কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৫৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13591 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ ابوالسیارۃ ابوجندب کی بیوی پر فریفتہ ہوگیا۔ اور اس کو بہلانے پھسلانے لگا۔ لیکن ابوجندب کی بیوی نے انکار کردیا اور کہا : ایسانہ کر، اگر ابوجندب کو معلوم ہوگیا تو وہ تجھے قتل کردے گا۔ لیکن ابوالسیارۃ نے باز آنے سے انکار کردیا۔ بیوی نے ابوجندب کے بھائی سے بات کی۔ ابوجندب کے بھائی نے ابوالسیارۃ کو سمجھایا لیکن وہ پھر بھی باز نہ آیا۔ ابوجندب کی بیوی نے اپنے شوہر کو بتایا۔ ابوجندب نے کہا : میں لوگوں کو کہہ کرجاتا ہوں کہ میں اونٹوں کے پاس جارہا ہوں (ابوالسیارۃ کو علم ہوجائے گا) پھر تاریکی میں آکر میں گھر میں چھپ جاؤں گا پھر وہ آئے تو تم اس کو اندر میرے پاس بلالینا۔ چنانچہ ابوجندب لوگوں کو کہہ کر کہ میں اونٹوں کے پاس (شہر سے باہر باڑے پر) جارہا ہوں، چلے گئے۔ چنانچہ جب تاریکی چھا گئی تو وہ چھپ کر واپس آگئے اور کمرے کے اندر چھپ گئے۔ پھر ابوالسیارۃ آیا اور ابو جندب کی بیوی رات کی تاریکی میں آٹا پیس رہی تھی۔ چنانچہ ابوالسیارۃ نے آکر ابوجندب کی بیوی کو پھسلانا چاہا۔ ان کی بیوی بولی : افسوس ہے تجھ پر ! کیا اس کام پر میں نے کبھی بھی تجھے پھسلایا ہے ؟ ابوالسیارہ بولا : ہرگز نہیں۔ لیکن مجھے بغیر صبر نہیں ہوتا۔ بیوی بولی : اچھا اندر کمرے میں چل ! میں تیرے لیے تیار ہو کر آتی ہوں۔ چنانچہ جیسے ہی ابوالسیارۃ کمرے میں داخل ہوا۔ ابوجندب جو اندر ہی تھے انھوں نے کمرے کا دروازہ بند کرلیا پھر ابوالسیارۃ کو پکڑ کر گدی سے لے کر نیچے تک خوب مارنا شروع کردیا۔ ابوجندب کی بیوی ابوجندب کے بھائی کے پاس گئی اور بولی آدمی کو بچالو۔ ورنہ ابو جندب اس کو قتل کردے گا۔ چنانچہ ان کے بھائی نے ان کو اللہ کا واسطہ دے کر روکا تو انھوں نے چھوڑ دیا پھر ابوجندب نے ابوالسیارۃ کو اٹھا کر اونٹوں کے راستے پر باہر پھینک دیا۔ پھر جب بھی ان کے پاس سے کوئی گزرتا اور ان سے ان کی حالت کا پوچھتا تو وہ کہتا : میں اونٹ سے گرگیا تھا پھر اونٹ نے اوپر سے مجھے کچل دیا جس کی وجہ سے میں کبڑا ہوگیا ہوں۔

پھر ابو السیارۃ نے آکر حضرت عمر (رض) کو شکایت کی (حضرت عمر (رض)) نے پیغام بھیج کر ابو جندب کو بلایا۔ ابوجندب سارا واقعہ سچا سچا کہہ سنایا۔ حضرت عمر (رض) نے اہل ماء (لوگوں) کو بلایا تو انھوں نے بھی ابوجندب کی بات کی تصدیق کی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ابوالسیارۃ کو سو کوڑے مارے اور ان کی دیت کو بھی باطل کردا۔ (یعنی ان کے لیے ابوجندب پر کوئی تاوان نہیں) ۔

الخرائطی فی اعتدال القلوب
13591- عن القاسم بن محمد أن أبا السيارة أولع بامرأة أبي جندب يراودها عن نفسها، فقالت: لا تفعل، فإن أبا جندب إن يعلم بهذا يقتلك، فأبي أن ينزع فكلمت أخا أبي جندب، فكلمه فأبى أن ينزع، فأخبرت بذلك أبا جندب فقال أبو جندب: إني مخبر القوم أني أذهب إلى الإبل فإذا أظلمت جئت فدخلت البيت فإن جاء فأدخليه علي، فودع أبو جندب القوم وأخبرهم أنه ذاهب إلى الإبل، فلما أظلم الليل جاء وكمن في البيت وجاء أبو السيارة وهي تطحن في ظلمتها فراودها عن نفسها فقالت له: ويحك أرأيت هذا الأمر الذي تدعوني إليه هل دعوتك إلى شيء منه قط؟ قال: لا، ولكن لا صبر لي عنك، فقالت: ادخل البيت حتى أتهيأ لك، فلما دخل البيت أغلق أبو جندب الباب، ثم أخذه فدق من عنقه إلى عجب1 ذنبه، فذهبت المرأة إلى أخي أبي جندب، فقالت: أدرك الرجل، فإن أبا جندب قاتله، فجعل أخوه يناشده الله فتركه، وحمله أبو جندب إلى مدرجة الإبل فألقاه، فكان كلما مر به إنسان قال له: ما شأنك؟ فيقول: وقعت عن بكر فحطمني فأمسى محدودبا ثم أتى عمر بن الخطاب فشكا إليه فبعث عمر إلى أبي جندب فأخبره بالأمر على وجهه، فأرسل إلى أهل الماء، فصدقوه فجلد عمر أبا السيارة مائة جلدة وأبطل ديته. "الخرائطي في اعتلال القلوب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13592 (مسند علی (رض)) ابوعبدالرحمن السلمی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! اپنے غلاموں باندیوں پر حدود زنا نافذ کرو خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ بیشک ایک مرتبہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی نے زنا کرلیا تھا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس پر حد قائم کروں۔ چنانچہ میں اس باندی کے پاس پہنچا تو اس کو نفاس کی حالت میں پایا۔ مجھے خوف ہوا کہ اگر میں اس پر حد نافذ کروں گا تو وہ موت کے منہ میں چلی جائے گی، چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آگیا اور آپ کو خبر بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اچھا کیا۔ اس کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ تندرست ہوجائے۔ مسند ابی داؤد، مسند احمد، مسلم، الترمذی، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن الجارود، الدارقطنی فی السنن، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی قال الترمذی حدیث حسن صحیح
13592- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: خطب علي فقال: أيها الناس، أقيموا على أرقائكم الحدود، من أحصن، ومن لم يحصن، فإن أمة لرسول الله صلى الله عليه وسلم زنت فأمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقيم عليها الحد، فأتيتها، فإذا هي حديثة عهد بنفاس فخشيت إن أنا جلدتها أن تموت فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له، فقال: أحسنت اتركها حتى تماثل. "ط حم م ت ع وابن جرير وابن الجارود قط ك هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13593 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ماریہ قبطی (جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی اور آپ کے بچے کی ماں بھی تھیں) کا ایک چچازاد تھا جو اکثر ان کے پاس ملنے آتا تھا اور آتا جاتا رہتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : یہ تلوار لے لے اور جا، اگر اسی آدمی کو ماریہ کے پاس پاؤ تو اس کو قتل کردینا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں آپ کے کام میں ہل کے پھار کی طرح بےدھڑس گھس جاؤں گا اور آپ کا کام کیے بغیر واپس نہیں لوٹوں گا۔ یہ بتائیے کیا غائب جو نہیں دیکھ سکتا مشاہد دیکھ سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شاید وہ دیکھ سکتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا (واللہ اعلم بمراد ہ الصواب) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں تلوار سونت کر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور اس کو باندی کے پاس پالیا۔ میں تلوار کے ساتھ اس کی طرف لپکا تو اس نے مجھے دیکھ لیا کہ میں اس کی طرف بڑھ رہا ہوں اور سمجھ گیا کہ وہی میرا مقصود نظر ہے۔ چنانچہ وہ بھاگ کر کھجور کے درخت پر چڑھ گیا پھر وہ گدی کے بل لیٹ گیا اور اپک پاؤں اٹھا لیا۔ میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کو چھو چھو کر دیکھنے لگا معلوم ہوا کہ اس کے پاس تھوڑا ہے اور نہ زیادہ ، (بلکہ وہ تو ہجڑا ہے) چنانچہ میں نے اپنی تلوار نیام میں کرلی پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر آپ کو ساری خبر سنائی۔ آپ نے فرمایا :

الحمد للہ الذی بصرف عنا اھل البیت

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے گھر والوں سے شر کو دور کیا۔ البزار، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء، السنن لسعید بن منصور امام ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی اسناد حسن ہے۔
13593- عن علي قال: أكثر على مارية قبطي ابن عم لها يزورها ويختلف إليها، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ هذا السيف فانطلق، فإن وجدته عندها فاقتله، قلت: يا رسول الله أكون في أمرك كالسكة "كالسكة: السك: المسمار، والسكة: حديدة تحرث بها الأرض. المختار "243" ب" المحماة لا أرجع حتى أمضي لما أمرتني؟ أم الشاهد يرى ما لا يرى الغائب؟ قال: بل الشاهد يرى ما لا يرى الغائب، فأقبلت متوشحا السيف فوجدته عندها فاخترطت السيف فلما رآني أقبلت نحوه عرف أني أريده، فأتى نخلة، فرقي ثم رمى بنفسه على قفاه، ثم شغر برجله فإذا به أجب أمسح ماله قليل ولا كثير، فغمدت السيف، ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال: الحمد الله الذي يصرف عنا أهل البيت. "البزار وابن جرير حل ص" قال ابن حجر إسناده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13594 غزوان بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کی مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان فحش کاموں کا ذکر ہوا۔ حضرت علی (رض) نے حاضرین سے پوچھا : جانتے ہو اللہ کے نزدیک کون سا زنا سب سے بڑا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! زنا تو سب ہی بڑے ہیں۔ ارشاد فرمایا : مجھے معلوم ہے سب زنا بڑے ہیں۔ لیکن میں تم کو اللہ کے ہاں سب سے بڑے زنا کا بتاتا ہوں۔ وہ یوں کہ آدمی کسی مسلمان کی بیوی سے زنا کرے۔ وہ خود تو زانی ہوگا ہی لیکن ایک مسلمان کی بیوی کو بھی خراب کر (کے اس کا گھر تباہ کر) دے گا۔ پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہمیں خبر ملی ہے کہ لوگوں پر ایسی (متعفن) ہوا بھیجی جائے گی جو تمام لوگوں کو ہر جگہ پہنچے گی۔ وہ ہوا لوگوں کا سانس روک دینے کے قریب ہوگی کہ ایک منادی نداء دے گا اس کی آواز کو ہر ایک سنے گا : وہ کہے گا : لوگو ! جانتے ہو یہ کیسی ہوا ہے، جس نے تم کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ہم نہیں جانتے، مگر یہ ہوا ہر جگہ پہنچ رہی ہے۔ تب کہا جائے گا یہ زنا کرنے والوں کی شرم گاہوں سے نکلنے والی بدبودار ہوا ہے، یہ زانی اللہ سے اس حال میں ملے ہیں کہ انھوں نے اپنے زنا سے توبہ نہیں کی تھی۔

ثم ینصرف بھم فلم یذکر عندالا نصراف جنۃ ولا ناراً واللہ اعلم بمراد ھذا الکلام، الدروقی
13594- عن غزوان بن جرير عن أبيه قال: تذاكروا الفواحش عند علي: فقال: أتدرون أي الزنا عند الله أعظم؟ فقالوا: يا أمير المؤمنين الزنا كله عظيم، قال: قد علمت ان الزنا كله عظيم، ولكن سأخبركم بأعظم الزنا عند الله، أن يزني الرجل بزوجة الرجل المسلم فيكون زانيا وقد أفسد على رجل مسلم زوجته، ثم قال عند ذلك: بلغنا أنه يرسل على الناس ريح تبلغ من الناس كل مبلغ، وكادت أن تمسك بأنفاس الناس، فإذا مناد يسمع الصوت كلهم، أتدرون ما هذه الريح التي قد آذتكم؟ فيقولون: لا ندري والله إلا أنها قد بلغت منا كل مبلغ، فيقال: ألا إنها ريح فروج الزناة الذين لقوا الله بزناهم لم يتوبوا منه، ثم ينصرف بهم فلم يذكر عند الانصراف جنة ولا نارا. "الدورقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13595 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس دو عورتیں آئیں جنہوں نے قرآن پڑھ رکھا تھا۔ وہ دونوں بولیں : کیا آپ کو کتاب اللہ میں عورت کے عورت کے ساتھ ہم بستری کرنے کی حرمت معلوم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں۔ ایسی عورتیں ان عورتوں میں سے ہیں جو تبع (بادشاہ) کے زمانے میں ہوتی تھیں اور وہ اصحاب الرائس کی عورتیں تھیں (اور ان کی مذمت قرآن میں آئی ہے) پھر فرمایا : ایسے (ہم جنس پرست) لوگوں کے لیے ستر چادریں آگ کی کاٹیں جائیں گی، ایک قیمص آگ کی، ایک اندرونی پہناوا آگ کا، ایک تاج آگ کا ، دو موزے آگ کے اور ان سب کے اوپر ایک سخت کھردرا موٹا کپڑا ہوگا جو آگ کا ہوگا اور انتہائی بدبودار ہوگا۔

ابن ابی الدنیا، شعب الایمانی للبیہقی ، ابن عساکر
13595- عن علي أنه جاءته امرأتان قد قرأتا القرآن، فقالتا: هل تجد غشيان المرأة المرأة محرما في كتاب الله؟ فقال لهما: نعم، من اللواتي كن على عهد تبع، وهن صواحب الرس قال: يقطع لهم سبعون جلبابا من النار ودرع من نار وبطان من نار وتاج من نار وخفان من نار ومن فوق ذلك ثوب غليظ جاف جلد منتن من نار. "ابن أبي الدنيا هب كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13596 ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت عمر (رض) کے پاس آئی اور بولی : میں نے زنا کیا ہے ! لہٰذا مجھے رجم کر دیجئے۔ آپ (رض) نے اس کو واپس کردیا حتیٰ کہ اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دے دی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کے رجم کا حکم دیدیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یا امیر المومنین اس عورت کو واپس بلائیں اور اس سے اس کے زنا کی حقیقت کے بارے میں سوال کریں شاید اس کے پاس کوئی عذر ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے اس کو واپس بلوایا۔ پوچھا : تیرے ساتھ کیسے زنا ہوا ؟ عورت نے کہا : میرے گھر کے اونٹ تھے، میں ان کے پاس گئی، ہمارا ایک شریک تھا وہ بھی اپنے اونٹوں میں آنکلا۔ میں اپنے ساتھ پانی لے گئی تھی، میرے اونٹوں میں کوئی دودھ والا جانور بھی نہ تھا۔ ہمارا شریک بھی پانی لایا تھا اور اس کے تو اونٹوں میں بھی دودھ والے جانور تھے۔ میرا پانی ختم ہوگیا۔ میں نے اس سے پانی مانگا، مگر اس نے پانی دینے سے انکار کردیا مگر اس شرط پر کہ میں اس کو اپنے وجود پر قدرت دوں۔ لیکن میں نے (اس طرح پانی لینے سے) انکار کردیا لیکن پھر (شدت پیاس سے) میری جان نکلنے کے قریب ہوگئی تو میں نے اس کی بات مان لی۔

پھر حضرت علی (رض) نے اللہ اکبر کا نعرہ مارا اور فرمایا :

فمن اضطرغیر باغ ولا عاد ۔ الآیۃ

جو مجبور ہوگیا نہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا تھا اور نہ دوبارہ کرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔

فرمایا : لہٰذا میں اس کو معذور سمجھتا ہوں۔ البغوی فی نسحۃ نعیم بن الھیثم
13596- عن أبي الضحى أن امرأة أتت عمر فقالت: إني زنيت فارجمني فرددها، حتى شهدت أربع شهادات فأمر برجمها، فقال علي: يا أمير المؤمنين ردها فاسألها ما زناها لعل له عذرا؟ فردها فقال: ما زناك؟ قالت: كان لأهلي إبل فخرجت في إبل أهلي، فكان لنا خليط2 فخرج في إبله فحملت معي ماء ولم يكن في إبلي لبن، وحمل خليطنا ماء وكان في إبله لبن فنفد مائي فاستسقيته فأبى أن يسقيني حتى أمكنه من نفسي فأبيت حتى كادت نفسي تخرج أعطيته، فقال علي: الله أكبر، فمن اضطر غير باغ ولا عاد، أرى لها عذرا. "البغوي في نسخة نعيم بن الهيثم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13597 ام کلثوم بنت ابی بکر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) مدینہ میں رات کو گلیوں کا چکر کاٹتے تھے۔ ایک رات ایک آدمی اور عورت کو برے کام میں دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں سے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے اگر امام کسی مرد اور عورت کو برا کام کرتے دیکھے پھر وہ ان دونوں پر حد قائم کردے تو تم کیا کرو گے ؟ لوگوں نے کہا آپ امام (حاکم ) ہیں۔ ایسا کرنے میں صاحب اختیار ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : آپ کو اس کا اختیار نہیں۔ ایسی صورت میں آپ پر حد (تہمت) قائم کی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کام میں چار گواہوں سے کم پر راضی نہیں ہوا۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) نے یہ بات کچھ عرصہ کے لیے یہیں روک دی ۔ پھر ایک مرتبہ دوبارہ سوال کیا تو لوگوں نے بھی پہلے جیسا جواب دیا اور حضرت علی (رض) نے بھی اپنی پہلی بات دھرادی۔

الخرائطی فی مکارم الاخلاق
13597- عن أم كلثوم ابنة أبي بكر أن عمر بن الخطاب كان يعس1 بالمدينة ذات ليلة فرأى رجلا وامرأة على فاحشة فلما أصبح، قال للناس: أرأيتم أن إماما رأى رجلا وامرأة على فاحشة فأقام عليهما الحد ما كنتم فاعلين؟ قالوا: إنما أنت إمام، فقال علي بن أبي طالب: ليس ذلك لك إذن يقام عليك الحد إن الله لم يأمن على هذا الأمر أقل من أربعة شهداء، ثم تركهم ما شاء الله أن يتركهم، ثم سألهم فقال: القوم مثل مقالتهم الأولى، وقال علي: مثل مقالته. "الخرائطي في مكارم الأخلاق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13598 اسوددؤلی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے چھ ماہ میں بچہ جن دیا تھا۔ آپ (رض) نے اس کو رجم کرنے کا ارادہ فرمایا یہ بات حضرت علی (رض) کو معلوم ہوئی تو ارشاد فرمایا اس عورت پر رجم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وحملہ وفصالہ ثلثون شھدا۔

بچہ کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین۔

اور والدائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں گی۔

چنانچہ اس طرح تیس ماہ پورے ہوگئے۔

الجامع لعبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی
13598- عن الأسود الدؤلي أن عمر بن الخطاب رفعت إليه امرأة ولدت لستة أشهر، فهم برجمها، فبلغ ذلك عليا، فقال: ليس عليها رجم، قال الله تعالى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْراً} ، وقال: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ} [وستة أشهر] فذلك ثلاثون شهرا. "عب وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13599 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور بولی ! میں نے زنا کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : ممکن تم اپنے بستر پر سو رہی ہو اس حال میں تمہارے ساتھ زنا ہوا ہو یا تمہارے ساتھ کسی نے جبر کیا ہو ؟ عورت بولی : میں نے بخوشی یہ کام کیا ہے، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : شاید تم کو اپنے نفس پر غصہ آگیا ہو ؟ عرض کیا، نہیں مجھے اپنے نفس پر غصہ نہیں آیا تھا۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کو قید کرلیا۔ جب اس نے بچہ جن دیا وہ بڑا ہوگیا تو تب اس کو کوڑے مارے۔ ابن راھویہ
13599- عن علي أن امرأة أتته فقالت: إني زنيت، فقال: لعلك أتيت وأنت نائمة في فراشك أو أكرهت؟ قالت: أتيت طائعة غير مكرهة، قال: لعلك غضبت على نفسك؟ قالت: ماغضبت فحبسها، فلما ولدت وشب ابنها جلدها. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13600 حجیتہ بن عدی سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت علی (رض) کی خدمت میں آئی اور بولی : اس کیشوہر نے اس کی باندینے اس کی باندی کے ساتھ مباشرت کی ہے ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : اگر تو سچ کہتی ہے تو ہم تیرے شوہر کو سنگسار کریں گے اور اگر تو جھوٹی ہے تو تجھ پر حد (تہمت) جاری کریں گے۔ یہ سن کر عورت چلی گئی۔ الشافعی، الجامع لعبدالرزاق
13600- عن حجية بن عدي أن امرأة جاءت إلى علي فقالت: إن زوجها وقع على جاريتها، فقال: إن تكوني صادقة نرجمه، وإن تكوني كاذبة نحدك فذهبت. "الشافعي عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13601 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی اور ایک عورت کو ایک کپڑے میں لپٹا ہوا پایا پر سو کوڑوں کی حد جاری کی۔ الجامع لعبد الرزاق
13601- عن علي أنه كان إذا وجد الرجل والمرأة في ثوب واحد جلد كل إنسان منهما مائة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13602 ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ تین آدمیوں نے ایک مرد اور عورت پر زنا کی شہادت دیدی لیکن چوتھے نے کہا : میں نے ان کو صرف ایک کپڑے میں دیکھا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا اگر یہ زنا ہے تو یہ اس (شہادت) کی سزا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے تینوں آدمیوں کو حد تہمت لگائی جبکہ مرد اور عورت کو اپنی طرف سے (حد سے کم) سزا دی۔ الجامع لعبد الرزاق
13602- عن أبي الضحى قال: شهد ثلاثة نفر على رجل وامرأة بالزنا وقال الرابع: رأيتهما في ثوب واحد، قال: إن كان هذا هو الزنا فهذا ذاك، فجلد علي الثلاثة، وعزر الرجل والمرأة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13603 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی مگر پھر کسی اور عورت کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ پھر اس آدمی پر حد جاری کی گئی۔ اور حضرت علی (رض) نے آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردی اور آدمی کو حکم فرمایا : تم بھی اپنی جیسی (حد زنا میں) سزا یافتہ عورت سے شادی کرو۔ السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر، السنن للبیہقی
13603- عن علي أن رجلا تزوج امرأة ثم إنه زنا، فأقيم عليه الحد فجاؤا به إليه، ففرق بينه وبين امرأته، وقال: لا تتزوج إلا مجلودة مثلك. "ص وابن المنذر ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13604 عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد (محمد) سے اور وہ ان (عبداللہ) کے دادا (یعنی عمر) سے اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک قبطی عورت حضرت ماریہ (رض) (جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی اور آپ کے بچے ابراہیم کی ماں تھی) کے پاس کثرت سے آتا تھا (اور وہ ان کا چچازاد تھا) مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پاس (تلوار کے ساتھ) بھیجا۔ جب اس قبطی نے مجھے دیکھا تو بھاگ کر کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔ میں نے اس کو نیچے سے دیکھا تو وہ ہجڑا تھا اس کا عضوتناسل نہ تھا۔ چنانچہ میں (اس کو چھوڑ کر) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ساری بات سن کر) ارشاد فرمایا :

انما شفاء العی السوال

جہالت کی شفاء سوال ہے۔ ابن جریر، النسائی
13604- عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب أن قبطيا كان يتحدث إلى مارية في مشربتها، فأرسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعي السيف، فلما بصر بي القبطي هرب فصعد نخلة فنظرت من تحته، فإذا هو حصور ليس له ذكر، فانصرفت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إنما شفاء العي السؤال " ابن جرير ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13605 خلاس سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کی وراثت میں (کسی غلام کے) ایک حصے کی مالک ہوگئی۔ اس غلام کو حضرت علی (رض) کی خدمت میں لایا گیا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا تو عورت کے ساتھ ہم بستر ہوا ہے ؟ اس نے انکار کردیا۔ تب آپ (رض) نے فرمایا : اگر تو اس کے ساتھ ہم بستر ہوتا تو میں تجھے پتھروں کے ساتھ سنگسار کردیتا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے عورت کو اشارہ فرمایا : یہ تیرا غلام ہے، چاہے تو اس کو بیچ دے، چاہے تو اس کو ہبہ (ہدیہ) کردے اور چاہے تو اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی رچالے۔ النسائی
13605- عن خلاس أن امرأة ورثت من زوجها شقصا2 فرفع ذلك إلى علي فقال: هل غشيتها؟ قال: لا، قال: لو كنت غشيتها لرجمتك بالحجارة، ثم قال: هو عبدك إن شئت بعتيه، وإن شئت وهبتيه وإن شئت أعتقتيه وتزوجتيه. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13606 ادریس بن یزید الازدی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کی بارگاہ خلافت میں ایک عورت لائی گئی جو ایک آدمی کے ساتھ ویرانے جنگل میں تنہا پائی گئی تھی۔ اس کو آدمی نے وہاں لے جا کر رکھا ہوا تھا۔ آدمی بولا : یہ میری چچازاد ہے۔ اور میں اس کا سرپرست ہوں۔ یہ صاحب مال اور صاحب حسب ونسب ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ یہ کہیں اور کے ساتھ نہ چلی جائے، حضرت علی (رض) نے عورت سے پوچھا : تو کیا کہتی ہے ؟ لوگوں نے عورت کو کہا کہہ دے : ہاں (میں اس کے ساتھ راضی ہوں) چنانچہ اس نے ہاں کردی تو آدمی نے اس کو (اپنی سرپرستی میں) لے لیا۔ ابوالحسن البکلی
13606- عن إدريس بن يزيد الأزدي قال: أتى علي بن أبي طالب بامرأة وجدت مع رجل في خربة مراد قد أرماها، فقال: بنت عمي، وأنا وليها، وهي ذات مال وشرف، فخشيت أن تسبقني بنفسها، فقال علي: ما تقولين؟ فأقبل الناس عليها يقولون: قولي: نعم فقالت: نعم، فأخذها. "أبو الحسن البكالي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13607 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کی بہن کے ساتھ زنا کیا ہے اس نے اگرچہ ایک حرمت کو پامال کیا لیکن اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔ الجامع لعبد الرزاق
13607- عن ابن عباس في رجل زنى بأخت امرأته تخطى حرمة إلى حرمة ولم تحرم عليه امرأته.

"عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13608 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں تھی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تیرے منہ نے زنا کیا ہے، پوچھا : اس کا کفارہ کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اللہ سے استغفار کر اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔ الجامع لعبد الرزاق
13608- عن ابن عباس أن رجلا قال له: قبلت امرأة لا تحل لي؟ قال له زنى فوك قال: فما كفارة ذلك تستغفر الله ولا تعود. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13609 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میری ماں نے اپنی ایک باندی کو میرے لیے حلال کیا ہے، کیا میں اس کے پاس (ہم بستری کے لئے) جاسکتا ہوں ؟ ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تیرے لیے تین صورتوں میں جائز ہے یا تو اس کے ساتھ شادی کرلے، یا اس کو خرید لے یا پھر تیری ماں یہ باندی تجھے بالکل ہبہ (ہدیہ) کردے۔ الجامع لعبد الرزاق
13609- عن ابن عمر أن رجلا قال له: إن أمي كانت لها جارية وأنها أحلتها لي أطوف عليها؟ فقال: لا تحل لك إلا بإحدى ثلاث: إما أن تزوجها أو تشتريها، أو تهبها لك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬১০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13610 ابن عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : تیرے لیے صرف ایسی شرم گاہ (والی باندی عورت) حلال ہے جس کو چاہے تو تو بیچ سکتا ہو، یا ہبہ کرسکتا ہو یا آزاد کرسکتا ہو۔ الجامع لعبد الرزاق
13610- عن ابن عمر قال: لا يحل لك أن تطأ فرجا إلا فرجا إن شئت بعت، وإن شئت وهبت؛ وإن شئت اعتقت. "عب".
tahqiq

তাহকীক: