- عن عروة بن الزبير قال: شرب أبو الأزور وضرار بن الخطاب وأبو جندل بن سهيل بن عمرو بالشام، فأتى بهم أبو عبيدة بن الجراح فقال أبو جندل: والله ما شربتها إلا على تأويل، إني سمعت الله يقول: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} فكتب أبو عبيدة إلى عمر بأمرهم فقال أبو الأزور: إنه قد حضرنا عدونا، فإن رأيت أن تؤخرنا إلى أن نلقى عدونا غدا، فإن الله أكرمنا بالشهادة كفاك ذاك، ولم تقمنا على جزائه، وإن نرجع نظرت إلى ما أمرك به صاحبك فأمضيته، قال أبو عبيدة: فنعم، فلما التقى الناس قتل أبو الأزور شهيدا فرجع الكتاب كتاب عمر إن الذي أوقع أبا جندل في الخطيئة قد تهيأ له فيها بالحجة وإذا أتاك كتابي هذا فأقم عليهم حدهم والسلام، فدعا بهما أبو عبيدة فحدهما وأبو جندل له شرف ولأبيه، فكان يحدث نفسه حتى قيل: إنه قد وسوس فكتب أبو عبيدة إلى عمر، أما بعد فإني قد ضربت أبا جندل حده وإنه حدث نفسه حتى قد خشينا عليه أنه قد هلك، فكتب عمر إلى أبي جندل، أما بعد فإن الذي أوقعك في الخطيئة قد جرت عليك التوبة بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ َافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ} فلما قرأ كتاب عمر ذهب عنه ما كان به كأنما أنشط من عقال. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13740 عبداللہ بن زہیرالشیانی سے مروی ہے کہ عتبہ بن فرقد نے حضرت عمر (رض) بن خطاب کو شراب کی زکوۃ وصولی کی مد میں چالیس ہزار درہم بھیجے ۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا : تم نے مجھے شراب کی زکوۃ بھیجی ہے۔ مہاجرین کی بجائے تم ہی اس رقم کے زیادہ حقدار ہو اور اللہ کی قسم ! آج کے بعد میں تم کو کسی چیز کی حکومت نہیں دوں گا۔ چنانچہ پھر ان کو اس منصب سے معزول کردیا اور لوگوں کو اس کی ساری خبر سنائی۔ ابوعبید وابن زنجویہ
13740- عن عبد الله بن زهير الشيباني أن عتبة بن فرقد بعث إلى عمر بن الخطاب بأربعين ألف درهم صدقة الخمر، فكتب إليه عمر بعثت إلي بصدقة الخمر، فأنت أحق بها من المهاجرين، وأخبر بذلك الناس وقال: والله لا أستعملك على شيء بعد هذا فنزعه. "أبو عبيد وابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13741 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس پر میں نے کوئی حد جاری کی اور وہ اس کی وجہ سے مرگیا پھر مجھے اس کا اپنے دل میں تردد ہوا سوائے صاحب شراب کے، اگر وہ حد کے دوران مرجاتا ہے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا طریقہ رائج نہیں کیا بلکہ آپ کے بعد ہم نے اس کو رائج کیا ہے۔
ابوداؤد، الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسند ابی یعلی، البخاری، مسلم، ابن جریر
ابوداؤد، الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسند ابی یعلی، البخاری، مسلم، ابن جریر
13741- عن علي قال: ما من رجل أقمت عليه حدا فمات فأجد في نفسي منه شيئا إلا صاحب الخمر فإنه لو مات لوديته1 لأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يسنه وإنما نحن سنناه. "ط عب حم خ م د هـ ع وابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13742 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : میرے پاس ایک اونٹنی وہ تھی جو مجھے جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے حصہ میں آئی تھی اور دوسری اونٹنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دی تھی مال غنیمت کے خمس میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کا حصہ ہوتا ہے۔ جب میں نے فاطمہ بنت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شب زفاف گزارنے کا ارادہ کیا تو بنی قینقاع کے ایک انگریز کو لیا تاکہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخرگھاس (جو رنگائی کے لیے کام ہوتی تھی) اکٹھی کرکے انگریزوں کو فروخت کرلیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے میں ولیمہ کا بند و بست کروں۔ چنانچہ (اس کام سے فراغت کے بعد) میں اپنی دونوں اونٹنیوں کے لیے پالان۔ غرارے اور رسی وغیرہ جمع کررہا تھا۔ میری دونوں اونٹنیاں ایک انصار کے کمرے کے پاس باندھ رکھی تھیں۔ حتیٰ کہ جب میں نے ان کے لیے جو جمع کرنا تھا جمع کرلیا تو اپنی اونٹنیوں کے پاس آیا۔ لیکن اس منظر کو دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں میری دونوں اونٹنیوں کی کوہان کٹی ہوئی تھیں اور ان کے پہلو پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لیے گئے تھے۔ میں نے پوچھا : یہ کام کس نے کیا ہے ؟ لوگوں نے حمزہ بن عبدالمطلب کا نام لیا۔ اور بتایا وہ شراب نوش انصاری گروہ کے ساتھ اس گھر میں شراب نوشی کررہے ہیں۔ ان کے پاس ایک گانے والی باندی ہے اور ان کے ساتھی ہیں۔ باندی نے اپنے گانے کے دوران کہا تھا :
الایا حمز للشرف النواء،
اے حمزہ ! دیکھ تو، کیسی فربہ اور عمدہ اونٹنیاں ہیں۔
چنانچہ حضرت حمزۃ نے کود کر تلوار اٹھائی اور اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کے پہلو پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لیے۔
میں یہ ساری صورت حال جان کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا۔ آپ کے پاس زید بن حارثہ بھی تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرہ کے کرب کو بھانپ لیا اور پوچھا : تجھے کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آج جیسی تکلیف مجھے کبھی نہیں ہوئی۔ حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم ڈھادیا ہے ان کے کوہان کاٹ دیئے اور ان کے پہلو چاک کرکے (ان کے کلیجے نکال لیے ہیں) ۔
اور اس وقت وہ اپنے شراب نوش ساتھیوں کے ساتھ ادھر کمرے میں بیٹھے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر منگوائی اور چادر اوڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں اور زید بن حارثہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہولیے۔ حتیٰ کہ آپ حمزہ والے کمرے پر آپہنچے۔ آپ نے اجازت لی۔ اور اجازت ملنے پر اندر تشریف لے گئے۔ آپ نے حمزہ (رض) کو لعن طعن اور ملامت کی۔ حمزہ شراب کے نشہ میں چور اور سرخ آنکھیں کیے ہوئے تھے۔ حمزۃ (جو آپ کے چچا تھے) نے آپ کی طرف نظر اٹھائی پہلے گھٹنوں پر نظر مرکوز رکھی پھر پیٹ تک نظر اٹھائی پھر اپنی آنکھیں آپ کے چہرے میں گاڑ دیں اور بولے : تم سب میرے باپ کے غلام ہو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جان گئے کہ ابھی وہ نشہ میں دھت ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الٹے پاؤں واپس ہولیے اور ہم بھی آپ کے پیچھے پیچھے نکل آئے۔ البخاری، مسلم، ابوداؤد، ابوعوانۃ، مسند ابی یعلی، ابن حبان السنن للبیہقی
الایا حمز للشرف النواء،
اے حمزہ ! دیکھ تو، کیسی فربہ اور عمدہ اونٹنیاں ہیں۔
چنانچہ حضرت حمزۃ نے کود کر تلوار اٹھائی اور اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کے پہلو پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لیے۔
میں یہ ساری صورت حال جان کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا۔ آپ کے پاس زید بن حارثہ بھی تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرہ کے کرب کو بھانپ لیا اور پوچھا : تجھے کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آج جیسی تکلیف مجھے کبھی نہیں ہوئی۔ حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم ڈھادیا ہے ان کے کوہان کاٹ دیئے اور ان کے پہلو چاک کرکے (ان کے کلیجے نکال لیے ہیں) ۔
اور اس وقت وہ اپنے شراب نوش ساتھیوں کے ساتھ ادھر کمرے میں بیٹھے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر منگوائی اور چادر اوڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں اور زید بن حارثہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہولیے۔ حتیٰ کہ آپ حمزہ والے کمرے پر آپہنچے۔ آپ نے اجازت لی۔ اور اجازت ملنے پر اندر تشریف لے گئے۔ آپ نے حمزہ (رض) کو لعن طعن اور ملامت کی۔ حمزہ شراب کے نشہ میں چور اور سرخ آنکھیں کیے ہوئے تھے۔ حمزۃ (جو آپ کے چچا تھے) نے آپ کی طرف نظر اٹھائی پہلے گھٹنوں پر نظر مرکوز رکھی پھر پیٹ تک نظر اٹھائی پھر اپنی آنکھیں آپ کے چہرے میں گاڑ دیں اور بولے : تم سب میرے باپ کے غلام ہو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جان گئے کہ ابھی وہ نشہ میں دھت ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الٹے پاؤں واپس ہولیے اور ہم بھی آپ کے پیچھے پیچھے نکل آئے۔ البخاری، مسلم، ابوداؤد، ابوعوانۃ، مسند ابی یعلی، ابن حبان السنن للبیہقی
13742- عن علي قال: كانت لي شارف من نصيبي من المغنم يوم بدر وكان النبي صلى الله عليه وسلم أعطاه شارفا مما أفاء الله من الخمس يومئذ فلما أردت أن أبتني بفاطمة ابنة النبي صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا في بني قينقاع أن يرتحل معي فنأتي بأذخر وأردت أن أبتاعه من الصواغين فأستعين به في وليمة عرسي، فبينا أنا أجمع لشارفي متاعا من الأقتاب والغرائر والحبال وشارفاي مناخان إلى جنب حجرة رجل من الأنصار حتى جمعت ما جمعت فإذا أنا بشارفي قد أجبت أسنمتهما وبقرت خواصرهما وأخذ من أكبادهما فلم أملك عيني حين رأيت ذلك المنظر [منهما] ، فقلت: من فعل هذا؟ قالوا: فعله حمزة بن عبد المطلب وهو في هذا البيت في شرب من الأنصار وعنده قينة وأصحابه فقالت في غنائها "ألا يا حمز للشرف النواء" فوثب حمزة إلى السيف فأجب أسنمتهما وبقر خواصرهما وأخذ من أكبادهما، فانطلقت حتى أدخل على النبي صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة، فعرف النبي صلى الله عليه وسلم في وجهي الذي لقيت فقال: مالك؟ قلت: يا رسول الله؛ ما لقيت كاليوم عدا حمزة على ناقتي فأجب أسنمتهما وبقر خواصرهما، وها هو ذا في بيت معه شرب قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بردائه فارتدي، ثم انطلق يمشي واتبعته أنا وزيد بن حارثة حتى جاء البيت الذي فيه حمزة، فاستأذن عليه فأذن له فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوم حمزة على ما فعل، فإذا حمزة ثمل3 محمرة عيناه، فنظر حمزة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فصعد النظر إلى ركبته ثم صعد النظر إلى سرته، ثم صعد النظر فنظر إلى وجهه، ثم قال حمزة: وهل أنتم إلا عبيد لأبي، فعرف النبي صلى الله عليه وسلم أنه ثمل فنكص رسول الله صلى الله عليه وسلم على عقبيه القهقرى فخرج وخرجنا معه. "خ م د وأبو عوانة ع حب ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13743 حضرت علی (رض) سے مروی ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ہمیشہ بتوں کی عبادت، شراب نوشی اور لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے سے روکتے رہے ہیں۔ شعب الایمان للبیہقی ، النسائی
13743- عن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لم يزل جبرئيل ينهاني عن عبادة الأوثان، وشرب الخمر، وملاحاة الرجال. "هب ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13744 ربیعہ بن زکار سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک بستی دیکھی، پوچھا : یہ کیسی بستی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام زرارۃ ہے۔ یہاں گوشت اور شراب لگتا ہے (اور شباب کباب کا دور چلتا ہے) حضرت علی (رض) نے وہاں آگ جلوائی اور فرمایا : اس بستی کو جلادو خبیث شے ایک دوسرے کو کھالے۔ چنانچہ وہ بستی جل گئی۔ ابوعبید
فائدہ : یہ بستی چند اوطاقوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں لوگ عیاشی کرنے آتے تھے۔ اور شراب وکباب کا دور چلتا تھا۔ یہ چونکہ گناہوں کا اڈا تھا اس لیے آپ نے وہ گناہوں کے اڈے خاکستر کروادیئے۔
فائدہ : یہ بستی چند اوطاقوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں لوگ عیاشی کرنے آتے تھے۔ اور شراب وکباب کا دور چلتا تھا۔ یہ چونکہ گناہوں کا اڈا تھا اس لیے آپ نے وہ گناہوں کے اڈے خاکستر کروادیئے۔
13744- عن ربيعة بن ذكار قال: نظر علي بن أبي طالب إلى قرية فقال: ما هذه القرية قالوا: قرية تدعى زرارة يلحم فيها ويباع فيها الخمر فأتاها بالنيران فقال: أضرموها فيها فإن الخبيث يأكل بعضه بعضا فاحترقت. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13745 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر (رض) سے فضیخ کے بارے میں پوچھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : فضیح کیا ہے ؟ آدمی نے کہا : ادھری (آدھی نرم اور آدھی سخت) کھجوروں کی نبیذ بنا کر پکی ہوئی کھجوروں میں ملا دینا۔ آپ (رض) نے فرمایا تہ تو فضوخ ہے۔ وہ شراب جو پینے والے کو مست کردیتی ہے (اور شراب حرام ہے اور اس کے سوا کوئی شراب ہوگی) ۔ مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : پچھلے اوراق میں نبیذ کے عنوان کے تحت کئی روایات گزر چکی ہیں جن میں بسر اور تمر یعنی ادھ نرم ادھ سخت اور مکمل پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
فائدہ : پچھلے اوراق میں نبیذ کے عنوان کے تحت کئی روایات گزر چکی ہیں جن میں بسر اور تمر یعنی ادھ نرم ادھ سخت اور مکمل پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
13745- عن مجاهد قال: سأل رجل عمر عن الفضيخ قال: وما الفضيخ؟ قال: بسر يفتضخ ثم يخلط بالتمر، قال: ذاك الفضوخ حرمت الخمر وما شراب غيره. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13746 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک حج یا عمرے کے دوران حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھا۔ ہم کو ایک سوار شخص ملا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے ، یہ شخص ہماری ہی تلاش میں ہے۔ وہ شخص ہمارے سامنے آکر رونے لگا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم کو کیا ہوا ؟ اگر تم مقروض ہو تو ہم تمہاری مدد کریں گے، اگر تم خوفزدہ ہو تو ہم تم کو امن دیں گے، ہاں مگر تم نے قتل کیا ہے تو تم کو اس کے بدلے قتل کیا جائے گا، اور اگر تم کسی قوم کے ساتھ رہنے میں تکلیف میں مبتلا ہو تو ہم تم کو وہاں سے اور جگہ منتقل کردیں گے۔ آدمی نے اپنی رواداد سنائی : میں نے شراب نوشی کا ارتکاب کرلیا تھا۔ میں بنی تیم کا فرد ہوں۔ ابو موسیٰ (جو آپ کی طرف سے ہمارے گورنر ہیں) نے مجھے پر حد جاری کی (اس قدر تو ٹھیک تھا مگر پھر) میرا سر منڈوایا، میرا چہرہ کالا کیا اور مجھے لوگوں میں پھرایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ کوئی اس کے ساتھ اٹھے نہ بیٹھے اور نہ اس کے ساتھ کوئی کھائے پئے۔ اب میرے دل میں تین خیال آرہے ہیں یا تو میں کوئی تلوار لوں اور ابو موسیٰ کو قتل کردوں۔ یا آپ کے پاس آؤں اور آپ مجھے ملک شام بھیج دیں وہاں مجھے کوئی نہیں جانتا یا پھر میں دشمنوں کے ساتھ جاملوں اور ان کے ساتھ کھاؤں رہوں (آدمی کی درد بھری بپتا سن کر) حضرت عمر (رض) روپڑے اور فرمایا : مجھے ہرگز خوشی نہیں ہوئی کہ تیرے ساتھ یہ یہ کچھ ہوا اور عمر اس حال میں مطمئن ہے۔ جاہلیت میں میں سب سے بڑا شراب نوش تھا۔ یہ زنا کی طرح بڑا جرم نہیں ہے۔ پھر آپ (رض) نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا : تم کو میرا سلام ہو، اما بعد ! فلاں بن فلاں تیمی نے مجھے اس اس طرح ساری خبر کہہ سنائی ہے اور مجھے پاک پروردگار کی قسم ہے ! اگر دوبارہ تم نے اس طرح کی کوئی حرکت کی تو میں تمہارا چہرہ کالا کرکے تم کو لوگوں میں پھر اؤں گا۔ اگر تم میری اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہو تو لوگوں کو حکم دو کہ اس کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں اور کھائیں پئیں۔ اگر یہ شراب نوشی سے توبہ کرلے تو اس کی شہادت بھی قبول کریں۔ پھر آپ (رض) نے اس کو سواری کا جانور اور دو درہم عطیہ پیش کرکے رخصت کیا۔ السنن للبیہقی
13746- عن ابن عمر قال: كنت مع عمر في حج أو عمرة فإذا نحن براكب، فقال عمر: أرى هذا يطلبنا فجاء الرجل فبكى، قال: ما شأنك إن كنت غارما أعناك، وإن كنت خائفا آمناك إلا أن تكون قتلت نفسا فتقتل بها، وإن كنت كرهت جوار قوم حولناك عنهم، قال: إني شربت الخمر وأنا أحد بني تيم، وإن أبا موسى جلدني وحلقني وسود وجهي وطاف بي الناس وقال: لا تجالسوه ولا تؤاكلوه، فحدثت نفسي بإحدى ثلاث: إما أن أتخذ سيفا فأضرب به أبا موسى، وإما أن آتيك فتحولني إلى الشام فإنهم لا يعرفونني، وإما أن ألحق بالعدو فآكل معهم وأشرب، فبكى عمر وقال: ما يسرني أنك فعلت، وإن لعمر كذا وكذا وإني كنت لأشرب الناس لها في الجاهلية، وإنها ليست كالزنا، وكتب إلى أبي موسى سلام عليك أما بعد فإن فلان بن فلان التيمي أخبرني بكذا وكذا، وايم الله إني إن عدت لأسودن وجهك ولأطوفن بك في الناس، فإن أردت أن تعلم حق ما أقول لك فعد، فأمر الناس أن يجالسوه ويؤاكلوه، فإن تاب فاقبلوا شهادته، وحمله وأعطاه مائتي درهم. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13747 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک آدمی تھا۔ اس کا نام تو عبداللہ تھا لیکن اس کا لقب حمار یعنی گدھا پڑگیا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسایا کرتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو شراب نوشی پر سزا بھی دی تھی۔ اس جرم میں ایک مرتبہ اس کو جب پیش کیا گیا تو ایک آدمی نے اس کو کہا اللھم العنہ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ یہ آدمی کس قدر اس جرم میں لایا جاتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو لعنت مت کرو۔ اللہ کی قسم ! اس کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔ البخاری، ابن جریر، شعب الایمان للبیہقی
13747- عن عمر أن رجلا كان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمه عبد الله، وكان يلقب حمارا وكان يضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد جلده في الشراب، فأتي به يوما فأمر به فجلد، فقال رجل من القوم: اللهم العنه فما أكثر ما يؤتي به؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تلعنوه، فوالله ما علمت إنه يحب الله ورسوله. "خ وابن جرير هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13748 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی تھا جس کو لوگ گدھا کہتے تھے۔ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کبھی گھی کا کنستر بھیجتا تھا اور کبھی شہد کا کنستر بھیجتا تھا۔ جب اس کے پاس اس مال کا مالک آکر پیسوں کا تقاضا کرتا وہ وہ اس کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آجاتا اور عرض کرتا یا رسول اللہ ! اس کے مال کی قیمت ادا فرمادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف مسکرانے پر اکتفاء فرماتے اور اس کے مال کی قیمت ادا کرنے کا حکم دیدیتے اور وہ اس کو مل جاتی۔ ایک مرتبہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ اس نے شراب نوشی کی تھی۔ ایک آدمی نے اس کے متعلق کہا : اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ کتنی بار یہ شراب کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا جاچکا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو لعنت مت کرو۔ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ ابن ابی عاصم، مسند ابی یعلی، السنن لسعید بن منصور
13748- عن عمر أن رجلا كان يلقب حمارا وكان يهدي إلى النبي صلى الله عليه وسلم العكة من السمن والعكة من العسل، فإذا جاء صاحبه يتقاضاه جاء به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: رسول الله أعط ثمن متاعه، فما يزيد النبي صلى الله عليه وسلم أن يتبسم فيأمر به فيعطي فجيء به يوما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد شرب الخمر، فقال رجل: اللهم العنه ما أكثر ما يؤتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلعنوه، فإنه يحب الله ورسوله. "ابن عاصم ع ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13749 زین بن اسلم سے مروی ہے کہ ابن النعمان کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (شراب نوشی کی وجہ سے) لایا گیا آپ نے اس کو کوڑے لگوائے۔ پھر دوبارہ اس کو لایا گیا حتیٰ کہ آپ نے اس کو چار پانچ کوڑے لگوائے۔ ایک آدمی نے کہا : اللھم العنہ اے اللہ ! اس پر لعنت یہ کس قدر شراب نوشی کرتا ہے اور کس قدر کوڑے کھاتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہنے والے کو فرمایا : اس کو لعنت مت کر یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ مصنف عبدالرزاق
13749- عن زيد بن أسلم قال: أتي بابن النعمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم فجلده، ثم أتي به فجلده مرارا أربعا أو خمسا، فقال رجل: اللهم العنه ما أكثر ما يشرب؟ وما أكثر ما يجلد؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تلعنه فإنه يحب الله ورسوله. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الخمر۔۔۔شراب کے بارے میں
13750 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے قدامۃ بن مظعون کو بحرین کا گورنر بنادیا۔ قدامہ حفصہ اور عبداللہ بن عمر کے ماموں یعنی حضرت عمر (رض) کے سالے تھے۔ جارود جو قبیلہ عبدالقیس کے سردار تھے وہ بحرین سے حضرت عمر (رض) کے پاس تشریف لائے۔ انھوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! قدامہ نے شراب پی ہے اور نشہ میں دھت ہوئے ہیں۔ اور مجھ پر لازم ہے کہ جب میں حدود اللہ میں سے کوئی حد دیکھوں تو اس کو آپ تک پہنچاؤں ۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارے ساتھ اور کون گواہی دیتا ہے ؟ جارود بولے : ابو ہریرہ ! پوچھا : تم کس بات کی شہادت دیتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : میں نے قدامہ کو شراب پیتے نہیں دیکھا مگر نشہ کی حالت میں قے کرتے دیکھا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے اپنی طرف سے پوری طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر شہادت ادا کردی ہے (اب تم زیادہ مبالغہ نہ کرو پھر حضرت عمر (رض)) نے قدامہ کو بحرین سے آنے کا لکھا۔ وہ تشریف لے آئے۔ چارود ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اٹھے : اس پر کتاب اللہ (کا حکم) نافذ کیجئے۔ حضرت عمر (رض) نے جارود کو فرمایا تم گواہ ہو یا دشمن ہو ؟ جارود بولے : گواہ۔ آپ نے فرمایا : تم بولے : میں تمہیں ان کا دشمن سمجھتا ہوں اور (اس طرح تمہاری گواہی معتبر نہیں رہی جبکہ) تمہارے ساتھ صرف ایک آدمی نے گواہی دی ہے۔ جارود بولے : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں (کہ آپ ان پر اللہ کی حد کو جاری کریں) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم اپنی زبان تھام لو ورنہ میں تمہارے ساتھ براسلوک کروں گا۔ پھر حضرت ابو ہریرہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو فرمایا : اگر تم کو ہماری شہادت میں شک ہے تو ھندبنت الولید کے پاس پیغام بھیج کر ان سے معلوم کرلو، جو قدامہ کی بیوی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ہند بنت الولید کے پاس پیغام بھیجا اس نے بھی اپنے شوہر کے خلاف شہادت پیش کردی۔ تب حضرت عمر (رض) نے قدامہ کو فرمایا : میں آپ پر حد لگاؤں گا۔ قدامہ بولے : اگر میں نے شراب پی ہے جیسا کہ یہ کہہ رہے ہیں تب بھی تمہارے لیے مجھے حد لگانے کی گنجائش نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کیوں ؟ حضرت قدامہ بولے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
لیس علی الذین آمنووعملوا الصالحات جناح فیما طعموا
جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے عمل کیے ان پر کوئی حرج نہیں ہے اس میں جو انھوں نے کھایا۔
حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : تم تاویل کرنے میں غلطی کررہے ہو۔ اگر تم تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کی حرام کردہ شے سے اجتناب کرتے ۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا تم لوگ قدامہ کو حد لگانے میں کیا رائے دیتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جب تک یہ مریض ہیں ہمارا خیال ہے کہ تب تک آپ ان کو حد جاری نہ کریں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) چند ایام تک اس مسئلے میں خاموش رہے۔ پھر ایک دن صبح کو حد لگانے کا پختہ عزم کرلیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا : اب تمہارا کیا خیال ہے قدامہ کو حد لگانے کے متعلق ؟ ساتھیوں نے وہی بات کی کہ جب تک وہ بیمار ہیں ان کو حد جاری کرنا درست نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ اللہ سے ملاقات ہی کرلیں کوڑے کھاتے ہوئے یہ مجھے زیادہ پسند ہے بنسبت اس بات کے کہ ان کو حد لگانا میری گردن پر باقی رہ جائے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ ان کو حد لگائی جائے۔ اور آخر ان کو حد لگادی گئی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حج کیا تو قدامہ نے بھی ان کے ساتھ حج کیا لیکن ناراضگی اور ناگواری کے ساتھ۔ جب دونوں حضرات حج سے واپس ہوئے اور حضرت عمر (رض) سفیا مقام پر اترے تو وہاں آرام کرنے کے لیے سوگئے۔ جب نیند سے بیدار ہوئے تو بولے : قدامہ کو جلدی میرے پاس لاؤ۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک آنے والا میرے پاس آیا اور بولا قدامہ سے صلح کرلو کیونکہ وہ تمہارا بھائی ہے۔ لیکن جب لوگ ان کو بلانے گئے تو انھوں نے آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) خود ان کے پاس چل کر تشریف لے گئے اور ان کے لیے استغفار کیا۔ یہ ان کی باہمی صلح کا پہلا واقعہ تھا۔ مصنف عبدالرزاق، ابن وھب، السنن للبیہقی
لیس علی الذین آمنووعملوا الصالحات جناح فیما طعموا
جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے عمل کیے ان پر کوئی حرج نہیں ہے اس میں جو انھوں نے کھایا۔
حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : تم تاویل کرنے میں غلطی کررہے ہو۔ اگر تم تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کی حرام کردہ شے سے اجتناب کرتے ۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا تم لوگ قدامہ کو حد لگانے میں کیا رائے دیتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جب تک یہ مریض ہیں ہمارا خیال ہے کہ تب تک آپ ان کو حد جاری نہ کریں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) چند ایام تک اس مسئلے میں خاموش رہے۔ پھر ایک دن صبح کو حد لگانے کا پختہ عزم کرلیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا : اب تمہارا کیا خیال ہے قدامہ کو حد لگانے کے متعلق ؟ ساتھیوں نے وہی بات کی کہ جب تک وہ بیمار ہیں ان کو حد جاری کرنا درست نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ اللہ سے ملاقات ہی کرلیں کوڑے کھاتے ہوئے یہ مجھے زیادہ پسند ہے بنسبت اس بات کے کہ ان کو حد لگانا میری گردن پر باقی رہ جائے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ ان کو حد لگائی جائے۔ اور آخر ان کو حد لگادی گئی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حج کیا تو قدامہ نے بھی ان کے ساتھ حج کیا لیکن ناراضگی اور ناگواری کے ساتھ۔ جب دونوں حضرات حج سے واپس ہوئے اور حضرت عمر (رض) سفیا مقام پر اترے تو وہاں آرام کرنے کے لیے سوگئے۔ جب نیند سے بیدار ہوئے تو بولے : قدامہ کو جلدی میرے پاس لاؤ۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک آنے والا میرے پاس آیا اور بولا قدامہ سے صلح کرلو کیونکہ وہ تمہارا بھائی ہے۔ لیکن جب لوگ ان کو بلانے گئے تو انھوں نے آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) خود ان کے پاس چل کر تشریف لے گئے اور ان کے لیے استغفار کیا۔ یہ ان کی باہمی صلح کا پہلا واقعہ تھا۔ مصنف عبدالرزاق، ابن وھب، السنن للبیہقی
13750- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أن عمر استعمل قدامة بن مظعون على البحرين، وهو خال حفصة وعبد الله بن عمر، فقدم الجارود سيد عبد القيس على عمر فقال: يا أمير المؤمنين، إن قدامة شرب فسكر وإني إذا رأيت حدا من حدود الله حقا علي أن أرفعه إليك، فقال عمر: من يشهد معك؟ قال: أبو هريرة، فقال: بم تشهد؟ قال: لم أره يشرب ولكني رأيته سكران يقيء، فقال عمر: لقد تنطعت بالشهادة ثم كتب إلى قدامة أن يقدم عليه من البحرين، فقدم فقام إليه الجارود فقال: أقم على هذا كتاب الله، قال: أخصم أنت أم شهيد؟ قال: بل شهيد، قال: قد أديت الشهادة، فصمت الجارود حتى غدا على عمر، فقال: أقم على هذا حد الله، فقال عمر: ما أراك إلا خصما وما شهد معك إلا رجل فقال الجارود أنا أنشدك الله، فقال عمر: لتمسكن لسانك أو لأسؤنك، فقال أبو هريرة: إن كنت تشك في شهادتنا، فأرسل إلى ابنة الوليد فسلها وهي امرأة قدامة فأرسل إلى هند بنت الوليد ينشدها، فأقامت الشهادة على زوجها، فقال عمر لقدامة: إني حادك: فقال: لو شربت كما يقولون ما كان لكم أن تجلدوني، فقال عمر: لم؟ قال قدامة قال الله عز وجل: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} الآية، فقال عمر: إنك أخطأت التأويل، إن اتقيت الله اجتنبت ما حرم الله عليك، ثم أقبل عمر على الناس، فقال: ماذا ترون في جلد قدامة؟ فقال القوم: ما نرى أن تجلده ما كان مريضا فسكت عن ذلك أياما، ثم أصبح يوما وقد عزم على جلده، فقال لأصحابه: ما ترون في جلد قدامة، فقال القوم: ما نرى أن تجلده ما دام وجعا، فقال عمر: لأن يلقى الله على السياط أحب إلي من أن يلقى الله وهو في عنقي، ائتوني بسوط تام، فأمر عمر بقدامة فجلد فغاضب عمر قدامة وهجره،
فحج، وحج قدامة معه مغاضبا له، فلما قفلا من حجهما، ونزل عمر بالسقيا نام، فلما استيقظ من نومه، فقال: عجلوا علي بقدامة فائتوني به إني لأرى أن آتيا أتاني فقال: سالم قدامة فإنه أخوك، فلما أتوه أبى أن يأتي، فأتى عمر إليه، واستغفر له، فكان ذلك أول صلحهما. "عب وابن وهب هق"
فحج، وحج قدامة معه مغاضبا له، فلما قفلا من حجهما، ونزل عمر بالسقيا نام، فلما استيقظ من نومه، فقال: عجلوا علي بقدامة فائتوني به إني لأرى أن آتيا أتاني فقال: سالم قدامة فإنه أخوك، فلما أتوه أبى أن يأتي، فأتى عمر إليه، واستغفر له، فكان ذلك أول صلحهما. "عب وابن وهب هق"
তাহকীক: