কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩২৪ টি

হাদীস নং: ১০৪৫৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10453 ۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے جبرائیل ! میرے مومن بندے کے دل سے وہ جلاوت اور لذت ختم کردے جو وہ پاتا تھا، سو مومن بندہ غم زدہ ہوجاتا ہے اور اس چیز کا طلب گار بن جاتا ہے جو اس کے نفس میں تھا تو اس پر ایسی مصیبت نازل ہوتی ہے کہ اس سے پہلے ایسی کبھی نازل نہ ہوئی تھی، جب اللہ تعالیٰ اس کو اس حال میں دیکھتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ اے جبرائیل ! میرے بندے کے دل سے جو چیز تو نے مٹائی تھی وہ واپس کردے کیونکہ میں نے اسے آزمایا ہے اور صبر کرنے والاپایا ہے اور عن قریب میں اپنے پاس سے اس کو اور زیادہ دوں گا، اور اگر بندہ جھوٹا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نہ ہی اس کا خیال رکھتا ہے اور نہ پروا کرتا ہے “۔
10457 عن أبي ذر قال : إن الله تعالى يقول : يا جبريل إنسخ من قلب عبدي المؤمن الحلاوة التي كان يجدها ، فيصير العبد المؤمن والها طالبا للذ يكان يعهد من نفسه نزلت به مصيبة لم ينزل به مثلها قط فإذا نظر الله إليه على تلك الحال قال : يا جبريل رد إلى قلب عبدي ما نسخت منه فقد ابتليته فوجدته صابرا ، وسأمده من قبلي بزيادة ، وإن كان عبدا كذابا لم يكترث ولم يبال.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৫৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10454 ۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان میں ایک شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نوازا تھا، سو جب اس کی موت کا وقت آپہنچا تو اس نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور کہا کہ تمہارا باپ تمہارے لیے کیسا ثابت ہوا ؟ انھوں نے کہا کہ بہترین ثابت ہوا، وہ شخص پھر بولا کہ کوئی شک نہیں کہ میں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی نیکی نہیں بھیجی اور وہ اب مجھے عذاب دے گا، لہٰذا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا پھر اچھی طرح پیسنا اور پھر مجھے آندھی والی تیز ہوا میں اڑا دینا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کن، وہ دوبارہ جیتا جاگتا انسان بن گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ تجھے اس حرکت پر کس نے مجبور کیا، اس نے جواب اس کو معاف کردیا “۔ (ابن حبان)
10458 عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : كان فيمن سلف من الناس رجل رغسه الله مالا وولدا ، فلما حضره الموت جمع بنيه ، فقال : أي أب كنت لكم ؟ قالوا : خير أب ، فقال : إنه والله ما ابتار عند الله خيرا قط وابن ربه يعذبه ، فإذا انا مت فأحرقوني ، ثم اسحقوني ، ثم اذروني في ريح عاصف : قال الله : كن فإذا رجل قائم ، قال : ما حملك على ما صنعت قال : مخافتك فو الذي نفسي بيده إن تلقاه غير أن غفره.(حب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৫৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10455 ۔۔۔ ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ سالم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ (رض) کو فرماتے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ میرے تمام امتیوں کو معاف کردیا جائے گا علاوہ ان کے جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں، اور اعلانیہ گناہ کرنے میں سے یہ ہے کہ بندہ رات کو کوئی برا کام کرے پھر صبح ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ کی پردہ داری کی ہو، اور وہ کہے اے فلاں میں نے رات ایسی ایسی حرکت کی جبکہ رات اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی، سو وہ رات اس طرح گزارتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن وہ اس پردے کو ہٹا دیتا ہے، اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہوجائے گا وہ عنقریب ہونے والا ہے تو اس کو دور کرنے والا کوئی نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کسی کے مقررہ وقت کو جلدی نہیں لاتے اور جو لوگ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی کوئی کام کرنا چاہتا ہے جو وہ چاہتا ہے، خواہ لوگ اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں جس چیز کو اللہ تعالیٰ قریب کردے اس کو دور کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ دورکردے اس کو قریب کرنے والا کوئی نہیں۔

اور کوئی کام اللہ کے حکم کے بغیر ہوتا ہی نہیں، اور وہ سوتے وقت اور نمازوں کے بعد چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہنے کا حکم دیا کرتے تھے اور یہ کل سو مرتبہ ہوجائے گا، اور سالم کا خیال تھا کہ یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رض) سے فرمائی۔
10459 عن ابن شهاب قال : قال سالم : سمعت أبا هريرة يقول : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : كل أمتي معافى إلا المجاهرين ، فان من الجهار أن يعمل العبد بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره ربه ، فيقول : يا فلان عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه ، فيبيت يستره ربه ويكشف ستر الله عنه ، وكان زعموا يقول : إذا خطب كل ما هو آت قريب لا بعد لما يأتي ، لا يعجل الله بعجلة أحد ، ولا يخلف لامر الناس ما شاء الله لا ما شاء الناس ، يريد الناس أمرا ، ويريد الله أمرا ما شاء الله كان ولو كره الناس لا مبعد لما قرب الله ولا مقرب لما بعد الله ، ولا يكون شئ إلا باذن الله ، وكان يأمر عند الرقاد وخلف الصلوات بأربع وثلاثين تكبيرة وثلاث وثلاثين تسبيحة ، وثلاث وثلاثين تحميدة ،فتلك مائة ، وزعم سالم بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ذلك لابنته فاطمة.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10456 ۔۔۔ حضرت محمد بن الخسفیہ (رض) کے بارے میں مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ مجھے اپنے دل میں غم کا احساس ہوتا ہے حالانکہ میں اس کی وجہ نہیں جانتا اور میرا دل تنگ ہوگیا ہے، تو محمد بن الحنفیہ نے فرمایا کہ ایسا غم جس کی وجہ تمہیں معلوم نہ ہو یہ اس گناہ کی سزا ہے جو تم نے نہیں کیا، اس شخص نے پوچھا کہ کیا مطلب، انھوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے لیکن اعضاء وجوارح اس کا ساتھ نہیں دیتے، تو اس کی سزا غم سے دی جاتی ہے اعضاء وجوارح کو اس کی سزا نہیں دی جاتی۔
10460 عن محمد بن الحنفية أن رجال قال له : أجد غما لا أعرف له سببا وقد ضاق قلبي ، فقال غم لم تعرف له سببا عقوبة ذنب لم تفعله فقال الرجل : ما معنى ذلك ؟ فقال : المعنى في ذلك أن القلب يهم بالمعصية فلا تساعده الجوارح فيعاقب بالغم دون الجوارح.(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کے بارے میں
10457 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں کچھ قیدی لائے گئے

تو اچانک قیدیوں میں سے ایک عورت تیزی سے آگے بڑھی، اسے قیدیوں میں اپنا بچہ ملا تھا، اس عورت نے اپنے بچے کو پکڑا اور پیٹ سے لگا لیا اور اسے دودھ پلانے لگی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے دریافت فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینکے گی ؟ ہم نے جواباً عرض کیا نہیں اگر یہ اس بات پر قادر ہو کہ اپنے بچے کو آگ میں نہ پھینکے، تو آپ نے فرمایا کہ جتنا رحم اس عورت کو اپنے بچے پر آتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابوعوانہ، حلیہ ابی نعیم)
10461 عن عمر قال : قدم على النبي صلى الله عليه وسلم بسبي ، فإذا امرأة من السبي تسعى إذ وجدت صبيا في السبي أخذته فالصقته ببطنها وأرضعته فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم : أترون هذه طارحة ولدها في النار ؟ قلنا : لا ، وهي تقدر على أن لا تطرحه ، فقال : الله أرحم بعباده من هذه بولدها.(خ م وأبو عوانة حل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کے بارے میں
10458 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہیں کہ تمام انسانوں کو جنت میں داخل کریں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عمر ! آپ نے سچ کہا۔ (ابن حبان)
10462 عن أنس قال : قال عمر للنبي صلى الله عليه وسلم : إن الله قادر أن يدخل الناس كلهم الجنة ، قال : صدقت يا عمر.(حم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کے بارے میں
10459 ۔۔۔ حضرت اسد بن کر زالقسری البجلی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا، اے اسد بن کرز، تو کسی بھی عمل کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا بلکہ صرف اللہ کی رحمت سے، میں نے عرض کیا آپ بھی نہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا، میں بھی نہیں البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میری تلافی فرمادیں یا مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیں۔ (بخاری فی تاریخہ، ابن السکن، شبیرازی فی الالقاب، طبرانی، ابونعیم، سنن سعید بن منصور)
10463 عن أسد بن كرز القسري البجلي رضي الله عنه قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا أسد بن كرز لا تدخل الجنة بعمل ولكن برحمة الله ، قلت : ولا أنت يا رسول الله ؟ قال : ولا أنا إلا أن يتلافاني الله أو يتغمدني الله منه برحمته.(خ في تاريخه وابن السكن والشيرازي في الالقاب طب وأبو نعيم ص).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کے بارے میں
10460 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو تخلیق فرمایا ہے اسی دن سورحمتیں بھی تخلیق فرمائی ہیں، ہر رحمت اتنی بڑی ہے کہ زمین و آسمان کے درمیان سما جائے، سو ان میں سے ایک رحمت زمین پر اتاری، لہٰذا اسی وجہ سے مخلوق آپس میں رحم کا معاملہ کرتی ہے، اسی وجہ سے ماں بچے پر مہربان ہوتی ہے، اسی سے پرندے اور درندے پانی وغیرہ پیتے ہیں اور اسی سے مخلوقات زندہ رہتی ہیں، اور جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کو مخلوق سے واپس لیں گے اور یہ رحمت صرف انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں رہ جائے گی اور اس میں باقی ننانوے رحمتوں کا اضافہ فرمادیں گے، پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ” اور میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے جسے عن قریب ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں “۔ (سورة الاعراف 156، خطیب فی المتفق والمفترق، ابن مردویہ عن سلیمان موقوفاً )

٭٭٭٭
10464 إن الله تعالى خلق مائة رحمة يوم خلق السموات والارض كل رحمة منها طباق ما بين السماء والارض ، فأهبط رحمة منها إلى الارض فبها تراحم الخق ، وبها تعطف الوالدة عن ولدها ، وبها تشرب الطير والوحوش من الماء ، وبها تعيش الخلائق ، وإذا كان يوم القيامة انتزعها من خلقه ، ثم اقتصرها على النبيين ، وزادهم تسعا وتسعين رحمة ثم قرأ : (ورحمتي وسعت كل شئ ، فسأكتبها للذين يتقون) الخطيب في المتفق والمفترق وابن مردويه عن سليمان) موقوفا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10461 ۔۔۔ فرمایا۔۔۔ جو شخص مرجائے یامقروض ہوجائے تو سامان کا مالک زیادہ حقدار ہے اپنے سامان کا جب اس کو پائے۔ (ابن ماجہ، مستدرک حاکم، بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10465 أيما رجل مات أو أفلس ، فصاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده بعينه.(ه ك عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10462 ۔۔۔ فرمایا ” کوئی شخص مرجائے اور اس کے پاس کسی اور شخص کا مال بعینہ موجود ہو تو چاہے دینے والا اس سے مانگ چکا ہو نہ یا نہ مانگا ہو ہر حال میں تم تمام قرضداروں کا شریک ہوگا “۔ (ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرۃ)
10466 أيما امرئ مات وعنده مال امرئ بعينه اقتضى منه شيئا أو لم يقتض فهو أسوة للغرماء.(ه عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10463 ۔۔۔ فرمایا ” جو کوئی آدمی اپنے سامان کو بیچے اور اس آدمی کے مفلس ہونے کے بعد اسی سامان کو اس آدمی کے پاس پالے اور اس کی قیمت میں سے کچھ کرنا ممکن نہ ہو تو وہ سامان اس کا ہے اور اگر اس سامان کی قیمت میں سے کچھ پر قبضہ کرنا ممکن ہو تو وہ سامان قرض خواہوں کے درمیان برابر ہوگا۔ (ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10467 أيما رجل باع سلعته فأدرك سلعته بعينها عند رجل وقد أفلس ولم يكن قبض من ثمنها شيئا فهي له ، وإن كان قبض من ثمنها شيئا فهو أسوة للغرماء.

(ه عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10464 ۔۔۔ فرمایا ” جو کوئی شخص اپنے سامان کو بیچے پس مفلس ہوگیا وہ جس کو اس نے اپنا سامان بیچا اور بیچنے والے نے ابھی تک اس سامان کی قیمت نہیں لی تو اگر وہ اپنا سامان اس کے پاس موجود پائے تو وہ اس کے لینے کا سب سے زیادہ حقدار ہے، لیکن خریدنے والا اگر مرجائے تو اس صورتحال میں یہ شخص بھی دوسرے قرضداروں کا شریک ہوگا۔ (مالک، ابوداؤد، بروایت حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام مرسلاً )
10468 أيما رجل باع متاعا فأفلس الذي ابتاعه منه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا ، فوجد متعه بعينه فهو أحق به ، وإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء.(مالك د عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام) مرسلا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
کوئی شخص مفلس ہوجائے اور دوسرا شخص اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پائے تو وہ دوسروں سے زیادہ اس چیز کا حقدار ہے۔ (ترمذی، نسائی بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10469 أيما رجل أفلس ووجد رجل سلعته عنده بعينها فهو أولى بها من غيره.(ت ن عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10466 ۔۔۔ جو شخص اپنی سامان بعینہ ایسے شخص کے پاس پائے جو مفلس ہوچکا ہو تو دوسروں سے زیادہ اس چیز کے لینے کا حقدار ہے۔ (متفق علیہ ابوداؤد بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10470 من أدرك ماله بعينه عند رجل قد أفلس فهو أولى به من غيره.(ق د عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10467 ۔۔۔ کوئی شخص مفلس ہوجائے یا مرجائے اور دوسرا شخص اپنا مال اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ (ابوداود بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10471 من أفلس أو مات فوجد رجل متاعه بعينه فهو أحق به.(د عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10468 ۔۔۔ جب کوئی شخص مفلس ہوجائے تو جو شخص اس کے پاس اپنی بیچی ہوئی چیز کو بعینہ پائے تو وہ دوسرے قرضداروں سے زیادہ اس چیز کا حقدار ہے۔ (مصنف عبدالرزاق بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10472 إذا أفلس الرجل فوجد البائع سلعته بعينها فهو أحق بها دون الغرماء.(عب عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10469 ۔۔۔ جو شخص اپنا سامان بیچے اور اب تک اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا ہو تو وہ سامان اس کا ہوجائے گا اور اگر کچھ بھی قیمت لے لی ہو تو وہ دوسرے قرضداروں کا شریک ہوگا۔ (الخطیب بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10473 من باع سلعة لم يكن قبض من ثمنها شيئا فهي له ، فان كان قد قبض من ثمنه شيئا فهو أسوة الغرماء.(الخطيب عن أبي هريرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10470 ۔۔۔ جو شخص اپنا سامان کسی ایسے آدمی کے ہاتھ بیچے جس نے اس کو قیمت ادا نہ کی ہو اور پھر مفلس ہوجائے تو بیچنے والا اگر اپنا سامان بعینہ اس کے پاس موجو پائے تو وہ اس کو لے لے۔ (مصنف عبدالرزاق بروایت ابن اب ملکیۃ)
10474 من باع سلعة من رجل لم ينقده ، ثم أفلس الرجل فوجد سلعته بعينها فليأخذها دون الغرماء.(عب عن أبن أبي مليكة) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10471 ۔۔۔ جو شخص مفلس ہوجائے اور دوسرا شخص اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو دوسرے قرضداروں کے بجائے وہ خود اس کو لے لے۔ (مصنف عبدالرزاق بروایت ابوھریرۃ (رض))
10475 أيما رجل أفلس وعنده سلعته بعينها فصاحبها أحق بها دوهن الغرماء.(عب عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء

اس میں ایک کتاب ہے۔

کتاب التفلیس۔۔۔ مفلس ہوجانے کا بیان

اس میں ایک ہی باب ہے۔

قرض دار کے بارے میں
10472 ۔۔۔ جو شخص اپنا سامان کسی کو بیچے پھر خریدنے والا مفلس ہوجائے تو بیچنے والا اپنا سامان بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اس کو لے لے اگر اس نے اس کی قیمت اب تک نہ لی ہو اور اگر اس کی کچھ بھی قیمت لے چکا ہو تو وہ اور دوسرے قرض دار اس چیز کے برابر مستحق ہوں گے۔ (مصنف عبدالرزاق ابن ماجہ، سنن کبری بیھقی بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10476 أيما رجل باع سلعته فأدرك سلعته بعينها عند رجل وقد أفلس ولم يكن قبض من ثمنها شيئا فهي له ، وإن كان قبض من ثمنها شيئا فهي له وللغرماء.

(عب ه هق عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক: