কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات حدود۔۔۔الاکمال
13411 کوئی آدمی ایسی کسی جگہ نہ کھڑا ہو جہاں کسی آدمی پر ظلماً کوڑے (یا ڈنڈے) مارے جارہے ہوں۔ کیونکہ اگر حاضرین اس مظلوم کی مدافعت نہ کریں تو سب حاضرین پر لعنت اترتی ہے۔ الضعفاء للعقیلی، الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
کلام : امام عقیلی (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ روایت کی سند میں اسد بن عطاء مجہول راوی ہے جس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
کلام : امام عقیلی (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ روایت کی سند میں اسد بن عطاء مجہول راوی ہے جس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
13411- لا يقفن أحدكم موقفا يضرب رجل فيه سوطا ظلما فإن اللعنة تنزل على من حضره حيث لم يدفعوا عنه. "عق طب عن ابن عباس" وقال "عق" فيه أسد بن عطاء مجهول فلا يتابع عليه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات حدود۔۔۔الاکمال
13412 تم میں سے کوئی کسی ظلماً ہونے والے کے پاس حاضر نہ ہو (اگر وہ مدافعت نہ کرسکتا ہو) کیونکہ ظلماً قتل ہونے والے کی وجہ سے اللہ کا غضب سب حاضرین پر اتر جائے اور وہ بھی ان کے ساتھ لپیٹ میں آجائے۔ مسند احمد، الکبیر للطبرانی عن خرشۃ بن الحر۔
13412- لا يشهد أحد منكم قتيلا قتل صبرا، فعسى أن يكون قتل ظلما فتنزل السخطة عليهم فتصيبه معهم. "حم طب عن خرشة بن الحر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الحدود۔۔۔قسم الافعال۔۔۔فصل فی الاحکام
المسامحۃ۔۔۔چشم پوشی
المسامحۃ۔۔۔چشم پوشی
13413 محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے مروی ہے کہ انھوں نے زبید بن الصلت کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اگر میں کسی چو رکو پکڑ لوں تو مجھے یہ زیادہ پسند ہوگا کہ اللہ پاک اس کی پردہ پوشی رکھے۔
ابن سعد، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، المصنف لعبد الرزاق
ابن سعد، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، المصنف لعبد الرزاق
13413- عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أنه سمع زبيد بن الصلت يقول: سمعت أبا بكر يقول: لو أخذت سارقا لأحببت أن يستره الله. "ابن سعد والخرائطي في مكارم الأخلاق عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المسامحۃ۔۔۔چشم پوشی
13414 ثوری عن الاعمش عن ابراہیم کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس قدر ہوسکے حدود کو ساقط کرو۔
1287 پر روایت گزرچکی ہے۔
1287 پر روایت گزرچکی ہے۔
13414- عن الثوري عن الأعمش عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب قال: ادرؤا الحدود ما استطعتم1
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المسامحۃ۔۔۔چشم پوشی
13415 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں شبہات کی وجہ سے حدود کو معطل کردوں یہ مجھے شبہات کے ساتھ حدود قائم کرنے سے بہت زیادہ پسندیدہ ہے۔ ابن ابی شیبہ
13415- عن عمر قال: لأن أعطل الحدود بالشبهات أحب إلي من أن اقيمها في الشبهات. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المسامحۃ۔۔۔چشم پوشی
13416 حضرت عمر (رض) کا ارشاد ہے معترفین کو جھڑک کر بھگادو۔ یعنی اپنے اوپر حدود کا اعتراف قبول کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرو۔ السنن للبیہقی
13416- عن عمر قال: اطردوا المعترفين يعني المعترفين بالحدود. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13417 حضرت عمر (رض) کا ارشاد گرامی ہے : جس قدر ہوسکے مسلمانوں سے حدود ساقط کرو۔ کیونکہ امام سے خطاء معافی کا حکم سرزد ہوجائے یہ اس کے لیے کہیں بہتر ہے اس بات سے کہ وہ خطاء سزا جاری کردے۔ لہٰذا جب تم کسی مسلمان کے لیے خلاصی کا کوئی (جائز) راستہ پاؤ تو اس سے حد کو گرادو۔ ابن ابی شبہ، مسند احمد، الترمذی وضعفہ، مستدرک الحاکم وتعقب، السنن للبیہقی وضعفہ عن عائشۃ (رض) ، ابن خسرو۔
13417- عن عمر قال: ادرؤا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن الإمام لأن يخطئ في العفو خير له من أن يخطئ في العقوبة، فإذا وجدتم للمسلم مخرجا فادرؤا عنه1 "ش حم ت وضعفه ك وتعقب ق وضعفه عن عائشة" "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13418 حضرت عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : حدود پر پردہ ڈالو ۔ یعنی جس قدر ہوسکے ساقط کرنے کی کوشش کرو۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق
13418- عن عطاء قال: قال عمر بن الخطاب: استر من الحدود ما وراك أي ادرؤها ما قدرتم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13419 واقدی سے مروی ہے فرماتے ہیں : ہمیں ابن ابی سبرۃ نے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی بارگاہ میں ایک شخص کو پیش کیا گیا جس نے کوئی جرم کیا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کسی نے عرض کیا : امیر المومنین ! یہ صاحب مرتبہ آدمی ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے مخالف فریق سے بات کرو۔ کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : مروت و مرتبہ والوں کی لغزشوں سے درگزر سے کام لو۔ ابوبکر بن خلف بن المرزبان فی کتاب المروء ۃ
کلام : واقدی یہ محمد بن عمر بن واقداسلمی مدنی ہیں۔ ان کی کئی تصانیف ہیں۔ ہمارے دیار (برصغیر ) میں ان کی مشہور تصنیف فتوح الشام کو قبول عام حاصل ہے۔ لیکن تمام اہل علم نے ان کو ضعف پر اتفاق کیا ہے۔ اس لیے مذکورہ روایت محل کلام ہے۔ ان کی وفات 207 ھ میں عہدہ قضاء پر متمکن زمانے میں ہوئی تھی۔ میزان الاعتدال 662/3 ۔
کلام : واقدی یہ محمد بن عمر بن واقداسلمی مدنی ہیں۔ ان کی کئی تصانیف ہیں۔ ہمارے دیار (برصغیر ) میں ان کی مشہور تصنیف فتوح الشام کو قبول عام حاصل ہے۔ لیکن تمام اہل علم نے ان کو ضعف پر اتفاق کیا ہے۔ اس لیے مذکورہ روایت محل کلام ہے۔ ان کی وفات 207 ھ میں عہدہ قضاء پر متمکن زمانے میں ہوئی تھی۔ میزان الاعتدال 662/3 ۔
13419- عن الواقدی " ثنا ابن أبي سبرة قال: رفع إلى عمر بن الخطاب رجل جنى جناية، فقيل له: يا أمير المؤمنين، إن له مروة قال: استوهبوا من خصمه، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اهتبلوا العفو عن عثرات ذوي المروات. "أبو بكر بن خلف بن المرزبان في كتاب المروة".
"الخرائطي في مكارم الأخلاق".
"الخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13420 قاسم بن عبدالرحمن (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک آدمی کی حد جاری کی اس حال میں کہ اس کے بدن پر قسطلانی چادر تھی اور وہ بیٹھا ہوا بھی تھا۔
المصنف عبدالرزاق
المصنف عبدالرزاق
13420- عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه أن عليا ضرب رجلا في حد وعليه كساء قسطلاني قاعدا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13421 عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے روبرو ایک آدمی کو حد کے لیے پیش کیا گیا۔ آپ (رض) نے جلاد کو فرمایا : ضرب لگاؤ اور ہر عضو کو اس کا حق دو لیکن چہرے اور شرمگاہوں کو بچانا۔
المصنف لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور ، ابن جریر ، السنن للبیہقی
فائدہ : یعنی ایک ہی جگہ پر کوڑے مار مار کر اس کو ناکارہ نہ کردو بلکہ مختلف جگہوں پر کوڑے مارو لیکن چہرے اور شرم گاہ جیسی حساس جگہوں پر مارنے سے احتراز کرو۔
المصنف لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور ، ابن جریر ، السنن للبیہقی
فائدہ : یعنی ایک ہی جگہ پر کوڑے مار مار کر اس کو ناکارہ نہ کردو بلکہ مختلف جگہوں پر کوڑے مارو لیکن چہرے اور شرم گاہ جیسی حساس جگہوں پر مارنے سے احتراز کرو۔
13421- عن عكرمة بن خالد قال: أتي علي برجل في حد فقال للجالد: اضرب وأعط كل ذي عضو حقه، واجتنب وجهه ومذاكيره. "عب ص وابن جرير ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13422 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : حد میں آدمی کو کھڑا کر کے ضربیں لگاؤ اور عورت کو بٹھا کر۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13422- عن علي قال: يضرب الرجل قائما والمرأة قاعدة في الحد. "عب ص هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13423 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : جب حدود میں شاید ایسا ہوا تھا، ممکن ہے، وغیرہ جیسے الفاظ استعمال ہوں تو حدود معطل ہوجائیں گے۔ الجامع عبدالرزاق
13423- عن علي قال: إذا بلغ في الحدود عسى ولعل فالحدود معطلة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13424 حضرت علی (رض) کا ارشاد گرامی ہے : حد جاری کردینے کے بعد حاکم کا مجرم کو قید رکھنا (سراسر) ظلم ہے۔ السنن للبیہقی
13424- عن علي قال: حبس الإمام بعد إقامة الحد ظلم. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13425 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک چور کو پیش کیا گیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چور کو دیکھا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، گویا آپ کے چہرے پر انار نچوڑ دیا گیا ہو۔ آنے والے لوگوں نے آپ کی بدلتی غصہ کی کیفیت ملاحظہ کی تو وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس کا پیش کرنا آپ کو گراں گزرے گا تو ہم اس کو آپ کے سامنے پیش نہ کرتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کیوں نہ گراں گزرے کہ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بن کر آئے ہو۔ الدیلمی
13425- عن ابن عمر قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسارق فلما نظر إليه تغير وجهه كأنما رش على وجهه حب الرمان، فلما رأى القوم شدته قالوا: يا رسول الله لو علمنا مشقته عليك ما جئناك به، فقال: كيف لا يشق علي وأنتم أعوان الشيطان على أخيكم. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13426 ابو ماجد الحنفی سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس ایک شخص اپنے ابن العم (بھتیجے) کو لے کر حاضر خدمت ہوا اس کا ابن العم نشہ کی کیفیت میں تھا۔ چچا نے کہا ! میں نے اس کو نشہ کی حالت میں پایا ہے۔ آپ (رض) نے حاضرین کو حکم فرمایا : اس کو بلاؤ جلاؤ اور سونگھ کر دیکھو۔ لوگوں نے اس کو ہلایا جلایا اور اس کا منہ سونگھا۔ واقعی اس کی حرکات اور بو سے معلوم ہوگیا کہ اس نے شراب پی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ (رض) نے اس کو جیل کا حکم دیا۔ پھر آئندہ روز نکلوایا اور کوڑہ تیار کرنے کا حکمدیا گیا۔ چنانچہ کوڑے کی گانٹھ کو کوٹ کر ہلکا کرنے کا حکم دیا گیا حتیٰ کہ وہ ہلکا ہوگیا (تاکہ زیادہ تکلیف دہ نہ ہو) پھر آپ (رض) نے جلاد کو حکم فرمایا : ضرب لگاؤ لیکن اپنے ہاتھ کو ہلکا رکھو۔ اور ہر عضو کو اس کا حصہ دو (یعنی کسی ایک جگہ پر سب کوڑے نہ برساؤ) چنانچہ حضرت عبداللہ (رض) نے اس کو ایسے کوڑے لگوائے کہ نہ ان کا نشان پڑا اور ہاتھ میں ازجاع رہی۔ ابو ماجد حنفی سے پوچھا گیا کہ ارجاع سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : جلاد مٹک مٹک کر نہ مارے اور کوڑا بلند کرتے وقت بغل نظر نہ آئے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یتیم (جس کی سزا دی گئی) کا والی (چچا اس کو لے کر آیا تھا) برا آدمی ہے۔ میں نے جو سزا دی یہ اس کی تادیب کے لیے تھی اور میں نے اچھی طرح سے یہ تادیب ادا کی ہے۔ اس کے ساتھ میں نے سزا ختم بھی نہیں کی۔ پھر حضرت عبداللہ (رض) ن یارشاد فرمایا : اللہ مغفرت کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ کسی والی (حاکم) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس حد کا کوئی فیصلہ (کیس) آئے اور وہ اس کو قائم نہ کرے۔ پھر آپ (رض) (حد کا پس منظر بتاتے ہوئے) فرمانے لگے : مسلمانوں میں سے پہلا شخص جس کا (ہاتھ) کاٹا گیا وہو انصار میں سے ایک آدمی تھا۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو گویا آپ کے چہرے پر ریت جھاڑ دی گئی ہو (یعنی ناگواری سے چہرہ مبارک پر ترشی چھاگئی) لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! شاید اس کا پیش کیا جانا آپ کے لیے شاق گزرا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کیوں نہ شاق گزرتا جبکہ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بن کر آئے ہو۔ بیشک معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ لیکن کسی حاکم کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے پاس حد کا مسئلہ آئے اور وہ اس کو نافذ نہ کرے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ولیعفوا ولیصفحوا
اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔
المصنف لعبدالرزاق خ ابن ابی الدنیا فی ذم الغضب، ابن ابی حاتم ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
ولیعفوا ولیصفحوا
اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔
المصنف لعبدالرزاق خ ابن ابی الدنیا فی ذم الغضب، ابن ابی حاتم ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
13426- عن أبي ماجد الحنفي أن ابن مسعود أتاه رجل بابن أخيه وهو سكران، فقال: إني وجدت هذا سكران. فقال: ترتروه1 ومزمزوه واستنهكوه، فترتروه ومزمزوه واستنهكوه، فوجدوا منه ريح شراب فأمر به عبد الله إلى السجن، ثم أخرجه من الغد، ثم أمر بسوط فدقت ثمرته، حتى آضت له مخففة. يعني صارت ثم قال للجلاد: اضرب وأرجع يدك، وأعط كل عضو حقه، فضربه عبد الله ضربا غير مبرح وأرجعه، قيل: يا أبا ماجد، ما المبرح؟ قال: ضرب الأمراء قيل: فما قوله: أرجع يدك قال: لا يتمطى ولا يرى إبطه، قال: فأقامه في قباء وسراويل ثم قال: بئس لعمر الله والي اليتيم، هذا ما أدبت فأحسنت الأدب ولا سترت الخزية، ثم قال عبد الله: إن الله غفور يحب الغفور، وإنه لا ينبغي لوال أن يؤتي بحد إلا أقامه، ثم أنشأ عبد الله يحدث قال: أول رجل قطع من المسلمين رجل من الأنصار أتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فكأنما أسف في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم رماد يعني ذر عليه رماد فقالوا: يا رسول الله كأن هذا شق عليك؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وما يمنعني وأنتم أعوان الشيطان على صاحبكم، إن الله عفو يحب العفو وإنه لا ينبغي لوال أن يؤتي بحد إلا أقامه، ثم قرأ: {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا} . "عب وابن أبي الدنيا في ذم الغضب وابن أبي حاتم والخرائطي في مكارم الأخلاق طب وابن مردويه ك ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام تک معاملہ پہنچنے سے پہلے حد ساقط کرنا
13427 ثوری اور معمر عبدالرحمن بن عبداللہ سے، وہ قاسم بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : بندگان الٰہی سے جس قدر ہوسکے حدود اور قتل کو ساقط کرو۔
عبدالرزاق فی جامعہ
عبدالرزاق فی جامعہ
13427- عن الثوري ومعمر عن عبد الرحمن بن عبد الله عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال ابن مسعود: ادرؤا الحدود والقتل عن عباد الله ما استطعتم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13428 مسند عمر (رض) ۔ ابوعثمان نہدی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں ایک شخص کو حد جاری کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ آپ (رض) نے کوڑا منگوایا۔ ایک کوڑا لایا گیا جس میں شدت (اور سختی) تھی۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے اس سے نرم کوڑا چاہیے۔ چنانچہ پہلے سے ذرا نرم کوڑا پیش کیا گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں (یہ زیادہ نرم ہے) اس سے کچھ سخت لاؤ۔ چنانچہ پھر دونوں کے درمیانی ساخت کا ایک کوڑا لایا گیا۔ تب آپ (رض) نے جلاد کو حکم دیا : اس کے ساتھ مار لیکن (کوڑا اٹھاتے وقت) تیری بغل نہ نظر آئے۔ اور ہر عضو کو اس کا حق دو ۔ یعنی کسی ایک جگہ پر ساری تعداد پوری نہ کرو۔ الجامع لعبد الرزاق، المصنف لا بن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
13428- مسند عمر رضي الله عنه عن أبي عثمان النهدي قال: أتي عمر برجل في حد فأمر بسوط فجيء بسوط فيه شدة فقال: أريد ألين من هذا، فأتي بسوط فيه لين فقال: أريد سوطا أشد من هذا فأتي بسوط بين السوطين فقال: اضرب به ولا يرى إبطك، وأعط كل عضو حقه. "عب ش ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13429 عبداللہ بن عبید اللہ سے مروی ہے حضرت عمر بن خطاب (رض) حدود جاری کرنے کے لیے کسی آدمی کو (بطور جلاد) منتخب کرتے تو اس کو فرماتے : جب تو جلد کرنے لگے (یعنی کوڑے مارنے لگے) تو اس وقت تک کوڑے نہ مارجب تک کوڑے کے پھل کو دو پتھروں کے درمیان اچھی طرح کوٹ کر نرم نہ کرلے (تاکہ زیادہ ایذاء نہ دے) ۔ المصنف لعبد الرزاق
13429- عن عبد الله بن عبيد الله أن عمر بن الخطاب كان يختار للحدود رجلا وأنه قال: إذا أردت أن تجلد فلا تجلد حتى تبرق ثمرة السوط بين حجرين حتى تلينها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے متفرق احکام
13430 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے انھوں نے حضرت ابوموسیٰ الاشعری (رض) کو لکھا : کسی کو سزا دیتے وقت (حد کے علاوہ) بیس کوڑوں سے زیادہ نہ مارو۔ المصنف لعبد الرزاق
13430- عن عمر أنه كتب إلى أبي موسى الأشعري، ولا تبلغ منها بنكال فوق عشرين سوطا.
"عب".
"عب".
তাহকীক: