কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৬৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13671 حکم بن عینیہ (رح) اور شعبی (رح) سے مروی ہے فرمایا : جب ابوعبیدہ (رض) نے ابوجندل اور ضرار بن الازور (کی شراب نوشی) کے متعلق لکھا تو حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں مشاورت فرمائی۔ سب اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ شراب اور دوسرے نشہ آور مشروبات میں حد تہمت جاری کی جائے اور اگر وہ حد میں کوئی مرجائے تو بیت المال اس کی دیت ادا کرے گا۔
اس کو سیف بن عمر نے تفصیلاً روایت کیا ہے۔ ابن عساکر
اس کو سیف بن عمر نے تفصیلاً روایت کیا ہے۔ ابن عساکر
13671- عن الحكم بن عيينة والشعبي قالا: لما كتب أبو عبيدة في أبي جندل وضرار بن الأزور، جمع الناس فاستشارهم في ذلك الحديث فأجمعوا أن يحدوا في شرب الخمر والسكر من الأشربة حد القاذف وإن مات في حد من هذا الحد فعلى بيت المال ديته لأنه شيء رواه سيف بن عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13672 عمرو بن عبداللہ بن طلحہ الخزاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس کچھ لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا جنہوں نے شراب نوشی کی تھی۔ ان میں ایک روزہ دار بھی تھا (یعنی اس نے شراب نوشی نہیں کی تھی مگر ان کے ساتھ بیٹھا تھا) چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان سب کو روزہ دار سمیت حد خمر جاری کی۔ لوگوں نے کہا : یہ تو روزہ دار ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : پھر ان کے ساتھ کیوں بیٹھا تھا۔
الاشریۃ للاحمد، النسائی
الاشریۃ للاحمد، النسائی
13672- عن عمرو بن عبد الله بن طلحة الخزاعي أن عمر بن الخطاب أتي بقوم أخذو على شراب؛ فيهم رجل صائم فجلدهم وجلده معهم قالوا: إنه صائم قال: لم جلس معهم. "حم في الأشربة ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13673 عبداللہ بن جراد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : حد خمر اسی کوڑے ہیں۔ ابن جریر
13673- عن عبد الله بن جراد أن عمر بن الخطاب قال: حد الخمر ثمانون. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13674 حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میرا ارادہ ہوا کہ لوگوں کو جمع کرکے ان کے روبرو اس (قرآن شریف) پر لکھوادوں کہ اس بات پر عمر اور فلاں فلاں لوگ شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمر (شراب نوشی) میں حد جاری فرمائی ہے۔
ابن جریر
ابن جریر
13674- عن الحسن قال: قال عمر: لقد هممت أن أجمع رجالا فأكتب عليه، هذا ما شهد عليه عمر وفلان وفلان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلد في الخمر. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13675 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی میں چھڑی اور جوتوں سے حد لگائی۔ پھر ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے مارے۔ پھر جب حضرت عمر (رض) کا دور آیا اور لوگ خوشحال مقامات اور بستیوں میں آگئے تو اس وقت حضرت عمر (رض) نے (اہل علم صحابہ (رض)) سے مشاورت کی کہ حد خمر کیا ہونی چاہیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ شراب کی حد تمام حدود میں سب سے کم حد (جو حد تہمت ہے وہ) وہ مقرر فرمادیں ۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اسی کوڑے حد خمر مقرر فرمادی۔ ابن جریر
13675- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم جلد في الخمر بالجريد والنعال، ثم جلد أبو بكر أربعين، فلما كان عمر ودنا الناس من الريف والقرى قال: ما ترون في حد الخمر؟ فقال عبد الرحمن بن عوف: أرى أن تجعلها كأخف الحدود فجعلها عمر ثمانين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13676 وبرۃ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) شراب نوشی میں چالیس کوڑے مارتے تھے۔ حضرت عمر (رض) بھی چالیس کوڑے مارتے تھے۔ وبرۃ (رض) فرماتے ہیں : پھر مجھے حضرت خالد بن ولید (رض) نے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے آکر عرض کیا : یا امیر المومنین ! حضرت خالد (رض) نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ؟ پوچھا : کس بارے میں ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اس سزا کو کم سمجھ کر شراب نوشی کا ارتکاب کررہے ہیں اس لیے آپ کا کیا خیال ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے اپنے گردوپیش لوگوں سے پوچھا : تم لوگوں کا کیا خیال ہے ؟ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : یا امیر المومنین ! ہمارا خیال ہے کہ اسی کوڑے صحیح ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو قبول فرمالیا۔ اور سب سے پہلے حضرت خالد بن ولید (رض) نے اسی کوڑے لگائے، پھر عمر (رض) نے اس کے بعد لوگوں کو شراب نوشی میں اتنے کوڑے مارے۔ ابن وھب، ابن جریر، السنن للبیہقی
13676- عن وبرة أن أبا بكر الصديق كان يجلد في الشراب أربعين وكان عمر يجلد فيها أربعين قال: فبعثني خالد بن الوليد إلى عمر فقدمت عليه فقلت: يا أمير المؤمنين؛ إن خالدا بعثني إليك قال: فيم؟ قلت: إن الناس قد تحاقروا العقوبة وانهمكوا في الخمر، فماذا ترى في ذلك؟ فقال عمر لمن حوله: ما ترون؟ قال علي بن أبي طالب: نرى يا أمير المؤمنين ثمانين جلدة فقبل عمر ذلك، وكان خالد أول من جلد ثمانين، ثم جلد عمر ناسا بعده. "ابن وهب وابن جرير هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13677 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی شراب نوشی کرتا تو بطور حد کے ہر کوئی اس کو تھپڑ مارتا حتیٰ کہ مارنے والے زیادہ ہوجاتے۔ آخر حضرت عمر (رض) نے مشورہ کیا اور فرمایا : لوگ مارنے میں آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر سب ہی اس طرح مارنے لگے تو آدمی کو قتل کردیں گے۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : قرآن کے مطابق جو حد تہمت ہے (اسی کوڑے) اس کو مقرر فرمادیں۔ چنانچہ سب صحابہ (رض) نے اسی کوڑے مقرر فرمالیے۔ ابن جریر
13677- عن الشعبي قال: كان الرجل إذا شرب الخمر لهزه هذا وهذا حتى إذا أكثر الناس استشار عمر فقال: إن الناس قد كثروا ولو أن الناس كلهم لهزوا هذا قتلوه، فأشار إليهم عبد الرحمن بن عوف قال: افتري على القرآن، يحد حد المفترى قال: فسنوه ثمانين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13678 حضرت عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے فرمایا : عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں مے نوش کو (حکم نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) لوگ اس کو تھپڑوں اور جوتوں سے مارلیتے تھے۔ جب حضرت عمر (رض) کا دور آیا تو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں اس طرح آدمی ہلاک نہ ہوجائے چنانچہ صرف چالیس کوڑے مارنے پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن جب دیکھا کہ اتنی سزا سے لوگ شراب نوشی سے باز نہیں آتے تو حضرت عمر (رض) نے (صحابہ کرام (رض)) کے مشورہ کے مطابق اسی کوڑے مارنے شروع کیے۔ پھر اسی پر عمل جاری رکھا اور فرمایا : یہ ادنیٰ ترین حد ہے۔ ابن جریر
فائدہ : حدجاری کرنے میں ہاتھ اتنا اوپر کرنا ممنوع ہے جس سے بغل نظر آئے، یعنی ہاتھ کو ہموار سطح سے اونچا کرنا ممنوع ہے اس لیے کوڑے سے ایک حد سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی، اسی وجہ سے چالیس سے بڑھا کر اسی کوڑے مقرر کیے گئے۔
فائدہ : حدجاری کرنے میں ہاتھ اتنا اوپر کرنا ممنوع ہے جس سے بغل نظر آئے، یعنی ہاتھ کو ہموار سطح سے اونچا کرنا ممنوع ہے اس لیے کوڑے سے ایک حد سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی، اسی وجہ سے چالیس سے بڑھا کر اسی کوڑے مقرر کیے گئے۔
13678- عن عبيد بن عمير قال: إنما كان الشارب يضرب في عهد النبي صلى الله عليه وسلم يصكونه1 بأيديهم ونعالهم، حتى إذا كان عمر خشى أن يغتال الرجل فضربه أربعين، فلما رآهم لا ينتهون ضرب ثمانين، ثم وقف وقال: هذا أدنى الحدود. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13679 نجدۃ الحنفی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ شراب نوشی میں حد کیسے جاری کی جاتی تھی ؟ ارشاد فرمایا : پہلے تو ہاتھوں اور جوتوں سے شراب نوش کو مار لیا جاتا تھا، لیکن پھر ہم کو خوف ہوا کہ کہیں شراب نوش کا کوئی دشمن اژدھام کا فائدہ اٹھا کر اس کو مار ہی ڈالے۔ پس ہم نے کھلے کوڑے مارنے طے کر لیے (یعنی ایک آدمی تمام کوڑے مارے) ۔
ابن جریر
ابن جریر
13679- عن نجدة الحنفي قال: سألت ابن عباس كيف كان الضرب في الخمر؟ قال: بالأيدي والنعال، فخفنا أن يأتيه عدوه في زحام الناس فيقتله فجعلناه ضربا علانية بالسياط. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13680 یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) نے وبرۃ بن رومان البکلی کو حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ شام میں لوگ شراب نوشی میں بڑھتے جارہے ہیں۔ حالانکہ میں چالیس کوڑے مارتا ہوں۔ لیکن مجھے نہیں محسوس ہوتا کہ کوڑوں کی اتنی تعداد ان کو اس کام سے روک دے گی۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپ شرب خمر کی حد کو حد تہمت کے برابر طے فرمادیں کیونکہ آدمی جب شراب نوشی کرتا ہے تو ہرزہ سرائی (بےسوچے سمجھے بکواس) کرتا ہے۔ اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو تہمت بھی لگا دیتا ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اتنے کوڑے مارے اور ابوعبیدہ (رض) کو بھی لکھ بھیجا۔ انھوں نے بھی ملک شام میں یہی تعداد طے فرمادی۔ ابن جریر
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپ شرب خمر کی حد کو حد تہمت کے برابر طے فرمادیں کیونکہ آدمی جب شراب نوشی کرتا ہے تو ہرزہ سرائی (بےسوچے سمجھے بکواس) کرتا ہے۔ اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو تہمت بھی لگا دیتا ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اتنے کوڑے مارے اور ابوعبیدہ (رض) کو بھی لکھ بھیجا۔ انھوں نے بھی ملک شام میں یہی تعداد طے فرمادی۔ ابن جریر
13680- عن يعقوب بن عتبة قال: بعث أبو عبيدة بن الجراح وبرة بن رومان الكلبي إلى عمر بن الخطاب أن الناس قد تتابعوا في شرب الخمر بالشام وقد ضربت أربعين ولا أراها تغني عنهم شيئا فاستشار عمر الناس فقال علي: أرى أن تجعلها بمنزلة حد الفرية أن الرجل إذا شرب هذى وإذا هذي افترى فجلدها عمر وكتب إلى أبي عبيدة فجلدها بالشام. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13681 قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو محجن کو (متعدد بار کی) شراب نوشی میں سات مرتبہ حد جاری فرمائی۔ ابن جریر
13681- عن قتادة قال: جلد عمر بن الخطاب أبا محجن في الخمر سبع مرات. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13682 زیاد (رح) سے مروی ہے کہ قدامہ بن مظعون کو لوگوں نے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پیش کیا انھوں نے شراب نوشی کی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اس پر شہادت کون دیتا ہے ؟ علقمہ خصی نے فرمایا : اگر آپ کسی خصی کی شہادت کو معتبر مانتے ہیں تو میں شہادت دیتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں تمہاری بات تو درست ہے۔ چنانچہ علقمہ نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ اس نے قے (الٹی) کی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر تو اس نے پی ہوگی کیونکہ قے بغیر نوش کیے نہیں کرسکتا۔
ابن جریر
ابن جریر
13682- عن زياد في حديث قدامة بن مظعون حين جلد قال: قال علقمة الخصي1 رفعوه إلى عمر فقال: من يشهد؟ قال علقمة الخصي: أنا أشهد إن أجزت شهادة الخصي، قال عمر: أما أنت فنعم، قال: فأشهد أنه قاء الخمر قال عمر: فإنه لم يقئها حتى شربها. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13683 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ جارود (جو بحرین کی معزز ہستی تھے) ابن عفان یا ابن عوف کے پاس آکر مقیم ہوئے۔ صاحب مکان نے آکر حضرت علی (رض) کو خبر سنائی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ میں جاود کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار دوں یا تو اس کو بلا کر اس کی گردن زنی کروں، یا اس کو مدینہ میں کسی بیگار کے کام پر روک لوں یا اس کو شام ملک چلتا کردوں۔ کیونکہ وہ بغیر شہادت کے بحرین کے گورنر قلامہ کو شراب نوشی کی سزا میں کوڑے لگوانا چاہتا ہے۔ صاحب منزل (جن کے ہاں جارود ٹھہرے ہوئے تھے) نے کہا یا امیر المومنین ! آپ نے اس کے لیے کوئی اختیار کی (آسان بات) نہیں چھوڑی۔ چنانچہ وہ ان باتوں کے ساتھ واپس جارود کے پاس گئے اور ان کو خبر سنائی۔ جارود نے پوچھا : آپ نے امیر المومنین کو ان باتوں کے جواب میں کیا کہا ؟ صاحب مکان بولے : میں نے عرض کیا : امیر ا مومنین ! آپ نے جارود کے لیے کوئی خاص بات سہولت کی نہیں چھوڑی۔ جارود بولے : مجھے تینوں باتیں ہی منظور ہیں۔ اگر آپ (رض) مجھے بلا کر میری گردن زنی کرتے ہیں تو اللہ کی قسم ! میں بھی آپ (رض) کو نہیں سمجھتا کہ وہ مجھے اپنی ذات پر ترجیح دیں گے۔ اگر وہ مجھے مدینے میں کسی مشقت پر روکتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کے قریب اور زاواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت پر تو مجھے یہ بھی ناپسند نہیں ہے اور اگر وہ مجھے شام بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ بھی حشر ونشر (قیامت واقع ہونے والی) سرزمین ہے۔
چنانچہ صاحب مکان نے یہ پیغام آکر حضرت امیر المومنین عمر (رض) کو دیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ اس کو بلاؤ۔ چنانچہ وہ بلائے جانے پر حاضر بارگاہ ہوئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : لاؤ تمہارے گواہ کون ہیں (جو گواہی دیں کہ قدامہ نے شراب پی ہے) جارود بولے : ابو ہریرہ (رض) (حضرت عمر (رض)) نے فرمایا : وہ تیرا سالا ؟ اللہ کی قسم : میں اس کی کمر کوڑے مار مار کر سجادوں گا۔ تب حضرت جارود نے (قدرے جرات سے) فرمایا : اللہ کی قسم یہ انصاف کی بات نہ ہوگی کہ آپ کا سالا تو شراب نوشی کرے (قدامہ حضرت عمر (رض)) کی اہلیہ کے بھائی اور ابن عمروحفصہ کے ماموں تھے اور میرا سالا اس کی گواہی دینے پر کوڑے کھائے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اچھا اور کون ان پر گواہی دے رہا ہے ؟ جارود بولے : علقمہ (حضرت عمر (رض)) نے فرمایا : ہاں وہ سچے آدمی ہیں۔ ان کو بلاؤ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا تم کس بات کی شہادت دیتے ہو ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے ان کو (قدامہ بن مظعون کو) ابن دسر کے ساتھ شراب نوشی کرتے دیکھا ہے حتیٰ کہ انھوں نے اپنے پیٹ میں شراب انڈیل لی ہے۔ علقمہ جو خصی تھے اور ان کی شہادت جائز تھی۔ واللہ اعلم یہ واقعی خصی تھے یا کسی خصہ نامی بستی کی طرف منسوب تھے جیسا کہ ابن حجر (رح) نے ذکر کیا ہے۔ علقمہ بولے : میں نے قدامہ کو شراب پیتے نہیں دیکھا لیکن شراب تھوکتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت عمر (رض) بولے : اللہ کی قسم ! انھوں نے تھو کی ہے تو ضرور پی ہوگی (بس مجھے ان شہادتوں پر یقین آگیا اور بات یہ ہے کہ) میں جب سے امارت (حکومت) پر بیٹھا ہوں میں نے ان کو بہت پسند کیا تھا (اور اسی وجہ سے ان کو بحرین کا گورنر بنایا تھا) لیکن مجھے ان سے خیر و برکت نہیں ملی، پس ان کو لے کر جاؤ اور شراب نوشی کی سزا میں کوڑے مارو۔ ابن جریر
چنانچہ صاحب مکان نے یہ پیغام آکر حضرت امیر المومنین عمر (رض) کو دیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ اس کو بلاؤ۔ چنانچہ وہ بلائے جانے پر حاضر بارگاہ ہوئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : لاؤ تمہارے گواہ کون ہیں (جو گواہی دیں کہ قدامہ نے شراب پی ہے) جارود بولے : ابو ہریرہ (رض) (حضرت عمر (رض)) نے فرمایا : وہ تیرا سالا ؟ اللہ کی قسم : میں اس کی کمر کوڑے مار مار کر سجادوں گا۔ تب حضرت جارود نے (قدرے جرات سے) فرمایا : اللہ کی قسم یہ انصاف کی بات نہ ہوگی کہ آپ کا سالا تو شراب نوشی کرے (قدامہ حضرت عمر (رض)) کی اہلیہ کے بھائی اور ابن عمروحفصہ کے ماموں تھے اور میرا سالا اس کی گواہی دینے پر کوڑے کھائے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اچھا اور کون ان پر گواہی دے رہا ہے ؟ جارود بولے : علقمہ (حضرت عمر (رض)) نے فرمایا : ہاں وہ سچے آدمی ہیں۔ ان کو بلاؤ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا تم کس بات کی شہادت دیتے ہو ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے ان کو (قدامہ بن مظعون کو) ابن دسر کے ساتھ شراب نوشی کرتے دیکھا ہے حتیٰ کہ انھوں نے اپنے پیٹ میں شراب انڈیل لی ہے۔ علقمہ جو خصی تھے اور ان کی شہادت جائز تھی۔ واللہ اعلم یہ واقعی خصی تھے یا کسی خصہ نامی بستی کی طرف منسوب تھے جیسا کہ ابن حجر (رح) نے ذکر کیا ہے۔ علقمہ بولے : میں نے قدامہ کو شراب پیتے نہیں دیکھا لیکن شراب تھوکتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت عمر (رض) بولے : اللہ کی قسم ! انھوں نے تھو کی ہے تو ضرور پی ہوگی (بس مجھے ان شہادتوں پر یقین آگیا اور بات یہ ہے کہ) میں جب سے امارت (حکومت) پر بیٹھا ہوں میں نے ان کو بہت پسند کیا تھا (اور اسی وجہ سے ان کو بحرین کا گورنر بنایا تھا) لیکن مجھے ان سے خیر و برکت نہیں ملی، پس ان کو لے کر جاؤ اور شراب نوشی کی سزا میں کوڑے مارو۔ ابن جریر
13683- عن محمد بن سيرين قال: قدم الجارود فوضع رحله على رحل ابن عفان أو ابن عوف، فانطلق صاحب رحله إلى عمر فذكره له، فقال: إني لأهم أن أخير الجارود بين إحدى ثلاث: أن أقدمه فأضرب عنقه، وبين أن أحبسه بالمدينة مهانا مقضيا، وبين أن أسيره إلى الشام، فقال: يا أمير المؤمنين ما تركت له متخيرا، فانطلق بهن فلقي الجارود قال: فما قلت له؟ قال: قلت يا أمير المؤمنين ما تركت له متخيرا: قال: بلى كلهن لي خيرة، إما أن يقدمني فيضرب عنقي فوالله ما أراه ليؤثرني على نفسه، وإما أن يحبسني في المدينة مهانا مقضيا في جوار قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأزواج النبي صلى الله عليه وسلم، فما أكره، وإما أن يسيرني إلى الشام فأرض المحشر وأرض المنشر، قال: فانطلق فلقي أمير المؤمنين فذكر ذلك له، فقال: أين هو؟ أرسلوا إليه، فأرسلوا إليه، فجاء فقال: إيه1 من شهودك؟ قال: أبو هريرة قال: أخيتنك أما والله لأوجعن متنه بالسوط، فقال: والله ما ذاك بالعدل أن يشرب ختنك وتجلد ختني، قال: ومن؟ قال: علقمة، قال: الصدوق أرسلوا إليه فجاء، فقال لأبي هريرة: بما تشهد؟ قال: أشهد أني رأيته يشربها مع ابن دسر حتى جعلها في بطنه، وقال لذلك: بما تشهد؟ قال: وتجوز شهادة الخصي قال: ما رأيته شربها ولكني رأيته مجها3 قال: لعمري ما مجها حتى شربها ما حاببت بالإمارة منذ كنت عليها رجلا غيره، فما بورك لي فيه، اذهبوا به فاجلدوه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13684 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں شراب نوش کرنے والوں کو ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں سے مار لیتے تھے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ پھر خلافت ابی بکر (رض) میں لوگ حضور کے زمانے کی نسبت زیادہ ہوگئے (جن پر حد جاری کی جاتی) ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہم کو کوئی مقرر حد طے کردینا چاہیے۔ چنانچہ عہد نبوی میں جو سزا دی جاتی تھی اس پر غور کیا گیا اور چالیس کوڑے مقرر کردیئے گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) چالیس کوڑے مارتے رہے حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی ۔ پھر حضرت عمر (رض) کا دور آیا، آپ (رض) بھی اسی طرح چالیس کوڑے مارتے رہے۔ حتیٰ کہ مہاجرین اولین میں سے ایک آدمی لایا گیا۔ غالباً وہ پچھلی روایت والے حضرت قدامۃ بن مظعون (رض) تھے انھوں نے بھی شراب نوشی کی تھی۔ آپ (رض) نے ان کے لیے کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ انھوں نے فرمایا : آپ مجھے کیوں کوڑے لگواتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے درمیان کتاب اللہ ہے (اس کے مطابق فیصلہ کریں) ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ کونسی کتاب میں پاتے ہیں کہ میں آپ کو کوڑے نہ ماروں ؟ انھوں نے فرمایا : اللہ کا فرمان ہے :
لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات جناح۔
جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے اعمال کیے ان پر کوئی گناہ نہیں۔
میں تو ان لوگوں میں سے ہوں۔
من الذین آمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا واحسنو۔
جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر (مزید) تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی۔
میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر، احد، خندق اور بہت سے غزوات میں شریک رہا۔
حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو فرمایا : تم ان کو جواب کیوں نہیں دیتے یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی تھی جو لوگ چلے گئے ہیں ان کے لیے عذر بن کر اور جو پیچھے رہ گئے ان کے لیے تو یہ حجت ہے۔ چلے جانے والوں کا عذر تو یہ تھا کہ وہ شراب حرام ہونے سے پہلے اللہ کے پاس چلے گئے۔ جبکہ رہ جانے والوں پر یہ حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔
یہاں شراب کو شیطان کا عمل اور گندگی فرمایا۔ اور اس سے اجتناب کا حکم دیا۔ فرمایا : اگر وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ایمان لائے، عمل صالح کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی۔ تو اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے شراب نوشی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ (کیا سزا ہونی چاہیے ؟ ) حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہمارا خیال ہے کہ آدمی جب شراب پیتا ہے تو نشہ میں آجاتا ہے اور جب نشہ میں آجاتا ہے تو ہرزہ سرائی کرتا ہے اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو بہتان طرازی بھی کرتا ہے اور بہتان طرازی کی سزا اسی کوڑے ہے۔ پس حضرت عمر (رض) نے حکم دیدیا اور لائے گئے آدمی کو اسی کوڑے مارے گئے۔ ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات جناح۔
جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے اعمال کیے ان پر کوئی گناہ نہیں۔
میں تو ان لوگوں میں سے ہوں۔
من الذین آمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا واحسنو۔
جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر (مزید) تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی۔
میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر، احد، خندق اور بہت سے غزوات میں شریک رہا۔
حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو فرمایا : تم ان کو جواب کیوں نہیں دیتے یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی تھی جو لوگ چلے گئے ہیں ان کے لیے عذر بن کر اور جو پیچھے رہ گئے ان کے لیے تو یہ حجت ہے۔ چلے جانے والوں کا عذر تو یہ تھا کہ وہ شراب حرام ہونے سے پہلے اللہ کے پاس چلے گئے۔ جبکہ رہ جانے والوں پر یہ حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔
یہاں شراب کو شیطان کا عمل اور گندگی فرمایا۔ اور اس سے اجتناب کا حکم دیا۔ فرمایا : اگر وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ایمان لائے، عمل صالح کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی۔ تو اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے شراب نوشی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ (کیا سزا ہونی چاہیے ؟ ) حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہمارا خیال ہے کہ آدمی جب شراب پیتا ہے تو نشہ میں آجاتا ہے اور جب نشہ میں آجاتا ہے تو ہرزہ سرائی کرتا ہے اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو بہتان طرازی بھی کرتا ہے اور بہتان طرازی کی سزا اسی کوڑے ہے۔ پس حضرت عمر (رض) نے حکم دیدیا اور لائے گئے آدمی کو اسی کوڑے مارے گئے۔ ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
13684- عن ابن عباس أن الشراب كانوا يضربون في عهد النبي صلى الله عليه وسلم بالأيدي والنعال والعصي حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانوا في خلافة أبي بكر أكثر منهم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو بكر: لو فرضنا لهم حدا فتوخى1 نحوا مما كانوا يضربون في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان أبو بكر يجلدهم أربعين حتى توفي، ثم كان عمر من بعده فجلدهم كذلك أربعين، حتى أتي برجل من المهاجرين الأولين، فشرب فأمر به أن يجلد، فقال: لم تجلدني؟ بيني وبينك كتاب الله، فقال عمر: وفي أي كتاب تجد أن لا أجلدك؟ فقال: إن الله تعالى يقول في كتابه: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ} الآية، فأنا من الذين آمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا وأحسنوا شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا وأحدا والخندق والمشاهد، فقال عمر: ألا تردون عليه ما يقول؟ فقال ابن عباس: إن هذه الآية أنزلت عذرا للماضين وحجة على الباقين فعذر الماضين أنهم لقوا الله قبل أن تحرم عليهم الخمر، وحجة على الباقين لأن الله تعالى قال: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ} الآية ثم قرأ حتى أنفذ الآية، فإن كان من الذين آمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا وأحسنوا فإن الله قد نهى أن تشرب الخمر فقال: صدقت، فماذا ترون؟ قال علي: نرى أنه إذا شرب سكر وإذا سكر هذي، وإذا هذي افترى وعلى المفترى ثمانون جلدة فأمر عمر فجلد ثمانين. "أبو الشيخ وابن مردويه ك هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13685 (مسند عثمان (رض)) زہری (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حد خمر کی کوئی تعداد مقرر نہ فرمائی تھی بلکہ حضرت ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے مقرر کی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اسی کوڑے مقرر فرمائی۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے اسی کوڑے اور چالیس کوڑے دونوں حدیں مقرر فرمائیں بایں صورت کہ اگر ایسا آدمی لایا جاتا جو نشے میں بالکل دھت ہوتا تو اس کو اسی کوڑے مارتے اور جب ایسا کوئی آدمی لایا جاتا جو محض ڈگمگارہا ہوتا تو اس کو چالیس کوڑے مارتے۔ ابن راھویہ
13685- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن الزهري قال: لم يفرض رسول الله في الخمر حدا حتى فرض أبو بكر أربعين، ثم فرض عمر ثمانين، ثم إن عثمان جلد ثمانين وأربعين كان إذا أتي بالرجل الذي قد طلع في الشراب جلده ثمانين، وإذا أتي بالرجل الذي قد زل زلة جلده أربعين. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13686 (مسند علی (رض)) ابو ساسان الرقاشی خصین بن المنذر کہتے ہیں میں حضرت عثمان بن عفان (رض) کی بارگاہ خلافت میں حاضر ہوا۔ وہاں ولید بن عقبہ کو لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی اور حمران بن ابان اور ایک دوسرے آدمی نے اس کی شہادت دی تھی۔ حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس پر حد جاری کرو۔ حضرت علی (رض) نے عبداللہ بن جعفر کو کوڑے مارنے کا حکم دیا ۔ عبداللہ نے کوڑے مارنے شروع کردیئے۔ اور حضرت علی (رض) شمار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت علی (رض) نے چالیس تک شمار کیا پھر فرمایا رک جاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس کوڑے مارے، ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے مارے، عمر (رض) نے صدر خلافت میں چالیس کوڑے مارے پھر اس کی تعداد پوری اسی فرمادی۔ اور یہ سب سنت ہیں اور مجھے یہ تعداد (چالیس) زیادہ پسند ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، الکبیر للطبرانی، مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، السنائی، الدارمی، ابن جریر، ابوعوانۃ، الطحاوی، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13686- "مسند علي رضي الله عنه" عن حصين بن المنذر أبو ساسان الرقاشي قال: حضرت عثمان بن عفان وأتي بالوليد بن عقبة قد شرب الخمر وشهد عليه حمران بن أبان، ورجل آخر، فقال عثمان لعلي: أقم عليه الحد، فأمر علي عبد الله بن جعفر أن يجلده فأخذ في جلده وعلي يعد حتى جلد أربعين، ثم قال له: أمسك جلد رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعين وجلد أبو بكر أربعين وعمر صدرا من خلافته ثم أتمها عمر ثمانين وكل سنة وهذا أحب إلي. "طب عب حم م د ن والدارمي وابن جرير وأبو عوانة والطحاوي قط ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13687 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی میں اسی کوڑے (ضربیں) ماری ہیں۔ الاوسط للطبرانی
13687- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلد في الخمر ثمانين. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13688 ابو مروان سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے نجاشی حارثی شاعر کو ماہ رمضان میں شراب نوشی کرنے پر اسی کوڑے مارے۔ پھر اس کو قید کروادیا اور اگلے دن نلوا کر بیس کوڑے پھر مارے۔ اور فرمایا : یہ بیس کوڑے اس لیے کہ تم نے رمضان میں دن کے وقت پی کر اللہ پر جرات کی اور روزہ چھوڑا۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی، ابن جریر
13688- عن أبي مروان أن عليا ضرب النجاشي الحارثي الشاعر وشرب الخمر في رمضان فضربه ثمانين جلدة، ثم حبسه وأخرجه من الغد فجلده عشرين وقال: إنما جلدتك هذه العشرين لجرأتك على الله وإفطارك في رمضان. "عب هق وابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13689 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی۔ حضرت علی (رض) نے مارنے والے کو حکم دیا اس کو مار اور کھلا چھوڑ دے تاکہ اپنے ہاتھوں سے اپنا دفاع کرتا رہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13689- عن علي أنه أتي برجل شرب الخمر فقال: اضرب ودع يديه يتقي بهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13690 سدی (رح) ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کی مجلس میں حاضر تھا۔ آپ (رض) نے ایک کوڑا منگوایا جو دونوں کوڑوں کے درمیان تھا (یعنی زیادہ نرم اور نہ زیادہ سخت) آپ (رض) نے اس کے پھل کا حکم دیا۔ چنانچہ کوڑے کا پھل کو ٹا گیا اور دو پتھروں کے درمیان مار مار کر اس کو نرم کیا گیا۔ پھر حضرت علی (رض) نے وہ کوڑا ایک آدمی کو دیا اور فرمایا اس کے ساتھ مارا اور ہر عضو کو اس کا حصہ دے۔ ابن جریر
فائدہ : یعنی جسم کے ایک حصہ پر ساری تعداد پوری نہ کرو۔ بلکہ جگہیں بدل بدل کر مارو اور چہرے اور شرم گاہ سے احتیاط برت کر مارو۔
فائدہ : یعنی جسم کے ایک حصہ پر ساری تعداد پوری نہ کرو۔ بلکہ جگہیں بدل بدل کر مارو اور چہرے اور شرم گاہ سے احتیاط برت کر مارو۔
13690- عن السدي عن شيخ حدثه قال: كنت عند علي فأتي بشارب فدعا بسوط بين السوطين فيه ثمرته فأمر بثمرته فقطعت، ثم ضرب بين حجرين، ثم أعطاه رجلا فقال: اضربه وأعط كل عضو حقه. "ابن جرير".
তাহকীক: