কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13451 عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا ۔ جس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور پھر اس کے ساتھ نکاح کا ارادہ رکھتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر وہ شادی کرلیں تو اس سے اچھی اور کون سی توبہ ہوسکتی ہے جو وہ حرام کاری سے نکل کر نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں۔ المصنف لعبد الرزاق
13451- عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: سئل أبو بكر الصديق عن رجل زنى بامرأة، ثم يريد أن يتزوجها؟ قال: ما من توبة أفضل من أن يتزوجها خرجا من سفاح إلى نكاح. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13452 نافع (رح) سے مروی ہے ایک آدمی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں آیا اور ذکر کیا کہ ان کے ایک مہمان نے ان کی بہن سے دست درازی کرکے بدکاری کی ہے۔ اور بہن کو بجبر مجبور کیا ہے۔ آپ (رض) نے اس مہمان سے اس کے متعلق سوال کیا تو اس نے اعتراف جرم کیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس پر حد جاری کی (یعنی سو کوڑے لگوائے) اور ایک سال تک مقام فدک میں جلاوطنی کاٹنے کا حکم دیا۔ لیکن عورت کو نہ مارا اور نہ جلاء وطن کیا کیونکہ اس کو مجبور کیا گیا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس عورت کی شادی اسی آدمی کے ساتھ کروادی اور اس کو اس عورت کے پاس چھوڑ دیا۔ المصنف لعبد الرزاق
13452- عن نافع قال: جاء رجل إلى أبي بكر فذكر له أن ضيفا له افتض أخته، استكرهها على نفسها فسأله فاعترف بذلك فضربه أبو بكر الحد ونفاه سنة إلى فدك ولم يضر بها ولم ينفها لأنه استكرهها، ثم زوجها إياه أبو بكر وادخله عليها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13453 نافع (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک گھر والوں کا مہمان بنا پھر ان میں سے ایک عورت کو جبراً زنا پر مجبور کیا۔ یہ بات حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں گئی۔ آپ (رض) نے اس کو حد لگوائی اور جلاوطن کیا لیکن عورت کو نہیں مارا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13453- عن نافع أن رجلا ضاف أهل بيت، فاستكره منهم امرأة فرفع ذلك إلى أبي بكر فضربه ونفاه ولم يضرب المرأة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13454 ابن عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : ابوبکر (رض) مسجد میں تشریف فرما تھے۔اس دوران ایک آدمی بڑی پریشانی کے عالم میں اندر آیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے پاس جاؤ دیکھو اس کو کیا پریشانی ہے۔ (چنانچہ حضرت عمر (رض)) اٹھ کر اس آدمی کے پاس گئے۔ آدمی نے اپنی بپتا سنائی کہ اس نے ایک آدمی کی مہمان نوازی کی۔ وہ مہمان اس کی بیٹی کے ساتھ بدکاری کر بیٹھا ہے۔ حضرت عمر (رض) آدمی کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ تیرا برا کرے۔ تو نے اپنی بیٹی پر پردہ کیوں نہ ڈالا ؟ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے دونوں کے لیے حکم دیا۔ چنانچہ دونوں پر حد جاری کی گئی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ شادی کردی۔ پھر ان کو ایک سال کی چلاوطنی کا حکم دیا۔ السنن للبیہقی
13454- عن ابن عمر قال: بينما أبو بكر في المسجد جاء رجل وهو دهش فقال أبو بكر: قم إليه فانظر في شأنه فإن له شأنا، فقام إليه عمر فقال: إنه ضافه ضيف فوقع بابنته، فصك عمر في صدره وقال: قبحك الله ألا سترت على ابنتك فأمر بهما أبو بكر فضربا الحد، ثم زوج أحدهما بالآخر وأمر بهما فغربا عاما. "ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13455 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ضرب (کوڑے) لگوائے اور جلاوطن کیا۔ السنن للبیہقی
13455- عن ابن عمر أن أبا بكر ضرب وغرب. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13456 صفیہ بنت ابی عبید سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جو ایک باکرہ لڑکی کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہوا تھا جس کے نتیجے میں اس کو حاملہ کردیا تھا۔ پھر اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا کہ اس سے واقعی زنا سرزد ہوا ہے لیکن وہ شادی شدہ نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے لیے حکم سنا دیا اور اس کو سو کوڑے لگے اور پھر اس کو فدک مقام پر جلاوطن کردیا۔
موطا امام مالک، المصنف لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، الدارقطنی فی السنن ، السنن للبیہقی
موطا امام مالک، المصنف لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، الدارقطنی فی السنن ، السنن للبیہقی
13456- عن صفية بنت أبي عبيد أن أبا بكر الصديق أتي برجل قد وقع على جارية بكر فأحبلها، ثم اعترف على نفسه أنه زنى، ولم يكن أحصن3 فأمر به أبو بكر فجلد الحد مائة ثم نفي إلى فدك. "مالك عب ش قط ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13457 (مسند عمر (رض)) عبداللہ بن شدا د وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے روبرو زنا کا اقرار کیا۔ حضرت عمر (رض) نے ابو واقد کو بھیجا انھوں نے عورت کو (جاکر کہا) اگر تو اپنے قول سے رجوع کرلے تو ہم تجھے چھوڑ دیں گے۔ لیکن عورت نے رجوع کرنے سے انکار کردیا چنانچہ انھوں نے اس کو سنگسار کردیا۔ الشافعی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسدد، السنن للبیہقی
13457- "مسند عمر" عن عبد الله بن شداد وغيره أن امرأة أقرت عند عمر بالزنا فبعث عمر أبا واقد، فقال: إن رجعت تركناك فأبت فرجمها. "الشافعي ش ومسدد ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13458 زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مال غنیمت کے خمس میں سے چند باکرہ باندیوں کو زنا کی وجہ سے کوڑے لگوائے تھے۔
المصنف لعبد الرزاق ابن جریر، مصنف عبدالرزاق عن الثوری عن الاعمش
المصنف لعبد الرزاق ابن جریر، مصنف عبدالرزاق عن الثوری عن الاعمش
13458- عن الزهري أن عمر بن الخطاب جلد ولائد من الخمس أبكارا في الزنا. "عب وابن جرير" "عب عن الثوري عن الأعمش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13459 عن الشوری ، عن الاعمش عن ابن المسیب کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی۔ اس کو جنگل میں ایک چرواہا ملا۔ یہ پیاسی تھی۔ اس نے چرواہے سے پانی مانگا لیکن چرواہے نے اس کے عوض اس کے ساتھ بدکاری کی شرط رکھ دی۔ اس نے چرواہے کہ خدا کا واسطہ دیا (مگر وہ نہ مانا) حتیٰ کہ شدت پیاس سے اس کا حال برا ہوگیا تو اس نے چرواہے کہ اپنے اوپر قدرت دیدی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس عورت سے حدساقط کردی۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
13459- عن الثوري عن الأعمش عن ابن المسيب أن عمر بن الخطاب أتي بامرأة لقيها راع بفلاة من الأرض، وهي عطشى فاستسقت فأبى ان يسقيها إلا أن تتركه فيقع بها فناشدته بالله فلما بلغت جهدها أمكنته فدرأ عنها عمر الحد بالضرورة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13460 عمرو بن شعیب (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک لڑکی کو جبراً بدکاری کا نشانہ بنایا اور اس کا پردہ بکارت زائل کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس آدمی پر حد جاری کی اور عورت کی دیت کا ثلث اس پر تاوان واجب کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13460- عن عمرو بن شعيب أن رجلا استكره امرأة فافتضها فضربه عمر بن الخطاب الحد وأغرمه ثلث ديتها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13461 طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خبر پہنچی کہ ایک عبادت گزار عورت تھی جو حاملہ ہوگئی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے وہ رات کو نماز پڑھنے کے لیے اٹھی ہوگی اور سجدے میں گئی ہوگی تو کسی گمراہ بدکار نے آکر اس کو دبوچ لیا ہوگا۔ چنانچہ پھر عورت نے آکر یونہی اپنی داستان سنائی۔ آپ (رض) نے (بغیر حد جاری کیے) اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ
الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ
13461- عن طارق بن شهاب قال: بلغ عمر أن امرأة متعبدة حملت قال عمر: أراها قامت من الليل تصلي، فخشعت فسجدت، فأتاها غاو من الغواة فتجشمها1 فأتته فحدثته بذلك سواء فخلى سبيلها. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13462 عن الثوری عن علی بن الاقمر عن ابراہیم کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کو ایک عورت کی اطلاع ملی کہ وہ حاملہ ہے۔ آپ (رض) نے حکم دیا کہ اس پر نظر رکھی جائے جب تک کہ وہ بچہ نہ جن لے۔ چنانچہ اس نے ایک کالا بچہ جنا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ شیطان کی کارستانی ہے۔
الکبیر الطبرانی
الکبیر الطبرانی
13462- عن الثوري عن علي بن الأقمر عن إبراهيم قال: بلغ عمر عن امرأة أنها حامل، فأمر بها أن تحرس، حتى تضع فوضعت ماء أسود، فقال عمر: لمة1 شيطان. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13463 عمرو بن شعیب (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے زبردستی کرکے اس کا پردہ بکارت زائل کردی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس پر حد جاری کی اور اس کو عورت کی دیت کا ایک تہائی دینا بطور تاوان لازم کیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13463- عن عمرو بن شعيب أن رجلا استكره امرأة فافتضها، فضربه عمر الحد وأغرمه ثلث ديتها. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13464 ابویزید سے مروی ہے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس عورت کی پہلے آدمی سے ایک بیٹی تھی۔ اسی طرح اس دوسرے شوہر کا بھی ایک لڑکا تھا۔ لڑکے نے لڑکی کے ساتھ زنا کرلیا۔ لڑکی کو حمل ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) مکہ تشریف لائے تو یہ مقدمہ ان کے روبرو پیش کیا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے دونوں سے سوال کیا۔ دونوں نے اعتراف جرم کرلیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لڑکے کو حد لگوائی اور لڑکی کی حد موخر کردی حتیٰ کہ اس نے بچے کو جنم دے لیا پھر لڑکی کو حد لگوائی۔ اور دونوں کو شادی کرنے کا حکم دیا مگر لڑکا اس بات پر راضی نہ ہوا۔ الشافعی، الجامع لعبدالرزاق، السنن للبیہقی
13464- عن أبي يزيد أن رجلا تزوج امرأة، ولها ابنة من غيره، وله ابن من غيرها ففجر2 الغلام بالجارية، فظهر بها حبل، فلما قدم عمر إلى مكة رفع ذلك إليه، فسألهما، فاعترفا، فجلده عمر الحد وأخر المرأة حتى وضعت ثم جلدها وفرض أن يجمع بينهما فأبى الغلام. "الشافعي عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13465 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ان کو ایک آدمی کے متعلق لکھا گیا کہ اس سے پوچھا گیا : تو کب کسی عورت کے قریب لگا تھا ؟ اس نے کہا گزشتہ رات پوچھا گیا : کس کے ساتھ ؟ ام مشوی کے ساتھ ۔ اس کو کہنے والے نے کہا تو تو ہلاک ہوگیا۔ آدمی بولا : مجھے علم نہیں تھا کہ اللہ نے زنا حرام کردیا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ اس آدمی سے قسم لی جائے کہ اس کو واقعی علم نہ تھا کہ اللہ نے زنا کو حرام کردیا ہے پھر اس کا راستہ چھوڑا جائے۔ ابوعبیدفی الغریب، السنن للبیہقی
13465- عن عمر بن الخطاب أنه كتب إليه في رجل قيل له: متى عهدك بالنساء؟ فقال: البارحة، قيل: بمن قال أم مثوى فقيل له: قد هلكت قال: ما علمت أن الله حرم الزنا، فكتب عمر أن يستحلف ما علم أن الله يحرم الزنا ثم يخلى سبيله. "أبو عبيد في الغريب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13466 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : افسوس ہے عورت پر جس نے اپنا حسب نسب خراب کرلیا۔ پھر آپ (رض) دو آدمیوں کو حکم دیا اس عورت کو لے جاؤ اور اس کی ضربیں (حد) لگاؤ۔ لیکن اس کی جلد نہ پھاڑ دینا۔
پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے (حد زنا میں) چار گواہوں کی شرط کو پردہ بنایا ہے۔ اسی کے ساتھ تمہارے برے کاموں میں تم پر پردہ ڈال دیا ہے (کیونکہ چار گواہوں کا اکٹھا ملنا محال ہے) لہٰذا کوئی بھی اس پردہ کو چاک نہ کرے (گواہی دے کر) سنو اللہ اگر چاہے گا چار گواہوں کے اس پردے کو ایک گواہ کردے گا (باقیوں کو گواہی سے روک دے گا) خواہ وہ ایک سچا ہو یا جھوٹا (لہٰذا زنا پر گواہ بننے میں جلدی نہ کرو) ۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے (حد زنا میں) چار گواہوں کی شرط کو پردہ بنایا ہے۔ اسی کے ساتھ تمہارے برے کاموں میں تم پر پردہ ڈال دیا ہے (کیونکہ چار گواہوں کا اکٹھا ملنا محال ہے) لہٰذا کوئی بھی اس پردہ کو چاک نہ کرے (گواہی دے کر) سنو اللہ اگر چاہے گا چار گواہوں کے اس پردے کو ایک گواہ کردے گا (باقیوں کو گواہی سے روک دے گا) خواہ وہ ایک سچا ہو یا جھوٹا (لہٰذا زنا پر گواہ بننے میں جلدی نہ کرو) ۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13466- عن عمر أتي بامرأة زنت، فقال ويح المرية1 أفسدت حسبها اذهبا فاضرباها ولا تخرقا جلدها، إنما جعل الله أربعة شهداء سترا ستركم الله به دون فواحشكم فلا يطلعن ستر الله أحد الا وإن الله لو شاء لجعله واحدا صادقا أو كاذبا.
"عب ق".
"عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13467 نافع (رح) سے مروی ہے کہ ایک غلام خمس کے غلام، باندیوں پر نگرانی کرتا تھا۔ اس نے ان غلاموں میں سے ایک باندی کو جبراً زیادتی کا نشانہ بنایا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس غلام کو حد جاری کی اور اس کو جلاوطن کیا لیکن لڑکی کو حد جاری نہیں کی کیونکہ اس کو مجبور کیا گیا تھا ۔
موطا مالک، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
موطا مالک، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13467- عن نافع أن عبدا كان يقوم على رقيق الخمس، وأنه استكره جارية من ذلك الرقيق، فوقع بها فجلده عمر الحد ونفاه ولم يجلد الوليدة لأنه استكرهها. "مالك عب ق" "رواه مالك في الموطأ كتاب الحدود باب جامع ما جاء في حد الزنا رقم "15 - 16" ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13468 عبداللہ بن عباس بن ابی ربیعہ المخزومی سے مروی ہے کہ مجھے اور چند قریشی جوانوں کو حضرت عمر بن خطاب نے حکم دیا اور ہم نے بیت المال کی باندیوں کو زنا کی حد میں پچاس پچاس کوڑے مارے۔ موطا امام مالک، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13468- عن عبد الله بن عباس بن أبي ربيعة المخزومي قال، أمرني عمر بن الخطاب في فتية من قريش فجلدنا ولائد من ولائد الإمارة خمسين خمسين في الزنا. "مالك عب ق"2
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13469 ابوداقدلیثی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ (رض) اس وقت ملک شام میں تھے ۔ اس آدمی نے کہا : اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے۔ آپ (رض) نے ابو واقدلیثی کو اس عورت کے پاس سوال کرنے بھیجا ابو واقد نے آکر عورت سے اس کے شوہر کی بات کی تصدیق کی اور یہ بھی اطلاع دے دی کہ محض اس کے کہنے سے تجھے پکڑا نہ جائے گا۔ پھر ابو واقد نے عورت کو مختلف واقعات کی مثالیں دے کر سمجھایا تاکہ وہ اس الزام سے انکار کردے۔ لیکن عورت نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور صریحاً اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) اس عورت کے متعلق حکم سنا دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔
موطا امام مالک، الجامع لعبدالرزاق ، السنن للبیہقی
موطا امام مالک، الجامع لعبدالرزاق ، السنن للبیہقی
13469- عن أبي واقد الليثي أن عمر بن الخطاب أتاه رجل وهو بالشام فذكر له أنه وجد مع امرأته رجلا، فبعث أبا واقد إلى امرأته يسألها عن ذلك، فاتاها فذكر لها الذي قال زوجها لعمر، وأخبرها أنها لا تؤخذ بقوله، وجعل يلقنها أمثال هذا لتنزع، فأبت أن تنزع وثبتت على الاعتراف، فأمر بها عمر بن الخطاب فرجمت. "مالك عب هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13470 عبدالرحمن بن البیلمانی سے مروی ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی باندی سے زنا کیا تھا۔ آپ (رض) نے اس کو سو کوڑے لگوائے اور سنگسار نہیں کیا۔ الجامع لعبد الرزاق ، السنن للبیہقی
13470- عن عبد الرحمن بن البيلماني قال: رفع إلى عمر رجل زنى بجارية امرأته، فجلده مائة ولم يرجمه. "عب هق".
তাহকীক: