কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১১২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11117 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے سچے دل سے اس کے راستے میں قتل ہونے کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کا اجر دیں گے اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو “۔ (ترمذی، بروایت حضرت معاذ (رض) اور مستدرک حاکم بروایت حضرت انس (رض))
11121 من سأل الله القتل في سبيله صادقا من قلبه أعطاه الله أجر الشهادة وإن مات على فراشه.(ت عن معاذ) (ك عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11118 ۔۔۔ فرمایا کہ ” زمین شہید کے خون سے خشک نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس کی دو بیویاں اس کی طرف ایسے متوجہ ہوجاتی ہیں، گویا کہ وہ دونوں دودھ پلانے والی اونٹنیاں ہوں جن کا بچہ وسیع و عریض زمین میں گم ہوگیا تھا، دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لباس ہوتا ہے جو دنیا اور اس چیز سے بہتر ہے جو دنیا میں ہے “ (مسند احمد، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض)
11122 لا تجف الارض من دم الشهيد حتى يبتدره زوجتاه كأنهما ظئران أضلتا فصيلهما في براح من الارض ، وفي يد كل واحدة حلة خير من الدنيا وما فيها.

(حم ه عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11119 ۔۔۔ فرمایا کہ ” خوش ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان دو آدمیوں کو دیکھ کر جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا اور دونوں جنت میں ہیں “۔ (ابن حبان بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
11123 ضحك الله من رجلين قتل أحدهما صاحبه ، كلاهما في الجنة.(حب عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11120 ۔۔۔ فرمایا کہ ” خوش ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان دو آدمیوں کو دیکھ کر جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا، دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں یہ اللہ کے راستے میں قتال کرتا ہوا شہید کیا گیا، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق دی اور وہ مسلمان ہوگیا اور اللہ کے راستے میں قتال کرنے لگا اور شہید کردیا گیا “۔ (مسند احمد، متفق علیہ، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
11124 يضحك الله إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر ، كلاهما يدخلان الجنة ، يقاتل هذا في سبيل الله ، فيقتل ، ثم يتوب الله على القاتل فيسلم ، فيقاتل في سبيل الله فيستشهد.(حم ق ن ه عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11121 ۔۔۔ فرمایا کہ ” شہید کو قتل ہوتے ہوئے اس سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی جتنی دانہ نکلنے سے ہوتی ہے “۔ (ترمذی، ابن حبان بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
11125 ما يجد الشهيد من مس القتل إلا كما يجد من مس القرصة.(ت حب عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11122 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سب سے افضل اللہ کی راہ میں قتل ہونا ہے، پھر یہ کہ تیری وفات ہو مورچہ بندی کی حالت میں پھر یہ کہ تیری وفات ہو حج ہو عمرہ کرتے ہوئے اور اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ دیہاتی اور تاجر ہو کر نہ مرے ؟ (حلیہ ابی نعیم بروایت ابویزید (رض))
11126 أفضل الموت القتل في سبيل الله ، ثم أن تموت مرابطا ثم أن تموت حاجا أو معتمرا ، وإن استطعت أن لا تموت باديا ولا تاجرا ؟ (حل عن أبي يزيد الغوثي) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11123 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کچھ شک نہیں کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہے ان کے لیے عرش کے ساتھ قندلیں لٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔ اڑتے پھرتے جنت میں جہاں چاہتے ہیں اور پھر اپنی قندیلوں میں آ بیٹھتے ہیں، پھر ان کا رب ان کی طرف توجہ فرماتا ہے اور دریافت فرماتا ہے کہ کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ وہ کہتے ہیں ہمیں کس چیز کی خواہش ہوگی جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے پھرتے ہیں ؟ ان سے تین مرتبہ اس طرح پوچھا جاتا ہے اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے یہ سوال ہوتا رہے گا تو وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم دنیا کی طرف لوٹ جائیں اور تیرے راستے میں ایک بار پھر قتل کردئیے جائیں، اور جب رب دیکھتا ہے کہ ان کو کسی چیز کی ضرورت نہیں تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے “۔ (مسلم، ترمذی بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
11127 إن أرواح الشهداء في جوف طير خضر ، لها قناديل ملقة بالعرش تسرح من الجنة حيث شاءت ، ثم تأوى إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم اطلاعة ، فقال : هل تشتهون شيئا ؟ قالوا : أي شئ نشتهى ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا ؟ فيفعل ذلك بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا : يا رب نريد أن ترد أرواحنا في أجسادنا حتى ترجع إلى الدنيا فنقتل في سبيل مرة أخرى ، فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا.

(م ت عن ابن مسعود)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
فرمایا کہ تمہارے لیے قتال کافی ہوجائے۔ ابوداؤد عن سعید بن زید
11128 أن يحسبكم القتل.(د عن سعيد بن زيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی دعا مانگنے والے کے لیے شہادت کا مرتبہ
11125 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر تو اللہ کے راستے میں صبر کرتے ہوئے احتساب کی نیت سے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے ہوئے قتل کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو تیری تمام خطاؤں کا کفارہ بنادیں گے علاوہ قرض کے، اسی طرح جبرائیل نے بھی مجھے بتایا ہے “۔ (مسنداحمد مسلم ترمذی، نسائی بروایت حضرت ابو قتادۃ (رض) اور نسائی بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
11129 إن قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر كفر الله عنك خطاياك إلا الدين ، كذلك قال لي جبريل آنفا.(حم م ت ن عن أبي قتادة) (ن عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11126 ۔ فرمایا کہ ” شہید اپنے گھر والوں میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا “ (ابن حبان بروایت حضرت ابو الدرداء (رض)
11130 الشهيد يشع في سبين من أهل بيته.(حب عن أبي الدرداء).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11127 ۔۔۔ فرمایا کہ ” چیونٹی کا کاٹنا شہید کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے بہ نسبت اسلحہ لگنے کے، بلکہ یہ اس کے نزدیک گرمی کے دن میں ٹھنڈے میٹھے لذیذ پانی کے مشروب سے زیادہ قابل اشتہا ہے “۔ (ابوالشیبہ بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11136 عضة نملة أشد على الشهيد من مسح السلاح ، بل هي أشهى عنده من شراب ماء بارد لذيذ في يوم صائف.(أبو الشيخ عن ابن عباس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11128 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ کے ہاں شہید کی سات خوبیاں ہیں۔

1 ۔۔۔ اس کے خون کا پہلا قطرہ نکلتے ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

2 ۔۔۔ اور جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے، اور اس کو ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔

3 ۔۔۔ حورعین میں سے بہترین حوروں کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جاتا ہے۔

4 ۔۔۔ قبر کے عذاب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

5 ۔۔۔ بڑا ی گھبراہٹ کے دن محفوظ رہے گا۔

6 ۔۔۔ اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت بھی دنیا اور ہر اس چیز سے بہتر ہے جو دنیا میں ہے۔

7 ۔۔۔ اور اس کی شفاعت اس کے گھر کے ستر افراد کے حق میں قبول کی جاتی ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، بروایت حضرت مقدام بن معدیکرب (رض))
11132 للشهيد عند الله سبع صخال : يغفر له في أول دفعة من دمه ، ويرى مقعده في الجنة ، ويحلى حلة الايمان ، ويزوج اثنين وسبعين زوجة من الحور العين ، ويجار من عذاب القبر ، ويؤمن من الفزع الاكبر ، ويوضع على رأسه تاج الوقار ، الياقوتة منه خير من الدنيا وما فيها ، ويشفع في سبعين انسانا من أهل بيته.

(حم ت ه عن تالمقدام بن معد يكرب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11129 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جنت میں داخل ہونے والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ دنیا کی طرف واپس آئے اور اس کے پاس دنیا کی کوئی چیز ہو علاوہ شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ واپس آئے اور قتل کیا جائے دس مرتبہ، جب عزت و اکرام دیکھتا ہے “۔ (متفق علیہ ترمذی، بروایت حضرت انس (رض))
11133 ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وأن له ما على الارض من شئ ، غير الشهيد فانه يتمنى أن يرجع فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة.

(ق ت عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11130 ۔۔۔ فرمایا کہ ” زمین پر کوئی نفس ایسا نہیں جس کی وفات ہو اور اللہ کے پاس اس کی کوئی بھلائی ہو اور وہ یہ پسند کرے کہ تمہاری طرف لوٹ آئے اور اس کی دنیا بھی ہو علاوہ اس مقتول کے جو اللہ کے راستے میں قتل ہوا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ واپس لوٹ آئے دنیا کی طرف اور دوسری مرتبہ قتال کرے اس ثواب کی وجہ سے جو اس نے اپنے لیے اللہ کے پاس دیکھا “۔ (مسند احمد، نسائی، بروایت حضرت عبادۃ (رض))
11134 ما على الارض من نفس تموت ولها عند اله خير تحب أن ترجع اليكم ولها الدنيا إلا القتيل في سبيل الله فانه يحب أن يرجع إلى الدنيا فيقتل مرة أخرى لما يرى من ثواب الله له.(حم ن عن عبادة بن الصامت).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11131 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اہل جنت میں سے قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا “ اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے اے ابن آدم ! تو نے اپنی منزل کیسی پائی ؟ وہ کہے گا اے میرے رب بہترین منزل، پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے مانگ اور خواہش کر، وہ کہے گا کہ اے میرے رب کیا مانگوں اور کیا خواہش کروں علاوہ اس کے کہ آپ مجھے دنیا کی طرف لوٹا دیں تو میں آپ کے راستے میں دس مرتبہ قتال کروں، اس فضیلت کی وجہ سے جو اس شہادت کے بدلے دیکھی ہے، اور اہل جہنم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا، اے ابن آدم، تو نے اپنا ٹھکانا کیسا پایا ؟ وہ کہے گا، اے رب ! بدترین ٹھکانا ، پھر اللہ تعالیٰ دریافت فرمائیں گے کہ کیا تو اس کے فدیے میں زمین کی مقدار بھر سونا دے سکتا ہے ؟ وہ کہے گا جی ہاں اے میرے رب، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا، میں نے تجھ سے اس سے کم اور اس سے آسان چیز مانگی مگر تو نے اس پر عمل نہ کیا، پھر اس کو جہنم کی طرف واپس لے جائے گا “۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی بروایت حضرت انس (رض))
11135 يؤتى بالرجل يوم القيامة من أهل الجنة ، فيقول الله له : يا ابن آدم كيف وجدت منزلك ؟ فيقول : أي رب خير منزل ، فيقول : سل وتمن ، فيقول : يا رب ما أسأل وأتمنى إلا أن تردني إلى الدنيا فاقتل في سبيلك عشر مرات لما يرى من فضل الشهادة ، ويؤتى بالرجل من أهل النار ، فيقول له : يا ابن آدم كيف وجدت منزلك ؟ فيقول : أي رب شر منزل ، فيقول : أتفتدي منه بطلاع الارض ذهبا ؟ فيقول : أي رب نعم ، فيقول : كذبت قد سألت أقل من ذلك وأيسر فلم تفعل ، فيرده إلى النار.

(حم م ن عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11132 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی انسان ایسا نہیں، اس کے لیے اللہ کے پاس بھلائی ہو وہ اس سے خوش ہو کر دنیا کی طرف واپس آجائے (خواہ ) دنیا اور وہ سب جو دنیا میں ہے وہ بھی اس کا ہو علاوہ شہید کے کیونکہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا کی طرف واپس آئے اور ایک مرتبہ پھر قتل ہوجائے اس فضیلت کی وجہ سے جو اس نے شہادت کی دیکھی ہے “۔ (مسند احمد، متفق علیہ، ترمذی بروایت حضرت انس (رض))
11136 ما من نفس تموت لها عند الله خير يسرها أن ترجع إلى الدنيا وأن لها الدنيا وما فيها إلا الشهيد فانه يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل مرة أخرى لما يرى من فضل الشهادة.(حم ق ت عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر افراد کے حق میں شہداء کی سفارش قبول ہوگی
11133 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کو اس کا رب وفات دے اور وہ یہ پسند کرے کہ لوٹ کر تمہارے پاس آجائے اور پوری دنیا میں جو کچھ ہے وہ بھی اس کا ہو علاوہ شہید کے، اور یقیناً مجھے اللہ کے راستے میں قتل ہونا زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ تمام دنیا کے گھر بار میرے ہوجائیں “۔ (مسند احمد، نسائی بروایت محمد بن ابی عمیرۃ (رض))
11137 ما من الناس نفس مسلمة يقبضها ربها تحب أن ترجع اليكم وأن لها الدنيا وما فيها غير الشهيد ولان أقتل في سبيل الله أحب إلي من أن يكون لي أهل الوبر وامدر.

(حم ن عن محمد بن أبي عميرة) وماله غيره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
11134 ۔۔۔ صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا یارسول اللہ ! مومنین کو کیا ہوا کہ شہداء کے علاوہ سب قبروں میں آزمائے جائیں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” شہید کے سر پر چمکتی تلواریں ہی ایک آزمائش ہیں “۔ (نسائی، حکیم عن راشد بن سعد عن رجل من الصحابہ (رض))
11138 كفى ببارقة السيوف على رأسه فتنة.(ن والحكيم عن راشد بن سعد عن رجل من لصحابة) أن رجلا قال : يا رسول الله ما بال المؤمنين يفتنون في قبورهم إلا الشهيد ؟ قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
11135 ۔۔۔ ایک خاتون اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی جو اللہ کے راستے میں شہید ہوچکا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے کیونکہ اسے اہل کتاب نے قتل کیا ہے “۔ (ابوداؤد، عن عبد بن قیس ثابت بن قیس بن شماس عن ابی عن جدہ (رض))
11139 ابنك له أجر شهيدين لانه قتله أهل الكتاب.(د عن عبد الخبير بن قيس بن ثابت بن قيس بن شماس عن أبيه عن جده) قال : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه سلم تسأل عن ابنها قتل في سبيل الله ؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : ابنك له أجر شهيدين ، قالت ولم ؟ قال : لانه قتله أهل الكتاب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
11136 ۔۔۔ فرمایا کہ ” وہ شخص جو اللہ کی راہ میں پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے ہوئے شہید ہوا، اس شہید سے جو پیچھے ہٹتے ہوئے شہید ہوا تھا سال کی مسافت کے مقابلے میں آگے ہوگا، اور یہ میری امت کے مریض صحت یابوں سے ستر سال آگے ہوں گے اور انبیاء حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) سے چالیس سال پہلے آگے بڑھ جائیں گے کیونکہ ان میں بادشاہت تھی “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11140 يسبق المقتول في سبيل الله مقبلا غير مدبر على المقتول مدبرا إلى الجنة بسبعين خريفا ، ومرضى أمتي قبل أصحائهم بسبعين خريفا ، والانبياء قبل سليمان بن داود بأربعين خريفا لما كان فيه من الملك.(طب عن ابن عباس) وضعف.
tahqiq

তাহকীক: