কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৬৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13631 ابن عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ایسی عورت کے پاس جائے جس کا شوہر موجود نہ ہوتا کہ اس کے بستر پر بیٹھ کر اس سے باتیں کرے اس کی مثال اس شخص کی ہے جس کو کوئی کتا نوچ (نوچ کر کھا) رہا ہو۔ الجامع لعبد الرزاق
13631- عن ابن عمر قال: مثل الذي يأتي المغيبة ليجلس على فراشها ويتحدث عندها كمثل الذي ينهشه أسود من الأساود. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13632 مالک بن احمر (رض) سے مروی ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز کسی صقور سے کوئی نفل قبول فرمائیں گے اور نہ فرض۔ ہم نے پوچھا : یارسول اللہ ! صقور کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے پاس دوسرے آدمیوں کو لائے۔ البخاری فی التاریخ، الخرائطی فی مساوی الاخلاق، الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی، ابن عساکر
13632- عن مالك بن أحمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله تعالى لا يقبل يوم القيامة من الصقور صرفا ولا عدلا، قلنا: يا رسول الله وما الصقور؟ قال: الذي يدخل على أهله الرجال. "خ في تاريخه والخرائطي في مساوي الأخلاق طب هب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13633 عرفجہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ام بنت ابی بردہ کو فرمایا : جب تیرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو نامحرم ہو تو اپنے گھروالوں میں سے کسی محرم کو اپنے پاس بلالے اور وہ تیرے پاس رہے جب تک کہ نامحرم آدمی تیرے پاس موجود ہو۔ کیونکہ آدمی اور عورت جب اکیلے ہوتے ہیں تو شیطان ان کے بیچ میں داخل ہوجاتا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13633- عن عرفجة قال: قال أبو موسى لأم ابنة أبي بردة: إذا دخل عليك رجل ليس بذي محرم فادعى إنسانا من أهلك فليكن عندك فإن الرجل والمرأة إذا خلوا جرى الشيطان بينهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13634 عکرمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی سفر سے واپس لوٹا اس کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو فلانی عورت کے ہاں جاکر ٹھہرا تھا اور تو نے دروازہ بھی اندر سے بند کرلیا تھا۔ دیکھ ہرگز آدمی کو کسی (غیر) عورت کے پاس تنہائی نہ برتنی چاہیے۔ الجامع لعبد الرزاق
13634- عن عكرمة قال: قدم رجل من السفر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: قد نزلت على فلانة وأغلقت عليك بابها، لا يخلون رجل بامرأة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13635 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس گھر پر لعنت فرمائی جس میں کو مخنث (ہجڑا) داخل ہو۔ ابن النجار
13635- عن ابن عباس قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتا يدخله مخنث. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13636 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو آدمی کسی کے گھر میں نگاہ مارے تو اس کا نگہبان فرشتہ اس کو کہتا ہے : افسوس تجھ پر، تو نے اذیت دی اور نافرمانی کی۔ پھر اس پر قیامت تک کے لیے آگ جلادی جاتی ہے۔ جب وہ قبر سے نکلتا ہے تو وہ فرشتہ اس کے منہ پر آگ مارتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تم سمجھ سکتے ہو۔
الدیلمی وفیہ ابان بن سفیان متھم
کلام : روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابان بن سفیان متہم ہے۔ نیز دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 182, 180، التنزیہ 216/2 ۔
الدیلمی وفیہ ابان بن سفیان متھم
کلام : روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابان بن سفیان متہم ہے۔ نیز دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 182, 180، التنزیہ 216/2 ۔
13636- عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من رجل يدخل بصره في منزل قوم إلا قال الملك الموكل به: أف لك آذيت وعصيت، ثم توقد النار عليه إلى يوم القيامة، فإذا خرج من قبره ضرب بها الملك وجهه محماة فما ترونه يلقى بعد ذلك. "الديلمي وفيه ابان ابن سفيان متهم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13637 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ مجھے ایسے شخص نے خبر دی جس کی میں تصدیق کرتا ہوں، اس شخص کی طرف سے جس نے اس روایت کو حضرت علی (رض) سے سنا۔
حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی باندی کو خریدنے کی غرض سے اس کی پنڈلی، پچھلا حصہ اور پیٹ دیکھا جاسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں اگر تو (واقعی خریدنے کی غرض سے) اس کا بہاؤ تاؤ کررہا ہو۔ الجامع لعبد الرزاق
حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی باندی کو خریدنے کی غرض سے اس کی پنڈلی، پچھلا حصہ اور پیٹ دیکھا جاسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں اگر تو (واقعی خریدنے کی غرض سے) اس کا بہاؤ تاؤ کررہا ہو۔ الجامع لعبد الرزاق
13637- عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق عمن سمع عليا يسأل عن الأمة تباع أينظر إلى ساقها وعجزها وإلى بطنها؟ قال: لا بأس بذلك وقفت لتساومها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13638 نباتہ سے مروی ہے فرماتی ہیں : حضرت عثمان (رض) جب غسل فرما لیتے تو میں آپ (رض) کے کپڑے لے کر آپ کے پاس آتی۔ آپ (رض) فرماتے کہ میری طرف نہ دیکھنا کیونکہ یہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔ نباتہ فرماتی ہیں حالانکہ میں آپ کی بیوی تھی۔ ابن سعد
13638- عن نباتة قالت: كان عثمان إذا اغتسل جئته بثيابه فيقول لي: لا تنظري إلي، فإنه لا يحل لك قالت وكنت لامرأته. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13639 حضرت علی (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے عرض کیا ضرور ! آپ نے فرمایا : تیرے لیے جنت میں ایک خزانہ ہے اور تو اس خزانے کے دونوں طرف والا ہے (یعنی اس خزانے کے اول وآخر سارے کا تو مالک ہے) بس نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈال۔ پہلی تیرے لیے ہے لیکن دوسری تجھ پر وبال ہے۔
ابن مردویہ
ابن مردویہ
13639- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أبشرك؟ قلت: بلى، قال: إن لك لكنزا في الجنة، وإنك لذو قرنى2 هذا الكنز، لا تتبع النظرة النظرة، لك الأولى وعليك الآخرة. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13640 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ارشاد فرمایا : اے علی ! جنت میں تیرے لیے ایک خزانہ ہے اور تو اس خزانے کا دو سینگوں والا (یعنی تنہا مالک) ہے۔ پس نظر کے بعد نظر نہ ڈال۔ بیشک پہلی تیرے لیے (معاف) ہے، دوسری نہیں۔ ابن مردویۃ
13640- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي؛ إن لك كنزا في الجنة، وإنك ذو قرنيها، فلا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى، وليست لك الآخرة. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13641 جریر (رح) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔ ابن النجار
13641- عن جرير قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظرة الفجاءة، فأمرني أن أصرف بصري. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13642 (مسند عثمان (رض)) سالم بن عبداللہ، ابان بن عثمان اور زید بن حسن سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے ایک قریشی لڑکے ساتھ بدفعلی کی تھی۔ حضرت عثمان (رض) نے اس آدمی کے متعلق پوچھا کیا یہ محصن (شادی شدہ) ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس نے نکاح تو کیا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ ہم بستر نہیں ہوا۔ حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : اگر یہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہم بستر ہوچکا ہوتا تو اس پر رجم کی سزا لازم آتی۔ لیکن اگر اس نے دخول نہیں (یعنی ابھی تک بیوی کے ساتھ ہم بستر نہیں ہوا) تو اب اس کو (سو کوڑوں کی) حد جاری کریں۔ ابوایوب (رض) جو حاضر مجلس تھے بولے : میں گواہی دیتا ہوں کہ جو ابوالحسن (حضرت علی (رض)) ذکر کررہے ہیں میں نے یہی بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے اس کے لیے حکم دیدیا اور اس کو حد جاری کردی گئی۔ الکبیر للطبرانی
13642- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن سالم بن عبد الله وأبان بن عثمان وزيد بن حسن أن عثمان بن عفان أتي برجل قد فجر بغلام من قريش فقال عثمان: أحصن؟ قالوا: قد تزوج بامرأة ولم يدخل بها بعد، فقال علي لعثمان: لو دخل بها لحل عليه الرجم، فأما إذا لم يدخل بها فاجلده الحد، فقال أبو أيوب: أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الذي ذكر أبو الحسن، فأمر به عثمان فجلد. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13643 (مسند علی (رض)) محمد بن المنکدر سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید (رض) نے ابوبکر صدیق (رض) کو لکھا کہ : عرب کے ایک علاقے میں ایک شخص ہے وہ اس طرح اپنا نکاح کرواتا ہے جس طرح عورت کا نکاح ہوتا ہے۔
چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو جمع کیا جن میں حضرت علی (رض) بھی شامل تھے اور آپ (رض) (ہی اس دن سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے۔ حضرت علی (رض)) نے فرمایا : یہ ایسا گناہ ہے جو کچھ ہوا وہ تم کو بھی معلوم ہے۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ تم اس شخص کو جلاڈالو۔ لہٰذا حضرت ابوبکر (رض) نے خالد بن ولید (رض) کو لکھا کہ اس کو آگ میں جلادیا جائے۔
ابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی، ابن المنذر، ابن بشران، السنن للبیہقی عن یزید قیس ان علیا رجم لوطیا ، ابن ابی شیبہ الشافعی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی، السنن للبیہقی
فائدہ : یزید بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک لوطی کو رجم کیا تھا۔
السنن للبیہقی
چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو جمع کیا جن میں حضرت علی (رض) بھی شامل تھے اور آپ (رض) (ہی اس دن سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے۔ حضرت علی (رض)) نے فرمایا : یہ ایسا گناہ ہے جو کچھ ہوا وہ تم کو بھی معلوم ہے۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ تم اس شخص کو جلاڈالو۔ لہٰذا حضرت ابوبکر (رض) نے خالد بن ولید (رض) کو لکھا کہ اس کو آگ میں جلادیا جائے۔
ابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی، ابن المنذر، ابن بشران، السنن للبیہقی عن یزید قیس ان علیا رجم لوطیا ، ابن ابی شیبہ الشافعی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی، السنن للبیہقی
فائدہ : یزید بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک لوطی کو رجم کیا تھا۔
السنن للبیہقی
13643- "مسند علي رضي الله عنه" عن محمد بن المنكدر أن خالد بن الوليد كتب إلى أبي بكر الصديق أنه وجد رجل في بعض ضواحي العرب ينكح كما تنكح المرأة، وأن أبا بكر جمع لذلك ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كان فيهم علي بن أبي طالب أشدهم يومئذ قولا فقال: إن هذا ذنب لم تعمل به أمة من الأمم إلا أمة واحدة فصنع بها ما قد علمتم، أرى أن تحرقوه بالنار، فكتب إليه أبو بكر أن يحرق بالنار. "ابن أبي الدنيا في ذم الملاهي وابن المنذر وابن بشران ق عن يزيد بن قيس أن عليا رجم لوطيا "ش والشافعي ص وابن أبي الدنيا في ذم الملاهي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13644 عن حسین بن زید عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ عن علی۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے قوم لوط کا عمل کیا وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کو رجم کردیا جائے۔ ابن جریر وصعفہ
کلام : یہ روایت ضعیف ہے کنز العمال رقم الحدیث 13644 ج 5 ۔
کلام : یہ روایت ضعیف ہے کنز العمال رقم الحدیث 13644 ج 5 ۔
13644- عن حسين بن زيد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يرجم من عمل عمل قوم لوط، أحصن أو لم يحصن. "ابن جرير" وضعفه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13645 ابن عباس (رض) اس امرد (لڑکے) کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں جو لوطی عمل میں ملوث پایا جائے کہ اس کو رجم (سنگسار) کردیا جائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13645- عن ابن عباس في البكر يوجد على اللوطية؟ قال: يرجم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13646 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کردو یعنی جو قوم لوط کا عمل کرے۔ اور جو کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے اس کو اور جانور دونوں کو قتل کردو۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ کلمہ اس لیے ہے تاکہ اس کے گھر والوں کو اس کی وجہ سے بدنام نہ کیا جائے، اور فرمایا جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس کو بھی قتل کردو۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13646- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقتلوا الفاعل والمفعول به، يعني الذي يعمل بعمل قوم لوط، ومن أتى بهيمة فاقتلوه، واقتلوا البهيمة، قال ابن عباس: لئلا يعير أهلها بها، ومن أتى ذات محرم فاقتلوه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13647 حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے فرمایا : قوم لوط میں سے جنہوں نے قول لوط کا عمل کیا وہ صرف تیس سے کچھ اوپر تھے ابھی ان کی تعداد چالیس نہ ہوئی تھی کہ اللہ نے سب کو ہلاک کردیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں : تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ کا عذاب بھی تم سب پر نازل ہوجائے گا۔ اسحاق بن بشر، ابن عساکر
13647- عن أبي سعيد قال: من عمل ذلك من قوم لوط إنما كانوا ثلاثين رجلا ونيفا1 لا يبلغون أربعين فأهلكهم الله جميعا، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو لتعمنكم العقوبة جميعا. "إسحاق بن بشر كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد نظری
13648 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے انھوں نے ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رنجیدہ دیکھا تو پوچھا : یارسول اللہ ! کس چیز نے آپ کو رنجیدہ کررکھا ہے ؟ مجھے ایک بات کا خوف ہے اپنی امت پر کہ کہیں وہ میرے بعد قوم لوط کا عمل نہ کرنے لگ جائیں۔ الکبیر للطبرانی
13648- عن عائشة أنها رأت النبي صلى الله عليه وسلم حزينا، فقالت: يارسول الله، وما الذي يحزنك؟ قال: شيئا تخوفت على أمتي أن يعملوا بعدي بعمل قوم لوط. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لواطت
13649 (مسند عمر (رض)) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : سب سے پہلے جو اس بدفعلی (یعنی قوم لوط کے عمل) کے ساتھ مہتم ہوا وہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں تھا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے قریش کے جوانوں کو حکم فرمادیا کہ اس شخص کے ساتھ کوئی نہ اٹھے بیٹھے۔ السنن للبیہقی
13649- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عائشة قالت: أول من اتهم بالأمر القبيح تعني عمل قوم لوط اتهم به رجل على عهد عمر، فأمر شباب قريش أن لا يجالسوه. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالخمر۔۔۔شراب کی سزا
13650 (مسند صدیق (رض)) ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شراب پینے پر جوتوں کے ساتھ چالیس ضربیں ماریں۔ الجامع لعبد الرزاق، النسائی
13650- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي سعيد الخدري أن أبا بكر الصديق ضرب في الخمر بالنعلين أربعين. "عب ن".
তাহকীক: