কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৬১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13611 ابوامامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور بولا : یارسول اللہ ! مجھے زنا کی اجازت دیدیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب جو اصحاب بیٹھے تھے انھوں نے اس کو زدو کوب کرنا چاہا، لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کیا تو چاہتا ہے کہ تیری بہن کے ساتھ ایسا کام کیا جائے ؟ اس نے انکار کیا۔ آپ نے پوچھا : اچھا تیری بیٹی کے ساتھ ؟ اس نے انکار کیا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مختلف رشتوں کا نام لے لے کر اس سے پوچھتے رہے اور وہ انکار کرتا رہا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو بات اللہ نے تیرے لیے ناپسند کردی ہے وہ دوسروں کے لیے بھی ناپسند کر۔ اور جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کر۔ ابن جریر
13611- عن أبي أمامة أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ائذن في الزنا؟ فهم من كان قرب النبي صلى الله عليه وسلم أن يتناولوه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعوه، ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم: أتحب أن يفعل هذا بأختك؟ قال: لا، قال: فبإبنتك؟ قال: لا، فلم يزل يقول فبكذا فبكذا كل ذلك يقول: لا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم فاكره ما كره الله وأحب لأخيك ما تحب لنفسك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13612 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت سعد (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک کے لیے اس کو مہلت دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں۔ ابن عساکر
13612- عن أبي هريرة أن سعدا قال: يا رسول الله أرأيت إن وجدت مع امرأتي رجلا أمهله حتى آتي بأربعة شهداء؟ قال: نعم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13613 حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ اگر آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے، کفی بالسیف شاھداً یعنی آپ شاھداً فرمانا چاہتے تھے کہ تلوار اس کے لیے گواہ ہے یعنی اس کا کام تمام کردو لیکن پھر آپ نے وہ بات پوری نہیں فرمائی بلکہ یہ ارشاد فرمایا : پھر تو نشہ آور اور غیرت مند بھی (بہانہ بنا کر) اس کی اتباع کریں گے۔ الجامع لعبد الرزاق
فائدہ : یعنی آپ ایسی صورت میں اجنبی آدمی کو مار ڈالنے کی اجازت دینا چاہتے تھے لیکن پھر دوسرے خیال کی وجہ سے رک گئے کہ اس طرح لوگ اس آڑ میں ناجائز قتل و غارت گری شروع کردیں گے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت اگلی روایت میں ملاحظہ فرمائیں۔
فائدہ : یعنی آپ ایسی صورت میں اجنبی آدمی کو مار ڈالنے کی اجازت دینا چاہتے تھے لیکن پھر دوسرے خیال کی وجہ سے رک گئے کہ اس طرح لوگ اس آڑ میں ناجائز قتل و غارت گری شروع کردیں گے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت اگلی روایت میں ملاحظہ فرمائیں۔
13613- عن الحسن في الرجل يجد مع امرأته رجلا؟ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفى بالسيف شا يريد أن يقول شاهدا فلم يتم الكلمة حتى قال: إذا يتتابع فيه السكران والغيران "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13614 ہمیں معمر نے زہری (رح) سے روایت بیان کی کہ ایک آدمی نے (غالباً یہ حضرت سعد (رض)) اور اپنے قبیلے کے سردار تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو اس کو قتل کردے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لوگوں کو مخاطب ہو کر) فرمایا : سنتے ہو وہ تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس کو ملامت نہ فرمائیں، یہ زیادہ غیرت مند آدمی ہے۔ اللہ کی قسم ! اس نے کبھی باکرہ (کنواری ) عورت کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کی اور جب بھی کسی کو طلاق دی ہے (وہ اس حال تک پہنچا دی ہے) کہ کوئی بھی ہم میں سے اس کے ساتھ شادی نہیں کرسکتا۔ بالآخر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (کچھ بھی ہو لیکن) اللہ پاک گواہوں کے بغیر ایسی صورت سے انکار فرماتا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13614- أنبأنا معمر عن الزهري قال: سأل رجل رسول الله فقال: الرجل يجد مع امرأته رجلا أيقتله؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ألا تسمعون إلى ما يقول سيدكم؟ قالوا: لا تلمه يا رسول الله فإنه رجل غيور، والله ما تزوج امرأة قط إلا بكرا ولا طلق امرأة قط فاستطاع أحد منا أن يتزوجها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يأبى الله إلا بالبينة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولد الزنا کا حکم
13615 حضرت عائشہ (رض) کے متعلق مروی ہے کہ ان سے جب پوچھا جاتا : (کیا) ولد الزنا شرالثلاثۃ ہے (یعنی کیا یہ بھی اپنے والدین کی طرح شر ہے ؟ ) تو آپ (رض) ارشاد فرماتی تھیں : اس پر اپنے والدین کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ولا تزروازرۃ وزرا اخری۔
کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
ولا تزروازرۃ وزرا اخری۔
کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13615- عن عائشة أنها كانت إذا قيل لها: ولد الزنا شر الثلاثة عابت ذلك وقالت: ما عليه من وزر أبويه؛ قال الله تعالى: {وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} . "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولد الزنا کا حکم
13616 حضرت عائشہ (رض) کا فرمان ہے : اولاد الزنا کو (اگر وہ مملوک ہوں) آزاد کرو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک رکھو۔ الجامع لعبد الرزاق
13616- عن عائشة قالت: أعتقوا أولاد الزنا وأحسنوا إليهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولد الزنا کا حکم
13617 میمون بن مہران (رح) سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ تھے جب انھوں نے ایک ولد الزنا کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تو آپ (رض) (کو کہا گیا : کہ ابوہریرہ (رض)) نے تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی اور یہ فرمایا کہ یہ شرالثلاثۃ ہے (یعنی والدین کی طرح شر اور بدبخت ہے) حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : یہ خیر الثلاثۃ ہے (یعنی برے والدین کی اچھی اولاد ہے) ۔ الجامع لعبد الرزاق
13617- عن ميمون بن مهران أنه شهد ابن عمر صلى على ولد الزنا فقيل له: إن أبا هريرة لم يصل عليه وقال: هو شر الثلاثة، فقال له ابن عمر: هو خير الثلاثة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولد الزنا کا حکم
13618 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جس عورت کا شوہر موجود نہ ہو اس کے پاس صرف اس کا ذومحرم ہی داخل ہوسکتا ہے۔ خبردار ! اگر کہا جائے کہ اس کے دیور وغیرہ ! تو سنو دیور وغیرہ موت ہیں۔ ان کا داخلہ بھی قطعاً جائز نہیں ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13618- عن عمر قال: لا يدخل على امرأة مغيبة إلا ذو محرم ألا وإن قيل: حموها ألا حموها الموت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13619 ابوعبدالرحمن السلمی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا کوئی (نامحرم) آدمی کسی غائب شوہر والی عورت کے پاس داخل نہ ہو۔ ایک آدمی نے کہا میرا بھائی (یا کہا) میرا چچازاد جہاد پر گیا ہوا ہے اور وہ مجھے اپنے گھر کی نگہداشت کا کہہ گیا ہے۔ تو کیا میں اس کے گھر والوں کے پاس جاسکتا ہوں ؟ حضرت عمر (رض) نے اس کو درہ (کوڑا) مارا اور فرمایا : تب بھی یہی حکم ہے، ان کے گھر میں ہرگز داخل نہ ہو، بلکہ دروازوں پر کھڑا ہو کر پوچھ لے ! کیا تم کو کوئی کام ہے ؟ الجامع لعبد الرزاق
13619- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال عمر بن الخطاب: لا يدخل رجل على مغيبة فقال: إن أخا لي أو ابن عم لي خرج غازيا وأوصاني فأدخل عليهم فضربه بالدرة فقال: إذن كذا إذن دونك لا تدخل وقم على الباب، فقل لكم حاجة أتريدون شيئا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13620 حسن (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کسی آدمی کے پاس سے گزرا جو ایک عورت کے ساتھ بات چیت کررہا تھا۔ اس نے ان کے درمیان ایسی حالت دیکھی کہ وہ اپنے آپ کو روک نہ سکا اور ڈنڈا لے کر آیا اور اس کو اتنا مارا کہ اس کا خون بہہ پڑا۔ آدمی نے جاکر حضرت عمر (رض) سے شکایت کی۔ حضرت عمر (رض) نے مارنے والے آدمی کو بلوایا اور اس سے پوچھا : آدمی نے جواب دیا : امیر المومنین ! میں نے اس کو ایک عورت کے ساتھ اس طرح باتیں کرتے دیکھا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اور ہم میں سے کون کرے گا ایسا ؟ پھر (زخمی) آدمی کو فرمایا : اور یہ سمجھ لے کہ یہ آدمی اللہ کا جاسوس تھا جس نے تجھے اس نوبت تک پہنچایا۔ ابن عساکر
13620- عن الحسن أن رجلا مر على رجل يكلم امرأة فرأى ما لم يملك نفسه فجاء بعصا، فضربه حتى سالت الدماء، فشكا الرجل ما لقي إلى عمر بن الخطاب فأرسل عمر إلى الرجل فسأله، فقال: يا أمير المؤمنين، إني رأيته يكلم امرأة فرأيت منه ما لم أملك نفسي، فتكلم عمر ثم قال: وأينا كان يفعل هذا، ثم قال للرجل: اذهب عين من عيون الله أصابتك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13621 عن عمرو بن دینار عن موسیٰ بن خلف کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو سرعام ایک عورت سے بات چیت کررہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس پر کوڑا اٹھالیا۔ آدمی بولا : یا امیر المومنین ! یہ عورت میری بیوی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر ایسی جگہ کیوں بات نہیں کرتا جہاں تجھے لوگ نہ دیکھیں۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق
13621- عن عمرو بن دينار عن موسى بن خلف أن عمر بن الخطاب مر برجل يكلم امرأة على ظهر الطريق فعلاه بالدرة فقال له الرجل: يا أمير المؤمنين، إنها امرأتي، قال: فهلا حيث لا يراك الناس. "الخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13622 حضرت عمر (رض) کے متعلق مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : لوگو ! جن عورتوں کے پاس ان کے شوہر (یا کوئی ذی محرم) نہ ہوں ان کے پاس جانے سے ہرگز اجتناب کرو۔ اللہ کی قسم ! آدمی کسی (اجنبیہ) عورت کے پاس داخل ہوتا ہے، حالانکہ آدمی اگر آسمان سے زمین پر گرجائے تو یہ اس کے لیے زنا کرنے سے بہتر ہے، چنانچہ شیطان ایک کو دوسرے کے ساتھ ورغلاتا رہتا ہے حتیٰ کہ دونوں کو ملا دیتا ہے۔ ابن جریر
13622- عن عمر قال: إياكم والمغيبات، فوالله إن الرجل ليدخل على المرأة ولأن يخر من السماء إلى الأرض أحب إليه من أن يزني، فما يزال الشيطان يخطب أحدهما على الآخر، حتى يجمع بينهما. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13623 عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کسی عورت کے ساتھ بات چیت کررہا تھا۔ آپ (رض) نے اس کو درہ مارا، آدمی بولا : یا امیر المومنین ! یہ میری بیوی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر اپنا بدلہ لے لو۔ آدمی بولا : قد غفرت لک میں نے آپ کو بخش دیا یا امیر المومنین ! ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مغفرت (بخشش) تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے، ہاں تم چاہو تو معاف کردو۔ تب آدمی بولا : یا امیر المومنین ! میں نے آپ کو معاف کردیا۔ الاصبھانی
13623- عن عطاء قال: مر عمر برجل وهو يكلم امرأة فعلاه بالدرة فقال: يا أمير المؤمنين إنها امرأتي، قال: فاقتص، قال: قد غفرت لك يا أمير المؤمنين، قال: ليس مغفرتها بيدك، ولكن إن شئت أن تعفو فاعف قال: قد عفوت عنك يا أمير المؤمنين. "الأصبهاني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13624 عن معمر عن الحسن کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص حضرت علی (رض) کے گھر پر گئے اور اجازت لی مگر حضرت علی (رض) موجود نہ تھے اس لیے واپس آگئے۔ پھر دوابرہ کسی وقت گئے تو حضرت علی (رض) کو موجود پایا۔ چنانچہ ان کی موجودگی میں ان کی بیوی سے اپنے کام کی بات کی۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : گویا تم کو عورت سے کام تھا ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں۔ لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوہر کی عدم موجودگی میں ان کی عورتوں کے پاس جانے سے منع کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں ! بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوہر کی عدم موجودگی میں ان کی عورتوں کے پاس جانے سے منع کیا ہے۔ النسائی
13624- عن معمر عن الحسن أن عمرو بن العاص استأذن على علي فلم يجده فرجع ثم استأذن عليه مرة أخرى فوجده، فكلم امرأة علي في حاجته، فقال علي: كأن حاجتك كانت إلى المرأة؟ قال: نعم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يدخل على المغيبات قال: فقال له علي: أجل قد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يدخل على المغيبات. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13625 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ عورتوں سے ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر بات چیت نہ کی جائے۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق
13625- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أن يكلم النساء إلا بإذن أزواجهن. "الخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13626 غنم بن سلمۃ سے مروی ہے کہ حضرت عمروبن العاص (رض) حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے گھر کسی کام سے گئے۔ لیکن حضرت علی (رض) موجود نہ تھے، لہٰذا لوٹ آئے۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا پھر حضرت علی (رض) تشریف لے آئے اور حضرت عمر (رض) کو فرمایا : اگر تم کو عورت سے کام تھا تو اندر چلے جاتے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم کو منع کیا گیا ہے کہ ہم عورتوں کے پاس ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر داخل ہوں۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق
13626- عن غنم بن سلمة قال: أقبل عمرو بن العاص إلى بيت علي بن أبي طالب في حاجة فلم يجد عليا فرجع، ثم عاد فلم يجده مرتين أو ثلاثا فجاء علي فقال له: ما استطعت إذ كانت حاجتك إليها أن تدخل؟ قال: نهينا أن ندخل عليهن إلا بإذن أزواجهن. "الخرائطي فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13627 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : کوئی آدمی کسی عورت کے پاس اس کے شوہر کی عدم موجودگی میں داخل نہ ہو سوائے ایسی عورت کے جو اس پر حرام ہے (ماں بہن وغیرہ) ۔ خبردار ! اگر کوئی کہے کہ حموھا (شوہر کا رشتہ دار) تو سنو وہ تو موت ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبۃ
فائدہ : حضرت عمر (رض) کا مقصد غالباً حموھا سے عورت کے شوہر کا باپ تھا۔ یعنی وہ حالانکہ محرم ہے جب وہ عورت (یعنی بہو) کے لیے موت ہے تو شوہر کے بھائی وغیرہ دوسرے مرد رشتے دار تو کس قدر اس کے لیے خطرناک ہوں گے۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبۃ
فائدہ : حضرت عمر (رض) کا مقصد غالباً حموھا سے عورت کے شوہر کا باپ تھا۔ یعنی وہ حالانکہ محرم ہے جب وہ عورت (یعنی بہو) کے لیے موت ہے تو شوہر کے بھائی وغیرہ دوسرے مرد رشتے دار تو کس قدر اس کے لیے خطرناک ہوں گے۔
13627- عن عمر قال: لا يدخل رجل على امرأة مغيبة إلا امرأة هي عليه محرم، ألا وإن قال: حموها1 ألا حموها الموت. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13628 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ ڈاکیہ (قاصد) حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اس نے اپنا ترکش کھولا تو اس میں سے ایک کاغذ نکل کر گرپڑا جس میں چند اشعار لکھے تھے :
ترجمہ : سن ! اے قاصد ابوحفص کو یہ خبر پہنچا دے ! تجھ پر میرا بھائی قربان ہو جو مضبوط ازاروالا (پاکدامن) ہے۔ اللہ آپ کو ہدایات بخشے ، ہم تو جنگ کے زمانے میں تم سے دور رہتے ہیں اور ہماری اونٹنیاں ، حالانکہ وہ بندھی ہوئی ہیں۔ پھر مختلف تجار سامان فروختگی کے بہانے ان کے پاس آتے جاتے ہیں ، وہ اونٹنیاں بنی کعب بن عمرو، اسلم، جہینہ اور قبیلہ غفار کی ہیں۔ ان کو جعدہ بن سلیم گمراہ باندھنے کی کوشش کرتا ہے وہ ان کی دوشیزگی ختم کرنا چاہتا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے یہ خط پڑھ کر جعدہ بن سلیم کو بلایا اور اس کو باندھ کر سو کوڑے مارے اور آئندہ کے لیے اس کو کسی عورت کے پاس جس کا شوہر موجود نہ ہو ، جانے سے قطعاً روک دیا۔
ابن سعد ، الحارث
ترجمہ : سن ! اے قاصد ابوحفص کو یہ خبر پہنچا دے ! تجھ پر میرا بھائی قربان ہو جو مضبوط ازاروالا (پاکدامن) ہے۔ اللہ آپ کو ہدایات بخشے ، ہم تو جنگ کے زمانے میں تم سے دور رہتے ہیں اور ہماری اونٹنیاں ، حالانکہ وہ بندھی ہوئی ہیں۔ پھر مختلف تجار سامان فروختگی کے بہانے ان کے پاس آتے جاتے ہیں ، وہ اونٹنیاں بنی کعب بن عمرو، اسلم، جہینہ اور قبیلہ غفار کی ہیں۔ ان کو جعدہ بن سلیم گمراہ باندھنے کی کوشش کرتا ہے وہ ان کی دوشیزگی ختم کرنا چاہتا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے یہ خط پڑھ کر جعدہ بن سلیم کو بلایا اور اس کو باندھ کر سو کوڑے مارے اور آئندہ کے لیے اس کو کسی عورت کے پاس جس کا شوہر موجود نہ ہو ، جانے سے قطعاً روک دیا۔
ابن سعد ، الحارث
13628- عن محمد بن سيرين أن بريدا قدم على عمر فنثر كنانته2 فبدرت صحيفة فأخذها فقرأها فإذا فيها:
ألا أبلغ أبا حفص رسول ... فدى لك من أخي ثقة إزاري
قلائصنا هداك الله إنا ... شغلنا عنكم زمن الحصار
فما قلص وجدن معقلات ... قفا سلع بمختلف التجار
قلائص من بني كعب بن عمرو ... وأسلم أو جهينة أو غفار
يعقلهن جعدة من سليم ... غوي يبتغي سقط العذار
فقال: ادعو [لي] جعدة بن سليم فدعى به فجلده مائة جلدة معقولا ونهاه أن يدخل على امرأة مغيبة. "ابن سعد والحارث"
ألا أبلغ أبا حفص رسول ... فدى لك من أخي ثقة إزاري
قلائصنا هداك الله إنا ... شغلنا عنكم زمن الحصار
فما قلص وجدن معقلات ... قفا سلع بمختلف التجار
قلائص من بني كعب بن عمرو ... وأسلم أو جهينة أو غفار
يعقلهن جعدة من سليم ... غوي يبتغي سقط العذار
فقال: ادعو [لي] جعدة بن سليم فدعى به فجلده مائة جلدة معقولا ونهاه أن يدخل على امرأة مغيبة. "ابن سعد والحارث"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13629 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : لوگو کو کیا ہوگیا کہ کوئی کوئی آدمی مسلسل ان عورتوں کے پاس جن کے شوہر جہاد پر گئے ہوئے ہیں، تکیہ لگائے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ بات چیت میں مصروف رہتے ہیں۔ خبردار ! ان سے کنارہ کرو۔ وہ پاکدامن عورتیں ہیں، کیونکہ عورتیں تو تختے پر پڑا ہوا گوشت ہوتی ہیں (وہ زیادہ اپنا دفاع نہیں کرسکتی اور باتوں میں آجاتی ہیں) ہاں مگر جو بچنا چاہے۔ ابوعبید
13629- عن عمر قال: ما بال رجال لا يزال أحدهم كاسرا وسادة عند امرأة مغزية يتحدث إليها، عليكم بالجنبة3 فإنها عفاف وإنما النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت
13630 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان عورتوں کے پاس داخل نہ ہو جن کے شوہر گھروں پر موجود نہیں ہیں۔ بیشک شیطان ابن آدم میں خون کی جگہ دوڑتا ہے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ کیا آپ میں بھی ؟ فرمایا : ہاں مگر اللہ نے میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ ابن النجار
13630- عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدخلوا على هؤلاء المغيبات فإن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم، قيل: يا رسول الله، ومنك قال: ومني إلا أن الله أعانني عليه فأسلم. "ابن النجار".
তাহকীক: