কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13491 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس قبیلہ ھمدان کی ایک عورت لائی گئی جو رانڈ تھی لیکن اس کو حمل ٹھہر چکا تھا۔ اس کا نام شراحۃ تھا اس سے زنا کا ارتکاب ہوا تھا۔ حضرت علی (رض) نے عورت کو ارشاد فرمایا : شاید آدمی نے تیرے ساتھ زبردستی کی ہوگی ؟ عورت بولی : نہیں ! ارشاد فرمایا : شاید تو سوئی پڑی ہوگی اور آدمی نے تجھے چھاپ لیا ہوگا ؟ بول : نہیں ارشاد فرمایا : شاید وہ آدمی تیرا شوہر ہو، لیکن چونکہ وہ ہمارے ان دشمنوں میں سے ہوگا اس لیے تو اس کو ہم سے چھپا رہی ہوگی۔ عرض کیا : نہیں ۔ مجبوراً حضرت علی (رض) نے اس کو محبوس کرادیا۔ جب اس نے اپنے بچے کو جنم دے لیا تو آپ (رض) نے سا کو جمعرات کے روز سو کوڑے لگوائے۔ پھر جمعہ کے دن رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔ اس کے لیے بازار میں ایک گڑھا کھودا گیا۔ لوگ اس کے گرد گھوم گھوم کر چکر کاٹنے لگے۔ آپ (رض) نے لوگوں کو درے سے مارا اور ارشاد فرمایا : رجم یوں نہیں کیا جاتا۔ اگر اس طرح تم رجم کرو گے تو آپس میں ایک دوسرے کو روند کر قتل کرڈالو گے۔ بلکہ نماز کی طرح صفیں بنالو۔ پھر (صفیں بن جانے کے بعد) ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اگر مجرم نے خود اپنے جرم کا اعتراف کیا ہو (جیسا کہ موجودہ صورت حال ہے) تو سب سے پہلے امام (حاکم) پتھر مارے گا۔ اور اگر چار گواہوں کے نتیجے میں سنگساری ہورہی ہو تو سب سے پہلے چار گواہ پتھر ماریں گے، کیونکہ ان کی گواہی کی وجہ سے یہ سنگساری ہورہی ہے۔ پھر امام۔ پھر عام لوگ۔
چنانچہ حضرت علی (رض) نے گڑھے میں موجود عورت کو پتھر مارا اور اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔ پھر پہلی صف کا حکم دیا کہ اب تم مارو (جب انھوں نے پتھر مار لیے تو) پھر فرمایا اب تم چلے جاؤ۔ پھر پچھلی صف آگے آئی۔ اس طرح صفاً صفاً سنگ باری کی گئی۔ حتیٰ کہ وہ عورت جاں بحق ہوگئی۔ پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اب اس کے کفن دفن اور نماز کا اہتمام کرو جس طرح اپنے دوسروں مردوں کے ساتھ کرتے ہو۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
چنانچہ حضرت علی (رض) نے گڑھے میں موجود عورت کو پتھر مارا اور اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔ پھر پہلی صف کا حکم دیا کہ اب تم مارو (جب انھوں نے پتھر مار لیے تو) پھر فرمایا اب تم چلے جاؤ۔ پھر پچھلی صف آگے آئی۔ اس طرح صفاً صفاً سنگ باری کی گئی۔ حتیٰ کہ وہ عورت جاں بحق ہوگئی۔ پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اب اس کے کفن دفن اور نماز کا اہتمام کرو جس طرح اپنے دوسروں مردوں کے ساتھ کرتے ہو۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13491- عن الشعبي أن عليا أتى بامرأة من همدان ثيب حبلى يقال لها شراحة قد زنت، فقال لها علي: لعل الرجل استكرهك؟ قالت: لا، قال: فلعل الرجل قد وقع عليك وأنت راقدة؟ قالت: لا قال: فلعل لك زوجا من عدونا هؤلاء وأنت تكتمينه؟ قالت: لا، فحبسها، حتى إذا وضعت جلدها يوم الخميس مائة جلدة، ورجمها يوم الجمعة، فأمر فحفر لها حفرة بالسوق فدار الناس عليها فضربهم بالدرة، ثم قال: ليس هكذا الرجم، إنكم إن تفعلوا هكذا يقتل بعضكم بعضا، ولكن صفوا كصفوفكم للصلاة، ثم قال: يا أيها الناس، إن أول الناس يرجم الزاني الإمام إذا كان الاعتراف، وإذا شهد أربعة شهداء على الزنا فإن أول الناس يرجمه الشهود لشهادتهم عليه، ثم الإمام ثم الناس، ثم رماها بحجر وكبر، ثم أمر الصف الأول فقال: ارموا، ثم قال: انصرفوا وكذا صفا صفا حتى قتلوها، ثم قال: افعلوا بها ما تفعلون بموتاكم. "عب هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13492 عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، اس آدمی نے بیان کیا کہ جس دن حضرت علی (رض) نے شراحۃ نامی عورت کو سنگسار کیا آپ (رض) کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں نے کہا : یہ عورت بڑی بری حالت میں موت کے سپرد ہوئی ہے۔ آپ (رض) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ (رض) نے وہ چھڑی اس زور سے مجھے ماری کہ مجھے تکلیف میں مبتلا کردیا میں نے عرض کیا : آپ نے تو مجھے تکلیف میں ڈال دیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں نے اس لیے تجھے تکلیف دی ہے کہ اس سے کبھی اس کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا جس طرح ادا شدہ قرض کی متعلق سوال نہیں کیا جاتا۔ الجامع لعبد الرزاق
13492- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن رجل من هذيل قال: كنت مع علي حين يرجم شراحة فقلت: لقد ماتت هذه على شر حالها، فضربني بقضيب كان في يده حتى أوجعني فقلت: أوجعتني قال: وإن أوجعتك إنها لن تسأل عن ذنبها أبدا كالدين يقضى. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13493 شعبی (رح) سے مروی ہے فرمایا جب حضرت علی (رض) نے شراحۃ کو سنگسار کرادیا تو اس کے سرپرست اولیاء آگے آئے اور پوچھا : اب ہم اس کا کیا کریں ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جس طرح اپنے مردوں کے ساتھ کرتے ہو یعنی پورے اسلامی طریقے کے ساتھ غسل دو نماز پڑھو وغیرہ۔
الجامع لعبد الرزاق، المروزی فی الجنائز
الجامع لعبد الرزاق، المروزی فی الجنائز
13493- عن الشعبي قال: لما رجم علي شراحة جاء أولياؤها فقالوا: كيف نصنع بها؟ فقال: اصنعوا بها كما تصنعون بموتاكم يعني من الغسل والصلاة عليها. "عب والمروزي في الجنائز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13494 سماک بن حرب بنی عجل کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا ، وہاں ایک آدمی کھیتوں میں کھڑا افسوس کے ساتھ پکاررہا تھا مجھ سے فحش کام سرزد ہوگیا ہے۔ مجھ پر حد جاری کردو۔ حضرت علی (رض) نے اس پوچھا : کیا تو نے شادی کررکھی ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ پوچھا : کیا اس کے ساتھ ہم بستر ہوا ہے ؟ اس نے انکار میں جواب دیا۔ پھر آپ (رض) نے (جس) عورت (کے ساتھ بدکاری ہوئی تھی اس) کے گھر والوں کے پاس پیغام بھیج کر دریافت کرایا کیا تم : فلاں آدمی سے اپنی لڑکی کی شادی پر راضی ہو ؟ انھوں نے کہا : ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تب آپ (رض) نے آدمی پر سو کوڑے حد جاری کی اور اس پر پہلی بیوی کے لیے نصف مہر دینا لازم کیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
ابوعبداللہ الحسن بن یحییٰ بن عباش القطان فی حدیثہ، السنن للبیہقی
ابوعبداللہ الحسن بن یحییٰ بن عباش القطان فی حدیثہ، السنن للبیہقی
13494- عن سماك بن حرب عن رجل من بني عجل قال: كنت مع علي بصفين، فإذا رجل بزرع ينادي أني قد أصبت فاحشة فأقيموا علي الحد فقال له علي: هل تزوجت؟ قال: نعم قال: قد دخلت بها؟ قال: لا، فبعث إلى أهل المرأة، هل زوجتم فلانا؟ قالوا: والله ما كنا نرى به بأسا، قال فحده مائة وأغرمه نصف الصداق2 وفرق بينهما. "أبو عبد الله الحسن بن يحيى بن عياش القطان في حديثه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13495 ابوحبیبہ سے مروی ہے میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : مجھ سے ایک فحش برائی سرزد ہوگئی ہے۔ مجھ پر حد جاری کر دیجئے۔ حضرت علی (رض) نے چار مرتبہ واپس کردیا (لیکن میرا نہ ماننے کی بناء پر بالآخر آپ (رض)) نے اپنے غلام قنبر کو فرمایا : اے قنبر ! اٹھ کھڑے ہوا ور اس کو سوکوڑے مار۔ میں نے عرض کیا : میں غلام ہوں۔ تب آپ (رض) نے فرمایا : اس کو مارتے رہو یہ خود ہی تم کو روک دے گا۔ چنانچہ قنبر غلام نے مجھے پچاس کوڑے مارے۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13495- عن أبي حبيبة قال: أتيت عليا، فقلت له: إنه قد أصاب فاحشة فأقم عليه الحد، قال: فرددني أربع مرات، ثم قال: يا قنبر قم إليه، فاضربه مائة سوط، فقلت إني مملوك قال: اضربه حتى يقول لك أمسك فضربه خمسين سوطا. "ص ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13496 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے کوڑے لگائے اور کوفہ سے بصرہ جلاوطن کیا۔ السنن للبیہقی
13496- عن الشعبي أن عليا جلد ونفى من الكوفة إلى البصرة. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13497 قسامۃ بن زھیر سے مروی ہے کہ جب ابوبکرۃ اور مغیرہ کا واقعہ پیش آیا۔ ابوبکرۃ نے مغیرہ پر زنا کی تہمت لگائی تو گواہ بلائے گئے۔ سب سے پہلے ابوبکرۃ نے گواہی دی۔ پھر (شبل) ابن معبد اور نافع بن عبدالحارث نے بھی گواہی دیدی (جب چوتھے گواہ کی باری آئی جس کے بعد مغیرہ پر زنا کی حد جاری ہوجاتی) تو حضرت عمر (رض) کو شاق گزرا۔ چنانچہ جب زیاد گواہی کے لیے اٹھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : انشاء اللہ کسی غلام حق کے سوا ہرگز کوئی گواہی نہ دے گا۔ چنانچہ زیاد بولا : میں زنا کی گواہی تو نہیں دیتا لیکن میں نے پھر بھی ایک بری بات دیکھی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے نعرہ بلند کیا اللہ اکبر، پھر حکم دیا (تین) گواہوں کو (تہمت کی بناء پر) حد جاری کرو۔ چنانچہ تینوں پر حد جاری کی گئی۔
ابوبکرۃ نے حد کھانے کے بعد پھر کہا میں اب بھی شہادت دیتا ہوں کہ وہ (مغیرہ) زانی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو دوبارہ تہمت کی حد جاری کرنے کا ارادہ کیا لیکن حضرت علی (رض) نے منع فرمادیا کہ اگر آپ نے اس کو تہمت کی حد جاری کرنا ہے تو اپنے ساتھی (مغیرہ) کو بھی رجم (سنگسار) کرو۔ آخر حضرت عمر (رض) نے ابوبکر کو چھوڑ دیا اور دوبارہ حد جاری نہ فرمائی۔ السنن للبیہقی
ابوبکرۃ نے حد کھانے کے بعد پھر کہا میں اب بھی شہادت دیتا ہوں کہ وہ (مغیرہ) زانی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو دوبارہ تہمت کی حد جاری کرنے کا ارادہ کیا لیکن حضرت علی (رض) نے منع فرمادیا کہ اگر آپ نے اس کو تہمت کی حد جاری کرنا ہے تو اپنے ساتھی (مغیرہ) کو بھی رجم (سنگسار) کرو۔ آخر حضرت عمر (رض) نے ابوبکر کو چھوڑ دیا اور دوبارہ حد جاری نہ فرمائی۔ السنن للبیہقی
13497- عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شأن أبي بكرة والمغيرة الذي كان، ودعا الشهود فشهد أبو بكرة وشهد ابن معبد ونافع بن عبد الحارث فشق على عمر حين شهد هؤلاء الثلاثة، فلما قام زياد قال عمر: إني أرى غلاما كيسا لن يشهد إن شاء الله إلا بحق، قال زياد: أما الزنا فلا أشهد به، ولكن قد رأيت أمرا قبيحا، قال عمر: الله أكبر حدودهم فجلدوهم فقال أبو بكرة: أشهد أنه زان، فهم عمر أن يعيد عليه الحد فيها، فنهاه علي وقال: إن جلدته فارجم صاحبك فتركه ولم يجلده. "هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13498 ابوبکرۃ سے مروی ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوئے ۔ چنانچہ ابوبکرہ، نافع اور شبل بن معبد نے گواہی دیدی جب زیاد کو بلایا گیا تو اس نے یوں گواہی دی کہ میں نے بری چیز دیکھی ہے۔ چونکہ زنا کی گواہی نہیں دی اس لیے حضرت عمر (رض) نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ابوبکرہ اور اس کے دونوں ساتھیوں کو بلا کر حد تہمت جاری کی۔ ابوبکرہ نے حد سہنے کے بعد فرمایا : اللہ کی قسم میں سچا ہوں۔ میں نے جس بات کی گواہی دی وہ اس کے مرتکب ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ابوبکرہ کو دوبارہ حد جاری کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر ان کو حد جاری کرتے ہیں تو ان (مغیرہ) کو بھی رجم کیجئے۔
13498- عن أبي بكرة قال: قدمنا على عمر فشهد أبو بكرة ونافع وشبل بن معبد، فلما دعا زيادا قال: رأيت أمرا منكرا، فكبر عمر ودعا بأبي بكرة وصاحبيه، فضربهم، فقال أبو بكرة بعد ما حدوه: والله إني لصادق، وهو فعل ما شهدته، فهم عمر بضربه، فقال علي: إن جلدت هذا فارجم ذاك."هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13499 حنش سے مروی ہے کہ ہمارے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کرلی۔ لیکن بیوی سے ہم بستر ہونے سے قبل وہ کسی عورت کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس پر حد جاری کی اور فرمایا اب عورت اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرے گی چنانچہ دونوں میاں بیویں کے درمیان علیحدگی کرادی۔ السنن للبیہقی
13499- عن حنش قال: تزوج رجل منا امرأة فزنى قبل أن يدخل بها فأقام علي الحد وقال: إن المرأة لا ترضى أن تكون عنده ففرق بينهما علي. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13500 ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : زنا میں کوڑے اور رجم دونوں بھی ہیں، صرف رجم بھی ہے، صرف کوڑے بھی ہیں۔ شعبہ فرماتے ہیں : قتادہ (رح) نے اس کی تفسیر یوں بیان کی ہے : شادی شدہ بوڑھے کو کوڑے مارے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا جب وہ زنا کرے۔ شادی شدہ جوان زنا کرے تو اس کو محض رجم کیا جائے گا اور اگر نوجوان کنوارا زنا کرے تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔ ابن جریر
13500- عن أبي بن كعب قال: يجلدون ويرجمون، ويرجمون ولا يجلدون ويجلدون ولا يرجمون، قال شعبة: فسره قتادة فقال: الشيخ المحصن يجلد ويرجم إذا زنى، والشاب المحصن يرجم إذا زنى، والشاب إذا لم يحصن جلد. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13501 بصرۃ الغفاری (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے ایک کنواری باپردہ لڑکی سے شادی کی۔ لیکن میں نے اس کو حاملہ پایا (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی تو) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہرحال جب بچہ تولد ہو وہ تیرا غلام بن جائے گا۔ اور اس کی ماں کو تم بچہ جننے کے بعد سوکوڑے مارنا، لیکن اس کا مہر اس کو دینا ہوگا جس کی وجہ سے اس کا حصول تمہارے لیے حلال ہوا۔
الدارقطنی فی السنن ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم
کلام : علامہ ابن حجر (رح) نے الاطراف میں بصرۃ بن ابی بصرۃ الغفاری کے ترجمہ کے دوران اسی طرح مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ پھر اس کی ایک علت (سقم) کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں نے اس روایت کو ابن جریج عن صفوان بن سلیم کے طریق سے نقل کیا ہے حالانکہ امام الدارقطنی (رح) نے فرمایا ابن جریج عن ابراہیم بن ابی یحییٰ عن صفوان بن سلیم صحیح طریقہ ہے۔
الدارقطنی فی السنن ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم
کلام : علامہ ابن حجر (رح) نے الاطراف میں بصرۃ بن ابی بصرۃ الغفاری کے ترجمہ کے دوران اسی طرح مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ پھر اس کی ایک علت (سقم) کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں نے اس روایت کو ابن جریج عن صفوان بن سلیم کے طریق سے نقل کیا ہے حالانکہ امام الدارقطنی (رح) نے فرمایا ابن جریج عن ابراہیم بن ابی یحییٰ عن صفوان بن سلیم صحیح طریقہ ہے۔
13501- عن بصرة الغفاري قال: تزوجت امرأة بكرا في خدرها، فوجدتها حبلى فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما الولد فعبد لك، فإذا ولدت فاجلدها مائة ولها المهر بما استحل من فرجها. "قط طب ك" كذا أورده ابن حجر في الأطراف في ترجمة بصرة بن أبي بصرة الغفاري وقال له علة فإنهم رووه من طريق ابن جريج عن صفوان بن سليم وقال "قط" إنما هو ابن جريج عن إبراهيم بن أبي يحيى عن صفوان ابن سليم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13502 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ بصرۃ الغفاری (رض) نے ایک باپردہ کنواری عورت سے شادی کی۔ پھر اس کے ساتھ ہم بستر ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی اور ارشاد فرمایا : جب وہ بچہ جن لے تو اس پر حد قائم کرنا اور اس کو مہر بھی ادا کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے اس کا ملاپ حلال ہوا۔ ابونعیم
فائدہ : امام ابونعیم (رح) نے مذکورہ صحابی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا نام ایک قول کے مطابق بصرہ ہے، ایک قول کے مطابق بسرہ ہے اور ایک قول کے مطابق نضلہ ہے۔ ان سے سعید بن المسیب نے روایت کی ہے۔ اور بصرۃ بن ابی بصرۃ الغفاری اور اس روایت کے مروی عنہ بصرہ میں فرق بیان کیا ہے کہ یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ اسی طرح امام ابن حجر (رح) نے بھی الاصابہ میں ان کی اتباع کی ہے۔ اور دونوں کے درمیان تفریق بیان کی ہے اور ہر ایک کے لیے جدا ترجمہ ذکر کیا ہے۔
فائدہ : امام ابونعیم (رح) نے مذکورہ صحابی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا نام ایک قول کے مطابق بصرہ ہے، ایک قول کے مطابق بسرہ ہے اور ایک قول کے مطابق نضلہ ہے۔ ان سے سعید بن المسیب نے روایت کی ہے۔ اور بصرۃ بن ابی بصرۃ الغفاری اور اس روایت کے مروی عنہ بصرہ میں فرق بیان کیا ہے کہ یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ اسی طرح امام ابن حجر (رح) نے بھی الاصابہ میں ان کی اتباع کی ہے۔ اور دونوں کے درمیان تفریق بیان کی ہے اور ہر ایک کے لیے جدا ترجمہ ذکر کیا ہے۔
13502- عن سعيد بن المسيب أن بصرة الغفاري تزوج امرأة بكرا في سترها، فدخل بها فوجدها حبلى، ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما وقال: "إذا وضعت فأقيموا عليها الحد، وأعطاها الصداق بما استحل من فرجها". "أبو نعيم" وترجم عليه بصرة وقيل بسرة وقيل نضلة روى عنه سعيد بن المسيب وفرق بينه وبين بصرة بن أبي بصرة الغفاري وكذا تبع الحافظ بن حجر في الإصابة فرق بينهما وجعل لكل واحد ترجمة فقال في ترجمته هذا بصرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13503 عن الزھری عن عبیداللہ کی سند سے مروی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت زید بن خالد بن شبل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں حاضر خدمت تھے۔ ایک اعرابی اٹھا اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخاطب ہو کر) بولا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائیے۔ اس کا فریق مخالف جو اس سے سمجھ دار تھا بولا : جی ہاں ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائیے اور مجھے بولنے کی اجازت دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
بولو ! چنانچہ وہ بولا : کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدوری کررہا تھا اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرلیا ہے۔ لوگوں نے مجھے کہا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ہوگی۔ لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک غلام بطور مزدوری اس کو دے دیا ہے۔ پھر میں نے کچھ اہل علم سے سوال کیا تو انھوں نے مجھے کچھ مختلف بات بیان کی کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی کو رجم کی سزا ہوگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرتا ہوں۔ سو بکریاں اور خادم تجھ کو واپس ملے گا۔ اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی۔ جبکہ اس شخص کی بیوی کو رجم کرنا ہوگا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خادم کو حکم فرمایا : اے انس ! صبح کو اس شخص کی بیوی کے پاس جا۔ اگر وہ اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے تو اس کو رجم کرادینا۔ چنانچہ صبح کو اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ الجامع لعبد الرزاق المصنف لا بن ابی شیبہ
بولو ! چنانچہ وہ بولا : کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدوری کررہا تھا اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرلیا ہے۔ لوگوں نے مجھے کہا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ہوگی۔ لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک غلام بطور مزدوری اس کو دے دیا ہے۔ پھر میں نے کچھ اہل علم سے سوال کیا تو انھوں نے مجھے کچھ مختلف بات بیان کی کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی کو رجم کی سزا ہوگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرتا ہوں۔ سو بکریاں اور خادم تجھ کو واپس ملے گا۔ اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی۔ جبکہ اس شخص کی بیوی کو رجم کرنا ہوگا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خادم کو حکم فرمایا : اے انس ! صبح کو اس شخص کی بیوی کے پاس جا۔ اگر وہ اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے تو اس کو رجم کرادینا۔ چنانچہ صبح کو اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ الجامع لعبد الرزاق المصنف لا بن ابی شیبہ
13503- عن الزهري عن عبيد الله عن أبي هريرة وزيد بن خالد ابن شبل أنهم كانوا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام رجل من الأعراب فقال: أنشدك الله إلا قضيت بيننا بكتاب الله، فقال الخصم الآخر وهو أفقه منه: نعم، فاقض بيننا بكتاب الله وائذن لي حتى أقول، قال: قل، قال: إن ابني كان عسيفا1 على هذا، وأنه زنى بامرأته، فأخبروني أن على ابني الرجم، فافتديت منه بمائة شاة وخادم أجيرا فسألت رجالا من أهل العلم، فأخبروني أن على ابني جلد مائة وتغريب عام، وأن على امرأة هذا الرجم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، وعلى امرأة هذا الرجم، واغد يا أنيس على امرأة هذا، فإن اعترفت فارجمها فغدا عليها فاعترفت فأمر بها فرجمت ". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13504 سہل بن سعد سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ایک لڑکی زنا سے حاملہ ہوگئی۔ اس سے پوچھا گیا کہ تجھے کس نے اس حال کو پہنچایا اس نے ایک اپاہج کا نام لیا۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ کوڑے کھانے (کی اہلیت نہیں رکھتا اس) سے کمزور ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ایک سو تنکوں والا خوشہ ایک مرتبہ مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ خوشہ اس کو ایک مرتبہ مارا گیا۔ ابن النجار
13504- عن سهل بن سعد أن وليدة في عهد النبي صلى الله عليه وسلم حملت من الزنا فسئلت من أحبلك؟ فقالت: أحبلني المقعد، فسئل عن ذلك فاعترف فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إنه لضعيف عن الجلد فأمر بمائة عثكول فضربه بها ضربة واحدة". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13505 عبادۃ بن الصامت (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کا چہرہ انور متغیراللون ہوجاتا۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ پر وحی نازل ہوئی تو یہی کیفیت طاری ہوگئی، جب وہ کیفیت چھٹ گئی تو ارشاد فرمایا : تو سنو مجھ سے : اللہ پاک نے ان کے لیے راستہ کھولا ہے : شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو اس کو ایک سو کوڑے سزا پر رجم کی سزا ہے۔ اور اگر کنوارہ کنواری کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے سے سزا اور ایک سال کی جلاء وطنی ہے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13505- عن عبادة بن الصامت قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل عليه تربد لذلك وجهه فأنزل عليه ذات يوم فلقي ذلك، فلما سرى عنه قال: خذوا عني، قد جعل الله لهن سبيلا؛ الثيب بالثيب جلد مائة، ثم رجم بالحجارة والبكر بالبكر جلد مائة ثم نفي سنة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13506 ابوامامۃ بن سہل سے مروی ہے کہ مساکین مسلمین میں سے ایک لاغر بیمار شخص تھا۔ بارش ایک سخت رات میں اس کو ایک مسلمان خاتون نے (کسی کام سے) اپنے ہاں بلایا۔ آدمی اس کے پاس پہنچا تو عورت پر جھٹ پڑا اور اس کے ساتھ دست درازی کرکے اپنے ارادے میں کامیاب ہوگیا۔ وہ عورت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری خبر سنائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کے پاس پیغام بھیجا اس نے (آکر) اعتراف جرم کرلیا (لیکن اس کی جسمانی حالت سوکوڑے برداشت کرنے کی نہ تھی) لہٰذا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر کھجور کا ایک خوشہ لیا گیا اور اس میں سو تنکے شمار کیے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ خوشہ مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس لاغر آدمی کو ایک ہی مرتبہ وہ خوشہ مارنے پر اکتفاء کیا گیا۔ ابن جریر
13506- عن أبي أمامة بن سهل أن رجلا من مساكين المسلمين كان ضريرا فأصاب الناس ليلة ماطرة أو ليلة باردة فدعته امرأة من المسلمين إلى بيتها فوثب عليها فغلبها على نفسها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته بما صنع، فأرسل إليه فاعترف فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقنو فعد منه مائة شمراخ ثم أمر به فضرب ضربة واحدة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13507 حسن سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اور بولی : اس نے زنا کیا ہے۔ آدمی نے کہا : یارسول اللہ ! یہ غیرت میں آکر ایسا کہہ رہی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہارے سامنے حلفیہ (قسم اٹھا کر ) کہتا ہوں کہ فاجر فاجر ہوتا ہے۔ اور (محض) غیرت میں آکر ایسی بات کرنے والی کو معلوم نہیں ہوسکتا ک وادی کا بالائی حصہ کون سا ہے اور پست آخری حصہ کونسا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
فائدہ : یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں کہ فاجر فاجر ہی ہوتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ عورت کو صحیح معلوم نہیں ہو پایا ہو کہ آیا محض بالائی حصہ اس کو مس ہوا ہے یا مکمل۔ اس لیے مرد کی بات زیادہ تسلیم کی جائے گی۔
فائدہ : یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں کہ فاجر فاجر ہی ہوتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ عورت کو صحیح معلوم نہیں ہو پایا ہو کہ آیا محض بالائی حصہ اس کو مس ہوا ہے یا مکمل۔ اس لیے مرد کی بات زیادہ تسلیم کی جائے گی۔
13507- عن الحسن قال: جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إنها زنت، فقال رجل: إنها غيران يا رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن شئتم لأحلفن لكم أن الفاجر فاجر، وأن الغيران لا يدري أين أعلى الوادي من أسفله ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13508 حسن سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کو باندی کے ساتھ ہم بستر پایا۔ اس کو بڑی غیرت اٹھی۔ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اس کے تعاقب میں اس کا آدمی بھی پہنچ گیا۔ عورت بولی اس نے زنا کیا ہے۔ آدمی بولا : یارسول اللہ ! یہ جھوٹ بولتی ہے۔ بلکہ اصل ماجرا یوں ہے۔ تب عورت نے آدمی کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو جھڑکا۔ عورت نے ڈاڑھی چھوڑ دی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو ارشاد فرمایا : تجھے کیا علم کے وادی کا بالائی حصہ کون سا ہے اور آخری حصہ کونسا ؟ الجامع لعبد الرزاق
13508- عن الحسن ان امرأة وجدت زوجها على جارية، فغارت فانطلقت إلى النبي صلى الله عليه وسلم واتبعها حتى أدركها، فقالت: إنها زنت فقال: كذبت يا رسول الله ولكنها كان كذا وكذا فأخذت بلحيته فانتهرها النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسلته، فقال: "ما تدري الآن أين أعلى الوادي من أسفله". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13509 حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی ہوئی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : لو سنو مجھ سے ! اللہ نے ان کے لیے راستہ نکالا ہے ، شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ سو کوڑے اور رجم اور کنوارہ کنواری کے ساتھ سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی۔ الجامع لعبد الرزاق
13509- عن الحسن قال: أوحي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال: خذوا مني خذوا مني جعل الله لهن سبيلا، الثيب بالثيب جلد مائة والرجم، والبكر بالبكر جلد مائة ونفي سنة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13510 ابن جریج عمرو بن شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر وہ کنوارے مرد عورت آپس میں زنا کریں اور ان پر چار مرد گواہی دیدیں تو حکم خداوندی :
مائۃ جلدۃ ولا تاخذ کم بھما رافۃ فی دین اللہ
یعنی سوکوڑے اور ان کے ساتھ نرمی تم کو اللہ کے دین میں نہ پکڑے۔
اور بموجب میری سنت کے ان کو ایک سال کے لیے ان کے اس وطن سے نکال دیا جائے جہاں وہ رہتے ہوں۔ اور ارشاد فرمایا ان کو جلاء وطن کرنا میری سنت ہے۔
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں : پہلی حد جو اسلام میں ایک آدمی پر جاری کی گئی اسی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کرکے اس پر شہادت لی گئی۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کا ہاٹھ کاٹ دیا گیا۔ جب اس پر حد جاری ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھا گیا گویا آپ کے چہرے پر مٹی ڈال دی گئی ہو۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! شاید اس آدمی کا ہاتھ کٹنا آپ کو دشوار گزرا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کیوں نہ دشوار گزرتا جبکہ تم اپنے بھائی کے مقابلے پر شیطان کے مددگار بن کر آئے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا تب آپ اس کو چھوڑ دیتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام (حاکم) کے پاس جب حد آئے گی تو اس کو حد معطل کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
مائۃ جلدۃ ولا تاخذ کم بھما رافۃ فی دین اللہ
یعنی سوکوڑے اور ان کے ساتھ نرمی تم کو اللہ کے دین میں نہ پکڑے۔
اور بموجب میری سنت کے ان کو ایک سال کے لیے ان کے اس وطن سے نکال دیا جائے جہاں وہ رہتے ہوں۔ اور ارشاد فرمایا ان کو جلاء وطن کرنا میری سنت ہے۔
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں : پہلی حد جو اسلام میں ایک آدمی پر جاری کی گئی اسی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کرکے اس پر شہادت لی گئی۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کا ہاٹھ کاٹ دیا گیا۔ جب اس پر حد جاری ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھا گیا گویا آپ کے چہرے پر مٹی ڈال دی گئی ہو۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! شاید اس آدمی کا ہاتھ کٹنا آپ کو دشوار گزرا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کیوں نہ دشوار گزرتا جبکہ تم اپنے بھائی کے مقابلے پر شیطان کے مددگار بن کر آئے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا تب آپ اس کو چھوڑ دیتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام (حاکم) کے پاس جب حد آئے گی تو اس کو حد معطل کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
13510- عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد قضى الله ورسوله أن شهد أربعة على بكرين جلدا كما قال الله تعالى: {مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ} "، وغربا سنة غير الأرض التي كانا بها، وتغريبهما سنتي وقال: إن أول حد أقيم في الإسلام لرجل أتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فشهد عليه فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم أن يقطع، فلما حد الرجل نظر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما سف1 فيه الرماد، فقالوا: يا رسول الله كأنه اشتد عليك قطع هذا؟ قال: وما يمنعني وأنتم أعوان الشيطان على أخيكم قالوا: فأرسله قال: فهلا قبل أن تأتيني به، إن الإمام إذا أتي له بحد لا ينبغي له ان يعطله. "عب".
তাহকীক: