কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৬৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13691 حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ارشاد فرمایا : جو بھی حدود اللہ میں سے کسی حد میں مرے مجھے اپنے دل میں اس کی طرف سے کوئی کھٹکا اور تردد نہیں ہوتا (کیونکہ اس کا اللہ نے حکم دیا ہے) لیکن شراب نوشی کی حد میں جو مرجائے مجھے اس کا خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ حد ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مقرر کی ہے۔ اسی وجہ سے جو اس میں مرجائے میں اس کی جان کا فدیہ (یعنی دیت اور خون بہا) دوں گا۔ بیت المال سے یا فرمایا امام (حاکم) کے قبیلے سے۔
حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ شک مجھے ہے کہ آپ (رض) نے کیا فرمایا تھا۔
الشافعی، السنن للبیہقی
حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ شک مجھے ہے کہ آپ (رض) نے کیا فرمایا تھا۔
الشافعی، السنن للبیہقی
13691- عن الحسن أن علي بن أبي طالب قال: ما أحد يموت في حد من الحدود فأجد في نفسي منه شيئا إلا الذي يموت في حد الخمر، فإنه شيء أحدثناه بعد النبي صلى الله عليه وسلم، فمن مات منه فديته إما قال في بيت المال وإما قال على عاقلة الإمام. قال الإمام الشافعي: أنا أشك. "الشافعي هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13692 عرفجہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک آدمی کو شراب نوشی میں چالیس کوڑے مارے لیکن ایسے کوڑے کے ساتھ جس کے دو منہ تھے۔ السنن للبیہقی
13692- عن عرفجة أن عليا جلد رجلا في الخمر أربعين جلدة بسوط له طرفان. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13693 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، حضرت علی (رض) کو کسی نے کہا : کیا شراب نوشی زنا اور چوری سے بھی بڑھ کر سخت ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ہاں کیونکہ شراب نوش (نشے میں) زنا کر بیٹھتا ہے ، چوری کرلیتا ہے، قتل کردیتا ہے اور نماز چھوڑ دیتا ہے۔ ابن السنی فی کتاب الاخوۃ والاخوات
13693- عن علي أنه قيل له: إن شرب الخمر أشد من الزنا والسرقة؟ قال: نعم إن شارب الخمر يزني ويسرق ويقتل ويدع الصلاة. "ابن السني في كتاب الأخوة والأخوات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13694 ازھر بن عبدبن عوف الزہری (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مے نوش کو لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت خیبر مقام پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے چہرے پر مٹی ماری پھر اپنے اصحاب کو ہاتھوں کی چھڑی اور جوتوں کے ساتھ اسے مارنے کا حکم دیا حتیٰ کہ آپ نے خود ہی حکم فرمایا۔ ٹھہر جاؤ اور پھر اصحاب کرام ٹھہر گئے پھر (اسی طرح آپ شرب خمر پر سزا دیتے رہے حتیٰ کہ) آپ کی وفات ہوگئی۔ اور یہی آپ کا طریقہ رہا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے شراب نوشی میں چالیس کوڑے مارے، پھر آخر زمانہ خلافت تک اسی کوڑے مارتے رہے۔
الکبیر للطبرانی، ابونعیم
الکبیر للطبرانی، ابونعیم
13694- عن أزهر بن عبد بن عوف الزهري رضي الله عنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بشارب وهو بخيبر3 فحثا في وجهه التراب، ثم أمر أصحابه فضربوه بنعالهم، وبما كان في أيديهم، حتى قال ارفعوا فرفعوا فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وتلك سنته، ثم جلد أبو بكر في الخمر أربعين. ثم جلد عمر أربعين صدرا من امارته ثم جلد ثمانين في؟؟ اخلافته. "طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13695 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو چھڑیوں کے ساتھ چالیس کے قریب ضربیں ماریں۔ پھر یہی طریقہ حضرت ابوبکر (رض) نے اختیار فرمایا۔ جب حضرت عمر (رض) کا دور آیا تو آپ نے لوگوں سے مشورہ لیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہے۔ پس حضرت عمر (رض) نے یہی مقرر فرمادی۔ ابن جریر
13695- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي برجل قد شرب الخمر فضربه بجريدتين نحوا من أربعين، ثم صنع أبو بكر ذلك، فلما كان عمر استشار الناس، فقال له عبد الرحمن بن عوف: أخف الحدود ثمانون ففعل ذلك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13696 عبدالرحمن بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ شراب نوشی سے اجتناب کرو۔ بیشک یہ ام الخبائث ہے۔ تم سے پہلے زمانے میں ایک عبادت گزار آدمی تھا جو لوگوں سے دور رہتا تھا۔ ایک گمراہ عورت اس پر فریفتہ ہوگئی۔ اس نے اس عبادت گزار کے پاس اپنی باندی بھیجی۔ باندی نے آکر عبادت گزار کو کہا : وہ مالکن آپ کو بلاتی ہے شہادت کے لئے۔ چنانچہ عبادت گزار باندی کے ساتھ ہولیا۔ باندی محل میں پہنچ کر ہرگز رتے دروازے کے پیچھے سے بند کرتی گئی حتیٰ کہ عبادت گزار کو اپنی آقا کے پاس پہنچا دیا جو خوبصورت تھی، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور ایک شیشے کا برتن شراب سے بھرا ہوا تھا۔ عورت بولی : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو کسی شہادت کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ آپ میرے ساتھ ہم بستر ہوں، یا اس شراب کا ایک جام پی لیں۔ یا اس بچے کو قتل کردیں۔ عبادت گزارنے (سوچ بچار کے بعد) کہا کہ مجھے اس شراب کا ایک جام پلادو۔ لیکن ایک جام پینے کے بعد اس نے خود ہی مزید پینے کی تمنا کی حتیٰ کہ وہ عورت کے ساتھ آکر بدکاری کا مرتکب بھی ہوگیا اور وہ بچے کو بھی قتل کرڈالا۔
پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : لہٰذا اس شراب سے بچو۔ اللہ کی قسم ! یہ اور ایمان دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، الایہ کہ ان سے کوئی ایک نکل جائے تو دوسرا رہ سکتا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، النسائی، شعب الایمان للبیہقی، السنن للبیہقی ، رستۃ فی الایمان، رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر، ابن ابی عاصم، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعیدبن منصور مرفوعاً ۔
سعید بن منصور فرماتے ہیں : امام دارقطنی (رح) سے اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : عمر بن سعید نے زہری سے اس کو مسنداً بیان کیا ہے اور یونس، معمر اور شعیب وغیرھم نے زہری سے موقوفاً بیان کیا ہے اور موقوف ہی درست ہے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں موقوف زیادہ محفوظ ہے۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس کا مرفوع ہونا واہیات میں ذکر کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی
پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : لہٰذا اس شراب سے بچو۔ اللہ کی قسم ! یہ اور ایمان دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، الایہ کہ ان سے کوئی ایک نکل جائے تو دوسرا رہ سکتا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، النسائی، شعب الایمان للبیہقی، السنن للبیہقی ، رستۃ فی الایمان، رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر، ابن ابی عاصم، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعیدبن منصور مرفوعاً ۔
سعید بن منصور فرماتے ہیں : امام دارقطنی (رح) سے اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : عمر بن سعید نے زہری سے اس کو مسنداً بیان کیا ہے اور یونس، معمر اور شعیب وغیرھم نے زہری سے موقوفاً بیان کیا ہے اور موقوف ہی درست ہے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں موقوف زیادہ محفوظ ہے۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس کا مرفوع ہونا واہیات میں ذکر کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی
13696- عن عبد الرحمن بن الحارث قال: سمعت عثمان يقول: اجتنبوا الخمر فإنها أم الخبائث، إنه كان رجل ممن خلا قبلكم يتعبد ويعتزل الناس فعلقته امرأة غوية فأرسلت إليه جاريتها، فقالت له: إنها تدعوك للشهادة، فانطلق مع جاريتها، فطفقت كلما دخل بابا أغلقته دونه، حتى أفضى إلى امرأة وضيئة عندها غلام وباطية خمر1 فقالت: والله ما دعوتك للشهادة لكني دعوتك لتقع علي أو تشرب من هذا الخمر كأسا، أو تقتل هذا الغلام، قال: فاسقيني من هذا الخمر كأسا، فقال: زيديني، فلم يرم حتى وقع عليها وقتل النفس فاجتنبوا الخمر فإنها والله لا تجتمع والإيمان أبدا إلا أوشك أحدهما أن يخرج صاحبه. "عب ن هب ق ورستة في الإيمان ورواه ابن أبي الدنيا في ذم المسكر وابن أبي عاصم عب ق هب ص" مرفوعا وقال "ص" سئل الدارقطني عنه فقال: أسنده عمر بن سعيد عن الزهري ووقفه يونس ومعمر وشعيب وغيرهم عن الزهري والموقوف هو الصواب وقال "هب": الموقوف هو المحفوظ وأورد ابن الجوزي المرفوع في الواهيات وصحح الوقف "هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13697 قال ابونعیم فی الحلیۃ : اشھدب اللہ واشھدللہ لقد حدثنی علی بن محمد القزوینی قال اشھد باللہ واشھدللہ۔
امام ابونعیم (رح) حلیۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے علی بن محمد القزوینی نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں : میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں۔
لقد حدثنی محمد بن احمد بن قضاعۃ قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی القاسم بن العلاء الھمدانی قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی الحسن بن علی قال : اشھدب اللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن محمد قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی محمد بن علی قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن موسیٰ الرضا قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی موسیٰ بن جعفر قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی جعفر بن محمد قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی محمد بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن الحسین قال اشد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی الحسین بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ، لقد حدثنی علی بن ابی طالب قال اشھد باللہ واشھدللہ لقد حدثنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔
یعنی سب راوی اپنے مروی عنہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ وہ اشھد باللہ اور اشھدللہ کے تاکیدی الفاظ کے ساتھ یہ روایت نقل کرتے ہیں۔ اور قاسم بن العلاء کے بعد آخری راوی حضرت علی (رض) تک تمام راوی باپ دادا ہیں اور آل علی ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ ہی کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا : مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! شراب کا عادی بت کی عبادت کرنے والے کی مثل ہے۔ قال ابونعیم صحیح ثابت (ابن النجار) روایت صحیح ہے۔
امام ابونعیم (رح) حلیۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے علی بن محمد القزوینی نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں : میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں۔
لقد حدثنی محمد بن احمد بن قضاعۃ قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی القاسم بن العلاء الھمدانی قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی الحسن بن علی قال : اشھدب اللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن محمد قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی محمد بن علی قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن موسیٰ الرضا قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی موسیٰ بن جعفر قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی جعفر بن محمد قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی محمد بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن الحسین قال اشد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی الحسین بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ، لقد حدثنی علی بن ابی طالب قال اشھد باللہ واشھدللہ لقد حدثنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔
یعنی سب راوی اپنے مروی عنہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ وہ اشھد باللہ اور اشھدللہ کے تاکیدی الفاظ کے ساتھ یہ روایت نقل کرتے ہیں۔ اور قاسم بن العلاء کے بعد آخری راوی حضرت علی (رض) تک تمام راوی باپ دادا ہیں اور آل علی ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں اور اللہ ہی کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا : مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! شراب کا عادی بت کی عبادت کرنے والے کی مثل ہے۔ قال ابونعیم صحیح ثابت (ابن النجار) روایت صحیح ہے۔
13697- قال أبو نعيم في الحلية: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني علي بن محمد القزويني قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني محمد بن أحمد بن قضاعة قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني القاسم بن العلاء الهمداني قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني الحسن بن علي قال: أشهد بالله، وأشهد لله لقد حدثني أبي علي بن محمد قال أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي محمد بن علي قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي علي بن موسى الرضا قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني أبي موسى بن جعفر قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي جعفر بن محمد قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي محمد بن علي قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني أبي علي ابن الحسين قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي الحسين بن علي قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني علي بن أبي طالب قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: حدثني جبريل قال: يا محمد،إن مدمن الخمر كعابد وثن. "قال أبو نعيم: صحيح ثابت" "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13698 انبانا یوسف بن المبارک بن کامل الخفاف قال : اشھدب اللہ واشھد للہ لقد اخبرنی محمد بن عبدالباقی الانصاری قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابوبکر احمد بن ثابت الخطیب قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنا القاضی ابوالعلاء محمد بن علی الواسطی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابو محمد عبداللہ بن احمد بن عبداللہ بن الملیح السجزی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی علی بن محمد الھروی قال : اشھد باللہ واشھد للہ، لقد حدثنی عبدالسلام بن صالح قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی موسیٰ بن جعفر قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی جعفر بن محمد قال اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی محمد بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی علی بن الحسین قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی الحسین بن علی قال : اشھد باللہ واشھد للہ لقد حدثنی ابی علی بن ابی طالب۔
مذکورہ روایت کی سند کے مثل مروی ہے
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں اللہ کی قسم ! شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں۔ کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا : وہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے میکائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا انھوں نے فرمایا : میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے عزرائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں : میں اللہ کی قسم ! شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ (جل شانہ) نے خود فرمایا :
مدمن خمر کعابد وثن،
شراب کا عادی بت کی عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔ النسائی
مذکورہ روایت کی سند کے مثل مروی ہے
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں اللہ کی قسم ! شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں۔ کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا : وہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے میکائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا انھوں نے فرمایا : میں اللہ کی قسم شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ مجھے عزرائیل (علیہ السلام) نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں : میں اللہ کی قسم ! شہادت دیتا ہوں اور اللہ کے لیے شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ (جل شانہ) نے خود فرمایا :
مدمن خمر کعابد وثن،
شراب کا عادی بت کی عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔ النسائی
13698- أنبأنا يوسف بن المبارك بن كامل الخفاف قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد أخبرني محمد بن عبد الباقي الأنصاري قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبو بكر أحمد بن ثابت الخطيب قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثنا القاضي أبو العلاء محمد بن علي الواسطي قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبو محمد عبد الله بن أحمد بن عبد الله بن المليح السجزي قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني علي بن محمد الهروي قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني عبد السلام بن صالح قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي موسى بن جعفر قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي جعفر بن محمد قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني أبي محمد بن علي قال: أشهد بالله وأشهد لله، لقد حدثني علي بن الحسين قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي الحسين بن علي قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني أبي علي بن أبي طالب قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني جبرئيل فقال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني ميكائيل وقال: أشهد بالله وأشهد لله لقد حدثني عزرائيل وقال: أشهد بالله وأشهد لله أن الله تعالى قال: مدمن خمر كعابد وثن. "ن"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13699 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ نے مجھے سارے جہان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا اور مجھے اس لیے بھیجا کہ میں باجوں، گاجوں، بتوں اور جاہلیت کی باتوں کو مٹادوں ختم کردوں۔ اوس بن سمعا بولے : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں توراۃ میں بھی اس کو پچیس مرتبہ پاتا ہوں کہ اس کو حرام کہا گیا۔ ویل لشارب الخمر، ویل لشعارب الخمر۔ شراب نوشی کے لیے ہلاکت ہے شراب نوش کے لیے ہلاکت ہے۔ میں توراۃ میں لکھا پاتا ہوں ! اللہ پر یہ لازم ہے کہ اس مے کو اس کے بندوں میں سے جو پئے گا اللہ اس کو طینۃ الخبال ضرور پلائے گا۔ لوگوں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا : اے ابوعبداللہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم کا خون پیپ وغیرہ۔
الحسین بن سفیان، ابن مندہ، ابونعیم
کلام : امام ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں : اس کی اسناد قوی نہیں ہے۔ کنز ج 5
الحسین بن سفیان، ابن مندہ، ابونعیم
کلام : امام ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں : اس کی اسناد قوی نہیں ہے۔ کنز ج 5
13699- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بعثني الله هدى ورحمة للعالمين وبعثني لأمحق المزامير والمعازف والأوثان وأمر الجاهلية، فقال أوس بن سمعان: والذي بعثك بالحق إني لأجدها في التوراة محرمة خمسا وعشرين مرة ويل لشارب الخمر ويل لشارب الخمر، إني لأجد في التوراة أن حقا على الله أن لا يشربها عبد من عبيده إلا سقاه الله من طينة الخبال، قالوا: ما طينة الخبال يا أبا عبد الله؟ قال: صيد أهل النار. "الحسين بن سفيان وابن منده وأبو نعيم" قال ابن عبد البر: ليس إسناده بالقوي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13700 ابی الجویریہ الجرمی سے منقول ہے۔ فرمایا : میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے الباذق کے بارے میں سوال کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : محمد الباذق سے سبقت لے گئے۔ مصنف لا بن ابی شیبہ
فائدہ : الباذق یعنی باذق، انگور کے شیرے کو کہتے ہیں جو تھوڑا سا پکایا ہوا ہو۔ یعنی محمد کے لیے باذق حلال ہے اگر وہ نشہ آور نہ ہو۔ یہ نبیذ کی قبیل سے تو نہیں لیکن شراب میں داخل نہیں
فائدہ : الباذق یعنی باذق، انگور کے شیرے کو کہتے ہیں جو تھوڑا سا پکایا ہوا ہو۔ یعنی محمد کے لیے باذق حلال ہے اگر وہ نشہ آور نہ ہو۔ یہ نبیذ کی قبیل سے تو نہیں لیکن شراب میں داخل نہیں
13700- عن أبي الجويرية الجرمي قال: سألت ابن عباس عن الباذق، فقال: سبق محمد الباذق. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13701 ابن عباس (رض) سے باذق کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : محمد باذق سے سبقت لے گئے اور جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13701- عن ابن عباس أنه سئل عن الباذق؟ فقال: سبق محمد الباذق وما أسكر فهو حرام. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13702 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی کے اندر کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ کہ کس حد تک پینے پر حد نافذ ہوگی ایک آدمی نے شراب نوشی کرلی۔ وہ راستے میں لڑکھڑاتا ہوا ملا۔ اس کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے کوڑے مارنے کا حکم دیدیا۔ چنانچہ جب وہ حضرت عباس (رض) کے گھر کے سامنے سے گزرنے لگا تو لڑکھڑاتا ہوا ان کے گھر میں جاگھسا اور حضرت عباس (رض) کو پیچھے سے چمٹ گیا۔ یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذکر کی گئی تو آپ ہنسنے لگے اور فرمایا : بغیر پوچھ تاچھ کے لپٹ گیا۔
ابن جریر
ابن جریر
13702- عن ابن عباس قال: لم يقت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر حدا فشرب رجل فلقي في فج يميل فانطلق به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأمر به أن يجلد فلما حاذى دار العباس انفلت فدخل الدار فالتزم العباس من ورائه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك، وقال: أفعلها ولم يسأل عنه. "ابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13703 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی کے اندر حد نافذ نہیں کی سوائے آخری زمانے کے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب غزوہ تبوک فرمایا تو آپ کے حجرے پر رات کے وقت ایک نشہ میں دھت آدمی آپڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی آدمی اٹھے اور اس کو پکڑ کر اس کے کجاوے تک چھوڑ آئے۔ ابن جریر
13703- عن ابن عباس قال: ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر إلا أخيرا لقد غزا غزوة تبوك فغشي حجرته من الليل سكران فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليقم إليه رجل فليأخذ بيده حتى يرده إلى رحله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13704 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے شراب نوشی کی اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی چالیس روز تک۔ اگر اس نے توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ تین مرتبہ ایسا ہی فرمایا اگر پھر (چوتھی بار) شراب نوشی کرے گا تو اللہ پر لازم ہے کہ اس کو نہرالخبال سے پلائے ۔ پوچھا گیا : نہر الخبال کیا ہے ؟ فرمایا : اہل جہنم کا خون پیپ (کا ملغوبہ) ۔ الجامع لعبد الرزاق
13704- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من شرب الخمر لم تقبل صلاته أربعين ليلة، فإن تاب تاب الله عليه قالها ثلاثا، فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من نهر الخبال، قيل: وما نهر الخبال؟ قال: صديد أهل النار. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13705 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جس نے شراب نوشی کی اللہ پاک اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ فرمائے گا اور اگر وہ ان چالیس ایام میں مرگیا تو جہنم میں داخل ہوگا اور اللہ پاک اس کی طرف نظر نہ فرمائیں گے۔ الجامع لعبد الرزاق
13705- عن ابن عمر قال: من شرب الخمر لم يقبل الله منه صلاة أربعين صباحا فإن مات في الأربعين دخل النار، ولم ينظر الله إليه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13706 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : لعنت کی گئی ہے شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے فروخت کرنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور جس کے پاس اٹھا کرلے جائی جائے اس پر۔ الجامع لعبد الرزاق
کلام : روایت سنداً محل کلام ہے : دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 4458 ۔
کلام : روایت سنداً محل کلام ہے : دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 4458 ۔
13706- عن ابن عمر قال: لعنت الخمر وشاربها وساقيها وعاصرها ومعتصرها وبائعها ومبتاعها وآكل ثمنها وحاملها والمحمولة إليه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13707 عبدالرحمن بن ابی انعم الجبلی سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جو اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی جب شراب نوشی کرتا ہے اس کو کوڑے مارو۔ پھر دوبارہ کرے دوبارہ مارو اگر چوتھی بار بھی شراب نوشی کرے تو اس کو قتل کردو۔ ابن جریر
13707- عن عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ويكنى أبا الحكم عن ابن عمر وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إذا شرب الرجل الخمر فاجلدوه، فإن شرب فاجلدوه فإن شرب في الرابعة فاقتلوه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13708 نافع، ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شراب پئے اس کو مارو۔ اگر پھر کرے پھر مارو۔ اگر پھر کرے تو پھر مارو۔ اگر چوتھی بار کرے تو اس کو قتل کردو۔ ابن جریر
13708- عن نافع عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من شرب الخمر فاجلدوه فإن عاد فاجلدوه فإن عاد فاجلدوه فإن عاد في الرابعة فاقتلوه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13709 حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرمایا کرتے تھے : میرے پاس ایسے شخص کو لاؤ جس پر تین مرتبہ شراب نوشی کی سزا میں حد جاری ہوچکی ہو ۔ مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی گردن اڑادوں۔ ابن جریر
13709- عن الحسن قال: كان عبد الله بن عمرو يقول: ايتوني برجل جلد في الخمر ثلاث مرات فإن لكم علي أن أضرب عنقه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13710 عن الحسن عن عبداللہ بن عمرو (رض) کی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شراب نوشی کرے اور کو کوڑے مارو، پھر شراب نوشی کرے پھر کوڑے مارو۔ پھر شراب نوشی کرے پھر کوڑے مارور۔ حتیٰ کہ چوتھی بار کرے تو اس کو قتل کردو۔ ابن جریر
13710- عن الحسن عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من شرب الخمر فاجلدوه، فإن شربها فاجلدوه، فإن شربها فاجلدوه حتى كان الرابعة قال: فاقتلوه. "ابن جرير".
তাহকীক: