কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13471 قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں ایک عورت آئی اور عرض کیا : اس کے شوہر نے اس کی باندی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے آدمی نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : اس بیوی نے مجھے وہ باندی ہدیہ کردی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس پر گواہ پیش کر ورنہ میں تیرا سر پتھر سے کچل دوں گا۔ عورت نے جب یہ صورت حال دیکھی تو بولی یہ سچ کہتا ہے میں نے واقعی باندی اس کو ہدیہ کردی تھی ، لیکن پھر مجھے غیرت نے اس پر مجبور کردیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے پھر عورت کو تہمت کی حد جاری کی (اور آدمی کو جانے دیا) الجامع لعبد الرزاق
13471- عن قتادة أن امرأة جاءت إلى عمر فقالت: إن زوجها زنى بوليدتها، فقال الرجل لعمر إن المرأة وهبتها لي، فقال: لتأتين بالبينة أو لأرضخن رأسك بالحجارة، فلما رأت المرأة ذلك قالت: صدق قد كنت وهبتها له، ولكني حملتني الغيرة، فجلدها عمر الحد، وخلى سبيله. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13472 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو زنا کے جرم میں حد لگائی اور فدک کی طرف جلا وطن کردیا۔
13472- عن نافع أن عمر حد مملوكة له في الزنا ونفاها إلى فدك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13473 حسن (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پایا دونوں نے کمرے میں بند ہو کر پردے گرارکھے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دونوں کو سو سو کوڑے لگائے ۔ الجامع لعبد الرزاق
13473- عن الحسن أن رجلا وجد مع امرأته رجلا قد أغلق عليهما وأرخى عليهما الأستار فجلدهما عمر بن الخطاب مائة مائة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13474 مکحول (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی عشاء کے بعد ایک کمرے میں کسی غیر عورت کے ساتھ لپٹا پایا گیا۔ حضرت عمر بن خطاب (رح) نے اس کو سو کوڑے مارے۔ الجامع لعبد الرزاق
13474- عن مكحول أن رجلا وجد في بيت بعد العتمة ملففا بحصير فضربه عمر بن الخطاب مائة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13475 قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے روبرو ایک آدمی پیش کیا گیا جو کسی عورت کے ساتھ ایک ہی لحاف میں پرا پایا گیا تھا، چنانچہ آپ (رض) نے دونوں میں سے ہر ایک کو چالیس چالیس کوڑے لگوائے اور دونوں کو لوگوں کے سامنے سزادی۔ چنانچہ عورت اور مرد دونوں کے خاندان والے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں شکایت لے کر گئے۔ حضرت عمر (رض) نے ابن مسعود (رض) سے پوچھا : یہ لوگ کیا کہتے ہیں، تم نے یہ کام کیا ہے، اس کے متعلق کیا خیال ہے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے عرض کیا : جی ہاں میں نے یہ کیا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو کیا اچھا کیا۔
راوی کہتے ہیں : ہم تو حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس شکایت لے کر حاضر ہوئے تھے۔ وہاں الٹا حضرت عمر (رض) حضرت ابن مسعود (رض) کی تحسین فرمانے لگے۔ الجامع لعبد الرزاق
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو کیا اچھا کیا۔
راوی کہتے ہیں : ہم تو حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس شکایت لے کر حاضر ہوئے تھے۔ وہاں الٹا حضرت عمر (رض) حضرت ابن مسعود (رض) کی تحسین فرمانے لگے۔ الجامع لعبد الرزاق
13475- عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه قال: أتي ابن مسعود برجل وجد مع امرأة في لحاف فضرب كل أحد منهما أربعين سوطا وأقامهما للناس فذهب أهل المرأة وأهل الرجل فشكوا ذلك إلى عمر بن الخطاب، فقال عمر لابن مسعود: ما يقول هؤلاء قد فعلت ذلك، قال: أرأيت ذلك؟ قال: نعم، قال: نعم ما رأيت، فقال: أتيناه نستأذنه فإذا هو يسأل. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13476 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے : ملک شام میں زنا سے متعلق بات چھڑی، ایک آدمی نے کہا : میں نے زنا کیا ہے۔ پوچھا گیا : کیا کہا ؟ آدمی نے کہا : کیا اللہ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ مجھے تو علم نہ تھا کہ اللہ نے اس کو حرام کررکھا ہے۔ یہ بات لکھ کر حضرت عمر (رض) کو بھیجی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے جواباً لکھا : اگر اس کو علم تھا کہ اللہ نے اس فعل کو حرام کررکھا ہے تب اس پر حد جاری کردو اور اگر اس کا علم نہ تھا تو اس کا بتادو۔ اور پھر دوبارہ کرے تو حد جاری کردو۔ الجامع لعبد الرزاق
13476- عن ابن المسيب قال: ذكر الزنا بالشام فقال رجل: زنيت، قيل: ما تقول؟ قال: أو حرمه الله ما علمت أن الله حرمه، فكتب إلى عمر بن الخطاب، فكتب إن كان علم أن الله حرمه فحدوه، وإن لم يعلم فأعلموه فإن عاد فحدوه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13477 یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن حاطب کی وفات ہوگئی۔ انھوں نے اپنے غلام باندیوں میں سے جو نماز روزہ کرتے تھے ان کو آزاد کردیا تھا۔ ایک باندی نماز روزے کی پابند تھی جو عجم سے تعلق رکھتی تھی اور زیادہ سمجھ بوجھ نہ رکھتی تھی، عبدالرحمن کی زندگی کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ان کو اچانک اس بات کا علم ہوا کہ وہ باندی حاملہ ہوگئی ہے۔ وہ پہلے شادی شدہ رہ چکی تھی۔ عبدالرحمن اس خبر سے گھبراگئے عبدالرحمن حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر سنائی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : تم ایسے آدمی ہو جو خیر کی خبر نہیں لاتے۔ اس بات سے عبدالرحمن مزید گھبراگئے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اس باندی کے پاس پیغام بھیجا وہ آئی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا تو حاملہ ہے ؟ اس نے چہک چہک کر خوشی سے کہا : ہاں موعوش سے ہوئی ہوں دو درہموں کے بدلے۔ باندی نے اس واقعے کو قطعاً نہ چھپایا گویا یہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) کے پاس حضرت علی (رض) ، حضرت عثمان (رض) اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بھی موجود تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم لوگ مجھے اس کے متعلق کوئی مشورہ دو ۔ حضرت علی اور حضرت عبدالرحمن (رض) نے تو فرمایا اس پر حد واقع ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے پوچھا : اے عثمان ! تم بھی کچھ کہو۔ حضرت عثمان (رض) نے عرض کیا آپ کے بھائیوں نے آپ کو مشورہ دیدیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں آپ بھی کچھ بولیں۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے یہ جو خوشی کے ساتھ تیز آواز میں اس خبر کو سنارہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اس عمل کی برائی کا علم نہیں تھا اور یہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھی۔ جبکہ حد اس شخص پر ہے جو جانتا ہو (پھر بھی گناہ کرے) تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حد اسی پر ہے جو اس کو جانتا ہو۔ الشافعی، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13477- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قال: توفي عبد الرحمن بن حاطب وأعتق من صلى من رقيقه وصام، وكانت له نوبية قد صلت وصامت وهي أعجمية لم تفقه ولم يرعه إلا حبلها وكانت ثيبا فذهب إلى عمر فزعا فحدثه، فقال له عمر: لأنت الرجل لا يأتي بخير فأفزعه ذلك، فأرسل إليها عمر، فسألها، فقال: حبلت؟ فقالت: نعم من مرعوش بدرهمين، وإذا هي تستهل بذلك ولا تكتمه، فصادف عنده عليا وعثمان وعبد الرحمن بن عوف، فقال: أشيروا علي فقال علي وعبد الرحمن: قد وقع عليها الحد، فقال: أشر علي يا عثمان فقال: قد أشار عليك أخواك، فقال: أشر على أنت، فقال عثمان: أراها تستهل به كأنها لا تعلمه ولا ترى به بأسا، وليس الحد إلا على من علمه، قال: صدقت والذي نفسي بيده ما الحد إلا على من علمه. "الشافعي عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13478 عروہ (رح) اور عطاءؒ سے مروری ہے کہ اہل یمن کا ایک قافلہ حرۃ مقام پر آکر ٹھہرا۔ ان کے ساتھ ایک عورت تھی جو کبھی شادی شدہ رہ چکی تھی۔ اہل قافلہ نے اس کو اس مقام پر (گھومنے پھرنے کے لئے) چھوڑ دیا۔ عورت نے جسم فروشی کی۔ یہ خبر حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ عورت بولی : میں مسکین عورت ہوں۔ کوئی میرا خیال ہی نہیں کرتا۔ میرے پاس بھی اپنا جسم بیچنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اہل قافلہ سے اس بات کی تصدیق چاہی۔ اہل قافلہ نے عورت کی بات کی تصدیق کی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اس پر حد جاری کرائی اور پھر اس کو (سامان) لباس اور سواری مرحمت فرمائی اور اہل قافلہ کو فرمایا : اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ لیکن اس واقعے کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ الجامع لعبد الرزاق
13478- عن عروة وعطاء أن رفقة من أهل اليمن نزلوا الحرة2 ومعهم امرأة وهي ثيب، فتركوها ببعض الحرة حتى بذلت نفسها، فبلغ عمر خبرها فأرسل إليها فسألها فقالت: كنت امرأة مسكينة لا يعطف على أحد بشيء فما وجدت إلا نفسي، فسأل رفقتها فصدقوها فحدها، ثم كساها وحملها وقال: إذهبوا بها ولا تذكروا ما فعلت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13479 ابوالطفیل سے مروی ہے کہ ایک عورت کو شدید فاقہ پیش آگیا وہ ایک چرواہے کے پاس آئی اور اس سے کچھ کھانا مانگا۔ لیکن اس نے دینے سے انکار کردیا الیہ یہ کہ وہ اس کو اپنا آپ حوالہ کرے۔ عورت بولی ! چنانچہ چرواہے نے اس کو تین مٹھیاں کھجور کی دیں۔ پھر اس کے ساتھ مبتلا ہوگیا۔ عورت نے بتایا کہ وہ بھوک کی وجہ سے انتہائی نڈھال ہوچکی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے یہ سن کر اللہ اکبر کا نعرہ مارا اور فرمایا یہ تو مہر ہے مہر ہے مہر ہے۔ ہر مٹھی ایک مہر تھا۔ پھر آپ نے اس عورت سے حد ساقط کردی۔ الجامع لعبد الرزاق
13479- عن أبي الطفيل أن امرأة أصابها جوع فأتت راعيا فسألته الطعام فأبى عليها حتى تعطيه نفسها قالت: فحثا لي ثلاث حثيات من تمر ثم أصابني وذكرت أنها كانت أجهدت من الجوع فأخبرت عمر فكبر وقال: مهر مهر مهر كل حفنة مهر ودرأ عنها الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13480 کلیب الجرمی سے مروی ہے کہ ابوموسیٰ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو ایک عورت کے سارے میں لکھا کہ وہ سو رہی تھی کہ ایک آدمی اس پر چھا گیا ۔ عورت کہتی ہے کہ میں سو رہی تھی ایک آدمی میرے پاس آگیا۔ اللہ کی قسم ! مجھے اس کا علم تب ہوا جس اس نے میرے اندر آگ کے شعلے کی مثل کوئی چیز انڈیل دی۔ حضرت عمر (رض) نے جواباً لکھوایا کہ تہامیہ عورت واقی سو گئی ہوگی۔ ایسا ہوجاتا ہے لہٰذا اس سے حد ساقط کردی جائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13480- عن كليب الجرمي أن أبا موسى كتب إلى عمر في امرأة أتاها رجل وهي نائمة فقالت: إن رجلا أتاني وأنا نائمة فوالله ما علمت حتى قذف في مثل شهاب النار، فكتب عمر تهامية تنومت، قد يكون مثل هذا، وأمر أن يدرأ عنها الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13481 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ملک شام میں ایک عورت کو رجم کیا اور اس کو کوڑے نہیں لگوائے ۔ ابن جریر
13481- عن نافع أن عمر رجم امرأة ولم يجلدها بالشام. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13482 کثیر بن الصلت سے مروی ہے کہ ابن العاص اور زید بن ثابت قرآن شریف کے نسخے لکھا کرتے تھے۔ دونوں اس آیت پر پہنچے تو زید بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ آیت تلاوت کرتے سنا ہے :
الشیخ والشیخۃ، اذاز نیافار جموھما البۃ
بوڑھا اور بوڑھی جب زنا کریں تو دونوں کو رجم کردو۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوا تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا تھا : یہ آیت مجھے لکھوادیں۔ لیکن آپ نے اس کو لکھوانا گویا پسند نہ کیا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : کیا آپ نہیں سمجھتے کہ بوڑھا جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ (آزاد) ہو تو اس کو کوڑے بھی لگیں گے اور رجم بھی ہوگا اور اگر شادی شدہ (یا آزاد) نہ ہو تو صرف کوڑے لگیں گے اور اگر جوان آدمی جو شادی شدہ اور آزاد ہو وہ زنا کرے تو اس کو رجم (سنگسار) کیا جائے گا۔ ابن جریر
سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت صحیح ہے۔ یہ حدیث حضرت عمر کے توسط سے مرفوعاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہونا صرف اسی ایک طریق سے منقول ہے اور یہ طریق ہمارے نزدیک صحیح ہے اس میں کوئی علت نہیں جو اس کو کمزور کرے، نہ کوئی ایسا سبب ہے جو اس کو ضعیف کرے کیونکہ اس کے ناقلین ثقہ ہیں۔ اگرچہ یہ علت کہی جاتی ہے کہ قتادہ مدلس ہے اور انھوں نے سماء اور تحدیث کی تصریح نہیں فرمائی۔
الشیخ والشیخۃ، اذاز نیافار جموھما البۃ
بوڑھا اور بوڑھی جب زنا کریں تو دونوں کو رجم کردو۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوا تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا تھا : یہ آیت مجھے لکھوادیں۔ لیکن آپ نے اس کو لکھوانا گویا پسند نہ کیا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : کیا آپ نہیں سمجھتے کہ بوڑھا جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ (آزاد) ہو تو اس کو کوڑے بھی لگیں گے اور رجم بھی ہوگا اور اگر شادی شدہ (یا آزاد) نہ ہو تو صرف کوڑے لگیں گے اور اگر جوان آدمی جو شادی شدہ اور آزاد ہو وہ زنا کرے تو اس کو رجم (سنگسار) کیا جائے گا۔ ابن جریر
سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت صحیح ہے۔ یہ حدیث حضرت عمر کے توسط سے مرفوعاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہونا صرف اسی ایک طریق سے منقول ہے اور یہ طریق ہمارے نزدیک صحیح ہے اس میں کوئی علت نہیں جو اس کو کمزور کرے، نہ کوئی ایسا سبب ہے جو اس کو ضعیف کرے کیونکہ اس کے ناقلین ثقہ ہیں۔ اگرچہ یہ علت کہی جاتی ہے کہ قتادہ مدلس ہے اور انھوں نے سماء اور تحدیث کی تصریح نہیں فرمائی۔
13482- عن كثير بن الصلت قال: كان ابن العاص وزيد بن ثابت يكتبان في المصاحف، فمرا على هذه الآية فقال زيد: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الشيخ والشيخة فارجموهما البتة فقال عمر: لما أنزلت أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: اكتبنيها فكأنه كره ذلك قال: فقال عمر: ألا ترى أن الشيخ إذا زنى وقد أحصن جلد ورجم وإذا لم يحصن جلد، وإن الشاب إذا زنى وقد أحصن رجم. "ابن جرير" وصححه وقال: هذا حديث لا يعرف له مخرج عن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا اللفظ إلا من هذا الوجه وهو عندنا صحيح سنده لا علة فيه توهنه ولا سبب يضعفه لعدالة نقلته قال: وقد يعلل بأن قتادة مدلس ولم يصرح بالسماع والتحديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13483 نزال بن سبرہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں مکہ میں تھا کہ ہم لوگوں نے ایک عورت کو دیکھا جس کو لوگوں نے گھیر رکھا تھا قریب تھا کہ لوگ اس کو اشتعال میں قتل کردیتے۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اس نے زنا کیا ہے۔ اس نے زنا کیا ہے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں اس عورت کو پیش کیا گیا۔ وہ حاملہ بھی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی قوم کے لوگ بھی آئے تھے جو اس کے متعلق اچھائی بیان کررہے تھے، حضرت عمر (رض) نے اس عورت سے پوچھا : تو مجھے اپنا معاملہ بیان کر۔ عورت بولی : اے امیر المومنین ! جس رات میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا میں نے عشاء کی نماز پڑھی اور سو گئی۔ میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنی ٹانگوں کے درمیان ایک آدمی کو موجود پایا۔ وہ میرے وجود میں انگارے کی مثل کوئی چیز ڈال چکا تھا۔ پھر وہ اٹھ کر چلا گیا۔
تب حضرت عمر (رض) نے اس قضیہ کا فیصلہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اگر ان دو پہاڑوں کے درمیاناس عورت کو قتل کیا گیا تو اللہ سب کو عذاب دے (کر ہلاک کردے) گا۔ پھر آپ (رض) نے اس عورت کا راستہ خالی کردیا۔ اس وقت حضرت عمر (رض) نے تمام شہروں کے حاکموں کو یہ فرمان لکھوا بھیجا کسی کو قتل میری اجازت کے بغیر نہ کرو۔
مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر، السنن للبیہقی
تب حضرت عمر (رض) نے اس قضیہ کا فیصلہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اگر ان دو پہاڑوں کے درمیاناس عورت کو قتل کیا گیا تو اللہ سب کو عذاب دے (کر ہلاک کردے) گا۔ پھر آپ (رض) نے اس عورت کا راستہ خالی کردیا۔ اس وقت حضرت عمر (رض) نے تمام شہروں کے حاکموں کو یہ فرمان لکھوا بھیجا کسی کو قتل میری اجازت کے بغیر نہ کرو۔
مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر، السنن للبیہقی
13483- عن النزال بن سبرة قال: إنا لبمكة إذا نحن بامرأة اجتمع عليها الناس حتى كادوا أن يقتلوها، وهم يقولون زنت زنت، فأتي بها عمر بن الخطاب وهي حبلى، وجاء معها قومها فأثنوا عليها خيرا. فقال عمر: أخبريني عن أمرك، قالت: يا أمير المؤمنين، كنت امرأة أصيب من هذا الليل، فصليت ذات ليلة، ثم نمت، فقمت ورجل بين رجلي فقذف في مثل الشهاب، ثم ذهب، فقال عمر: لو قتل هذه من بين الجبلين أو الأخشبين لعذبهم الله، فخلى سبيلها، وكتب إلى الآفاق أن لا تقتلوا أحدا إلا بإذني. "ش وابن جرير هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13484 ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں ایک عورت پیش کی گئی۔ جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ اس نے زنا کیا ہے۔ عورت نے حضرت عمر (رض) کے روبرو عرض کیا : میں سوئی ہوئی تھی کہ ایک آدمی کی وجہ سے مری آنکھ کھلی جب وہ میرے وجود میں انگارے کے مثل کوئی چیز ماررہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یمانیہ نیند سے مجبور لڑکی ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے اس کو کچھ مال ومتاع دے کر چھوڑ دیا۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13484- عن أبي موسى الأشعري قال: أتي عمر بن الخطاب بامرأة من أهل اليمن، قالوا: بغت، قالت: إني كنت نائمة فلم أستيقظ إلا برجل يرمي في مثل الشهاب، فقال عمر: يمانية نؤوم شابة فخلى عنها ومتعها. "ص ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13485 (مسند عثمان (رض)) ابوالضحیٰ (رح) سے مروی ہے وہ ابن عباس (رض) کے رفیق اور ساتھی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ (حضرت عثمان (رض) کی) بارگاہ خلافت میں تھا۔ حضرت عثمان (رض) کے پاس ایک عورت کو پیش کیا گیا جس نے چھ ماہ میں بچہ جن دیا تھا۔ حضرت عثمان (رض) نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عرض کیا میں کتاب اللہ کے ساتھ اس کے خلاف دلیل پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وحملہ وفصالہ ثلثون شھراً
اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس ماہ ہے۔
چنانچہ حمل چھ ماہ ہے اور دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔
چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے عورت سے حدکو ساقط کردیا۔
الجامع لعبدالرزاق، وکیع، ابن جریر، ابن ابی حاتم
وحملہ وفصالہ ثلثون شھراً
اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس ماہ ہے۔
چنانچہ حمل چھ ماہ ہے اور دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔
چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے عورت سے حدکو ساقط کردیا۔
الجامع لعبدالرزاق، وکیع، ابن جریر، ابن ابی حاتم
13485- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن أبي الضحى عن قائد لابن عباس قال: كنت معه فأتي عثمان بامرأة وضعت لستة أشهر فأمر عثمان برجمها فقال له ابن عباس: إن خاصمتكم بكتاب الله خصمتكم قال الله تعالى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْراً} ، فالحمل ستة أشهر، والرضاع سنتان فدرأ عنها. "عب ووكيع وابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13486 (مسند علی (رض)) شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے شراحۃ کو جمعرات کے روز کوڑے لگائے اور جمعہ کے روز اس کو رجم کردیا۔ اور ارشاد فرمایا : میں نے کتاب اللہ کی دلیل کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی روشنی میں اس کو رجم (سنگسار) کیا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، البخاری، النسائی، الطحاوی ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، مستدرک الحاکم، الدورقی، حلیۃ الاولیا۔
الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، البخاری، النسائی، الطحاوی ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، مستدرک الحاکم، الدورقی، حلیۃ الاولیا۔
13486- "مسند علي رضي الله عنه" عن الشعبي أن عليا جلد شراحة يوم الخميس ورجمها يوم الجمعة وقال: أجلدها بكتاب الله وأرجمها بسنة نبي الله صلى الله عليه وسلم. "عب حم خ ن والطحاوي وابن مندة في غرائب شعبة ك والدورقي حل"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13487 حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا حالانکہ اس کا نکاح ہوچکا تھا لیکن اس نے اپنی بیوی کے ساتھ جماع نہ کیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : میں مخفی نہیں ہوں (شادی شدہ نہیں ہوں) ۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کو سوکوڑے لگائے گئے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13487- عن حنش قال: أتي علي برجل قد زنى بامرأة وقد تزوج بامرأة ولم يدخل بها، فقال: أزنيت؟ فقال: لم أحصن، فأمر به فجلد مائة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13488 علاء بن بدر سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے دور میں، ایک عورت نے زنا کیا پہلے اس کا نکاح ہوچکا تھا لیکن شوہر نے اس کے ساتھ ابھی خلوت نہیں کی تھی۔ عورت کو حضرت علی (رض) کے روبرو پیش کیا گیا۔ حضرت علی (رض) نے اس کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال تک کربلا میں جلاوطن کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13488- عن العلاء بن بدر قال: فجرت امرأة على عهد علي بن أبي طالب وقد تزوجت ولم يدخل بها فأتى بها علي فجلدها مائة، ونفاها سنة إلى هرى كربلا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13489 ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ام الولد (آقا کی وہ باندی جس نے آقا کا بچہ جنا ہو) اگر اس کو اس کا آقا آزاد کردے یا وہ مرجائے (تب بھی چونکہ وہ آزاد ہے) تو اگر پھر وہ باندی زنا کرے تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے لیکن جلاوطن نہ کیا جائے گا ابراہیم کہتے ہیں حضرت ابن مسعود (رض) کا ارشاد گرامی ہے : ایسی عورت کو کوڑے مارے جائیں گے، جلاوطن کیا جائے گا لیکن رجم سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ رجم کے لیے احصان شرط ہے یعنی آزاد ہونے کی حالت میں نکاح کے بعد وطی ہو تو پھر وہ محصنہ ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13489- عن إبراهيم أن عليا قال في أم الولد إذا أعتقها سيدها أو مات عنها ثم زنت فإنها تجلد ولا تنفى قال: وقال ابن مسعود: تجلد وتنفى ولا ترجم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13490 عن الامام ابی حنیفہ عن حماد عن ابراہیم کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا : کنوارا کنواری سے زنا کرے تو دونوں کو سو سو کوڑے مارے جائیں اور جلاوطن کیا جائے نیز ارشاد فرمایا : مجھے ان کا قید کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے بنسبت جلاوطن کرنے کے اس میں مزید فتنے کا خطرہ ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13490- عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال: قال عبد الله في البكر يزني بالبكر يجلدان مائة وينفيان، قال: وقال: علي حبسهما من الفتنة أن ينفيا. "عب".
তাহকীক: