কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৫৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13551 ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی کو رجم فرمایا جس نے ایک یہودی عورت کے ساتھ زنا کیا تھا۔ الجامع لعبد الرزاق
13551- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا زنى بيهودية. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13552 معمرزہری (رح) سے روایت کرتے ہیں، زہری (رح) فرماتے ہیں مجھے مزینہ کے ایک شخص نے خبر دی اس وقت ہم ابن المسیب (رح) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : سب سے پہلے جس شخص کو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا وہ یہودیوں کا ایک آدمی تھا جس نے ایک یہود یہ عورت کے ساتھ زنا کیا تھا۔ ان کے علماء نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فیصلہ لے جانے سے پہلے مشورہ کیا کہ اس نبی کو تخفیف (آسان احکام) کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔ جبکہ ہمیں علم ہے کہ توراۃ میں رجم کو فرض کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہم اس نبی کے پاس چلتے ہیں اور ان سے اپنے بندوں کے متعلق سوال کرتے ہیں جنہوں نے زنا کیا ہے اور وہ دونوں محصن۔ شادی شدہ آزاد بھی ہیں۔ پس اگر ہم کو رجم سے آسان فتویٰ ملا تو ہم قبول کرلیں گے اور جب اللہ سے ملیں گے تو ہمارے پاس یہ دلیل ہوگی کہ ہم نے تیرے انبیاء میں سے ایک نبی کے حکم پر عمل کرلیا تھا۔ لیکن اگر ہم کو رجم کا حکم ملا تو ان کی بات نہیں مانیں گے جیسا کہ ہم توراۃ کے حکم پر رجم پر عمل نہیں کیا۔ چنانچہ وہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ یہود بولے : اے ابوالقاسم ! آپ کیا کہتے ہیں ہمارے ایک آدمی اور ایک عورت نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ سن کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کھڑے ہوئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کے ساتھ مسلمان اور دوسرے لوگ بھی اٹھ گئے۔ حتیٰ کہ آپ مدارس الیہود (یہود کی درسگاہ) میں پہنچ گئے۔ وہ توراۃ کو پڑھ پڑھا رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے گروہ یہود ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ نازل فرمائی ! بتاؤ تم توراۃ میں اس شخص کے لیے کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو اور زنا کرلے ؟ علماء یہود بولے : دونوں زانیوں کو سواری پر ایک دوسرے کے مخالف سمت بٹھایا جائے اور لوگ ان کا تماشا کریں۔ لیکن ان کا ایک نوجوان عالم چپ رہا۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دیکھا تو اس کو صحیح بات بتانے پر اصرار کیا۔ آخر وہ بولا : اگر آپ نے اللہ کا واسطہ دے ہی دیا ہے تو اللہ ہم جھوٹ نہیں بولیں گے، ہاں ہم توراۃ میں رجم کا حکم پاتے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سب سے پہلے جب تم نے اللہ کے حکم میں تساہل اور رخصت برتی اس کی کیا وجہ تھی ؟ وہ بولے : ہمارے ایک آدمی نے زنا کا ارتکاب کرلیا تھا جو ہمارے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا قرابت دار تھا۔ بادشاہ نے اس کو قید کیا اور اس سے رجم کی سزا ٹال دی۔ اس کے بعد عام لوگوں میں سے ایک دوسرے آدمی نے زنا کیا۔ چنانچہ بادشاہ نے جب اس کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو اس آدمی کے قوم والے آڑے آگئے اور بولے اللہ کی قسم ! ہمارا آدمی رجم نہیں ہوگا جب تک کہ آپ بھی اپنے آدمی کو نہ لاکر رجم کرو۔ چنانچہ پھر انھوں نے اپنے درمیان اس سزا کو معطل کرنے پر صلح کرلی۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب میں حکم جاری کرتا ہوں توراۃ کے حکم کا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے لیے حکم دیا اور ان کو رجم کردیا گیا۔
امام زہری (رح) فرماتے ہیں : مجھے سالم نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کو دیکھا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے رجم کا حکم دیا تھا جب ان کو رجم کیا جانے لگا تو آدمی اپنے ہاتھوں پر پتھروں کی بارش روک کر عورت کو پتھروں کی زد میں آنے سے بچارہا تھا۔
ہمیں یہ بات منقول ہوئی کہ یہ قرآنی آیت اسی مذکورہ واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی :
انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلمو اللذین ھادوا۔
ہم نے نازل کیا توراۃ کو، اس میں ہدایت اور نور ہے ، فیصلہ کرتے ہیں اس کے ساتھ وہ انبیاء جو تابعدار ہوئے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے یہودیت اختیار کی۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی انہی میں سے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سب سے پہلے جب تم نے اللہ کے حکم میں تساہل اور رخصت برتی اس کی کیا وجہ تھی ؟ وہ بولے : ہمارے ایک آدمی نے زنا کا ارتکاب کرلیا تھا جو ہمارے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا قرابت دار تھا۔ بادشاہ نے اس کو قید کیا اور اس سے رجم کی سزا ٹال دی۔ اس کے بعد عام لوگوں میں سے ایک دوسرے آدمی نے زنا کیا۔ چنانچہ بادشاہ نے جب اس کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو اس آدمی کے قوم والے آڑے آگئے اور بولے اللہ کی قسم ! ہمارا آدمی رجم نہیں ہوگا جب تک کہ آپ بھی اپنے آدمی کو نہ لاکر رجم کرو۔ چنانچہ پھر انھوں نے اپنے درمیان اس سزا کو معطل کرنے پر صلح کرلی۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب میں حکم جاری کرتا ہوں توراۃ کے حکم کا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے لیے حکم دیا اور ان کو رجم کردیا گیا۔
امام زہری (رح) فرماتے ہیں : مجھے سالم نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کو دیکھا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے رجم کا حکم دیا تھا جب ان کو رجم کیا جانے لگا تو آدمی اپنے ہاتھوں پر پتھروں کی بارش روک کر عورت کو پتھروں کی زد میں آنے سے بچارہا تھا۔
ہمیں یہ بات منقول ہوئی کہ یہ قرآنی آیت اسی مذکورہ واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی :
انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلمو اللذین ھادوا۔
ہم نے نازل کیا توراۃ کو، اس میں ہدایت اور نور ہے ، فیصلہ کرتے ہیں اس کے ساتھ وہ انبیاء جو تابعدار ہوئے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے یہودیت اختیار کی۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی انہی میں سے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13552- عن معمر عن الزهري قال: أخبرني رجل من مزينة ونحن عند ابن المسيب عن أبي هريرة قال: أول مرجوم رجمه رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود زنى رجل منهم وامرأة فتشاور علماؤهم قبل أن يرفعوا أمرهما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم لبعض: إن هذا النبي بعث بتخفيف، وقد علمنا أن الرجم فرض في التوراة فانطلقوا بنا نسأل هذا النبي صلى الله عليه وسلم عن أمر صاحبينا اللذين زنيا بعد ما أحصنا فإن أفتانا بفتيا دون الرجم قبلنا وأخذنا بتخفيف واحتججنا بها عند الله حين نلقاه وقلنا قبلنا فتيا نبي من أنبيائك، وإن أمرنا بالرجم عصينا فقد عصينا الله فيما كتب علينا من الرجم في التوراة، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس في المسجد في أصحابه، فقالوا، يا أبا القاسم، كيف ترى في رجل منهم وامرأة زنيا بعد ما أحصنا، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يرجع إليهما شيئا، وقام معه رجال من المسلمين حتى أتوا بيت مدراس اليهود، وهم يتدارسون التوراة، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على الباب، فقال: يا معشر اليهود انشدكم بالله الذي أنزل التوراة على موسى ما تجدون في التوراة على من زنى إذا أحصن؟ قالوا: يحمم ويجبه، والتحميم أن يحمل الزانيان على حمار، ويقابل أقفيتهما ويطاف بهما، وسكت حبرهم وهو فتى شاب، فلما رآه النبي صلى الله عليه وسلم ألظ به، فقال حبرهم: اللهم إذ نشدتنا فإنا نجد في التوراة الرجم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فما أول ما ارتخصتم أمر الله؟ قالوا: زنى رجل منا ذو قرابة من ملك من ملوكنا فسجنه وأخر عنه الرجم ثم زنى بعده آخر في أسرة الناس، فلما أراد الملك رجمه فحال قومه دونه، فقالوا: لا والله لا يرجم صاحبنا حتى تجيء بصاحبك فترجمه فأصلحوا هذه العقوبة بينهم، قال النبي صلى الله عليه وسلم فإني أحكم بما في التوراة، فأمر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما، قال الزهري: فأخبرني سالم عن ابن عمر قال: لقد رأيتهما حين أمر النبي صلى الله عليه وسلم برجمهما، فلما رجم رأيته يجافي بيديه عنها ليقيها الحجارة، فبلغنا ان هذه الآية أنزلت فيه {إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدىً وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا} وكان النبي صلى الله عليه وسلم منهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13553 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ اسلمی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوا اور اپنے آپ پر چار بار گواہی دی کہ ان سے ایک عورت کے ساتھ حرام کاری سرزد ہوگئی ہے ہر مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے اعراض برتتے رہے۔ پھر پانچویں بار اسلمی کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : کیا تو اس پر غالب آگیا تھا ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ پوچھا : کیا تیرا نفس اس میں اس طرح غائب ہوگیا تھا جس طرح سرمچوسرمہ دانی میں اور ڈول کنویں میں غائب ہوجاتا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو جانتا ہے زنا کیا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں، میں اس عورت سے حرام طریقے سے مبتلا ہوا جس طرح اپنی بیوی کے ساتھ حلال طریقے سے ملتے ہیں۔ آپ نے پوچھا : اب تو اس اقرار سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ؟ عرض کیا : میری خواہش ہے کہ آپ مجھے اس گناہ سے پاک کردیں۔
چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو آدمیوں کو آپس میں بات چیت کرتے سنا۔ ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا : اس کو دیکھ ! اللہ نے اس کا گناہ چھپایا لیکن اس کے ضمیر نے اس کو چھوڑا نہیں حتیٰ کہ وہ کتے کی طرح سنگسار ہوگیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی گفتگو سن کر خاموش ہوگئے۔ پھر تھوڑی دور چلے تھے کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزر ہوا جس کی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ دونوں بولے : ہم موجود ہیں یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نیچے اترو اور اس مردار گدھے کو کھاؤ۔ دونوں بولے : یا نبی اللہ ! اللہ آپ کی مغفرت کرے، اس کو کون کھائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے جو ابھی اپنے بھائی کی آبروریزی کی وہ تو اس مردار کے کھانے سے زیادہ بری ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ تو ابھی جنت کی نہروں میں غوطے ماررہا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق ، ابوداؤد
کلام : ضعیف ابی داؤد 952 ۔
چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو آدمیوں کو آپس میں بات چیت کرتے سنا۔ ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا : اس کو دیکھ ! اللہ نے اس کا گناہ چھپایا لیکن اس کے ضمیر نے اس کو چھوڑا نہیں حتیٰ کہ وہ کتے کی طرح سنگسار ہوگیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی گفتگو سن کر خاموش ہوگئے۔ پھر تھوڑی دور چلے تھے کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزر ہوا جس کی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ دونوں بولے : ہم موجود ہیں یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نیچے اترو اور اس مردار گدھے کو کھاؤ۔ دونوں بولے : یا نبی اللہ ! اللہ آپ کی مغفرت کرے، اس کو کون کھائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے جو ابھی اپنے بھائی کی آبروریزی کی وہ تو اس مردار کے کھانے سے زیادہ بری ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ تو ابھی جنت کی نہروں میں غوطے ماررہا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق ، ابوداؤد
کلام : ضعیف ابی داؤد 952 ۔
13553- عن أبي هريرة قال: جاء الأسلمي نبي الله صلى الله عليه وسلم فشهد على نفسه أنه أصاب امرأة حراما أربع مرات، كل ذلك يعرض عنه فأقبل في الخامسة فقال: أنكتها؟ قال: نعم، قال: حتى غاب ذلك منك في ذلك منها كما يغيب المرود1 في المكحلة والرشاء2 في البئر؟ قال: نعم، قال: هل تدري ما الزنا؟ قال: نعم اتيت منها حراما ما يأتي الرجل من امرأته حلالا، قال: فما تريد بهذا القول؟ قال: أريد أن تطهرني، فأمر به فرجم، فسمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلين من أصحابه يقول أحدهما لصاحبه: انظر إلى هذا الذي ستر الله عليه فلم تدعه نفسه حتى رجم رجم الكلب، فسكت النبي صلى الله عليه وسلم عنهما، ثم سار ساعة حتى مر بجيفة حمار شائل برجله، أين فلان وفلان؟ قال: نحن ذان يا رسول الله، قال: انزلا فكلا من جيفة هذا الحمار، فقالا: يا نبي الله غفر الله لك، من يأكل من هذا؟ قال: فما نلتما من عرض أخيكما آنفا أشد من أكل الميتة والذي نفسي بيده إنه الآن لفي أنهار الجنة ينغمس فيها. "عب د"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13554 حضرت ابورہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور زنا کا اقرار کیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو نبوت دے کر بھیجا میں نے اس کو جنت کی نہروں میں عیش و عشرت کرتے دیکھا ہے۔
ابن جریر
ابن جریر
13554- عن أبي هريرة أن رجلا أتي النبي صلى الله عليه وسلم فأقر عنده بالزنا فأمر به فرجم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: والذي بعث محمدا بالنبوة لقد رأيته في أنهار الجنة يتقمص قلت: ما يتقمص؟ قال: يتنعم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13555 عن ابن جریج عن ابراہیم عن محمد بن المنکدر کی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت کو رجم فرمایا۔ کسی مسلمان نے کہا : اس عورت کا تو سارا عمل بےکار ہوگیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے جو کچھ بھی کیا یہ رجم اس (کے گناہوں) کا کفارہ ہے اور تو نے جو عمل کیا (یہ نازیبا گفتگو کی) اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13555- عن ابن جريج عن إبراهيم عن محمد بن المنكدر أن النبي صلى الله عليه وسلم رجم امرأة، فقال بعض المسلمين: حبط عمل هذه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هذه كفارة لما عملت وتحاسب انت بما عملت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13556 امام ابن شہاب زہری (رح) سے مروی ہے کہ وہ جلد (کوڑوں) اور رجم (سنگساری) دونوں کی سزا ایک ساتھ دینے کا انکار فرماتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا ہے اور جلد (کوڑوں) کا ذکر نہیں فرمایا ۔ الجامع لعبد الرزاق
13556- عن الزهري انه كان ينكر الجلد مع الرجم ويقول: قد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يذكر الجلد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13557 عن ابن عینیہ عن یحییٰ بن سعید عن سعید بن المسیب کی سند سے مروی ہے کہ بنی اسلم کا ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس گیا اور اپنے آپ کے متعلق بولا اس کمینے نے زنا کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے مشورہ دیا کہ تم اللہ سے توبہ کرلو اور اپنے گناہ پر اللہ کا ڈالا ہوا پردہ نہ اٹھاؤ۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، جبکہ لوگ عار اور شرم دلاتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کا ضمیر نہ مانا اور وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور آپ (رض) نے بھی وہی بات کی جو حضرت عمر (رض) نے کہی تھی ۔ لیکن اس کا ضمیر اس کو جھنجھوڑتا رہا اور بالآخر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور اپنی جرم کاری سنائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض برتا (شاید وہ لوٹ جائے) اسلمی دوسری جانب سے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر دوسری جانب منہ کرلیا۔ وہ پھر اس جانب آیا اور اپنا جرم بیان کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی قوم والوں کے پاس پیغام بھیج کر ان کو بلوایا اور ان سے پوچھا : کیا یہ شخص مجنون ہے ؟ کیا اس کو کوئی دماغی بیماری ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔
ابن عینیہ (رح) کہتے ہیں : مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ (اس کے بعد) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! گندگی سے بچو، جس سے اللہ نے تم کو منع کیا ہے اور جس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوجائے وہ اس کو چھپائے۔
یحییٰ بن سعید عن نعیم عن عبداللہ بن ھزال کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھزال کو فرمایا : اگر تم اپنا یہ گناہ اپنے کپڑے کے ساتھ چھپاتے تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔
ھزال وہ شخص تھا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر خبر دیتا تھا ابن المسیب (رح) فرماتے ہیں : حد لگانے کی سنت یہ ہے کہ جب آدمی پر حد جاری کردی جائے تو اس کو گزشتہ گناہ سے توبہ کرنے کو کہا جائے۔
ابن عینیہ (رح) کہتے ہیں : مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ (اس کے بعد) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! گندگی سے بچو، جس سے اللہ نے تم کو منع کیا ہے اور جس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوجائے وہ اس کو چھپائے۔
یحییٰ بن سعید عن نعیم عن عبداللہ بن ھزال کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھزال کو فرمایا : اگر تم اپنا یہ گناہ اپنے کپڑے کے ساتھ چھپاتے تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔
ھزال وہ شخص تھا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر خبر دیتا تھا ابن المسیب (رح) فرماتے ہیں : حد لگانے کی سنت یہ ہے کہ جب آدمی پر حد جاری کردی جائے تو اس کو گزشتہ گناہ سے توبہ کرنے کو کہا جائے۔
13557- عن ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن رجلا من أسلم أتى عمر فقال: إن الأخر1 قد زنى قال: فتب إلى الله، واستتر بستر الله، فإن الله يقبل التوبة عن عباده وإن الناس يعيرون ولا يغيرون فلم تدعه نفسه حتى أتى أبا بكر؛ فقال مثل قول عمر، فلم تدعه نفسه حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فأعرض عنه فأتاه من الشق الآخر فأعرض عنه فأتاه من الشق الآخر، فذكر ذلك له، فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم إلى قومه فسألهم عنه أبه جنون؟ أبه ريح؟ فقالوا: لا، فأمر به فرجم، قال ابن عيينة: فأخبرني عبد الله بن دينار قال: قام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر، فقال: يا أيها الناس؛ اجتنبوا هذه القاذورة التي نهاكم الله عنها، ومن أصاب من ذلك شيئا فليستتر، قال يحيى بن سعيد عن نعيم عن عبد الله بن هزال أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لهزال: لو سترته بثوبك كان خيرا لك، قال وهزال الذي كان أمره أن يأتي النبي صلى الله عليه وسلم فيخبره، وعن ابن المسيب قال: سنة الحد أن يستتاب صاحبه إذا فرغ من جلده. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13558 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی آدمی اور ایک یہودیہ عورت کو رجم فرمایا تھا۔ المصنف لا بن ابی شیبہ
13558- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13559 عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے کہ ایک عورت سے زنا سرزد ہوگیا۔ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ نے اس پوچھا کیا تو حمل سے ہے ؟ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا : تب تو جا اور جب بچہ جن لے تب آنا۔ چنانچہ وہ عورت بچے کا دودھ چھڑانے کے بعد پھر حاضر خدمت ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا اس بچے کو کسی کے سپرد کرکے آ۔ چنانچہ وہ بچہ کسی کے حوالہ کرکے پھر حاضر خدمت ہوئی۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو رجم کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضرین میں سے کسی نے اس عورت کو برا بھلا کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ایسی عورت کو برابھلا کہتے ہو جو مسلسل اپنے نفس سے جہاد کرتی رہی حتیٰ کہ اپنے ذمے خدا کے حکم کو ادا کردیا۔
الجامع لعبد الرزاق ، النسائی
الجامع لعبد الرزاق ، النسائی
13559- عن عبيد بن عمير أن امرأة زنت فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: أحامل أنت؟ قالت: نعم فقال: اذهبي فإذا وضعت فأتيني، فلما وضعته جاءته فقال: اذهبي فأرضعيه، وإذا فطمتيه فأتيني، فلما فطمته جاءته، قال: اذهبي فاستودعيه، ثم أتيني فذهبت فاستودعته، ثم جاءته فأمر برجمها فرجمت فسبها بعض من كان عنده، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتسبون امراة لم تزل مجاهدة نفسها حتى أدت الذي عليها. "عب ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13560 عن ابن جریج عن عطاء کی سند سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس نے دوبارہ کہا۔ آپ نے پھر منہ موڑ لیا۔ اس نے تیسری بار کہا آپ نے پھر اعراض کرلیا۔ جب اس نے چوتھی بار کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو رجم کردو۔ جب اس کو رجم کیا جانے لگا تو وہ گھبرا کر بھاگ پڑا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی گئی کہ یارسول اللہ ! وہ تو بھاگ پڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم اس کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔ النسائی
13560- عن ابن جريج عن عطاء أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: زنيت فأعرض عنه، ثم قالها الثانية فأعرض عنه، ثم قالها الثالثة فأعرض عنه، ثم قال الرابعة فقال: ارجموه فجزع ففر، فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: فر يا رسول الله فقال: هلا تركتموه. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13561 عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور زنا کا اعتراف کیا۔ وہ حاملہ تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا اور جب بچہ جن لے پھر آنا۔ چنانچہ (ایک عرصہ بعد) وہ بچے کی ولادت کے بعد حاضر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا اس کو دودھ پلا، جب اس کا دودھ چھوٹ جائے تو پھر آنا۔ چنانچہ جب اس کا دودھ چھوٹ گیا وہ پھر اگئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے حکم ارشاد فرمایا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ الجامع لعبد الرزاق، النسائی
13561- عن عطاء بن أبي رباح أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فاعترفت على نفسها بالزنا وهي حامل، فقال: اذهبي حتى تضعي، فلما وضعته جاءته فقال: اذهبي فأرضعيه حتى تفطميه فلما فطمته جاءت به، فأمر بها فرجمت. "عب ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13562 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی باندی نے زنا کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! جا اور اس پر حد جاری کردے۔ میں اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ابھی اس کو خون جاریے (یعنی ابھی اس نے بچے کو جنا نہیں ہے) چنانچہ میں واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے علی ! کیا تم اپنے کام سے فارغ ہوگئے ؟ میں نے عرض کیا : میں اس کے پاس پہنچا تو اس کا خون ابھی جاری تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو اس کو چھوڑ دو جب تک کہ اس کا خون تھم جائے (یعنی وہ بچہ جن لے) پھر اس پر حد جاری کردینا ۔ اور اپنے غلام باندیوں پر حد جاری کرتے رہو۔
ابوداؤد، السنن لابن الامام احمد بن حنبل، النسائی ، مسند ابی یعلی
ابوداؤد، السنن لابن الامام احمد بن حنبل، النسائی ، مسند ابی یعلی
13562- عن علي قال: فجرت جارية لآل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا علي انطلق فأقم عليها الحد، فانطلقت فإذا بها دم يسيل لم ينقطع فأتيته فقال: يا علي أفرغت؟ قلت أتيتها ودمها يسيل، فقال: دعها حتى ينقطع دمها ثم أقم عليها الحد وأقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم. "ط د ن ع"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13563 عبدالکریم سے مروی ہے کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا قول ہے کہ اگر باندی کے ساتھ زنا بالجبر کیا جائے تو اگر وہ باکرہ (کنواری) ہو تو اس کی قیمت کا دسواں حصہ مالک کو دیا جائے گا اور اگر وہ ثیبہ (اس کے ساتھ وطی کی جاچکی ہو) تو ھپر اس کی قیمت کا بیسواں حصہ مالک کو دیا جائے گا۔ زنا کرنے والا یہ قیمت ادا کرے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13563- عن عبد الكريم أن عليا وابن مسعود قالا في الأمة إذا استكرهت إن كانت بكرا فعشر ثمنها، وإن كانت ثيبا فنصف عشر ثمنها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13564 حضرت انس (رض) سے مروی ہے فرمایا : غلام باندیوں پر جلاوطنی اور رجم کی سزا نہیں ہے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13564- عن أنس قال: ليس على المملوكين نفي ولا رجم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13565 صالح بن کرز سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میری باندی نے زنا کیا اس کو لے کر حکم بن ایوب کے پاس آیا۔ میں ابھی بیٹھا تھا کہ حضرت انس بن مالک (رض) تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ آپ نے پوچھا : اے صالح ! یہ باندی تیرے ساتھ کیوں ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ میری باندی ہے، اس نے زنا کیا ہے، میرا ارادہ ہوا کہ حاکم کے سامنے کو پیش کروں تاکہ وہ اس پر حد جاری کردے۔ حضرت انس (رض) نے فرمایا : ایسا نہ کر، بلکہ اپنی باندی کو واپس لے جا۔ اللہ سے ڈر اور اس پر پردہ ڈال لے۔ میں نے عرض کیا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ (رض) نے فرمایا : ایسا نہ کر میری بات مان لے۔ چنانچہ وہ مجھے بار بار کہتے رہے آخر میں باندی کو واپس لے آیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13565- عن صالح بن كرز أنه جاء بجارية له زنت إلى الحكم بن أيوب قال: فبينا أنا جالس إذ جاء أنس بن مالك فجلس فقال: يا صالح ما هذه الجارية معك؟ قلت: جارية لي بغت فأردت ان أرفعها إلى الإمام ليقيم عليها الحد، فقال: لا تفعل رد جاريتك واتق الله واستر عليها، قلت: ما انا بفاعل قال: لا تفعل وأطعني، فلم يزل يراجعني حتى رددتها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13566 عن الزھری عن عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے مروی ہے کہ زید بن خالد، شبل اور ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور زانیہ باندی کے متعلق سوال کیا۔ جس سے ابھی اس کے شوہر نے وطی نہ کی ہو ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کوڑے مارو۔ اگر پھر کے پھر مارو۔ پھر کرے، پھر مارو۔ تیسری یا چوتھی بار فرمایا : پھر اس کو فروخت کردو خواہ ایک مینڈھی بالوں کے عوض کیوں نہ فروخت کرو۔ النسائی
13566- عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن زيد بن خالد وشبل وأبي هريرة قالوا: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فأتاه رجل فسأله عن الأمة تزني قبل أن تحصن؟ قال: اجلدها، فإن عادت فاجلدها، فإن عادت فاجلدها قال في الثالثة أو الرابعة فبيعوها ولو بضفير. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13567 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی سے زنا سرزد ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا : اس کو لے جاکر حد جاری کرو۔ حضرت علی (رض) سے حد جاری کرنے سے رکے رہے حتیٰ کہ اس نے بچہ جنم دے لیا پھر حضرت علی (رض) نے اس کو پچاس کوڑے مارے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اور ساری خبر کہہ دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔ ابن جریر
13567- عن ابن عباس قال: فجرت أمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لعلي حدها، فكف عنها حتى وضعت ثم جلدها خمسين، ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال أصبت. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13568 حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : غلام اور ذمی پر حد نہیں ہے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13568- عن ابن عباس قال: لا حد على عبد ولا على معاهد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13569 حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) غلام پر حد کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ ہاں باندی وہ بھی اگر محصنہ ہو (یعنی اس سے شوہر نے وطی کرلی ہو) تو پھر اس پر نصف سزا (پچاس کوڑے کی) ہوگی۔ الجامع لعبدالرزاق
13569- عن عطاء أن ابن عباس كان لا يرى على عبد حدا إلا أن تحصن الأمة بنكاح فيكون عليها شطر العذاب. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام، باندی کے زنا کے بیان میں
13570 ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : باندی پر حد نہیں ہے جب تک کہ وہ آزاد مرد کے ساتھ نکاح کے بعد وطی نہ کر والے۔ الجامع لعبد الرزاق
13570- عن ابن عباس قال: ليس على الأمة حد حتى تحصن بحر. "عب".
তাহকীক: