কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১০৯৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10977 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں نے گھوڑے کے دو حصے مقرر کئے ہیں اور سوار کے بھی دو حصے، سو جو اس میں سے کم کرے اللہ تعالیٰ اس کو کم کرے “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابو کبشہ (رض))
10981 إني جعلت للفرس سهمين ، وللفارس سهمين ، فمن نقصهانقصه الله.(طب عن أبي كبشة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10978 ۔۔۔ فرمایا کہ ” غلام کو مال غنیمت میں سے کچھ نہیں دیا جائے گا، بلکہ اس کو ردی اور گھٹیا سامان میں سے دیا جائے گا اور اس کا امان دینا جائز ہے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابن عباس (رض))
10982 العبد لا يعطي من الغنيمة شيئا ، ويعطي من خرثي المتاع وأمانه جائز.(ق وضعفه عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10979 ۔۔۔ فرمایا کہ ” غلام کے لیے غنیمت میں کوئی حصہ نہیں غلام کم قیمت مال لے البتہ اس کا امان دینا جائز ہے اور اگر کوئی عورت کسی قوم کو امان دے تو وہ بھی جائز ہے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت علی (رض))
10983 ليس للعبد في الغنيمة إلا خرثي المتاع وأمانه جائز ، وأمان المرأة جائز إذا هي أعطت القوم الامان.(ق عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10980 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کوئی شخص مال کے تقسیم ہونے سے پہلے اس میں اپنا مال پائے تو اسی کا ہے اور اگر تقسیم کے بعد پائے تو اب اس کے لیے اس میں سے کچھ نہیں “۔ (خطیب بروایت حضرت بن عمر (رض))
10984 من وجد ماله في الفئ قبل أن يقسم فهو له.ومن وجده بعد ما قسم فليس له شئ.(الخطيب عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10981 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مشرکوں کی غنیمت میں سے مسلمانوں کے لیے کچھ جائز نہیں، نہ کم نہ زیادہ، نہ دھاگہ نہ سوئی، نہ لینے والے کے لیے نہ دینے والے کے لیے مگر اس کے حق کے ساتھ “ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت ثوبان (رض))
10985 لا يحل لاحد من المسلمين شئ من غنائم المشركين قليل ولا كثير خيط ولا مخيط ، لا آخذ ولا معط إلا بحق.(ع عن ثوبان).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10982 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک خمس اللہ کے لیے اور باقی چار خمس لشکر کے لئے، عرض کیا گیا کہ کیا کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حق دا رہے ؟ فرمایا، اس تیر کا بھیج تو اپنے پہلو سے نکالتا ہے اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں (بغوی عن رجل عن بلقین
10986 لله خمس ، وأربعة أخماس للجيش ، قيل : فما أحد أحق من أحد ؟ قال : ولا السه تستخرجه من جنبك فلست أحق به من أخيك المسلم.(البغوي عن رجل من بلقين) قال قلت يا رسول الله ما تقول في الغنيمة قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10983 ۔۔۔ فرمایا کہ ” شاید تو ایسا مال پائے جو ابھی لوگوں میں تقسیم نہیں ہوا، اور تیرے لیے تو سارے مال سے اللہ کے راستے میں ایک سواری ایک خادم ہی کافی ہے “۔ (طبرانی، بغوی، ابن عساکر، بروایت ابو ہاشم بن شیبہ بن عتبہ)
10987 لعلك أن تدرك أموالا لا تقسم بين أقوام ، وإنما يكفيك من جمع المال مركب في سبيل الله ، وخادم.(طب والبغوي وابن عساكر عن أبي هاشم بن شيبة بن عتبة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10984 ۔۔۔ فرمایا کہ ” عرب مسلمانوں کے لیے مال فئ اور غنیمت میں کوئی حصہ نہیں جب تک وہ اور مسلمانوں کے ساتھ جہاد نہ کریں “۔ (ابن النجار بروایت حضرت بریدۃ (رض))
10988 ليس لاعراب المسلمين في الفئ والغنيمة شئ ، إلا ن يجاهدوا مع المسلمين.(ابن النجار عن بريدة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے لیے مباح چیزیں
10985 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دس چیزیں جنگ میں مباح ہیں۔
1 ۔۔۔ کھانا۔ 2 ۔۔۔ سالن۔ 3 ۔۔۔ پھل۔ 4 ۔۔۔ درخت۔ 5 ۔۔۔ سرکہ۔ 6 ۔۔۔ تیل۔ 7 ۔۔۔ مٹی۔ 8 ۔۔۔ پتھر۔ 9 ۔۔۔ بےچھلی لکڑی۔ 10 ۔ تازہ کھال۔ (طبرانی ابن عساکر بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض)
1 ۔۔۔ کھانا۔ 2 ۔۔۔ سالن۔ 3 ۔۔۔ پھل۔ 4 ۔۔۔ درخت۔ 5 ۔۔۔ سرکہ۔ 6 ۔۔۔ تیل۔ 7 ۔۔۔ مٹی۔ 8 ۔۔۔ پتھر۔ 9 ۔۔۔ بےچھلی لکڑی۔ 10 ۔ تازہ کھال۔ (طبرانی ابن عساکر بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض)
10989 عشر مباحة لكم في الغزو : الطعام والادام ، والثمار ، والشجر والخل ، والزيت والتراب ، والحجر ، والعود غير منحوت ، والجلد الطري.(طب وابن عساكر عن عائشة) وفيه أبو مسلمة العاملي متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے لیے مباح چیزیں
10986 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میری چادر مجھے دے دو اگر میرے پاس ان کانٹوں کی تعداد کے برابر نعمتیں ہوتی تو میں سب تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے نہ جھوٹا پاؤ گے نہ کنجوس اور نہ بزدل “۔ (مسند احمد، بخاری، ابن حبان بروایت حضرت جبیر بن معجم (رض) ، اور طبرانی بروایت حضرت ابن عباس (رض))
10990 أعطوني ردائي فلو كان لي عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم ثم لا تجدوني كذابا ولا بخيلا ولا جبانا.(حم خ حب عن جبير ابن مطعم) (طب عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے لیے مباح چیزیں
10987 ۔۔۔ حضرت عباس (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ اپنے لیے تخت بنالیں تو (کیسا ہوگا ؟ ) کیونکہ لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم میں ان کے درمیان موجود رہوں گا، میری چادر مجھ سے چھینی جاتی رہے گی اور ان کا غبار مجھ تک پہنچتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان سے راحت دے “۔ (ابن سعد بروایت عکرمہ)
10991 والله لا أزال بين ظهرانيهم ينازعوني ردائي ويصيبني غبارهم حتى يكون الله يريحني منهم.(ابن سعد عن عكرمة) قال : قال العباس : يا رسول الله لو اتخذت عرشا فان الناس قد آذوك قال : فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے لیے مباح چیزیں
10988 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں ان کے درمیان موجود رہوں گا وہ میرے نقش قدم کو روندتے رہیں گے اور مجھ سے میری چادر چھینتے رہیں گے اور ان کا غبار مجھ تک پہنچتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ ہی وہ ہوگا جو مجھے ان سے راحت دے گا “۔ (طبرانی بروایت حضرت عباس (رض) بن عبدالمطلب)
10992 لا أزال بين أظهرهم يطؤن عقبي وينازعوني ردائي ويصيبني غبارهم حتى يكون الله هو الذي يريحني منهم.(طب عن العباس بن عبد المطلب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے لیے مباح چیزیں
10989 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں تمہارے درمیان رہوں گا اور تم لوگ میرے نقش قدم پر چلتے رہو گے یہاں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اٹھائیں گے، مجھے میرے حق سے زیادہ بلند نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنانے سے پہلے بندہ بنایا ہے “۔ (ابن عساکر بروایت حضرت علی بن الحسین، زین العابدین (رض) ، وقال رسل حسن الاسناد)
10993 لا أزال بينكم تطؤن عقبي حتى يكون الله يرفعني ، لا ترفعوني فوق حقي ، فان الله اتخذني عبدا قبل أن يتخذني نبيا.(ابن عساكر عن علي بن الحسين) وقال مرسل حسن ن الاسناد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ خمس کے بیان میں
10990 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یہ تمہاری غنیمتوں میں سے ہے ، اور اس میں سے میرے لیے کچھ بھی حلال نہیں علاوہ میرے حصے کے جو تمہارے ساتھ ہے علاوہ خمس کے اور خمس تم پر لوٹایا جائے سودھاگہ اور سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز یا چھوٹی، ادا کردو اور غلول نہ کرو، کیونکہ غلول (خیانت) جہنم ہے اور دنیا اور آخرت میں غلول کرنے والوں کے لیے عار اور شرمندگی ہے، اور اللہ کی رضا کے لیے دور نزدیک لوگوں سے جہاد کرو اور اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرو، سفر میں ہو یا حضر میں اللہ کی حدود قائم کرو، اللہ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جنت کے دروازوں میں سے ایک عظیم دروازہ ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانیوں سے نجات عطا فرماتے ہیں “۔ (مسند احمد، شاشی، طبرانی مستدرک حاکم سعید بن منصور بروایت حضرت عبادۃ بن صامت (رض))
10994 إن هذه من غنائمكم ، وإنه ليس يحل لي منها إلا نصيبي معكم ، إلا الخمس ، والخمس مردود عليكم ، فادوا الخيط والمخيط أو أكبر من ذلك أو أصغر ، ولا تغلوا ، فان الغلول نار وعار على أصحابه في الدنيا والآخرة ، وجاهدوا الناس في الله تعالى القريب والبعيد ، ولا تبالوا في الله لومة لائم ، وأقيموا حدود الله في الحضر والسفر ، وجاهدوا في سبيل الله تعالى فان الجهاد بابا من أبواب لجنة عظيم ، وإنه ينجي الله به من الهم والم.(حم والشاشي طب ك ص عن عبادة بن الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ خمس کے بیان میں
فرمایا میرے لیے خمس لینے کے بعد غنائم میں سے اس وزن کے برابر بھی جائز نہیں، خمس کے لیے علاوہ تمام چیزیں تمہاری طرف لوٹادی جائیں گی، الباوردی عن عبادہ بن صامت)
10995 إنه لا يحل لي من غنائمكم ما يزن هذه بعد الخمس وهو مردود فيكم.(الباوردي عن عبادة بن الصامت وبأى الدرداء والحارث بن معاوية الكندي) (طب عن عمرو بن عبسة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ خمس کے بیان میں
10992 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک میرے لیے اس مال میں سے کچھ حلال نہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخشا ہے ان بالوں کی طرح علاوہ خمس کے پھر وہ تم میں لوٹا دیا جائے گا “۔ (مصنف عبد الرزاق حضرت حسن (رض) مرسلا)
10996 إنه لا يحل لي مما أفاء الله عليكم مثل هذه الشعرات إلا الخمس ثم هو مردود عليكم.(عبد الرزاق عن الحسن) مرسال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ خمس کے بیان میں
10993 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سنو ! بیشک یہ تمہارے مال غنیمت میں سے ہے اور میرے لیے اس میں سے صرف خمس حلال ہے اور خمس تم پر لوٹایا جائے گا چنانچہ ایک دھاگہ، اور سوئی اور اس سے چھوٹی کوئی چیز اور اس سے بڑی کوئی چیز (ہو تو) ادا کردو، کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، خیانت کرنے والے کے لیے دنیا اور آخرت میں عار اور شرمندگی کا باعث ہوگی، اللہ کی رضا کے لیے دورونزدیک لوگوں سے جہاد کرو اور اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا مت کرو، اور سفر میں ہو یا حضر میں اللہ کی حدود قائم کرو اور تم پر جہاد لازم ہے کیونکہ جہاد جنت کے درازوں میں سے ایک عظیم دروازہ ہے، اس سے اللہ تعالیٰ غم اور رنج سے نجات عطا فرماتے ہیں “۔ (متفق علیہ، ابن عساکر بروایت حضرت عبادۃ بن الصامت (رض))
10997 ألا إن هذا من غنائمكم ، وليس لي منه إلا الخمس والخمس مردود عليكم ، فأدوا الخيط والمخيط وأصغر من ذلك وأكبر ، فان الغلول عار على أهله في الدنيا والآخرة ، جاهدوا الناس في الله القريب والبعيد ،ولا تبالوا في الله لومة لائم ، وأقيموا حدود الله في الحضر والسفر ، وعليكم بالجهاد فانه بابا من أبواب الجنة عظيم ينجي الله به من الغم والهم.(ق وابن عساكر عن عبادة بن الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے ہیں
10994 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو علاقہ بھی اللہ اور اس کے رسول فتح کریں وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور جس علاقے کو مسلمان جنگ کرکے فتح کریں تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور باقی سارا ان لوگوں کا ہے جنہوں نے جنگ کی ہے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10998 أيما قرية افتتحها الله ورسوله فهي لله ورسوله ، وأيما قرية افتتحا المسلمون عنوة فخمسها لله ولرسوله ، وبقيتها لمن قاتل عليها.(ق عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے ہیں
10995 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے لوگو ! نہ میرے لیے اور نہ کسی اور کے لیے مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کچھ حلال ہے اس اونٹ کی پشت کے بال برابر بھی کوئی چیز حلال نہیں علاوہ اس کے جو اللہ نے میرے لیے فرض کیا ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عمروبن خارجہ (رض))
10999 أيها الناس لا يحل لي ولا لاحد من مغانم المسلمين ما يزن هذه الوبرة بعد الذي فرض الله لي.(طب عن أبن ابن عمرو بن خارجة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے ہیں
10996 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں مسلمانوں میں سے کسی شخص سے زیادہ اس بال کا حق دار نہیں ہوں۔ (مسند احمد بروایت حضرت علی (رض))
11000 ما أنا بأحق بهذه الوبرة من رجل من المسلمين.(حم عن علي).
তাহকীক: