কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১০৮২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10817 ۔۔۔ گھوڑ دوڑ کے معاملے میں جلب اور جنب بن کر شرکت نہ کرے (یعنی کسی طرح معاون بننا درست نہیں)
10821 لا جلب ولا جنب في الرهان.(د عن عمران ابن حصين).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10818 ۔۔۔ اسلام میں جلب اور جنب اور نکاح شغار جائز نہیں اور جس نے نقب لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ بروایت حضرت عمران بن حصین (رض) )
فائدہ :۔۔۔ شغار نکاح کی ایک قسم ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دوسرا شخص اس پہلے والے کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دونوں اپنی اپنی بیویوں (یعنی ایک دوسرے کی بیٹی) کے مہر کے طور پر اپنی بیٹی دوسرے کے نکاح میں دیتا ہے یعنی الف بےکی بیٹی سے اس شرط پر نکاح کرتا ہے کہ حق مہر کے طور پر اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے گا اور ب نے بھی الف کے نکاح میں جو بیٹی دی ہے وہ الف کی بیٹی کے نکاح کے حق مہر کے طور پر ہے، اس کو شغار کہتے ہیں اور یہ حنفیہ کے ہاں جائز ہے جبکہ ائمہ ثلاثہ اس کو ظاہر نص پر عمل کرتے ہوئے ناجائز ٹھہراتے ہیں، تفصیل کے لیے کسی مستند مفتی یا مستند دارالافتاء سے رجوع کیا جاسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ شغار نکاح کی ایک قسم ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دوسرا شخص اس پہلے والے کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دونوں اپنی اپنی بیویوں (یعنی ایک دوسرے کی بیٹی) کے مہر کے طور پر اپنی بیٹی دوسرے کے نکاح میں دیتا ہے یعنی الف بےکی بیٹی سے اس شرط پر نکاح کرتا ہے کہ حق مہر کے طور پر اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے گا اور ب نے بھی الف کے نکاح میں جو بیٹی دی ہے وہ الف کی بیٹی کے نکاح کے حق مہر کے طور پر ہے، اس کو شغار کہتے ہیں اور یہ حنفیہ کے ہاں جائز ہے جبکہ ائمہ ثلاثہ اس کو ظاہر نص پر عمل کرتے ہوئے ناجائز ٹھہراتے ہیں، تفصیل کے لیے کسی مستند مفتی یا مستند دارالافتاء سے رجوع کیا جاسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10822 لا جلب ولا جنب ، ولا شغار في الاسلام ، ومن انتهب نهبة فليس منا.(حم ت ه عن عمران بن حصين).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10819 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی عربی گھوڑا ایسا نہیں جو ہر روز فجر کے وقت دو مرتبہ یہ نہ پکارے کہ ” اے میرے اللہ ! تو نے مجھے جسے بھی عطا فرمایا ہے مجھے اس کے لیے اس کے پسندیدہ اہل و مال میں سے بنادے “۔ (مسند احمد، نسائی مستدرک حاکم بروایت حضرت ابو ذر (رض))
10823 إنه ليس من فرس عربي إلا يؤذن مع كل فجر يدعو بدعوتين يقول : اللهم إنك خولتني من خولتني من بني آدم فاجعلني من أحب أهله وماله إليه.(حم ن ك عن أبي ذر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10820 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑوں کو ان کے آنے کے دن ہی تقسیم کردو “۔ (ابن ماجہ بروایت حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عوف (رض))
10824 تبد الخيل يوم وردها.(ه عن ابن عمر وابن عواف)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10821 ۔۔۔ گھوڑے کی پیشانی کے بال مٹ کاٹو نہ اون کو اور نہ اس کے دم کو کیونکہ ان کی دم دفاع کا ذریعہ ہے اور اون ان کی گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ (ابو داؤد عن عتبہ ابن عبدالسلمی)
10825 لا تقصوا نواصي الخيل ولا معارفها ولا أذنابها ، فان أذنابها مذابها ومعارفها دفاؤها ، ونواصيها معقود فيها الخير.(د عن بن عبد السلمي)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10822 ۔ فرمایا کہ ” اونٹ شیطانوں کے لیے ہوتے ہیں اور ان کے گھر ہوتے ہیں “ (ابوداؤد، بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض)
10826 تكون إبل للشياطين ، وبيوت اللشياطين.(د عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10823 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ہم نے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں دیکھی اور بیشک ہم نے اسے سمندر پایا “۔ (ابوداؤد، بروایت حضرت انس (رض))
10827 ما رأينا من فزع وإن وجدناه لبحرا.(د عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
اس میں تین مضامین ہیں۔
پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10824 ۔ فرمایا کہ ” سنو ! کسی اونٹ کی گردن میں تار کا ہار باقی نہ رہے توڑ دیا جائے (ابوداؤد، بروایت حضرت ابو بشیر (رض)
10828 ألا لا تبقين في رقبة بعير قلادة من وتر إلا قطعت.(د عن أبي بشير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10825 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سوار ہوجاؤ اور تیر اندازی کا مقابلہ کرو اور اگر تم تیر اندازی کا مقابلہ کرو تو میرے نزدیک پسندیدہ ہے، اور یقیناً اللہ تعالیٰ ایک تیر سے اس کے بنانے والے کو جنت میں داخل فرمائیں گے جو اس میں ثواب کی امید رکھتا تھا اور تیر چلانے والے کو بھی اور اللہ تعالیٰ روٹی کے ایک ٹکڑے اور مٹھی بھر کھجوروں کے بدلے یا ایسی ہی کسی چیز کے بدلے جس سے مساکین فائدہ اٹھاتے ہیں تین افراد کو جنت میں داخل کریں گے گھر والا جس نے اس کا حکم دیا ہے، اس کی بیوی جو اس کو تیار کرتی ہے اور وہ خادم جو اس چیز کو مسکین تک پہنچاتا ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عمرو بن عطیۃ (رض))
10829 اركبوا وانتضلوا (1)) وأن تنتضلوا أحب إلي ، وإن الله ليدخل بالسهم الواحد الجنة صانعه يحتسب فيه ، والممد به ، والرامي به ، وإن الله ليدخل بلقمة الخبز وقبضة التمر ومثله مما ينتفع به المسكين ثلاثة الجنة رب البيت الآمر به ، والزوجة تصلحه ، والخادم الذي يناول المسكين.(طب عن عمرو بن عطية).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10826 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کچھ شک نہیں کہ زمین عنقریب تم پر فتح ہوتی چلی جائیں گی اور دنیا کافی ہوجائے گی لہٰذا تم میں سے کوئی ایک بھی اپنے تیروں سے کھیلنے سے عاجز نہ رہے “۔ (طبرانی بروایت عمروبن عطیہ (رض))
10830 إن الارض ستفتح لكم وتكفون الدنيا ، فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه.(طب عن عمرو بن عطية).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10827 ۔۔۔ فرمایا کہ ” عنقریب زمینیں تم پر فتح ہوتی چلی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کافی ہوجائیں گے لہٰذا تم میں سے کوئی ایک بھی اپنے تیروں سے کھیلنے سے عاجز نہ رہے “۔ (مسند احمد، مسلم بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض))
10831 ستفتح عليكم أرضون ، ويكفيكم الله ، فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه.(حم م عن عقبة بن عامر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10828 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سنو ! قوت پھینکنے میں ہے، سنو ! قوت پھینکنے میں ہے، قوت پھینکنے میں ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض) )
اور ترمذی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ سنو ! عنقریب اللہ تعالیٰ زمین تمہارے لیے فتح کردیں گے اور سختی میں تمہارے لیے کافی ہوجائیں گے لہٰذا ہرگز عاجز نہ رہے تم میں کوئی ایک بھی اپنے تیروں سے کھیلنے سے “۔
اور ترمذی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ سنو ! عنقریب اللہ تعالیٰ زمین تمہارے لیے فتح کردیں گے اور سختی میں تمہارے لیے کافی ہوجائیں گے لہٰذا ہرگز عاجز نہ رہے تم میں کوئی ایک بھی اپنے تیروں سے کھیلنے سے “۔
10832 ألا إن القوة الرمي ، ألا إن القوة الرمي ، ألا أن القوة الرمي.(حم د ت ه عن عقبة بن عامر) زاد (ت) ألا إن الله سيفتح لكم الارض وستكفون المؤنة ، فلا يعجزن أحدكم أن يلهو بأسهمه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10829 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سنو ! میں ہر دوست خلیل کی دوستی سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر صدیق (رض) کو دوست بناتا اور (لیکن) تمہارا ساتھ یعنی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو خود اللہ کا خلیل ہے “۔ (مسلم، ترمذی ابن ماجہ بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
10833 ألا إني أبرأ إلى كل خل من خلته ، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ، وإن صاحبكم خليل الله.(م ت ه عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10830 ۔۔۔ فرمایا کہ ” پھینکو (مارو) اور سوار ہوجاؤ، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے سوار ہونے سے زیادہ پسند ہے ہر وہ چیز جس سے آدمی کھیلے وہ باطل ہے علاوہ اس کے کہ کوئی شخص اپنے کمان سے تیر چلائے یا اپنے گھوڑے کی تربیت کرے یا اپنی بیوی سے کھیلے کیونکہ یہ چیزیں حق ہیں اور جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد چھوڑ دی تو اس نے اس چیز کی ناشکری کی جو سیکھا تھا “۔ (مسند احمد، ترمذی، سنن کبیری بیھقی، بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض))
10834 ارموا واركبوا وأن ترموا أحب ألي من أن تركبوا كل شئ يلهو به الرجل باطل إلى رمى الرجل بقوسه أو تأديبه فرسه ، أو ملاعبته أمرأته ، فانهن من الحق ، ومن ترك الرمي بعد ما علمه ، فقد كفر الذي علمه.(حم ت هب عن عقبة بن عامر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10831 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے “۔ ایک اس تیر کو بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا تھا، دوسرا تیر انداز اور تیسرا تیر دینے والا “۔ (مسند احمد، بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض))
10835 إن الله تعالى يدخل بالسه ثلاثة نفر الجنة : صانعه يحتسب في صنعته الخير ، والرامي به ومنبله (حم عن عقبة بن عامر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10832 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص دونشانوں کے درمیان چلا تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھی جائے گی “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابو الدرداء (رض))
10836 من مشى بين الغرضين كان له بكل خطوة حسنة.(طب عن أبي الدرداء).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10833 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے تیر اندازی اچھی طرح جان لی، پھر اسے چھوڑ دیا تو تحقیق اس نے نعمتوں میں سے ایک نعمت چھوڑ دی۔ (القرب فی الرمی بروایت یحییٰ بن سعید مرسلاً )
10837 من حسن الرمي ثم تركه فقد ترك نعمة من النعم [ القراب في الرمي ] (عن يحيى بن سعيد) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10834 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تیر اندازی کروائے اسماعیل (علیہ السلام) کے بیٹو ! کیونکہ تمہارے والد بھی تیر انداز تھے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ مستدرک حاکم بروایت ابن عباس (رض))
فائدہ :۔۔۔ یہاں والد سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہاں والد سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10838 رميا بني اسماعيل فان أباكم كان راميا.(حم ه ك عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10835 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تیر اندازی وہ بہترین کھیل ہے جو تم کھیلتے ہو “۔ (بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10839 الرمي خير ما لهوتم به.(عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا مضمون۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
10836 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد میں آئے یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اپنے ہاتھ سے ان تیروں کی نوکوں کو سنبھال لے، کہیں کوئی مسلمان زخمی نہ ہوجائے۔ (متفق علیہ، ابو داؤد، ابن ماجہ بروایت حضرت ابو موسیٰ (رض))
10840 إذا مر أحدكم في مسجدنا أوفى سوقنا ومعه نبل فليسمك على نصاله بكفه لا يعقر مسلا.(ق د ه عن أبي موسى).
তাহকীক: