কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১০৮৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10837 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم پر تیر اندازی لازم ہے، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کھیلوں میں سے ہے۔ “ (بزار بروایت حضرت سعد (رض))
10841 عليكم بالرمي ، فانه من خير لهوكم.(البزار عن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10838 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم پر تیر اندازی لازم ہے، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کھیلوں میں سے ہے “۔ (معجم اوسط طبرانی بروایت حضرت سعد (رض))
10842 عليكم بالرمي ، فانه من خير لعبكم.(طس عن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10839 ۔۔۔ فرمایا کہ ” پتھر مارنے سے بچو، کیونکہ اس سے دانت ٹوٹتے ہیں اور دشمن میں خونزیزی بھی ہوتی ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عبداللہ بن معقل (رض))
10843 إياكم والخذف فانها تكسر السن ، ولا تنكئ العدو.(طب عن عبد الله بن مغفل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10840 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے تیر اندازی سیکھ لینے کے بعد اس میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اس کو ترک کردیا تو تحقیق اس نے ناشکری کی اس چیز کی جو ایک نعمت تھی۔ “۔ (طبرانی بروایت حضرت عقبہ بن عامر (رض))
10844 من ترك الرمي بعد ما علمه رغبة عنه فانها نعمة كفرها (طب عن عقبة بن عامر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10841 ۔۔۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا جس میں روح ہو۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی بروایت حضرت ابن عباس (رض))
10845 نهى أن يتخذ شئ فيه الروح غرضا.(حم ت ن عن ابن عباس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10842 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کسی ایسی چیز کو نشانہ نہ بنایا جائے جس میں روح ہو “۔ (مسلم، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابن عباس (رض))
10846 لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا (م ن ه عن ابن عباس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10843 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا تو اس نے میری نافرمانی کی “۔ (ابن ماجہ بروایت حضرت عقبہ بن عامر (رض))
10847 من تعلم الرمي ثم تركه فقد عصاني.(ه عن عقبة ابن عامر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10844 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس کو تیر اندازی سکھائی گئی اور پھر اس نے چھوڑ دی تو وہ ہم میں سے نہیں۔ “۔ (مسلم بروایت حضرت عقبہ بن عامر (رض))
10848 من علم الرمي ثم تركه فليس منا (م عن عقبن بن عامر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10845 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اس کو پھینک دو یعنی فارسی کمان کو اور ان کو لازم پکڑو، یعنی عربی کمانوں کو اور ان جیسی دوسری کمانوں کو اور نیزوں کی انیوں کو، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ تم کو شہروں میں غلبہ عطا فرمائیں گے اور تمہاری مدد میں اضافہ فرمائیں گے۔ (طبرانی، متفق علیہ بروایت حضرت علی (رض))
10849 إرم بها يعني القوس الفارسية عليكم بهذه يعني القوس العربية وأمثالها ورماح القنا ، فان بهذه يمكن اله لكم في البلاد ويزيد لكم في النصر.(ط ق عن علي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10846 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اس سے اور نیزوں کی انیوں سے اللہ تعالیٰ تمہیں غلبہ عطا فرمائیں گے شہروں پر اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت عویمر بن ساعدۃ (رض))
10850 بهذه وبرماح القنا يمكن الله لكم في البلاد ، وينصركم على عدوكم.(ق عن عويمر بن ساعدت).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10847 ۔۔۔ فرمایا کہ ” لعنتی ہے جو اسے اٹھائے یعنی فارسی کمان کو، تم پر لازم ہے کہ یہ کمانیں پکڑو، یعنی عربی کمانیں اور ان نیزوں کی انیوں سے اللہ تعالیٰ تم کو شہروں میں غلبہ عطا فرمائیں گے اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت عویمر بن ساعدۃ (رض))
10851 ملعون من حملها يعني القوس الفارسية عليكم بهذه يعني القوس العربية ، وبرماح القنا يمكن الله لكم في البلاد ، وينصركم على عدوكم.(ق عن عويمر بن ساعدة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10848 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تیر اندازی کروائے اسماعیل (علیہ السلام ) کی اولاد، کیونکہ تمہارے والد بھی تیر انداز تھے اور میں حجن بن الادرع کے ساتھ ہوں، عرض کیا کہ آپ جس کے ساتھ ہوں وہ غالب ہوجائے، فرمایا کہ تم تیر چلاؤ میں تم سب لوگوں کے ساتھ ہوں “۔ (طبرانی بروایت حمزہ بن عمرو الاسلمی (رض))
10852 ارموا يا بني اسماعيل ، فان أباكم كان راميا ، وأنا مع محجن بن الادرع ، قالوا : من كنت معه غلب ، قال : فارموا وأنا معكم كلكم.(طب عن حمزة بن عمرو الاسلمي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10849 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مارو، جو تیر کے ساتھ دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہ کوئی تمہاری ماؤں کی زمین (کا حساب) نہیں بلکہ ہر دودرجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے “۔ (نسائی بروایت حضرت کعب بن عمرۃ (رض))
10853 ارموا ، من بلغ العدو بسهم رفعه الله به درجة ، أما إنها ليست بعتبة أمك ، ولكن ما بين الدرجتين مائة عام.(ن عن كعب بن مرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10850 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے تیر چلایا تو اس کے لیے درجہ ہے، عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! درجہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ یہ کوئی تمہاری ماؤں کی زمین (کا ناپ) نہیں دودرجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے “۔ (ابن ابی حاتم وابن مردویہ بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
10854 من بلغ بسهم فله درجة ، قيل يا رسول الله : ما الدرجة ؟ قال : أما إنها ليست بعتبة أمك ، ما بين الدرجتين مائة عام.(ابن أبي حاتم وابن مردويه عن ابن مسعود).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10851 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے دشمن پر تیر چلایا تو اللہ تعالیٰ اس سے درجہ بلند فرمائیں گے، اور دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور جو اللہ کے راستے میں تیر چلاتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے غلام آزاد کرتا ہو “۔ (مسند احمد، ابن حبان بروایت حضرت کعب بن مرۃ (رض))
10855 من بلغ العدو بسهم رفعه الله به درجة ما بين الدرجتين مائة عام ، ومن يرمي بسهم في سبيل الله كان كمن يعتق رقبة.(حم حب عن كعب بن مرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو وہ اس کے لیے ایک عادل محرر ہے۔ طبرانی ، متفق علیہ
10856 من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر.(ط ق عن أبي نجيح).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10852 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو وہ اس کے لیے غلام آزاد کرنے کی طرح ہے “۔ (طبرانی متفق علیہ بروایت حضرت ابو النجیح (رض))
10857 من رمى بسهم في سبيل الله كان كمن أعتق رقبة.(حب عن كعب بن مرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10853 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا جو نشانے سے چوک گیا یا نشانے پر جالگایہ (تیر چلانا) قیامت کے دن اس شخص کے لیے نور ہوگا “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابو عمروالانصاری (رض))
10858 من رمى بسهم في سبيل الله فقصر أو بلغ كان ذلك له نورا يوم القيامة.(طب عن أبي عمرو الانصاري).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10855 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ہر وہ مسلمان جس نے اللہ کے راستے میں دشمن پر تیر چلایا تو اس کو اتنا اجر ملے گا جتنا ایک غلام کو آزاد کرنے کا، خواہ تیر نشانے پر لگا ہو یا نہ، ہر وہ مسلمان جس کا ایک بال بھی اللہ کے راستے میں سفید ہوگیا تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا جو اس کے آگے آگے دوڑے گا اور ہر وہ مسلمان جس نے کسی چھوٹے یا بڑے کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے یہ ضروری ٹھہرا لیا ہے کہ اس آزاد ہونے والے ہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کو کئی گنا زیادہ اجر دے گا “۔ (عبد بن حمید اور ابن عساکر بروایت محمد بن سعد بن ابی وقاص عن ابیہ (رض))
10859 ما من رجل من المسلمين يرمي بسهم في سبيل الله في العدو أصاب أو أخطأ إلا كان له أجر ذلك السهم كعدل نسمت ، وما من رجل من المسلمين ابيضت شعرة منه في سبيل الله إلا كانت له نورا يوم القيامة يسعى بين يديه ، وما من رجل من المسلمين أعتق صغيرا أو كبيرا إلا كان حقا على الله أن يجزيه بكل عضو منه أضعافا مضاعفة.(عبد بن حميد وابن عساكر عن محمد بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
10856 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے، تیر کو بنانے والا جو اس کے بنانے میں بھلائی کی نیت رکھتا تھا اور تیر چلانے والا اور اس کو تیر انداز تک پہنچانے والا، سوار ہوجاؤ اور تمہارا تیر چلانا مجھے تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسند ہے، ہر وہ کھیل جو آدمی کھیلتا ہے وہ باطل ہے علاوہ کمان سے تیر چلانے، گھوڑے کی تربیت کرنے اور اپنی گھر والی سے کھیلنے کے، کیونکہ یہ (کھیل) حق ہیں، اور جس کو تیر اندازی سکھائی گئی اور پھر اس نے چھوڑ دی تو اس نے کفر کیا اس چیز کا جو نعمت تھی “۔ (طبرانی، مسند احمد، نسائی، ترمذی، حسن، مستدرک حاکم، متفق علیہ بروایت حضرت عقبہ بن عامر (رض))
10860 إن الله ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة : صانعه يحتسب في صنعته الخير ، والرامي به ، والممد به ، اركبوا ولان ترموا أحب إلي من أن تركبوا ، كل ما يلهو به الرجل باطل ، إلا رميه بقوسه ، أو تأديبه فرسه ، أو ملاعبته أهله ، فانهن من الحق ، ومن علم الرمي ثم تركه فهي نعمة كفرها.(ط حم ن ت حسن ك ق عن عقبة بن عامر) (ت عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক: