কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৫৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13571 حضرت عمر (رض) سے باندی کی حد کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا : باندی تو اپنے سر کی زینت بھی اتار کر دیوار کے پرے پھینک دیتی ہے (اس پر کیا حد جاری ہوگی) ۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ، ابوعبید فی الغریب ابن جریر، النسائی
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ، ابوعبید فی الغریب ابن جریر، النسائی
13571- عن عمر أنه سئل عن حد الأمة فقال: إن الأمة قد القت فروة رأسها من وراء الجدار. "عب ش وأبو عبيد في الغريب وابن جرير ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13572 ابن عمر (رض) باندی کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں اگر وہ شوہر والی نہ ہو اور زنا کرلے تو اس کو عام آزاد عورتوں کا نصف عذاب ہوگا (یعنی پچاس کوڑے) اور یہ اس کا آقا اس کو سزا دے گا۔ اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کا فیصلہ بادشاہ کرے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13572- عن ابن عمر في الأمة قال: إذا كانت ليست بذات زوج فزنت جلدت نصف ما على المحصنات من العذاب يجلدها سيدها وإن كانت من ذوات الأزواج رفع أمرها إلى السلطان. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13573 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب تم میں سے کسی کی باندی زنا کرلے تو وہ (یعنی اس کا آقا) اس کو کتاب اللہ کی روشنی میں کوڑے مارے اور ات کو تنگ نہ کرے۔ وہ پھر زنا کرے تو پھر مارے اور مزید تنگ نہ کرے۔ اگر پھر کرے پھر مارے اور اس کو مزید تنگ نہ کرے اگر چوتھی بار زنا کرے تو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق سزا دے اور پھر خواہ بالوں کی ایک رسی کے عوض اس کو فروخت کردے۔ ابن جریر
13573- عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا زنت وليدة أحدكم فليضربها بكتاب الله ولا يثرب1 عليها، ثم إن عادت فليضربها بكتاب الله ولا يثرب عليها، فإن عادت فليضربها بكتاب الله ولا يثرب عليها، ثم إن زنت الرابعة فليضربها بكتاب الله ثم فليبعها ولو بحبل من شعر، وفي لفظ: ولو بعقيص من شعر، وفي لفظ: ولو بنقيض. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13574 زہری (رح) حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری باندی نے زنا کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کوڑے مارو۔ وہ پھر آیا اور اس نے کہا : اس نے دوبارہ حرکت کی ہے۔ فرمایا کوڑے مارو۔ وہ پھر آیا اور بولا : اس نے پھر حرکت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کوڑے مارو۔ اس نے پھر آکر شکایت کی آپ نے فرمایا : کوڑے مارو۔ تیسری یا چوتھی بار یہ فرمایا : اس کو فروخت کردو خواہ ایک مینڈھی بالوں کے عوض کیوں نے فروخت کرو۔ ابن جریر
13574- عن الزهري عن زيد بن خالد أو خالد أو غيره وأبي هريرة قالا: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن أمتي زنت، فقال: اجلدها، قال: عادت، قال: اجلدها، قال: عادت، قال: اجلدها، قال: عادت، قال: اجلدها، قال له عند الثالثة أو الرابعة: بعها ولو بضفير "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13575 حسن بن محمد سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک باندی کو جس نے زنا کیا تھا حدجاری فرمائی۔ الجامع لعبد الرزاق
13575- عن الحسن بن محمد أن فاطمة بنت محمد صلى الله عليه وسلم جلدت أمة لها الحد زنت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13576 حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک باندی نے زنا کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ اس کو کوڑے ماریں۔ حضرت علی (رض) نے اس کو پچاس کوڑے مارے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ انھوں نے باندی کو پچاس کوڑے مارے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اچھا کیا۔ الجامع لعبدالرزاق
13576- عن عكرمة أن جارية للنبي صلى الله عليه وسلم زنت فأمر عليا أن يجلدها فجلدها خمسين جلدة فأخبر علي النبي صلى الله عليه وسلم أن قد جلدها خمسين، فقال: أحسنت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13577 زہری (رح) سے مروی ہے فرمایا سنت یہ ہے کہ غلام اور باندی فحش کام کا ارتکاب کرے تو ان کے گھر والے ہی ان پر حد جاری کردیں۔ لیکن اگر ان کا فیصلہ بادشاہ کے پاس لے جایا جائے تو پھر کسی کو درمیان میں آنے کی گنجائش نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
13577- عن الزهري قال: مضت السنة أن يحد العبد والأمة أهلوهما في الفاحشة إلا أن يرفع أمرهما إلى السلطان فليس لأحد أن يفتات1 على السلطان. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ میں زنا کرلینے کا بیان
13578 حقوص الضبی سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت علی (رض) کے پاس آئی اور عرض کیا میرے شوہر نے میری باندی کے ساتھ زنا کرلیا ہے۔ عورت کے شوہر نے کہا : یہ سچ کہتی ہے اور جو اس (میری بیوی) کا ہے وہ میرے لیے حلال تو ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جا آئندہ ایسا نہ کرنا گویا اس کی جہالت کی وجہ سے اس حد کو ساقط کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13578- عن حرقوص الضبي قال: أتت امرأة إلى علي فقالت: إن زوجي زنى بجاريتي، فقال زوجها: صدقت هي وما لها لي حل، قال: اذهب ولا تعد كأنه درأ عنه بالجهالة. "عب هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ میں زنا کرلینے کا بیان
13579 سلمۃ بن المحبق سے مروی ہے کہ جو آدمی اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرلے اس کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ اگر باندی کو زبردستی مجبور کیا ہو تو وہ آزاد ہے اور اس کی قیمت اپنی بیوی کو ادا کردے۔ اور اگر وہ اپنی رضامندی کے ساتھ آمادہ ہوئی ہو تو وہ باندی شوہر کی ہے اور اس کے ذمہ اس کی قیمت بیوی کو ادا کرنا لازم ہے۔ النسائی
13579- عن سلمة بن المحبق قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل وطئ جارية امرأته، إن كان استكرهها فهي حرة وعليه لسيدتها ثمنها وإن كانت طاوعته فهي له وعليه لسيدتها مثلها. "ن"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور سے وطی کرنا
13580 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جو آدمی جانور سے وطی کرے اس پر حد نہیں ہے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13580- عن ابن عباس في الذي يقع على البهيمة قال: ليس عليه حد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13581 (مسند عمر (رض)) زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے اپنی باندی کے ساتھ وطی کرلی تھی حالانکہ وہ اس کی کسی اور کے ساتھ شادی کرچکا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو اتنی سزاد ی جو حد سے کم تھی۔ المصنف لا بن ابی شیبہ
13581- "مسند عمر" عن زيد بن أسلم قال: أتي عمر برجل قد وقع على أمته وقد زوجها فضربه ضربا ولم يبلغ به الحد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13582 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جو کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے اس پر حد نہیں ہے۔ المصنف لابن ابی شیبۃ
13582- عن عمر ليس على من أتى بهيمة حد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13583 سوید بن غفلۃ سے مروی ہے کہ ایک ذمی (غیر مسلم) نے مسلمانوں کی ایک عورت جو گدھے پر سوار تھی اس کے گدھے کو کچوکا لگایا اور پھر عورت کو اپنی طرف کھینچا۔ لیکن حضرت عوف بن مالک اس کے اور عورت کے درمیان آگئے۔ لیکن ذمی نے حضرت عوف (رض) کو مارا۔ حضرت عوف (رض) نے حضرت عمر خلیفہ کو شکایت کی۔ حضرت عمر (رض) نے عورت کو بلایا اس سے سوال کیا۔ اس نے حضرت عوف (رض) کی بات کی تصدیق کی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) کے حکم پر ذمی آدمی کو سولی دیدی گئی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے (خطبہ ارشاد) فرمایا : کہ اے لوگو ! محمد کے ذمہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ پس لوگوں پر ظلم نہ کرو پس جس ذمی نے ایسا کچھ کیا تو اس کا کوئی ذمہ نہیں۔ الحارث
13583- عن سويد بن غفلة أن رجلا من أهل الذمة نخس بامرأة من المسلمين حمارها، ثم جابذها2 فحال بينه وبينها عوف بن مالك فضربه، فأتى عمر فذكر ذلك له، فدعا بالمرأة، فسألها فصدقت عوفا، فأمر به فصلب، ثم قال عمر: أيها الناس. اتقوا الله في ذمة محمد، فلا تظلموهم، فمن فعل منهم مثل هذا فلا ذمة له. "الحارث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13584 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک پاگل عورت سے فحش (زنا) کا کام سرزد ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ (احکام شریعت کا) قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والے سے جب تک کہ وہ بیدار ہو، مجنون (پاگل) سے جب تک کہ وہ صحت یاب ہو اور بچے سے جب تک کہ وہ بالغ ہو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر اس کا کیا حال ہے، چنانچہ اس کو چھوڑ دیا۔ الجامع لعبدالرزاق، السنن للبیہقی
13584- عن ابن عباس أن امرأة مجنونة أصابت فاحشة فأمر عمر برجمها فقال علي: أما علمت أن القلم مرفوع عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن المبتلى حتى يبرأ، وعن الصبي حتى يحتلم؟ قال: فما بال هذه فخلى سبيلها. "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13585 حضرت عطاءؒ وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خبر ملی کہ ابن ابی یثربی اپنے غلام کی (شادی شدہ) باندی کے ساتھ ہم بستری کرتا ہے۔ آپ (رض) نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا : تو اس نے کہا : تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو قتل کا اشارہ کیا۔ ابن ابی یثربی نے اس کا انکار کیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بہرحال اللہ کی قسم ! اگر تم اقرار کرلیتے تو تم کو رجم کردیتا۔
عطاء (رح) وغیرہ فرماتے ہیں : آپ (رض) اس کو پھر بھی رجم نہ فرماتے بلکہ یہ فرمانا اس کو ڈرانے کے لیے تھا۔
مترجم عرض کرتا ہے کیونکہ رجم کے لیے شرط ہے کہ الشیب بالشیب یعنی آزاد شادی شدہ آزاد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے تو رجم لازم ہوتا ہے۔ جبکہ یہاں ایسا نہیں۔ اور غلام کی باندی سے مراد ہے یعنی ان کے غلام نے جس باندی کے ساتھ شادی کررکھی تھی۔ کیونکہ اگر وہ غلام کی ملک ہوتی تو وہ مالک کی ملک ہوتی۔ اگر ایسی صورت ہوتی تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب
عطاء (رح) وغیرہ فرماتے ہیں : آپ (رض) اس کو پھر بھی رجم نہ فرماتے بلکہ یہ فرمانا اس کو ڈرانے کے لیے تھا۔
مترجم عرض کرتا ہے کیونکہ رجم کے لیے شرط ہے کہ الشیب بالشیب یعنی آزاد شادی شدہ آزاد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے تو رجم لازم ہوتا ہے۔ جبکہ یہاں ایسا نہیں۔ اور غلام کی باندی سے مراد ہے یعنی ان کے غلام نے جس باندی کے ساتھ شادی کررکھی تھی۔ کیونکہ اگر وہ غلام کی ملک ہوتی تو وہ مالک کی ملک ہوتی۔ اگر ایسی صورت ہوتی تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب
13585- عن عطاء وغيره قالوا: بلغ عمر أن ابن أبي يثربي يصيب جارية عبده، فدعاه فسأله، فقال: وما بأس بذلك، فأشار إليه على الذبح فأنكر ذلك ابن أبي يثربي، فقال: أما والله لو أقررت بذلك لرجمتك، قال عطاء وغيره لم يكن ليرجمه ولكن فرقه "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13586 قبیصہ بن ذویب سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی باندی کے ساتھ وطی کرلی حالانکہ وہ اس کے غلام کے ساتھ شادی شدہ تھی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو سو کوڑے مارے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13586- عن قبيصة بن ذؤيب أن رجلا وقع على وليدته وكانت عند عبده فجلده عمر بن الخطاب مائة جلدة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13587 حضرت عطاءؒ نے ایسے آدمی کے لیے جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی تھیں پھر اس کے ساتھ ہم بستر ہوا اور طلاق دینے کا انکار کیا تو اس پر شہادت دی گئی کہ یہ واقعی طلاق دے چکا ہے تو حضرت عطاء نے فیصلہ فرمایا کہ دونوں کو جدا جدا کردیا جائے اور اس پر رجم ہے اور نہ کوئی سزا۔
ابن جریر (رح) فرماتے ہیں : مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بھی ایسی صورت میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ النسائی
ابن جریر (رح) فرماتے ہیں : مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بھی ایسی صورت میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ النسائی
13587- عن عطاء في رجل طلق امرأته ثلاثا، ثم أصابها وأنكر أن يكون طلقها، فشهد عليه بطلاقها، قال: يفرق بينهما، وليس عليه رجم ولا عقوبة، قال ابن جرير: وبلغني أن عمر بن الخطاب قضى بمثل ذلك. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13588 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں ایک آدمی نے اپنی باندی کے ساتھ ہم بستری کرلی لیکن اس باندی میں دوسرا شخص بھی حصہ دار تھا (جس کی وجہ سے کسی کے لیے اس سے وطی حلال نہ تھی) چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس مالک کو ایک کم سو کوڑے مارے۔ النسائی
13588- عن ابن جريج قال: رفع إلى عمر بن الخطاب أن رجلا وقع على جارية له فيها شرك فأصابها فجلده عمر مائة سوط إلا سوطا. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13589 حضرت ابوعثمان النہدی سے مروی ہے کہ ابوبکرۃ، نافع اور شبل بن معبد نے جب مغیرہ پر (زنا کی) گواہی دے دی کہ انھوں نے مغیرہ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ گویا سرمچو۔ سرمہ دانی میں غائب ہوجاتی ہے۔ پھر زیاد (چوتھا گواہ) آیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ ایسا آدمی آیا ہے جو حق بات کے سوا کسی بات کی شہادت نہیں دے گا۔ چنانچہ اس نے کہا : میں نے بری حالت اور برامنظر دیکھا ہے۔ (چونکہ اس نے پہلے والوں کی طرح واضح زنا کی گواہی نہ دی اس لیے زنا کا ثابت تو نہ ہوا لیکن پہلے تین گواہوں پر تہمت کی حد لازم ہوگئی) چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان تینوں کو حد جاری فرمائی۔ الجامع لعبد الرزاق
13589- عن أبي عثمان النهدي قال: شهد أبو بكرة ونافع وشبل بن معبد على المغيرة بن شعبة أنهم نظروا إليه كما ينظر المرود2 في المكحلة فجاء زياد، فقال عمر: جاء رجل لا يشهد إلا بحق، فقال: رأيت مجلسا قبيحا وابتهارا فجلدهم عمر الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کے بارے میں کچھ روایات
13590 ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ جب تین گواہوں نے گواہی دے لی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : چوتھے کی گواہی مغیرہ کو ہلا کردے گی۔ الجامع لعبدالرزاق
13590- عن أبي الضحى أن عمر حين شهد الثلاثة أودى3 المغيرة الأربعة. "عب".
তাহকীক: