কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13431 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : حدود جب امام (حاکم) کے پاس پہنچ جائیں تو ان کے اندر کسی طرح کی کوئی معافی نہیں ہے۔ کیونکہ حدود قائم کرنا نبی کا طریقہ ہے۔
الجامع لعبدالرزاق
الجامع لعبدالرزاق
13431- عن عمر قال: لا عفو عن الحدود عن شيء منها بعد أن تبلغ الإمام فإن إقامتها من السنة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13432 ضحاک سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت علی (رض) کی خدمت میں ایک حبشی غلام کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی اور وہ زنا کا بھی مرتکب ہوا تھا آپ (رض) نے اس کو چالیس یا پچاس ضربیں (کوڑے ) مارے۔ ابن جریر
13432- عن الضحاك قال: أتي علي بعبد حبشي شارب زان فجلده أربعين أو خمسين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13433 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جو مجرم حد کے جاری ہونے کے درمیان مرگیا تو اس کو حد نے قتل کیا ہے، لہٰذا اس کی دیت نہیں ہے۔ وہ اللہ عزوجل کی حدود میں سے ایک حد میں امر ہے۔ السنن للبیہقی
13433- عن علي قال: من مات في حد فإنما قتله الحد ولا عقل له مات في حد من حدود الله عز وجل. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13434 ابن عباس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جس نے حل قتل کیا یا چوری پھر وہ حرم میں داخل ہوگیا (جہاں اس پر حد جاری نہیں کی جاسکتی) تو وہاں اس کے ساتھ کوئی اٹھے بیٹھے اور نہ بات چیت کرے اور نہ ہی اس کو کوئی ٹھکانا دے اور اس کا اعلان کیا جاتا رہے حتیٰ کہ وہ وہاں سے نکل جائے۔ پھر اس پر حد قائم کی جائے۔ اور جس نے کوئی قتل کیا یا چوری کی پھر اس کو حل میں پکڑ لیا گیا اور حرم میں داخل کردیا گیا پھر وہاں حرم میں اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا گیا تو پہلے اس کو حرم سے حل لایا جائے۔ ہاں اگر اس نے حرم میں ہی قتل کیا ہو یا چوری کی ہو تو وہیں اس پر حد قائم کی جائے گی۔ المصنف لعبد الرزاق
13434- عن ابن عباس قال: من قتل أو سرق في الحل ثم دخل الحرم فإنه لا يجالس ولا يكلم ولا يووي ويناشد حتى يخرج فيقام عليه ومن قتل أو سرق فأخذ في الحل فأدخل الحرم فأرادوا أن يقيموا عليه ما أصاب أخرجوه من الحرم إلى الحل، وإن قتل في الحرم أو سرق أقيم في الحرم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13435: ابن مسعود (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اس امت میں ننگا کرنا، لمبا کرنا، لٹا کر کوڑے مارنا (طوق ڈالنا) اور بیڑیاں ڈالنا حلال نہیں ہے۔ (المصنف لعبد الرزاق)
13435- عن ابن مسعود قال لا يحل في هذه الأمة التجريد ولا مد ولا غل ولا صفد "لا مد ولا غل ولا صفد1 "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13436 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : ظلماً قتل کسی بھی گناہ پر نہیں گزرتا مگر اس کو مٹا دیتا ہے۔ التاریخ للحاکم
13436- عن عائشة قالت: قتل الصبر لا يمر بذنب إلا محاه. "ك في تاريخه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13437 ابوبکر بن محمد سے مروی ہے وہ عمرو بن حزم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مریض شخص کو لایا گیا جس پر حد واجب ہوچکی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر حد قائم کردو کیونکہ مجھے اس کے مرنے کا ڈر ہے۔ ابن جریر
13437- عن أبي بكر بن محمد عن عمرو بن حزم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي برجل مريض وجب عليه حد، فقال: أقيموا عليه الحد فإني أخشى أن يموت. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13438 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ صفوان بن امیہ فتح مکہ کے دن اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے اپنی سواری بٹھائی اور اپنی چادر کجاوے پر ڈال دی۔ پھر صفوان ایک طرف ہٹ کر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ پیچھے سے ایک آدمی نے ان کی چادر چوری کرلی۔ صفوان نے اس آدمی کو پکڑ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صفوان نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ایک چادر کے لیے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ؟ میں چادر اس کو ہدیہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس لانے سے قبل یہ خیال کیوں نہ آیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13438- عن مجاهد قال: كان صفوان بن أمية من الطلقاء فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأناخ راحلته ووضع رداءه عليها، ثم تنحى ليقضي الحاجة، فجاء رجل فسرق رداءه، فأخذه فأتى به النبي صلى الله عليه وسلم فأمر أن تقطع يده: قال: رسول الله تقطع في رداء أنا أهبه له، قال: فهلا قبل أن تأتيني به. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13439 ابو جعفر محمد بن علی (رح) سے مروی ہے کہ صفوان بن امیہ کی وجہ سے تین سنتوں (اسلامی احکام) کا علم ہوا۔
ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب آپ جنگ حنین کے لیے کوچ فرما رہے تھے صفوان بن امیہ سے عاریت پر فولادی زرہیں طلب کیں۔ صفوان نے کہا : اے محمد ! کیا یہ غصب ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ عاریت ہے۔ اور اس کی ضمانت دی جاتی ہے۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : چنانچہ عاریت کی ضمانت دی جانے لگی جب تک کہ وہ مالک کو ادا نہ کردی جائے۔
اسی طرح ایک مرتبہ صفوان فتح مکہ کے بعد مدینے آئے۔ یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے جن پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احسان کرکے ان کی جان بخشی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابوامیہ ! تجھے کیا چیز مدینے لائی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! لوگوں کا خیال ہے کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا (اسلام میں) کوئی حصہ نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے امیہ ! تم بخوشی ضرور واپس جاؤ اور مکہ کی وادی بطحاء میں کھل کر رہو۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : تب لوگوں کو علم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ صفوان نے مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں راست بسر کی۔ ان کی قمیص جوان کے سرہانے رکھی تھی، کسی نے چرالی۔ صفوان چور کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ وہ ان کو لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اس نے میری قمیص چوری کی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصحاب کو حکم دیا اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ تب صفوان نے عرض کیا : یارسول اللہ یہ اس کی ہوئی (آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس لانے سے قبل یہ کام کیوں نہ کرلیا۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : تب لوگوں کو علم ہوا کہ حد کا مسئلہ جب تک حاکم کے پاس نہ پہنچے اس کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ ابن عساکر
ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب آپ جنگ حنین کے لیے کوچ فرما رہے تھے صفوان بن امیہ سے عاریت پر فولادی زرہیں طلب کیں۔ صفوان نے کہا : اے محمد ! کیا یہ غصب ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ عاریت ہے۔ اور اس کی ضمانت دی جاتی ہے۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : چنانچہ عاریت کی ضمانت دی جانے لگی جب تک کہ وہ مالک کو ادا نہ کردی جائے۔
اسی طرح ایک مرتبہ صفوان فتح مکہ کے بعد مدینے آئے۔ یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے جن پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احسان کرکے ان کی جان بخشی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابوامیہ ! تجھے کیا چیز مدینے لائی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! لوگوں کا خیال ہے کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا (اسلام میں) کوئی حصہ نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے امیہ ! تم بخوشی ضرور واپس جاؤ اور مکہ کی وادی بطحاء میں کھل کر رہو۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : تب لوگوں کو علم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ صفوان نے مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں راست بسر کی۔ ان کی قمیص جوان کے سرہانے رکھی تھی، کسی نے چرالی۔ صفوان چور کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ وہ ان کو لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اس نے میری قمیص چوری کی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصحاب کو حکم دیا اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ تب صفوان نے عرض کیا : یارسول اللہ یہ اس کی ہوئی (آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس لانے سے قبل یہ کام کیوں نہ کرلیا۔
ابوجعفر (رح) فرماتے ہیں : تب لوگوں کو علم ہوا کہ حد کا مسئلہ جب تک حاکم کے پاس نہ پہنچے اس کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ ابن عساکر
13439- عن أبي جعفر محمد بن علي قال: كان في صفوان بن أمية ثلاث من السنة: استعار رسول الله صلى الله عليه وسلم حين سار إلى حنين منه أدرعا من حديد فقال صفوان: أغصب يا محمد؟ قال: بل عارية مضمونة قال: فضمنت العارية حتى تؤدي إلى أهلها، وقدم المدينة بعد فتح مكة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما جاء بك يا أبا أمية؟ فقال: يا نبي الله زعم الناس أن لا خلاق لمن لا يهاجر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أمية لترجعن حتى تنبطح ببطحاء مكة، فعرف الناس أن الهجرة قد انقطعت بعد فتح مكة، وبات في مسجد رسول الله فسرقت خميصته من تحت رأسه فظفر بصاحبه فأتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن هذا سرق خميصتي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذهبوا به فاقطعوه، قال: يا رسول الله هي له،
قال: ألا قبل أن تأتينا به فعرف أن لا بأس بالعفو عن الحد ما لم ينته إلى الإمام. "كر".
قال: ألا قبل أن تأتينا به فعرف أن لا بأس بالعفو عن الحد ما لم ينته إلى الإمام. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13440 طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ایک دفعہ مکہ کی بالائی وادی میں تھا اس کو کسی نے کہا : لا دین لمن لم یھاجر
جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں۔
تب صفوان نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر نہ لوٹوں گا جب تک مدینہ جاؤں ۔ چنانچہ وہ مدینہ تشریف لائے اور وہاں حضرت عباس (رض) کے ہاں اترے پھر (رات کو) مسجد میں سوئے سوتے وقت ان کی قمیص ان کے سر کے نیچے تھی۔ ایک چور آیا اور اس نے ان کے سر کے نیچے سے وہ قمیص چرالی۔ صفوان اس چور کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یہ چور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جو کاٹ دیا گیا۔ صفوان نے عرض کیا : یہ چادر اسی کو دیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس کو میرے پاس لانے سے قبل کیوں نہ دے دی۔ ابن ابی شیبہ
جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں۔
تب صفوان نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر نہ لوٹوں گا جب تک مدینہ جاؤں ۔ چنانچہ وہ مدینہ تشریف لائے اور وہاں حضرت عباس (رض) کے ہاں اترے پھر (رات کو) مسجد میں سوئے سوتے وقت ان کی قمیص ان کے سر کے نیچے تھی۔ ایک چور آیا اور اس نے ان کے سر کے نیچے سے وہ قمیص چرالی۔ صفوان اس چور کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یہ چور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جو کاٹ دیا گیا۔ صفوان نے عرض کیا : یہ چادر اسی کو دیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس کو میرے پاس لانے سے قبل کیوں نہ دے دی۔ ابن ابی شیبہ
13440- عن طاوس قال: قيل لصفوان بن أمية وهو بأعلى مكة: لا دين لمن لم يهاجر، فقال: والله لا أصل إلى أهلي حتى آتي المدينة، فأتى المدينة فنزل على العباس فاضطجع في المسجد وخميصته تحت رأسه فجاء سارق فسرقها من تحت رأسه فأتى به النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن هذا سارق فأمر به فقطع فقال: هي له، فقال: هلا قبل أن تأتيني به. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13441 طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ صفوان بن امیہ کو کسی نے کہا : جس نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہوگیا۔ تب صفوان نے قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک سر نہ دھوئیں گے جب تک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ چلے جائیں (یعنی ہجرت مدینہ نہ کرلیں) پھر صفوان چلے اور مسجد نبوی پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامنا کیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے کہا گیا کہ جس نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہوگیا۔ چنانچہ میں نے قسم اٹھالی کہ جب تک آپ کے پاس نہ پہنچ جاؤں سر نہ دھوؤں گا۔ تب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : صفوان نے اسلام کو سنا اور اس کے دین ہونے پر راضی ہوگئے۔ اب فتح مکہ کے بعد ہجرت منقطع ہوچکی ہے۔ لیکن جہاد اور نیت ہے۔ پس جب بھی تم کو اللہ کی راہ میں نکلنے کو کہا جائے نکل پڑو۔
طاؤس (رح) فرماتے ہیں : پھر صفوان ایک قمیص کے چور کو پکڑ کر لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کیا۔ صفوان بولے : میرا یہ ارادہ نہ تھا یارسول اللہ یہ چادر اس پر صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ کام پہلے کیوں نہ کیا (اب حد جاری ضرور ہوگی) ۔
المصنف لعبد الرزاق
طاؤس (رح) فرماتے ہیں : پھر صفوان ایک قمیص کے چور کو پکڑ کر لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کیا۔ صفوان بولے : میرا یہ ارادہ نہ تھا یارسول اللہ یہ چادر اس پر صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ کام پہلے کیوں نہ کیا (اب حد جاری ضرور ہوگی) ۔
المصنف لعبد الرزاق
13441- عن طاوس قال: قيل لصفوان بن أمية: هلك من نفيت له هجرة فحلف أن لا يغسل رأسه حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم فركب راحلته، ثم انطلق فصادف النبي صلى الله عليه وسلم عند باب المسجد فقال: يا رسول الله إنه قيل لي: هلك من لا هجرة له، فآليت بيمين لا أغسل رأسي حتى آتيك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن صفوان سمع بالإسلام فرضي به دينا إن الهجرة قد انقطعت بعد الفتح ولكن جهاد ونية، وإذا استنفرتم فانفروا، قال: ثم جاء بسارق خميصة فأمر النبي أن تقطع يده، فقال: لم أرد هذا يا رسول الله، هي عليه صدقة، قال: فهلا قبل أن تاتيني به. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13442 معمر، زہری (رح) (سے روایت کرتے ہیں کہ صفوان (رض)) حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں چادر کے ایک چور کو لے کر حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ آپ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا یہ ارادہ تو ہرگز نہ تھا۔ یہ اس پر صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کردیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13442- عن معمر عن الزهري أن صفوان أتى النبي صلى الله عليه وسلم بسارق بردة فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم أن تقطع يده فقال: لم أرد هذا يا رسول الله هي عليه صدقة قال: فهلا قبل أن تأتيني به. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے آداب
13443 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : فاسقوں پر شدت کرو۔ ان کو ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں کردو۔ عبد بن حمید وابوالشیخ
13443- عن عمر قال: اشتدوا على الفساق واجعلوهم يدا يدا ورجلا رجلا. "عبد بن حميد وأبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے ممنوعات
الاحراق۔۔۔جلانا
الاحراق۔۔۔جلانا
13444 حمزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک سریہ (چھوٹا لشکر) دے کر بھیجا اور فرمایا : اگر تم کو فلاں یا فلاں شخص مل جائے اس کو جلا دینا۔ پھر فرمایا : (نہیں ! ) اگر تم فلاں پر قادر ہوجاؤ تو اس کو قتل کردینا۔ لیکن آگ میں نہ جلانا۔ بیشک آگ کا عذاب آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔ ابونعیم
13444- عن حمزة الأسلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه في رهط1 سرية فقال: إن قدرتم على فلان أو فلان فأحرقوه، ثم قال: إن قدرتم عليه فاقتلوه ولا تحرقوه بالنار، فإنه لا يعذب بالنار إلا رب النار. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے ممنوعات
الاحراق۔۔۔جلانا
الاحراق۔۔۔جلانا
13445 حنظلہ بن عمرو السلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ عذرہ کے ایک آدمی کی طرف ایک سریہ بھیجا اس کے ساتھ مجھے بھی روانہ فرمایا۔ آپ نے ہمیں ارشاد فرمایا اگر تم اس کو پالو تو قتل کردینا اور جلانا نہیں۔ کیونکہ آگ کا عذاب آگ کا پروردگار ہی دے سکتا ہے۔
الحسن بن سفیان فی الوجدان و ابونعیم
الحسن بن سفیان فی الوجدان و ابونعیم
13445- عن حنظلة بن عمرو الأسلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث سرية وبعث معه إلى رجل من عذرة، فقال: إن وجدتموه فاقتلوه ولا تحرقوه، وإنما يعذب بالنار إلا رب النار. "الحسن بن سفيان في الوجدان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے ممنوعات
الاحراق۔۔۔جلانا
الاحراق۔۔۔جلانا
13446 حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں میں بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم ھباربن الاسود کو اور نافع بن عبدالقیس کو پالو تو دونوں کو آگ میں جلا ڈالنا۔ جب اگلا دن طلوع ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو پیغام بھیجا اور فرمایا میں نے تم کو دو آدمیوں کے جلانے کا حکم دیا تھا اگر تم ان کو پکڑ لو لیکن پھر میں نے سوچا کہ کسی کو آگ کا عذاب دینا جائز نہیں صرف اللہ ہی آگ کا عذاب دے سکتا ہے۔ اگر تم ان کو پاؤ تو دونوں کو قتل کردینا۔ ابن جریر
13446- عن أبي هريرة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية أنا فيهم، فقال: إن ظفرتم بهبار بن الأسود وبنافع بن عبد القيس فحرقوهما بالنار، فلما كان الغد بعث إلينا، فقال: إني كنت أمرتكم بحريق هذين الرجلين، إن أخذتموهما، ثم رأيت أنه لا ينبغي لأحد أن يعذب بالنار إلا الله فإن ظفرتم بهما فاقتلوهما. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے ممنوعات
مثلہ۔۔۔شکل بگاڑنا
مثلہ۔۔۔شکل بگاڑنا
13447 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قیدی کو پکڑا۔ اور وہ نکل بھاگا۔ وہ پھر پکڑ لیا گیا۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا گیا کہ یہ غلام بڑا بولنے والا ہے (یعنی آپ کے خلاف بہت بولتا ہے) اس کے سامنے کے دو دانت نکلوادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کسی کا مثلہ نہیں کرتا اور نہ قیامت کے روز اللہ پاک میرا مثلہ کردے گا۔
ابن عساکر، ابن النجار
ابن عساکر، ابن النجار
13447- عن عائشة قالت: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم أسيرا فانفلت ثم إنه أخذ بعد فقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه رجل مفوه فانزع ثنيته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا أمثل به كذا فيمثل الله بي يوم القيامة. "كر وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے ممنوعات
مثلہ۔۔۔شکل بگاڑنا
مثلہ۔۔۔شکل بگاڑنا
13448 حضرت عطاءؒ سے مروی ہے کہ سہیل بن عمرو بڑے بولنے والے (سردار قریش) تھے۔ جس دن بدر کی جنگ میں ان کو قید کرلیا گیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اس کے نچلے سامنے کے دو دانت اکھڑوا دیجئے۔ اس کی زبان باہر لٹکے گی پھر یہ آپ کے خلاف کہیں بھی اٹھ کر خطیب نہ بنے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کا مثلہ نہیں کرسکتا (شکل نہیں بگاڑ سکتا) ورنہ قیامت کے روز اللہ پاک میرا مثلہ کردے گا۔ ابن ابی شیبہ
13448- عن عطاء قال: كان سهيل بن عمرو رجلا أعلم من شفته السفلى فقال عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أسر ببدر:انزع ثنيتيه السفليين فيدلع لسانه فلا يقوم عليك خطيبا بموطن أبدا، فقال: لا أمثل به فيمثل الله بي. "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احکام
13449 ابوبردہ سے مروی ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس عبداللہ بن یزید (رض) بھی بیٹھے تھے ابن زیاد کے پاس خوارج کے سر کٹے ہوئے لائے جانے لگے۔ جب بھی کوئی سرگزرتا تو میں کہتا، جہنم میں، (جہنم میں) عبداللہ بن یزید (رض) نے مجھے فرمایا : اے بھتیجے ایسا مت کہہ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اس امت کا عذاب دنیا میں ہی ہوجائے گا۔
شعب الایمان للبیہقی
شعب الایمان للبیہقی
13449- عن أبي بردة قال: كنت جالسا عند ابن زياد وعنده عبد الله بن يزيد فجعل يؤتى برؤس الخوارج فكانوا إذا مروا برأس قلت: إلى النار فقال لي: لا تفعل يا ابن أخي، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يكون عذاب هذه الأمة في دنياها. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل حدود کی انواع کا بیان میں۔۔۔حد الزنا
13450 حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت تھا ماعزبن مالک (رض) آپ کے روبرو حاضر ہوئے اور ایک مرتبہ (زنا کا) اعتراف کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو رد کردیا۔ وہ پھر آئے اور دوسری مرتبہ اعتراف کیا آپ نے ان کو پھر رد کردیا۔ وہ پھر آئے اور تیسری مرتبہ اعتراف کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پھر مسترد کردیا اور ساتھ میں ارشاد فرمایا : اگر تو نے چوتھی بار اعتراف زنا کیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔ پھر بھی انھوں نے چوتھی بار اعتراف کرلیا۔ تب آپ نے ان کو قید کیا۔ پھر لوگوں سے ان کے متعلق باز پرس کی۔ لوگوں نے کہا : ہمیں تو ان کی اچھائی کا ہی علم ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو رجم کروادیا۔
مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، الحارث ، البزار، مسند ابی یعلی، الطحاوی، الاوسط للطبرانی
کلام : روایت کی سند میں جابر الجعفی ضعیف روای ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، الحارث ، البزار، مسند ابی یعلی، الطحاوی، الاوسط للطبرانی
کلام : روایت کی سند میں جابر الجعفی ضعیف روای ہے۔
13450- عن أبي بكر قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم جالسا فجاء ماعز بن مالك فاعترف عنده مرة، فرده، ثم جاءه فاعترف عنده الثانية فرده، ثم جاء فاعترف عنده الثالثة، فرده، فقال له: إن اعترفت الرابعة رجمتك، فاعترف الرابعة فحبسه، ثم سأل عنه فقالوا: ما نعلم إلا خيرا فأمر برجمه. "ش حم والحارث والبزار ع والطحاوي طس" وفيه جابر الجعفي ضعيف.
তাহকীক: