কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১০০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے ہیں
10997 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بخشا ہے اس میں سے میرے لیے خمس کے علاوہ کچھ حلال نہیں، اور خمس تم پر لوٹایا جائے گا، لہٰذا دھاگہ اور سوئی (سب) ادا کردو، اور مال غنیمت میں خیانت سے بچو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن عار اور شرمندگی ہے اور تم پر اللہ کی رضا کی خاطر جہاد کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک عظیم دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے رنج وغم دور کردیتے ہیں “۔ (طبرانی، مستدرک حاکم بروایت حضرت عبادۃ بن الصامت (رض))
11001 يا أيها الناس لا يحل لي مما أفاء الله عليكم إلا الخمس ، والخمس مردود عليكم ، فأدوا الخياط والمخيط ، وإياكم والغلول ، فانه عار على أهله يوم القيامت ، وعليكم بالجهاد في سبيل الله ، فانه باب من أبواب الجنة يذهب الله به الغم والهم.(طب ك عن عبادة الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے ہیں
10998 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اس مال میں میرا کوئی حصہ نہیں سوائے تم میں سے کسی ایک شخص کے حصے کی طرح علاوہ خمس کے اور وہ تم پر لوٹایا جائے گا، لہٰذا ایک دھاگہ اور سوئی یا ان سے بڑی کوئی چیز بھی ادا کردو، اور مال غنیمت میں خیانت سے بچو کیونکہ وہ خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن نہ صرف عار اور شرمندگی ہوگی بلکہ آگ اور بدترین عیب بھی ہوگا “۔ (مسند احمد، طبرانی بروایت حضرت عرباض (رض))
11002 ما لي من هذا المال إلا مثل ما لاحدكم إلا الخمس وهو مردود عليكم ، فادوا الخياط والمخيط فما فوقهما ، وإياكم والغلول ، فانه عار ونار وشنار على صاحبه يوم القيامة.(حم طب عن العرباض).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔ جزیہ کے بیان میں
10999 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مسلمان پر جزیہ نہیں ہے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11003 ليس على مسلم جزية.(حم د عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔ جزیہ کے بیان میں
11000 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک سرزمین پر دوقبلے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی مسلمان پر جزیہ ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11004 لا تصلح قبلتان في أرض واحدة ، وليس على المسلمين جزية.(حم ت عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔ جزیہ کے بیان میں
11001 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک شہر میں دو قبلے نہ ہوں گے “۔ (سنن ابی داؤد بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11005 لا تكون قبلتان في بلدة واحدة.(د عن ابن عباس)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔ جزیہ کے بیان میں
11002 ۔۔ فرمایا کہ ” جس نے زمین کا کوئی حصہ اس کے جزیہ کے بدلے لیا تو اس نے اپنی ہجرت کو ختم کردیا اور جس نے کافر کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈالی تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا “ (سنن ابی داؤد، بروایت حضرت ابوالدرداء (رض)
11006 من أخذ أرضا بجزيتها فقد استقال هجرته ، ومن نزع صغار كافر من عنقه فجعله في عنقه فقد ولى الاسلام ظهره.(د عن أبي الدرداء)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
11003 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مجوسی بھی اہل کتاب ہی کا ایک گروہ ہے لہٰذا ان کو بھی اسی مقام پر رکھو جس پر اہل کتاب کو رکھتے ہو “۔ (ابونعیم فی المعرفہ بروایت حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض))
11007 المجوس طائفة من أهل الكتاب فاحملوهم على ما تحملون أهل الكتاب.
(أبو نعيم في المعرفة عن عبد الرحمن بن عوف).
(أبو نعيم في المعرفة عن عبد الرحمن بن عوف).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچویں فصل ۔۔۔ اجتماعی اور مختلف احکام کے بیان میں
اجتماعی احکام
اجتماعی احکام
11004 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور قتال کرو اس کے ساتھ جو اللہ کا انکار کرے، غزوہ (جنگ) کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو نہ ہی غداری کرو نہ ہی ڈھاٹا باندھو، نومولود بچے کو قتل مت کرو، اور جب تو مشرکین میں سے اپنے دشمن سے ملے تو اس کو تین باتوں کی دعوت دے، ان میں سے جس کا بھی وہ جواب دے قبول کرلے اور ان سے ہاتھ روک لے، پھر ان کو اسلام کی دعوت دے سو اگر وہ جواب دیں تو قبول کرلے تو ان سے ہاتھ روک لے پھر ان کو ان کے علاقوں اور گھروں سے مہاجرین کے علاقے کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دے اور ان کو بتادے کہ اگر انھوں نے اس پر عمل کیا تو اس پر عمل کیا تو ان کے لیے بھی وہی (سہولیات) ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان پر وہی (ذمہ داریاں) ہیں جو مہاجرین پر ہیں، سو اگر وہ اپنے علاقوں سے منتقل ہونے سے انکار کردیں تو ان کو بتادے کہ (اس صورت میں) وہ عام عرب مسلمانوں کی طرح ہوں گے ان پر بھی اللہ کا حکم اس طرح جاری ہوگا جس طرح (عام) مومنین پر جاری ہوتا ہے اور ان کے لیے مال غنیمت اور مال فے میں سے کوئی حصہ نہ ہوگا، علاوہ اس (صورت) کے کہ وہ (بھی) مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، اور اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیہ مانگا گروہ جواب دیں تو قبول کرلے اور ان سے ہاتھ روک لے اور اگر وہ اس سے بھی انکار کردیں تو اللہ سے مدد طلب کر اور ان سے قتل کر، اور جب تو کسی قلعے والوں کا محاصرہ کرلے اور وہ تجھ سے چاہیں کہ تو ان کو اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری پر ڈال دے تو ان کو ہرگز اللہ کے اور اس کے نبی کی ذمہ داری پر نہ ڈال البتہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری پر ان کو امان دے دے کیونکہ اگر تم اپنے اور اپنے ساتھیوں کے نام پر کئے گئے عہد کی عہد شکنی کرو گے تو یہ اس سے ہلکا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کئے گئے عہد کی عہد شن کی کرو، اور جب تو کسی قلعے والوں کا محاصرہ کرے اور وہ تجھ سے چاہیں کہ تو انھیں اللہ کے حکم پر امان دے دے تو ان کو اللہ کے حکم پر امان نہ دے بلکہ اپنے حکم پر امان دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان کے معاملے میں اللہ کے حکم کا پاس رکھ سکے گا یا نہیں “۔ (مسند احمد، مسلم، بخاری، نسائی، ابوداؤد، بروایت حضرت بریدۃ (رض))
11008 اغزوا بسم الله ، وفي سبيل الله ، وقاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ، ولا تقتلوا وليدا ، وإذ لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال ، فايتهن ما أجابوك فاقبل منهم ، وكف عنهم ، ثم ادعهم إلى الاسلام فان أجابوك فاقبل منهم ، وكف عنهم ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك فلهم ما للمهاجرين ، وعليهم ما على المهاجرين ، فان أبوا أن يتحولوا منها ، فأخبرهم انهم يكونون كأعراب المسلمين يجري عليه حكم الله الذي يحري على المؤمنين ، ولا يكون لهم في الغنيمة والفئ شئ ، إلا أن يجاهدوا مع المسلمين ، فان أبوا فسلهم الجزية فان أجابوك فاقبل منهم ، وكف عنهم ، فان هم أبوا فاستعن بالله وقاتلهم ، فإذا حاصرت أهل حصن وأرادوك أن تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيه فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيه ، ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة أصحابك ، فانكم إن تخفروا ذمتكم وذمة أصحابكم أهون من أن تخفروا ذمة الله وذمة رسوله ، وإذاحاصرت أهل حصن فارادوك أن تنزلهم على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله ولكن أنزلهم على حكمك ، فانك لا تدري أتصيب حكم الله فيهم أم لا.
(حم م عن بريدة).المتفرقة
(حم م عن بريدة).المتفرقة
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف احکام
11005 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مشرکوں کے بوڑھوں کو قتل کرو اور ان میں سے بھی پہلے ان کو مارو جو نسبتاً کم عمر ہیں “۔ (مسند احمد ابوداؤد، ترمذی بروایت حضرت سمرۃ (رض))
11009 اقتلوا شيوخ المشركين ، واستبقوا شرخهم.(حم د ت عن سمرة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف احکام
11006 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب تم دسویں سے ملو تو اسے قتل کردو “۔ (مسند احمد بروایت حضرت مالک بن عتاھیۃ)
11010 إذا لقيتم عاشرا فاقتلوه (2) (حم عن مالك بن عتاهية).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف احکام
11007 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یہ پانے لے جاؤ، اور جب تم اپنے شہر آؤ تو اپنے گرجے توڑ دو اور ان کی جگہ اس پانی سے اچھی طرح سے دھولو اور پھر اس جگہ کو مسجد بنالو “۔ (مسند احمد، ابن حبان، بروایت حضرت طلق بن علی (رض))
11011 اذهبوا بهذا الماء ، فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء ، واتخذوها مسجدا.(حم حب عن طلق ابن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف احکام
11008 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کسی صورت (تصویر) کو مٹائے بغیر مت چھوڑتا اور نہ کسی بلند (اٹھی ہوئی) قبر کو برابر کئے بغیر چھوڑنا “۔ (مسلم، نسائی بروایت حضرت علی (رض))
11012 لا تدع تمثالا إلا طمسته ، ولا قبرا مشرفا إلا سويته (م ن عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11009 ۔۔۔ فرمایا کہ ” چلو اللہ اور اس کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول کی ملت پر، شیخ فانی کو قتل نہ کرنا، نہ چھوٹے بڑے بچے کو اور نہ کسی عورت کو، اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور اپنے مال غنیمت کو ملالو اور اصلاح کرو اور اچھا سلوک کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھا سلوک کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ (سنن ابی داؤد بروایت حضرت انس (رض))
11013 انطلقوا بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله ، لا تقتلوا شيخا فانيا ، ولا طفلا صغيرا ولا امرأة ولا تغلوا وضموا غنائمكم وأصلحوا وأحسنوا إن الله يحب المحسنين.
(د عن أنس).
(د عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11010 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کیا ہوا ان قوموں کو کہ قتال ان کا حد سے آگے بڑھ گیا یہاں تک کہ ننھے بچوں کو قتل کردیا۔ سنو ! تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو مشرکوں کے بیٹے ہیں، سنو ! اولادوں کو قتل نہ کرو، سنو ! اولادوں کو قتل نہ کرو، ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اسی فطرت (فطری طریقے) پر ہی رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے اس کی زبان کا توتلاپن ختم کردیا جائے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی بنادیتے ہیں (مسند احمد، نسائی، ابن حبان، مستدرک حاکم بروایت اسود بن سریع (رض)
11014 ما بال أقوام جاوز بهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية ، ألا إن خياركم أبناء المشركين ، ألا لا تقتلوا ذرية ، ألا لا تقتلوا ذرية ، كل نسمة تولد على الفطرة فما تزال عليها حتى يعرب عنها لسانها فأبواها يهودانها أو ينصرانها.(حم ن حب ك عن الاسود بن سريع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11011 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرۃ عرب سے نکال دو “۔ (مسلم بروایت حضرت عمر (رض))
11015 اخرجوا اليهود والنصارى من جزيرة العرب.(م عن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11012 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یہودیوں کو حجاز سے نکال دو اور اہل نجران کو جزیرۃ عرب سے نکال دو اور جان لو کہ بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا “۔ (مسند احمد، مسند ابی یعلی، حلیہ ابی نعیم، ضیاء بروایت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض))
11016 أخرجوا يهود الحجاز وأهل نجران من جزيرة العرب اعلموا أن شر الناس الذيت اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد.
(حم ع حل والضياء عن أبي عبيدة بن الجراح).
(حم ع حل والضياء عن أبي عبيدة بن الجراح).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور ٹھکانا دو وفد کو جیسا کہ میں ان کو ٹھکانا دیتا ہوں۔ خرائطی سن ابوداؤد
11017 أخرجوا المشركين من جزيرة العرب وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم.(خ د عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11013 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ہجرت اس وقت منقطع نہ ہوگی جب تک جہاد جاری رہے گا “ (مسند احمد بروایت حضرت جنادۃ (رض)
11018 إن الهجرة لا تنقطع ما دام الجهاد.(حم عن جنادة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
11015 ۔۔۔ فرمایا کہ ” قوم کا حلیف (ساتھی) انہی میں سے ہے اور کسی قوم کی لڑکی کا بیٹا بھی انہی (اسی قوم) میں سے ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عمروبن عوف (رض))
11019 حليف القوم منهم ، وابن أخت القوم منهم.(طب عن عمرو بن عوف)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں کن لوگوں کا قتل جائز نہیں
جو شخص کسی چیز پر مسلمان ہوا وہ اس کے لیے ہے۔ بیہقی عن ابوہریرہ
11020 من أسلم على شئ فهو له.(عد هق عن أبي هريرة).
তাহকীক: