কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩২১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔۔شراب کی حد میں
13211 جب کوئی نشے میں مدہوش ہوجائے تو اس کو کوڑے مارو ۔ پھر دوبارہ پی کر مدہوش تو پھر کوڑے مارو ۔ پھر مدہوش ہو تو پھر مارو پھر اگر چوتھی بار پئے تو اس کو قتل کردو۔

ابوداؤد ، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)
13211- إذا سكر فاجلدوه، ثم إن سكر فاجلدوه، ثم إن سكر فاجلدوه، فإن عاد الرابعة فاقتلوه. "د هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔۔شراب کی حد میں
13212 جب لوگ شراب نوشی کریں تو ان پر کوڑوں کی سزا جاری کرو۔ پھر دوبارہ پئیں تو پھر سزا دو ۔ پھر پئیں تو پھر سزا دو پھر چوتھی بار پئیں تو ان کو قتل کردو۔

مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان عن معاویۃ (رض)
13212- إذا شربوا الخمر فاجلدوهم، ثم إن شربوها فاجلدوهم، ثم إن شربوها، فاجلدوهم، ثم إن شربوها فاقتلوهم. "حم د هـ حب عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔۔شراب کی حد میں
13213 جو شراب پئے اس کو کوڑے مارو۔ اگر دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو۔ اگر تیسری بار پئے تو پھر کوڑے مارو۔ پھر اگر چوتھی بار پئے تو پھر قتل کردو۔

مسند احمد ، ابوداؤد ، النسائی، مستدرک الحاکم عن ابن عمر (رض) ابوداؤد، الترمذی، مستدرک الحاکم عن معاویۃ، ابوداؤد، السنن للبیہقی عن ذویب، مسند احمد ، ابوداؤد، النسائی ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض) ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم ، الضیاء عن شرجیل بن اوس، الکبیر للطبرانی، الدارقطنی فی السنن، مستدرک الحاکم، الضیاء عن جریر، مسند احمد ، مستدرک الحاکم عن ابن عمر، ابن خزیمہ، مستدرک الحاکم عن جابر (رض) ، الکبیر للطبرانی عن غضیف ، النسائی ، مستدرک الحاکم، الضیاء عن الشرید بن سوید، مستدرک الحاکم عن نفربن الصحابۃ۔
13213- من شرب الخمر فاجلدوه، فإن عاد الثانية فاجلدوه، فإن عاد الثالثة فاجلدوه، فإن عاد في الرابعة فاقتلوه. "حم د ن ك عن ابن عمر" "د ت ك عن معاوية" "د هق عن ذويب" "حم د ن ك عن أبي هريرة" "طب ك والضياء عن شرحبيل بن أوس" "طب قط ك

والضياء عن جرير" "حم ك عن ابن عمر" "وابن خزيمة ك عن جابر" "طب عن غضيف" "ن ك والضياء عن الشريد بن سويد" "ك عن نفر من الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13214 بندہ جب ہاتھ میں شراب کا جام لیتا ہے تو ایمان اس کو پکارتا ہے : تجھے اللہ کا واسطہ ! تو اس کو میرے اوپر نہ داخل کر ۔ کیونکہ میں اور یہ ایک برتن میں جمع نہیں رہ سکتے۔ لیکن اگر وہ انکار کردے اور جام نوش کرلے تو ایمان اس سے اس قدر متنفر ہو کر نکلتا ہے کہ چالیس روز تک واپس نہیں آتا۔ پھر اگر وہ توبہ بھی کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے لیکن اس کی عقل میں سے کچھ حصہ سلب کرلیتا ہے جو واپس کبھی نہیں آیا۔ الدیلمی عن ابوہریرہ (رض)
13214- إذا تناول العبد كأس الخمر بيده ناشده الإيمان بالله لا تدخله علي فإني لا أستقر أنا وهو في وعاء واحد، فإن أبى وشربه نفر الإيمان منه نفرة لن يعود إليه أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه وسلبه من عقله شيئا لا يعود إليه أبدا. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13215 آدمی جب شراب کا پیالہ پی لیتا ہے الخ۔

اذا شرب الرجل کا سنا من حمد الحدیث، الکامل لا بن عدی عن بحیرا الراھب

کلام : یہ روایت منکر ہے اور بحیرا کی اس کے سوا کوئی اور مسند روایت نہیں ہے۔ امام ابن حجر الاصابہ میں فرماتے ہیں : یہ بحیرا وہ شخص نہیں ہے جس کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعثت سے قبل حضرت ابوطالب کی معیت میں ملاقات ہوئی تھی جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ ان آٹھ افراد میں سے ایک ہے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ وفد بن کر آئے تھے۔
13215- إذا شرب الرجل كأسا من خمر، الحديث. "عد عن بَحِيرَى "1" الراهب" * وقال منكر ولم أسمع لبَحِيرَى بمسند غير هذا* وقال ابن حجر في الإصابة: ليس هذا بَحِيرَى الذي لقي النبي صلى الله عليه وسلم قبل البعثة مع أبي طالب كما ظن بعضهم بل هذا أحد الثمانية الذين قدموا مع جعفر بن أبي طالب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13216 اللہ تعالیٰ نے جنت الفردوس کے صحن کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا پھر ایک عمارت ایسی بنائی جس میں ایک اینٹ چاندی، ایک اینٹ خالص سونے کی اور ایک اینٹ مشک کی تھی۔ پھر اس میں عمدہ ترین پھلوں کے درخت لگائے عمدہ خوشبوئیں بسائیں، اس میں نہریں جاری کیں ۔ پھر ہمارا پروردگار اپنے عرش کی سمت آیا اور اس کو دیکھ کر گویا ہوا : میری عزت کی قسم ! (اے جنت ! ) تجھ میں کوئی شراب کا عادی اور زنا پر اصرار کرنے والا داخل نہ ہوگا (ابونعیم فی المعرفۃ عن سلامۃ) سلامہ کی صحبت (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) صحیح ثابت نہیں۔
13216- إن الله تعالى كنس عرصة جنة الفردوس بيده ثم بناها من فضة ولبنة من ذهب مصفى، ولبنة من مسك مدراء وغرس فيها من جيد الفاكهة وطيب الريحان، وفجر فيها أنهارها، ثم أتى ربنا إلى عرشه فنظر إليها فقال: وعزتي لا يدخلك مدمن خمر، ولا مصر على الزنا. "أبو نعيم في المعرفة عن سلامة" وقال لا يصح له صحبة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13217 تمام گندگیوں (اور گناہوں) کو ایک کمرے میں رکھ کر بند کردیا گیا اور ان کی چابی خمر (شراب ) بنادی گئی۔ پس جس نے شراب نوشی کی وہ خبائث (گندگیوں میں پڑگیا) ۔

المصنف لعبد الرزاق عن معمر عن ابان، رفع الحدیث
13217- إن الخبائث جعلت في بيت فأغلق عليها وجعل مفتاحها الخمر فمن شرب الخمر وقع في الخبائث. "عب عن معمر عن ابان" * رفع الحديث
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13218 کچھ لوگوں نے شراب نوشی اور گانے بجانے میں رات بسر کی پھر صبح کو وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں اٹھے۔ ابن صصری فی امالیہ عن ابن عباس (رض)
13218- إن ناسا باتوا في شراب ودفوف وغناء، فأصبحوا قردة وخنازير. "ابن صصرى في أماليه عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13219 جس نے اپنی بیٹی یا اپنے گھر میں سے کسی لڑکی کی شادی کسی شرابی سے کردی تو گویا اس کو (اپنے ہاتھوں) جہنم میں دھکیل دیا۔ الدیلمی عن ابن عباس (رض)
13219- من زوج ابنته أو واحدة من أهله ممن يشرب الخمر فكأنما قادها إلى النار. "الديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13220 جس کو اس بات کی خوش ہو کہ اللہ پاک اس کو آخرت میں خمر (شراب) پلائے تو وہ دنیا میں اس کو ترک کردے۔ جس کو اس بات کی خواہش ہو کہ اللہ پاک اس کو آخرت میں حریر (ریشم) پہنائے تو وہ دنیا میں اس کو پہننا ترک کردے۔ جنت کی نہریں مشک کے ٹیلے کے نیچے سے پھوٹتی ہیں۔ اگر ادنیٰ جنتی کے لباس کے اہل دنیا کے تمام لباسوں سے مقابلہ کرایا جائے تو ادنیٰ جنتی کا لباس ان تمام لباسوں سے افضل ہوگا جو الل پاک اس کو آخرت میں پہنائیں گے۔

البیہقی فی البعث، ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض)
13220- من سره أن يسقيه الله الخمر في الآخرة فليتركها في الدنيا، ومن سره أن يكسوه الله الحرير فليتركها في الدنيا، أنهار الجنة تفجر من تحت تلال المسك، ولو كان أدنى أهل الجنة حلية عدلت بحلية أهل الدنيا جميعا لكانت ما يحليه الله عز وجل به في الآخرة أفضل من حلية أهل الدنيا جميعا. "ق في البعث كر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13221 جس نے انگور موسم میں روکے رکھے حتیٰ کہ پھر کسی یہودی یا نصرانی (جو بھی شراب سازی میں اس کو استعمال کرے) کو فروخت کیے تاکہ وہ اس کی شراب بناسکے تو گویا اس نے اپنے تئیں کھلے بندوں جہنم میں دھکیل دیا۔ شعب الایمان للبیہقی عن بریدۃ (رض)

کلام : الضعیفۃ 1269 ۔
13221- من حبس العنب أيام قطافه حتى يبيعه عن يهودي، أو نصراني ليتخذه خمرا فقد تقحم1 النار عيانا. "هب عن بريدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13222 جس نے انگور چننے کے زمانے میں انگورروک لیے حتیٰ کہ (موسم نکلنے کے بعد) ان کو کسی یہودی یا کسی عیسائی یا ایسے کسی شخص کو بیچے جو ان سے شراب بنائے گا تو وہ خود جانتے بوجھتے جہنم میں کود گیا۔ شعب الایمان للبیہقی عن بریدۃ

کلام : روایت ضعیف ہے : المتناھیۃ 116، لوضع فی الحدیث 169/1 ۔
13222- من حبس العنب زمن القطاف حتى يبيعه من يهودي أو نصراني أو ممن يعلم أنه يتخذه خمرا، فقد تقدم في النار على بصيرة. "هب عن بريدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13223 جس نے شراب نوشی کی چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی ۔ پھر اگر وہ توبہ تائب ہوگیا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ پھر دوبارہ شراب نوشی کی تو اللہ پاک چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ فرمائے گا پھر اگر توبہ تائب ہوگیا تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر اسی طرح تیسری بار بھی شراب نوشی کی اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ پھر اگر چوتھی بار بھی شراب نوشی کا مرتکب ہوگیا تو اللہ پاک اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ فرمائے گا پھر اگر وہ توبہ تائب بھی ہوگیا تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور اس کو نہر الخبال سے پلائے گا۔

ابوداؤد ، مسند احمد، الترمذی حسن، شعب الایمان للبیہقی عن ابن عمر (رض) ، مسند احمد ، النسائی ، مستدرک الحاکم عن ابن عمر (رض) ۔
13223- من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال. "ط حم ت حسن1 " هب عن ابن عمر" "حم ن ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13224 شراب کی حرمت ہونے کے بعد جس نے شراب کو حلال سمجھا اور اس کو پی کر مدہوش ہوا پھر اس نے توبہ کی اور نہ شراب نوشی ترک کی تو قیامت کے روز میرا اس سے کوئی تعلق ہوگا اور نہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہوگا۔ ابن عساکر عن معاویۃ (رض)
13224- من شرب مخمرا مسكرا مستحلا له بعد تحريمه لم يتب ولم ينزع فليس مني ولا أنا منه يوم القيامة. "ابن عساكر عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13225 جس نے شراب کی ایک چسکی لی اللہ پاک تین روز تک اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائیں گے اور نہ نفل ۔ اور جس نے ایک پیالہ شراب نوش کیا اللہ پاک اس کے چالیس روز تک نہ کوئی فرض قبول فرمائیں گے اور نہ نفل۔ اور شراب کے عادی کے لیے اللہ پر (لازم اور) حق ہے کہ اس کو نہر الخبال سے پلائے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! نہر الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم کی پیپ (لہو اور گندگی کا ملغوبہ) ۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)

کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد 71/5 پر اس کو ذکر فرمایا ہے اور فرمایا کہ امام طبرانی نے ابن عباس کے حوالے سے اس کو نقل فرمایا ہے، اس میں حکیم بن نافع ضعیف راوی ہے اگرچہ ابن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔
13225- من شرب حسوة من خمر لم يقبل الله منه ثلاثة أيام صرفا ولا عدلا ومن شرب كأسا لم يقبل الله منه أربعين صباحا والمدمن الخمر حق على الله أن يسقيه من نهر الخبال، قيل: يا رسول الله، ما نهر الخبال؟ قال: صديد أهل النار. "طب عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13226 جس نے شراب نوشی کی وہ چالیس روز تک نجس رہے گا۔ اگر توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا اور اگر پھر شراب نوشی کا مرتکب ہوا تو پھر چالیس روز تک نجس رہے گا اگر توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا پھر اگر چوتھی بار بھی شراب نوشی کی تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو ردغۃ الخباب پلائے ۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)

کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد 71/5 پر اس کو نقل فرمایا اور فرمایا کہ امام طبرانی نے ابن عباس (رض) سے اس کی روایت فرمایا اور اس میں شہر بن حوشب راوی ہے جس میں ضعف ہے لیکن اس کی روایت حسن ہے
13226- من شرب الخمر كان نجسا أربعين يوما، فإن تاب منها تاب الله عليه وإن عاد عاد نجسا أربعين يوما، فإن تاب منها تاب الله عليه فإن ربع كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال. "طب عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13227 جس نے شراب نوشی کی اور مدہوش ہوا اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ ہوگی اور اگر (اسی حال میں) مرگیا تو جہنم واصل ہوگا۔ اگر توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر پھر دوبارہ شراب نوشی کی تو اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ ہوگی اگر مرگیا تو جہنم واصل ہوگا اور اگر توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر سہ باری شراب نوشی کی اور نشہ میں مدہوش ہوا تو اللہ پاک اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ فرمائے گا اگر (اسی حال میں) مرگیا تو جہنم واصل ہوگا اور اگر توبہ کرلی تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر پھر چوتھی بار شراب نوشی کا مرتکب ہوا تو اللہ پر لازم ہے کہ اس کو قیامت کے دن ردغۃ الخبال پلائے۔ لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! ردغۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم (کے جسموں) کا نچڑا ہوا (گندا) پانی۔

ابن ماجہ عن ابن عمرو

فائدہ : ان تمام احادیث میں توبہ قبول فرمانے کا مطلب ہے کہ اس کی نماز قبول ہوجائے گی۔
13227- من شرب الخمر وسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا وإن مات دخل النار، فإن تاب تاب الله عليه، وإن عاد فشرب لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن مات دخل النار، وإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال يوم القيامة قالوا: يا رسول الله ما ردغة الخبال؟ قال: عصارة أهل النار. "هـ عن ابن عمرو"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13228 جس نے شراب نوشی کی اور مدہوش ہوگیا اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی۔ پھر اگر پی لی حتیٰ کہ مدہوش ہوگیا تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی پھر پی تو پھر اسی طرح۔ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔ پھر چوتھی بار پی اور نشہ میں غرق ہوا تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو عین الخبال پلائے ۔ پوچھا گیا : عین الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : جہنمیوں کا خون پیپ وغیرہ۔

مستدرک الحاکم عن ابن عمر (رض) ، صحیح الاسناد بموافقۃ الذھبی (رح)
13228- من شرب الخمر فسكر لم تقبل له صلاة أربعين يوما، ثم إن شربها حتى يسكر لم تقبل له صلاة أربعين يوما، ثم إن شربها فكذلك ثم إن شربها الرابعة فسكر منها كان حقا على الله أن يسقيه من عين الخبال قيل: وما عين الخبال؟ قال: صديد أهل النار. "ك عن ابن عمر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13229 جس نے شراب نوشی کی اللہ پاک چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہ فرمائے گا۔ پھر اگر توبہ تائب ہوا تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر پھر شراب نوشی کی تو اسی طرح ہوگا اگر پھر شراب نوشی کا مرتکب ہوا تو اللہ پاک پر لازم ہے کہ اس کو طینۃ الخبال پلائے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! طینۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم کا خون پیپ۔

مسند احمد عن ابی ذر (رض) ، الکبیر للطبرانی عن ابی الدرداء (رض)
13229- من شرب الخمر لم يقبل الله له صلاة أربعين ليلة، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد كان مثل ذلك، فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال، قيل: يا رسول الله وما طينة الخبال؟ قال: عصارة أهل النار. "حم عن أبي ذر" "طب عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب نوش پر وعیدات۔۔۔الاکمال
13230 جس نے شراب نوشی کی اور مدہوش ہوا اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ فرمائیں گے۔ اگر وہ مرگیا تو واصل جہنم ہوگا۔ اگر توبہ کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر دوسری بار شراب نوشی کی تو اسی طرح ہوگا پھر اگر چوتھی بار بھی شراب نوشی کی تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو ردغۃ الخبال پلائے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! ردغۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم کے جسموں کا گندہ اخون پیپ وغیرہ۔ الکبیر للطبرانی ، مسند ابی یعلی عن عیاض بن عنم

کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد کتاب الاشربۃ 70/5 پر اس کو ذکر فرمایا اور فرمایا : اس کو ابویعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے لیکن اس میں المثنی بن الصباح متروک راوی ہے ، اگرچہ ابو محصن حصین بن غیر نے اس کی توثیق فرمائی ہے لیکن جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
13230- من شرب الخمر فسكر لم تقبل له صلاة أربعين يوما فإن مات فإلى النار فإن تاب قبل الله منه، فإن شرب الثانية فكذلك، فإن شرب الثالثة فكذلك، فإن شرب الرابعة كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال قيل: يا رسول الله وما ردغة الخبال؟ قال: عصارة أهل النار. "طب ع عن عياض بن غنم"
tahqiq

তাহকীক: