কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৫৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13531 عبدالکریم سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے ذکر کیا گیا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اگر بیوی کی باندی سے زنا کرلے تو کوئی حرج نہیں (حضرت علی (رض)) نے فرمایا : اگر ہمارے پاس ایسا آدمی لایا گیا (جس نے اپنی بیوی کی باندی کے ساتھ زنا کیا ہو) ہم اس کا سر پتھر سے کچل دیں گے۔ الجامع لعبد الرزاق
13531- عن عبد الكريم قال: ذكر لعلي أن رجلا يقول: لا بأس أن يصيب الرجل وليدة امرأته، فقال لو أتينا به لتلفنا1 رأسه بالصخر. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13532 ابن ابی لیلیٰ مرفوعاً حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے ایک شادی شدہ آدمی کو لواطت کی وجہ سے رجم کیا۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13532- عن ابن أبي ليلى رفعه إلى علي أنه رجم محصنا في اللوطية. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13533 ابن جریج بعض کو فی لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے جو شادی شدہ تھی ایک دوسری سرزمین میں اگر شادی کرلی نہ یہ کہا کہ اس کا شوہر مرگیا ہے اور نہ یہ بتایا کہ پہلے شوہر نے اس کو طلاق دیدی ہے۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کو رجم کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13533- عن ابن جريج عن بعض أهل الكوفة أن عليا رجم امرأة كانت ذات زوج فجاءت أرضا، وتزوجت ولم تقل: إنه جاءها موت زوجها ولا طلاقه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13534 ابوعبدالرحمن السلمی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں ایک عورت لائی گئی جس کو پیاس کی شدت نے اس حد تک ناچار کردیا تھا کہ اس کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جس کے پاس پانی تھا۔ عورت نے اس سے پانی مانگا مگر اس نے پانی دینے سے انکار کردیا مگر اس شرط پر کہ وہ عورت راعی کو اپنے وجود پر قدرت دے۔ لاچار عورت نے اپنا وجود اس کے حوالے کردیا۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے اس کے رجم کے بارے میں مشورہ کیا اور فرمایا : یہ عورت مجبور پریشان تھی میرا خیال ہے اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ وکیع فی نسختہ
13534- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: أتي عمر بامرأة جهدها العطش فمرت على راع فاستسقت فأبى أن يسقيها إلا أن تمكنه من نفسها ففعلت فشاور الناس في رجمها وقال: هذه مضطرة وأرى يخلى سبيلها ففعل. "وكيع في نسخته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13535 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے زنا کا چار مرتبہ اعتراف کیا۔ چنانچہ اس کو رجم کردیا گیا۔ میں نے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر صاحب مکس (ٹیکس وصول کرنے والے) کو بھی یہ توبہ مل جاتی تو اس کی بھی مغفرت کردی جاتی۔ ابن جریر

کلام : روایت محل کلام ہے : ذخیرۃ الحفاظ 836 ۔
13535- عن أنس أن امرأة اعترفت بالزنا أربع مرات، فرجمت فذكرتها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13536 حضرت البراء (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودیہ عورت کو (آپس میں زنا کرنے کی حد میں) رجم کیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ

کلام : الالحاظ 148, 147۔۔۔ذخیرۃ الحفاظ 1374 ۔ پر مذکورہ روایت کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
13536- عن البراء قال: رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم يهوديا ويهودية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13537 جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی اور یہودیہ کو رجم فرمایا۔

مصنف ابن ابی شیبہ
13537- عن جابر بن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13538 جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا۔ وہ ایک کوتاہ قامت شخص تھے اور صرف بدن کے نچلے حصے پر ازار باندھے ہوئے تھے۔ بالائی جسم پر کوئی چادر وغیرہ یا کپڑا نہ تھا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکیہ پر بائیں کروٹ کی ٹیک لگائے ہوئے تھے اور ماغر سے بات چیت کررہے تھے۔ لیکن میں چونکہ بالکل آخری سرے پر تھا، میرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کافی لوگ تھے اس لیے میں بات چیت کو سن نہیں پارہا تھا (پھر میں نے اتنا سنا) آپ نے فرمایا : اس کو لے جاؤ۔ پھر فرمایا : واپس لاؤ۔ پھر اس سے کچھ بات چیت فرمائی جو میں سن نہ پایا پھر فرمایا : اس کو لے جاؤ اور سنگسار کردو۔

پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :

فرمایا : کیا جب بھی ہم جہاد کے لیے سفر پر جائیں گے ان میں سے کوئی پیچھے ضرور رہے گا تاکہ مینڈھے کی طرح (شدت شہوت سے) بلبلاتا پھرے اور کسی عورت کا دودھ کا ایک برتن بھر کردے کر اپنی خواہش پوری کرے گا۔ اللہ کی قسم ! میں جب بھی کسی ایسے شخص پر قادر ہوا اس کو عبرت ناک سزا دوں گا ۔ الدارقطنی فی السنن، الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسلم، ابوداؤد
13538- وعنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بماعز بن مالك، رجل قصير في إزار ما عليه رداء ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكئ على وسادة على يساره يكلمه، وما أدري وأنا بعيد بيني وبينه القوم فقال: اذهبوا به، ثم قال: ردوه فكلمه وأنا أسمع غير أن بيني وبينه القوم، ثم قال: اذهبوا به فارجموه، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: أو كلما نفرنا في سبيل الله خلف أحدهم له نبيب1 من اللبن، والله لا أقدر على أحدهم إلا نكلت به. "ط عب حم م د"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13539 جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودیہ عورت کو رجم کیا۔ ابن ابی شیبہ
13539- عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13540 حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے وہ کنوارا شخص جو نکاح کرے پھر اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستر ہونے سے قبل زنا کا مرتکب ہوجائے تو اس پر کوڑے میں رجم نہیں۔

الجامع لعبدالرزاق
13540- وعنه: في البكر ينكح ثم يزني قبل أن يجمع مع امرأته قال: الجلد عليه ولا رجم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13541 جابر بن عبداللہ سے مروی ہے فرماتے ہیں
13541- وعنه قال: رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من أسلم ورجلا من اليهود وامرأة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13542: ابن جریج (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے ابن شہاب نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن عن جابر عبداللہ بن سند سے بیان کیا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور اپنے آپ پر چار مرتبہ زنا کی شہادت دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے حکم فرمادیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ چونکہ یہ شادی شدہ تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ماعز بن مالک تھے۔

ابن جریج کہتے ہیں مجھے سعید نے ابن عمر کے غلام عبداللہ بن دینار سے روایت بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلمی کو رجم فرمانے کے بعد کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اس گندگی کے فعل سے اجتناب کرو جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ اور جس سے کوئی حرکت سرزد ہوجائے تو وہ اس کو پوشیدہ رکھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13542- عن ابن جريج أخبرني ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن جابر بن عبد الله أن رجلا من أسلم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فحدثه أنه زنى شهد على نفسه أربع شهادات فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجم وكان قد أحصن، زعموا أنه ماعز بن مالك، قال ابن جريج: فأخبرني سعيد عن عبد الله بن دينار مولى ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قام بعد أن رجم الأسلمي، فقال: اجتنبوا هذه القاذورة التي نهى الله عنها، فمن الم بشيء منها فليستتر. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13543 عن معمر عن الزھری عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن کی سند سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کرلیا۔ اس نے دوبارہ اعتراف کرلیا۔ آپ نے پھر اعراض کیا۔ حتیٰ کہ اس نے چار مرتبہ اپنے آپ پر شہادت دے دی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تجھے جنون تو نہیں ہے ؟ اس نے انکار میں جواب دیا۔ آپ نے دریافت کیا : کہا تو محصن (شادی شدہ آزاد منش) ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے حکم سنادیا اور اس کو میدان عیدگاہ میں رجم کردیا گیا۔ لیکن جب پتھروں نے اس کے قدم اکھاڑ دیئے تو وہ بھاگ پڑا لیکن پھر لوگوں نے اس کو جالیا اور پتھر مار مار کر اس کو رجم کردیا (ماردیا) ۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق خیر کے کلمات ارشاد فرمائے۔ اور خود اس پر نماز ادا نہیں فرمائی۔

معمر کہتے ہیں : مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد سے روایت کیا کہ جب حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر ملی کہ وہ شخص پتھروں کی مار میں بھاگ پڑا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا ؟

معمر کہتے ہیں : مجھے ایوب بن حمید نے ھلال سے خبر نقل کی کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلمی شخص کو رجم کروادیا تو ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھ سے اپنے عیوب چھپاؤ جن کو اللہ نے مجھ سے چھپالیا۔ اور جو کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے وہ اس کو چھپائے (اور توبہ تائب ہوجائے) ۔

معمر کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے عکرمہ سے خبر نقل کی کہ جب ماعز (اسلمی) زنا کا اعتراف کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اس طرح کے سوالات کیے تھے : کیا تو نے صرف بوسہ لیا ہے ؟ کیا تو نے جماع کیا ہے ؟ الجامع لعبدالرزاق
13543- عن معمر عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن رجلا من أسلم جاء النبي صلى الله عليه وسلم فاعترف بالزنا فأعرض عنه، ثم اعترف فأعرض عنه، حتى شهد على نفسه أربع مرات، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أبك جنون؟ قال: لا، قال: أحصنت؟ قال: نعم، فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم فرجم بالمصلى، فلما أذلقته الحجارة فر، فأدرك فرجم حتى مات، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: خيرا ولم يصل عليه، قال معمر: فأخبرني ابن طاوس عن أبيه قال: لما أخبر رسول الله أنه فر، فقال: هلا تركتموه قال معمر: وأخبرني أيوب بن حميد عن هلال قال: لما رجم النبي صلى الله عليه وسلم الأسلمي قال: واروا عني عوراتكم ما وارى الله عني منها، ومن أصاب شيئا منها فليستتر، قال معمر: وأخبرني يحيى ابن أبي كثير عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز حين اعترف بالزنا: أقبلت؟ أباشرت؟ "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13544 جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ماعز کو رجم کیا تھا۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جلدۃ (کوڑوں) کی سزا جاری نہیں فرمائی تھی۔ ابن جریر
13544- عن جابر قال: كنت فيمن رجم ماعزا، فلم يجلده رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13545 جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے زنا کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کو کوڑے لگائے گئے۔ پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ محصن ہے، تب آپ نے اس کے رجم کا حکم دیا پھر اس کو رجم کیا گیا۔ ابن جریر
13545- عن جابر أن رجلا زنى فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلد الحد، ثم أخبر أنه كان قد أحصن فأمر به فرجم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13546 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ماعزاسلمی کو لایا گیا تو اس نے دو مرتبہ اعتراف زنا کیا۔ آپ نے اس کو واپس کردیا۔ پھر دوبارہ بلوایا تو اس نے دوبارہ پھر زنا کا اعتراف کیا اس طرح چار اعتراف زنا کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو لے جاؤ اور رجم کردو۔ الجامع لعبدالرزاق
13546- عن ابن عباس قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بماعز فاعترف مرتين ثم قال: اذهبوا به، ثم قال: ردوه، فاعترف مرتين حتى اعترف أربعا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهبوا به فارجموه.

"عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13547 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو یہودیوں کو رجم فرمایا اور میں بھی ان کو رجم کرنے والوں میں شامل تھا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13547- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم يهوديين أنا فيمن رجمهما. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13548 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں اس وقت حاضرین میں شامل تھا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو یہودی لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے قاری کو بلوایا۔ چنانچہ وہ توراۃ لے کر حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ کیا تم رجم کو اپنی کتاب میں پاتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ! لیکن دونوں کو مخالف سمتوں میں منہ کرکے جانور پر بٹھا کر گھمایا جائے گا (یہ حکم موجود ہے) چنانچہ اس کو کہا گیا کہ اچھا پڑھ کر سنا۔ اس نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ اور اس کے گردوپیش کی عبارت پڑھنے لگا۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا : اپنے ہاتھ پیچھے ہٹا۔ اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو آیت الرجم سامنے موجود تھی لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کے لیے حکم دے دیا اور دونوں کو رجم کردیا گیا۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تھا جب ان کو رجم کیا جارہا تھا وہ پتھروں سے اپنا بچاؤ کررہے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن ماجہ
13548- عن ابن عمر قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أتي بيهوديين زنيا، فأرسل إلى قارئهم فجاءه بالتوراة فسأله، أتجدون الرجم في كتابكم؟ فقال: لا ولكن يجبهان ويحممان، فقال، أو قيل له اقرأ فوضع يده على آية الرجم، فجعل يقرا ما حولها فقال: عبد الله بن سلام أخر كفك فأخر كفه، فإذا هو بآية الرجم، فأمر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما، فلقد رأيتهما وأنهما يرجمان وأنه يقيها الحجارة. "عب هـ"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13549 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ یہوداپنے ایک آدمی اور ایک عورت کو لے کر حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے۔ ان دونوں مردو عورت نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم میں سے جو زنا کرتے ہیں تم ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو مار پیٹ کرتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : توراۃ میں اس کا کیا حکم پاتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : ہم توراۃ میں کچھ نہیں پاتے۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا : تم جھوٹ بولتے ہو ! توراۃ میں رجم کا حکم موجود ہے۔ توراۃ لاؤ اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔ چنانچہ یہود توراۃ لے کر آئے۔ ان کے قاری جو توراۃ پڑھا کرتا تھا آیت رجم پر اپنی ہتھیلی رکھ لی اور اس سے آگے پیچھے پڑھنے لگا۔ آیت رجم کو نہیں پڑھا۔ عبداللہ بن سلام نے اس کا ہاتھ وہاں سے اٹھایا اور پوچھا یہ کیا ہے ؟ جب یہودیوں نے بھی دیکھ لیا تو تب کہنے لگے : ہاں یہ آیت رجم تو ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ اور جہاں جنازے رکھے جاتے تھے وہاں رجم کردیا گیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13549- وعنه أن اليهود جاؤا إلى النبي صلى الله عليه وسلم برجل منهم وامرأة قد زنيا، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: كيف تفعلون بمن زنى منكم؟ قالوا: نضربهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فما تجدون في التوراة؟ فقالوا: لا نجد فيها شيئا، فقال عبد الله بن سلام: كذبتم، في التوراة الرجم فأتوا بالتوراة فاتلوها إن كنتم صادقين، فاتوا بالتوراة فوضع مدراسها الذي يدرسها كفه على آية الرجم، فطفق يقرأ ما دون يده وما وراءها ولا يقرأ آية الرجم فنزع عبد الله بن سلام يده عن آية الرجم فقال: ما هذه؟ فلما رأوا ذلك؛ قالوا: هي آية الرجم فأمر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما حيث توضع الجنائز. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13550 عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور بتایا کہ میں حمل سے ہوں۔ حضور نبی کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اس کے ساتھ نیک سلوک رکھو، جب یہ بچہ جن لے تو مجھے بتانا چنانچہ اس نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کے کپڑے اس کے جسم پر باندھ دیئے گئے (کہیں دوران رجم کھل نہ جائیں اور بےپردگی نہ ہوجائے) پھر حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ایک تو آپ نے اس کو رجم کیا پھر اس پر نماز بھی پڑھتے ہیں ؟ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے ایسی (سچی) توبہ کی ہے کہ اگر ستر اہل مدینہ کے درمیان بھی تقسیم کردی جائے تو سب کو کافی ہوجائے گی۔ کیا تم نے اس سے افضل چیز دیکھی ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔

الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، النسائی
13550- عن عمران بن حصين أن امرأة من جهينة اعترفت عند النبي صلى الله عليه وسلم بالزنا، قالت: أنا حبلى، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم وليها فقال: أحسن إليها، فإذا وضعت فأخبرني، ففعل فأمر بها النبي صلى الله عليه وسلم فشدت عليها ثيابها ثم أمر بها فرجمت، ثم صلى عليها، فقال عمر: يا رسول الله رجمتها ثم تصلي عليها؟ فقال: لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم، وهل وجدت شيئا أفضل من جادت بنفسها لله. "عب حم م د ن"1
tahqiq

তাহকীক: