কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১০৯৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب۔۔۔ جہاد کے احکام کے بیان میں
اس میں پانچ فصلیں ہیں۔
پہلی فصل۔۔۔ امان، معاہدہ، صلح اور وعدہ پورا کرنے کے بیان میں
اس میں پانچ فصلیں ہیں۔
پہلی فصل۔۔۔ امان، معاہدہ، صلح اور وعدہ پورا کرنے کے بیان میں
10937 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً اللہ کے بندوں میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور پرسکون رہتے ہیں “۔ (طبرانی، حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت ابو حمید الساعدی (رض) اور مسند احمد بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض))
10941 إن خيار عباد الله الموفون المطيبون.(طب حل عن أبي حميد الساعدي) (حم عن عائشة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10938 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے کسی شخص کو امان دی پھر اسے قتل کردیا تو جہنم اس کے لیے واجب ہوگئی اگرچہ وہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو “۔ (طبرانی بروایت حضرت معاذ (رض))
10942 من أمن رجلا على دمه فقتله وجبت له النار ، وإن المقتول كافرا.(طب عن معاذ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10939 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے کسی شخص کو امان دی اور پھر اسے قتل کردیا تو وہ قیامت کے دن غداروں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا “۔ (ابن ماجہ، طبرانی، متفق علیہ بروایت حضرت محمد بن الحمق (رض))
10943 من أمن رجلا على دمه فقتله فانه يحمل لواء غدر يوم القيامة.(ط ه طب ق عن عمرو بن الحمق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10940 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر ہم میں سے کوئی ان کے پاس چلا گیا تو اللہ نے اس کو کردیا جو ان میں سے ہمارے پاس آگیا ہم اس کو واپس کردیں گے اللہ تعالیٰ اس کے لیے خلاصی کی کوئی سبیل بنائیں گے “۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت انس (رض))
10944 من أتاهم منا فابعده الله ومن أتانا منهم فرددناه إليهم جعل الله له فرجا ومخرجا.(ع عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10941 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے میرے ذمہ کی خلاف ورزی کی میں اس سے جھگڑوں گا اور جس سے میں جھگڑا تو۔۔۔ (طبرانی بروایت ابواسوار العددی (رض))
10945 من يخفر ذمتي كنت خصمه ، ومن خاصمته خصمته.
(طب عن أبي السوار العدوي) بلاغا.
(طب عن أبي السوار العدوي) بلاغا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10942 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے لوگو ! یقیناً تم نے یہودیوں کے اموال میں جلدی کی، سنو ! معاہدین کا مال ناحق لے لینا حلال نہیں، اور تم پر گھریلو گدھوں، گھوڑوں ! اور خچروں کا گوشت حرام ہے، اور ہر پھاڑ کھانے والے جانور کا بھی اور پنجے والے پرندوں کا گوشت بھی حرام ہے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، باوردی، بروایت حضرت خالد بن ولید (رض) )
طبرانی یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ ” فرمایا کہ ” سنو ! کوئی شخص اپنے تخت پر تکیہ لگائے یہ نہ کہے کہ جو ہم نے کتاب اللہ میں سے حلال پایا اسے حلال کیا اور جو کتاب اللہ میں حرام پایا اسے حرام قرار دیا، سنو ! میں بھی تم پر معاہدین کا مال ناحق لینا حرام قرار دیتا ہوں، سنو ! جس کی وہ طاقت نہ رکھتا تھا یا اس سے اس کی رضامندی کے بغیر کوئی چیز لے لی، تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں لڑوں گا۔ (بروایت صفوان بن سلم عن من ابناء الصحابۃ من آبادنیۃ (رض) )
اور بخاری مسلم میں یہ اضافہ ہے، کہ ” سنو ! جس نے کسی معاہد کو قتل کردیا جو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ پر تھا تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کردی جاتی ہے حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے “۔
طبرانی یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ ” فرمایا کہ ” سنو ! کوئی شخص اپنے تخت پر تکیہ لگائے یہ نہ کہے کہ جو ہم نے کتاب اللہ میں سے حلال پایا اسے حلال کیا اور جو کتاب اللہ میں حرام پایا اسے حرام قرار دیا، سنو ! میں بھی تم پر معاہدین کا مال ناحق لینا حرام قرار دیتا ہوں، سنو ! جس کی وہ طاقت نہ رکھتا تھا یا اس سے اس کی رضامندی کے بغیر کوئی چیز لے لی، تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں لڑوں گا۔ (بروایت صفوان بن سلم عن من ابناء الصحابۃ من آبادنیۃ (رض) )
اور بخاری مسلم میں یہ اضافہ ہے، کہ ” سنو ! جس نے کسی معاہد کو قتل کردیا جو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ پر تھا تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کردی جاتی ہے حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے “۔
10946 أيها الناس إنكم قد أسرعتم في حظائر اليهود ألا لا تحل أموال المعاهدين إلا بحقها ، وحرام عليكم لحوم الحمر الاهلية وخيلها وبغالها وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير.(حم د والباوردي عن خالد بن الوليد) طب وزاد : ألا لا يقول رجل متكئ على أريكته : وما وجدنا في كتاب الله من حلال أحللناه ، وما وجدنا في كتاب الله من حرام حرمناه ، ألا وإني حرمت عليكم أموال المعاهدين بغير حقها ألا من ظلم معاهدا أو انتقصه أو كلفه فوق طاقته أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس فأنا حجيجه يوم القيامة.(عن صفوان بن سليم عن عدة من أبناء الصحابة عن آبادنيه) زاد ق : ألا ومن قتل معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله حرم عليه ريح الجنة ، وان ريحها ليوجد من مسيرة سبعين خريفا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10943 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے ایسے معاہد کو قتل کردیا جو اپنے ذمی ہونے کو مانتا تھا اور اپنا مقررہ جزیہ بھی ادا کرتا تھا تو میں قیامت کے دن اس کی طرف سے جھگڑوں گا “۔ (ابن مندہ اور ابو نعیم فی المعرفۃ بروایت حضرت عبداللہ بن جراد)
10947 من ظلم معادها مقرا بذمته موديا لجزيته كنت خصمه يوم القيامة.
(ابن منده وأبو نعيم في املعرفة عن عبد الله بن جراد).
(ابن منده وأبو نعيم في املعرفة عن عبد الله بن جراد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10944 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں علاوہ ان شرطوں کے جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردیں، اور لوگوں کے درمیان صلح بھی جائز ہے علاوہ اس صلح کے جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیں “۔ (طبرانی، کامل ابن عدی، متفق علیہ بروایت کثیر بن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ (رض) )
اور صلح مسلمانوں کے درمیان جائز ہے علاوہ اس صلح کے جو حرام کو حلال کردے اور حلال کو حرام کردے “۔ (ابوداؤد، متفق علیہ، مستدرک حاکم بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض) ، ترمذی، ابن ماجہ، متفق علیہ بروایت کثیر بن عبداللہ بن عمروبن عوف المدنی عن ابیہ عن جدہ، مستدرک حاکم عنہ)
اور یہ اضافہ کیا ہے اور مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں علاوہ اس شرط کے جو حلال کو حرام کردے۔
اور صلح مسلمانوں کے درمیان جائز ہے علاوہ اس صلح کے جو حرام کو حلال کردے اور حلال کو حرام کردے “۔ (ابوداؤد، متفق علیہ، مستدرک حاکم بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض) ، ترمذی، ابن ماجہ، متفق علیہ بروایت کثیر بن عبداللہ بن عمروبن عوف المدنی عن ابیہ عن جدہ، مستدرک حاکم عنہ)
اور یہ اضافہ کیا ہے اور مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں علاوہ اس شرط کے جو حلال کو حرام کردے۔
10948 المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما ، والصلح بين الناس جائز إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا.(طب عد ق عن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده) والصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا أحل حلالا أو حرم حراما.
(د ق ك عن أبي هريرة ت حسن صحيح ه ق عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده (ك عنه) وزاد : والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا.
(د ق ك عن أبي هريرة ت حسن صحيح ه ق عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده (ك عنه) وزاد : والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10945 ۔۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ خط اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زبیر بن اقیش کی طرف ہے سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کا پیروکارہو، میں تمہارے سامنے اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں علاوہ اس کے امابعد۔ اگر تم گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے جدا ہوجاؤ اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اور نبی اور صفی کا حصہ الگ کرو تو تم لوگ محفوط رہو گے اللہ اور اس کے رسول کی امان میں “۔ (ابن ماجہ، مسند احمد، ابوداؤد، مستدرک حاکم، بغوی، باوردی طبرانی، متفق علیہ بروایت حضرت نعمان بن لولب (رض))
10949 بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا كتاب من محمد رسول الله إلى زهير بن أقيش سلام على من ابتع الهدى ، إني أحد اليكم الله الذي لا إله إلا هو ، أما بعد إن شهدتم أن لا إله إلا الله وأقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة وفارقتم المشركين واعطيتم من المغانم الخمس وسهم النبي والصفي فانتم آمنون بأمان الله وأمان رسول الله.(ه حم د ك والبغوي والباوردي طب ق عن النعمان بن لولب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10946 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ہم نے بھی اس کو پناہ دی جس کو آپ نے پناہ دی اور ہم نے بھی اس کو امان دی جس کو آپ نے امان دی “۔ (ابوداؤد، متفق علیہ، ترمذی بروایت حضرت ام ھانثی (رض))
10950 قد أجرنا من أجرت وآمنا من آم نت.(د ق [ ت ] حسن صحيح عن أم هانئ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10947 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ترکوں کو نہ چھیڑو جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں “۔ (طبرانی بروایت حضرت ذی الکلاع (رض))
10951 اتركوا الترك ما تركوكم.(طب عن ذي الكلاع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10948 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ترکوں کو نہ چھیڑو جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں “۔ (طبرانی بروای حضرت معاذ (رض))
10952 اتركوا الترك ما تركوكم.(طب عن معاذ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10949 ۔۔۔ فرمایا کہ ” عشر تو صرف یہودیوں اور عیسائیوں پر ہے اور مسلمانوں پر عشر نہیں ہے “۔ (ابوداؤد، بروایت رجل)
10953 إنما العشور على اليهود والنصارى ، وليس على المسلمين عشور.(د عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10950 ۔۔۔ فرماا کہ ” وہ زمین جو بارانی ہوں، یانہروں اور چشموں سے سیراب ہوتی ہوں، یاعشری ہوں تو ان میں عشر ہے اور وہ زمینیں جو راھٹ کے ذریعے یا چھڑکاؤ کے ذریعے سیراب کی جاتی ہیں تو ان میں نصف عشر ہے “۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، بروایت ابن عمر (رض))
10954 فيما سقت السماء والانهار والعيون أو كان عثريا العشر وفيما سقي بالسواني أو النضح نصف العرش.(حم خ عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10951 ۔۔۔ فرمایا کہ ” وہ زمینیں جو بارانی ہوں یا نہری یا چشموں سے سیراب ہونے والی ہوں تو ان میں عشر ہے اور وہ زمینیں جو راھٹ کے ذریعے سیراب کی جائیں اس میں نصف عشر ہے “۔ (مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، نسائی، بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت جابر (رض))
10955 فيما سقت السماء والانهار والعيون العشر وفيما سقت السانية نصف العشر.(حم م د ن هق عن جابر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10952 ۔۔۔ فرمایا کہ ” وہ زمینیں جو بارانی ہوں یا چشموں کے ذریعے سیراب کی جاتی ہوں ان میں عشر ہے اور وہ زمینیں جو چھڑکاؤ کے ذریعے سیراب کی جائیں ان میں نصف عشر ہے “۔ (ترمذی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10956 فيما سقت السماء والعيون العشر وفيما سقي بالنضح نصف العرش.(ت ه د عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10953 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مسلمانوں پر عشر نہیں ہے، عشر تو صرف یہودیوں اور عیسائیوں پر ہے “۔ (ابن سعد، مسند احمد بروایت حرب بن ھلال الثقفی بروایت عن جدہ ابی امیۃ رجل من تغلب )
10957 ليس على المسلمين عشور ، إنما العشور على اليهود والنصارى.(ابن سعد حم عن حرب بن هلال الثقفي عن جده أبي أمية رجل من تغلب)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ عشر کے بیان میں
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ جس طرح خمس پانچویں حصے کو کہتے ہیں اس طرح عشر دسویں حصے کو کہتے ہیں البتہ خمس مال غنیمت میں ہوتا ہے اور عشر۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10954 ۔۔۔ فرمایا کہ ” عشر تو صرف یہودیوں اور عیسائیوں پر ہے اور مسلمانوں پر عشر نہیں ہے “۔ (ابن سعد، بغوی، ابن قانع، متفق علیہ، بروایت حرب بن عبید اللہ عن جہ ابی امیۃ عن ابیہ)
اور بغوی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے عطاء بن السائب عن حرب عن جدہ کی سند سے روایت کیا ہے اور کسی ایک نے بھی اس میں عن ابیہ نہیں کہا علاوہ ابوالاحرص کے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، متفق علیہ عن رجل من بکر بن وائل عن خالہ اور بغوی عن حرب بن عبید اللہ الثقفی عن خالہ اور بغوی عن حرب بن ھلال الثقفی عن رجل من بی تغلب)
اور بغوی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے عطاء بن السائب عن حرب عن جدہ کی سند سے روایت کیا ہے اور کسی ایک نے بھی اس میں عن ابیہ نہیں کہا علاوہ ابوالاحرص کے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، متفق علیہ عن رجل من بکر بن وائل عن خالہ اور بغوی عن حرب بن عبید اللہ الثقفی عن خالہ اور بغوی عن حرب بن ھلال الثقفی عن رجل من بی تغلب)
10958 إنما العشور على اليهود والنصارى ، وليس على المسلمين عشور.(ابن سعد والبغوي وابن قانع ق عن حرب بن عبيد الله عن جده أبي أمية عن أبيه) قال البغوي : رواه جماعة عن عطاء بن السائب عن حرب عن جده ولم يقل فيه أحد عن أبيه غير أبي الاحوص.(حم د ق عن رجل من بكر بن وائل عن خاله) (البغوي عن حرب ابن عبيد الله الثقفي عن خاله) (البغوي عن حرب بن هلال الثقفي عن رجل من بني تغلب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ خمس اور غنیمت کی تقسیم کے بیان میں
10955 ۔۔۔ فرمایا کہ ” چرنے والے جانور معاف ہیں، معدنیات معاف ہیں اور خود گاڑے ہوئے مال میں خمس ہے “۔ (مسند احمد بروایت حضرت جابر (رض))
فائدہ :۔۔۔ اس روایت کے ذیل میں کچھ خالص علمی بحث ہے جس کے لیے کسی مستند دارالافتاء یا مفتی کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے عوام الناس کے لیے یہ تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں ہے بقول شخصے :
ان مسائل میں کچھ زرف نگاہی ہے درکار یہ مسائل ہیں کوئی تماشہ لب بام نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ اس روایت کے ذیل میں کچھ خالص علمی بحث ہے جس کے لیے کسی مستند دارالافتاء یا مفتی کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے عوام الناس کے لیے یہ تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں ہے بقول شخصے :
ان مسائل میں کچھ زرف نگاہی ہے درکار یہ مسائل ہیں کوئی تماشہ لب بام نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10959 السائمة جبار والمعدن جبار ، وفي الركاز الخمس (حم عن جابر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ خمس اور غنیمت کی تقسیم کے بیان میں
10956 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کچھ کھلاتے ہیں تو یہ کھلانا اس کے لیے ہوتا ہے جو ان کے بعد کھڑا ہوگا “۔ (ابوداؤد، بروایت حضرت ابوبکر صدیق (رض))
10960 إن الله عزوجل إذا أطعم نبيا طعمة فهي للذي يقوم من بعده.(د عن أبي بكر).
তাহকীক: