কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৬৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13651 (مسند عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : خمر (شراب) کی حرمت نازل ہوچکی ہے اور یہ پانچ چیزوں سے نکلتی ہے : انگور، کھجور، جو اور شہد۔ شراب وہ ہے جو عقل پر چھا جائے۔ اور تین چیزوں کے متعلق میری خواہش تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے جدا نہ ہوتے جب تک ان کی حتمی صورتیں نہ بیان کرجاتے : دادا (بطور وراثت) ، کلالہ (بطور وراثت) اور ربا (سود) کے ابواب۔
مصنف ابن ابی شیبہ، الاحمد فی الاشرۃ، الجامع لعبد الرزاق، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ابی الدنیا فی ذم المکرو، ابوعوانۃ، الطحاوی، ابن ابی عاصم فی الاشریۃ، ابن جان، الدارقطنی فی السنن، ابن مردویہ، السنن للبیہقی
مصنف ابن ابی شیبہ، الاحمد فی الاشرۃ، الجامع لعبد الرزاق، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ابی الدنیا فی ذم المکرو، ابوعوانۃ، الطحاوی، ابن ابی عاصم فی الاشریۃ، ابن جان، الدارقطنی فی السنن، ابن مردویہ، السنن للبیہقی
13651- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر قال: خطب عمر فقال: إنه نزل تحريم الخمر وهي من خمسة أشياء: العنب والتمر والحنطة والشعير والعسل، والخمر ما خامر العقل، وثلاث وددت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يفارقنا حتى يعهد إلينا فيهن عهدا ننتهي إليه: الجد والكلالة1 وأبواب من أبواب الربا. "ش حم في الأشربة عب خ م د ت ن وابن أبي الدنيا في ذم المسكر وأبو عوانة والطحاوي وابن أبي عاصم في الأشربة حب قط وابن مردويه ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13652 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے دعا کی : اللھم بین لنافی الخمر بیانا شاقیاً ۔ اے اللہ ! ہمیں شراب کے بارے میں شافی بیان (واضح حکم) فرما دیجئے۔ کیونکہ یہ مال اور عقل دونوں کو اڑا دیتی ہے۔ چنانچہ سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوگئی :
یسالونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر۔
وہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں کہہ دیجئے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) کو بلایا گیا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے پھر دعا کی :
اللھم بین لنا فی الخمر بیاناً شافیاً
چنانچہ پھر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوگئی :
یا ایھا الذین آمنو الا تقربوا الصلاۃ وانتم سکاری۔
اے ایمان والو ! قریب نہ جاؤ نماز کے اس حال میں کہ تم (نشہ میں) مدہوش ہو۔
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ کا منادی پکارتا کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) کو بلا کر یہ آیت سنائی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے پھر وہی دعا کی :
اللھم بین لنا فی الخیر بیانا شافیاً
چنانچہ پھر سورة مائدہ کی آیت نازل ہوئی۔
جب آیت کے آخر میں یہ پڑھا گیا
فھل انتم منتھون
کیا تم (اس سے) باز آنے والے ہو۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : انتھنا ہم باز آگئے۔
مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، عبد بن حمید، ابوداؤد، الترمذی ، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور۔
یسالونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر۔
وہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں کہہ دیجئے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) کو بلایا گیا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے پھر دعا کی :
اللھم بین لنا فی الخمر بیاناً شافیاً
چنانچہ پھر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوگئی :
یا ایھا الذین آمنو الا تقربوا الصلاۃ وانتم سکاری۔
اے ایمان والو ! قریب نہ جاؤ نماز کے اس حال میں کہ تم (نشہ میں) مدہوش ہو۔
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ کا منادی پکارتا کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) کو بلا کر یہ آیت سنائی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے پھر وہی دعا کی :
اللھم بین لنا فی الخیر بیانا شافیاً
چنانچہ پھر سورة مائدہ کی آیت نازل ہوئی۔
جب آیت کے آخر میں یہ پڑھا گیا
فھل انتم منتھون
کیا تم (اس سے) باز آنے والے ہو۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : انتھنا ہم باز آگئے۔
مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، عبد بن حمید، ابوداؤد، الترمذی ، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور۔
13652- عن عمر بن الخطاب أنه قال: اللهم بين لنا في الخمر بيانا شافيا فإنها تذهب بالمال والعقل، فنزلت هذه الآية التي في البقرة: {يَسْأَلونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ} فدعي فقرئت عليه فقال: اللهم بين لنا في الخمر بيانا شافيا، فنزلت هذه الآية التي في النساء {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} فكان منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة ينادي أن لا يقرب الصلاة سكران فدعي عمر فقرئت عليه، فقال: اللهم بين لنا في الخمر بيانا شافيا فنزلت هذه الآية التي في المائدة، فدعي عمر فقرئت عليه فلما بلغ {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} فقال عمر: انتهينا. "ش حم وعبد بن حميد د ت ن ع وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه حل ك ق ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13653 حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کا ایک مرتبہ خیال بنا کہ قرآن شریف میں یہ لکھ دیا جائے :
ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرب فی الخمر ثمانین ووقت لاھل العراق ذات عرق۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی میں اسی ضرب ماری ہیں اور اہل عراق کے لیے ذات عرق (مقام) کو (میقات احرام) مقرر فرمایا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرب فی الخمر ثمانین ووقت لاھل العراق ذات عرق۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب نوشی میں اسی ضرب ماری ہیں اور اہل عراق کے لیے ذات عرق (مقام) کو (میقات احرام) مقرر فرمایا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13653- عن الحسن قال: هم عمر بن الخطاب أن يكتب في المصحف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب في الخمر ثمانين، ووقت لأهل العراق ذات عرق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13654 حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرب خمر میں دو جوتے چالیس بار مارے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ہر جوتے کے بدلے ایک کوڑا مقرر فرمادیا۔
مصنف ابن ابی شیبہ
مصنف ابن ابی شیبہ
13654- عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب في الخمر بنعلين أربعين، فجعل عمر مكان كل نعل سوطا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13655 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : حد صرف اس شراب نوشی میں ہے جو عقل کو ماؤف کردے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13655- عن عمر قال: لا حد إلا فيما خلس العقل. "ش"1
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13656 زہری (رح) سے مروی ہے مجھے حضرات عمر، عثمان اور ابن عمر (رض) کے متعلق خبر ملی ہے کہ یہ حضرات شرب خمر میں غلام کو (بھی) اسی کوڑے مارتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13656- عن الزهري قال: بلغني عن عمر وعثمان وابن عمر أنهم كانوا يضربون العبد في الخمر ثمانين."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13657 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جس نے شراب پی تھوڑی یا زیادہ اس کو حد جاری کی جائے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13657- عن عمر قال: من شرب من الخمر قليلا أو كثيرا، ضرب الحد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13658 ابن شہاب (زہری (رح)) سے مروی ہے کہ ان سے غلام کو شرب خمر کی حد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (رح) نے فرمایا : ہمیں خبر ملی ہے کہ اس پر آزاد آدمی کی (اسی کوڑوں کی) حد کا نصف (یعنی چالیس کوڑے) ہے اور عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر (رض) اپنے غلاموں کو آزاد کی حد کا نصف جاری کرتے تھے۔ موطا امام مالک، الجامع لعبد الرزاق، مسدد، السنن للبیہقی
13658- عن ابن شهاب أنه سئل عن جلد العبد في الخمر؟ فقال: بلغنا أن عليه نصف حد الحر في الخمر، وأن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وعبد الله بن عمر قد جلدوا عبيدهم نصف جلد الحر. "مالك عب ومسدد هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13659 عبداللہ بن ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک مرتبہ لشکروں میں آنکلے ایک آدمی کو نشہ کی حالت میں پایا (آپ (رض)) اس کو لے کر ابن ملیکہ کے پاس گئے وہ حدود نافذ کرتے تھے، رات کا سماں تھا، اس لیے اس کو فرمایا صبح ہو تو اس پر حد جاری کرنا۔ الجامع لعبد الرزاق
13659- عن عبد الله بن أبي مليكة قال: تبرز عمر بن الخطاب في أجناد فوجد رجلا سكران فطرق به ابن مليكة وكان جعله يقيم الحدود فقال: إذا أصبحت فاحدده "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13660 تو ابن یزید سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے شراب پینے والے آدمی کے متعلق مشاورت فرمائی۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے آپ اس کو اسی کوڑے ماریں۔ کیونکہ آدمی جب شراب پیتا ہے تو نشہ میں آجاتا ہے، نشہ میں آتا ہے تو ہرزہ سرائی (بکواس بازی) کرتا ہے۔ اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو تہمت لگاتا ہے (اور تہمت کی حد اسی کوڑے ہے) ۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو اسی کوڑے مارے۔ موطا امام مالک
عبدالرزاق نے اس روایت کو عکرمہ سے نقل کیا ہے۔
عبدالرزاق نے اس روایت کو عکرمہ سے نقل کیا ہے۔
13660- عن ثور بن يزيد [الديلي] أن عمر بن الخطاب استشار في الخمر يشربها الرجل؟ فقال له علي بن أبي طالب: نرى أن تجلده ثمانين، فإنه إذا شرب سكر وإذا سكر هذي وإذا هذي افترى، فجلده عمر في الخمر ثمانين. "مالك" ورواه عب عن عكرمة
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13661 عبداللہ بن ابی الہذیل سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : میں حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھا تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ایک بوڑھے کو جو نشے میں دھت تھا آپ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اد اوندھے گرنے والے ! تیرا ناس ہو، رمضان میں ! حالانکہ ہمارے بچے بھی روزہ دار ہیں۔ پھر آپ (رض) نے اس بوڑھے کو اسی کوڑے لگوائے اور شام کی طرف جلاوطن کردیا۔
الجامع لعبد الرزاق، ابوعبید فی الغریب، ابن سعد، ابن جریر، السنن للبیہقی
الجامع لعبد الرزاق، ابوعبید فی الغریب، ابن سعد، ابن جریر، السنن للبیہقی
13661- عن عبد الله بن أبي الهذيل قال: كنت جالسا عند عمر فجيء بشيخ نشوان في رمضان فقال للمنخرين4: ويلك، أفي رمضان، وصبياننا صيام فضربه ثمانين وسيره إلى الشام. "عب وأبو عبيد في الغريب وابن سعد وابن جرير ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13662 ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک ایسے شخص پر حد جاری کی جس نے شراب نوشی کی تھی۔ حالانکہ وہ مریض تھا۔ لیکن آپ (رض) نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ حد قائم ہونے سے پہلے نہ مرجائے۔ مسدد ، ابن جریر
13662- عن أبي بكر بن عمرو بن حزم أن عمر أقام على رجل شرب الخمر الحد وهو مريض وقال: أخشى أن يموت قبل أن يقام عليه الحد. "مسدد وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13663 علاء بن بدر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے شراب یا طلاء پی لی (یہ شک راوی ہیثم کو ہے) پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور بولا : میں نے محض حلال چیز پی ہے۔ علاء بن بدر کہتے ہیں : آپ (رض) کو اس کی بات اس کے فعل سے زیادہ بری لگی۔ چنانچہ آپ (رض) نے اس کے متعلق مشورہ کیا تو اصحاب نے اسی کو اسی کوڑے مارنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ پھر یہی طریقہ رائج ہوگیا۔ مسدد
13663- عن العلاء بن بدر أن رجلا شرب الخمر أو الطلاء شك هشيم فأتى عمر فقال: ما شربت إلا حلالا فقال: قوله أشد عنده مما صنع، فاستشار فيه فأشاروا عليه إلى ضربه ثمانين، فصارت سنة بعد. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13664 حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ (رض) ایک آدمی کو شراب نوشی کی حد لگا رہے تھے۔ آپ کو اس شراب کی بو ملی تھی۔ آخر آپ نے اس کو پوری حد جاری فرمادی۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن وھب ابن جریر
13664- عن السائب بن يزيد أنه حضر عمر بن الخطاب وهو يجلد رجلا وجد منه ريح شراب، فجلده الحد تاما. "عب وابن وهب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13665 اسماعیل بن امیہ سے مروی ہے حضرت عمر (رض) جب کسی آدمی میں شراب کی بدبو پاتے اور وہ شراب کا عادی ہوتا تو اس کو چند کوڑے مار دیتے اور اگر کوئی اور ہوتا تو اس کو چھوڑ دیتے۔
الجامع لعبد الرزاق
فائدہ : یہ صورت صرف شراب کی بدبو پانے میں ہوتی تھی لیکن اگر کسی نے شراب نوشی کی ہوتی اور وہ نشہ میں دھت ہوتا تو اس پر کمل حد جاری فرماتے تھے۔
الجامع لعبد الرزاق
فائدہ : یہ صورت صرف شراب کی بدبو پانے میں ہوتی تھی لیکن اگر کسی نے شراب نوشی کی ہوتی اور وہ نشہ میں دھت ہوتا تو اس پر کمل حد جاری فرماتے تھے۔
13665- عن إسماعيل بن امية قال: كان عمر إذا وجد من رجل ريح شراب جلده جلدات إن كان ممن يدمن الشراب، وإن كان غير مدمن تركه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13666 یعلی بن امیۃ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : ہم ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں، شراب نوشی بہت پائی جاتی ہے۔ ہم کیسے ان کو حد جاری کریں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جو شراب نوشی کرے اس سے سورة فاتحہ سنو اگر وہ پڑھ سکے، اسی طرح اس کی چادر دوسری چادروں میں ملا کر سامنے کرو اگر وہ اپنی چادر بھی نہ پہچانے تو اس کو حد جاری کردو۔ الجامع لعبد الرزاق
13666- عن يعلى بن أمية قال: قلت لعمر: إنا بأرض فيها شراب كثير فكيف نجلده؟ قال: إذا استقرئ أم القرآن فلم يقرأها ولم يعرف رداءه إذا ألقيته بين الأردية فاحدده. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13667 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ابوبکر امیہ بن خلف کو شراب نوشی کے جرم میں خیبر جلاء وطن کردیا وہ وہاں سے چل کر ہرقل شاہ روم کے ساتھ جا ملا اور نصرانیت کا مذہب اختیار کرلیا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد کبھی کسی مسلمان کو جلاء وطن نہ کیا جائے گا۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13667- عن ابن المسيب قال: غرب عمر أبا بكر أمية بن خلف في الشراب إلى خيبر فلحق بهرقل فتنصر قال عمر: لا أغرب بعده مسلما أبدا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13668 اسماعیل بن امیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ۔ پہلے جب رمضان میں کسی شراب نوش کو پاتے تو اس کو کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطن بھی کرتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13668- عن إسماعيل بن أمية أن عمر بن الخطاب كان إذا وجد شاربا في رمضان نفاه مع الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13669 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ابوبکر بن امیہ بن خلف کو شراب نوشی کی سزا میں خیبر جلاوطن کردیا گیا وہ ھرقل کے ساتھ جاملا اور نصرانیت اختیار کرلی۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : آئندہ میں کسی مسلمان کو کبھی بھی جلاء وطن نہ کروں گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13669- عن ابن عمر أن أبا بكر بن أمية بن خلف غرب في الخمر إلى خيبر فلحق بهرقل، قال: فتنصر، فقال عمر، لا أغرب مسلما بعده أبدا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13670 سیف بن عمر روایت کرتے ہیں کہ ربیع، ابوالمجالد، ابوعثمان اور ابو حارثہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ شراب نوشی کا مرتکب ہوا ہے، جن میں ضرار اور ابوجندل بھی شامل ہیں۔ ہم نے ان سے باز پرس کی تو انھوں نے تاویل پیش کی کہ ہم کو اختیار دیا گیا تھا اور ہم نے شراب کو اختیار کرلیا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے فرمایا : فھل انتم منتھون، یا تم شراب سے باز آنے والے ہو ؟ اور اللہ پاک نے تاکیداً حکم نہیں دیا۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ یہ بات تو ان کے اور ہمارے درمیان ہے۔ لیکن فھل انتم منتھون کا مطلب ہے فانتھوا یعنی باز آجاؤ۔
پھر حضرت عمر (رض) نے اصحاب کرام کو جمع فرمایا ان کا اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ شراب نوشی میں اسی کوڑے مارے جائیں اور جان جانے کی صورت میں ضمان دیں (یعنی دیت ادا کریں) اور جو اس طرح کی تاویل کرے (قرآن میں اور شراب نوشی کو جائز سمجھے) اگر وہ نہ مانے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس چیز کی تفسیر فرما گئے ہیں پھر بھی کوئی اس کے خلاف تفسیر بیان کرے (مذکورہ مثال کی طرح) تو اس کو زجروتنبیہ کی جائے اور (باز نہ آنے کی صورت میں) قتل کیا جائے۔
بالآخر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کو لکھا : ان لوگوں کو بلاؤ اور اگر ان کا گمان ہو کہ یہ حلال ہے تو ان کو قتل کردو۔ اور اگر ان کا گمان ہو کہ وہ حرام ہے تو ان کی شراب نوشی کے جرم میں اسی کوڑے مارو۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ (رض) نے مے نوشوں کو بلایا۔ اور تمام لوگوں کے سامنے ان سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : شراب حرام ہے۔ لہٰذا حضرت ابوعبیدہ (رض) نے ان کو اسی اسی کوڑے لگوائے اور غلط تفسیر کرنے والوں کو بھی سزا دی گئی۔ وہ بھی اپنی حرکت پر نادم ہوئے۔ حضرت ابوعبیدہ (رض) نے لوگوں کو فرمایا : اے اہل شام ! اب تمہارے اندر کو مصیبت اترے گی۔ چنانچہ اس سال قحط سالی پیش آئی اور اس سال کو عام الرمادۃ کہا جانے لگا۔ النسائی
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ یہ بات تو ان کے اور ہمارے درمیان ہے۔ لیکن فھل انتم منتھون کا مطلب ہے فانتھوا یعنی باز آجاؤ۔
پھر حضرت عمر (رض) نے اصحاب کرام کو جمع فرمایا ان کا اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ شراب نوشی میں اسی کوڑے مارے جائیں اور جان جانے کی صورت میں ضمان دیں (یعنی دیت ادا کریں) اور جو اس طرح کی تاویل کرے (قرآن میں اور شراب نوشی کو جائز سمجھے) اگر وہ نہ مانے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس چیز کی تفسیر فرما گئے ہیں پھر بھی کوئی اس کے خلاف تفسیر بیان کرے (مذکورہ مثال کی طرح) تو اس کو زجروتنبیہ کی جائے اور (باز نہ آنے کی صورت میں) قتل کیا جائے۔
بالآخر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کو لکھا : ان لوگوں کو بلاؤ اور اگر ان کا گمان ہو کہ یہ حلال ہے تو ان کو قتل کردو۔ اور اگر ان کا گمان ہو کہ وہ حرام ہے تو ان کی شراب نوشی کے جرم میں اسی کوڑے مارو۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ (رض) نے مے نوشوں کو بلایا۔ اور تمام لوگوں کے سامنے ان سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : شراب حرام ہے۔ لہٰذا حضرت ابوعبیدہ (رض) نے ان کو اسی اسی کوڑے لگوائے اور غلط تفسیر کرنے والوں کو بھی سزا دی گئی۔ وہ بھی اپنی حرکت پر نادم ہوئے۔ حضرت ابوعبیدہ (رض) نے لوگوں کو فرمایا : اے اہل شام ! اب تمہارے اندر کو مصیبت اترے گی۔ چنانچہ اس سال قحط سالی پیش آئی اور اس سال کو عام الرمادۃ کہا جانے لگا۔ النسائی
13670- سيف بن عمر عن الربيع وأبي المجالد وأبي عثمان وأبي حارثة قالوا: كتب أبو عبيدة إلى عمر أن نفرا من المسلمين أصابوا الشراب منهم ضرار وأبو جندل فسألناهم فتأولوا، وقالوا: خيرنا فاخترنا، قال: فهل أنتم منتهون ولم يعزم، فكتب إليه عمر فذلك بيننا وبينهم، فهل أنتم منتهون يعني فانتهوا: وجمع الناس فاجتمعوا على أن يضربوا فيها ثمانين جلدة ويضمنوا النفس ومن تأول عليها بمثل هذا فإن أبي قتل، وقالوا: ومن تأول على ما فسر رسول الله صلى الله عليه وسلم منه يزجر بالفعل والقتل، فكتب عمر إلى أبي عبيدة أن ادعهم، فإن زعموا أنها حلال فاقتلهم، وإن زعموا أنها حرام فاجلدهم ثمانين، فبعث إليهم فسألهم على رؤوس الأشهاد، فقالوا: حرام فجلدهم ثمانين، وحد القوم وندموا على لجاجتهم وقال: ليحدثن فيكم يا أهل الشام حادث فحدثت الرمادة1 "ن".
তাহকীক: