কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৪ টি
হাদীস নং: ১০৪৩৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10433 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو دریافت فرمایا کہ یہ کن لوگوں کی جماعت ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ یہ مجنون لوگ ہیں، فرمایا مجنون نہیں بلکہ مصاب کہو، کیونکہ مجنون تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ڈٹا رہے “۔
10437 عن أبي هريرة قال : مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بجماعة فقال : ما هذه الجماعة ؟ قالوا : مجنون ، قال : ليس بالمجنون ، ولكنه مصاب ، إنما المجنون المقيم على معصية الله تعالى.(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10434 ۔۔۔ یحی بن ابی کثیر سے مروی ہے فرمایا کرتے تھے کہ بندوں کی عظمت و بھلائی کی اس سے بڑی کوئی علامت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہیں اور بندوں کی (اپنی) توہین اور بےعزتی کی اس سے بڑی علامت بھی کوئی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں، اور تیرے لیے دشمن کی طرف سے یہ چیز کافی ہے کہ تو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مشغول دیکھے اور تیرے لیے تیرے دوست کی طرف سے یہ چیز کافی ہے کہ تو اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول دیکھے “۔ (ابن ابی الدنیا التوبہ
10438 عن يحيى بن أبي كثير قال : كان يقال : ما أكرم العباد أنفسهم بمثل طاعة الله تعالى ، ولا أهان العباد أنفسهم بمثل معصية الله تعالى ، وبحسبك من عدوك أن تراه عاصيا لله ، وبحسبك من صديقك أن تراه طائعا لله.(ابن أبي الدنيا في التوبة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10435 ۔۔۔ حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق (رض) سے مروی ہے، فرمایا کہ بیشک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ کو چھوٹا سمجھے “۔
10439 عن القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق قال : إن من أعظم الذنب أن يستخف المرء بذنبه.(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10436 ۔۔۔ حضرت حسن (بصری) سے مروی ہے کہ فرمایا مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے جو کچھ صادر ہوا، اس سے پہلے ان کا مقررہ وقت ان کی نگاہوں کے سامنے تھا اور خواہشات پیچھے، اور جب ان سے وہ سرزد ہوگیا جو ہونا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو نگاہوں کے سامنے کردیا اور وقت مقررہ کو پیچھے چنانچہ اب مرنے تک بنی آدم خواہشات ہی میں رہتا ہے “۔
10440 عن الحسن قال : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن آدم قبل أن يصيب الذنب كان أجله بين عينيه وأمله خلفه ، فلما أصاب الذنب جعل الله أمله بين عينيه ، وأجله خلفه ، فلا يزال يأمل حتى يموت.(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10437 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہے کہ حضرت حبیب بن الحارث (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہوں، فرمایا کہ اے حبیب ! اللہ سے توبہ کرو، عرض کیا یا رسول اللہ ! میں توبہ کرتا ہوں لیکن پھر گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا جب بھی گناہ ہوجائے توبہ کرلیا کرو، عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس طرح تو میرے گناہ بہت زیادہ ہوجائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے حبیب بن حارث ! اللہ تعالیٰ کی معافی تیرے گناہوں سے بہت زیادہ ہے “۔ (ابونعیم)
10441 عن عائشة قالت : جاء حبيب بن الحارث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله إني رجل مقراف للذنوب ، فقال : تب إلى الله يا حبيب ، قال : يا رسول الله إني أتوب ثم أعود ، قال : فكلما أذنبت فتب ، قال : يا رسول إذا تكثر ذنوبي ، قال : فعفو الله أكثر من ذنوبك يا حبيب بن الحارث.
(الحكيم والباوردي وأبو نعيم) وفيه نوح بن ذكوان ضعيف.
(الحكيم والباوردي وأبو نعيم) وفيه نوح بن ذكوان ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10438 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں حبیب (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہوں، فرمایا، اللہ سے توبہ کرلو اے حبیب، عرض کیا یا رسول اللہ ! میں توبہ کرتا ہوں پھر گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا جب بھی گناہ ہو تو توبہ کرلو، عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس طرح میرے گناہ بہت زیادہ ہوجائیں گے، فرمایا، اللہ کی معافی تیرے گناہوں سے بہت زیادہ ہے اے حبیب بن حارث “۔ (دیلمی)
10442 عن عائشة قالت : جاء حبيب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إني مقراف للذنوب ، قال : فتب إلى الله يا حبيب ، قال : يا رسول الله إني أتوب ثم أعود ، قال : فكلما أذنبت فتب ، قال : يا رسول الله إذن تكثر ذنوبي ، قال : عفو الله أكثر من ذنوبك يا حبيب بن الحراث (الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ قبول ہے
10439 ۔۔۔ عبدالرحمن بن السلمانی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک صحابی سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا وہ فرما رہے تھے کہ جس شخص نے اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیں گے، چنانچہ میں نے یہ روایت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک اور صحابی کو سنائی تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ، کیا تو نے یہ سنا ہے، میں نے جواباً عرض کیا جی ہاں، تو انھوں نے فرمایا کہ تو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی موت سے صرف اتنی دیر پہلے توبہ کرلی جتنا چاشت کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیں گے، فرماتے ہیں کہ یہ روایت میں نے ایک اور صحابی کو سنائی تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ کیا تو نے یہ سنا ہے ؟ میں نے جواباً عرض کیا جی ہاں، تو انھوں نے فرمایا کہ تو میں گواہی دیتا ہے کہ بیشک میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جو شخص نزع کی حالت طاری ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں “۔ (مسند احمد، ابن زنجویہ)
10443 عن عبد الرحمن بن السلماني قال : سمعت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بيوم ، قبل الله توبته ، قال : فحدثتها رجلا آخر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : أنت سمعت ؟ قلت : نعم ، قال : فأشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بنصف يوم قبل الله منه ، قال : فحدثتها رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم آخر فقال : أنت سمعته ؟ قلت : نعم ، قال : فأشهد لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بضحوة قبل الله منه ، قال : فحدثتها رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم آخر ، فقال : أنت سمعته ؟ قلت : نعم ، قال : فأشهد لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يغرغر بنفسه قبل الله منه.
(حم وابن زنجويه).
(حم وابن زنجويه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ قبول ہے
10440 ۔۔۔ حضرت عقبۃ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سے کسی سے گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا کہ لکھ لیا جاتا ہے پھر عرض کیا کہ پھر وہ معافی مانگ لیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں، پھر عرض کیا، کہ اس سے دوبارہ گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا لکھ لیا جاتا ہے پھر عرض کیا کہ وہ پھر معافی مانگ لیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتے ہیں اور اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک توبہ قبول کرتے رہتے ہیں جب تک تم نہ تھک جاؤ “۔ (طبرانی، مستدرک حاکم)
فائدہ :۔۔۔ تھکنے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے تو یہ ممکن ہے کہ وہ بار بار گناہ کرنے اور توبہ کرنے سے تنگ آجائے اور تھک ہار
کر مایوس ہو بیٹھے اور یہ سوچنے لگے کہ آخر کب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کریں گے “ اور اسی خیال سے آئندہ توبہ نہ کرے، جبکہ اللہ تعالیٰ توتھکاوٹ وغیرہ عیوب سے پاک ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف کرنے سے نہیں تھکتے، ہاں البتہ جب کوئی توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول نہیں فرماتے، کیونکہ جب تک توبہ ہی نہیں تو قبولیت کیسی، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو توبہ نہ کرے گا اس کی مغفرت نہیں، نہیں بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمادیں گے انشاء اللہ تعالیٰ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ تھکنے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے تو یہ ممکن ہے کہ وہ بار بار گناہ کرنے اور توبہ کرنے سے تنگ آجائے اور تھک ہار
کر مایوس ہو بیٹھے اور یہ سوچنے لگے کہ آخر کب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کریں گے “ اور اسی خیال سے آئندہ توبہ نہ کرے، جبکہ اللہ تعالیٰ توتھکاوٹ وغیرہ عیوب سے پاک ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف کرنے سے نہیں تھکتے، ہاں البتہ جب کوئی توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول نہیں فرماتے، کیونکہ جب تک توبہ ہی نہیں تو قبولیت کیسی، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو توبہ نہ کرے گا اس کی مغفرت نہیں، نہیں بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمادیں گے انشاء اللہ تعالیٰ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10444 عن عقبة بن عامر أن رجلا قال : يا رسول الله أحدنا يذنب ؟ قال : يكتب عليه ، قال : ثم يستغفر منه ويتوب ، قال : يغفر الله له ، ويتاب عليه ، قال : فيعود فيذنب ؟ قال : يكتب عليه ، قال : ثم يستغفر منه ويتوب ، قال : يغفر له ويتاب عليه ، ولا يمل الله حتى تملوا.
(طب ك).
(طب ك).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ قبول ہے
10441 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں بنو حارثہ میں سے ایک شخص حضرت حرملۃ بن زید الانصاری (رض) تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تشریف فرما ہوئے اور عرض کیا، یارسول اللہ ! ایمان تویہاں ہے (اور ہاتھ سے زبان کی طرف اشارہ کیا) اور نفاق یہاں ہے (اور ہاتھ سینے پر رکھا) اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتا ہے، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ دیر سکوت فرمایا حضرت حرملۃ (رض) کی زبان کا کنارہ پکڑلیا اور یوں دعا کہ اے اللہ ! اس کی زبان کو سچا اور دل کو شکر کرنے والا بنادیجئے، اس کو میری اور مجھ سے محبت کرنے والے کی محبت عطا فرما دیجئے اور اس کا معاملہ بھلائی کی طرف فرما دیجئے حضرت حرملۃ (رض) نے پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میرے اور منافق بھائی بھی ہیں جن کا میں سردار تھا کیا میں ان کو بھی یا دعا بتادوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جو ہمارے پاس آیا، جیسے تم آئے، تو ہم اس کے لیے معافی مانگیں گے جیسے تیرے لیے معافی مانگی اور جس نے اس پر اصرار کیا تو اس کے لیے اللہ ہی بہتر ہے “۔ (ابو نعیم)
10445 عن ابن عمر قال : كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ جاءه حرمله بن زيد الانصاري أحد بني حارثة ، فجلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : يا رسول الله الايمان ههنا وأشار بيده إلى لسانه والنفاق ههنا ووضع يده على صدره ، ولا يذكر الله إلا قليلا ، فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ورد ذلك حرملة ، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بطرف لسان حرملة ، فقال : اللهم اجعل له لسانا صادقا وقلبا شاكرا ، وارزقه حبي وحب من يحبني ، وصير أمره إلى خير ، فقال له حرملة : يا رسول الله إن لي إخوانا منافقين كنت فيهم رأسا ، أفلا أدلك عليهم ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من جاءنا كما جئتنا استغفرنا له كما تسغفرنا لك ، ومن أصر على ذلك فالله أولى به.
(أبو نعيم).
(أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ توبہ کے متعلقات کے بارے میں
10442 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تیرے لیے ضروری ہے کہ تو جوانی کی عیش و عشرت سے بچے “۔ (مصنف عبدالرزاق مستدرک حاکم)
10446 عن عمر قال : إياك وعشرة الشباب.(عب ك).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ توبہ کے متعلقات کے بارے میں
10443 ۔۔۔ ابوسلمۃ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور ام المومنین حضرت صدیقہ (رض) جب مکہ معظمہ تشریف لائے تو ان گھروں میں نہیں ٹھہرے جہاں سے انھوں نے ہجرت فرمائی تھی “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
10447 عن أبي سلمة أن عمر بن الخطاب وعائشة كانا إذا قدما مكة لم ينزلا المنزل الذى هاجرا منه.(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ توبہ کے متعلقات کے بارے میں
10444 ۔۔۔ ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ سونے والا جب تک جاگ نہ جائے اس کے اعمال نہیں لکھے جاتے (یہ سن کر) حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا “۔ (مصنف عبدالرزاق)
10448 عن أبي ظبيان أن عليا قال : القلم مرفوع عن النائم حتى يستيقظ ، قال عمر : صدقت.(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ توبہ کے متعلقات کے بارے میں
10445 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کے ملکوت دکھائے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا جو نافرمانی میں مصروف تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے بدعا فرمائی تو وہ ہلاک ہوگیا، ایک اور نافرمان پر نظر پڑی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے بھی بددعا کرنے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے ابراھیم ! آپ ایسے شخص ہیں جن کی دعا قبول کی جاتی ہے لہٰذا میرے بندوں کے لیے بددعانہ کریں، کیونکہ ان کے میرے ساتھ تین طرح کے معاملات ہیں، یا تو وہ توبہ کرلیں گے تو میں توبہ قبول کروں گا، یا میں ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کردوں گا جو زمین کو میری تسبیح سے بھردیں گے، یا میں ان کو اپنے دربار میں حاضر کروں گا چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور چاہوں گا تو سزا دوں گا۔ (ابن مردویہ)
10449 عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أري ابراهيم ملكوت السموات والارض : أشرف على رجل على معصية من معاصي الله ، فدعا عليه فهلك ، ثم أشرف على آخر فذهب يدعو عليه ، فأوحى الله إليه : أن يا ابراهيم إنك رجل مستجاب الدعوت ، فلا تدع على عبادي ، فانهم مني على ثلاث : إما أن يتوب فأتوب عليه ، وإما أن أخرج من صلبه نسمة تملا الارض بالتسبيح ، وإما أن أقبضه إلي ، فان شئت عفوت ، وإن شئت عاقبت.(ابن مردويه) وفيه سوار بن مصعب متروك
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ توبہ کے متعلقات کے بارے میں
10446 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو ہر روز کچھ لے کر اترتے ہیں اور اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کے اعمال لکھتے ہیں “۔ (ابن جریر)
10450 عن علي قال ، إن لله ملائكة ينزلون في كل يوم بشئ ، يكتبون فيه أعمال بني آدم.(ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10447 ۔۔۔ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) اپنے لشکر میں پھر رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ سنو ! بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنے کپڑوں کو سفید رکھتے ہیں لیکن اپنے دین کو میلا کرنے والے ہیں، سنو ! بعض لوگ ایسے ہیں جو آج اپنے نفس کا احترام کرتے ہیں اور وہی کل ان کو ذلیل کرنے والا ہوگا، سوجلدی سے آگے بڑھو اور پرانے پرانے گناہوں کے بدلے نئی نئی نیکیاں کرو، لہٰذا اگر تم میں سے کوئی اتنی برائیاں کرے کہ زمین و آسمان کا درمیان فاصلہ بھردے اور پھر ایک نیکی کرے تو وہ ایک نیکی ان سب برائیوں کے اوپر چڑھ جائے گی اور زبردستی ان سب کو دبادے گی۔ (یعقوب بن سلیمان)
10451 عن أبي عبيدة بن الجراح أنه كان يسير في العسكر فيقول : ألا رب مبيض لثيابه مدنس لدينه ، ألا رب مكرم لنفسه وهو لها غدا مهين ، بادروا السيئات القديمات بالحسنات الحديثات ، فلو أن أحدكم عمل من السيئات ما بينه وبين السماء ثم عمل حسنة لعلت فوق سيئاته حتى تقهرهن.
(يعقوب بن سفيان كر).
(يعقوب بن سفيان كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10448 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ ہم سے گناہ ہوجاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم سے گناہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیتے۔
10452 عن أنس أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم شكوا إليه : إنا نصيب من الذنوب ، فقال : لهم : ولو لا أنكم تذنبون لجاء الله بقوم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم.(كر) وفيه مبارك بن صحيم قال في المغنى : له نسخة موضوعة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10449 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدم گزرا جو مجنون تھا، تو صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کہ یہ شخص مجنون ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایسا مت کہو (بلکہ) مجنون تو وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی پر ڈٹا رہے، یہ شخص تو بالکل ٹھیک ہے “۔ (ابن النجار)
10453 عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا مع أصحابه فمر بهم رجل مجنون ، فقالوا : هذا رجل مجنون ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مه المجنون المقيم على معصية الله تعالى ، ولكن هذا رجل مصاب (ابن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10450 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نافرمانی کا بدلہ یہ ہے کہ عبادت میں سستی پیدا ہوجاتی ہے، معیشت تنگ ہوجاتی ہے، اور لذت میں نقص پیدا ہوجاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ یہ لذت میں نقص کیا چیز ہے ؟ فرمایا کہ وہ حلال مزاتو حاصل کر ہی نہیں سکتا اور جب مزا آتا بھی ہے تو ادھورارہ جاتا ہے “۔ (ابن ابی الدنیا فی التوبہ)
10454 عن علي قال : جزاء المعصية الوهن في العبادة ، والضيق في المعيشة ، والنغص في اللذة ، قيل : وما النغض في اللذة ؟ قال : لا ينال شهوة حلالا إلا جاءه ما ينغضه إياها.(ابن أبي الدنيا في التوبة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10451 ۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر تم گناہ اور خطائیں نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آئیں گے جو گناہ اور خطائیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو معاف فرمادیں گے۔ (بخاری فی تاریخہ)
10455 عن حذيفة قال : لو لم تذنبوا وتخطئوا لجاء الله بقوم يذنبون ويخطئون فيغفر الله لهم يوم القيامة.(خ في تاريخه كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرو
10452 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک گھڑی دنیا کے لئے، ایک گھڑی آخرت کے لیے اور ان کے درمیان، اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمائے “۔
10456 عن ابن عمر قال : ساعة للدنيا ، وساعة للآخرة ، وبين ذلك : اللهم اغفر لنا.
(كر).
(كر).
তাহকীক: