কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৫১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13511 ابن جریج ، عمرو بن شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے فیصلہ کردیا ہے کہ زنا پر نہ تین آدمیوں کی شہادت قبول کی جائے گی اور نہ دو کی اور نہ ایک کی۔ اور ان کو (تہمت کے جرم میں) اسی اسی کوڑے مارے جائیں گے پھر ان کی شہادت آئندہ قبول نہ کی جائے گی جب تک مسلمانوں کو ان کی سچی توبہ اور ان کی اصلاح کا علم نہ ہوجائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13511- عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قضى الله ورسوله أن لا يقبل شهادة ثلاث ولا اثنين ولا واحد على الزنا ويجلدون ثمانين جلدة، ولا تقبل شهادتهم حتى يتبين للمسلمين منهم توبة نصوح وإصلاح. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13512 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل کی۔ اسی کتاب میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اس کو پڑھا اور محفوظ کرلیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ مجھے خود خطرہ ہے کہ لوگوں پر طویل زمانہ گزرے گا تو کوئی کہے گا : ہم کتاب اللہ میں آیت رجم نہیں پاتے۔ پس وہ ایسے فریضے کے انکار کے ساتھ گمراہ ہوجائیں گے جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ پس رجم کتاب اللہ میں ہے۔ زانی پر لازم ہے جبکہ وہ شادی شدہ ہو مرد ہو یا عورت۔ بشرطیکہ گواہ قائم ہوں یا حمل ظاہر ہو (عورت کے لئے) یا زانی خود اعتراف کرلے۔ خبردار ! ہم یہ آیت بھی پڑھا کرتے تھے :
لا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم،
اپنے آباء سے اپنی نسبت کا انکار نہ کرو یہ تمہارا انکار ہے کہ تم اپنے آباء سے اعراض کرو۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ، مسنداحمد، العدنی، الدارمی، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی ، ابن ماجہ ، ابن الجارود، ابن جریر، ابو عوانۃ، ابن حبان، السنن للبیہقی
امام مالک نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
لا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم،
اپنے آباء سے اپنی نسبت کا انکار نہ کرو یہ تمہارا انکار ہے کہ تم اپنے آباء سے اعراض کرو۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ، مسنداحمد، العدنی، الدارمی، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی ، ابن ماجہ ، ابن الجارود، ابن جریر، ابو عوانۃ، ابن حبان، السنن للبیہقی
امام مالک نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
13512- عن عمر قال: إن الله عز وجل بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب فكان فيما أنزل عليه آية الرجم، فقرأناها ووعيناها ورجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده، فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل: لا نجد آية الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة قد أنزلها الله، فالرجم في كتاب الله حق على من زنى إذا أحصن من الرجال والنساء إذا قامت البينة أو الحبل أو الاعتراف، ألا وإنا قد كنا نقرأ؛ لا ترغبوا عن آبائكم فإنه كفر بكم أن ترغبوا عن آبائكم. "عب ش حم والعدني والدارمي خ م د ت ن هـ وابن الجارود وابن جرير وأبو عوانة حب ق" وروى "مالك" بعضه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13513 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا اور رجم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ہرگز دھوکا میں نہ پڑنا رجم کے بارے میں۔ بیشک وہ حدود اللہ میں سے ایک حد ہے۔ خبردار ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں ضرور قرآن پاک کے حاشیے میں لکھوا دیتا :
عمر بن خطاب، عبدالرحمن بن عوف، فلاں اور فلاں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔
خبردار ! عنقریب تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو تکذیب کرے گی رجم کی، دجال (کے خروج) کی، شفاعت کی، عذاب قبر کی اور اس قوم کی جس کو اللہ پاک جہنم سے ان کے جلنے کے بعد نکالے گا ۔ مسند احمد، مسند ابی یعلی، ابوعبید
فائدہ : حدیث میں امتحثوا کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں اس قدر جل کر ہڈیاں ظاہر ہوجائیں۔ انبیاء 302/4 ۔
عمر بن خطاب، عبدالرحمن بن عوف، فلاں اور فلاں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔
خبردار ! عنقریب تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو تکذیب کرے گی رجم کی، دجال (کے خروج) کی، شفاعت کی، عذاب قبر کی اور اس قوم کی جس کو اللہ پاک جہنم سے ان کے جلنے کے بعد نکالے گا ۔ مسند احمد، مسند ابی یعلی، ابوعبید
فائدہ : حدیث میں امتحثوا کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں اس قدر جل کر ہڈیاں ظاہر ہوجائیں۔ انبیاء 302/4 ۔
13513- عن ابن عباس قال: خطب عمر فذكر الرجم فقال: لا تخدعن عنه فإنه حد من حدود الله، ألا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رجم ورجمنا بعده، ولولا أن يقول قائلون: زاد عمر في كتاب الله ما ليس منه لكتبت في ناحية المصحف، شهد عمر بن الخطاب وعبد الرحمن بن عوف وفلان وفلان أن رسول الله قد رجم ورجمنا بعده، ألا وإنه سيكون بعدكم قوم يكذبون بالرجم وبالدجال وبالشفاعة وبعذاب القبر وبقوم يخرجون من النار بعد ما امتحشوا "حم ع وأبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13514 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : خبردار ! رجم (سنگساری) حدود اللہ میں سے ایک حد ہے، ہرگز اس کی طرف سے دھوکا میں نہ پڑنا۔ بیشک وہ کتاب اللہ میں بھی ہے اور تمہارے نبی کی سنت میں بھی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی رجم فرمایا، ابوبکر (رض) نے بھی رجم فرمایا اور میں نے بھی رجم کیا ہے۔
الاوسط للطبرانی
الاوسط للطبرانی
13514- عن ابن عباس قال: إن عمر بن الخطاب قام فينا فقال: ألا إن الرجم حد من حدود الله فلا تخدعن عنه فإنه في كتاب الله وسنة نبيكم صلى الله عليه وسلم، وقد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجم أبو بكر ورجمت. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13515 حضرت سعید بن المسیب (رح) حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم فرمایا، ابوبکر (رض) نے رجم فرمایا اور میں نے بھی رجم کیا۔ اگر مجھے کتاب اللہ میں زیادتی ناپسند ہوتی تو میں قرآن پاک میں اس کو لکھ دیتا۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ ایسی اقوام آئیں گی جو اس کتاب اللہ میں نہ پاکر اس کا کفر (انکار) کریں گی۔
الترمذی، السنن للبیہقی قال الترمذی حسن صحیح وروی عنہ من خیر وجہ عن عمر (رض)
الترمذی، السنن للبیہقی قال الترمذی حسن صحیح وروی عنہ من خیر وجہ عن عمر (رض)
13515- عن سعيد بن المسيب عن عمر قال: رجم رسول الله ورجم أبو بكر ورجمت ولولا أني أكره أن أزيد في كتاب الله لكتبته في المصحف فإني قد خشيت أن تجيء أقوام لا يجدونه في كتاب الله فيكفرون به. "ت ق" وقال "ت" حسن صحيح وروى عنه من غير وجه عن عمر
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13516 حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : بچو آیت رجم کے متعلق ہلاکت میں پڑنے سے ۔ کہیں کوئی یہ کہنے لگے : ہم تو رجم کو کتاب اللہ میں پاتے نہیں۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور ہم نے آپ کے بعد رجم کیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر کہنے والا یہ نہ کہتا کہ عمر بن خطاب نے کتاب اللہ میں نئی کتاب لکھ دی ہے تو میں ضرور اس کو لکھ دیتا۔ بیشک ہم نے اس کو قرآن پاک میں پڑھا ہے : الشیخ والشیخۃ فارجمو ھما البتۃ۔
بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو (جب وہ زنا کریں) تو رجم کرو ضرور۔
مالک ، الشافعی ، ابن سعد، العدنی ، حلیۃ الاولیاء السنن للبیہقی
بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو (جب وہ زنا کریں) تو رجم کرو ضرور۔
مالک ، الشافعی ، ابن سعد، العدنی ، حلیۃ الاولیاء السنن للبیہقی
13516- عن سعيد بن المسيب أن عمر خطب فقال: إياكم أن تهلكوا عن آية الرجم أن يقول قائل: لا نجد الرجم في كتاب الله فقد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده، وإني والذي نفسي بيده لولا أن يقول قائل أحدث عمر بن الخطاب في كتاب الله تعالى لكتبتها ولقد قرأناها؛ الشيخ والشيخة فارجموهما البتة. "مالك والشافعي وابن سعد والعدني حل ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13517 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : رجم حدود اللہ میں سے ایک حد ہے اس کے بارے میں دھوکا کا شکار مت ہونا۔ اس کی (سچائی کی) نشانی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا، ابوبکر نے رجم کیا اور ان کے بعد میں نے بھی رجم کیا۔ عنقریب ایک قوم آئے گی جو تقدیر کو جھٹلائے گی، حوض (کوثر) کو جھٹلائے گی، شفاعت (کے برحق ہونے) کو جھٹلائے گی اور اس قوم کو جھٹلائے گی جو جہنم سے نکالی جائے گی۔ ابن ابی عاصم
13517- عن ابن عباس قال: قال عمر: الرجم حد من حدود الله فلا تخدعوا عنه وآية ذلك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم وأبو بكر ورجمت أنا بعد، وسيجيء قوم يكذبون بالقدر، ويكذبون بالحوض، ويكذبون بالشفاعة، ويكذبون بقوم يخرجون من النار. "ابن أبي عاصم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13518 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے منادی کو نداء دینے کا حکم دیا اس نے نداء دیدی الصلوٰۃ جامعۃ (یعنی وعظ سننے کے لیے جمع ہوجاؤ) پھر آپ (رض) منبر پر چڑھے۔ اللہ کی حمدوثناء پھر ارشاد فرمایا :
اے لوگو ! آیت رجم کے متعلق دھوکا کا شکار نہ ہونا۔ بیشک وہ قرآن میں نازل ہوئی تھی۔ ہم نے اس کی تلاوت کی تھی۔ لیکن وہ قرآن کے بہت سے حصے کے ساتھ چلی گئی جو محمد کے ساتھ چلا گیا۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا، ابوبکر نے رجم کیا اور ان کے بعد میں نے رجم کیا۔ عنقریب اس امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے، دجال کا انکار کریں گے، عذاب قبر کا انکار کریں گے اور اس قوم کا انکار کریں گے جو جہنم سے نکالی جائے گی جہنم میں ڈالنے کے بعد ۔
الجامع لعبد الرزاق
اے لوگو ! آیت رجم کے متعلق دھوکا کا شکار نہ ہونا۔ بیشک وہ قرآن میں نازل ہوئی تھی۔ ہم نے اس کی تلاوت کی تھی۔ لیکن وہ قرآن کے بہت سے حصے کے ساتھ چلی گئی جو محمد کے ساتھ چلا گیا۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا، ابوبکر نے رجم کیا اور ان کے بعد میں نے رجم کیا۔ عنقریب اس امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے، دجال کا انکار کریں گے، عذاب قبر کا انکار کریں گے اور اس قوم کا انکار کریں گے جو جہنم سے نکالی جائے گی جہنم میں ڈالنے کے بعد ۔
الجامع لعبد الرزاق
13518- عن ابن عباس قال: أمر عمر بن الخطاب مناديا فنادى أن الصلاة جامعة، ثم صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس لا تخدعن عن آية الرجم. فإنها أنزلت في كتاب الله، وقرأناها، ولكنها ذهبت في قرآن كثير ذهب مع محمد، وآية ذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم قد رجم وأن أبا بكر قد رجم ورجمت بعدهما وأنه سيجيء قوم من هذه الأمة يكذبون بالرجم ويكذبون بطلوع الشمس من مغربها ويكذبون بالشفاعة ويكذبون بالحوض، ويكذبون بالدجال، ويكذبون بعذاب القبر ويكذبون بقوم يخرجون من النار بعد ما أدخلوها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13519 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت رجم نازل ہوئی میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ آیت لکھ لیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اس کی ہمت نہیں رکھتا۔ ابن الضریس
13519- عن عمر قال: قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم لما أنزلت آية الرجم: اكتبها يا رسول الله قال: لا أستطيع ذلك. "ابن الضريس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13520 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس ایسا کوئی شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی باندی سے زنا کیا ہوگا اور وہ محصن (شادی شدہ ہوگا تو میں اس کو رجم کردوں گا) ۔
الجامع لعبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
الجامع لعبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13520- عن عمر قال: لو أتيت برجل وقع على جارية امرأته وهو محصن لرجمته. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13521 ذھل بن کعب سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارادہ فرمایا کہ اس عورت کو رجم فرمائیں جو بدکاری کے نتیجے میں حاملہ ہوگئی تھی۔ لیکن حضرت معاذ (رض) نے آپ (رض) کو فرمایا : تب تو آپ ظلم کرنے والے ہوں گے، جو جان اس عورت کے پیٹ میں ہے اس کا کیا گناہ ہے ؟ آپ کس بناء پر ایک جان کے گناہ کے بدلے دوجانوں کو قتل کریں گے ؟ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس عورت کو چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے بچہ جن دیا، تب آپ (رض) نے اس کا رجم (سنگسار) کیا ۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13521- عن ذهل بن كعب قال: أراد عمر أن يرجم المرأة التي فجرت وهي حامل، فقال له معاذ: إذا تظلم، أرأيت الذي في بطنها ما ذنبه؟ على ما تقتل نفسين بنفس واحدة، فتركها حتى وضعت حملها فرجمها. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13522 عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم فرمایا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ اگر کہنے والے یہ نہ کہتے : عمر نے کتاب اللہ میں زیادتی کردی تو میں ضرور اس آیت کو لکھ دیتا جس طرح وہ نازل ہوئی تھی۔ یعنی
الشیخ والشیخۃ فارجموھما البتۃ ، مسند احمد، ابن ابی الانباری فی المصاحف
الشیخ والشیخۃ فارجموھما البتۃ ، مسند احمد، ابن ابی الانباری فی المصاحف
13522- عن عبد الرحمن بن عوف أن عمر قال: قد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده، ولولا أن يقول قائلون: زاد عمر في كتاب الله لأثبتها كما أنزلت. "حم وابن الأنباري في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13523 حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) (اپنے آخری حج کے موقع پر) جب منیٰ سے واپس ہونے لگے تو وادی ابطح میں اپنی سواری بٹھادی۔ پھر (اتر کر) بطحاء سے پتھر کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کپڑا ڈال کر چت لیٹ گئے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے گڑگڑائے :
اے اللہ ! میں سن رسیدہ ہوگیا ہوں، میرے قوی کمزوری کا شکار ہوگئے ہیں، میری رعیت منتشر ہوچکی ہے پس مجھے اس حال میں اٹھالے کہ مجھ سے کوئی کوتاہی اور نقصان نہ ہو۔
پھر آپ (رض) مدینہ پہنچ گئے تو لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :
اے لوگو ! میں نے تمہارے لیے فرائض واضح کردیئے، سنتوں کو روشن کردیا اور تم کو واضح راستے پر چھوڑ دیا۔ پھر آپ (رض) نے (تنبہاً ) دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تالی بجائی اور فرمایا : خبردار ! لوگوں کے ساتھ دائیں بائیں نکل کر گمراہ نہ ہوجانا۔ نیز آیت رجم کے متعلق ہلاکت میں نہ پڑنا۔ کہیں کوئی کہے : ہم کتاب اللہ مں دو حدیں نہیں پاتے۔ بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ نے رجم فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں نئی بات لکھ دی تو میں ضرور قرآن پاک میں اس کو لکھ دیتا جس طرح ہم نے اس کو پڑھا تھا :
الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ۔
حضرت سعید بن المسیب (تابعی) فرماتے ہیں : چنانچہ یہ ماہ ذوالحجہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ان کو نیزہ مار (کر زخمی اور قریب المرگ کر) دیا گیا۔ موطا امام مالک، ابن سعد ، مسدد، مستدرک الحاکم
اے اللہ ! میں سن رسیدہ ہوگیا ہوں، میرے قوی کمزوری کا شکار ہوگئے ہیں، میری رعیت منتشر ہوچکی ہے پس مجھے اس حال میں اٹھالے کہ مجھ سے کوئی کوتاہی اور نقصان نہ ہو۔
پھر آپ (رض) مدینہ پہنچ گئے تو لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :
اے لوگو ! میں نے تمہارے لیے فرائض واضح کردیئے، سنتوں کو روشن کردیا اور تم کو واضح راستے پر چھوڑ دیا۔ پھر آپ (رض) نے (تنبہاً ) دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تالی بجائی اور فرمایا : خبردار ! لوگوں کے ساتھ دائیں بائیں نکل کر گمراہ نہ ہوجانا۔ نیز آیت رجم کے متعلق ہلاکت میں نہ پڑنا۔ کہیں کوئی کہے : ہم کتاب اللہ مں دو حدیں نہیں پاتے۔ بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ نے رجم فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں نئی بات لکھ دی تو میں ضرور قرآن پاک میں اس کو لکھ دیتا جس طرح ہم نے اس کو پڑھا تھا :
الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ۔
حضرت سعید بن المسیب (تابعی) فرماتے ہیں : چنانچہ یہ ماہ ذوالحجہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ان کو نیزہ مار (کر زخمی اور قریب المرگ کر) دیا گیا۔ موطا امام مالک، ابن سعد ، مسدد، مستدرک الحاکم
13523- عن سعيد بن المسيب أن عمر لما أفاض من منى أناخ بالأبطح فكوم كومة1 من بطحاء فطرح عليها طرف ثوبه ثم استلقى عليها ورفع يديه إلى السماء وقال: اللهم كبر سني، وضعفت قوتي، وانتشرت رعيتي فاقبضني إليك غير مضيع ولا مفرط، فلما قدم المدينة خطب الناس فقال: أيها الناس قد فرضت لكم الفرائض، وسننت لكم السنن، وتركتكم على الواضحة، ثم صفق بيمينه على شماله إلا أن تضلوا بالناس يمينا وشمالا، ثم إياكم أن تهلكوا عن آية الرجم وأن يقول قائل [لا نحد حدين] في كتاب الله فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم ورجمنا بعده فوالله لولا أن يقول الناس أحدث عمر في كتاب الله لكتبتها في المصحف فقد قرأناها، الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة قال سعيد: فما انسلخ ذو الحجة حتى طعن. "مالك وابن سعد ومسدد ك"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13524 بکر سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میرا ارادہ تھا کہ مصحف شریف (قرآن مبارک) میں یہ لکھوادوں :
یہ وہ فریضہ ہے جس پر عمر ، فلاں اور فلاں مہاجرین صحابی اور دس انصاری صحابی شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور رجم کا حکم دیا اور خمر (شراب نوشی) میں جلدۃ (کوڑے مارے) اور اس کا حکم دیا۔ ابن جریر
یہ وہ فریضہ ہے جس پر عمر ، فلاں اور فلاں مہاجرین صحابی اور دس انصاری صحابی شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور رجم کا حکم دیا اور خمر (شراب نوشی) میں جلدۃ (کوڑے مارے) اور اس کا حکم دیا۔ ابن جریر
13524- عن بكر قال: قال عمر: لقد هممت أن أكتب في المصحف هذا ما شهد عليه عمر وفلان وفلان عشرة من المهاجرين وعشرة من الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رجم وأمر بالرجم، وجلد في الخمر، وأمر بالجلد. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13525 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے شادی شدہ زانی کے متعلق فرمایا میں اس کو قرآن کی رو سے جلد (کوڑوں کی سزا) کروں گا اور سنت کی رد سے رجم کروں گا۔ اسی طرح حضرت ابی بن کعب (رض) نے ارشاد فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13525- عن الشعبي قال: قال علي في الثيب أجلدها بالقرآن وأرجمها بالسنة، وقال أبي بن كعب: مثل ذلك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13526 قابوس بن مخارق سے مروی ہے کہ محمد بن ابی مکر نے حضرت علی (رض) کے پاس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے ؟ ایک مکاتب (اپنی آزادی کی قیمت ادا کرنے والا) مرگیا ہے اور اپنی کتابت (آزادی) کا عوض چھوڑ کر گیا ہے اور چند آزاد لڑکے اولاد میں چھوڑے ہیں ؟
چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کے سوالوں کے جواب میں لکھا :
جو دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اگر وہ توبہ تائب ہوجائیں تو ٹھیک ورنہ ان کی گردن اڑادو۔ جس مسلمان نے نصرانی عورت کے ساتھ زنا کرلیا ہے اس پر حد جاری کرو جبکہ نصرانی عورت کو اہل ذمہ کے پسرد کردو اور مکاتب کا بدل کتابت ادا کرو، پھر جو مال باقی بچ جائے اس کو اس کی اولاد کے حوالے کردو۔ الشافعی، المصنف لا بن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کے سوالوں کے جواب میں لکھا :
جو دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اگر وہ توبہ تائب ہوجائیں تو ٹھیک ورنہ ان کی گردن اڑادو۔ جس مسلمان نے نصرانی عورت کے ساتھ زنا کرلیا ہے اس پر حد جاری کرو جبکہ نصرانی عورت کو اہل ذمہ کے پسرد کردو اور مکاتب کا بدل کتابت ادا کرو، پھر جو مال باقی بچ جائے اس کو اس کی اولاد کے حوالے کردو۔ الشافعی، المصنف لا بن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
13526- عن قابوس بن مخارق أن محمد بن أبي بكر كتب إلى علي يساله عن مسلمين تزندقا وعن مسلم زنى بنصرانية وعن مكاتب مات وترك بقية من كتابته، وترك ولدا أحرارا، فكتب إليه علي، أما اللذان تزندقا فإن تابا وإلا فاضرب أعناقهما، وأما المسلم فأقم عليه الحد وادفع النصرانية إلى أهل ذمتها، وأما المكاتب فيؤدي بقية كتابته، وما بقي فلولده الأحرار. "الشافعي ش هق".
= وأخرجه ابن سعد بلفظه في الطبقات الكبرى "3/334"، واستدركت منه هذه الفقرة للإتضاح: [لا نحد حدين] . ص.
= وأخرجه ابن سعد بلفظه في الطبقات الكبرى "3/334"، واستدركت منه هذه الفقرة للإتضاح: [لا نحد حدين] . ص.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13527 معبد اور عبید اللہ ، عمران بن ذھل کے بیٹوں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا۔ آدمی نے کہا میں نے زنا کیا ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : پھر ہم تجھے رجم کریں گے اگر تو شادی شدہ ہے۔ لوگوں نے کہا : اس نے عورت کی باندی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اگر تو نے اس کو مجبور کردیا تھا تو اب اس کو آزاد کردے اور اپنی بیوی کو دوسری باندی اس کے بدلے دے۔ آدمی بولا : ہاں اللہ کی قسم ! میں نے اس کو مجبور کیا تھا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس کو رجم نہ کیا بلکہ حد سے کم کوڑے ماردیئے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13527- عن معبد وعبيد الله ابني عمران بن ذهل قالا: مر ابن مسعود برجل فقال: إني زنيت، فقال: إذا نرجمك إن كنت قد أحسنت، فقالوا: إنما أتى جارية امرأته، فقال عبد الله: إن كنت استكرهتها فأعتقها وأعط امرأتك جارية مكانها، فقال: والله لقد استكرهتها، قال: فلم يرجمه وأمر به فضرب دون الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13528 عامر بن الشیبانی سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے (مذکورہ روایت جیسی صورت کے متعلق) ارشاد فرمایا : اگر آدمی نے بیوی کی باندی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہوجائے گی اور آدمی اس کے عوض دوسری باندی بیوی کو دے گا اور اگر وہ برضا آمادہ ہوئی تھی تو اب یہ آدمی کی ملکیت میں آجائے گی اور وہ اپنی بیوی کو دوسری باندی لاکر دے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13528- عن عامر بن مطر الشيباني قال: قال ابن مسعود، إن كان استكرهها عتقت وغرم لها مثلها، وإن كانت طاوعته أمسكها هو وغرم لها مثلها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13529 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ہم حد کو اور عقر کو درست نہیں سمجھتے۔ الجامع لعبد الرزاق
فائدہ : حد مذکورہ دو روایات سے جیسے معلوم ہوا۔ اور عقر کا مطلب ہے کہ عرب جاہلیت میں مرنے والے فیاض شخص کی قبر پر اونٹ نحر کرتے تھے اور کہتے تھے یہ اپنی زندگی میں ایسی فیاضی کرتا تھا اور مہمانوں کی خاطر تواضع کرتا تھا چنانچہ ہم اس کی وفات کے بعداس کا بدلہ ادا کررہے ہیں۔
النھایۃ 271/3
فائدہ : حد مذکورہ دو روایات سے جیسے معلوم ہوا۔ اور عقر کا مطلب ہے کہ عرب جاہلیت میں مرنے والے فیاض شخص کی قبر پر اونٹ نحر کرتے تھے اور کہتے تھے یہ اپنی زندگی میں ایسی فیاضی کرتا تھا اور مہمانوں کی خاطر تواضع کرتا تھا چنانچہ ہم اس کی وفات کے بعداس کا بدلہ ادا کررہے ہیں۔
النھایۃ 271/3
13529- عن الشعبي أن ابن مسعود قال: لا نرى حدا ولا عقرا "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجم۔۔۔سنگساری
13530 ابن سیرین (رح) سے مروی ہے حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس ایسا شخص لایا جاتا یعنی جو اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو میں اس کو رجم کردیتا لیکن ابن مسعود کو علم نہیں ہے کہ ان کے بعد کیا کچھ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی ، ابن ماجہ
الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی ، ابن ماجہ
13530- عن ابن سيرين قال: قال علي لو اتيت به لرجمته يعني الذي يقع على جارية امرأته، وأما ابن مسعود فلا يدري ما أحدث بعده. "عب ق هـ"
তাহকীক: