কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৩৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13351 دس درہم سے کم کی چوری میں (ہاتھ وغیرہ) نہیں کاٹا جائے گا۔

الکبیر للطبرانی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، السنن للبیہقی عن انس (رض)
13351- لا يقطع السارق في أقل من عشرة دراهم. "طب عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده" "ق عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13352: قطع السارق کی حد صرف ڈھال (کی قیمت یا اس سے زیادہ) میں جاری ہوگی۔ الکبیر للطبرانی عن ام ایمن۔
13352- لا تقطع السارق إلا في حجفة "طب عن أم أيمن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13353: خیانت کرنے والے پر قطع نہیں۔ الخطیب فی التاریخ عن ابن عباس (رض)

کلام : المتناھیۃ 1325 ۔
13353- ليس على خائن قطع. "الخطيب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13354 دھوکا سے جھپٹا مارنے والے پر حد القطع نہیں ہے۔

ابن ماجہ عن عبدالرحمن بن عوف المصنف لعبد الرزاق عن جائر (رض)
13354- ليس على المختلس قطع. "هـ عن عبد الرحمن بن عوف" "عب عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13355 لوٹ مارنے والے پر قطح نہیں اور جس نے سرعام لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ مصنف عبدالرزاق، ابوداؤد، ابن حبان عن جابر (رض)
13355- ليس على المنتهب قطع، ومن انتهب نهبة مشهورة فليس منا. "عب د حب عن جابر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13356 بھگوڑے غلام پر اگر وہ چوری کرلے قطع نہیں ہے۔ اور نہ ذمی (اسلامی حکومت کی اجازت سے رہنے والے غیر مسلم باشندہ) پر قطع ہے۔ مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
13356- ليس على العبد الآبق إذا سرق قطع، ولا على الذمي. "ك عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13357 چوپائے جانوروں میں حد القطع نہیں ہے ہاں جو جانور باڑے میں محفوظ ہوں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے (تقریباً تین تولے چاندی کو) تو اس میں قطع الید ہے اور جس کی قیمت ڈھال کے برابر نہ ہو اس میں دگنا تاوان اور کوڑوں کی سزا ہے۔ درخت پر معلق پھلوں کی چوری میں قطع نہیں ہاں جب ان کو ٹھکانے پر محفوظ کرلیا جائے پھر جو پھل ٹھکانے سے اٹھائے جائیں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہوں تو ان میں حد القطع ہے اور جو ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچیں ان میں دگنا تاوان اور عبرت کے واسطے کوڑوں کی سزا ہے۔

السنن للبیہقی عن ابن عمرو
13357- ليس في شيء من الماشية قطع إلا فيما آواه المراح وبلغ ثمن المجن ففيه قطع اليد وما لم يبلغ ثمن المجن ففيه غرامة مثليه وجلدات نكال ليس في شيء من الثمر المعلق قطع إلا فيما آواه الجرين، فما أخذ من الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع وما لم يبلغ ثمن المجن فعليه غرامة مثليه وجلدات نكال. "هق عن ابن عمرو"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13358 اس کو پاک کردیا جائے یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ مسند احمد عن مسعود بن العجماء

فائدہ : مسعود (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اگر مخزومیہ عورت جس نے چوری کی ہے ہم اس کا فدیہ دیدیں تو کیسا ہے۔ تب آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا یعنی قطع الید کے ساتھ اس کو اس گناہ سے پاک کرنا زیادہ بہتر ہے۔
13358- لأن تطهر خير لها. "حم عن مسعود بن العجماء" أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المخزومية التي سرقت نفديها قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھلے جانور چرانے میں قطع الید نہیں
13359 اس عورت کو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کے آگے توبہ تائب ہو اور لوگوں کا سامان واپس کردے (پھر آپ نے حکم دیا) اے فلاں ! اٹھ اس کا ہاتھ کاٹ دے۔

الخطیب عن ابن عمر (رض)

فائدہ : ابن عمر (رض) فرماتے ہیں ایک عورت لوگوں سے عاریت پر زیورات لیتی اور اپنے پاس بالکیہ رکھ لیتی تھی۔ اس کا فیصلہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
13359- لتتب هذه المرأة إلى الله وإلى رسوله فترد على الناس متاعهم قم يا فلان فاقطع يدها.

"الخطيب عن ابن عمر" قال: كانت امرأة تأتي قوما تستعير منهم الحلي، ثم تمسكه، فرجع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔تہمت کی حد میں
13360 جس نے کسی باندی پر تہمت باندھی حالانکہ اس کو زنا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو اللہ پاک قیامت کے روز اس کو آگ کے کوڑے ماریں گے۔ مسند احمد عن ابی ذر (رض)
13360- من رمى أمة لم يرها تزني جلده الله يوم القيامة بسوط من نار. "حم عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔تہمت کی حد میں
13361 جس نے کسی ذمی (اسلامی مملکت کے غیر مسلم باشندے) پر تہمت عائد کی قیامت کے روز اس کو آگ کے کوڑوں سے مارا جائے گا۔ الکبیر للطبرانی عن واثلۃ

کلام : تحذیر المسلمین 160، الکشف الالٰہی 948 ۔
13361- من قذف ذميا حد له يوم القيامة بسياط من نار. "طب عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔تہمت کی حد میں
13362 جب آدمی کسی دوسرے آدمی کو کہے : اے یہودی ! تو کہنے والے کو بیس کوڑے مارو۔ اور اگر کہے : اے ہیجڑے ! تو اس کہنے والے کو بھی بیس کوڑے مارو ۔ اور جو کسی محرم کے ساتھ بدکاری کرے اس کو قتل کردو۔ الترمذی ، ابن ماجہ ، السنن للبیہقی عن ابن عباس (رض)

کلام : روایت کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل حدیث میں ضعیف ہے۔ الترمذی کتاب الحدود رقم 1462 ضعیف الترمذی 246، ضعیف الجامع 610 ۔
13362- إذا قال الرجل للرجل: يا يهودي فاضربوه عشرين، وإذا قال: يا مخنث فاضربوه عشرين، ومن وقع على ذات محرم فاقتلوه. "ت هـ هق عن ابن عباس"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔تہمت کی حد میں
13363 جس نے اپنے غلام کو زنا کی تہمت لگائی اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ اس نے سچ کہا ہو۔ مسلم عن ابوہریرہ (رض)

فائدہ : تہمت کی حد میں اسی کوڑے شرعی حد ہے۔
13363- من قذف مملوكه بالزنا يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال. "م عن أبي هريرة"2
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدالساحر۔۔۔جادوگر کی حد
13364 جادو گر کی حد تلوار کا وار ہے۔ الترمذی، مستدرک الحاکم عن جندب

کلام : امام ترمذی کتاب الحدود باب ماجاء فی حد الساحر میں اس کو روایت کیا ہے رقم 1460۔۔۔ ضعیف الترمذی للالبانی (رح) 244 امام حاکم (رح) نے المستدرک میں کتاب الحدود 360/4 پر اس کو روایت کرکے غریب صحیح کہا ہے اور امام ذھبی (رح) نے اس کی موافقت فرمائی ہے۔ نیز دیکھئے ضعف حدیث ذخیرۃ الحفاظ 2666 ۔
13364- حد الساحر ضربة بالسيف. "ت ك عن جندب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کی حد ۔۔۔الاکمال
13365 جس نے کسی (مدینے کے) انصاری کو اے یہودی کہا اس کو بیس کوڑے مارو۔

مصنف لعبد الرزاق عن داؤد بن الحصین عن ابی سفیان، مرسلاً
13365- من قال لرجل من الأنصار: يا يهودي فاضربوه عشرين. "عب عن داود بن الحصين2 عن أبي سفيان" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب۔۔۔حدود کے احکام اور ممنوعات میں

اس میں دو فصلیں ہیں

فصل اول۔۔۔احکام حدود میں
13366 جو بندہ ایسی چیز کا مرتکب ہو جس سے اللہ نے منع کیا پھر اس پر حد قائم کردی جائے تو وہ حد اس گناہ کے لیے کفارہ ہوگی۔ مستدرک الحاکم عن خزیمۃ بن ثابت

12967 پر روایت گزر چکی ہے۔
13366- أيما عبد أصاب مما نهى الله عنه، ثم أقيم عليه حده كفر عنه ذلك الذنب. "ك عن خزيمة بن ثابت". مر برقم [12967] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔احکام حدود میں
13367 جس سے کوئی گناہ سرزد ہوا پھر اس پر اس گناہ کی حد جاری ہوگئی تو وہ حد اس گناہ کے لیے کفارہ ہے۔ مسند احمد، الضیاء عن خزیمۃ بن ثابت، 12966
13367- من أصاب ذنبا فأقيم حد ذلك الذنب فهو كفارته. "حم والضياء عن خزيمة بن ثابت". مر برقم [12966] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔احکام حدود میں
13368 سنگساری اس گناہ کا کفارہ ہے جو تو نے کیا ہے۔

النسائی، الضیاء عن الشرید بن سوید 12970
13368- الرجم كفارة ما صنعت. "ن والضياء عن الشريد ابن سويد". مر برقم [12970] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔احکام حدود میں
13369 کسی آدمی کا ظلما قتل کیا جانا اس کے پچھلے سب گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔

مسند البزار عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے ذخیرۃ الحفاظ 374، ضعیف الجامع 4073 ۔
13369- قتل الرجل صبرا كفارة لما قبله من الذنوب. "البزار عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔احکام حدود میں
13370 ظلماً قتل جس گناہ پر گزرتا ہے اس کو مٹا دیتا ہے۔ البزار عن عائشۃ (رض)
13370- قتل الصبر لا يمر بذنب إلا محاه. "البزار عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: