কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১০৮০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10797 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے سو سال کی مسافت تک دور کردیں گے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عمروبن عبسۃ (رض))
10801 من طام يوما في سبيل الله تعالى باعد الله وجهه عن النار مسيرة مائة عام.(طب عن عمرو بن عبسة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10798 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے اتنی دور کردیں گے کہ ایک بہت پھرتیلا تیز رفتار گھڑ سوار سو سال تک وہ فاصلہ طے کرسکے گا “۔ (طبرانی، بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابوامامۃ (رض))
10802 من صام يوما في سبيل الله تعالى بعد الله وجهه عن النار مسيرة مائة عام ركض الفرس الجواد المضمر.(طب هب عن أبي أمامة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10799 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کو سو سال کی مسافت کی مقدار کے برابر جہنم سے دور کردیں گے “۔ (ابن مندہ بروایت حضرت خطام بن قیس (رض))
10803 من صام يوما في سبيل الله تعالى باعده الله عن النار مقدار مائة عام.(ابن منده عن خطام بن قيس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10800 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان سات خندقیں بنادیں گے، ہر خندق کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا سات زمینوں اور آسمانوں کے درمیان ہے (بروایت حضرت جابر (رض)
10804 من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار سبع خنادق بين كل خندق كما بين سبع سموات وسبع أرضين.(كر عن جابر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10801 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان سات خندقیں بنادیں گے ہر خندق کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا سات زمینوں اور آسمانوں کے درمیان ہے “۔ (بروایت حضرت جابر (رض))
10805 من صام يوما في سبيل الله باعد الله بينه وبين النار بذلك اليوم سبعين خريفا.(ط حم خ م ق (1) عن أبي سعيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10802 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک نفل روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک خندق بنادیں گے جس کا فاصلہ آسمان اور زمین کے برابر ہوگا “۔ (ابن زنجویہ، ترمذی، طبرانی، بروایت حضرت ابو امامۃ (رض))
10806 من صام يوما في سبيل الله تطوعا جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والارض.(ابن زنجويه ت ، غريب ، طب عن أبي أمامة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10803 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کے فاصلے کے بقدر دور فرمادیں گے “۔ (نسائی بروایت حضرت ابوسعید (رض))
10807 من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما.(ن عن أبي سعيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10804 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے جہنم کی گرمی کو اس کے چہرے سے ستر سال کے فاصلے کے برابر دور فرمادیں گے “۔ (نسائی بروایت حضرت ابو سعید (رض))
10808 من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم حر جهنم عن وجهه سبعين خريفا.(ن عن أبي سعيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ
10805 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو بندہ بھی اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے جہنم کی آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کے فاصلے کے برابر دور فرما دیتے ہیں۔ ابن حبان بروایت حضرت ابو سعید (رض))
10809 لا يصوم عبد يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا.(حب عن أبي سعيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حورعین سے شادی
10806 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو بندہ بھی اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اس کی شادی حورعین میں سے ایک حور سے کردی جاتی ہے، جو کھوکھلے موتی کے بنے ہوئے خیمے میں ہوتی ہے، اس نے سترجنتی لباس پہنے ہوتے ہیں ان میں سے ایک لباس بھی (خوبصورتی وغیرہ میں) اس حور سے مشابہت نہیں رکھتا، حورسرخ یاقوت کے بنے ہوئے ایسے پلنگ پر ہوتی ہے جس میں موتی جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور اس پلنگ پر ستر ہزار بستر بچھے ہوئے ہوتے جو اندر سے موٹ ریشم کے بنے ہوتے ہیں، اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ستر ہزار خادمائیں ہوتی ہیں اور ستر ہزار اس کے شوہر کے لئے، ہر خادمہ کے پاس سونے کے ستر ہزار تھال ہوتے ہیں ان میں سے کوئی تھال ایسا نہیں ہوتا جس میں دوسرے سے مختلف کھانا نہ ہو، وہ شخص (یعنی روزہ دار) آخری کھانے کی لذت بھی ویسے ہی پائے گا جیسے پہلے کھانے کی “۔ (ابن عساکر بروایت حضرت ابن عباس (رض))

کلام : اس روایت کی سند میں ولید بن زید دمشقی منکر الحدیث ہے۔

فائدہ :۔۔۔ جہنم سے دوری کا فاصلہ مختلف روایات میں مختلف ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ روزے دار کے ایمان اور اخلاص میں تفاوت ہو جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی صدقہ کردو تو میرے صحابہ کے ایک مد کے برابر بھی نہیں۔ (او کما قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم))

تویہاں بھی اتنی بڑی مقدار میں سونا صدقہ کرنے کے باوجود جو ثواب صحابہ کرام (رض) کے ایک مد سے بھی کم ہے تو وہ تمام مسلمانوں اور حضرت صحابہ کرام (رض) کے ایمان میں تفاوت کی وجہ سے ہے بھلا عام مسلمانوں کے ایمان کو حضرات صحابہ کرام (رض) کے ایمان سے کیا نسبت ؟ چہ نسبت خاک راباعالم پاک۔ (مترجم)

فرمایا جو بندہ اللہ کے راستے میں روزہ رکھتا ہے اللہ اس کی حورعین سے موتی کے اندر بنے ہوئے خیمے میں شادی کرائیں گے، اس کے ستر لباس ہوں گے اور کوئی لباس اس کی دوسری ساتھ کے لباس سے ملتا جلتا نہ ہوگا ان کی مسہری سرخ یاقوت سے بنی ہوگی جس پر سچے موتی جڑے ہوں گے اس پر ستر ہزار بستر ہوں جو ان کے استبرق (اعلیٰ ریشم) کے بنے ہوں گے اور اس کے ستر ہزار خادمائیں اس کی ضرورت کے لیے ہوں گی ستر ہزار ہی اس کے شوہر کی ہوں گی ہر خادمہ کے ساتھ ستر ہزار پلیٹیں سونے کی ہوں گی ہر پلیٹ میں الگ الگ کھانا ہوگا اور ہر دوسرے کھانے کی لذت پہلے کھانے جیسی ہی ہوگی ابن عساکر عن ابن عباس (رض)

کلام : اس روایت میں ولید بن زید ومشقی قلانسی ہے جو کہ منکر الحدیث ہے۔ اس لیے یہ روایت مشکوک ہے۔
10810 ما من عبد صام يوما في سبيل الله إلا زوج حورا من الحور العين في خيمة من درة مجوفة ، عليها سبعون حلت ، ليس منها حلة تشبه صاحبتها ، على سرير من ياقوتة حمراء موشحة بالدر ، عليها سبعون ألف فراش ، بطائنها من استبرق ، ولها سبعون ألف وصيفة لحاجاتها ، وسبعون ألفا لبعلها ، مع كل وصيفة منهن سبعون ألف صحفة من ذهب ليس منها صحفة إلا وفيها لون من الطعام ما ليس في الاخرى ، يجد لذة آخرها كلذة أولها.(ابن عساكر عن ابن عباس) وفيه الوليد بن الوليد بن زيد الدمشقي القلانسي ، منكر الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حورعین سے شادی
10807 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو کوئی شخص بھی اللہ کی رضیا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے سو سال کے فاصلے کے برابر دور لے جاتے ہیں۔

سمویہ طبرانی
10811 ما من رجل يصوم يوما في سبيل الله إلا باعده الله عن النار مقدار مائة عام.(سمويه طب ص عن عبد الله بن سفيان الازدي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10808 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ کھیل گھوڑا دوڑانا اور تیر اندازی ہے۔ (کامل ابن عدی بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10812 أحب اللهو إلى الله تعالى إجراء الخيل والرمي.(عد عن ابن عمر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10809 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب تیرا جہاد کا ارادہ ہو تو ایسا گھوڑا خریدو جس کی پیشانی روشن اور چمکدار ہو اس کا دائیں ہاتھ میں سفیدی نہ ہو تو تم سلامت رہو گے اور مال غنیمت حاصل کرو گے “۔ (طبرانی، مستدرک حاکم بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض))
10813 إذا أردت أن تغزو فاشتر فرسا أغر محجلا مطلق اليد اليمنى فانك تسلم وتغنم.(طب ك هق عن عقبة بن عامر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10810 ۔ فرمایا کہ ” گھوڑوں کو راضی رکھا کرو وہ راضی رہیں گے “ (کامل ابن عدی ابن عساکر بروایت حضرت ابو امامۃ (رض)
10814 استعتبوا الخيل تعتب.(عد وابن عساكر عن أبي أمامة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10811 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑا دوڑانے کے لیے شرط لگانا جائز ہے “۔ (سمویہ اور الضیاء بروایت حضرت رفاعۃ بن رافع (رض))
10815 رهان الخيل طلق (سمويه والضياء عن رفاعة بن رافع).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10812 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑوں کو راضی رکھا کرو کیونکہ وہ راضی ہوجاتے ہیں “۔ (طبرانی اور الضیاء بروایت حضرت ابو امامۃ)
10816 عاتبوا الخيل فانها تعتب (طب والضياء عن أبي أمامة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10813 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے گھر دوڑ کے دن کمائی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے (طبرانی بروایت حضرت ابن عباس (رض)
10817 من جلب عن الخيل يوم الرهان فليس منا.(طب عن ابن عبا س).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10814 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مقابلہ نہیں مگر دوڑ کا گھڑ سواری اور نشانے بازی کا “۔ (مسند احمد، سنن اربعہ عن ابوہریرہ (رض))
10818 لا سبق إلا في خف أو حافر أو نصل.(حم عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10815 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ریشم اور نمار (ایک خاص دھاری دار چادر) پر نہ بیٹھو “ (سنن ابی داؤد، بروایت حضرت معاویۃ (رض)
10819 لا تركبوا الخز والنمار.(د عن معاوية).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ جہاد کے آداب کے بیان میں

اس میں تین مضامین ہیں۔

پہلا مضمون۔۔۔ مقابلے کے بیان میں
10816 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کیا حالانکہ وہ مقابلہ کرنے سے خود کو محفوظ نہ سمجھتا تھا تو جو انھیں ہے، اور جس نے دو گھوڑوں میں گھوڑا داخل کیا اور وہ مقابلہ کرنے سے خود کو محفوظ سمجھتا تھا تو اب یہ جوا (قمار) ہے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
10820 من أدخل فرسا بين فرسين وهو لا يأمن أن يسبق فليس بقمار ، ومن أدخل فرسا بين فرسى وقد أمن أن يسبق فهو قمار.(حم د ه عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক: