কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৭১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13711 شہر بن حوشب، عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شراب نوشی کرے اس کو کوڑے مارو۔ پھر کرے پھر مارو۔ پھر کرے تو چوتھی بار میں قتل کردو۔ ابن جریر
13711- عن شهر بن حوشب عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من شرب الخمر فاجلدوه، فإن شربها فاجلدوه، فإن شربها فاقتلوه عند الرابعة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13712 عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : قیامت کے دن شراب نوش کو سیاہ چہرے والا لایا جائے گا، اس کی آنکھیں بھینگی ہوں گی، اس کی ایک جانب لٹکی ہوگی یا فرمایا : اس کی ایک جانب کی باچھ لٹکی ہوگی، اس کی زبان لٹک رہی ہوگی اور اس کا تھوک اس کے سینے پر بہہ رہا ہوگا، ہر شخص جو اس کو دیکھے گا اس سے نفرت کرے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13712- عن عبد الله بن عمر قال: يجيء يوم القيامة شارب الخمر مسودا وجهه، مزرقة عيناه، مائلا شقه، أو قال: شدقه مدليا لسانه يسيل لعابه على صدره يقذره كل من يراه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13713 (عبداللہ بن مسعود کے شاگرد) علقمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) ملک شام میں تھے۔ آپ (رض) نے مجھے فرمایا : ہمیں کچھ پڑھ کر سناؤ چنانچہ میں نے ان کو سورة یوسف پڑھ کر سنائی۔ ایک حاضر مجلس آدمی نے کہا : یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس کو فرمایا : افسوس ہے تجھ پر، میں نے یہ سورت اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھ کر سنائی تو آپ نے مجھے فرمایا : احسنت بہت اچھا پڑھا۔ پھر آپ (رض) نے اس آدمی میں شراب کی بو سونگھی تو فرمایا تو ناپاک چیز پیتا ہے اور قرآن کو جھٹلاتا ہے۔ میں اپنی جگہ سے نہ اٹھوں گا جب تک کہ تجھے حد جاری نہ کردی جائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13713- عن علقمة قال: كان ابن مسعود بالشام قال: قال عبد الله اقرأ علينا فقرأت سورة يوسف، فقال رجل من القوم: ما هكذا أنزلت؟ فقال عبد الله: ويحك لقد قرأتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: أحسنت، ثم وجدت منه ريح خمر، فقال عبد الله: تشرب الرجس وتكذب بالقرآن لا أقوم حتى تجلد فجلد الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13714 عبدالرحمن بن الزھر سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے سال دیکھا، اس وقت میں نوجوان لڑکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خالد بن الولید کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شراب نوش کو لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا انھوں نے اسی سے اس کو مارنا شروع کردیا، کسی نے کوڑے سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے اپنی لاٹھی سے مارا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مٹی کی مٹھی پھینکی۔ پھر جب حضرت ابوبکر (رض) کا دور مبارک آیا تو ایک شرابی کو لایا گیا آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنا مارا ہے ؟ صحابہ نے سوچ بچار کرکے بتایا کہ چالیس ضربیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے چالیس ضربیں لگوائیں۔ پھر حضرت عمر (رض) کے دور مبارک میں (سپہ سالار) حضرت خالد بن ولید نے عمر (رض) کو لکھا کہ لوگ اس سا کو کم اور حقیر خیال کرکے شراب میں منہمک ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے پاس مہاجرین اولین بھی بیٹھے تھے وہ کہنے لگے : ہمارا خیال ہے کہ آپ اس حد میں اسی کوڑے پورے کردیں۔ حضرت علی (رض) نے بھی اس کی تائید میں فرمایا : آدمی جب شراب پیتا ہے تو ہرزہ سرائی کرتا ہے اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اور بہتان کی سزا (اسی کوڑے ہے یہی آپ) پوری کردیں۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر
13714- عن عبد الرحمن بن الأزهر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح وأنا غلام شاب يسأل عن منزل خالد بن الوليد وأتى بشارب، وأمرهم فضربوه بما في أيديهم، فمنهم من ضرب بالسوط، ومنهم من ضرب بالنعل، ومنهم من ضرب بالعصا، وحثا عليه النبي صلى الله عليه وسلم التراب فلما كان أبو بكر فأتي بشارب فسأله أصحابه كم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي ضربه فحرزوه أربعين فضرب أبو بكر أربعين، ثم كتب خالد ابن الوليد إلى عمر أن الناس قد انهمكوا في الشراب، وتحاقروا العقوبة، وعنده المهاجرون الأولون فقالوا: نرى أن تتم له الحد ثمانين، قال: وقال علي: إذا شرب هذى، وإذا هذى افترى فأتم له الحد. "ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13715 عبدالرحمن بن ازھر (رض) سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گویا دیکھ رہا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ حنین کے دن لوگوں کے جلو میں خالد بن ولیدکا کجاوہ (عارضی ٹھکانا ) تلاش کررہے ہیں۔ اسی اثناء میں ایک آدمی جس نے شراب پی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آیا ۔ آپ نے لوگوں کو اشارہ فرمایا : اس کو مارو۔ پس کسی نے اس کو جوتوں سے مارا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی کے ہاتھ میں کھجور کی تازہ چھڑی تھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود زمین میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور اس کے چہرے پردے ماری۔ ابن جریر
13715- عن عبد الرحمن بن أزهر قال: كأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الرجال يلتمس رحل خالد بن الوليد يوم حنين فبينا هو كذلك إذا برجل قد شرب الخمر فقال للناس: اضربوه فمنهم من ضربه بالنعال، ومنهم من ضربه بالعصا، ومنهم من ضربه بالمتيخة يريد الجريدة الرطبة، ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ترابا من الأرض فرمى به وجهه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13716 محمد بن کعب القرظی سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن سہل الانصاری (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں غزوہ کیا۔ اس وقت حضرت معاویۃ (رض) ملک شام پر امیر تھے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) کے سامنے سے شراب کے مٹکے گزرے جو کہیں اٹھا کرلے جائے جارہے تھے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) ان کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھے اور نیزے کے ساتھ ہر مٹکے کو توڑتے گئے۔ حضرت امیر معاویہ کے کارندوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ آپ کی خبر حضرت امیر معاویہ کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ بوڑھے آدمی ہیں، ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میری عقل اپنی جگہ پر ہے، لیکن بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو منع فرمایا ہے کہ ہم اس کو اپنے شکموں میں یا اپنے پینے کے برتنوں میں ڈالیں، اور میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر میں زندہ رہا حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہوئی ایک بات اگر میں نے معاویہ میں نوٹ کرلی تو میں ان کا شکم چاک کردوں گا یا پھر میری موت ہی آجائے گی۔
الحسن بن سفیان ، ابن مندہ، ابن عساکر
الحسن بن سفیان ، ابن مندہ، ابن عساکر
13716- عن محمد بن كعب القرظي قال: غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري في زمن عثمان، ومعاوية أمير على الشام، فمرت به روايا خمر تحمل، فقام إليها عبد الرحمن برمحه، فبقر كل رواية منها فناوشه2 غلمانه حتى بلغ شأنه معاوية، فقال: دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فقال: كذب والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخله بطوننا واسقيتنا، وأحلف بالله لئن أنا بقيت حتى أرى في معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبقرن1 بطنه أو لأموتن دونه. "الحسن بن سفيان وابن منده كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13717 عقبۃ بن الحارث سے مروی ہے کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب زدہ حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ جو اصحاب اس وقت کمرے میں موجود تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ اس کو ماریں، میں بھی اس کو مارنے والوں میں شامل تھا۔ چنانچہ ہم نے اس کو جوتوں اور چھڑیوں سے مارا۔ ابن جریر
13717- عن عقبة بن الحارث قال: أتي بالنعيمان أو ابن النعيمان شاربا فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان في البيت أن يضربوه فكنت أنا فيمن ضربه، فضربناه بالنعال والجريد. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13718 حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو جس نے شراب نوشی کی تھی، لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین کو اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ لوگوں نے اسے ہاتھوں اور چھڑیوں سے مارا۔ میں بھی انھیں میں شامل تھا۔
الجامع لعبدالرزاق
الجامع لعبدالرزاق
13718- عن عقبة بن عامر قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل شرب خمرا فأمر من كان عنده فضربوه بالأيدي وبجريد النخل فكنت فيهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13719 عیاض بن غنم سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا : جس نے مے نوش کی چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی، اگر وہ مرگیا تو جہنم میں جائے گا۔ اگر اس نے توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالیں گے، اگر اس نے دوسری مرتبہ شراب نوشی کی تو پھر یہی صورت ہے۔ لیکن اگر اس نے تیسری اور چوتھی مرتبہ بھی مے نوشی کی تو اللہ پر لازم ہے کہ اس کو ردغۃ الخبال سے پلائے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! ردغۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : جہنمیوں کے خون پیپ (اور غلاظت) کا نچوڑ۔ مسد ابی یعلی، ابن عساکر
13719- عن عياض بن غنم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين يوما، فإن مات فإلى النار، فإن تاب قبل الله منه، فإن شرب الثانية فكذلك، فإن شرب الثالثة والرابعة كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة2 الخبال، قيل: يا رسول الله وما ردغة الخبال؟ قال: عصارة أهل النار. "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13720 قبیصہ بن ذؤیب سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو شراب نوشی کے جرم میں تین مرتبہ کوڑے لگوائے پھر چوتھی مرتبہ بھی اس کو اسی وجہ سے لایا گیا تو آپ نے (پہلے کی طرح) اس کو مارا اور اس پر کچھ زیادتی نہیں کی۔ الجامع العبد الرزاق
13720- عن قبيصة بن ذويب أن النبي صلى الله عليه وسلم جلد رجلا في الخمر ثلاث مرات، ثم أتي به الرابعة فضربه أيضا ولم يزد على ذلك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13721 محمد بن راشد، عبدالکریم سے اور وہ قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو شراب نوشی کے جرم میں چار مرتبہ سزادی۔ حضرت عمر (رض) نے (اپنے دور خلافت میں) ابو محجن ثقفی کو آٹھ بار کوڑے لگوائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13721- عن محمد بن راشد عن عبد الكريم بن أمية عن قبيصة ابن ذويب أن النبي صلى الله عليه وسلم ضرب رجلا في الخمر أربع مرات، ثم إن عمر بن الخطاب ضرب أبا محجن الثقفي ثماني مرات. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13722 نافع بن کیسان سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کو اپنا یہ واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ وہ شراب اٹھائے مدینہ جارہا تھا اور اس سے قبل شراب کی حرمت نازل ہوچکی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے دریافت فرمایا : اے ابونافع ! تم کیا اٹھا کرلے جارہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : شراب ہے، یارسول اللہ ! اور شاید یہ حرام ہوچکی ہے ؟ تو کیا یارسول اللہ ! میں اس کو یہود کے ہاتھوں نہ فروخت کردوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا فروخت کرنے والا بھی اس کو پینے والے کی طرح ہے۔ روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی حرام ہوچکی ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہوچکی ہے۔ چنانچہ ابونافع نے شراب کے مٹکے بطحان وادی میں توڑ ڈالے۔ البغوی، الرویانی، ابن مندہ، الخطیب فی المتفق ، ابن عساکر
13722- عن نافع بن كيسان أن أباه أخبره أنه حمل خمرا إلى المدينة وذلك بعد ما حرمت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما حملت يا أبا نافع؟ قال: خمرا يا رسول الله، فشعرت أنها حرمت بعدك؟ قال: أفلا أبيعها من اليهود يا رسول الله؟ قال: إن بائعها كشاربها، وفي لفظ قال: إنها قد حرمت وحرم ثمنها، فشق أبو نافع زقاقها1 ببطحان. "البغوي والروياني وابن منده خط في المتفق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13723 حضرت معاویۃ بن ابی سفیان (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شراب نوشی کرے اس کو کوڑے مارو۔ تین مرتبہ ایسا ہی فرمایا پھر فرمایا : اگر چوتھی بار شراب نوشی کرے تو اس کو قتل کرڈالو۔ الجامع لعبد الرزاق
13723- عن معاوية بن أبي سفيان عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من شرب الخمر فاجلدوه، قالها ثلاثا، قال: إن شربها أربع مرات، فاقتلوه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13724 ابوامامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی پر چالیس ضربیں ماریں۔ ابن جریر
13724- عن أبي أمامة أن النبي صلى الله عليه وسلم جلد في الخمر أربعين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13725 عن معمر عن سہل عن ابی صالح عن ابیہ عن ابوہریرہ کی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب لوگ شراب نوشی کریں تو ان کو کوڑے مارو۔ تین مرتبہ آپ نے ایسا ہی فرمایا پھر فرمایا : اگر چوتھی بار شراب پئیں تو ان کو قتل کردو۔
معمر کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث ابن المنکدر سے ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : قتل کرنا متروک ہوچکا ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ابن النعیمان کو لایا گیا تو آپ نے ان کو کوڑے مارے پھر کئی بار لائے گئے اور چوتھی یا اس سے زائد مرتبہ بھی آپ نے ان کو کوڑے مارے۔
الجامع لعبد الرزاق
معمر کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث ابن المنکدر سے ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : قتل کرنا متروک ہوچکا ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ابن النعیمان کو لایا گیا تو آپ نے ان کو کوڑے مارے پھر کئی بار لائے گئے اور چوتھی یا اس سے زائد مرتبہ بھی آپ نے ان کو کوڑے مارے۔
الجامع لعبد الرزاق
13725- عن معمر عن سهل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا شربوا فاجلدوهم قالها ثلاثا، قال: فإذا شربوا الرابعة فاقتلوهم، قال معمر فذكرت ذلك لابن المنكدر فقال: قد ترك القتل، قد أتي النبي صلى الله عليه وسلم بابن النعيمان، فجلده، ثم أتي به فجلده الرابعة أو أكثر. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13726 حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مے نوش لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا اور انھوں نے اس کو مارا۔ کسی نے اپنے جوتے سے مارا، کسی نے ہاتھوں سے مارا اور کسی نے اپنے کپڑے سے مارا۔ آخر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رک جاؤ۔ پھر فرمایا : اب اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے شرم دلاؤ۔ چنانچہ لوگ اس کو کچھ کچھ کہنے لگے : کیا تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرم نہیں آتی۔ ایسا کام کرتا ہے ! پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چھوڑ دیا۔ آخر جب وہ منہ پھیر کر چلا گیا تو لوگ اس کو بددعا دینے اور برا بھلا کہنے لگے۔ کوئی بولا : اللھم اخزہ اللھم العنہ اے اللہ ! اس کو رسوا کر، اس پر لعنت کر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں نہ کہو اور اپنے کے خلاف شیطان کی مدد گار نہ بنو۔ بلکہ یوں کہو : اللھم اغفرلہ اللھم اھدہ، اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس کو ہدایت بخش۔ دوسرے الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : شیطان کے مددگار نہ بنو بلکہ یوں کہو : رحمک اللہ اللہ تجھ پر رحم کرے۔ ابن جریر
13726- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بشارب فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه فضربوه، فمنهم من ضربه بنعله، ومنهم من ضربه بيده، ومنهم بثوبه، ثم قال: ارفعوا ثم أمرهم فبكتوه فقالوا: ألا تستحي من رسول الله صلى الله عليه وسلم تصنع هذا ثم أرسله، فلما أدبر وقع القوم يدعون عليه ويسبونه، يقول القائل: اللهم اخزه، اللهم العنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقولوا هكذا ولا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم، ولكن قولوا: اللهم اغفر له اللهم اهده وفي لفظ لا تقولوا: هكذا لا تعينوا الشيطان ولكن قولوا: رحمك الله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13727 یحییٰ بن کثیر سے مروی ہے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی پیش کیا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین کو حکم دیا اور ہر ایک نے دو دو ضربیں اپنے اپنے جوتے یا کوڑے یا جو کچھ بھی جس کے پاس تھا اس کے ساتھ ماریں۔ اور اس وقت یہ لوگ بیس افراد تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13727- عن يحيى بن كثير قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل شرب الخمر فأمر النبي صلى الله عليه وسلم من كان عنده فضربه كل واحد منهم ضربتين بنعله أو سوطه، أو ما كان في يده، وهم حينئذ عشرون رجلا أو قريبه."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13728 محمد بن راشد سے مروی ہے کہ میں نے مکحول (رح) سے سنا وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شراب نوشی کرے اس کو مارو۔ پھر چوتھی بار ارشاد فرمایا جو شراب پئے اس کو قتل کردو۔ الجامع لعبد الرزاق
13728- عن محمد بن راشد قال: سمعت مكحولا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شرب الخمر فاضربوه ثم قال في الرابعة: من شرب الخمر فاقتلوه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13729 حضرت حسن سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی میں اسی ضربیں ماریں۔ الجامع لعبد الرزاق
13729- عن الحسن أن النبي صلى الله عليه وسلم ضرب في الخمر ثمانين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13730 حضرت عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے کہ جو شخص شراب پیتا تھا لوگ اس کو اپنے ہاتھوں، جوتوں اور تھپڑوں سے مارتے تھے، عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عہد ابی بکر اور عہد فاروقی کے کچھ حصے میں یہی طریقہ رائج رہا۔ پھر یہ خوف ہوا کہ کہیں لوگ آدمی کو مار نہ ڈالیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے چالیس کوڑے مقرر کردیئے۔ لیکن جب لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس سزا کے باوجود (شراب نوشی سے) باز نہیں آتے تو پھر ساٹھ کوڑے طے کردیئے پھر جب دیکھا کہ اس سے بھی لوگ باز نہیں آتے تو اسی کوڑے مقرر کردیئے اور فرمایا یہ حدود میں سے ادنیٰ ترین حد ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13730- عن عبيد بن عمير قال: كان الذي يشرب الخمر يضربونه بأيديهم ونعالهم ويصكونه1 فكان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وبعض إمارة عمر، ثم خشي أن يغتال الرجال، فجعله أربعين سوطا فلما رآهم لا يتناهون جعله ستين، فلما رآهم لا يتناهون جعله ثمانين، ثم قال: هذا أدني الحدود. "عب".
তাহকীক: