কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১০৭৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ گھوڑوں پر خرچ کرنے بیان میں
10757 ۔۔۔ فرمایا کہ ” مسلمانوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑا باندھا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر دانے کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دیتے ہیں اور ہر دانے کے بدلے اس کی ایک برائی مٹا دیتے ہیں “۔ (ابن عساکر بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض))
10761 ما من امرئ مسلم يربط فرسا في سبيل الله إلا يكتب الله له بكل حبة توافيه حسنة ويحط عنه بكل حبة سيئة.(ابن عساكر عن عائشة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کی تین قسمیں
10758 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑے تو تین ہیں، ایک تو وہ جو کسی شخص نے اللہ کی رضا کے لیے باندھا ہو دوسرا گھوڑا جو کسی شخص نے سواری اور باربرداری کے لیے باندھ رکھا ہو، اور ایک وہ جو کسی شخص نے دیا اور دکھاوے کے لیے باندھا ہو تو وہ آگ میں ہے “۔ (ابوالشیخ فی التواب بروایت حضرت انس (رض))
10762 الخيل ثلاثة ، فرجل ارتبط فرسا في سبيل الله ، فروثها ولحمها في ميزان صاحبها يوم القيامة ، ورجل ارتبط فرسا يريد بطنها ، ورجل ارتبط فرسا رياء وسمعة فهو في النار.(أبو الشيخ في الثواب عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کی تین قسمیں
10759 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑے تو تین ہی ہیں، ایک گھوڑا رحمن کے لیے ایک گھوڑا انسان کے لیے اور ایک گھوڑا شیطان کے لئے، رحمن کا گھوڑا تو وہ ہے جو کسی نے اللہ کی رضا کے لیے رکھا ہو اور اس پر بیٹھ کر اللہ کے دشمنوں سے قتال کرے، اور انسان کا گھوڑا وہ ہے جس کے پیٹھ کو وہ اپنے (سواری کے) لیے رکھے اور اس پر بوجھ اٹھائے، اور شیطان کا گھوڑا جو گروی رکھنے رکھانے میں اور جوئے میں استعمال ہو “۔ (طبرانی بروایت حضرت خباب (رض))
10763 الخيل ثلاثة ، ففرس للرحمن ، وفرس للانسان ، وفرس للشيطان ، فأما فرس الرحمن فما اتخذ في سبيل الله وقتل عليه أعداء الله ،وأما فرس الانسان فما استبطن وتحمل عليه ، وأما فرس الشيطان فما روهن عليه وقومر عليه.(طب عن خباب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کی تین قسمیں
10760 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گھوڑے تو تین ہیں، ایک وہ گھوڑا جسے کسی نے اللہ کی رضا کے لیے باندھا ہو، سو اس کی قیمت اس کا اجر ہے اور اس کی عاریت بھی اجر ہے اور اس کو گھاس دانہ ڈالنا بھی اجر ہے اور ایک گھوڑا وہ ہے جس میں کوئی شخص شرط لگائے اور رھن رکھے، سو اس کی قیمت بھی بوجھ ہے اس کو گھاس ڈالنا بھی بوجھ ہے اور اس پر سواری بھی بوجھ ہے، اور ایک گھوڑا وہ ہے جسے پیٹ کے لیے رکھا ہو سو ہوسکتا ہے کہ وہ فقر وفاقہ دور کرنے کا باعث ہو اگر اللہ چاہے “۔ (مسند احمد عن رجل بن الانصار)
فائدہ :۔۔۔ عاریت سے مراد کوئی چیز کسی دوسرے کو بلامعاوضہ کچھ وقت کے استعمال کے لیے دینا، اور پیٹ کے لیے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس سے باربرداری کا کام لے گا اور کچھ کما کھائے چنانچہ اسی لیے آگے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ فقروفاقہ دور کرنے کا باعث ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ عاریت سے مراد کوئی چیز کسی دوسرے کو بلامعاوضہ کچھ وقت کے استعمال کے لیے دینا، اور پیٹ کے لیے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس سے باربرداری کا کام لے گا اور کچھ کما کھائے چنانچہ اسی لیے آگے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ فقروفاقہ دور کرنے کا باعث ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10764 الخيل ثلاثة : فرس يربطها الرجل في سبيل الله فثمنه أجر وعاريته أجر وعلفه أجر وفرس يغالق فيه الرجل ويراهن فثمنه وزر وعلفه وزر وركوبه وزر ، وفرس للبطنة فعسى أن يكون سدادا من الفقر إن شاء الله تعالى.
(حم عن رجل من الانصار)
(حم عن رجل من الانصار)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کی تین قسمیں
10761 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر اپنے چوپائے پر خرچہ کرتا ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر اس پر اٹھاتا ہے تو اس کا میزان بھی اس چوپائے کی طرح بھاری ہوگا “۔ (طبرانی بروایت حضرت معاذ (رض))
10765 ما ثقل ميزان عبد كدابة تنفق في سبيل الله ، أو يحمل عليها في سبيل الله.(طب عن معاذ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کی تین قسمیں
10762 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک دینار وہ ہے جسے تو اپنے آپ پر خرچ کرتا ہے اور ایک دینار وہ ہے جسے تو اپنے والدین پر خرچ کرتا ہے، ایک دینار وہ ہے جسے تو اپنے بیٹے پر خرچ کرتا ہے، ایک دینار وہ ہے جسے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے اور ایک دینار وہ ہے جسے تو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اجر کے لحاظ سے ان سب سے زیادہ اچھا ہے “۔ (دارقطنی فی الافراد بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10766 دينار أنفقته على نفسك ، ودينار أنفقته على والديك ، ودينار أنفقته على ابن لك ، ودينار أنفقته على أهلك ، ودينار أنفقته في سبيل الله وهو أحسنها أجرا.
(قط في الافراد عن أبي هريرة).
(قط في الافراد عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10763 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص سمندر کے کنارے احتساب اور مسلمانوں کی حفاظت کی نیت سے بیٹھا، تو اللہ تعالیٰ سمندر کے ہر قطرے کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں “۔ طبرانی بروایت حضرت ابو الدرداء (رض))
10767 من جلس على البحر احتسابا ونية احتياطا للمسلمين كتب الله له بكل قطرة في البحر حسنة.(طب عن أبي الدرداء).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10764 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سمندر کے ساحل پر بیمار ہوجانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں صبح سو غلام آزاد کروں پھر ان کو اور ان کی سواریوں کو تیار کروا کے اللہ کے راستے میں بھیج دوں “۔ (ابوالشیخ بروایت حضرت علی (رض))
10768 لان أمرض على ساحل البحر أحب إلي من أن أصبح فأعتق مائة رجل ، ثم أجهزهم ودوابهم في سبيل الله.(أبو الشيخ عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10765 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس کسی نے مسلمانوں کے ساحلوں میں سے کسی ساحل پر تین دن مورچہ بندی کی تو وہ اس کے لیے سال بھر کی مورچہ بندی کے برابر ہوجائے گا “۔ (مسند احمد، طبرانی بروایت حضرت ام الدرداء (رض))
10769 من رابط في شئ من سواحل المسلمين ثلاثة أيام أجزأت عنه رباط سنة.(حم طب عن أم الدرداء).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10766 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص سمندر میں ایک دن بیمار ہوا تو یہ ایسے ہزار غلام آزاد کرنے سے توافضل ہے جن کو تیار کروا کر قیامت تک ان پر خرچہ کیا جاتا رہے، اور جس نے اللہ کی رضا کی خاطر کسی کو ایک آیت سکھائی یا سنت میں سے ایک کلمہ سنایا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے مٹھی بھر ثواب دیں گے یہاں تک کہ جو ثواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس سے افضل ثواب کوئی نہ رہے “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت علی (رض))
10770 من مرض يوما في البحر كان أفضل من عتق ألف رقبة يجهزهم وينفق عليهم إلى يوم القيامة ، ومن علم رجلا في سبيل الله آية من كتاب الله أو كلمة من سنة حثا الله له من الثواب يوم القيامة حتى لا يكون شئ من الثواب أفضل مما يحثي الله له.
(حل عن علي).
(حل عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10767 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے مغرب کے وقت ساحل سمندر پر اپنی آواز بلند کرتے وقت ایک تکبیر کہی تو اللہ تعالیٰ اس کو سمندر کے ہر قطرے کے بدلے دس نیکیاں عطا فرمائیں گے اور دس برائیاں مٹادیں گے اور اس کے دس درجات بلند فرمائیں گے اور وہ بھی ایسے کہ ہر درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا کہ ایک تیز رفتار گھوڑا سو سال میں طے کرے “۔ (طبرانی، حلیہ ابی نعیم، مستدرک حکم بروایت ایاس بن معاویۃ (رض) بن قرۃ عن ابیہ عن جدہ وقال الذھبی ھذا منکر ھذا وفی اسنادہ من یتھم
10771 من كبر تكبيرة عند الغروب على ساحل البحر رافعا صوته اعطاه الله من الاجر بعدد كل قطرة في البحر عشر حسنات ، ومحا عنه عشر سيأت ، ورفع له عشر درجات ما بين كل درجتين مسيرة مائة عام للفرس المسرع.
(طب حل ك عن اياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده) قال الذهبي هذا منكر جدا وفي اسناده من يتهم.
(طب حل ك عن اياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده) قال الذهبي هذا منكر جدا وفي اسناده من يتهم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10768 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے سمندر میں ایک جنگ بھی اللہ کی رضا کے لیے لڑی اور اللہ جانتا ہے کہ کون اللہ کی رضا کے لیے جنگ لڑتا ہے (تو تحقیق) اس نے اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی فرمان برداری ادا کردی اور جنت کو ایسے طلب کیا جیسے کہ اس کو طلب کرنے کا حق تھا اور جہنم سے ایسے بھاگا جیسے اس سے بھاگنا چاہیے “۔ (طبرانی اور ابن عساکر بروایت حضرت عمران بن حصین (رض) ، وفیہ عمر بن صبح کذاب)
10772 من غزا في البحر غزوة في سبيل الله والله أعلم بمن يغزو في سبيل الله فقد أدى إلى الله طاعته كلها ، وطلب الجنة كل مطلب وهرب من النار كل مهرب.
(طب وابن عساكر عن عمران بن حصين) وفيه عمر بن صبح كذاب.
(طب وابن عساكر عن عمران بن حصين) وفيه عمر بن صبح كذاب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10769 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کی رضا کے لیے سمندر میں جنگ لڑی تو اس کے لیے وہ ہوگا جو دو موجوں کے درمیان ہوتا ہے جیسے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کے لیے دنیا سے کٹ گیا ہو “۔ (ابوالشیخ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ دنیا سے کٹ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک سے بالکل قطع تعلق کر کے تنہائی میں عبادات وغیرہ میں مصروف ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا اور دین کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمان برداری کا اتنا خیال رکھے کہ گویا کہ اسے اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اور دوموجوں کے درمیان سے مراد دو موجوں کے درمیان پانی کے قطروں کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملنا ہوسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ دنیا سے کٹ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک سے بالکل قطع تعلق کر کے تنہائی میں عبادات وغیرہ میں مصروف ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا اور دین کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمان برداری کا اتنا خیال رکھے کہ گویا کہ اسے اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اور دوموجوں کے درمیان سے مراد دو موجوں کے درمیان پانی کے قطروں کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملنا ہوسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10773 من غزا البحر في سبيل الله كان له فيما بين الموجتين كمن قطع الدنيا في طاعة عزوجل.(أبو الشيخ عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10770 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے میرے ساتھ مل کر (کافروں کے خلاف) جنگ نہیں کی تو اسے چاہیے کہ سمندری جنگ میں حصہ لے کیونکہ سمندر میں ایک دن قتال کرنا خشکی پر دو دن قتال سے (اجر کے اعتبار سے) بہتر ہے، اور سمندر جنگ کے ایک شہید کا اجر خشکی کے دوشہیدوں کی طرح ہے، اور سب سے بہتر شہداء اصحاب اکف ہیں۔ عرض کیا گیا، یا رسول اللہ ! یہ اصحاب کہف کون لوگ ہیں ؟ فرمایا کہ جن کی کشتیاں وغیرہ سمندر میں اپنے سواروں سمیت الٹ گئیں “۔ (بروایت علقمہ بن شھاب القسری مرسلاً )
10774 من لم يدرك الغزو معي فليغز في البحر ، فان قتال يوم في البحر خير من قتال يومين في البر ، وإن أجر الشهيد في البحر كأجر الشهيدين في البر وإن خيار الشهداء أصحاب الاكفء قيل : يا رسول الله ومن أصحا بالاكفء ؟ قال : قوم تكفأ عليهم مراكبهم في البحر.(كر عن علقمة بن شهاب القسري) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10771 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے میرے شانہ بشانہ کافروں سے جنگ نہیں کی تو اسے چاہیے کہ سمندری جنگ میں حصہ لے “۔ (معجم اوسط طبرانی بروایت علقمہ بن شھاب)
10775 من لم يدرك الغزو معي فليغز في البحر.(طس كرعن علقمة بن شهاب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ۔۔۔ سمندر کی جنگ کے بیان میں
10772 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سمندر میں کھانا کھانے والا جسے قے ہوگئی ہو تو اس کے لیے شہید جیسا اجر ہے، اور ڈوبنے والے کے لیے دوشہیدوں کا اجر ہے “۔ (سنن ابی داؤد، متفق علیہ بروایت حضرت ام حرام (رض))
10776 المائد في البحر الذي يصيبه القئ له أجر شهيد ، والغريق له أجر شهيدين.(د ق عن أم حرام) فصل في صدق النية
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ صدق نیت کے بیان میں
10773 ۔۔۔ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اس کی نیت صرف مال غنیمت ہے بس اس کے لیے وہ مال غنیمت اجر ہے “۔ (مسند احمد، نسائی، مستدرک حاکم بروایت عباد (رض))
10777 من غزا في سبيل الله ولم ينو إلا عقالا فله ما نوى.(حم ن ك عن عباد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ صدق نیت کے بیان میں
10774 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً اللہ تعالیٰ قتل و قتال میں مرنے والوں کو ان کی نیتوں پر اٹھائیں گے “۔ (ابن عساکر بروایت حضرت عمر (رض))
10778 إنما يبعث الله المقتتلين على النيات.(ابن عساكر عن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ صدق نیت کے بیان میں
10775 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کہ وہ لوگ جو میری امت میں سے جہاد کرتے ہیں اور کچھ مقرر وظیفہ لیتے ہیں اور دشمن کے خلاف قوت حاصل کرتے ہیں ان کی مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرح ہے جو اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور معاوضہ لیا کرتی تھیں “۔ (سنن ابی داؤد، فی مراسیلہ اور ابونعیم متفق علیہ بروایت جبیر بن نضیر مرسلا)
10779 مثل الذين يغزون من أمتي ويأخذون الجعل يتقوون على عدوهم مثل أم موسى ترضع ولدها وتأخذ أجرها.(د في مراسيله وأبو نعيم ق عن جبير بن نفير) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ صدق نیت کے بیان میں
10776 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سبحان اللہ۔ پاک ہے اللہ کی ذات اس میں کچھ حرج نہیں کہ اجر لیا جائے اور حمد کی جائے “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، بروایت حضرت سھل بن الحنظلۃ)
فائدہ :۔۔۔ اس سے پہلے والی روایت کی روشنی میں اگر اس روایت کو دیکھاجائے تو اس کی مرادیہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر جہاد
کرتے ہوئے کچھ مقرر اجر لیا جائے اور ان کی کچھ تعریف بھی کردی جائے تو اس میں کچھ حرج نہیں کیونکہ مقررہ وظیفہ لینا بھی ضروری ہے جسے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور تعریف سے مجاہدین کی حوصلہ افزائی ہوجائے اور وہ اور زیادہ ذوق وشوق سے جہاد کریں گے “۔
یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ دیا جائے کہ اگر جہاد کے دوران مجاہدین کو کچھ وظائف بھی دے دئیے جائیں اور ان کی تعریف بھی کی جاتی رہے تو اس کی وجہ سے ان کی نیت پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ اس سے پہلے والی روایت کی روشنی میں اگر اس روایت کو دیکھاجائے تو اس کی مرادیہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر جہاد
کرتے ہوئے کچھ مقرر اجر لیا جائے اور ان کی کچھ تعریف بھی کردی جائے تو اس میں کچھ حرج نہیں کیونکہ مقررہ وظیفہ لینا بھی ضروری ہے جسے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور تعریف سے مجاہدین کی حوصلہ افزائی ہوجائے اور وہ اور زیادہ ذوق وشوق سے جہاد کریں گے “۔
یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ دیا جائے کہ اگر جہاد کے دوران مجاہدین کو کچھ وظائف بھی دے دئیے جائیں اور ان کی تعریف بھی کی جاتی رہے تو اس کی وجہ سے ان کی نیت پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10780 سبحان الله لا بأس أن يؤجر ويحمد.(حم د عن سهل بن الحنظلية).
তাহকীক: